Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 10)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 10)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
ہاسٹل جارہی ہو؟آروش حریم کے کمرے میں آئی تو اُس کو بیگ میں کپڑے ڈالتا دیکھا تو پوچھا
جی۔حریم مختصر جواب دے کر اپنے کام میں لگ گئ۔
ناراض ہو؟آروش نے اُس کے سنجیدہ تاثرات دیکھے تو اندازہ لگایا ورنہ وہ بھی جانتی تھی حریم سچ میں اُس سے ناراض ہوگی بہت دنوں سے اُس کے ساتھ بات چیت بھی کم کرلی تھی۔
ہم کیوں آپ سے ناراض ہونے لگے۔حریم عام انداز میں بولی۔
اِدھر میری طرف دیکھو۔آروش اُس کے ہاتھ سے کپڑے لیکر بیڈ پہ رکھے اور اُس کا دھیان اپنی طرف کیا۔
ہمیں لیٹ ہورہا ہے دُر لا نے جلدی تیار ہونے کا کہا تھا۔حریم نے سنجیدگی سے کہا
دیکھو حریم ناراض یا اُداس مت ہو تم ابھی چھوٹی ہو تمہیں ابھی کجھ ٹھیک سے نہیں پتا اِس لیے تم بھابھی شبانا یا کسی کے بھی معاملے میں مت بولو ورنہ وہ تم پہ بھی غصہ کرے گے تبھی دُرید لالہ بھی تمہیں ہاسٹل بھیج رہے ہیں۔آروش نے پیار سے سمجھایا
ہم پہ غصہ اُس لیے ہوگے کیونکہ ہم اِس حویلی کے مکین نہیں۔حریم تلخ لہجے میں بولی۔
حریم یہ کی بول رہی ہو اور ایسا کس نے کہا تم اِس گھر کی فرد نہیں۔آروش نے سخت لہجہ اپنایا۔
یہ ہماری ماں کا گھر تھا ہمارے باپ کا نہیں اور بیٹیاں تو باپ کے پاس ہوتی ہیں ایک ہم ہیں جو دودھیال ہونے کے بجائے اپنے ننہال میں ہیں۔حریم کس مجرم کی طرح بولی۔
تمہاری ماں کا گھر ہے تو وہ ماں کس کی ہے؟آروش نے اُس کو دیکھ کر پوچھا
ہماری۔حریم بنا تاخیر کیے بولی
وہ اگر تمہاری ماں تھی تو یہ بات بھی جان لو ان کی ہر چیز پہ صرف تمہارا حق ہے یہ حویلی اِس میں تمہارا حصہ بھی اُتنا ہی نکلتا ہے جتنا کے بابا سائیں چچا جان والوں کا نکلتا ہے کیونکہ پھوپھو جان کا جو حصہ تھا وہ تمہیں ہی ملے گا نہ آخر کو تم اُن کی اکلوتی اولاد ہو اِس لیے دوبارہ یہ مت کہنا تم اِس گھر کی مکین نہیں یا تمہاری یہاں کوئی جگہ نہیں کیونکہ جتنی جائیداد تمہاری ہے نہ اُتنی تو درید لالہ یا شازل لالہ کی بھی نہیں وجہ یہ کے تمہارے باپ کی جو جائیداد تھی اُس میں بھی اُن کے مرنے کے بعد تمہارے ہی حصے میں آئی تھی وہ تمہیں تب ملے گی جب تم اٹھارہ سال کی ہوجاؤ گی۔۔آروش نے کہا تو آخری بات پہ حریم ہنس پڑی اُس کو ہنستا دیکھ کر آروش نے سکون بھری سانس خارج کی۔
ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا ہماری اتنی جائیداد بھی ہے۔حریم پُرانی ٹون میں آکر بولی۔
اب تو پتا چل گیا نہ اب بتاؤ یہ تم سے کس نے کہا تھا کے تمہارا یہاں رہنا کوئی حق نہیں۔آروش نے جاننا چاہا تو وہ پھر سے مایوس ہوئی۔
نازلین آپی بولتی ہیں کے ہم اُن کے ٹکڑوں پہ پلتی ہیں ہمارا کوئی حق نہیں اور وہ چاہتی ہیں ہم دُر لا سے بھی دور رہا کریں۔حریم نے سرجھکائے کہا
حویلی میں تمہیں کوئی کجھ بھی کہے اُن کی بات پہ توجہ نہ دیا کرو آخر تمہیں پھر بھی انسکیورٹی فیل ہوتی ہے تو میں بابا سائیں سے بات کروں گی وہ پھوپھو مریم کا حصہ تمہارے نام کروادے ویسے بھی سات ماہ بعد تم نے اٹھارہ سال کا ہوجانا ہے۔آروش نے بغور اُس کی جانب دیکھ کر کہا
ایسی بات نہیں آپی ہم نے کیا کرنا ہے اُن کا آپ بس ایسی ہی ہم سے پیار سے بات کیا کریں ہمیں اچھا لگتا ہے اور ہم ہمیشہ سے آپ جیسا بننا چاہتے ہیں جیسی آپ ہیں میں قسمت
اللہ نہ کریں تم میری جیسی زندگی گُزارو یا میری طرح قسمت پاؤ۔حریم کی بات بیچ میں کاٹتی آروش دُھل کر بولی تو حریم ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی پر اُس کے سوال کرنے سے پہلے کمرے کا دروازہ نوک ہونے لگا
حریم بی بی نیچے آپ کو دُرید شاہ بُلا رہے ہیں۔ملازمہ کی بات پہ حریم نے سر پہ ہاتھ مارا۔
انہیں کہیں میں پردہ کرکے آتی ہوں۔حریم اتنا کہتی الماری سے اپنا عبایا نکالنے لگی۔
دوسری طرف اُس کی چھوٹی سی بات نے آروش کو زخمی کردیا تھا۔







ماضی!
اماں جان آپ بات کرے نہ بابا سائیں سے مجھے آگے پڑھنا ہے۔سترہ سالہ آروش کلثوم بیگم کے پیچھے پیچھے چلتی منت کرتی بولی۔
آرو یہ بات تم خود اُن سے کرو اور میں اُن کا جواب بھی بتادوں انکار ہوگا تمہاری دادی جان کبھی راضی نہیں ہوگی کے تم شہر جاکر نامحرم مردوں کے درمیان بیٹھو۔کلثوم بیگم نے صاف انکار کیا۔
آپ بابا سائیں سے بات کریں دادی جان کو منانا پھر بابا سائیں کا کام ہے۔آروش نے مزے سے کہا
بہت بگڑتی جارہی ہو آرو معلوم ہے نہ تمہیں ہمارے یہاں لڑکیاں باہر جاکر نہیں پڑھتی۔کلثوم بیگم نے گھور کر کہا
تو آپ میٹرک کے بعد کا بھی یہاں کالج اور یونیورسٹی بنوادے تاکہ لڑکیوں کو باہر نہ جانا پڑے پر تب تک کی تو اجازت دے لالہ دُرید اور شازل لالہ بھی تو آکسفورڈ یونیورسٹی گئے ہیں نہ مجھے آپ کراچی تک جانے نہیں دے رہے کیونکہ میں لڑکی ہوں آج بتا ہی دیا مجھ سے کوئی پیار ویار نہیں کرتا۔آروش اپنے نادیدہ آنسو صاف کرتی منہ بسور کر بولی۔
آجائے شاہ صاحب کرتی ہوں بات۔کلثوم بیگم کی بات پہ وہ خوشی سے اُچھل پڑی۔
او اماں جان آے لو یو۔آروش اُن کے گال پہ بوسہ دے کر بولی تو وہ مسکرا پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔
اے لڑکی کہاں جارہی ہو؟آروش جو بھاگم بھاگ اپنے کمرے میں جارہی تھی اپنی دادی محتاب کی آواز پہ اُس قدموں پہ بریک لگی جو ہال میں بیٹھی روعبدار نظروں سے اُس کو گھور ری تھیں پاس اُن کے دس سالہ حریم بیٹھی ہوئی تھی جو چاکلیٹ کھانے میں بُری طرح مصروف تھی۔
اسلام علیکم دادی جان وہ میں اپنے کمرے میں جارہی تھی۔آروش اُن کے پاس بیٹھ کر بولی۔
یہ کیا تمہارے دماغ میں اب خناس بھرا ہے شہر جانے کا۔مہتاب بیگم تیکھے چتونوں سے اُس کو گھور کر بولی تو آروش کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی سُنائی دی اُس نے ٹیڑھی نظروں سے پاس بیٹھی حریم کو دیکھا اُس کے پاس اتنی چاکلیٹس اور چپس دیکھ کر وہ سمجھ گئ حریم نے چغلی دی ہے اکثر محتاب بیگم حریم کو چاکلیٹ کی لالچ دے کر آروش کی جاسوسی کرنے کا کہتی تھی جس پہ معصوم سی حریم چاکلیٹ کی وجہ سے بڑے اچھے طریقے سے آروش کی پل پل کی خبر مہتاب بیگم کے گوش گُزار کرتی تھی۔
دادی جان مجھ آگے پڑھنا ہے اور یہ بات میں سب کو واضع طور پہ بتاچُکی ہوں۔آروش اداب کے دائرے میں بولی۔
دیکھو آروش مانا کے تمہاری ہر بات مانی جاتی ہے اِس حویلی میں اور تمہارا باپ تمہاری ہر خواہش کا احترام کرتا ہے ایک طرح سے یہ ٹھیک بھی ہے اکلوتی بیٹی ہو اُس کی پر یہ تمہاری کوئی نہیں مانے اِس لیے دماغ سے نکال دو۔مہتاب بیگم نے سخت لہجے میں کہا
کیوں نہیں مانی جائے گی آگے پڑھنے کوئی گُناہ نہیں اور نہ میری ناجائز خواہش۔آروش سنجیدگی سے بولی
مردوں کا مقابلہ مت کرو۔مہتاب بیگم نے اُس کو لتاڑا
مجھے مردوں کا مقابلہ کرنے کا شوق بھی نہیں دادی جان میں بس آگے پڑھنا چاہتی ہوں اور اِس خواہش سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کے میں مردوں سے مقابلہ کررہی ہوں۔آروش اتنا کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
شھباز نے تمہیں بہت چھوٹ دے رکھی ہے جبھی اپنے باپ کی ماں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہی ہوں آنے دو اُس کو کہتی ہوں تمہاری شادی کروادے کے عقل ٹھکانے پہ آئے۔مہتاب بیگم کی سیریس بات پہ آروش کو ہنسی آئی۔
ٹھیک ہے پھر میں اُس کے ساتھ شہر جاؤں گی ہم مل کر پڑھائی کرے گے۔آروش آنکھ ونک کر بولی تو اُس کی بے باکی پہ مہتاب بیگم کا مُنہ پورا کا پورا کُھل گیا اُس سے پہلے وہ اپنے سامنے پڑی چپل سے اُس کی چھترول کرتی آروش حریم کے پاس پڑے چاکلیٹ کے ڈبے سے تین چاکلیٹس نکال کر اُپر کو بھاگی جس سے حریم نے رونا ڈال دیا۔
ہائے کمبخت میری بچی کو رُلا دیا۔مہتاب بیگم حریم کو چُپ کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوتی تیز آواز میں آروش سے بولی جو اُن کی بات سے بے نیاز کمرے میں آکر آرام سے چاکلیٹ کھانے لگی۔
ارے میری بچی اتنے بڑے ڈبے میں سے اگر تین چاکلیٹس چلے گئے تو کونسی قیامت بڑپا ہوگئ جو رو رو کر میری جان نڈھال کررہی ہو۔حریم جو رونے سے باز نہیں آرہی تھی مہتاب بیگم اُس کو چپ کرواتی تنگ ہوکر بولی جس سے حریم اور زوروں سے رونے لگی۔
کیا ہوا اماں سائیں کیوں رو رہی ہے حریم؟کلثوم بیگم ان کے پاس آتی پریشان ہوئی۔
تمہاری بیٹی کی مہربانی ہے اُنٹھ جتنا قد ہوگیا ہے مگر مجال ہے جو عقل نام کی کوئی چیز اُس میں موجود ہو۔مہتاب بیگم غصے سے بولی
کیا کردیا اب اُس نے؟کلثوم بیگم نے جاننا چاہا
حریم کے چاکلیٹ اُٹھاکر گئ ہے بھلا اُس کو کیا ضرورت اتنی چیزیں تو پڑی ہے اُس کے کمرے میں پھر اِس بچی کی چیزوں میں کیوں نظر ڈالنا۔انہوں نے بتایا
تو کیا ہوا آرو بھی تو اپنی چیزیں اِس کو دیتی ہیں۔کلثوم بیگم کجھ شرمندہ ہوئی۔
نا بی بی نا تمہاری بیٹی اپنی چیزیں کسی کو دینا تو دور کی بات دیکھاتی بھی نہیں۔مہتاب بیگم ان کو گھور کر بولی تو کلثوم بیگم نے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا حرکت کی تم نے نیچے؟کلثوم بیگم سیدھا آروش کے کمرے میں آئی جو مزے سے چاکلیٹ کھاتی ساتھ میں اپنے کمرے میں موجود ٹی وی پہ کارٹون دیکھنے میں مصروف تھی۔
دل کیا چاکلیٹ کھانے کا تو حریم سے لیے اُس میں کونسی بڑی بات ہے شیئرنگ از کیئرنگ۔آروش نے بتایا۔
تمہارے پاس بھی تو ہوگی وہ بچی ہے آرو۔کلثوم بیگم نے سمجھایا
کوئی بچی وچی نہیں آفت ہے پوری میری باتیں دادی کو بتاکر اُن کو فیورٹ بن گئ ہے۔آروش منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
تو کیوں نہ اُن کی فیورٹ ہو آخر کو اماں سائیں کی اکلوتی بیٹی کی نشانی ہے۔کلثوم بیگم نے گھور کر کہا
تو میں کب اعتراض کررہی ہو میں بس یہ چاہتی ہوں دادی میری خواہش کے درمیان رُکاوٹ نہ بنے۔آروش نے سنجیدہ سے کہا
تمہاری شادی کی عمر ہے
توبہ کرے اماں جان سترہ کی ہوں بس ابھی میرے پڑھنے کی عمر ہے ناکہ شادی وغیرہ کی آپ اپنے بیٹوں کی فکر کریں جن کا شادی کرنے کا دور دور تک کوئی اِرادہ نہیں۔آروش اُن کی بات درمیان میں کاٹتی کانوں کو ہاتھ لگاکر بولی۔تو کلثوم بیگم خاموش ہوگئ۔








حال!
گاڑی رُکی تو حریم نے دُرید شاہ کی جانب دیکھا جو اُس کو ہی دیکھ رہا تھا۔
چلتی ہوں دُر لا پر آپ سے ایک درخواست ہے اُس لڑکی کو ظلم سہنے سے بچائے آپ خود ہی تو بتاتے ہیں ظلم کرنا؛ظلم سہنا اور کسی پہ ظلم ہوتا دیکھنا اُس ظلم کے خلاف آواز نہ اُٹھانا گناہ کے زمر میں آتا ہے تو پلیز آپ کجھ کریں کیونکہ آپ کسی پہ ظلم نہ بھی کریں تو آپ سے اللہ تعالیٰ پوچھے گے جب آپ نے کسی معصوم پہ ظلم ہوتا دیکھا تو خاموش کیوں رہے اُس کو بچایا کیوں نہیں۔حریم سنجیدگی سے کہتی گاڑی سے اُترگئ۔پیچھے کتنی ہی دیر دُرید شاہ ساکت سا اُس کی باتوں پہ غور کرتا رہا اُس کو حریم سے اتنی گہری باتوں کی اُمید نہیں تھی۔کجھ سوچ کر اُس نے اپنا سیل فون اُٹھا کر شازل شاہ کا نمبر ڈائل کیا جو پہلی ہی بیل پہ ریسیو ہوگیا تھا شازل کجھ کہتا جب دُرید شاہ سخت لہجہ اپناتا اُس سے بولا
کہاں منہ کالا کررہے ہو؟ شازل جو ایک ہاتھ سے کان میں لگے ایئر فون کو ٹھیک کررہا تھا دوسرے ہاتھ سے چہرے پہ صابن لگارہا تھا خود سےبڑے بھائی کی دھاڑ پہ اُس نے سامنے مرر میں اپنا خوبصورت وجیہہ چہرہ دیکھا پھر کہا
صابن سے چہرہ چمکا رہا ہوں
بکواس بند کرو کل تم مجھے حویلی میں نظر آؤ اگر نہیں تو کل میرے آدمی گھیسٹ کر لائے گے۔دوسری طرف دُرید شاہ سخت لہجے میں حکم دینے کے بعد کال کاٹ دی تھی۔
حویلی۔شازل بڑبڑایا
میں نے فیصلہ کرلیا ہے میں کبھی وہاں نہیں جاؤں گا۔شازل اٹل لہجے میں خود سے کہتا دوبارہ سے دُرید شاہ کو کال کرنے لگا۔
لالہ میں کبھی وہاں نہیں آؤں گا۔شازل نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے مت آؤ میں آدمی بھیج دوں گا۔دُرید کو جیسے کوئی فرق نہیں پڑا
آپ سب کی نظروں میں کیا میری بات کی کوئی اہمیت نہیں؟شازل کو افسوس ہوا۔
ہے بلکل ہے تبھی تمہارا حویلی آنا ضروری ہے اگر اپنے بڑے بھائی کا ذرہ بھی احترام کرتے ہو تو میری بات کا مان رکھو گے۔دُرید نے مسکراکر کہا
یہ اچھا طریقہ ہے ایموشنل بلیک میلنگ کا۔شازل بدمزہ ہوا۔





کیا تم روئی ہو؟آروش شھباز شاہ کے کمرے میں آئی تو انہوں نے اُس کا ستایا ہوا چہرہ دیکھا تو فکرمندی سے گویا ہوئے
میں کیوں روؤں گی۔آروش بنا اُن کی جانب دیکھ کر بولی۔
اب تم خفگی چھوڑدو تمہاری بات مان تو لی۔شھباز شاہ ہنکارہ بھر کر بولے۔
کیا بات مانی آپ نے میری وہ بے چاری ایک ہفتے سے تائی جان اور شبانا بھابھی کا ٹارچر برداشت کررہی ہیں کبھی آپ جاکر سٹوروم میں جائے اور دیکھے اُس کو کیا حال کیا گیا ہے اُس کا چہرے پہ جگہ جگہ نیل کے نشان ہے اُس میں اتنی ہمت نہیں کے پانی کا خالی گلاس تک اُٹھا سکے باسی روٹی تک کا نوالہ اُس کو نہیں دیتے اور آپ کہہ رہے ہیں آپ نے میری بات کا مان رکھ لیا وہ لڑکی ہر وقت حراساں رہتی ہے کوئی نظر آئے تو تھر تھر کانپنے لگتی ہے کوئی آہستہ آواز میں اُس کا نام لے تو اُس کی جان نکل جاتی ہے۔شھباز شاہ کی بات پہ آروش پھٹ پڑی
مجھے نہیں تھا پتا شازل ایسا کرے گا مجھے لگا وہ اُس کی حفاظت کرے گا تبھی میں نے دُرید کے بجائے شازل سے اُس کا نکاح پڑھوایاں۔شھباز شاہ شرمندہ ہوئے۔
وہ بھی شاہ خاندان کا خون ہے بے حسی تو اُس کی رگوں میں بھی ہے۔آروش طنزیہ لہجے میں کہتی جیسے ہی پلٹی کلثوم بیگم کا ہاتھ اُس کے چہرے پہ نشان چھوڑگیا۔
چٹاخ کی آواز پہ شھباز شاہ جلدی سے کھڑے ہوتے خونخوار نظروں سے کلثوم بیگم کو دیکھ کر آروش کو اپنے ساتھ لگایا جو اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھے ساکت نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
یہ تربیت کی ہے ہم نے تمہاری جو باپ کے سامنے زبان درازی کررہی ہو۔کلثوم بیگم اُس کو جھنجھور کر پوچھنے لگی تو آروش نے اپنا سر جُھکادیا ۔
کلثوم۔شھباز شاہ نے ان کو ٹوکا
نہیں شاہ صاحب آج آپ مجھے بولنے دے بہت برداشت کرلی ہے اِس کی بدتمیزیاں اِس کی ہر نادانی ہر گُناہ معاف کردیا تاکہ یہ سبق حاصل کرے پر نتیجہ کیا نکلا یہ آپ کی بیٹی ہر ایک سے تلخ کلامی کرتی رہتی ہے۔کلثوم بیگم آج اؐن سے ڈرے بنا بولی۔
آروش میری جان آپ اپنے کمرے میں جاؤ۔شھباز شاہ اُس کا ماتھا چوم کر بولے تو آروش کی آنکھوں سے گرم سیال بہہ نکلے۔
معاف کردیجیے گا اب کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔آروش سپاٹ لہجے میں کہتی کمرے سے باہر چلی گئ
آروش کو تھپڑ مارنے کا حق تمہیں کس نے دیا؟شھباز شاہ سخت ترین لہجے میں کلثوم بیگم سے بولے۔
ماں ہوں اُس کی میں۔کلثوم بیگم کو دُکھ ہوا
وہ بس میری بیٹی ہے آئیندہ ایسی غلطی کی تو اُس کی معافی نہیں ہوگی۔شھباز شاہ وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولے تو کلثوم بیگم کے اندر کجھ چھن کر ٹوٹا






حریم آج تم کجھ خاموش ہو؟حریم اپنے کمرے میں تھی جب اُس کی روم میٹ طاہرہ نے اُس کو خاموش دیکھ کر پوچھا
ہاں وہ سر میں درد ہے۔حریم نے مسکراکر جھوٹ بولا
پکا یہی بات ہے؟طاہرہ نے کنفرم کرنا چاہا
ہاں بلکل یہی بات ہے سفر کرنے سے ہمارے سر میں درد پڑجاتا ہے۔حریم نے کہا تو اُس نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی۔





ماہی سٹوروم میں کراہتی اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی جو کیا تھی اور کیا ہوگئ تھی وہ ہمیشہ کانفڈنٹ رہی تھی کسی سے نہ ڈرنے والی پر اب وہ ہر ایک سے خوفزدہ ہونے لگی تھی وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی جب دھڑام کی آواز سے دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا آنے والے کو دیکھ کر ماہی کو اپنی جان فنا ہوتی محسوس ہوئی کیونکہ کوئی اور نہیں شبانا کھڑی کھاجانے والی نظروں سے اُس کو گھور رہی تھی۔
مہارانی صاحبہ اگر آرام کرلیا ہو تو کچن میں کھانے کی تیاری کرو تمہاری ماں آکر نہیں کرے گی۔شبانا اُس کے سر پہ کھڑی ہوتی بولی۔
می۔۔۔۔۔۔۔۔۔ری۔۔۔۔۔۔۔۔۔طبیعت۔۔۔۔۔۔۔ٹھ۔۔۔۔۔۔۔۔یک۔۔۔۔۔۔نہی۔۔۔۔۔۔ں۔ماہی اٹک اٹک کر بمشکل یہی بول پائی۔
تیرا ڈرامہ دیکھنے نہیں آئی میں اُٹھ جلدی آئی بڑی طبیعت خرابی کرنے کا بہانا کرنے والی۔شبانا اُس کو بازوں سے پکڑتی کھڑا کیے بولی جس سے ماہی کے قدم لڑکھڑانے لگی اُس کے قدموں میں اتنی ہمت نہیں تھی وہ چل پاتی یا احتجاج کرتی تبھی شبانا گھسیٹتی اُس کو باہر لے جانے لگی۔
می۔۔۔۔۔۔را۔۔۔۔۔۔۔اع۔۔۔۔۔۔تبار۔۔۔۔۔۔۔کرے۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔بیم۔۔۔۔ار۔۔۔ہ۔۔۔۔وں۔ماہی اپنے گھومتے سر کو سنبھالتی نم لہجے میں بولی پر اُس کی فریادیں سننے والے شاید کوئی نہیں تھا۔
کھانا تو سب کا آج توں نے ہی بنانا ہے ورنہ تجھے میں کتوں کے آگے ڈال دوں گی۔شبانا نفرت سے کہتی زور سے اُس کو دھکا دیا اُس سے پہلے وہ منہ کے بل گِرتی کسی کے مضبوط حصار نے اُس کو خود میں قید کرلیا۔
