Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 49)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حریم۔آروش کمرے میں آئی تو حریم کو خاموش دیکھا جس پہ اُس کو اندازہ ہوگیا تھا کے حریم اپنی پریگنسی کی بات جان گئ ہے۔

آپ کو پتا چلا ڈاکٹر نے کیا کہا؟حریم بنا آروش کی جانب دیکھے بولی۔

جانتی ہوں۔آروش بس اتنا بولی۔

ہمیں لگ رہا ہے جیسے اللہ نے ہمیں ہمارے صبر کا اجر دیا اولاد کی صورت میں۔حریم کی بات پہ آروش چونک کر اُس کو دیکھنی لگی وہ تو سمجھی تھی حریم یہ خبر جان کر شور مچائے گی بچہ گِرانے والی بات کرے گی مگر اُس کے تاثرات خوشگوار تھے اور بہت وقت بعد آروش نے دیکھے تھے۔

تم خوش ہو؟آروش کو پتا نہیں کیوں یقین نہیں آیا

کیا ہمیں خوش نہیں ہونا چاہیے آپی؟ہمارا اپنا بچہ ہوگا آپی ہمارے وجود کا حصہ آپ کو پتا ہے نہ ہمیں بچے کتنے پسند ہیں پر اِس بار تو ہمارا اپنا ہوگا آپ کو پتا نہیں ہمیں کتنی خوش محسوس ہورہی ہے۔حریم نے بتایا تو آروش کو وہ کوئی پاگل لگی۔

مجھے تمہاری خوشی سمجھ نہیں آرہی؟آروش کہے بنا نہ رہ پائی۔

کیوں آپی کیا ہمارا خوش ہونا جائز نہیں؟حریم نے پوچھا تو آروش اُس کے ساتھ بیٹھی۔

ایسی بات نہیں ہے مگر وہ تابش

وہ ہمارا بچہ ہوگا آپی کسی اور کا نہیں ہم اُس کی پرورش کرینگے اور جی جان لگا دینگے بیٹی ہوگی یا بیٹا بیٹے کو کسی تابش کی طرح نہیں بنائے گے اور نہ بیٹی کو کمزور بنائے گے ہم نے دیکھا ہے اولاد کے لیے لوگوں کو ترستے ہوئے مگر جب ہمیں بنا مانگے مل رہی ہے تو ہم ناخوش ہوکر کفر نہیں کرینگے آپ خود کہتی ہیں اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے تو ہم نے اِس بات کو اللہ کی رضا سمجھ کر خود کو راضی کرلیا ہے ہم اِس معصوم سے نفرت(حریم نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھا) کیوں کرے جو سِرے سے ہر بات سے انجان ہے جو ابھی اِس دُنیا میں آیا بھی نہیں ہم نے ایک بات سیکھ لی ہے انسان سے محبت کروگے تو رُل جاؤں گے مگر اللہ سے محبت کروگے تو سنور جاؤں گے ہمیں آہستہ آہستہ ساری بات سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اللہ تعالیٰ اگر ہمیں اولاد سے نواز رہا ہے تو ان شاءاللہ اُس کو پالنے کی سکت بھی دینگے۔حریم اُس کی بات کاٹ کر بولی تو اور آج وہ اپنی باتوں سے آروش کو لاجواب کرچُکی تھی وہ جو کجھ اُس نے نہیں سوچا تھا وہ حریم نے بیان کردیا تھا۔

تم بدل گئ ہو حریم۔آروش بس یہی بول پائی اگر کسی اور وقت حریم یہ باتیں کرتی تو وہ خوش ہوجاتی مگر آج جانے کیوں اُس کو افسوس ہورہا تھا اُس کو حریم کی پچکانہ باتیں سننے کی عادی تھی جس کی بات کی شروعات کسی سنگر سے شروع اور ایکٹر پہ ختم ہوجاتی تھی اور آج اُس کے منہ سے اتنی گہری بات سن کر جانے کیوں اُس کو دُکھ ہوا تھا

ہم بدلنا چاہتے ہیں آپی۔حریم اُداس سا مسکرائی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

وہ ہمسفر تھا

ہاں وہ ہمسفر تھا

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

وہ ہمسفر تھا

ہاں وہ ہمسفر تھا

MuSic/

آمنہ ماہی کے کمرے میں آئی تو اُس کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس خارج کی جو اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس گم سم کھڑی تھی جب کی کمرے کا میوزم سسٹم آن تھا جو یقیناً ماہی نے ہی آن کیا ہوگا۔

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی۔

وہ ہمسفر تھا

وہ ہمسفر تھا

آمنہ چلتی ہوئی ماہی کے برابر کھڑی ہوتی اُس کو دیکھنے لگی جس کی آنکھیں تو اُداس تھی مگر چہرے پہ ایک عجیب سی رونق تھی ماں بننے کی رونق۔

ماہی کے ماں بننے والی خبر اُن سب کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی وہ جو ماہی کے لیے خلع کا نوٹس تیار کرنے ہوئے کا سوچے ہوئے یہ خبر جاننے کے بعد تھم سے گئے تھے۔

بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل

بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل

غزل بھی وہ جو کسی کو کبھی سنائی نہ تھی

غزل بھی وہ جو کسی کو کبھی سنائی نہ تھی

کہ دھوپ چھاؤں

کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی۔

وہ ہمسفر تھا

وہ ہمسفر تھا

تمہیں آج پھر جانا چاہیے۔آمنہ کجھ دیر خاموش کھڑی ہونے کے بعد ماہی سے بولی جس کو چُپ لگ گئ تھی۔

کہاں؟ماہی بنا اُس کی جانب دیکھے بولی

شاہ حویلی۔آمنہ نے بتایا

ایک بار گئ تھی چوکیدار نے اندر ہی نہیں جانے دیا لالہ اسلام آباد بھی گئے تھے مگر شازل پتا نہیں کہاں چلے گئے ہیں۔ماہی کندھے اُچکاکر بولی

اسلام آباد کو چھوڑو اِس بار حویلی جاؤ دیکھنا کوئی کجھ نہیں کہے گا آخر کو تم اُن کو وارث دینے والی ہو۔آمنہ نے اُس کو حوصلہ دینا چاہا

ان کو ونی میں جانے والی لڑکی سے وارث چاہیے ہوتا تو کیا ہی بات ہوتی۔ماہی اپنا مزاق اُڑاتی ہوئی بولی۔

ماہی پاگلوں جیسی باتیں نہیں کرو یہ بہت پیچیدہ معاملات ہوتے ہیں تم یہ بات جتنا اُن سے چھپاؤ گی اُتنا تمہارے لیے مسئلہ کھڑا ہوجائے گا اِس لیے ہوش کے ناخن لو اور جاؤ حویلی تم شازل شاہ کی بیوی ہو حویلی پہ تمہارا حق ہے اپنے حق کے لیے آواز اُٹھاؤ اگر اپنے لیے نہیں تو اِس بچے کے لیے۔آمنہ نے اِس بار سخت لہجے میں کہا

وہ میرے بچے کو نقصان نہ پہنچادے۔ماہی نے نیا خدشا ظاہر کیا۔

مجھے تم پہ پہلے ہی بہت غصہ ہے ماہی ایک تو تم نے اتنی بڑی بات اپنے شوہر سے چُھپائی ہے دوسرا تم اپنی ضد پہ اڑی ہوئی ہو میں تمہارے لیے چادر نکالتی ہو جاؤ حویلی یا میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔آمنہ نے سنجیدگی سے کہا

چادر لاؤ میں اکیلی جاؤں گی۔ماہی نے کہا تو آمنہ نے شکر کا سانس خارج کیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم یہاں کوئی کام تھا؟فجر یامین کو اسکول سے واپسی لاتی گھر آئی تو اپنے گھر کے باہر ارمان کو دیکھ کر حیران ہوئی۔

جی یامین سے ملنے آیا تھا بہت عرصہ ہوگیا ہے ہم پارک نہیں گئے۔ارمان یامین کو اپنی گود میں اُٹھاتا فجر کو دیکھ کر بولا

یامین اسکول سے تھکا ہوا آیا ہے کہی نہیں جائے گا کھانا کھائے گا پھر آرام کرے گا۔فجر نے سنجیدگی سے کہا

نہیں ممی مجھے جانا ہے۔ارمان کے کجھ کہنے سے پہلے یامین نے کہا تو ارمان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جبکی فجر نے اُس کو گھورا

کوئی ضرورت نہیں سیر سپاٹے کرنے کی۔فجر دو ٹوک کہتی ارمان سے یامین لینے لگی مگر ارمان نے جلدی سے یامین کو پیچھے کیا۔

کیا ہوگیا ہے کیوں ضد کررہی ہیں خود تو معصوم کو پاس والے پارک تک نہیں لیکر جاتی اور مجھے بھی منع کررہی ہیں میں اتنی دور سے آیا ہوں اُس کا ہی لحاظ کرلے۔ارمان کو آج فجر کا انداز پسند نہیں آیا تو کہا

یامین میرا بیٹا ہے میری مرضی میں جو کجھ کروں تم اِس معاملات سے دور رہو تو بہتر ہے اور رہی بات دور سے آنے کی تو اپنی مرضی سے آتے ہو میں نہیں آنے کا کہتی آنے کے لیے۔فجر بے رخی سے بولی

آپ بھی کہہ کے دیکھ لے سچی بھاگا بھاگا آؤں گا۔ارمان شرارت سے بولا

مجھے کوئی ضرورت نہیں تم بس جاؤ یہاں سے۔فجر نے اُس کو آنکھیں دیکھائی۔

ہم تو پارک جائے گے اگر آپ نے جوائن کرنا ہے تو موسٹ ویلکم۔ارمان بھی اپنے نام کا ایک تھا

بھاڑ میں جاؤ تم مجھے اپنا بیٹا واپس کرو۔فجر زچ ہوئی اُس کی ایک ہی رٹ پہ

ٹھیک ہے اب آپ نے خود اجازت دی ہے تو ہم چلتے ہیں۔ارمان اتنا باہر کی جانب بڑھنے لگا تو فجر فورن سے اُس کے راستے میں حائل ہوئی

کہاں؟فجر نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

آپ نے جو کہا ابھی بھاڑ میں جاؤ تو بس ہم وہی جارہے ہیں۔ارمان معصوم شکل بنائے بولا تو یامین کھی کھی کرنے لگا۔

تم جہنم میں جاؤ یا بھاڑ میں مگر مجھے میرا بیٹا واپس کرو پر مجھے ارمان غصہ مت دلاؤ۔فجر نے سختی سے کہا

مجھے کیا ضرورت آپ کو غصہ دلانے کی وہ تو ہر وقت آپ کی ناک میں پہلے سے موجود ہوتا۔ارمان نے جلے پہ نمک چھڑکا

ارمانننننننن۔فجر نے غصے سے اُس کے نام کو کھینچ کر ادا کیا۔

جی میں سن رہا ہوں۔فجر نے جتنے غصے سے اُس کا نام لیا ارمان نے اُتنے ہی پیار سے کہا تو فجر جھنجھلا اُٹھی۔

دفع ہو جہاں جانا ہے جاؤ میری بلا سے۔فجر زچ ہوکر کہتی اندر جانے لگی جب ارمان نے مزید آگ لگائی۔

دفع کیسے جاؤں آپ ایڈریس سینڈ کریں یا چھوڑ آتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ارمان کی بات پہ فجر نے پلٹ کر کھاجانے والی نظروں سے اُس کو گھورا تو ارمان نے یامین کو باہر لے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حویلی کے لیے دروازے بند بھی ہوجائے تو پریشان مت ہوں میرے گھر کے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کُھلے ہوئے ہوگے۔

ماہی جیسے تیسے کرکے حویلی میں داخل ہوئی مگر اُس کے کانوں میں بار بار شازل کی آوازیں گونجنے لگی تو اُس کی آنکھیں پل بھر میں نم ہوئی تھی۔

آپ نے تو میرے لیے کوئی بھی دروازہ کُھلا نہیں چھوڑا شازل۔ماہی نے بے ساختہ تصور میں شازل سے شکوہ کیا تبھی شابانا کی نظر اُس پہ پڑی تو دندناتی اُس کے سر پہ نازل ہوئی۔

تم یہاں پھر آگئ۔شبانا نے بڑی سی چادر میں چُھپے ماہی کے وجود کو دیکھ کر چنگاڑتی آواز میں کہا

مجھے شازل سے ملنا ہے کہاں ہیں وہ؟مجھے بہت ضروری بات بتانی ہے اُنہیں۔ماہی نے اپنے آنسوؤ کا گلا گھونٹ کر کہا

او بی بی نہیں ہے وہ یہاں اور تم پہلی فرصت سے یہاں سے باہر نکلو ورنہ دھکا دے کر باہر کروں گی۔شبانا اُس کا بازوں دبوچتی بولی۔

شازل اسلام آباد میں بھی نہیں ہے آپ پلیز بتائے وہ کہاں ہیں مجھے بہت ضروری بات بتانی ہے اُنہیں میں اُن کے بچے کی ماں بننے والی ہوں پلیز مجھ پہ رحم کرے میرا ملنا شازل سے بہت ضروری ہے۔ماہی نے روتے ہوئے منت کی جب کی اُس کی بات پہ شبانا کے چہرے پہ ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔

کیا بکواس ہے یہ۔شبانا چیخی

بکواس نہیں ہے سچ میں پریگننٹ ہوں دو ماہ سے خدارا میری بات پہ یقین کرے اور بتائے شازل کہاں ہیں؟ماہی پھوٹ پھوٹ کر روتی زمین پہ بیٹھتی چلی گئ۔

جانے کس کا گند ہمارے بیٹے پہ تھوپ رہی ہے یہ بدبخت۔فردوس بیگم جو ابھی آئی تھی اُس کی بات سُنتی بالوں سے پکڑ کر بولی۔جس کی تکلیف سے وہ کراہ اُٹھی مگر اُس کو زیادہ سے زیادہ تکلیف شازل کے غائب ہوجانے پہ تھی جانے وہ کہاں چلاگیا تھا جو اُس سے ایک بار اتنے وقت میں رابطہ تک نہیں کیا تھا۔

مجھ پہ بہتان لگاتے ہوئے اللہ سے ڈرے۔ماہی افسوس بھری نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولی

اچھا بی بی ہم بہتان لگارہے ہیں تو یہ بچہ پہلے تو ظاہر نہیں تھا جب توں اپنی ماں کے گھر گئ تو یہ بچہ اچانک سے آگیا۔فردوس بیگم کی اِس قدر گھٹیاں بات پہ ماہی کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا جواب دے۔

میں آپ میں سے کسی کے سامنے بھی جوابدہ نہیں مجھے بس شازل سے بات کرنی ہے۔ماہی اپنے آنسو صاف کرتی اُن سے بولی

بولا نہیں

کیا ہورہا ہے یہاں؟شبانا ابھی کجھ کہنے والی تھی جب کلثوم بیگم فاریہ بیگم کے ساتھ ہال میں آتی رعبدار آواز میں پوچھنے لگی”کلثوم بیگم کو دیکھ کر ماہی کو کجھ سکون ملا اُس کو ایک اُمید کی کرن نظر آئی۔

آنٹی مجھے شازل سے بات کرنی ہے پلیز میری بات کا یقین کرے میرے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ شازل کا ہے خدا کے واسطے مجھ پہ کوئی بہتان نہ لگائے۔ماہی بھاگ کر کلثوم بیگم کے پاس آتی بولی تو حیرت سے سرتا پیر اُس کو دیکھنے لگی

شازل تو حویلی نہیں وہ تو تمہیں تمہارے گھر چھوڑ کر خود شہر کے لیے نکل گیا تھا۔فاریہ بیگم اپنی حیرانگی چُھپاتی اُس کو جواب دینے لگی۔

تم ماں بننے والی ہو؟کلثوم بیگم کے لہجے میں خوشگوار حیرت تھی جس کو محسوس کرکے ماہی کو کجھ ڈھارس ملی۔

چچی جان کیا ہوگیا ہے آپ کو اِسی کی سُن کیوں رہی ہیں باہر نکالے جانے کس کا گند شازل کے نام کررہی ہے دو ماہ سے اپنے ماں کے گھر تھی جانے کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے۔شبانا حقارت بھرے لہجے میں کہتی ہر حد پار کرگئ

شبانا ہوش میں ہو کیا بول رہی ہو کسی کے کردار پہ بہتان لگانا جانتی بھی ہو کتنا بڑا گُناہ ہے اللہ کا سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔فاریہ بیگم شبانا کی بات سن کر ناگواری سے بولی

تم یہاں بیٹھو۔کلثوم بیگم ایک اچٹنی نظر شبانا پہ ڈال کر ماہی کو پاس پڑے سینٹر صوفے پہ بیٹھانے لگی جس کے پورے وجود میں کپکپی طاری تھی

کب معلوم ہوا تمہیں اور کیا شازل کو پتا ہے یہ بات؟کلثوم بیگم نے اُس کی زرد ہوتی رنگت دیکھ کر اُس سے پوچھا

جس دن شازل مجھے شہر علاج کے لیے لیکر گئے تھے مجھے تب پتا چلا تھا پر اِس بات سے شازل لاعلم ہے۔ماہی نے ڈر کر بتایا

دیکھا ابھی اِس کا جھوٹ پکڑگیا بھلا شازل کو کیسے نہیں پتا چلا جب وہ ساتھ تھا۔شبانا باز نہ آئی۔

آنٹی میں آپ کو ساری بات بتاؤں گی پر آپ میرا یقین کرے ایسا کجھ نہیں جیسے یہ بول رہی ہے۔ماہی نے بے بسی سے کلثوم بیگم کے ہاتھ تھام کر بولی۔

تم فلحال اپنے کمرے میں جاؤ پھر بات ہوگی تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔کلثوم بیگم اُس کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں دیکھ کر بولی۔

چچی

خاموش شبانا بہت بول لیا تم نے مگر اب چپ کرجاؤ یہ بچہ شازل کا ہی ہے مجھے تو پہلے ہی اِس کی طبیعت پہ شک ہورہا تھا مگر شازل اِس کو میکے لیکر گیا تو میں خاموش ہوگئ اب مجھے پتا چلا شازل کیوں اِس کو حویلی میں نہیں چھوڑتا کیونکہ اُس کو پتا ہے تم لوگوں کا رویہ اِس کے ساتھ جانوروں سے زیادہ بدتر ہوگا مگر میری ایک بات سن لو تم سب پہلے میں خاموش تھی تم لوگوں کا اِس معصوم کے ساتھ رویہ جیسا بھی تھا میں نے دیکھ کر اٙن دیکھا کردیا کیونکہ مجھے لگتا تھا یہ تمہارے سہاگ کے قاتل کی بہن ہے تمہارا وقتی غصہ ہے پر اب تم نے دوسری شادی کرلی ہے اب دیدار شاہ تمہارا سہاگ ہے اِس لیے بہتر یہی ہے اُس پہ توجہ دو تمہارا ایک شوہر تھا تو فاریہ کا بڑا بیٹا تھا اُس نے کبھی اِس پہ غصے سے بھری نگاہ بھی نہیں ڈالی تھی پھر تم کیوں اِس کے پیچھے پڑی ہوئی ہو بخش دو اب اِس کو ویسے بھی کجھ دن کی مہمان ہے پھر شازل اِس کو اپنے ساتھ شہر لیکر جائے گا۔کلثوم بیگم نے بُری طرح سے فردوس بیگم اور شبانا کو ایک ساتھ لتاڑہ جس سے دونوں کا چہرہ بے عزتی کے احساس سے سرخ ہوگیا تھا۔

اِس دوٹکے کی لڑکی کی وجہ سے آپ میری بے عزتی کررہی ہیں میں اِس حویلی کی بڑی بہو ہوں۔شبانا چیخی

جس لڑکی کو تم دو ٹکے کا بول رہی ہو وہ حویلی کے چھوٹے اور لاڈلے بیٹے شازل کی بیوی ہے اگر اُس کو پتا چل گیا نہ تو کوئی لحاظ نہیں کرے گا وہ۔کلثوم بیگم نے طنزیہ انداز اپنایا

یہ ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہے آپ کیوں اِس اوقات بھول رہی ہیں۔شبانا پاگل ہونے کے در پہ تھی جب کی ماہی بس رونے میں مصروف تھی

اِس کی اوقات یہ ہے کے یہ لڑکی حویلی کو وارث دینے والی ہے جو تم نے دس سالوں تک نہیں دیا۔کلثوم بیگم نے دو ٹوک کہا

آپ میری بے عزتی پہ بے بے عزتی کیے جارہی ہے میں برداشت نہیں کروں گی۔شبانا غصے سے ماہی کو دیکھ کر کلثوم بیگم سے بولی

میں بس تمہیں حقیقت سے روشناس کروا رہی ہو۔کلثوم بیگم کا آج انداز ہی الگ تھا

یہ وارث نہیں دے گی۔شبانا نے غصے سے کہا

اُٹھو میں تمہیں تمہارے کمرے تک چھوڑ آؤ۔کلثوم بیگم شبانا کو نظرانداز کرتی ماہی کو سہارہ دیتی بولی تو ماہی نے تشکر بھری نظروں سے اُن کو دیکھا جو آج اُن کے لیے وسیلہ بن کر آئی تھی اور اب وہ ماہی کو کسی فرشتے سے کم نہ لگی۔

السلام علیکم۔دُرید شاہ آروش حریم یہ بھی اِس وقت شہر سے واپس آئے تو سب کو ایک ساتھ کھڑا پایا تو سلام کیا۔

وعلیکم السلام آگئے تم سب کیا ہوا تھا حریم کو؟فاریہ بیگم سلام کا جواب دیتی پوچھنے لگی۔

آپ سب بیٹھے میں بتاتی ہوں۔آروش ایک نظر حریم پہ ڈال کر بولی جب کی کلثوم بیگم ماہی کو لیکر اُپر چلی گئ تھی۔

آپی ہم اپنے کمرے میں جائینگے۔حریم آروش سے بولی تو اُس نے محض سراثبات میں ہلایا

بتا بھی چُکو کیا ہوا ہے؟فردوس بیگم جلے کٹے انداز میں بولی۔

السلام علیکم چاچا سائیں۔آروش نے ارباز شاہ کو حویلی میں آتا دیکھا تو سلام کیا

وعلیکم السلام۔ارباز شاہ سلام کا جواب دیتے اُن لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے۔

حریم ماں بننے والی ہے۔آروش سب کو دیکھ کر بولی تو سب اپنی جگہ ساکت ہوئے تھے سوائے فاریہ بیگم کے کیونکہ اُن کو پہلے سے اِس بات کا علم ہوگیا تھا۔

کیا کہا تم نے میں نے ٹھیک سے سُنا نہیں؟فردوس بیگم اپنا کان اُس کے سامنے کیے بولی تو آروش نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا

حریم ماں بننے والی ہے۔آروش اِس بات کجھ تیز آواز میں بولی۔

ماشااللہ مجھے پتا تھا یہی بات ہوگی پر حریم کا رد عمل کیسا تھا۔فاریہ بیگم کجھ فکرمندی سے بولی

ہمیں تابش کا بچہ نہیں چاہیے حریم کو چاہیے وہ اپنا بچہ گِراے۔آروش کے کجھ کہنے سے پہلے فردوس بیگم حقارت سے سرجھٹک کر بولی ہال میں سناٹا سا چھاگیا تھا اُن کی بات پہ جب کی اُن سب کے درمیان بیٹھا دُرید شاہ بس اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔

سوچ سمجھ کر بولا کرو فردوس کیا جانتی نہیں کتنا بڑا گُناہ ہے۔فاریہ بیگم نے سختی سے اُن کو ڈپٹا

بلکل ٹھیک بول رہی ہیں اماں اب کیا ہم اُس بدبخت کے بچہ حویلی میں پالے گے۔شبانا نخوت سے سرجھٹک کر بولی

تم دونوں ماں بیٹی کو ہو کیا گیا ہے۔فاریہ بیگم اُن دونوں کو دیکھ کر کوفت سے بولی جو پہلے ماہی کے پیچھے پڑے تھے اور اب حریم کے۔

وہ صرف تابش لالہ کا بچہ نہیں ہوگا حریم کا بھی ہوگا آپ لوگوں کو اندازہ بھی نہ ہو ایسے جُملے حریم کے دل پہ کیا اثر کرینگے وہ خود اُس معصوم سے نفرت کرنے لگے گی جو اِس دنیا میں آیا ہی نہیں۔آروش فردوس بیگم کے خاموش ہونے کے بعد حریم کے دفاع میں بولی

خون تو اُس تابش کا ہوگا نہ۔فردوس بیگم طنزیہ بولی

مگر پرورش تو یہاں حویلی میں ہوگی نہ خون سے زیادہ پرورش اثر کرتی ہے نہ اُس کی پرورش یہاں حویلی میں ہوگی تو اِن باتوں کا مطلب۔آروش نے سنجیدگی سے کہا

حریم کا بچہ یہاں نہیں رہے گا تو مطلب نہیں رہے گا۔فردوس بیگم اپنی جگہ بضد ہوئی۔

میں حریم سے نکاح کروں گا اُس کی عدت کے دوسرے دن دیکھتا ہوں پھر کون میرے بچے کے بارے میں ایسی بات کرتا ہے۔دُرید کی بات اُن سب کے سِروں پہ بجلی کی طرح گِری۔

ہوش میں ہو برخودار؟ارباز شاہ نے طنزیہ کیا۔

بلکل ہوش میں ہوں نکاح سادگی سے ہوگا اِس لیے کسی کو کوئی بھی تیاری کرنے کی ضرورت نہیں۔دُرید بے تاثر لہجے میں بولا

ایسا نہیں ہوسکتا۔فردوس بیگم نے اعتراض اُٹھایا

ایسا ہوسکتا ہے یا نہیں اِس بات کا فیصلہ میں کروں گا۔دُرید کا لہجہ حددرجہ سرد ہوگیا تھا

بیٹا جی عقل کے ناخن لو جوش میں ہوش گنوا بیٹھے ہو حریم ماں بننے والی ہے تو پھر کیسے تم اُس کی عدت کے اگلے دن نکاح کروگے۔فردوس بیگم کا لہجہ طنزیہ سے بھرپور تھا۔

میں سمجھا نہیں۔درید ناسمجھی سے اُن سب کو دیکھ کر بولا

لالہ اگر لڑکی ماں بننے والی ہو تو اُس درمیان دوسرا نکاح نہیں ہوسکتا اگر حریم سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہیں تو بچے کے پیدا ہونے تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔اِس بار آروش نے دُرید کو سمجھانے والے انداز میں کہا تو دُرید خاموش ہوگیا تھا اُس کے لیے انتظار کی گھڑیاں طویل سے طویل ہوتی جارہی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *