Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 50)Part 3

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حال!

صبح ماہی کی آنکھ شازل کے جاگنے سے پہلے کُھلی تھی وہ بہت غور سے شازل کو دیکھ رہی تھی جب اُس کی نظر شازل کے ماتھے پہ پڑی جہاں کسی چوٹ کا خاصا نشان تھا کل رات اپنی دُھن میں اُس نے غور نہیں کیا مگر اب اُس کے چہرے پہ فکرمندی کے سائے لہرائے تھے۔

یہ کس چیز کا نشان ہوگا؟ماہی اپنا ہاتھ شازل کے ماتھے پہ چوٹ کے نشان پہ رکھتی بڑبڑائی۔

جس چیز کا بھی ہو تمہاری عقل پہ یہ بات نہیں آنی۔شازل کی اچانک آواز پہ ماہی نے چونک کر اُس کو دیکھا جس کی آنکھیں تو بند تھی مگر ہونٹوں پہ شریر قسم کی مسکراہٹ تھی۔

ناراض ہوں میں آپ سے۔ماہی نے جتایا

میں بھی ناراض ہوں۔شازل سیدھا ہوکر لیٹا۔

یہ اچھی بات ہے روٹھے ہوئے کو ماننے سے بہتر خود بھی ناراض ہوجائے۔ماہی بُرا مان کر بولی تبھی شازل کا سیل رِنگ کرنے لگا۔

ہیلو رضا۔شازل ایک نظر ماہی پہ ڈال کر کال ریسیو کیے رضا سے کہا

شازل میں غفار کو لیے گاؤں پہنچ گیا ہوں تم بس گاؤں کے لوگ جمع کرو غفار سب کے سامنے سچ بتائے گا کے اُس نے تمہارے لالہ کا قتل کیوں کیا۔دوسری طرف رضا نے کہا

ٹھیک ہے میں پنچائیت بیٹھاتا ہوں۔شازل مختصر بول کر کال ڈراپ کرگیا۔

کس لیے پنچائیت بیٹھائے گے؟ماہی نے ناسمجھی سے شازل کو دیکھ کر پوچھا

مُبارک ہو تمہارے بھائی سے آج قتل کا الزام ہٹ جائے گا۔شازل مسکراکر بس یہی بولا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حریم کیسی ہے؟آروش دُرید کے کمرے میں آتی اُس کا وارڈروب سیٹ کررہی تھی جب دُرید نے پوچھا

ٹھیک ہے آہستہ آہستہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہ سب بچے کے آنے کی وجہ سے ہورہا ہے دیکھیے گا بچے کی پیدائش کے بعد وہ پہلے والی حریم بن جائے گی۔آروش کے لہجے میں اُمید کی کرن تھی جس کو محسوس کیے دُرید زِیرلب مسکرایا

تم اُس کا بہت خیال رکھ رہی ہو تبھی وہ زندگی کی طرف لوٹ رہی ہے۔دُرید نے مسکراکر کہا

اگر وجہ میں ہوتی اُس کے ٹھیک ہونے کی تو وہ کب کا ٹھیک ہوجاتی مگر اُس میں بدلاؤ بچے کی وجہ سے آرہا ہے گھنٹوں پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر اُس سے باتیں کرتی ہے جیسے وہ سن یا سمجھ رہا ہو۔۔آروش سر جھٹک کر بتانے لگی

ایسی باتیں مت کرو۔دُرید نے کہا تو آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی

کیوں لالہ؟آروش نے بالآخر پوچھ لیا

اُس کے لیے سب سے ضروری میری ذات ہوا کرتی تھی اور اب جب کسی اور کو وہ اہمیت دے رہی ہے تو مجھے جیلسی ہو رہی ہے۔دُرید عجیب لب ولہجے میں بولا

وہ کوئی اور نہیں ہماری حریم کا بچہ ہوگا اور ابھی تو آپ جیلسی والا ورڈ یوز کررہے ہیں مجھے پتا ہے بچے کی آنے کی دیر ہے آپ نے دوسرے بچے کو بھی پالنا ہے جیسے حریم کا خیال رکھا تھا۔آروش جوابً بولی

تمہیں لگتا ہے حریم مجھے اتنا حق دے گی وہ بچے کے پاس میرا سایہ برداشت کرلے وہ ہی بڑی بات ہے۔دُرید کے لہجے میں مایوسی تھی۔

ایسی مایوسی والی باتیں آپ کب سے کرنے لگے لالہ یقین جانے آپ پہ بلکل سوٹ نہیں کررہی۔آروش دُرید کی باتیں سن کر اُداس ہوئی۔

زندگی بہت عجیب ہے آرو ہم سے وہ کام کروادیتی ہے جس کو کرنے کے بعد سوائے پچھتاوے کے کجھ نہیں ہوتا میں نے حریم کے لیے پُھولوں کی سیج کو چاہا تھا مگر میری وجہ سے اُس کا سامنا کانٹوں سے ہوگیا۔دُرید گہری سوچ میں ڈوب کے بولا تو آروش کا دل کٹ کے رہ گیا۔

سب کجھ ٹھیک ہوجائے گا لالہ آپ اُداس مت ہو مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔آروش دُرید کا اپنے ہاتھ میں لیکر التجا کرنے لگی

میں اُداس نہیں ہوں آرو بس آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کررہا ہوں حریم مجھ سے نفرت کرنے لگی ہے وہ حریم علی جس کی زبان دُر لا دُر لا کہہ کر تھکتی نہیں تھی۔دُرید اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولا

آپ کجھ بھی کہہ لے لالہ مگر مجھے پتا ہے حریم مر تو سکتی ہے مگر آپ سے کبھی نفرت نہیں کرسکتی وہ آپ سے خفا ضرور ہے مگر وہ کبھی آپ سے نفرت نہیں کرسکتی یہ اُس کے بس میں نہیں ہے۔آروش نے کہا تو دُرید خاموش ہوگیا اُس کے پاس کہنے کو کجھ بچا ہی نہیں تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم تو ہمارے گاؤں کے نہیں پھر کیوں دلدار شاہ کا قتل کیے روپوش ہوگئے؟پنچایت میں بیٹھے موجود لوگوں میں سے ایک بزرگ نے غفار سے سوال پوچھا جو خاموش بیٹھا تھا باقی سب بھی اُس کے جواب کے منتظر تھے۔

میں دلدار شاہ کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا میرا مقصد شھباز شاہ کے بیٹوں کو قتل کرنا تھا مگر پھر میرا خیال بدل گیا۔غفار نفرت بھری نظروں سے شھباز شاہ اور شازل شاہ کو دیکھ کر بولا دُرید جب کی موجود نہیں تھا۔

میرے بیٹوں سے تمہاری کیا دُشمنی؟شھباز شاہ نے روعبدار آواز میں پوچھا

شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں میں غفار فراز ہوں جس کے باپ اور بہن کا تم نے قتل کروایا تھا اسی گاؤں میں۔غفار نے حقارت سے اُن کو دیکھ کر کہا تو شازل کی پیشانی میں بل نمایاں ہوئے تھے جب کی شھباز شاہ سوچ میں پڑگئے کے سامنے والا شخص کس قتل کے بارے میں بات کررہا ہے انہوں نے تو جانے کتنے قتل کروائے تھے اور کیے تھے تو یہ کون تھا جو بدلا لینے پہنچ گیا۔

میرے بابا سے تہمیز سے بات کرو ورنہ آئے تو اپنی ٹانگوں سے ہو جانے کے لیے کسی کے کندھوں کی ضرورت پڑے گی۔شازل نے سخت لہجے میں کہا

کس کی بات کررہے ہو تم؟شھباز شاہ شازل کو خاموش رہنے کا اِشارہ کیے غفار سے بولے

فراز احمد کا بیٹا غفار احمد اور کومل کا بھائی ہوں میں کیا اب بھی نہیں پہچانا مجھے میری بہن کا قتل کروایا تم نے کیونکہ وہ تمہارے بڑے بیٹے دُرید شاہ سے شادی کرنا چاہتی تھی میرے باپ کو خود تم نے مارا کیونکہ وہ انصاف چاہتے تھے۔غفار چیخا تو چہ مگوئیاں شروع ہوگئ تھی اُس کی بات سن کر جہاں شھباز شاہ خاموش ہوئے تھے وہی شازل نے شکر ادا کیا تھا کے دُرید شاہ نہیں ورنہ یقیناً وہ نئ تکلیف سے گُزرتا۔

جو ہوگیا سو ہوگیا بات ختم پنچایت ختم۔شھباز شاہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر روعب بھرے لہجے میں کہتے کھڑے ہوئے تو باقی سب بھی کھڑے ہوئے۔

مجھے انصاف چاہیے۔غفار تڑپا

اِس دُنیا میں کسی کو انصاف نہیں ملتا اگلے جہاں میں شاید تمہیں مل جائے۔شھباز شاہ کو تنکے کا بھی فرق نہیں پڑا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ ماہ بعد!

وقت تیزی سے گُزرتا جارہا تھا ماہی کو پریگنسی کا سات ماہ تھا تو دوسری طرف حریم کا پانچواں مہینہ شروع ہوگیا تھا شازل نے ماہی کو ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا تھا اُس کی ہر ضرورت ہر بات کا خیال رکھا تھا تو کہی اُس کے گول مٹول ہوتے وجود کو دیکھ کر خوب رکارڈ بھی کر ڈالا تھا اُن دونوں کی زندگی بہت خوشگوار تھی جب کی حریم اب بھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی تھی آروش نے اُس کا بہت خیال رکھا تھا مگر ایک سال ہوگیا تھا حریم نے دُرید سے کوئی بات چیت نہیں کی تھی جب اُس کی شادی ہوئی تھی اُس دن کے بعد پھر کوئی بات نہ ہوئی۔

یمان مستقیم نے اپنا نام مزید بنایا تھا اب زوبیہ بیگم اُس کی شادی کروانے کے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑی تھی مگر ایک یمان تھا جو ہر بار ٹال مٹول دیتا۔

ارمان فجر کو پسند کرتا تھا یا شاید پسندیدگی سے زیادہ بات آگے کو تھی مگر اُس نے سوچ لیا تھا وہ اب مزید وقت برباد نہیں کرے گا اپنا پرپوزل فجر کے سامنے ضرور پیش کرے گا پھر چاہے فجر اُس کا سر ہی کیوں نہ توڑ دیتی اُس کو پرواہ نہیں تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

دیکھ لو شاہ آج پورے آٹھ ماہ بعد آیا ہوں اب تمہیں چاہیے اپنا واعدہ پورا کرو۔دلاور خان آج پھر شھباز شاہ کے ڈیڑے پہ موجود تھے مگر اِس بار وہ یہ عزم کیے ہوئے تھے کے آروش کو ضرور ساتھ لیکر جائے گے۔

میں اپنا واعدا پورا کروں گا آج آروش تمہارے ساتھ جائے گی وہ میری بات کبھی ٹال نہیں سکتی دوسرا میں نے اُس کو تمہارا بتادیا تھا۔شھباز شاہ بے تاثر لہجے میں بولے

تو پھر جلدی مجھے میری بچی سے ملواؤ بہت انتظار کیا ہے پچیس سال معمولی عرصہ نہیں۔دلاور خان بے چینی سے بولے

تم گاڑی تیار رکھو دو گھنٹے کے اندر وہ تمہارے ساتھ ہوگی۔شھباز شاہ بس یہی بول پائے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کتنا وزن بڑھ گیا ہے میرا پیٹ بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے ڈریمون سے لیا ہے۔ماہی آئینے کے پاس کھڑی ہوتی ہر اینگل سے اپنا جائزہ لیتی بڑبڑائی

ماہی تم نے فروٹ کیوں نہیں کھایا دن بدن لاپرواہ ہوتی جارہی ہو تم۔شازل کمرے میں داخل ہوا تو اُس کی نظر پلیٹ پہ موجود فروٹ پہ پڑی جو جوں کا توں پڑا ہوا تھا تبھی شازل نے سختی سے کہا

شازل یہ دیکھے میں کتنی موٹی ہوگئ ہوں۔ماہی اُس کی بات نظرانداز کرتی روہانسے لہجے میں بولی

تمہیں تو میں روز دیکھتا ہوں میری گولوں مولوں بیوی۔شازل اُس کو اپنے حصار میں لیتا شرارت سے بولا

شازل مجھے موٹی نہیں ہونا۔ماہی رونے کے در پہ تھی

ماہی تم موٹی ہوگئ ہو۔شازل نے اُس کو چِڑایا

شازل بات نہ کرے آپ مجھ سے۔ماہی اُس کا حصار توڑ کمرے سے باہر چلی گئ شازل بھی ہنستا بیڈ پہ بیٹھ گیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہارا باپ آج تمہیں لینے آیا ہے تیار ہوجاؤ۔آروش باورچی خانے میں حریم کے لیے دودھ گرم کررہی تھی جب کلثوم بیگم نے اُس سے کہا

مجھے نہیں جانا اماں سائیں۔آروش کا دل زور سے دھڑکا اُن کی بات سن کر

بچوں جیسی باتیں مت کرو آروش تمہارے بابا سائیں نے واعدہ کیا ہے اُن سے اب تم کیا چاہتی ہو وہ اُن کے سامنے جھوٹے ثابت ہو۔کلثوم بیگم جذباتی لہجے میں کہا

