Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 47)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حریم۔آروش کمرے میں آتی حریم کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر اُس کا نام لینے لگی جو آنکھیں موندے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔

جی۔حریم سیدھی ہوتی اُس کو دیکھنے لگی۔

تیار ہوجاؤ ہمیں شہر جانا ہے۔آروش نے بتایا

شہر کیوں؟حریم ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

ہوسپٹل دُرید لالہ نے کہا ہے کے وہاں ٹھیک سے علاج ہوگا۔آروش کی بات پہ حریم کے دل نے ایک بیٹ مس کی آج اتنے وقت بعد اُس کا نام سُنا تھا شاید دیکھنا بھی ہوتا۔

وہ کون ہوتے ہیں ہمارے بارے میں فیصلہ لینے والے ہمیں کہیں نہیں جانا اُن کے ساتھ تو بلکل بھی نہیں۔حریم سپاٹ انداز میں بولی

حریم ضد مت کرو اپنی حالت دیکھو کیا تھی اور کیا بن گئ ہو۔آروش نے اُس کو سمجھانا چاہا

ہم جو تھے اور جو ہیں اُن کا زمیدار آپ کے لالہ ہیں جنہوں نے ہمیں کانٹوں بھرے راستے میں تنہا چھوڑ کر اُس کو پار کرنے کا کہا تھا۔حریم طنزیہ انداز میں بولی

لالہ کا کیا قصور اُن کو تھوڑی پتا تھا اِس سب باتوں کا۔آروش نے اُس کو سمجھانا چاہا

عقل سے کام لو میرا ساتھ تمہیں محرومیوں کے سوا کجھ نہیں دے سکتا تم ایک بہت اچھی خوبصورت لائیف ڈیزرو کرتی ہوں اور وہ لائیف میں تمہیں نہیں دے سکتا۔

آروش کی بات پہ حریم کے کانوں میں دُرید کے کہے جُملے گونجے تو وہ پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی۔آروش حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی۔

حریم۔آروش کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے۔

ہاہاہاہا پتا ہے کیا آپ کے سو کالڈ لالہ نے ہم سے کیا کہا تھا؟ وہ میری شادی کروا کر ایک خوبصورت زندگی مہیا کررہے ہیں دیکھے کتنی اچھی زندگی بسر کررہے ہیں ہم۔حریم ہنستے ہوئے بتانے لگی تو آروش کا دل کٹ کے رہ گیا۔

ایسے مت ہنسو۔آروش نے دُکھ بھری نظروں سے اُس کو دیکھا جس کا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا اور اتنا ہنسنے کی وجہ سے آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔

ہم تیار ہوکر آتے ہیں ویسے بھی اب کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں وہ پاس ہو یا دور ہمارے لیے ایک بات ہے۔حریم اب کی سنجیدہ ہوکر بولی۔

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

وہ نہی

دُرید آروش کو اکیلا دیکھ کر کجھ کہنے والا تھا جب اُس کے پیچھے آتی حریم کو دیکھ کر دُرید کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔

دوسری طرف حریم نظریں جُھکائے بنا دُرید کی موجودگی کا احساس کرتی گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئ۔دُرید نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا تھا جس نے اُس پہ ایک نظر بھی ڈالنا گوارا نہیں کیا تھا حریم کا یہ بیگانہ پن اُس کو تکلیف پہنچارہا تھا بہت تکلیف۔

آپ کو پتا ہے جب آپ نے ہمارے چہرے پہ تھپڑ مارا تھا تو ٹیس ہمارے دل میں اُٹھی تھی ہم اُس ٹیس اُس کو تکلیف کو نظرانداز کیے اپنی عزت نفس کو مجروح کیے اپنی انا کو مار کر ایک بار پھر خود کو آپ کے سامنے بے مول کیا تھا اور آپ نے کیا کیا تھا ہمیں خالی ہاتھ لوٹا دیا ہم نے کیا چاہا تھا بس آپ سے آپ کا نام چاہا تھا ہماری ڈیمانڈ کوئی بڑی تو نہیں تھی ہم آپ کے کمرے کے کسی کونے میں پڑے رہتے آپ سے اف تک نہ کہتے آپ کا ہر ظلم مسکراکر سہہ جاتے ہم نے کوئی آپ سے یہ تو نہیں کہا تھا ہمیں آپ کی محبت چاہیے ہمیں آپ کی توجہ چاہیے ہم نے بس یہ کہا تھا ہمیں اپنے نکاح میں لے اُس کے بعد چاہے آپ ہم پہ ایک نظر نہ ڈال لیتے کوئی حقیر چیز سمجھ لیتے مگر ہمیں تب ایک چیز کا افسوس تو نہ ہوتا کے ہم نے جس کو دل دیا ہے وہ ہمارا نامحرم نہیں بلکہ محرم ہے اِس جہاں میں اُس کا ساتھ نہ بھی ملا تو خیر تو اُس جہاں میں ضرور ملے گا جو کی دائمی ہے مگر افسوس اب ہماری زندگی میں بس پچھتاوا رہے گا کے ہم نے خیانت کی ہے اُس انسان کے ساتھ جس کو اللہ نے ہمارے لیے چُنا تھا اور ہم شیطان کے بہکاوے میں آکر کسی نامحرم سے عشق کر بیٹھے جو کبھی ہمارا تھا ہی نہیں یہ تو بس ہمارا خود کا وہم تھا۔

حریم کی باتیں اُس کے کانوں میں سُنائی دی تو دُرید نے ایک افسردہ سانس خارج کی۔

لالہ آجائے۔حریم کے ساتھ بیٹھی آروش نے دُرید کو ایک جگہ جما دیکھا تو آواز دی’جس پہ دُرید اپنا دماغ ہر سوچو سے آزاد کرتا ڈرائیونگ سیٹ پہ آیا خالی فرنٹ سیٹ کو دیکھ کر اُس نے بیک ویو مرر کی جانب دیکھا جہاں حریم کا چہرہ صاف نظر آرہا تھا مگر اُس کی نظریں جُھکی ہوئی تھی اُس کو حریم کی اتنی خاموشی برداشت نہیں ہورہی تھی مگر وہ مجبور تھا کیونکہ قصوروار تھا تبھی بنا کجھ کہے اُس نے گاڑی سٹارٹ کی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دو ماہ پہلے!

شازل آپ کے فون پہ کال آرہی ہے۔ماہی بیڈ شیٹ دُرست کرتی شازل سے بولی جو چینجنگ روم میں تھا۔

چیک کرو کس کا ہے۔شازل نے وہی سے آواز دی تو ماہی چلتی ہوئی سائیڈ ٹیبل پہ موجود شازل کا فون ہاتھ میں لیا جہاں کسی انون نمبر سے کال تھی۔

نیو نمبر ہے۔ماہی نے بتایا

اچھا میں آتا ہوں۔شازل اتنا کہتا کمرے میں آیا۔

میرے لیے کافی تو لانا۔شازل موبائل ہاتھ میں لیتا ماہی سے بولا تو وہ سراثبات میں ہلاتی کمرے سے باہر چلی گئ۔

السلام علیکم۔شازل تیسری بار آتی کال ریسیو کرتا سلام کرنے لگا۔

وعلیکم السلام میں ذین سالک بات کررہا ہوں۔دوسری طرف سے بتاگیا۔

میں کسی ذین سالک کو نہیں جانتا۔شازل نے کندھے اُچکائے کہتے مرر میں دیکھتا اپنے ایک ہاتھ سے بال سیٹ کرنے لگا۔

میں ماہی کا بھائی ہوں جس پہ دلدار شاہ کے قتل کا الزام لگا تھا۔ذین نے بتایا

اوو تو یوں کہوں نہ سالے صاحب یار کہاں غائب تھے کوئی رابطہ ہی نہیں کیا کبھی۔شازل کا لہجہ اچانک بے تکلف ہوگیا تھا جیسے جانے کتنے سالوں کی جان پہچان ہو اُس کے برعکس زین اپنے کان سے موبائیل ہٹاتا اسکرین کی گھورنے لگا۔

مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے۔زین سنجیدگی سے بولا

فالتو اور غیرضروری بات میں سنتا بھی نہیں۔شازل نے جوابً کہا

کیا تم دو منٹس کے لیے سیریس ہوسکتے ہو؟زین زچ ہوتا بولا

کیونکہ آئے سی یو روم میں لیکر جانا ہے یا ایمرجنسی وارڈ میں؟شازل مصنوعی حیرت سے بولا

تمہارا مسئلہ کیا ہے؟زین بے اختیار چیخ پڑا

بتاؤں تو حل کروگے؟شازل نے فورن سے پوچھا

مجھے لگ رہا ہے میں نے بہت بڑی غلطی کردی۔ذین اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا گہرے سانس لیکر بولا

اچھا کونسی غلطی؟شازل کمرے میں داخل ہوتی ماہی کو دیکھ کر بولا

تمہیں کال کی وہ غلطی۔زین دانت پیس کر بولا

مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کے میں نے تمہاری کال ریسیو کرکے بہت بڑی غلطی کی۔شازل ماہی کو دیکھ کر آنکھ ونک کیے زین سے بولا”جب کی اُس کی حرکت پہ ماہی سٹپٹاکر کافی اُس کے پاس رکھ کر کمرے سے باہر چلی گئ۔

مجھے دلدار شاہ کے قتل کے بارے میں بہت اہم باتیں ڈسکس کرنی ہے اور ایک تم ہو جس کو مُزاکرات سُوجھ رہی ہیں۔ذین تپ کر بولا

مُزاکرات سے مُراد؟شازل اپنی ڈارھی کُھجاتا پوچھنے لگا۔

میں نے دلدار شاہ کا قتل نہیں کیا۔زین اُس کی بات نظرانداز کیے بولا

جانتا ہوں۔شازل بنا تاخیر کیے بولا ساتھ میں کافی کا گھونٹ بھرنے لگا۔

اگر جانتے ہو تو میری بہن کو اپنی قید میں کیوں رکھا ہے؟زین سنجیدگی سے بولا

اُس کو قید میں چھوڑنے والے تم سب تھے۔شازل نے کندھے اُچکائے

مجھے میری بہن چاہیے۔زین نے کہا

تمہاری بہن کوئی سامان یا چیز تو ہے نہیں جس کو میں اُٹھا کر تمہیں دے دوں وہ میری بیوی ہے اور ایک بیوی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی چاہے حالات جیسے بھی ہو۔شازل دو ٹوک انداز میں بولا

وہ میرے عیوض آئی تھی تو اگر میں نے کجھ کیا نہیں تو وہ کیوں تم لوگوں کے پاس رہے۔زین نے کہا

یہ بات تمہیں اب یاد آئی ہے جب ایک سال سے زائد وقت گُزر چُکا ہے۔شازل نے طنزیہ کیا۔

تب میرے پاس ثبوت نہیں تھا اپنی بے گُناہی کا اب ہے۔زین نے جتایا

حالات بہتر ہوجائے میں ماہی کو ملوانے کے لیے لے آؤں گا۔شازل نے جیسے اُس کو تسلی دی۔

ملوانے سے کیا مُراد ہے وہ میری بہن ہے اب بس ہمارے پاس رہے گی۔ذین کو اُس کی بات ناگوار گُزری

وہ کہاں رہے گی اِس بات کا فیصلہ تم نہیں میں کروں گا۔شازل سرد لہجے میں بولا

وہ بہن ہے میری میں بھائی ہوں اُس کا اُس کو جو میں کہوں گا وہ کرے گی۔زین کو طیش آیا

تمہاری بہن تھی اب وہ میری بیوی ہے جب ایک لڑکی قصاص کے نام پہ کی جاتی ہے تو اُس کا سب بائیکاٹ ہوجاتا ہے ماہی کا بھی سمجھو۔شازل نے پرسکون لہجے میں کہا

جب میں نے کجھ کیا نہیں تو قصاص کیسا؟زین کا بس نہیں چل رہا تھا وہ فون کے اندر گُھس جاتا۔

دیکھو سالے صاحب وہ قصاص میں آئی آسمان سے ٹپکی یا زمین پھاڑ کر چیر کر آئی برحال وہ اب میری بیوی ہے اور میں ہرگز نہیں چاہوں گا تم ایسے اُس پہ حق جتاؤ اگر میں نے کہا ملوانے لاؤں گا تو لاؤں گا بس اُس پہ ہی صبر شکر کروں باقی رہی لالہ کے قتل کی بات تو میں تم سے ملنا چاہوں گا یہ باتیں فون پہ ڈسکس نہیں ہوسکتی۔شازل سنجیدگی سے اپنی بات کہتا کال ڈراپ کرگیا بنا زین کو کجھ کہنے کا موقع دیئے۔

ساری کافی کا مزہ خراب کردیا۔شازل نے کافی کا گھونٹ پیا تو سخت بدمزہ ہوتا بڑبڑایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا سوچ رہی ہیں؟فاریہ بیگم نے کلثوم بیگم کو خاموش دیکھا تو پوچھا

تم نے شازل کی بیوی کو دیکھا ہے؟کلثوم بیگم نے کہا

ہاں بہت بار پر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟فاریہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی

اُس کی طبیعت دن بدن گِرتی محسوس ہو رہی ہے اور ایک شازل ہے جس کو نظر نہیں آرہی اپنی بیوی کی حالت۔کلثوم بیگم نے کہا

شازل سے کہے وہ شہر لیکر جائے چیک اپ کے لیے پرائی بچی ہے اگر کل کلاں کوئی اُونچ نیچ ہوجائے تو کیا جواب دینگے اُس کے ماں باپ کو۔فاریہ بیگم نے کہا

آئے شازل تو کہتی ہوں۔کلثوم بیگم گہرک سانس بھر کر بولی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شازل کمرے میں آیا تو ماہی کو اپنا سردباتا دیکھا۔

کیا ہوا؟سر میں درد ہے؟شازل اُس کے پاس چل کر آتا بولا۔

ہاں تھوڑا سا۔ماہی نے بتایا

آؤ میں دباتا ہوں۔شازل اُس کے پاس بیٹھ کر بولا

نہیں شکریہ اتنا نہیں ہے خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ماہی نے انکار کرنا چاہا

میں دباتا ہوں اور تمہاری طبیعت کجھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔شازل آہستہ آہستہ اُس کا سر دباتا ہوا بولا

ہاں کجھ دنوں سے مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے۔ماہی نے بتایا

کیا مطلب تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔شازل اُس کی بات پہ فکرمند ہوا۔

سر درد مجھے لگا خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ماہی سرسری لہجے میں کہا تو شازل کو اُس کی لاپرواہی پہ غصہ آیا۔

محھے کسی کام سے باہر جانا تھا تم تیار ہوجاؤ ہوسپٹل چلتے ہیں۔شازل اپنی جگہ سے اُٹھتا اُس سے بولا۔

شازل ہوسپٹل کیوں میں ٹھیک ہوں۔ماہی نے بتانا چاہا

تمہاری راے نہیں مانگی جو کہا ہے وہ کرو چہرہ دیکھا ہے اپنا کیسے زردی مائل ہوگیا ہے مجھے غصہ تم پہ زیادہ خود پہ آرہا ہے پتا نہیں کیسے میں اتنا غافل ہوگیا۔شازل سنجیدگی سے بولا

آپ خوامخواہ پریشان ہورہے۔ماہی نے کہا

دس منٹ ہیں تمہارے پاس جلدی سے تیار ہوجاؤ۔شازل نے آنکھیں دیکھائی تو ناچار ماہی کو اُس کی ماننی پڑی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یہ شازل پتا نہیں اُس لڑکی کو کہاں لیکر گیا ہے؟شبانا نے پریشانی سے فردوس بیگم سے کہا

شہر ڈاکٹر کے پاس۔فردوس بیگم نخوت سے بولی

یہ تو پھر ٹھیک نہیں۔شبانا ۔حقارت سے اُن کی بات سن کر بولی۔

فکر نہیں کرو اُس گولی نے اپنا کام کرلیا ہوگا۔فردوس بیگم نے پرسکون لہجے میں کہا

آپ کو پکا یقین ہے۔شبانا کو چین نہیں آرہا تھا۔

سؤ فیصد یقین ہے ایسا ہی ہوگا کسی کو شک بھی نہیں ہوگا کے وہ کبھی ماں بننے والی تھی یا نہیں۔فردوس بیگم کا اعتماد قابلِ دید تھا۔

ویسے مجھے چچی جان نے کہا کے اُس بدبخت کو اُن کے کمرے میں آنے کا کہوں۔شبانا نے بتایا

یہ اِس ونی میں آئی ہوئی لڑکی کو اِتنا سر پہ کیوں چڑھا رہے ہیں؟فردوس بیگم تپ اُٹھی۔

مجھے نہیں پتا بس میرا بچہ ہوجائے تاکہ خاندانی کنگن مجھے ملے ناکہ شازل کی بیوی کو۔شبانا نے شیطانی مسکراہٹ سے بولی

اُس کی تو فکر نہیں کر دیکھنا اگلا سردار تیرا بیٹا ہوگا دُرید شاہ کبھی شادی نہیں کرے گا اور یہ جو شازل کی بیوی ہے آج ہے کل نہیں ہوگی سمجھو ساری رُکاوٹیں ہی ختم۔فردوس بیگم بہت دور کے خیالات سوچ رہی تھی۔

ہائے اماں تیرے منہ میں گلاب جامن۔شبانا خوش ہوتی بولی۔

چل میں ذرہ کلثوم کے پاس جاؤں اور اُس کو کہوں ونی میں آئی دو ٹکے کی لڑکی کی فکر نہ کرے تو اچھا ہے۔فردوس بیگم اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی

میرا تو کلیجہ جلتا ہے جب اُس کو دیکھتی ہوں تو۔شبانا دانت پہ دانت جمائے بولی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

چیک اپ تو آپ کا ہوگیا ہے اور باقی رپورٹس آنے تک پتا چل جائے گا پریشانی کی ویسے کوئی بات نہیں اکثر ایسی حالت میں ہوتا ہے۔شازل ماہی کو شہر کے قریب ہسپتال لایا تو ڈاکٹر نے مسکراکر کہا

کِس حالت میں ایسا ہوتا ہے؟ماہی کے اندر پلتا سوال شازل نے پوچھا

کیا آپ کو نہیں پتا چلا ابھی تک؟ڈاکٹر نے کافی حیران نظروں سے دونوں کو دیکھا

جی آپ کیا بات کررہی ہیں؟اِس بار ماہی نے پوچھا

آپ ماشااللہ سے

ایکسکیوز می۔ڈاکٹر کجھ بتانے والی تھی جب شازل کے سیل فون پہ کال آنے لگی۔

اِٹس اوکے۔ڈاکٹر نے مسکراکر کہا

آپ ماہی کو سب سمجھا دے میں کال سن کر آیا بہت ضروری ہے۔شازل اُن دونوں کو دیکھ کر کہتا کیبن سے باہر چلاگیا۔

آپ کیا بتارہی تھی؟ماہی نے پوچھا

آپ ایک ماہ سے ایکسیپٹ کررہی ہیں۔ڈاکٹر کی بات ماہی حیران کن نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی اُس کو یقین نہیں آرہا تھا یہ سب کیا کہا ڈاکٹر نے اور اُس نے کیا سُنا؟گُزری رات والا منظر آنکھوں کے پردوں میں لہرایا تو صبح والی شازل کی بیگانگی بھی اُس کو یاد آئی جس پہ اُس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔

آ آر ی یو شیور ڈاکٹر؟ماہی نے بمشکل اپنی لڑکھڑاہٹ پہ قابو پایا

یس باقی رپورٹس آجائے اُس کے بعد تصدیق ہوجائے گی۔ڈاکٹر نے مسکراکر کہا

شک شکریہ۔ماہی نے آہستہ آواز میں کہہ کر اُٹھ کھڑی ہوئی اُس کو اِس وقت خوشی محسوس کرنے کے بجائے خوف محسوس ہورہا تھا

اگر شازل نے بچے پہ سوال اُٹھایا تو؟اُن کو تو شاید کجھ یاد بھی نہیں اور کیا حویلی والے ونی میں آئی ہوئی لڑکی کا بچہ قبول کرے گے کاش رپورٹس میں ایسا کجھ نہ ہو۔کیبن سے باہر نکلتی ماہی کے چہرے پہ پریشانی کے سائے لہرانے لگے اُس کا پورا وجود کانپ رہا تھا وہ یہ سب کس دل سے سوچ رہی تھی بس وہ جانتی تھی۔

تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟شازل نے ماہی کو دیوار کے ساتھ لگے گم سم کھڑا پایا تو اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولا

ایسے ہی۔ماہی یکدم سیدھی ہوئی۔

رپورٹ کا بتایا وہ کب تک آئے گی؟شازل کی بات پہ ماہی نے چونک کر اُس کو دیکھا۔

ایک ہفتہ بعد۔ماہی نے بتایا

اوکے میں لے آؤں گا ویسے تو کوئی بات نہیں نہ پریشانی والی؟شازل اُس کی بات سن کر بولا

نہیں ہے ایسی تو کوئی بات۔ماہی نے کہا

چلو پھر۔شازل نے مسکراکر کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج آپ بات کرینگے شازل سے؟آمنہ نے قہوہ کا کپ زین کی جانب بڑھاکر پوچھا

ہاں شام میں اُس سے ملنا ہے دل تو نہیں چاہ رہا پر مجبوری ہے۔زین کے قہوہ کا کپ ہاتھ میں لیے کہا

ایسا کیوں بول رہے؟آمنہ کو سمجھ نہیں آیا

بہت نخرا ہے اُس میں ماہی ماہی ایسے بول رہا تھا جیسے ہم نے اپنی بہن کو خوشی خوشی اُس کے ساتھ رخصت کیا ہو۔زین سر جھٹک کر بولا

شاہ خاندان سے ہے تھوڑا بہت تو ایٹیٹیوڈ دیکھائے گا نہ ورنہ شاہوں کیسے لگے گا۔آمنہ اُس کی بات سن کر مسکراکر بولی

جو بھی پر مجھے اُس کے بات کا انداز ایک آنکھ نہیں بھایا ایسا نان سیریس انسان میری بہن ڈیزرو نہیں کرتا۔زین نے سنجیدگی سے کہا

آپ ماہی کو یہاں لائے گے بھی تو وہ ساری عمر اِس در پہ بیٹھی رہے گی کیونکہ حویلی والوں کے یہاں طلاقیں نہیں ہوا کرتی چاہے کوئی رشتہ نبھانا چاہے یا نہیں بہت معیوب سمجھا جاتا ہے وہاں ایک بار جیسے تیسے رشتہ جڑ سو جڑ گیا اُس کو قبر تک نبھانا پڑے گا دُرید شاہ نے کیوں قتل کیا اپنے خالہ زاد بھائی کا اِس لیے نہ کیونکہ اُس کو پتا تھا اگر وہ زندہ رہا تو حریم کو ساری زندگی اُس کے نام پہ بیٹھنا پڑے گا تبھی اُس نے حریم کو بیوہ کردیا کیونکہ اُن کے یہاں بیوہ ہونا طلاقِ یافتہ سے بہتر ہے۔آمنہ کی بات پہ زین لاجواب ہوا تھا۔

اگر ایسا ہوا تو ہم کورٹ سے خلع لینگے۔زین کے دماغ میں اچانک خیال آیا تو کہا

ماہی کی مرضی جان کر۔آمنہ نے جیسے اُس کا جُملہ مکمل کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *