Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 50)Part 2
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 50)Part 2
Haal e Dil by Rimsha Hussain
میں آپ سے ناراض ہوں۔ماہی اپنے دھڑکتے دل پہ قابو پائے بس یہ بولی
اچھا تو اُس ناراضگی کو دور کیسے کیا جائے؟شازل نے مسکراکر اُس کے پُھولے گال کھینچ کر پوچھا
جب آپ کان پکڑ کر اُٹھک بیٹھک نہیں کرتے۔ماہی اتنا کہتی زور سے آنکھوں کو میچ گئ جب کی شازل کی مسکراہٹ یکدم سمٹ گئ تھی وہ حیرت سے ماہی کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا
کیا کہا تم نے؟شازل اُس کا چہرہ اپنی طرف کیے جیسے کنفرم کرنا چاہ رہا تھا۔
اُٹھک بیٹھک۔ماہی نے سٹپٹاکر کہا
کیا ہوگیا ہے ماہی میں کوئی بچہ ہوں سید شازل شاہ ہوں میں اور یہ سب میں نہیں کرسکتا کجھ اور کہو۔شازل اچانک سے سنجیدہ ہوگیا تھا جس کو محسوس کرکے ماہی کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔
اب کیا ہوگیا ہے ماہی رو کیوں رہی ہو سچی بہت روندو قسم کی ہو۔شازل اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولا
آپ خود کو بھی تو دیکھے اتنے وقت بعد آئے ہیں اور بات بھی ایسے کررہے ہیں تو مجھے رونا تو آئے گا نہ۔ماہی نے سارا الزام اُس پہ ڈالا
یار تم لڑکیاں کبھی اپنی غلطی بھی مان لیا کرو اب کون اپنے شوہر سے یہ کان پکڑ کر اُٹھک بیٹھک کرواتا ہے۔شازل ماہی کی بات پہ فورن سے بولا
بیوی ہوں آپ کی اگر کہہ دیا تو کونسا بڑی بات ہوگئ ڈراموں میں تو کرتے ہیں ہیروں۔ماہی نے منہ بسور کر کہا
ہاں یہ ٹھیک ہے ڈراموں میں دیکھا تو تم نے سوچا ہوگا کیوں نہ اب اپنے مجازی خدا پہ ٹرائے کرے۔شازل نے طنزیہ کہا۔
اچھا نہ سوری۔ماہی اپنا سر اُس کے سینے سے ہٹاتی کان پکڑ کر کیوٹ شکل بنائے بولی تو شازل کو بے اختیار اُس پہ پیار آیا تبھی جھک کر اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔
او شِٹ۔شازل کو کجھ یاد آیا تو بڑبڑایا۔ماہی جو آنکھیں بند کیے ماتھے پہ اُس کا لمس محسوس کررہی تھی شازل کی آواز پہ چونک کر آنکھیں کھول کر اُس کو دیکھا۔
کیا ہوا شازل؟ماہی نے پوچھا
میں تمہاری رپورٹس اپنے دوست کے پاس بھول آیا۔شازل نے بتایا تو ماہی کے چہرے کی رنگت پل بھر میں فق ہوئی تھی شازل کو دیکھ کر وہ رپورٹس والی بات بلکل فراموش کیے ہوئے تھی مگر اُس کو اب یاد آیا وہ پریگننٹ ہے جو بات وہ شازل سے چُھپانا چاہتی تھی اُس کو شازل کے ری ایکشن سے ڈر لگ رہا تھا اور اب بھی یہی ہورہا تھا۔
کیا یہ خوبصورت لمحات چند پل کے تھے؟شازل کا چہرہ دیکھ کر اُس نے بے اختیار سوچا
تھینک یو سو مچ ماہی مجھے اتنی بڑی خوشخبری دینے کے لیے تمہیں پتا نہیں جب ڈاکٹر نے مجھے رپورٹس پکڑا کر یہ بات بتائی تو میں کتنا خوش ہوا مجھے یقین نہیں ہورہا تھا کے ایسا بھی کجھ ہوسکتا ہے میرا بس نہیں چل رہا تھا میں اُسی وقت اُڑ کر تمہارے پاس آجاتا مگر آ نہیں پایا۔ماہی اپنی سوچوں میں ہی مگن تھی جب شازل اچانک سے اُس کو خود میں بھینچ کر بولا تو ماہی کو در پہ در حیرت کے شدید جھٹکے لگ رہے تھے۔
تم کیا خوش نہیں؟شازل نے اُس کی طرف خاموشی محسوس کی تو اُس کا چہرہ سامنے کیے سنجیدگی سے پوچھنے لگا جواب میں ماہی رونے میں مصروف ہوگئ۔
ماہی سیلاب لانا ہے کیا رو کیوں رہی ہو؟شازل اب بیزار ہوا۔
میرا ڈر میری خوشی پہ غالب آگیا میں وہ خوشی محسوس ہی نہیں کرپائی جو ایک ماں اپنے پہلے بچے کے آنے کی خوشی میں کرتی ہے ۔ماہی ہچکیوں کے درمیان بتانے لگی۔
کس بات کا ڈر؟شازل نے پوچھا تو ماہی نے نظریں اُٹھا کر شازل کو دیکھا وہ سمجھ نہیں پائی شازل کو اب کیا جواب دے۔
مجھے لگا آپ میرے بچے کو قبول نہیں کرے گے بلکہ اپنا بچہ ماننے سے ہی انکار کردینگے۔ماہی کی بات پہ شازل کی کُشادہ پیشانی پہ بل نمایاں ہوئے تھے پل بھر میں اُس کی سفید رنگت غصے سے سرخ ہوگئ تھی۔
اِس بکواس کا مطلب؟یہ خناس خُرافات باتیں تمہارے اِس کوڑے دماغ میں کس نے ڈالی؟شازل اُس کی کنپٹی پہ نوک کرتا ضبط کی انتہا کو چھو کر پوچھنے لگا۔ماہی کی باتیں اُس کو کسی تماچے سے کم نہیں لگ رہی تھی مگر وہ اُس کے رونے کا اور جس کنڈیشن میں وہ تھی اُس کا لحاظ کررہا تھا ورنہ وہ کیا کر گُزرتا وہ خود نہیں جانتا تھا۔
آپ نشے میں تھے اُس رات۔ماہی شازل سے تھوڑا دور کھسک کر بولی
تو؟شازل کو سمجھ نہیں آیا
دوسرے دن آپ کا بیہیوئر نارمل تھا مجھے لگا آپ کو کجھ یاد نہیں اِس وجہ سے۔ماہی نے انگلیاں چٹخاکر کہا
تو؟شازل نے زور سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا
تو میرے اندر بہت خدشات پیدا ہونے لگے اور میں نے اکثر ڈراموں میں دیکھا ہے ہیروں شراب کی حالت پہ سب کجھ کر دیتا ہے پھر دوسرے دن اُس کو کجھ یاد نہیں رہتا پھر جب ہیروئن ماں بننے والی ہوتی ہے نہ تو ہیروں اُس بچے کو اپنا ماننے سے انکار کردیتا ہے اور ہیروئن کو گھر سے بے دخل کردیتا پھر احساس اُس کو ڈرامے کی لاسٹ ایپیسوڈ میں ہوتا ہے۔ماہی نے آہستہ آواز میں اپنی کیفیت بھی بیان کی ساتھ میں ڈرامے کی کہانی بھی اُس کے گوش گُزار کی۔شازل بڑے ضبط سے اُس کی چلتی زبان کو دیکھ رہا تھا
یار ماہی میں تمہیں کیا کہوں معصوم یا حددرجہ بے وقوف۔شازل اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا جھجھنلا کر بولا
میں بے وقوف نہیں۔ماہی بُرا مان کر بولی
سب سے پہلے تم خود کو کسی ڈرامے کی ہیروئن اور مجھے ہیرو سمجھنا چھوڑ دو سچی بہت بڑا احسان ہوگا تمہارا میرے پہ۔شازل اُس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دانت پہ دانت جمائے بولا
ایسا کیوں کررہے ہیں آپ۔ماہی نے فورن سے اُس کے ہاتھ نیچے کیے۔
آج کے بعد تم کوئی ڈرامہ نہیں دیکھوں گی تمہارا جو یہ مینٹل پیس دماغ ہے نہ مزید خراب ہوتا جارہا ہے۔شازل نے اُس کو وارن کیا۔
آپ میری بے عزتی کررہے۔ماہی نے پھر سے رونے کی تیاری پکڑی
ماہی سب سے پہلے اپنا رونا بند کرو اگر تمہاری وجہ سے ہمارا بچہ روندو پیدا ہوا نہ تو میں تمہیں بخشو گا نہیں۔شازل اُس کے بار بار رونے پہ زچ ہوا
ہاں آپ کو تو بہانا چاہیے مجھ پہ غصہ ہونے کا۔ماہی روتی ہوئی بولی۔
ماہی تمہاری بات کسی بھی غیرت مند مرد کو بہت کجھ کرنے پہ اُکسا سکتی ہے میرا رویہ نارمل تھا تو تم کیا چاہتی ہو میں کیا کرتا دوسرے دن۔شازل کی بات پہ ماہی گڑبڑائی
مجھے نیند آرہی ہے۔ماہی جمائی لیتی ہوئی بولی تو شازل اُس کی چلاکی پہ عش عش کر اُٹھا۔
پہلے یہ بتاؤ تم یہاں کیسے آئی؟شازل کو جو بات بار بار ستارہی تھی وہ بالآخر پوچھ لی۔
آپ نے مجھے امی کے جب گھر چھوڑا تو ایک ہفتے بعد اُن کو میری پریگنسی کا پتا چل گیا تھا گھر میں سب کو یہ بات جانے کیوں ناگوار لگی بابا اور اماں والے خلع کے کاغذات تیار کروانا چاہتے تھے مگر میں پریگننٹ تھی تو انہوں نے ایسا کجھ نہیں کیا آمنہ مجھ پہ بہت غصہ ہوئی تھی میں نے آپ سے یہ اتنی بڑی بات کیوں چُھپائی
تو کیا تم پہلے سے ہی یہ بات جانتی تھی؟شازل اُس کی بات کاٹ کر بولا تو ماہی نے کسی مجرم کی طرح اپنا سر جُھکالیا
میرے اتنے بار پوچھنے پہ بھی تم نے مجھے لاعلم رکھا؟شازل کو اب افسوس ہوا۔
سوری شازل اُس وقت میں جس کیفیت سے گُزر رہی تھی اُس کا شاید ہی آپ کو کجھ اندازہ ہو حویلی والوں کے سخت رویے کے بعد جس طرح آپ میری ڈھال بنے مجھے سہارہ دیا اُس کے بعد میں ٹوٹ جاتی اگر آپ مجھ سے نفرت کرنے لگ جاتے تو۔ماہی نے نظریں جُھکائے کہا
میں تمہارا ڈھال بنا تمہیں سہارا دیا مگر مجھے افسوس رہے گا میں تمہارا اعتبار تک نہ جیت سکا۔شازل کی بات پہ ماہی نے تڑپ کر شازل کو دیکھا
ایسی بات نہیں شازل مجھے خُدا کے بعد آپ پہ اعتبار ہے۔ماہی نے جلدی سے کہا
اگر اعتبار ہوتا تو یوں سہارا دے کر میں تمہیں بے سہارا کروں گا یہ بات نہ سوچتی تم تمہیں پتا ہے ماہی جو گھٹیاں بات تم نے کی ہے نہ وہ تو میں مر کر بھی نہیں سوچ نہیں سکتا تھا مگر تم نے سوچنا کیا بول بھی دیا۔شازل نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے معاف کردے غلطی ہوگئ۔ماہی نے ندامت سے کہا
کان پکڑ کر اُٹھک بیٹھک کرو تب میں سوچوں گا معاف کرنا ہے یا نہیں۔شازل تھوڑا مغرور ہوا
شازل آپ کو پتا ہے پریگننٹ ہوں آپ میری اِس کنڈیشن میں مجھ سے اُٹھک بیٹھک کرائے گے پھر اُس کے بعد بھی سوچے گے معاف کرنا ہے یا نہیں؟ماہی کا حیرت کے مارے مُنہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔
ہاں تو جس طرح اِس کنڈیشن میں چلنا کھانا پینا آرام کرنا ضروری ہوتا ہے اُٹھک بیٹھک بھی لازمی ہونا چاہیے ایسے پیٹ کم باہر نکلے گا۔شازل کی عجیب فلاسفی سن کر ماہی کی شکل دیکھنے لائق تھی اُس کے تاثرات جانچ کر شازل نے بڑی مشکل سے اپنے قہقہقہ کا گلا گھونٹا۔
شازل آپ بہت بہت بُرے ہیں بُرے سے بھی زیادہ بُرے ہیں۔ماہی اُس کے اُپر کشن پھینکتی چیخی۔
افففف اللہ ماہی ایک منٹ مجھے امیجن کرنے دو تم کیسی لگوں گی بڑھے ہوئے پیٹ کے ساتھ۔شازل پھر بھی باز نہ آیا جلتی پہ تیل کا کام اُس نے خوب اچھے سے انجام دیا۔







دو ماہ پہلے۔
تم نے تصویر دے کر تو مجھ پہ احسان کیا ہے اب اُس کا نام وغیرہ بتاکر دوسرا احسان بھی کردو۔آج شازل کو لاہور آئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا مگر اُس کو اُس آدمی کے بارے میں کجھ بھی معلوم نہیں ہوا تھا تبھی اُس نے تپ کر زین کو کال کی تھی۔
مجھے اگر یہ سب پتا ہوتا تو میں خود اُس کو لاہور سے یہاں گاؤں میں نہیں پکڑ آتا۔دوسری طرف زین بھی بُرے موڈ میں معلوم ہورہا تھا۔
تو یہاں تم نے مجھے تیلاب سے سوئی ڈھونے بھیجا ہے؟شازل جل کر خاک ہوا تھا
اپنے بھائی کا اصل قاتل ڈھونڈنے آئے ہو مجھ پہ کوئی احسان نہیں کررہے ہو جو اٹیٹیوڈ دیکھا رہے ہو اپنا یہ شاہوں والا لہجہ حویلی میں استعمال کیا کرو۔زین کو اُس کا لہجہ ایک آنکھ نہ بھایا تو کہا
مجھے اپنے لالہ کے لیے قاتل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں اور جو میں یہاں آیا ہوں اُس کو احسان ہی سمجھو کیونکہ ہم سب کی نظر میں قاتل تم ہو ایسے میں اگر وہ آدمی مل بھی جاتا ہے تو تمہارا فائدہ ہوا تمہارے ماتھے پہ لگا قاتل کا تھپا جو ہے نہ بڑے حرفوں سے لکھا وہ ہٹ جائے گا۔وہ بھی شازل تھا ایٹ کا جواب پتھر سا دینا اُس کو خوب آتا تھا۔
میں اپنے دوست سے کہوں گا وہ کجھ معلومات حاصل کرے۔زین نے جیسے جان چھڑائی۔
جی بڑا احسان ہوگا میں وکیل ہوں یہاں کا پرائم منسٹر یا اُستاد نہیں جو ہر ایک بندے کا مجھے پتا ہوگا میری جان پہچان ہوگی۔شازل اپنی بات کہتا کھٹکاک سے کال بند کرگیا دوسری طرف سے زین بس ضبط کرتا رہ گیا۔







ماہی تم پریگننٹ ہو اور یہ بات تم نے شازل شاہ کو نہیں بتائی ہوش ہے تمہیں اِس بات کی وجہ سے کتنا غلط ہوسکتا ہے تمہارے ساتھ۔آمنہ نے ماہی سے ساری بات جانی تو اُس پہ چیخی
میں کیا کرتی مجھے ڈر تھا کہی شازل مجھ سے بدزن نہ ہوجاتے۔ماہی نے نم لہجے میں بولی
اور اب کیا اب اُس کو پتا نہیں چلے گا بے وقوف لڑکی وہ تو اب زیادہ بدزن ہوگا تم یہاں ہو شازل شاہ کو آج یا کل ساری بات پتا چل جانی ہے یہ ایسی بات نہیں جس کو تم چُھپانا چاہوں گی اور وہ چُھپ جائے گی۔آمنہ نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا
مجھے کجھ نہیں پتا اُس وقت جو مجھے سمجھ آیا میں نے وہ کیا بنا انجام کا سوچے۔ماہی نے اپنا سر ہاتھوں میں گِراے بے بسی سے بتایا
میں نہیں جانتی تم حویلی جاؤ اور انہیں بتاؤ تم شازل شاہ کے بچے کی ماں بننے والی ہو پہلے جو بھی پر اِس حالت میں تمہارا یہاں رہنا صحیح نہیں۔آمنہ نے جیسے حُکم صادر کیا۔
میں ونی میں گئ تھی وہاں لاڈ یا چاہ سے بیاہ کر نہیں لیکر گئے تھے وہ جو میں کہوں گی میں شازل کے بچے کی ماں بننے والی ہوں اور وہ مجھے گلے سے لگادینگے۔ماہی سرجھٹک کر بولی
ماہی اچھا سوچو گی تو اچھا ہوگا وہ تمہیں چاہ سے بیاہ کر لے گئے ہو یا تم قصاص میں دی گئ تھی یہ ضروری نہیں ضروری یہ ہے کے اب تم اُنہیں وارث دینے والی ہو۔آمنہ اُس کے ساتھ بیٹھی سمجھانے لگی۔
آمنہ پلیز تم اِس وقت مجھے اکیلا رہنے دو۔ماہی نے التجائیہ انداز میں بولی تو آمنہ اُس کو دیکھتی رہ گئ۔









شازل کو دلدار شاہ کے قاتل کو تلاش کرنے میں آج ایک ماہ ہوگیا تھا اور اُس کو یہ معلوم ہوا تھا کے اُس کا نام غفار فراز ہے جو اب کسی بزنس کے سلسلے میں اسلام آباد گیا ہوا ہے تبھی شازل نے اسلام آباد کی ٹِکٹ بُک کروائی تھی اور اپنے دوستوں کو کال پہ اطلاع دے کر اُس غفار نامی شخص کے ساتھ ملاقات بھی فِکس کروائی تھی اِس لیے وہ اسلام آباد پہنچ کر سیدھا مونال ریسٹورنٹ آیا تھا جہاں غفار فراز اُس کے انتظار میں تھا۔
السلام علیکم۔شازل غفار سے مصافحہ کیے سلام کرنے لگا
وعلیکم السلام ویسے تو میں دُشمنوں سے ہاتھ نہیں ملاتا مگر تم سے ملادیتا ہوں۔غفار تیکھی نظروں سے شازل کا جائزہ لیتا ہاتھ ملاکر اُس سے بولا جو اُس کو ہوبہو شھباز شاہ کی کاپی لگ رہا تھا اگر دونوں میں کجھ فرق تھا تھا نیچر کا تھا۔
یہ تو مجھ ناچیز پہ آپ کا بہت بڑا احسان ہوا پتا نہیں میں اب میں یہ اتنا بڑا احسان کیسے چُکا پاؤں گا اگر آپ مجھ سے مصافحہ نہ کرتے تو میں تو کسی کو منہ دِکھانے کے قابل بہ رہتا۔شازل نے خاصا طنزیہ لہجہ اختیار کیا
مجھے لوگوں کا اٹیٹیوڈ دیکھانا پسند نہیں اِس لیے مجھ سے بات کرتے وقت حد میں رہو۔غفار نے گھور کر کہا
زندگی میں بہت ایسے کام ہوتے ہیں جو انسان دل پہ جبر رکھ کر کرتا ہے ناچاہتے ہوئے بھی جیسے اب تم میری مثال لو اِس وقت تمہاری شکل مجھے بہت منہوس لگ رہی ہے مگر دیکھو میں کیسے پھر بھی تمہیں مسکراکر دیکھ رہا ہوں اور رہی بات حد کی تو سید شازل شھباز شاہ کی حد کیا ہے وہ یہ خود ڈیسائیڈ کرتا ہے کسی اور کو موقع دینے سے پہلے اُس کا نام نشان مٹادینا زیادہ ضروری سمجھتا ہے۔شازل نے بڑی آسانی سے آپ سے تم تک کا سفر کیا
یہ بول تمہیں بہت مہنگے پڑسکتے ہیں۔غفار نے اُس کو وارن کیا
سستی چیزیں میں اپنی شوز کی نوک پہ رکھتا ہوں۔شازل نے یکدم اپنی ٹانگ ٹیبل پہ رکھ کر اُس کا رخ غفار کی جانب کیا جیسے اپنے چمکتے شوز دیکھانے چاہے پر غفار نے جلدی سے اپنا چہرہ دوسری جانب کیا۔
میرا وقت برباد کرنے کا مقصد؟غفار نے غصے سے پوچھا
میرے لالہ کا قتل کیوں کیا؟شازل نے سنجیدگی سے پوچھا
تم سے کس نے کہا میں نے قتل کیا ہے کوئی؟غفار نے طنزیہ کیا
میں چاہوں نہ مار مار کر تمہارا کچومڑ بنا سکتا ہوں پھر ایک منٹ میں تم تسلیم کرو گے کے تم نے قتل کیا ہے اِس لیے عزت سے پوچھ رہا ہوں عزت سے جواب دو۔شازل وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
کچومڑ؟غفار ہنسا
ہاں کچومڑ جو میں ابھی تمہارا بنانے والا ہوں۔شازل اپنی شرٹ کے بازوں فولڈ کرتا اُس سے بولا تو ایک منٹ کے لیے غفار کے چہرے پہ گھبراہٹ کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے۔
میں بتاؤں گا پر آج نہیں کجھ دن بعد جب تم میری بتائی ہوئی جگہ پہنچو گے۔غفار نے اُس کے خطرناک اِرادے جان کر جلدی سے کہا
گُڈ بوائے خوامخواہ کول مائینڈڈ بندے کا ٹیمپریچر لوز کررہے تھے۔شازل اُس کی بات پہ گہری مسکراہٹ سے اُس کا کندھا تھپتھپاکر بولا







آپ اندر نہیں جاسکتی۔آمنہ کے بار بار اصرار پہ جب ماہی حویلی میں داخل ہونے لگی تو بڑے سے گیٹ پہ موجود چوکیدار اُس کے راستے میں حائل ہوتا بولا
کیا مطلب میں شازل شاہ کی بیوی ہوں آپ مجھے اندر جانے سے نہیں روک سکتے۔ماہی اپنی چادر کو کونا مضبوطی سے پکڑے چوکیدار سے بولی
ہم اندر سے یہی کہا گیا ہے آپ کو حویلی میں نہ آنے دیا جائے۔چوکیدار سنجیدگی سے جوابً بولا تو ماہی کی آنکھیں لبالب پانی سے بھرگئ
مجھے اندر جانے دے اگر شازل کو پتا چل گیا نہ تو وہ کسی کو چھوڑے گے نہیں۔ماہی نے اپنی طرف سے اُن کو ڈرانا چاہا
دیکھے وہ یہاں نہیں ہیں آپ بھی یہاں سے جائے۔چوکیدار نے اب کی اُس کو دھکا دے کر کہا تو ماہی گِرتے گِرتے بچی
یہ کیا بدتمیزی۔ماہی چیخی
شور نہ کرے میڈم جائے یہاں۔اب کی دوسرا چوکیدار بھی بولا تو ماہی کو اپنی بے بسی پہ جی بھر رونا آیا اُس نے حسرت سے حویلی کو دیکھا جو بہت بڑی اور خوبصورت تھی مگر وہاں رہنے والے لوگ خوبصورت تو تھے مگر اُن کا دل بڑا نہیں تھا ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔
شازل کہاں ہیں آپ؟ماہی بے ساختہ تصور میں اُس سے مخاطب ہوئی۔








اب تم کیا کروگے؟ارحم نے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے شازل سے پوچھا
ابھی تو ہسپتال جانا ہے ضروری کام ہے وہاں جو میں بھول گیا تھا۔شازل نے جواب دیا
ہسپتال کیوں میری مانو فلحال تم کہی آنا جانا بند کرو ایک تو تم نے قاتل کو اتنا ایزی لیکر اُس کو دھمکایا ہے ڈر ہے وہ کہیں تمہیں بھی نہ نقصان پہنچادے۔ارحم نے اُس کو سمجھایا
میں کسی سے ڈرتا نہیں ہسپتال جانا میرا ضروری ہے پھر ملتے ہیں۔شازل فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اُس سے بولا
ان شاءاللہ ٹیک کیئر۔ارحم اُس کی بات سن کر گہری سانس بھر کر بولا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آپ بہت لیٹ آئے ہیں رپورٹس لینے۔ڈاکٹر نے شازل کو دیکھا تو کہا
جی بس مصروفیت کی وجہ سے خیر آپ یہ بتائے رپورٹس تو ٹھیک ہے نہ مطلب میری وائیف کو کیا ہوا تھا؟شازل تھوڑا فکرمند ہوا
جی پریشانی کی کوئی بات نہیں یہ میں پہلے سے بتاچُکی ہوں اور یہ رہی آپ کی وائیف کی رپورٹس جو پوزیٹو آئی ہیں ماشااللہ سے آپ باپ بننے والے ہیں۔ڈاکٹر نے مسکراکر رپورٹس اُس کی جانب کرکے بتایا تو شازل بے یقین نظروں سے اُن کو دیکھنے لگا
سیریسلی؟شازل کے چہرے پہ خوشگوار تاثرات نمایاں ہوئے
جی بلکل پروف آپ کے سامنے ہیں۔ڈاکٹر کا اِشارہ رپورٹس کی جانب تھا۔
بہت شکریہ۔شازل رپورٹس ہاتھ میں لیتا خوشدلی سے بولا۔
افففف کاش میں ماہی کو سیل فون لیکر دیتا تو کم سے کم آج اُس سے بات تو ہوپاتی جانے اب وہ کیسی ہوگی اپنا خیال رکھ بھی رہی ہوگی یا نہیں۔شازل ہسپتال سے باہر آتا سوچنے لگا اُس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ تھی جس کو دور سے گاڑی میں بیٹھے کسی نے حسد بھری نظروں سے دیکھا اُس نے اپنے ہاتھ کی گرفت اسٹیئرنگ پہ مضبوط کی اور تیز رفتار سے گاڑی چلاتا شازل کا پیچھے کرنے لگا دوسری طرف وہ بھی روڈ کراس کرنے والا تھا جب کوئی تیز رفتار گاڑی اُس کو ہِٹ کرکے جاچُکی تھی شازل کا سر بُری طرح پتھر پہ لگا تھا جس وجہ سے اُس کے سر سے خون بل بل کر نکل رہا تھا جب کی اُس کے ہاتھ میں پکڑی رپورٹس دور جاکر گِری تھی