بابا سائیں کہاں ہیں میں خود اُن سے بات کرلوں گی۔آروش اتنا کہتی جانے لگی جب کلثوم بیگم نے اُس کا بازوں پکڑ کر روکا

شاہ سائیں دُرید یہ دونوں حویلی نہیں شازل کو بھی کسی کام سے باہر بھیجا ہے تم تیار ہوجاؤ باہر تمہارا باپ تمہارے انتظار میں ہے۔کلثوم بیگم نے بڑی مشکل سے الفاظ ادا کیے

میں آپ لوگوں کے بغیر کیسے رہ سکتی ہوں آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں لالہ والوں کو کیوں باہر بھیجا اگر وہ ہوتے تو مجھے کبھی جانے نہ دیتے۔آروش کی آنکھوں میں آج عرصے بعد نمی اُتر آئی تھی۔

حریم کو میں دودہ دے دوں گی تم جاؤ۔کلثوم بیگم اجنبی لہجے میں بولی تو آروش بس اُن کو دیکھتی رہ گئ اُس کو یقین نہیں آرہا تھا سامنے والی اُس کی اماں سائیں تھی جو آج ایسے بات کررہی تھی جیسے جانتی ہی نہ ہو

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آروش کو نہیں تھا پتا وہ کیسے اپنے کمرے میں گئ کیسے عبایا پہنا حجاب پہنا نقاب کیا وہ بس اپنی ماں کلثوم بیگم کا رویہ اور شھباز شاہ کے بارے سوچ رہی تھی جو اُس پہ جان نچھاور کرتے تھے مگر آج جب وہ جارہی تھی تو اُس کو پیار تک نہیں دے رہے تھے اپنی دعاؤں تک سے محروم رکھا ہوا تھا

حور میرا بچہ پہچانا اپنے باپ کو؟دلاور خان نے اُس کو گیٹ سے باہر آتا دیکھا تو مسکراکر اُس کے پاس آتے بولے جواب میں آروش نے نظریں اُٹھا کر خالی خالی نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو اُس کا اصل باپ تھا وہ سمجھ نہیں پائی اُس کو کیا کرنا چاہیے اپنے اصل باپ کے ملنے کی خوشی منائے یا پچیس سالوں سے جس کو اپنا باپ سمجھا اُس سے الگ ہونے کا سوگ منائے

بیٹھو بہت ساری باتیں کرنی ہیں تم سے؟دلاور خان نے اُس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو آروش بنا کجھ کہے بیٹھ گئ۔

اپنے باپ کو اپنا چہرہ تو دیکھاؤ۔دلاور خان ڈرائیونگ سیٹ پہ آکر اپنا رخ اُس کی جانب کیے اُس کا دستانے پہنے ہوئے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے بولے تو آروش جیسے گہری نیند سے جاگی۔

گ گھ گھر چلے۔آروش کی زبان پہلی بار لڑکھڑائی تھی۔

اچھا ٹھیک ہے۔دلاور خان اُس کی بات پہ مسکرائے۔

تمہاری ماں اور بہن کراچی گئ ہوئی ہیں انویٹیشن پہ اُن کو پتا نہیں میں آج تمہیں لینے آرہا ہوں اگر پتا ہوتا وہ کبھی نہ جاتی دوسرا میں نے اُس کو سرپرائز دینے کا سوچا ہے خوبصورت سرپرائز تمہاری بدولت اور ایک بات تمہاری باقی تینوں بہنوں کو میں نے پاکستان آنے کا کہہ دیا ہے زرگل زرفشاں اور زرنور یہ ان شاءاللہ کل یا پڑسو تک آجائے گی بہت ناراض رہتی تھی مجھ سے مگر اب مجھے پتا ہے ناراضگی ختم ہوجائے گی اُن کی۔دلاور خان گاڑی ڈرائیو کرتے مسلسل اُس سے باتیں کیے جارہے تھے مگر آروش کی توجہ کا مرکز اُن کی باتیں نہیں بلکہ حویلی والے تھے اُس کو بہت دُکھ ہورہا تھا وہ جارہی تھی تو نہ اُس کو کسی سے ملنے دیا جارہا تھا تو نا کوئی اُس سے ملنے آرہا تھا۔

شازل لالہ کم سے کم آپ تو میرا ساتھ دیتے۔آروش نے بے ساختہ تصور میں شازل سے شکوہ کیا اُس کو اُمید نہیں یقین تھا اگر دُرید یا شازل میں سے کوئی حویلی میں ہوتا تو وہ کبھی آروش کو جانے نہ دیتے

شاید اِس لیے بابا سائیں نے دونوں کو باہر بھیجا اور خود بھی چلے گئے۔آروش نے افسوس سے سوچ کر اپنے چہرے کا رخ ڈرائیونگ کرتے دلاور خان پہ کیا جو فل براؤن کلر کے کوٹ پینٹ میں ملبوس تھے بال شاید جیل سے سیٹ کیے ہوئے تھے چہرے کی رنگت گوری چِٹی صاف تھی اتنی کے اُبھری ہوئی رگیں بھی واضع ہورہی تھی اور چہرے پہ ہلکی سی ڈارھی تھی وہ اپنی عمر سے بہت کم ایج معلوم ہوئے اُس کو اُس نے شازل کے علاوہ کسی کو بھی جینز پینٹ شرٹ نہیں دیکھا تھا شھباز شاہ سے لیکر دُرید شاہ تک سب شلوار قمیض پہنا کرتے تھے جو اُن پہ بہت ججتی تھی جب کی شہر زیادہ رہنے کی وجہ سے شازل سوائے عید والے دن کے کبھی بھی شلوار قمیض نہیں پہنتا تھا۔

آروش اپنا سرجھٹک کر اپنا سر سیٹ سے ٹِکا کر آنکھیں موندلی تھی باقی کا سارا راستہ خاموشی کی نظر نہیں ہوا تھا دلاور خان کی ڈرائیونگ کافی تیز تھی آروش نے بہت بار سوچا کے آہستہ کہنے کا بولے مگر دل کی بات دل میں رہ گئ۔

آگیا ہمارا۔آروش جو اب نیند سے جھول رہی تھی دلاور خان کی آواز پہ چونک کر اُس نے سامنے دیکھا پھر اپنی سیٹ کا ڈور کھول کر باہر آئی تو ایک عالیشان گھر اُس کے سامنے تھا جو باہر سے اُس کی حویلی کی طرح بڑا تو نہیں تھا مگر خوبصورت ضرور تھا مگر آروش کو کوئی کشش محسوس نہیں کی اُس کی نظریں قطار پہ کھڑے مرد اور عورت کے ٹولے پہ تھی جو ہاتھ میں پھولوں کا تھال پکڑے ہوئے تھے یقیناً اُس کے استقبال کے لیے۔

تمہارا پہلا دن ہے تو سوچا کجھ اسپیشل کیا جائے اپنی چپل اُتاردو باقی کے راستہ تمہیں پھولوں پہ قدم رکھ کر طے کرنا ہے اور اب تم یہ نقاب پہ ہٹا سکتی ہو۔دلاور خان اُس کو اپنے ساتھ لگائے مسکراکر بولے اُن کا چہرہ خوشی کے مارے چمک رہا تھا۔

اب کیا نامحرم مرد میرے اُپر پھولوں کی برسات کرینگے؟آروش نے دل میں سوچا اُس کے چہرے پہ ناپسندیدگی کے تاثرات اُبھرے تھے جو نقاب ہونے کی صورت میں کوئی دیکھ نہ پایا

مجھے پھولوں سے الرجی ہے آپ پلیز اِن سب سے کہے یہاں سے جائے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا تو دلاور خان کی مسکراہٹ پھیکی ہوئی۔

سوری بیٹا مجھے معلوم نہیں تھا۔دلاور خان نے بلاوجہ شرمندہ ہوئے انہوں نے نیچے دیکھا جہاں لائن سے پھول بِچھے ہوئے تھے پھر اُن سب ملازموں کو اِشارے سے جانے کا کہا

اندر آؤ۔دلاور خان اُس کا ہاتھ پکڑے اندر آئے۔آروش نے ایک چور نگاہ آس پاس ڈالی کسی کو نہ پاکر اُس نے اپنا نقاب اُتارا اُس کے چہرے کو دیکھ کر دلاور خان کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی آج اُن کے چہرے پہ عجیب چمک اور باپ والی شفقت نمایاں تھی۔

ماشااللہ میری بچی تو میری سوچ اور باقی اولاد سے زیادہ پیاری ہے۔دلاور خان اُس کا ماتھا چوم کر بولے تو آروش کو بے ساختہ شھباز شاہ کی یاد آئی۔

مجھے پتا ہے تم ناراض ہو مگر میں تمہیں سب کجھ بتاؤں گا۔دلاور خان نے آروش کو خاموش دیکھا تو کہا

میرے سر میں درد ہے اگر آپ بُرا نہ مانے تو مجھے کسی کمرے کا بتائے آرام کرنا چاہتی ہوں۔آروش بس یہی بولی وہ چاہ کر بھی نارمل رویہ اختیار نہیں کرپا رہی تھی اُس کے لیے مشکل لگ رہا تھا بھلے وہ اُس کا باپ تھا مگر اُس نے ساری عمر کسی اور کو باپ دیکھا تھا کچی عمر سے لیکر جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے تک

ہاں کیوں نہ تم آرام کرو مجھے تمہارے آرام کا خیال ہی نہیں آیا باپ ہوں نہ اتنے سالوں بعد اپنی بچی کو دیکھا ہے تو سمجھ نہیں آرہا کیسے ری ایکٹ کرو۔دلاور خان اُس کی بات سن کر اپنے سر پہ ہاتھ مار کر بولے تو آروش مسکرا بھی نہ پائی۔

تمہیں پہلے کجھ کھانا چاہیے سفر لمبا تھا بھوک لگی ہوگی کجھ کھالوں اُس کے بعد پین کلر لیکر آرام کرنا تمہارا کمرہ میں نے تیار کروا دیا ہے تمہیں پسند آئے گا بہت۔دلاور خان کو اُس کی بھوک کا خیال آیا تو کہا

نہیں ابھی بس مجھے آرام کرنا ہے۔آروش نے انکار کیا

اچھا ٹھیک ہے تمہارا کمرہ اُپر ہے رائٹ جاکر جو پہلا کمرہ ہے وہ تمہارے بھائی کا ہے اُس کے ساتھ والا کمرہ میں نے تمہارے لیے سیٹ کیا ہوا ہے میں لیکر چلتا ہوں تمہیں اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو کمرے میں انٹرکام موجود ہے نہیں لیفٹ سائیڈ پہ کمرہ نور کا ہے اُس کے پاس جانا۔دلاور خان نے تفصیل سے بتایا

کچن کہاں ہوتا ہے؟اپنی بات کے جواب میں آروش کا یہ جواب سن کر دلاور خان چونکے ضرور تھے۔

کچن؟دلاور خان کو لگا جیسے انہوں نے سُننے میں غلطی کی ہو

جی کچن مجھے اپنے کام خود کرنا اچھا لگتا ہے۔آروش نے جواب دیا

یہاں بہت ملازم ہیں تم بس حکم کرنا یہ تمہارا اپنا خود کا گھر ہے تکلف کی ضرورت نہیں۔دلاور خان نے کہا

بات تکلف کی نہیں ۔۔۔۔۔’آروش نے نے کہا

یہاں سیدھا جاکر ٹرن لینا وہاں کچن ہے۔دلاور خان نے ایک جانب اِشارہ کیا تو۔۔۔۔۔۔۔”آروش نے سر اثبات میں ہلایا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ہیلو یمان کہاں ہو؟آروش کو اُس کے کمرے میں چھوڑ آنے کے بعد دلاور خان نے “یمان کو کال کیے پوچھا’

میں اسٹوڈیو ہوں خیریت؟یمان نے جواب دینے کے بعد پوچھا

ہاں مجھے کال آئی ہے شوٹ پہ جانا تھا تم گھر آسکتے ہو یہاں کوئی نہیں اور حور اکیلی ہوگی۔دلاور خان نے کہا۔

آپ نور آپی کی بات کررہے؟یمان کو لگا شاید اُن کو نام لینے میں غلطی ہوگئ ہے۔

نہیں یار تم بس گھر آنے کی تیار کرو ویسے بھی رات ہونے والی ہے۔دلاور خان نے عجلت دیکھائی

موم کہاں ہیں؟یمان نے اپنا سوال داغا

کراچی میں ہے بتایا جو تھا شادی میں انوائٹڈ تھے۔دلاور خان نے کہا تو بے اختیار یمان نے لب دانتوں تلے دبائے

سوری میرے مائینڈ سے نکل گیا تھا میں بس کجھ دیر تک آتا ہوں آپ اپنے شوٹ پہ جائے۔یمان ہاتھ میں پہنی گھڑی پہ وقت دیکھ کر کہا

ٹھیک ہے جلدی۔دلاور خان اتنا کہتے کال ڈراپ کرگئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش اپنا عبایا اُتار کر تھوڑا لیٹنے کے بعد اپنے کمرے کا جائزہ لینے لگی جو پورا پِنک کلر سے ڈیکوریٹ تھا اور وائٹ کلر کے پردے لگائے ہوئے تھے جو بہت خوبصورت لگ رہے تھے اور عام طور پہ لڑکیاں یہ کلر زیادہ پسند کرتی تھی تبھی شاید دلاور خان نے اُس کا کمرہ اِس انداز سے تیار کروایا تھا مگر آروش کو پرپل کلر پسند تھا حویلی میں اُس کا کمرہ سب سے بڑا اور خوبصورت پرپل کلر سے سیٹ کیا ہوا تھا ویسے تو حویلی میں سب کمرے ایک سے بڑھ کر ایک تھے مگر آروش کا کمرہ سب سے خاص تھا۔

اچھا ہے مگر میرا حویلی میں موجود زیادہ پیارا کمرہ ہے۔آروش بیڈ شیٹ کی سطح پہ ہاتھ پھیرتی بڑبڑائی”اُس کی نظر وال کلاک پہ پڑی جہاں رات کے دس بجے کا وقت ہورہا تھا۔

حویلی میں سب اِس وقت رات کا کھانا کھارہے ہوگے۔وقت دیکھ کر آروش کو خیال آیا

حریم دوائی کھاکر سوئی ہوگی بھی کے نہیں۔آروش کے ذہن میں مختلف قسم کے خیالات آنے لگے۔

میں اپنے لیے چائے بناتی ہوں نیند تو ویسے نہیں آنی۔آروش کجھ سوچتی بیڈ سے اُٹھ کھڑی”دلاور خان نے جیسا اُس کو بتایا تھا وہ وہاں آئی تو بڑا سا کچن اُس کے سامنے تھا۔

حیرت ہے لائیٹ آن ہے لگتا ہے رات کے وقت لائیٹ آف نہیں کرتے۔آروش نے کچن کی لائیٹس آن دیکھی تو اپنا تُکا لگایا۔’پھر چلتی ہوئی فریج کی جانب آئی تاکہ دودہ نکال سکے مگر سامنے والی فریج بہت مختلف تھی اُس نے پہلی بار ایسی دیکھی تو تبھی اُس کو سمجھ نہیں آیا فریج کو کھولا کیسے جائے؟

فریج۔۔۔۔۔فریج ہوتی انسان عام بھی تو لے سکتا ہے مقصد تو صرف کولنگ کا ہوتا ہے نہ تو ایسی شو آف کرنے لیے عجیب وغریب فریج لینے کی کیا ضرورت جو دوسرا انسان یہ سمجھ نہ پائے کے فریج کو کھولا کیسے جائے؟آروش کو بہت دیر تک سمجھ نہیں آیا تو تپ کر بڑبڑائی۔””چاہے حویلی میں لیٹیسٹ چیزیں موجود ہوتی تھی اُس کو ہر چیز کا پتا ہوتا تھا مگر یہاں کی ہر چیز اُس کو عجیب لگ رہی تھی اگر وہ تھوڑا ٹھیک سے غور کرتی تو اُس کو معلوم ہوتا شازل کے اسلام آباد والے فلیٹ میں بھی ایسی فریج موجود تھی جس کو وہ آسانی سے کھول اور بند بھی کرچُکی تھی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یمان گھر آیا تھا تو اُس کو بہت دیر ہوچکی تھی”وجہ”ٹریفک کا ہونا تھا دوسری بات اُس کو بھوک بھی لگی ہوئی تھی اپنے لیے کجھ آرڈر کرنے کا سوچ کر وہ اُپر کی جانب جارہا تھا جب اُس کو کجھ غیرمعمولی سا محسوس ہوا اُس نے گردن پیچھے کی جانب موڑی تو کچن کی لائیٹس آن نظر آئی جو کی اُس کے لیے حیرانکن بات تھی۔

اِس وقت کون ہوگا کچن میں؟یمان اپنی ڈارھی میں ہاتھ پِھیرتا پرسوچ انداز میں بڑبڑایا

اگر نور آپی ہیں تو اُن سے کہتا ہوں کجھ کِھیلادے۔نور کا خیال جیسے ہی یمان کو آیا اُس نے اپنے قدم کچن کی طرف بڑھائے جہاں اُس کو آروش کی پشت نظر آئی

نور آپی آپ ہیں ؟یمان نے آروش کی پشت کو دیکھا تو پیچھے سے آواز لگائی اُس کو لگا شاید نور ہو جب کی وہ یہ بات جانتا تھا نور ہیلدی اور لمبے قدم کی تھی مگر اِس وقت اِن چیزوں پہ غور کون کررہا تھا دوسری طرف وہ جو اپنے دھیان میں مگن تھی جانی پہچانی مرادنہ آواز پہ اُس کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا وہ بے ساختہ پلٹی تھی یمان کی نظریں جو سامنے ہی تھی آروش کے پلٹنے پہ اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر ابھی باہر آجائے گا’دوسری طرف آروش کا حال بھی اُس سے زیادہ مختلف نہیں تھی اُس کی شہد رنگ آنکھیں حیرت اور بے یقینی کے مارے پوری کُھلی کی کُھلی رہ گئ تھی وہ جو ہمیشہ اپنا چہرہ ہر ایک سے چُھپاتی تھی اُس کو آج یہ بھی خیال نہیں آیا تھا کے اُس کو حجاب تو تھا مگر چہرے پہ نقاب نہیں تھا مگر یمان کی نظریں اُس کے چہرے سے کسی بھی نقش دیکھنے کے بجائے آنکھوں پہ ٹِکی ہوئی تھی جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کے ہاں سچ ہے یا محض اُس کی آنکھوں کا دھوکہ۔

آپ؟یمان کجھ توقع کے بعد بولنے کے قابل ہوا آروش کو اپنے اتنے پاس دیکھ کر اُس کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے تھے اُس نے تو خواب میں بھی آروش کو بنا حجاب یا نقاب کے دیکھنے کا نہیں سوچا تھا مگر آج وہ حقیقت بن کر یوں اُس کے سامنے تھی تو یمان کی نظر خودبخود احتراماً جُھک گئ۔ایک منٹ کے حصے میں اُس نے خود کو ہزار بار ملامت کی تھی چاہے اِس وقت آروش کو خیال نہیں آیا تھا مگر اُس کو تو چاہیے تھا نہ کے وہ اپنی محبت اپنے عشق کے پردے کا خیال رکھتا چاہے اُس نے اِس وقت کا حد سے زیادہ بے صبری سے انتظار کیا تھا مگر بنا کسی پاک رشتے کے اُس کے اندر کبھی یہ خواہش نہیں ہوئی تھی کے وہ آروش کا چہرہ دیکھتا اُس کی محبت پاک تھی اُس میں کسی بھی چیز کی حوس نہ تھی خوبصورتی کی نہ جسم کی۔۔اُس کو بس آروش شاہ چاہیے تھی جس کو اُس نے تب سے چاہا تھا جب وہ “محبت” کے “م” سے بھی پوری طرح سے ناواقف تھا۔

آروش جو حیرت سے گنگ کھڑی تھی یمان کے “آپ”کہنے پہ اُس کی حیرانگی میں اضافہ ہوا تھا تو کیا وہ اُس کو آج بھی یاد تھی مگر “کیوں”کیسے اُس کو پہچان بھی کیسے لیا۔اُس کی نظر یمان کی جُھکی نظروں پہ پڑی تو اُس کو یکدم خیال آیا وہ بے نقاب کھڑی ہے وہ بنا کجھ کہتی تیزی سے کچن سے باہر نکلتی بھاگتی اپنے کمرے کی جانب گئ۔یمان کی ڈھرکن اُس کے اتنا پاس آنے کے بعد دور جانے پہ تیزی سے دھڑکی ضرور تھی اُس کے اندر کا نظام درھم برھم ہوگیا تھا اُس کو امید تھی ایک دن سامنا ضرور ہوگا مگر یوں ہوگا یہ نہیں تھا پتا۔وہ جانتا تھا جب آروش شاہ اُس کے سامنے آئے گی تو وہ اپنے ہوش ضرور کھو بیٹھے گا مگر یوں اُس کی حالت غیر ہوجائے گی اِس طرح سے رونگھٹے کھڑے ہوگے یہ اُس کو نہیں تھا پتا۔ اُس کو ایک جگہ کھڑا ہوئے جانے کتنا وقت بیت گیا تھا اُس کے وجود میں ہلکی سی بھی جنبش نہیں ہوئی تھی اسٹل ہوکر کھڑا ہوگیا تھا جیسے خود کوئی مجسمہ ہو کجھ اور دیر گُزری پھر یمان کی حیرت آہستہ آہستہ دور ہوتی جارہی تھی بھینچے ہوئے ہونٹوں پہ خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا پھر یمان مستقیم کی مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی جارہی تھی آج اُس کے ڈمپل کُھل کر سامنے آئے تھے چہرے پہ عجیب سی رونق در آئی تھی جس وجہ سے اُس کی وجیہہ شخصیت میں مزید نکھار آیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *