Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 09)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 09)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
حریم یہ کیا ہوا ہے تمہارے ماتھے پہ۔دُرید شاہ نے حریم کے ماتھے پہ چوٹ دیکھی تو فکرمندی سے پوچھنے لگا۔
ہمارا پاؤں سے پھسل گیا تھا واشروم میں تبھی چوٹ لگ گئ۔حریم نے پہلی مرتبہ دُرید سے جھوٹ بولا
خیال کیا کرو نہ کیا درد ہورہا ہے زیادہ؟دُرید نے نرمی سے سمجھانے کے بعد پوچھا
معمولی سا زخم ہے بس۔حریم نے مسکراکر بتایا
اچھا میرے ساتھ چلو تمہاری چیزیں تمہیں دوں جو ابھی تک نہ دے پایا۔دُرید شاہ نے کہا تو اُس نے سر کو جنبش دی۔
دُر لا ہمیں آپ کو کجھ بتانا تھا۔دُرید شاہ نے اُس کو سامان دیا تو ان کو سائیڈ پہ رکھ کر آہستہ آواز میں کہا
کیا بتانا تھا۔دُرید شاہ سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
وہ جو لڑکی آئی تھی نہ ان کو بھابھی شبانا نے بہت مارا پیٹا تھا وہ بہت زخمی بھی ہوگئ تھی آپ ان سے کہیں نہ اُن کو نہ مارے بے چاری کو تکلیف ہورہی ہوگی۔حریم نے افسردہ لہجے میں بتایا تو دُرید نے گہری سانس خارج کی۔
تمہارے کالج کی چھٹیاں کب ختم ہورہی ہیں؟دُرید شاہ اُس کی بات نظرانداز کیے پوچھنے لگا
دو دن بعد۔حریم نے بتایا
ٹھیک ہے اُس کی تیاری رکھو ہاسٹل میں چھوڑ آؤں گا۔درید شاہ جوابً بولا
آپ نے ہماری بات کا جواب نہیں دیا۔حریم نے ایک بار پھر کہا
دیکھو حریم تمہاری بات کا جواب فلحال میرے پاس نہیں تم اِس معاملے سے دور رہو اِسی میں بہتری ہے۔دُرید سنجیدگی سے بولا
مطلب آپ بھابھی شبانا کو کجھ نہیں کہے گے؟حریم کو دُکھ ہوا
میں کیا کہوں گا یہ عورتوں کا معاملہ ہے میں نہیں بول سکتا اگر کوئی بول سکتا ہے تو وہ شازل ہے جو ابھی یہاں نہیں۔دُرید نے بتایا
تو آپ شازل لالہ سے کو آگاہ کرے نہ۔حریم نے مشورہ دیا
تم اپنی پڑھائی پہ دھیان دو حریم۔درید نے اِس بار سختی سے ٹوکا تو وہ اپنا سرجھکاگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کہاں ہو لالہ؟آروش نے کال پہ شازل شاہ سے پوچھا
اسلام آباد۔شازل نے سنجیدگی سے مختصر جواب دیا۔
کیوں؟آروش نے دوسرا سوال کیا
کیونکہ میں یہی ہوتا ہوں گاؤں آکر سوائے ڈپریشن کے کجھ اور نہیں ملتا پتا نہیں تم سب کیسے رہ رہو ایسے اصولوں پہ میرا تو کجھ ہی پل میں دم گُھٹنے لگتا ہے کیسی زندگی ہے جہاں دوسرے لوگ ہماری زندگی کے فیصلے کرکے ہم پہ مسلط کررہے ہیں۔شازل شاہ سخت بیزار معلوم ہورہا تھا۔
آپ اپنی امانت تو لیکر جائے پھر آپ کی مرضی اسلام آباد رہے ہیں یا کہی اور۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
کونسی امانت؟شازل شاہ اُس کی بات سمجھ نہیں پایا۔
آپ کی بیوی۔آروش کی بات پہ اُس کی آنکھوں کے سامنے سارا واقع ایک بار پھر تازہ ہوا۔
بکواس ہے میری کوئی بیوی نہیں میں تو شادی کے سخت خلاف تھا سوچ لیا تھا کبھی شادی نہیں کروں گا پر اُس دن جو میرا تماشا ہوا وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا اور نہ کبھی گاؤں آنے کی حماقت کروں گا۔شازل سخت لہجے میں بولا تو آروش بنا کوئی اور بات کہے کال کٹ کرگئ۔
میرے بھائی بھی بے حس ہیں آخر کیوں نہ ہو رگوں میں شاہ خاندان کا خون جو ہے۔اپنے فون کے وال پیپر پہ دُرید شاہ اور شازل شاہ کی تصویر دیکھ کر آروش طنزیہ لہجے میں بڑبڑا کر اُٹھ کھڑی ہوئی
وہ باہر آئی تو ماہی کو کراہتے پایا جو تکلیف میں ہونے کے باوجود حویلی کے بڑے سے ہال کو پونچا لگارہی تھی آروش نے تعجب سے اُس کو پھر ملازماؤ کو دیکھا جو سر جھکاکر خاموشی کھڑی تھی جہاں پہلے حویلی کے ہال کی صفائی پانچ سے چھ عورتیں کیا کرتی تھیں آج اکیلی کمزور سی ماہی کو یہ کام سونپا گیا تھا بنا اُس کی طبیعت کا لحاظ کیے۔
صوفے پہ بیٹھ جاؤ۔آروش سیڑھیاں اُترتی ماہی کے ہاتھ سے کپڑا لیکر بولی تو ماہی نے آنسوؤ سے بھری آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھا جو سپاٹ تاثرات لیے کھڑی تھی۔
چھوٹی بی بی نے کہا تھا آج سے سارے کام یہی کرے گی اور کوئی بیچ میں نہیں آئے گا۔وہاں کھڑی ایک ملامہ نے کہا تو آروش تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا جس سے وہ خاموش ہوگئ
تمہیں کانوں کا مسئلہ ہے کیا؟ماہی کو ایک جگہ ٹِکا دیکھ کر میٹھا طنزیہ کیا۔
ماہی سرعت سے اپنا سر نفی میں ہلانے لگی مگر قدم کہی اور نہیں بڑھا پائی اُس میں اتنی سکت نہیں تھی پہلے کل کی مار ساری رات کی بے آرامی اُس کے بعد خالی پیٹ کام کرنا اُس کے اعصابوں کو شل کرگیا تھا۔
آروش۔شبانا کالی چادر میں ملبوس دھاڑنے والے انداز میں اُس کا نام لیا آروش کو تو کوئی فرق نہیں پڑا وہ پرسکون سی اُس کی جانب پلٹی البتہ ماہی کی ٹانگیں ضرور کپکپاہٹ کا شکار ہوئی تھی۔
آپ کی عدت کے مہینے ہیں اپنے کمرے سے باہر کیوں آجاتی ہیں بار بار۔آروش نے سرسری لہجہ اپنا کر کہا
تم میرے معاملات سے دور رہو ورنہ اچھا نہیں ہوگا یہ میری مجرم ہے اِس کے ساتھ جیسا رویہ چاہوں میں اختیار کرسکتی ہوں۔شبانا اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر بولی۔
اِس لڑکی کو مجرم کہنے سے پہلے اِس کا جرم بتائے۔آروش نے پوچھا
میرے شوہر کے قاتل کی بیوی ہے۔شبانا نفرت سے غرائی۔
قاتل کی بہن ہے قاتل نہیں جو قاتل ہے اُس کو سزا دو کسی معصوم بے گُناہ کو نہیں۔آروش نے ناگواری سے کہا
تم اپنے کمرے میں جاؤ تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی میں۔شبانا نے دانت پیس کر کہا
لالا والوں کے آنے کا وقت ہوگیا ہے اِس لیے آپ اپنے ہجرے میں جائے۔آروش کی بات پہ پاس کھڑی ملازمین کی ہنسی چھوٹ گئ تھی۔
شبانا کو غصہ تو اُس کی بات پہ بہت آیا تھا پر کسی اور وقت کا سوچتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئ۔
آپ سب صفائی مکمل کریں اور تم میرے ساتھ چلو۔آروش ملازماؤ سے کہتی ماہی سے کہنے لگی تو اُس نے مشکور نظروں سے آروش کو دیکھا جو اب ہر چیز سے لاتعلق تھی۔







آپ پریشان مت ہو اللہ ماہی کی حفاظت کرے گا۔آمنہ چارپائی پہ خاموش بیٹھے زین کے پاس آکر تسلی آمیز لہجے میں بولی
اللہ تو بیشک اُس کی حفاظت کرے گا پر مجھے شاہ خاندان سے کسی رحم کی اُمید نہیں ان کے لیے کسی معصوم کی جان لینا عام بات ہے۔ذین افسردگی سے بولا وہ بہت فکرمند تھا ماہی کے لیے۔
وہ ایسا کجھ نہیں کرے گے ہمیں تو شکر کرنا چاہیے ماہی کا نکاح دیدار شاہ سے نہیں بلکہ شھباز شاہ کے سپوت شازل شاہ سے ہوا ہے جو زیادہ تر شہر رہنا پسند کرتا ہے کیا پتا وہ ماہی کو بھی سب سے دور اپنے ساتھ شہر لیکر جائے اتنا تو آپ کو بھی پتا ہوگا شہر میں رہنے والے واسیوں کی سوچ الگ ہوتی ہے۔آمنہ کی بات ذین کو کسی حدتک ٹھیک لگی پر پھر بھی اُس کو قرار نہیں آیا۔
شازل ماہی کو اپنی بیوی تسلیم کرے گا تب اُس کو لیکر جائے گا نہ کہی اور وہ شھباز شاہ کا بیٹا ہے یقیناً اُسی کی طرح ہوگا پتھر دل۔ذین سرجھٹک کر بولا
شھباز پتھر دل نہیں
شھباز شاہ وہی ہے جس نے سالوں پہلے ایک معصوم کی جان لی تھی اور تم اب بھی کہہ رہی ہو وہ پتھر دل نہیں۔ذین نے تاسف بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولا تو آمنہ لاجواب ہوگئ۔
وہ بہت پُرانی بات ہے ذین اور اللہ اُن کو سزا بھی دے رہے ہیں اپنی لاڈلی بیٹی آروش شاہ کی صورت میں جس کی شادی کسی نہ کسی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہے کیا آپ بھول گئے ہیں اُس کے عین نکاح کے دن اُس کے ہونے والے شوہر کا انتقال ہوگیا پھر جب کجھ وقت بعد دوسرا رشتہ ہوا تو وہ لڑکا کار ایکسیڈنٹ میں معزور ہوگیا اور تیسری بار تیسری بار تو اُس کی بارات ہی نہیں آئی آپ سوچ سکتے ہیں جس بیٹی کے ساتھ یہ سب ہو اُس کے ماں باپ پہ کیا گُزرتی ہوگی سب آروش شاہ کو سبز قدموں والی بولتے ہیں۔آمنہ ایک سانس میں سب کجھ بتانے لگی۔
میں جانتا ہوں اِن سب میں اُن کی بیٹی کا کیا قصور تم اُن کا ذکر میرے سامنے مت کرو ہمیں تو گُناہ ہوگا بلاوجہ انہیں بھی ملے گا۔ذین سنجیدگی سے بولا تو آمنہ شرمندگی سے اپنا سرجھکاگئ جذبات اور بے اختیاری میں آکر وہ نامحرم کے سامنے آروش شاہ کا نام لے چُکی تھی جو پہلی بار ہوا تھا۔







میں نوٹ کررہا ہوں تیرا زیادہ تر دھیان پڑھائی کے بجائے اُس آروش پہ ہوتا ہے۔آج آروش نہیں آئی تھی جس کا پتا یمان کو کالج آنے کے بعد ہوا تب سے وہ غم سم سا کلاس اٹینڈ کررہا تھا ابھی وہ فری ہوا تو عرفان نے بغور اُس کا جائزہ لیکر کہا۔
ایسی کوئی بات نہیں۔یمان نظریں چُراکر بولا
ایسی نہیں تو کسی بات ہے دیکھ بھئ میں تیرا دوست ہوں تو مشورہ بھی دوستوں والا دوں گا اگر تیرے دل میں اُس کے لیے کجھ ہے بھی تو ایک بات میں کلیئر کردوں وہ تمہارے لیے کسی سیراب کے علاوہ کجھ نہیں تم دونوں میں بہت فرق ہے سب سے زیادہ فرق توں اِسی بات سے لگالیں کے وہ شاہ خاندان سے تعلق رکھتی ہے جہاں اپنے قبیلے اپنی ذات پات کے علاوہ بیٹیاں کہی اور نہیں دی جاتی۔عرفان سنجیدگی سے اُس کو سمجھانے لگا جس کو سنے کے بعد یمان کو اپنے اندر مایوسی پھیلتی محسوس ہوئی پر وہ کجھ بول نہیں پایا کہی نہ کہی اُس کو عرفان کی باتیں سچ لگ رہی تھی یہ باتیں تو اُس کے دماغ میں بھی آتی تھی پر وہ اپنے دل کے ہاتھوں بے بس تھا جو بس اُس کی آواز اور آنکھوں کا اسیر ہوگیا جو نہ ذات کا فرق دیکھ رہا تھا اور نہ دونوں کے درمیان موجود اسٹیٹس کا۔
مجھے بس اپنا نام کمانا ہے بہت بڑا سنگر بننا میرا خواب ہے اُس سے زیادہ میری کوئی اور خواہش نہیں۔یمان اپنے دل کو مارکر بولا اُس کو لگتا تھا شاید پئسا آجانے کے بعد محبت بھی مل جائے جو اُس کی بس خام خیالی تھی۔
گُڈ لگ میرے یار۔عرفان خوش ہوکر بولا اور یمان مسکرا بھی نہیں پایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمان ٹھیک سے کھانا کھاؤ۔فجر نے یمان کو بس کھانے کی پلیٹ کو گھورتا پایا تو کہا
مجھے بھوک نہیں آپی نیند آرہی ہے سونا ہے۔یمان دسترخواں سے اُٹھ کھڑا ہوا۔
کیا ہوگیا ہے یمان تم کھانے میں آجکل نخرا نہیں کرتے اور نہ ٹھیک سے کھاتے ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔عیشا اُس کی بات سن کر فکرمندی سے گویا ہوئی۔
جی سب ٹھیک ہے میں بس سونا چاہتا ہوں۔یمان یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلاگیا
فجر نے ایک نظر اُس کی پلیٹ کو دیکھا جہاں کھانا جوں کا توں تھا یمان نے ایک نوالہ تک نہیں لیا تھا۔
یمان کمرے میں آکر اوندھے منہ بیڈ پہ لیٹ گیا۔
آپ پلیز میری ہوجائے۔یمان تصور میں آروش کو مخاطب کرتا نیند کی وادیوں میں اُتر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یمان کی ٹیشن ہورہی ہے۔فجر نے عیشا سے کہا
وہ تو مجھے بھی اب ہونے لگی ہے بس ایک بات پہ تسلی ہوتی ہے دو سال سے ایک سال گُزرگیا تو دوسرا سال بھی سکون سے گُزر جائے اُس کے بعد تو یمان کا سارا دھیان اپنے فیوچر کی جانب ہوگا اُس کا خواب پورا ہوگا سنگر بننے کا آخر کو اُس کا جنون ہے۔عیشا اُس کی بات کے جواب میں بولی
وہ تو تمہاری بات اپنی جگہ ٹھیک پر عیشا یمان بدل رہا ہے جہاں ہر وقت اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ ہوتی تھی وہ اب غائب ہے ہر وقت اُس کے ہاتھ میں گِٹار موجود ہوتا تھا پر اب تو شاید وہ گِٹار کی شکل بھی نہیں دِیکھتا ہوگا۔فجر کے لہجے میں یمان کے لیے فکرمندی تھی۔
میں نے نوٹ کیا ہے پر تم پریشان مت ہو سوجاؤ اور سکون کرو کیونکہ جلدی ارسم پاکستان آنے والا ہے اُس کے بعد تمہاری شادی کی تیاریاں شروع ہوگی۔عیشا نے کہا تو اُس نے گہری سانس بھری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا میں آپ کا چہرہ دیکھ سکتا ہوں؟شہد آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ کر یمان نے اپنے اندر دبی خواہش کا اظہار کیا ساتھ میں دل ڈر بھی رہا تھا کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے اور اُس کی ناراضگی اُس کو کہاں برداشت ہونی تھی۔
میرے گھروالے مجھے جان سے ماردے گے تمہیں پتا ہے ایک سیدزادی سے ایسی فرمائش کرنے کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔جواب میں آروش نے جیسے ڈھکے چھُپے لفظوں میں ڈرانا چاہا
ایک سیدزادی سے یہ عام بندہ بشر عشق کرتا ہے اُس کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے یہ بھی بتادے۔ڈرے بنا یمان اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بولا تو آروش مسکرائی آنکھوں میں بڑھتی چمک دیکھ کر یمان نظریں چُراگیا جس سے آروش کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔
ایک سیدزادی سے عشق کرنے کا نتیجہ ہیجر کی صورت میں سامنے تمہارے آے گا ہر پل تمہیں یہ احساس کروائے گا کیسے تم نے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں برباد کی۔ڈوبتے دل کے ساتھ آروش نے جواب دیا کیونکہ اپنی زندگی ہاتھوں سے برباد تو اُس نے بھی کی تھی۔
عشق میں جُدائی موت کے مترادف ہوتی ہے کیا کوئی اور سزا نہیں کیونکہ میں اتنی جلدی بے موت مرنا نہیں چاہتا مجھے آپ کے ساتھ بہت سارا جینا ہے اور اپنی زندگی میں اپنا نام بنانا ہے ۔یمان کا دل کانپا تھا ہجر کے نام پہ۔
موت سے ڈرتے ہو؟ یہ تو برحق ہے۔آروش تھوڑا جھک کر دلچسپی سے پوچھنے لگی۔
بیشک موت برحق ہے پر ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے۔یمان نے جواز پیش کیا
یہ تو ہے تم کالج بوائے ہو اور میں کالج گرل تو یہ بتاؤ کیا اِس عمر میں تمہیں پیار کرنا زیب دیتا ہے۔آروش نے جیسے مذاق اُڑایا
پیار نہیں عشق کرتا ہوں میں آپ سے اور میرے دل نے عشق کرتے وقت میری عمر نہیں دیکھی۔یمان کی حاضری جوابی سن کر آروش کِھلکھلائی
اب مجھے جانا ہوگا اگر کسی نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لیا تو مسئلہ ہوجائے گا۔آروش اُٹھ کھڑی ہوئی تو یمان نے بے اختیار اُس کے دستانے پہنے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا
تھوڑی دیر اور باتیں کرتے ہیں کالج میں تو آپ یکسر اجنبی بن جاتی ہیں بس چھٹی کے وقت یہ کجھ گھڑی نصیب ہوتی ہے۔اپنا ہاتھ دور کرتا یمان جیسے التجا کرنے لگا
تمہاری تھوڑی دیر ڈھلتے دن تک ختم نہیں ہوگی کالج میں اجنبی بننے کا سبب یہ ہے کے تمہیں اپنی جان پیاری نہیں پر مجھے تمہاری جان عزیز ہے اِس لیے ایک بار پھر کہوں گی اپنا راستہ بدل دو کیونکہ میری طرف آنے کا راستہ سوائے کاٹوں کے کجھ نہیں تمہارے پیر بس مجھ تک پہنچنے تک لہولہان ہوجائے گے پر منزل تمہیں ملے گی بھی یا نہیں۔آروش جیسے تھک چُکی تھی۔
آپ مایوسی والی بات کیوں کرتی ہیں کیا میری چاہت یک طرفہ ہے؟ڈرتے ڈرتے سوال پوچھا گیا
میرے بس میں ہوتا تو تمہاری چاہت یک طرفہ ہوتی کیونکہ سیدزادیاں نامحرم سے پیار یا باتیں نہیں کرتی پر میں اِس گناہ کا مرتکب بن چُکی ہوں۔آروش کا جواب سن کر یمان سرشار ہوا تھا تو کہی پریشان بھی
آپ کو ہمارا ملن ناممکن کیوں لگتا ہے۔ہمیشہ سے کیا جانے والا سوال یمان نے ایک بار پھر کیا
کیونکہ شاہ خاندان میں شادیاں شاہ خاندان کے اندر ہی ہوتی ہیں۔آروش کا لہجہ اُداس ہوگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .
آروش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمان نیند میں خواب دیکھتا یکدم اُٹھ بیٹھا
یااللہ یہ کیسا خواب تھا؟یمان اپنے ماتھے سے پسینا صاف کرتا بڑبڑایا اُس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اُس کو یقین نہیں آرہا تھا اُس نے خواب میں آروش کو دیکھا اپنی خواہش کو یاد کرکے یمان کے پریشان چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
میرے دل میں تو کبھی یہ خیال نہیں آیا کے اُن کا چہرہ دیکھ لوں۔یمان اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود سے بولا
وہ تو خواب میں بھی مجھ سے پردہ کررہی تھیں۔یمان اچانک ہنس پڑا۔
مجھے تمہاری جان عزیز ہے۔
خواب میں آروش کا کہا جُملا اُس کو یاد آیا تو ایسی خوشی محسوس ہونے لگی جیسے آروش نے سچ میں اُس سے کہا ہو۔
کیا کبھی اصل میں وہ مجھ سے ایسی بات کرے گی یا ان کو میں عزیز ہوگا یا مجھے وہ حق حاصل ہوگا جو میں ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھ سکوں؟یمان کے دل میں ایک کے بعد ایک خیال آرہا تھا جس کا جواب اُس کے پاس نہیں تھا۔
