Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 67)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

آپ اُس چٹ کے بارے میں پوچھ رہی تھیں کے مجھے یاد ہے یا نہیں وہ تو میرے پاس ابھی تک محفوظ ہیں آپ سے جڑی کوئی بھی بات میں کیسے بھول سکتا ہوں۔یمان اُس سے الگ ہوتا اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا

میرا ساتھ تمہیں کجھ نہیں دے سکتا۔آروش نے نظریں جُھکائے کہا

مجھے آپ مل چُکی ہیں میرے لیے وہ ہی بڑی بات ہے اب مجھے کسی اور چیز کی طلب نہیں ہے۔یمان مسکراکر بولا

جانے کتنے پاگل فوت ہوئے ہوگے جو تم پیدا ہوئے تھے۔آروش اُس کی بات پہ کہے بنا نہ رہ پائی۔

آپ کو یہ کہنا چاہیے تھا کے جانے کتنے عاشق فوت ہوئے ہوگے جو میں پیدا ہو۔یمان اُس کو دیکھ کر شرارت سے بولا تو اِس بار آروش بھی مسکرادی۔

اچھا اب مجھے جانے دو۔آروش نے کہا

میرا دل نہیں چاہ رہا ابھی تو آپ ملی ہے ابھی تو ٹھیک طرح سے بات بھی نہیں ہوئی مجھے بہت ساری باتیں کرنی ہیں آپ سے۔یمان نے کہا

پھر ہوتی رہیں گی ابھی سب باہر بیٹھے لوگ جانے کیا سوچے گے۔آروش نے اُس کو سمجھانا چاہا۔

کیا گارنٹی ہے کے یہ باتیں بعد میں ہوگی۔یمان اُس مسکراہٹ سے بولا

ایسی باتیں مت کرو یمان۔آروش کو بُرا لگا۔

میں آپریشن نہیں کروانا چاہتا آپریشن سے آج مروں گا آپریشن نہیں کرواؤں گا تو کل مروں گا اچھا ہے نہ کے آج سے بہتر کل مروں۔یمان کی باتیں آروش کا دل دھڑکا رہی تھیں۔

اب تم تھپڑ کھاؤ گے میرے ہاتھ سے۔آروش نے ڈپٹ کر کہا

مارے۔یمان نے اپنا گال اُس کے سامنے کیا تو آروش ہلکہ سا تھپڑ رسید کرتی اُس کے سینے سے لگ گئ اُس کی حرکت پہ یمان گہری مسکراہٹ سے اُس کے گرد اپنا حصار قائم کیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ دیر بعد!

یمان کا آپریشن شروع ہوچکا تھا سب لوگ دعا مانگنے میں محو تھے جبکہ آروش ہسپتال کے پرے روم میں نماز پڑھنے میں مصروف تھی۔

خان یہ تم نے کس کے ساتھ آروش کا رشتہ کیا ہے اور وہ بھی یہاں؟شھباز شاہ جیسے ہی ہسپتال پہنچے دلاور خان کے روبرو کھڑے ہوکر بولے دُرید اور شازل بھی سنجیدہ نظروں سے اُن کو دیکھ رہے تھے۔

نکاح ہوگیا ہے خیر سے۔دلاور خان نے گہری سانس بھر کر بتایا

واٹ نکاح؟ایسے کیسے آپ آرو کا نکاح ایرے غیرے سے کرسکتے ہیں ہمارے آنے کا آپ کو انتظار کرنا چاہیے تھا۔دلاور خان کی بات پہ شازل بھڑک اُٹھا

آپ کو بتایا کیا وہ کم تھا آروش ہمارے گھر کی بیٹی تھی پورا اختیار تھا ہمارے پاس فیصلہ کرنے کا۔نور شازل کی بات پہ بولی

پچیس سال بعد آپ کو اپنے اختیارات یاد آئے اُس سے پہلے کہاں سوئے ہوئے تھے آپ کے اختیارات سوری ٹو سے آپ ہم مردوں کے درمیان نہ بولے تو اچھا ہوگا ورنہ کسی کا لحاظ کرنے کا عادی سید شازل شاہ بھی نہیں آپ عورت ہیں تبھی آپ کو وارننگ دے رہا ہوں میں نہیں چاہتا اپنی تربیت کے خلاف کوئی عمل کرو جو میرے اخلاق کو گراں گُزرے۔۔شازل نے ایک ہی منٹ میں نور کی بولتی بند کی تو وہ اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئ۔

آپ لڑکے سے ملینگے تو خود تسلی ہوجائے گی۔دلاور خان نے نرمی سے کہا

آروش کہاں ہیں اور وہ لڑکا کہاں ہیں؟اِس بار دُرید نے پوچھا

آروش پرے روم میں ہیں جبکہ یمان کا آپریشن ہورہا ہے۔دلاور خان نظریں چُراکر بولے

آپریشن؟کس چیز کا آپریشن یہ کس مریض کے ساتھ آپ نے آروش کا رشتہ کیا ہے؟شازل حیرت سے اُن کو دیکھنے لگا۔

وہ مریض نہیں ہے اِس لیے ایسا لفظ اُس کے لیے استعمال مت کرو۔زوبیہ بیگم جو اب تک خاموش تھی یمان کے لیے ایسا لفظ سن کر مزید خاموش نہ رہ پائی۔

آنٹی پھر میں کیا کہوں؟شازل نے کہا

تم دونوں آروش کے بھائی ہو تو یقیناً آج سے سات آٹھ سال پہلے یمان پہ حملہ بھی تم دونوں نے کیا ہوگا دیکھنے میں تو شریف لگتے ہیں مگر اپنے عمل سے بےحسی کی ساری حدود پار کردی تھی۔نور کو اچانک یاد آیا تو مداخلت کرتے ہوئے کہا تو جہاں دُرید اور شازل کے ماتھے پہ ناسمجھی کے بل نمایاں ہوئے وہی شھباز شاہ کے تاثرات یکدم تن سے گئے تھے۔

میرے خیال سے آپ اپنے دماغ کا آپریشن کروائے۔شازل کو نور سے چڑ ہونے لگی۔

لڑکیوں سے بات کرنے کی تھمیز نہیں تمہیں؟نور نے طنزیہ کہا

آپ کو تھمیز نہیں کے جب دو تین چار بڑے لوگ بات کررہے ہو تو درمیان میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔شازل دوبدو بولا

یہ ہوسپٹل ہے۔ارمان جو خاموشی سے لائیو شو ملاحظہ فرمارہا تھا اُن کی آواز تیز ہوتی محسوس کی تو یاد کروایا

ہم تو مچھی مارکیٹ سمجھ بیٹھے تھے۔شازل اُس کی بات پہ طنزیہ بولا

جی تبھی تو بتایا یہ ہاسٹل ہے مچھی مارکیٹ نہیں.ارمان کہاں پیچھے رہنے والا تھا

تم

اگر کسی کو اعتراض نہ ہو تو میں شاہ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔شازل ارمان کو کوئی جواب دینے والا تھا جب دلاور خان نے کہا

میں بھی سننا چاہوں گا کیونکہ معاملہ ہماری بہن ہے ہم ایسے کسی پہ اعتبار نہیں کرسکتے۔دُرید مضبوط لہجے میں گویا ہوا۔

تم دونوں یہی رہو۔شھباز شاہ شاید اُن کی بات جان گئے تھے تبھی دونوں سے کہا کیونکہ وہ جس بات کو اتنے سالوں سے دفن کیے ہوئے تھے نہیں چاہتے تھے کے باہر آئے وہ تو ابھی تو نور کی بات پہ حیران تھے کے کیا وہ لڑکا زندہ تھا؟اُن کے خیال سے مرچُکا ہوگا اور یہ کیسا اتفاق تھا جو آروش کا اُس کے ساتھ نکاح بھی ہوگیا تھا۔

بابا سائیں میں تو پوری تسلی کے بعد رخصتی دوں گا آرو کی۔شازل بضد تھا۔

کیوں کباب میں ہڈی والا تھا کام کررہے ہیں اللہ اللہ کرکے تو سر کی شادی ہوئی ہے۔ارمان شازل کی بات سن کر منہ بنا کر بولا جیسے اُس کو شازل کی بات خاص پسند نہیں آئی تھی۔

تم میرے منہ مت لگو۔شازل نے اُس کو گھورا

میں بھلا اتنا دور کھڑا آپ کے منہ کیسے لگوں گا ویسے بھی کونسا آپ میری بیوی ہیں۔ارمان نے حد ہی پار کردی جس پہ نور اور زوبیہ بیگم کے ساتھ ساتھ دلاور خان نے بھی اُس کو گھورا تھا۔

میں باہر انتظار کررہا ہوں۔دلاور خان اتنے کہتے وہاں سے چلے گئے۔

چلو۔دُرید نے شازل سے کہا جو ایک جگہ پہ کھڑا ہوگیا تھا۔

میں پہلے آرو کو دیکھ لوں پھر آتا ہوں۔شازل نے کہا تو دُرید نے سراثبات میں ہلایا جبکہ شازل نے اپنے قدم پرے روم کی طرف بڑھائے۔

شازل پرے روم میں آیا تو آروش کو محویت سے نماز ادا کرتا دیکھا جو اُس کے لیے حیرانکن تھا کیونکہ نماز کا وقت ختم ہوگیا تھا پھر آروش جانے کونسی نماز ادا کررہی تھی۔شازل چلتا ہوا آروش کے پاس بیٹھا تو آروش سلام کرنے کے بعد کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو گردن موڑ کر دیکھا جہاں شازل کو بیٹھا پایا

لالہ۔اچانک شازل کو دیکھ کر آروش نے اُس کو پُکارا جو خاموشی سے بس اُس کی بھیگی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔

مجھے پتا تھا تم اِس نکاح سے خوش نہیں ہوگی میں کرتا ہوں بابا سائیں سے بات اور دیکھتا ہوں کون میری بات سے انحراف کرتا ہے وہ دلاور خان اگر تمہارا اصل باپ ہے تو ہم بھی کسی گنتی میں آتے ہیں تمہیں رونے کی یا کسی بات کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں تمہارا لالہ ابھی زندہ ہے۔شازل اُس کی آنکھوں کو دیکھ کر سنجیدہ لہجے میں بولا تو آروش حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی۔

لالہ کیا ہوا ہے؟ایسی کوئی بات نہیں میں نے سوچ سمجھ کر فیصلہ لیا ہے۔آروش نے آہستگی سے کہا

واٹ؟ آرو تم نے جان بوجھ کر دریا میں چھلانگ لگائی مجھے تم سے ایسی کسی بے وقوفی کی توقع نہیں تھی نجانے اُس لڑکے کا کس لیے آپریشن

برین ٹیومر ہے اُسے۔شازل ابھی کجھ کہنے والا تھا جب آروش نے بتایا

Brain toumar?Aro you gone a mad?

شازل کو اب اُس پہ غصہ آیا۔

آپ کجھ نہیں جانتے لالہ یہ نکاح ضروری تھا اُس کی زندگی کے لیے۔آروش نے کسی مجرم کی طرح بتایا

ہاں اُس کی زندگی کے لیے ضروری تھا تمہاری زندگی چاہے تباہ و برباد ہو۔شازل نے اُس کو جھڑکا۔

آپ ایسے بات کیوں کررہے؟آروش کو بُرا لگا۔

تو کیا اکیس توپوں کی سلامی پیش کروں ایک تو تمہاری پہلے شادی نہیں ہورہی تھی تم راضی نہیں ہوئی تھی اور اب راضی پہ کس کے لیے ہو جو ایک بیمار شخص ہے جس کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔شازل نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا

وہ بیمار شخص نہیں ہے لالہ اور کسی بھی انسان کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔آروش نے سنجیدگی سے کہا

تم اُس انسان کے لیے مجھ سے بحث کررہی ہو؟مجھے دلیلیں پیش کررہی ہو اپنے لالہ کو؟شازل بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

میں نے بس ایک بات کہی لالہ آپریشن اگر کامیاب ہوگیا تو وہ بلکل ٹھیک ہوجائے گا۔آروش نے بتایا

اگر آپریشن کامیاب نہ ہوا تو؟شازل نے پوچھا

ایسی بات کیوں کررہے ہیں؟آروش کا دل خوف سے دھڑکا

تو پھر کیسی بات کروں؟شازل نے پوچھا

مجھے نوافل ادا کرنے ہیں۔آروش نے کہا

ٹھیک کرو تم نوافل ادا مگر بھول ہے تمہاری کے وہ انسان کبھی ٹھیک ہوگا برین ٹیومر کوئی عام بات نہیں۔شازل سنجیدگی سے کہہ کر اُٹھ کر چلاگیا تھا پیچھے آروش کو اپنا وجود زلزلے کی زد میں آتا محسوس ہوا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کے کہنے کا مطلب میری بہن اُس شخص کو پہلے سے جانتی ہیں؟دلاور خان نے شروع سے لیکر اب تک ساری بات دونوں کے گوش گُزار کی تو شھباز خاموش ہوگئے تھے وہی دُرید بے یقین لہجے میں بولا

کیا تمہیں نہیں پتا یہ بات تو بہت پُرانی ہیں۔دلاور خان نے اُلٹا اُس سے سوال داغا تو دُرید شھباز شاہ کو دیکھنے لگا۔

آپ اتنی بڑی بات کیسے چُھپاسکتے ہیں بابا سائیں؟دُرید سنجیدگی سے شھباز شاہ سے بولے

پُرانی باتیں ہیں دفع کرو میں خود اُس لڑکے سے کبھی نہیں ملا تھا یہ سارا کا سارا کجھ دلدار اور دیدار کا کیا دھڑا ہے۔شھباز شاہ نے کہا

آپ کے حکم کے بغیر وہ کجھ نہیں کرتے۔دُرید کو یقین نہ آیا

اماں سائیں کا حکم تھا انہیں میں خود لاعلم رہتا اگر مجھے اپنے خاص آدمی ساری ماجرہ سے آگاہ نہ کرتے تو۔شھباز شاہ بس یہ بولے

اب سمجھا میں آروش کے بدل جانے کی وجہ۔دُرید گہری سوچ میں ڈوب کر بولا تو شھباز شاہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہم ہسپتال کیوں آئے؟ارمان فجر اور عیشا کو ہسپتال لایا تو فجر نے ڈر کر پوچھا۔

میں نے آپ کو پہلے نہیں بتایا تھا آپ پریشان ہوجاتی سر کا آج آپریشن ہیں۔ارمان یامین کو گود میں اُٹھاتا سنجیدگی سے بتانے لگا۔

آپریشن کس چیز کا یمان ٹھیک تو ہے؟عیشا پریشانی سے پوچھنے لگی۔

اُن کو برین ٹیومر ہے۔ارمان نے جیسے اُن کے سر پہ دھماکا کیا۔

یہ۔۔۔کیا۔۔۔بکواس ہے؟فجر کی زبان لڑکھڑاسی گئ

یہ حقیقت ہے آج اُن کا آپریشن ہیں جس کے لیے وہ بہت مشکل سے مانے ہیں آپ بس اُن کے لیے دعا کرے کے جب ہسپتال کے اندر جائے تو کوئی اچھی خبر ہماری منتظر ہو۔ارمان کا لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔

میرا دل گھبرا رہا ہے۔عیشا کا وجود خود کی وجہ سے لرزنے لگا تھا مگر فجر میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ کجھ کہتی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یمان کیسا ہے؟ان لوگوں نے جیسے ہی اتنے وقت بعد وارڈ سے ڈاکٹر کو باہر نکلتا دیکھا تو سب لوگ بے چینی سے اُن کی طرف بڑھ کر پوچھنے لگی فجر اور عیشا کا حال سب سے زیادہ بُرا تھا یامین اپنی ماں کو ایسے روتا دیکھ کر خود بھی سہم کر ارمان کے پیچھے چُھپ گیا تھا۔

آپریشن کامیاب ہوا یمان ٹوٹلی فائن ناؤ۔ڈاکٹر حمید نے جیسے اُن سب پہ نئ زندگی کی پھونک ماری۔

یااللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر۔زوبیہ بیگم نے بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔

عیشا فجر کے لگی تھی۔

صدقہ ضرور دیجئے گا یمان کا اُس کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ڈاکٹر حمید دلاور خان کے کندھا تھپتھپاکر بولے جن کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو تھے۔

ہم اُس لڑکے سے کب مل سکتے ہیں؟شازل جمائی لیتا اُن سے استفسار ہوا

یہ کون ہے؟عیشا نے آہستہ آواز میں فجر سے پوچھا جو غور سے شازل اور دُرید کو دیکھ رہی تھی جبکہ شھباز شاہ وہاں موجود نہیں تھے۔

پتا نہیں۔فجر نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

ابھی نہیں کجھ دیر بعد۔ڈاکٹر نے بتایا

چلو فجر نماز کا وقت ہونے والا ہے۔دُرید اپنی مردانہ شال کندھوں پہ ٹھیک کرتا شازل سے بولا تو اُس نے اپنا سرہلایا۔

میں آروش کو سُناؤں آؤں یہ خوشخبری۔نور پرجوش آواز میں کہتی پرے روم کی طرف بھری کیونکہ آروش اب تک وہاں سے نہیں نکلی تھی۔

آروش نام تو۔۔عیشا فجر کو اتنا کہتی خاموش ہوگئ تھی۔

صرف ایک کا نام نہیں ہوتا تم بس یمان کا سوچو۔فجر اُس کی آدھی بات کا مطلب سمجھتی سرجھٹک کر بولی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آروش

آروش مُبارک ہو آپریشن کامیاب ہوگیا۔نور سجدے میں گِری مسکراکر آروش کو بتایا تو اُس نے اپنا سراُٹھایا

سچ میں؟آروش نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا

ہاں۔نور مسکراکر کہتی اُس کے گلے لگی تھی جبکہ آروش کا وجود سن ہوگیا تھا اُس کے کانوں میں بار بار ماضی میں سُنے گئے جُملے گونج رہے تھے۔

“کلثوم بھابھی اپنی بیٹی کے لچھن دیکھے دو دفع بارات آتے آتے نہیں آئی اِس کی تیسری دفع دولہا عین نکاح کے وقت مرگیا پھر کس چیز کی اکڑ ہے اِس کو”

“شوہر ہونے دیتی کہاں ہو تمہارے سبز قدم نگل جاتے ہیں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *