Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 63)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

تمہیں کیا ہوا ہے کیوں یہاں سے وہاں ٹہل کر رہی ہو؟فردوس بیگم شبانا کے کمرے میں آئی تو اُس کو کمرے میں سے یہاں سے وہاں ٹہلتا دیکھا تو تعجب سے استفسار کیا۔

اُس منحوس کی کتنی بار آپریشن ہوئی ہے جو ابھی تک ہسپتال میں م*ری پڑی ہے نارمل ڈیلیوری تھی نہ تو آجانا چاہیے تھا اب تیسرا دن ہے اُس کا۔شبانا پھٹ پڑی۔

میری بلا سے وہی رہے پر خیر بچے کی طبیعت بگڑ گئ تھی جس دن وہ پیدا ہوا تھا تبھی وہی ہیں کل یا آج نکل پڑے گے یہاں۔فردوس بیگم سرجھٹک کر بولی

ڈرامہ ہے سراسر وہ اُس شازل کا کمرہ دیکھے ذرہ پورا کِھلونے سے بھرا پڑا ہے جیسے وہ آکر ہی کِھیلنے لگے گا اور ایسا بھی کیا ہوگیا تو اُس چوزے کو جو گاؤں آنا ہی سب بھول گئے ہیں۔شبانا کجھ کر دینے کے در پہ تھی۔

سانس کا مسئلہ ہوگیا تھا بچے ہوتے ہیں بیمار پیدائش کے شروع کے دن تو دو سے تین دن لگ جاتے ہیں تم کیوں سوار کررہی ہو اِس بات کو اپنے دماغ میں دفع کرو نہ آئے تو بہتر ہیں خوامخواہ ہمارا اپنا خ*ون جلے گا اُس ونی میں آئے ہوئی لڑکی کا بچہ دیکھ کر۔فردوس بیگم دانت پیس کر بولی۔

کہاں گئے وہ چچا سائیں کے اصول؟ہمارے خاندان میں کب کسی مرد نے غیر خاندان میں شادی کی ہے جو یہ شازل نے ایک غیر خاندان کی لڑکی کو اپنے گلے کا ہار بنایا ہوا ہے اب دیکھیے گا آپ “اُس کا بیٹا بھی یہی سب کرے گا حویلی میں ہر آنے والی نسل سارے اصولوں کو توڑ کر یہ سب کرے گی اب یہاں سیدزادیاں نہیں ہوگی کبھی ونی میں آئی ہوئی لڑکیاں راج کرے گی تو کبھی کوئی شہری ناچنے والی یا کوئی نہ کوئی اُٹھا کر لائے گا اِس حویلی میں مگر اماں میں بتادوں میں یہ سب ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔شبانا پاگل ہوتی اپنے بال نوچنے لگی۔

شبانا بچے صبر سے کام لے ایسا کجھ نہیں ہونے والا وہ آئے گی نہ تو اُس کو بھی دیکھ لینگے اور اُس بچے کو بھی۔فردوس بیگم نے شیطانیت سے کہا

آرام سے تو میں رہنے دوں گی بھی نہیں اُس بچے کو سانس کا مسئلہ ہورہا تھا اب دیکھیے گا میں کیسے سانسیں اُس پہ تنگ کرتی ہوں کیونکہ حویلی کا اصل وارث تو میرا اپنا خون ہوگا۔شبانا اٹل انداز میں بولی اُس کے اندر آگ بھڑک رہی تھی جس سے وہ سب کو تباہ کردینا چاہتی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ نے گاڑی ہسپتال کے بجائے لالہ کے گھر کی طرف کیوں کروائی؟وہ لوگ شازل کے گھر کے پاس آئے تو آروش نے پوچھا

کیونکہ وہ لوگ یہی ہیں تمہاری بھابھی ماں کی نارمل ڈیلیوری تھی مگر شازم کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہسپتال رہنا پڑا مگر اب شازل نے بتایا کے وہ گھر آگئے ہیں۔شھباز شاہ نے بتایا

شازم کو کیا ہوا تھا؟اور آپ لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا تھا؟آروش جو گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی اُن کی بات پہ رُک سی گئ۔

تمہیں بتا کر پریشان نہیں تھا کرنا اور بچے تو اکثر بیمار ہوجاتے ہیں نہ۔شھباز شاہ نے تسلی آمیز لہجے میں کہا

پر بابا سائیں پھر بھی دو سے تین دن کیوں؟آروش نے ایک پھر سے کہا

چھوڑو اِن سب باتوں کو اور اندر چلو۔شھباز شاہ اُس کی بات ٹال کر بول کر کہتے اُس کو لیے اندر کی جانب آئے۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ماشااللہ بے بی تو بہت پیارا ہے۔آروش بچے کو گود میں اُٹھا کر اُس کے چہرے پہ پیار کرتی ہوئی بولی۔

ہاں اِس پیارے بے بی کی وجہ سے اپنا لالہ بھی نظر نہیں آیا۔شازل نے کہا جبکہ ماہی مسکراکر اُن کو دیکھ رہی تھی شھباز شاہ کجھ دیر پہلے چلے گئے تھے جبکہ کلثوم بیگم نماز پڑھ رہی تھی۔

ملی تو صحیح آپ سے۔آروش نے کہا

ہاں جی اب تو روکھا سوکھا ملنا ملانا ہوگا کیونکہ یہ نمونہ جو آگیا ہے۔شازل مصنوعی افسوس سے بولا

لالہ خبردار جو میرے بھتیجے کو نمونہ کہا بھی تو۔آروش نے سختی سے اُس کو وارن کیا تو شازل نے اپنے ہاتھ کھڑے کرے کیے

میری توبہ بھئ جو اِس نمونے کو نمونہ کہوں بھی تو۔شازل ہاتھ کھڑے کرکے کہتا باز نہ آیا جس پہ ماہی اور آروش محض اُس کو گھور پائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سر اگر آپ بُرا نہ مانے تو ایک بات کہوں؟ارمان لیپ ٹاپ میں مصروف یمان کو دیکھ کر بولا

ہاں کہو اجازت کیوں لے رہے ہو۔یمان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا تو ارمان نے اپنا گلا تر کیا۔

وہ دراصل میں فجر سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ارمان ہمت کرکے بولتا یمان کے تاثرات نوٹ کرنے لگا جو نارمل تھے۔

پھر سے کہنا؟یمان نے کہا تو ارمان گڑبڑا سا گیا

آپ کی بہن فجر سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ غصہ نہ ہو تو۔ارمان فورن سے بولا

تمہیں پتا ہے وہ شادی شدہ ہے اُن کا سات سالہ کا بچہ بھی ہے تم سے ایک دو سال عمر میں بڑی بھی ہے پھر بھی تم اُن سے شادی کرنا چاہتے ہو یہ سب جاننے کے باوجود بھی؟یمان نے سنجیدگی سے کہا

جی میں سب جاننے کے باوجود بھی اُن سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اُن سے پیار کرتا ہو اور پیار کا عمر سے تعلق نہیں ہوتا اور یہ تو پھر بھی ایک دو سال کی بات ہے۔ارمان کا لہجہ مضبوط ہوگیا تھا۔

یامین کو بھی قبول کرو گے اور اگر تمہیں بعد میں پچھتاوا ہوا تو؟تمہارا تو کجھ نہیں ہوگا رُل تو میری بہن جائے گی بیوہ ہوئی تو سنبھل گئ تھی اپنی اولاد کی خاطر مگر اگر طلاق ہوئی تو وہ نہیں سنبھل پائے گی۔یمان نے ہر طرف سے اطمینان کرنا چاہا وہ خود پریشان تھا اگر اُس کو کجھ ہوجاتا تو اُن کی بہنوں کا کیا ہوگا؟ایک تو اپنے شوہر بچوں میں مصروف زندگی گُزار رہی تھی مگر اُس کی بڑی بہن کا کیا ہوگا جو اُس پہ ماں کی طرح اپنی محبت نچھاور کرتی تھی۔

یامین کو میں نے قبول کرلیا ہے سر اور وہ میری محبت ہے میرا شوق نہیں جو آگے چل کر ختم ہوجائے گا۔مانا کے وہ آپ کی بڑی بہن ہیں اور ایک بھائی کے سامنے اُس کی بہن کے لیے ایسی باتیں سُننا تھوڑا عجیب سا ہے مگر آپ جانتے ہیں میں اکیلا رہتا ہوں میرا کوئی بڑا نہیں جس کے تھڑو میں اپنی بات آپ تک پہچاتا میں چاہتا تو خان سر سے کہہ سکتا تھا وہ آپ کو منالیتے مگر میں خود آپ کو یقین دلوانا چاہتا تھا کے میں اُن کو خوش رکھوں گا یہ خواہش میں بہت سالوں سے اپنے اندر دبائے ہوئے تھا آپ سے شیئر نہیں کیا کیونکہ میں پہلے خود کو اُن کے قابل بنانا چاہتا تھا۔ارمان نے سنجیدگی سے کہا اُس کی آنکھیں اُس کی باتوں کے سچ ہونے کی گواہی دے رہی تھیں۔یمان بھی تھوڑا بہت پرسکون ہوگیا تھا یہ سوچ کر کے یامین کو بھی باپ کا پیار ملے گا۔

آپی نہ مانے تو؟یمان نے ایک اور بات اُس کے سامنے رکھی۔

میں منالوں گا۔ارمان کا اعتماد قابلِ دید تھا۔

ٹھیک ہے تم اُن کو راضی کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا میں خوش ہوں کے میری بہن کو بھی خوشیاں نصیب ہوگی جو وہ ڈیزرو کرتی ہیں۔یمان نے مسکراکر کہا

اوکے میں پھر چلتا ہوں۔ارمان اتنا کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔

کہاں جارہے ہو؟یمان نے پوچھا

اپنی فیوچر والی وائیف کو منانے۔ارمان اپنی ٹون میں آتا تھوڑا شرماکر بولا

اتنا آسان نہیں ان کو راضی کرنا۔کیسے راضی کرو گے؟یمان نے پوچھا

اِٹس ٹو پرسنل سر۔ارمان نے کہا

آگئے نہ اپنی اوقات پہ۔یمان نے گھور کر کہا

آنسٹلی سر جب میں سنجیدگی سے بات کررہا تھا نہ تو میرے اندر کا کیڑا بار بار مجھے کاٹ رہا تھا اور بول رہا تھا اوے ارمان یہ کیسے بات کررہا ہے؟پی وی تو نہیں لی۔ارمان ڈرامائی انداز میں بولا

دفع ہوجاؤ اُس سے پہلے میرا اِرادہ بدل جائے۔یمان کو تاؤ آیا

سوچ لے سر آسمان پہ لٹکتے میرے بچے مجھے بددعا دے رہے ہیں کے میں نے کیوں تاخیر کی ہے اُن کو یہاں بُلانے میں اگر آپ نے ایسا ویسا کجھ کیا تو وہ آپ کو بددعائیں دینگے۔ارمان نے باز نہ آیا

تمہیں تو

اوکے سر باے سر ٹیک کیئر سے۔یمان اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کی طرف بڑھنے والا تھا جب ارمان اُس کے اِرادے جان کر جلدی سے رفو چکر ہوگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش واپس کب آئے گی؟نور نے زوبیہ بیگم سے پوچھا

کجھ دن تو وہاں رہے گی تقریباً ایک دو ہفتہ۔زوبیہ بیگم نے جواب دیا۔

ایک دو ہفتہ بہت زیادہ وقت ہے اُس کو چاہیے تھا بس مل کر واپس آجاتی۔پاپ کارن کھاتی زرگل نے کہا

ہممم مگر خان نے اِجازت دی ہے تو میں کیا کہہ سکتی ہوں اچھا ہے مل آئے اُن سے۔زوبیہ بیگم نے کہا

اُن کی وجہ سے وہ ہم سے ٹھیک سے بات نہیں کرتی صرف حویلی کا ذکر ہوتا ہے اُن کے لوگوں سے ہی بس پیار ہے ہم اُس کی بہنیں ہیں مگر مجال ہے جو کبھی خود سے بات کرلیا کرے۔زر فشاں نے بھی باتوں میں حصہ لیا۔

ہاں اور نہیں تو کیا ہم آئے بھی تو اُس سے ملنے ہیں نہ پھر تو ہمیں واپس جانا ہے بس کجھ دن پھر اپنے اپنے گھر آپ کو تو پتا ہے ہمارے لیے کتنا مشکل ہے پاکستان آنا۔ خاموش بیٹھی زرنور نے کہا

میں تو خان سے کہتی تھی اُس کو واپس لائے مگر وہ مانتا ہی نہیں تھا اگر بہت دن پہلے آجاتی تو آج یہ سب نہ ہورہا ہوتا۔زوبیہ بیگم گہری سانس بھر کر بولا

ڈیڈ کی بھی غلطی ہے جب دادی نے بہت پہلے عاق کرلیا تھا تو آروش کو بھی ہمارے ساتھ رہنا چاہیے تھا تعلقات تو ویسے بھی ختم ہوگئے اپنی جگہ آروش بھی ٹھیک ہے پر چوبیس سال جس کے ساتھ زندگی جیسے زندگی گُزاری اُس کو بُھلانا اتنا آسان نہیں۔نور نے اپنی رائے دی۔

ویسے ہماری بہن ہے بہت پیاری اٹیٹیوڈ بھی بہت اُس میں۔زرنور نے کہا تو بس ہنس پڑی تبھی یمان جو ابھی گھر میں داخل ہوا تھا اُن کے پاس بیٹھ گیا۔

ہیلو بزی مین۔یمان جیسے ہی بیٹھا زر فشاں نے کہا

بزی مین کہا اب تو فری مین ہوں۔یمان نے کہا

پھر بتاؤ ہم کب تمہاری ڈولی لیکر جائے روزی کی طرف۔نور نے شرارت سے پوچھا تو یمان چپ سا ہوگیا۔

میں تو سوچ رہی ہوں اِس سال یمان کی شادی بھی ہوجائے پھر ہم آروش کا سوچے۔زوبیہ بیگم کی بات پہ یمان کو یکدم گُھٹن کا احساس ہوا تھا۔

پہلے اُس کو ہماری لائیف سٹائیل کی طرف آنے دے وہ جس طرح رہتی ہے کون لڑکا اُس سے شادی کرنا چاہے گا اعتراض

مجھے کوئی اعتراض نہیں۔زرفشاں ابھی بات کررہی تھی جب یمان کی زبان یکدم پھسلی تھی اُس پہ سب کی نظروں کا محو یمان بن گیا تھا۔

میرا مطلب تھا کسی کو کیا اعتراض ہوگا؟یمان سب کی نظریں خود پہ محسوس کرتا گڑبڑا کر بولا

تمہیں کیا پتا یمان ہر لڑکا چاہتا ہے اُس کی شریک حیات قدم سے قدم ملا کر چلے نہ کے خود کو یوں چار دیواروں میں بند رکھے۔زوبیہ بیگم نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

کوئی اُلو کا پٹھا ہوگا۔یمان سرجھٹک کر بڑبڑایا جو پاس بیٹھی نور نے باخوبی سُن لیا تھا

ویسے مجھے خوشی ہوئی کے تم نے اُس لڑکی کو بُھلادیا اور روزی کے ساتھ اپنی نئ زندگی گُزارنے کا فیصلہ کیا۔نور بغور اُس کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرتی بولی تو یمان اُس کی اچانک ایسی کہ جانے والی بات پہ چونکا

ہاں میں بھی خوش ہوں ہمارا یمان بہت ساری خوشیاں ڈیزرو کرتا ہے اُس لڑکی نے دیا ہی کیا تھا یمان کو سِوائے دُکھو اور تکلیفوں کے۔موت کے منہ سے بچا تھا یمان۔زوبیہ بیگم کی بات پہ یمان نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا۔

خیر چھوڑے اُس لڑکی کا ذکر جو ہے ہی نہیں۔زرنور نے کہا تو سب نے سراثبات میں ہلایا

میں فریش ہوجاؤں۔یمان اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن سے کہتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

وہ سب حویلی پہنچ گئے تھے سب لوگ اُن کو دیکھ کر خوش ہوئے تھے اور سب نے شازم کا صدقہ اور اُس کو اپنی گود میں اُٹھایا تھا سوائے فردوس بیگم اور شبانا کے۔ماہی خود بھی نہیں چاہتی تھی کے اُس کا بچہ اُن دونوں میں سے کسی کے پاس بھی جائے۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°′°°°°°°°′

ہائے کیا ہمارا بچہ بھی اتنا چھوٹا سا ہوگا؟حریم آروش دونوں شازل اور ماہی کے مشترک کمرے میں تھے جب حریم غور سے سوئے ہوئے شازم کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا

یہ 2.5 کا ہے۔آروش نے ماہی کی اُتری شکل دیکھی تو مسکراہٹ دبائے حریم سے کہا

مطلب؟حریم کو سمجھ نہیں آیا

مطلب شازم کمزور ہے یا نہیں یہ کہا نہیں جاسکتا کیونکہ 2.5 اور 4.5 کے درمیان پیدا ہونے والا بچہ بھی نارمل ہوتا ہے اِس لیے بچے کا ویٹ دیکھ کر پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اِس ویٹ والے بچے بھی صحتمند ہوتے ہیں مگر ہوسکتا ہے تمہارا بچہ مزید صحتمند ہو۔آروش نے آرام سے اُس کو سمجھایا

کمزور ہے دیکھے نہ کیسے جب سے آیا ہے سویا پڑا ہے مگر کمزور کیوں ہے؟شازل لالہ تو اِن کا بہت خیال کرتے تھے پھر بچہ کیوں اتنا چھوٹا سا نکل آیا؟اور ماشااللہ سے اِن کا پیٹ بھی تو ٹھیک سے بڑا تھا میں تو سمجھی تھی بچہ ایک یا تین پاؤنڈ کا تو ضرور ہوگا مگر شازم کو دیکھ کر لگ رہا ہے ڈائیپر بھی مشکل سے بے چارہ سنبھال پائے گا۔حریم اپنی دُھن میں مگن بچے کا ایکسرا نکال رہی تھی جس پہ آروش کا قہقہقہ نکل گیا تھا اُس کو اصل خوشی اِس بات پہ تھی کے حریم باقائدہ سے ٹھیک ہوگئ تھی مگر دوسری طرف ماہی کو حریم شازل سے کم نہ لگی جو اُس کے معصوم بچے کو بخش نہیں رہے تھے۔

پانی کم ہوگا نہ۔آروش بمشکل بول پائی۔

وہ بھی تو تب نہ جب ماں کمزور ہو یا پھر وہ اپنی خوراک کا ٹھیک سے خیال نہیں کرتی ہو ایسا تو کجھ نہیں تھا پھر کیوں؟حریم کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھی اتنی گہرائی سے شازل نے بھی شازم کا ایکسرا نہیں لیا تھا جتنا کجھ ہی وقت میں حریم نے لیا تھا اُس کو اب اپنے بچے کی فکر ہونے لگی تھی جو جانے کیسے پیدا ہونا تھا۔

ایسی کوئی بات نہیں مانا کے جب بچے کا وزن تین گرام کا آتا ہے تو والدین خوش ہوتے ہیں مگر یہ بھی ایک نارمل بات ہے اور آہستہ آہستہ شازم کا ویٹ بھی ٹھیک ہوجائے گا تم دیکھنا۔آروش نے مسکراکر کہا

ہاں اور اگر تین گرام یا سات پاونڈ کا آتا تو بھی سب نے کہنا تھا اتنا صحتمند بچہ ہے پھر نظر لگ جانی تھی اِس لیے اللہ نے پہلے سے اِتنا ویٹ دیا اُس کا۔ماہی پہلی بار بولی۔

آپ کی بات بھی ٹھیک ہے مگر عقیقہ جب ہوگا تو گاؤں کی عورتیں کس کو دیکھے گی یہ تو اِتنا چھوٹا سا ہے۔حریم کی پھر وہی بات پہ ماہی نے اپنا سر پکڑا تو آروش ہنس ہنس کر بے حال ہوئی۔

نیو برن ہے میرا بچہ اور کونسا ان گاؤں کی عورتوں نے پہلوان جیسا بچہ دیا ہوگا دیکھنا ایک دو ماہ بعد بلکل ٹھیک ہوجائے گا۔ماہی کجھ دیر بعد بولی

آپ کی بات کا مطلب ایک سال بعد یہ ڈورے گا پوری حویلی میں مگر اِس کو دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے رینگے گا بھی بڑی مشکل سے۔حریم نے شازم کی طرف اِشارہ کیا تو ماہی اور آروش دونوں کی بس ہوئی تھی وہ سمجھ گئ تھی حریم کو اُن کی کوئی بات دماغ میں نہیں بیٹھنی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مائے گُڈنس کے آج یمان مستقیم نے مجھے خود یہاں بلوایا ہے وہ بھی کوئی ضروری بات کرنے کے لیے۔روزی یمان کے پاس والی چیئر پہ بیٹھتی خوش بھرے لہجے میں بولی اُس کو اپنے اسسنسٹ سے معلوم ہوا تھا کے یمان اُس سے ملنا چاہتا ہے تبھی وہ شام کے وقت ملنے چلی آئی تھی ریسٹورنٹ میں۔

میں واقع تم سے ضروری بات کرنا چاہتا تھا سوچا یہی بلالوں۔یمان بس یہی بولا

میں سن رہی ہوں۔روزی نے اپنی کہنیاں میز پہ ٹِکائی۔

مجھے برین ٹیومر ہے۔یمان نے جیسے اُس کے سر پہ دھمکا کیا

واٹ؟؟؟؟روزی تقریبً چیخ پڑی

آہستہ۔یمان نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

انتہا کا واحیات مذاق تھا یمان۔روزی نے کہا

تمہیں کیا لگتا ہے میں یہاں مذاق کرنے کے لیے تمہیں آنے کا کہا ہے؟یمان نے طنزیہ کیا

آر یو سیریس؟روزی بے یقین تھی۔

ہممم تمہیں بتانے کا مقصد میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اِس لیے تمہیں چاہیے میرا انتظار مت کرو تمہارے آگے بہت لمبی زندگی ہے۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

کوئی علاج سے یا آپریشن وغیرہ تو ہوگا نہ مطلب کجھ ٹھیک ہونے کے چانسز۔روزی نے بس یہ کہا

کوئی علاج نہیں ہے میں نے تمہیں بتادیا ہے اور ہاں مجھے اپنا فیصلہ مجھے پہ بتادینا اگر ہاں کہو یا نہ پر میری درخواست ہے یہ بات کسی اور کو مت بتانا۔یمان اپنی جگہ کھڑا ہوتا اُس سے بولا تو روزی نے محض اپنا سراثبات میں ہلایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

وقت تیزی سے گُزرتا جارہا تھا شازم کا عقیقہ خیر سے ہوگیا تھا آروش بھی اپنے باپ دلاور خان کے گھر واپس لوٹ گئ تھی یمان کی بیماری کا ابھی تک کسی کو پتا نہیں چلا تھا آروش خود حیران تھی یمان کیوں یہ حقیقت سب سے چُھپا رہا ہے مگر اُس نے یمان میں ایک چیز نوٹ کی تھی اور وہ تھی یہ کے یمان بہت خاموش رہنے لگا ہے پہلے جہاں وہ اُس کو تنگ کرتا تھا اب ایسا کجھ بھی نہیں ہوتا تھا اور یہ بھی کے وہ تھوڑا کمزور بھی ہوتا جارہا تھا جس پہ اُس نے سوچ لیا تھا وہ کسی بہانے دلاور خان کو یمان کی بیماری کا ضرور بتائے گی۔روزی سے ملنے کے ایک ہفتہ بعد یمان کو اُس کا میسج موصول ہوا تھا کے وہ اُس کے ساتھ اپنا رشتہ ختم کرتی ہے یمان نے جب یہ میسج دیکھا تو اُس نے کوئی خاص ری ایکٹ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ خود ایسا ہی کجھ چاہتا تھا۔اور ارمان نے یمان سے تو بات کرلی تھی مگر اُس میں فجر سے یہ بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔حویلی میں شبانا نے بہت بار شازم کو نقصان پہچانا چاہا تھا مگر کوئی موقع اُس کے ہاتھ نہیں آتا تھا کیونکہ شازم یا تو سارا وقت ماہی کے پاس ہوتا تھا یا پھر کلثوم بیگم اور فاریہ بیگم کے پاس جنہوں نے شازل کے اسلام آباد جانے پہ پابندی لگائی ہوئی تھی اِس لیے وہ بھی فلحال شازم کی پیدائش کے ڈیڑہ ماہ سے یہی تھا کیونکہ وہ بھی یہاں ٹھیک تھا اپنے بچے اور بیوی کے سنگ خوش تھا ویسے بھی شازم میں سب کی جان اٹکی ہوئی تھی کبھی کسی ایک کی گود میں ہوتا کسی دوسرے کی گود میں۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دلاور خان پریشانی سے گاڑی ڈرائیو کرتے ڈاکٹر حمید کے ہسپتال جارہے تھے جنہوں نے اُن کو ایسی خبر سُنائی تھی جس پہ وہ یقین کرنے سے بلکل قاصر تھے۔وہ نہیں جانتے تھے وہ ہسپتال کیسے پہنچے کتنی بار ان کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔مگر وہ جیسے ہی ڈاکٹر حمید کے کیبن میں آئے تو اُن کے ساتھ خاموش بیٹھے یمان کو پہلے سے وہاں موجود بیٹھا پایا۔

یہ کیا بات کہی تم نے کے یمان کو برین ٹیومر ہے؟کس نے کہا ایسا تم سے؟دلاور خان ڈائریکٹ اصل بات پہ آئے۔

اُس سے جس سے یمان کا علاج چل رہا ہے دو ماہ سے وہ ڈاکٹر میرا جاننے والا تھا اِس بات سے میں خود لاعلم رہتا اگر پڑسو میں اُس سے ملنے ہسپتال نہ جاتا اگر میں نے پڑسو یمان کو اُس ہسپتال سے نکلتا دیکھا پھر ڈاکٹر شجاع سے پوچھا تو اُس نے میرے ساتھ یمان کا کیس ڈسکس کیا اور اُس نے یہ بھی بتایا وہ پورے دو ماہ سے یمان کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کے وہ آپریشن کروائے مگر یمان اپنی بات پہ بضد ہے کے اُس کو آپریشن نہیں کروانا بلکہ تڑپ تڑپ کے مرنا ہے۔دلاور خان کے سوال پہ ڈاکٹر حمید جیسے پھٹ پڑے تھے دلاور خان بس ساکت سے اُن کو دیکھنے لگے جب کی یمان کی نظریں غیرمعی نقطے پہ ٹِکی ہوئی تھی۔

میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو دلاور اپنے یمان سے پوچھو میں نے کہا تھا تمہیں بار بار کہا تھا یمان کے دماغ کا آپریشن ضروری ہے مگر نہیں تمہارے نزدیک میری بات کی اہمیت نہیں تھی تب یمان کے بےجا ضد کی اہمیت تھی اب نتیجہ آگیا سامنے برین ٹیومر ظاہر ہوا ہے۔ڈاکٹر حمید نے دلاور خان کو کجھ بولتا نہ دیکھا بس خود پہ نظریں محسوس کی تو سخت بھرے لہجے میں دلاور خان سے بولے جن کو اُن کی بات سے چُپ ہی لگ گئ تھی۔

تم کیوں خاموش ہو یمان تمہارے لیے تو یہ جشن کا دن ہونا چاہیے تم خود کہتے تھے نہ ح*رام کی م*وت م*رنا نہیں چاہتے اور یہ زندگی تم جی نہیں سکتے تمہیں م*رنے کا شوق تھا تو خوش ہوجاؤ م*وت آہستہ آہستہ آرہی ہے تمہارے پاس۔دلاور خان نے اچانک ایک دم خاموش بیٹھے یمان نے سے کہا جو اپنی جگہ ساکت وجامد تھا۔

میں م*رنا چاہتا تھا پر میں اب جینا چاہتا ہوں مجھے مرنا نہیں ہے ڈیڈ مجھے جینا ہے۔یمان دلاور خان کی بات سنتا اُن کے پاس آتا دیوانوں کی طرح ایک ہی بات بار بار دُہرانے لگا جس کو سن کر دلاور خان اور ڈاکٹر حمید اپنی جگہ حیران ہوگئے تھے۔

یمان۔دلاور خان کے منہ سے الفاظ نکلنے سے انکاری ہوئے تھے۔

جی ڈیڈ میں سچ کہہ رہا ہوں وہ مجھے مل گئ ہے میں اب اُن کو پاسکتا ہوں مجھے جینا ہے اگر میں م*رگیا تو وہ کسی اور کی ہوجائے گی اور میں اُن کو کسی اور کا ہونے نہیں دے سکتا۔یمان کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر ڈاڑھی میں جذب ہوا تھا جس کو دیکھ کر دلاور خان تڑپ اُٹھے تھے انہیں یمان نے آج بھی حیران کردیا تھا اُن کو حیرت ہورہی تھی آج بھی یمان کو اپنی زندگی کی فکر نہیں تھی اُس کو بس ایک بات کی پرواہ تھی اگر وہ مرجاتا ہے تو اُس کی محبت کسی اور کی ہوجائے گی۔

کون ہے وہ؟کب اور کہاں دیکھا تم نے اُس کو اچانک سے؟دلاور خان اُس کی بکھری حالت دیکھ کر بس یہ پوچھ پائے مزید بحث کرنے کا تو جیسے کوئی وجاہت ہی نہیں تھی مگر کجھ دیر کے لیے یمان کو دوبارہ سے چپ سی لگ گئ تھی۔

آ۔۔۔۔۔آروش آپ کی بیٹی۔یمان نے بلآخر اُن کے سامنے اپنی چپی توڑی تو دلاور خان پھٹی پھٹی نظروں سے یمان کو دیکھنے لگے جو کسی مجرم کی طرح اپنا سرجھکائے بیٹھا تھا اُس کی حالت کسی ہارے ہوئے جواری سے کم نہیں لگ رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *