Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 46)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 46)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
ماہی اپنے کمرے میں بیٹھی آروش کا انتظار کررہی تھی مگر بہت وقت گُزرجانے کے بعد بھی آروش نہیں آئی تو اُس نے خود جانے کا سوچا وہ ابھی دروازہ کھول کر باہر جانے والی تھی جب سامنے شبانا بھی شاید اُس کے کمرے میں آنے والی تھی۔
جی؟ماہی نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھو
یہ لو۔شبانا نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا جہاں کوئی ٹیبلیٹ تھی۔
یہ کیا ہے؟ماہی نے بے تُکہ سوال کیا۔
سردرد کی گولی ہے نظر نہیں آرہا ہے؟شبانا نے گھور کر کہا
کل تک تو مجھے بندوق کی گولی سے مارنے کے در پہ تھیں اور آج یہ سردرد کی گولی یااللہ تیری کایا۔ماہی شبانا کا چہرہ دیکھتی بس یہ سوچ سکی۔
کیا ہوا لو اور کھاؤ۔شبانا نے اُس کو خاموش دیکھا تو کہا
میں نے آج سے پہلے تو کبھی کسی کو سردرد کے لیے یہ گولی لیتے نہیں دیکھا۔ماہی کے سوال پہ وہ گڑبڑا سی گئ۔
ہم یہی کھاتے ہیں اب لو جلدی سے میرے سامنے کھاؤ۔شبانا اپنی حالت پہ قابو پائے اُس پہ سختی سے پیش آئی۔
میں نے صبح سے کجھ کھایا نہیں وہ کھالوں پہلے اُس کے بعد یہ کھاؤں گی۔ماہی اُس کے ہاتھ سے ٹیبلیٹ لیکر بولی
ہممم جلدی سے کھالینا۔شبانا اتنا کہتی وہاں سے چلی گئ۔
جو کل تک میری جانی دُشمن بنی ہوئی تھی اور اب اگر میں اُن کے ہاتھ سے پانی کا گھونٹ بھی پِیو تو لعنت ہے مجھ پہ میرے جسم سے تو ابھی اِن کی مار کے نِشان تک نہیں مِٹے تو میں کیسے سوچ لوں یہ میرے لیے کجھ اچھا سوچ سکتے ہیں مرنے کے قریب بھی ہوگی تو اِیک قطرہ اِن سے پانی کا گھونٹ نہیں لوں گی یہ ٹیبلیٹ کھانا تو بہت دور کی بات ہے۔ماہی شبانا کی دی ہوئی ٹیبلیٹ کو نیچے پھینکتی اُس کو پاؤں سے مسل کر بڑبڑائی۔
ایویں شازل کو میں بے وقوف لگتی ہوں ورنہ عقلمندی تو مجھ پہ شروع اور مجھ پہ ختم ہے۔ماہی شوخی ہوئی۔عین اُسی وقت شازل کمرے میں داخل ہوا۔
آپ کو کیا ہوا ہے؟ماہی نے شازل کو اتنا خاموش دیکھا تو فکرمندی سے پوچھنے لگی۔
سر میں درد ہے تھوڑا۔شازل سنجیدگی سے اُس کو جواب دیتا بیڈ پہ سر ہاتھوں میں گِرائے بیٹھ گیا۔
اچھا ٹیبلیٹ دوں کوئی پیناڈول یا بروفون یا جو آپ کہے؟ماہی کی بات پہ شازل نے سراُٹھاکر اُس کو دیکھا جس کے چہرے پہ فکرمندی کا تاثرات صاف نمایاں تھے۔
تمہارے پاس اِس وقت کونسی گولی ہے؟شازل کے سوال پہ ماہی کو چپ لگ گئ۔
کوئی بھی نہیں۔ماہی یہاں وہاں دیکھتی بولی۔
پوچھا تو ایسے جیسے اسٹور پہ کھڑی ہو۔شازل سرجھٹک کر بولا
میں آروش سے مانگ کر دیتی ویسے سردرد زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ماہی اُس کی کشادہ پیشانی چھوتی بولی۔
ہاں بہت ہے۔شازل اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بولا
میں دبادوں؟ماہی نے پوچھا
دبادو۔شازل نے جواب دیا تو ماہی جلدی سے بیڈ پہ آتی آرام سے اُس کا سر دبانے لگی تو شازل کو اپنے اندر سکون اُترتا محسوس ہوا عین اُسی وقت شازل کے سیل پہ کال آنے لگی شازل نے ایسے ہی بیٹھے پینٹ کی پاکٹ سے موبائیل نکالا تو عائشہ کالنگ لکھا آرہا تھا جو ماہی نے بھی دیکھ لیا تھا۔
یہ چڑیل اِس وقت کال کیوں کررہی ہے۔ماہی شازل کا سر زور سے دباتی دانت پیس کر بولی
ہیلو عائشہ۔شازل کال اسپیکر پہ کرتا اُس سے بولا۔
سر درد سے پھٹا جارہا ہے مگر موصوف کو عائشہ کی کال پھر بھی ریسیو کرنی ہے۔ماہی کے اندر آگ کا شعلہ بھڑکنے لگا۔
کہاں ہو میں تمہارے گھر آئی تھی پر تمہارا فلیٹ لاک ملا۔دوسری طرف عائشہ نے کہا
ہمیں پتا تھا تم آؤں گی بنا بُلائے مہمان کی طرح تبھی ہم وہاں سے بھاگ گئے۔ماہی کلس کر سوچنے لگی۔
میں اپنے گاؤں آیا ہوں۔شازل نے بتایا
اوو مجھے کیوں نہیں بتایا تمہیں پتا ہے نہ مجھے کتنا شوق ہے تمہارا گاؤں دیکھنے کا۔عائشہ خفگی بھرے لہجے میں بولی۔
تمہیں شوق ہوگا گاؤں دیکھنے لگا مگر گاؤں کو شوق نہیں جو تمہارے بھاری قدموں کا بوجھ برداشت کرے۔ماہی کے ہاتھوں کی حرکت تیز سے تیز ہوتی جارہی تھی جس سے شازل کو اپنے سر کا درد کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا محسوس ہورہا تھا تبھی اُس نے ماہی کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر اُس کو روک لیا۔
نیکسٹ ٹائیم تمہیں انفارم کروں گا ابھی میں مصروف ہوں پھر بات کرتا ہوں۔شازل اُس کو جواب دیتا کال کٹ کرگیا۔
کیا؟شازل کال کٹ کرتا ماہی کو دیکھنے لگا تو اُس نے کہا
وہی تو میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کیا؟میرے سر سے کونسی جنگِ عزیم لڑنے کا اِرادہ ہے۔شازل کی بات پہ ماہی شرمندہ ہوگئ۔
اب ٹھیک سے دباؤں گی۔ماہی نے کہا
نہیں ضرورت کوئی۔شازل نے سرجھٹک کر کہا
اچھا نہ ناراض تو نہ سچی میں پیار سے دباؤں گی۔ماہی نے اصرار کیا تو شازل اُس کو دیکھتا خاموشی سے اُس کی گود میں سر رکھتا لیٹ گیا جس پہ ماہی جتنا حیران ہوتی اُتنا کم تھا۔
مجھے سکون چاہیے اِس لیے خاموش رہو تاکہ میں سوجاؤں۔شازل اُس کے بالوں کی لٹ اپنے ہاتھ کی انگلی میں لپیٹتا بولا
شازل کیا کوئی بات ہے جو آپ کو پریشان کررہی ہے آج جرگہ تھا نہ کیا ہوا پھر وہاں؟ماہی اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی پوچھنے لگی۔
تمہارا اندازہ ٹھیک تھی ماہی۔شازل بس اتنا بولا
کونسا اندازہ؟ماہی سمجھ نہیں پائی۔
یہی کے آروش کا تعلق پٹھان خاندان سے لگتا ہے وہ واقع پٹھان خاندان سے ہے۔شازل کے چہرے پہ اُداسی سے بھرپور مسکراہٹ آئی۔
یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟ماہی کے ہاتھ ساکت ہوئے تھے شازل کی بات سن کر۔
یہ سچ ہے پورے گاؤں کو یہ بات پتا چل گئ ہے حویلی میں بھی پھیل جائے گی۔شازل گہری سانس لیکر بولا
وہ تو آپ کی بہن ہے نہ؟ماہی پریشانی سے بولی
وہ میری بہن ہے مگر شھباز شاہ کی بیٹی نہیں ہے۔شازل کی بات پہ ماہی شازل کو بس دیکھتی رہ گئ جس کے چہرے کے تاثرات بہت افسردہ تھے۔
آپ آروش سے بہت پیار کرتے ہیں اگر جو آپ بول رہے ہیں وہ سچ ہے تو میں آپ کی تکلیف محسوس کرسکتی ہوں یہ نہیں کہوں گی بلکہ میں بس آپ کی تکلیف کا اندازہ لگاسکتی ہوں محسوس نہیں کرسکتی کیونکہ کوئی بھی انسان تب تک کسی کی تکلیف محسوس نہیں کرسکتا جب تک وہ خود اُس تکلیف سے نہ گُزرا ہو۔ماہی آہستہ آواز میں بولی مگر تب تک شازل گہری نیند میں چلاگیا تھا۔
آپ کو میں نے ہمیشہ بولتے اور مسکراتے دیکھا ہے پلیز اب بھی پہلے جیسے بن جائے یہ سنجیدگی یہ خاموشی آپ پہ تھوڑی بھی سوٹ نہیں کررہی۔ماہی نے شازل کو سوتا پایا تو اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیتی اُس کے کان کے پاس آکر سرگوشی نما آواز میں بولی۔







آروش مرے مرے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں آئی تو حریم کو سونے کے بجائے نماز پڑھتا دیکھا تو وہ خاموشی سے آکر بیڈ کی پائینی پہ بیٹھ گئ۔
حریم نماز پڑھنے سے فارغ ہوئی تو خود بھی آروش کے پاس فاصلے پہ بیٹھ گئ اُس کی نظر آروش کے چہرے پہ ابھی نہیں پڑی تھی۔
آپ نے ٹھیک کہا تھا بعض دفع مشکلات اللہ اِس لیے نہیں دیتا کے وہ ناراض ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر اُس کو آزماتا ہے کے اُس کا بندہ اُس کی دی ہوئی آزمائش سے کجھ سِیکھتا ہے یا مزید اُس سے غافل ہوجاتا ہے وہ چاہتا ہے اُس کے بندے اُس کو یاد کرے آپ کو پتا ہے آپی پہلے ہم نماز وقت پہ نہیں پڑھتے تھے فجر والی نماز تو ہم نے کبھی پڑھی ہی نہیں نیند عزیز ہوتی تھی نماز سے مگر ایک دلچسپ بات بتاؤں کیا اُس حادثے سے ہم نے کجھ سیکھا ہو یا نہ ہو نماز پانچ وقت کی وقت پہ ادا کرنا ضرور سِیکھا ہے پہلے ہم اللہ سے ناراض تھے کے اُنہوں نے ہمیں ایسی مشکل میں کیوں ڈالا پر ایک آیت ہمارے ذہن میں آئی جس میں لکھا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں کو اُس کی برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا پھر بہت سی خبریں جو کبھی ہم نے ایسے ہی دیکھی ہوں جس میں نیوز چینل والے بتاتے ہیں آج نو سال بچی کے ساتھ زیادتی کا حادثہ پیش آیا اُس کی لاش بیچ سڑک پہ برہنہ حالت میں ملی تو کبھی یہ سُننے کو ملتا ہے آج اِس جھنگل میں لڑکی کے ساتھ یہ واقع پیش آیا جس کو اپنی دردندگی کے نشانہ بنانے کے بعد فلاں نے یہاں پھینک دی کبھی معلوم ہوتا ہے ناکام عاشق نے محبت نہ ملنے پہ ایک معصوم لڑکی کے چہرے پہ تیزاب پھینک دیا اگر ہم اِن باتوں کو مدعے نظر کر اپنے بارے میں سوچے تو ہمارے ساتھ جو ہوا وہ کرنے والا ہمارا اپنا محرم انسان تھا ہمارا غم اگر بڑا ہے تو اُن کا پہاڑ جیسا ہے جن کے ساتھ زنا کرنے کے بعد بھی چین نہیں آتا تو بے دردی سے قتل کردیتے ہیں اُن پہ کیا گُزرتی ہوگی اُن کے ماں باپ پہ کیا گُزرتی ہوگی جب اُن کو ایسی باتیں پتا چلتی ہوگی اپنی بیٹیوں کے معاملے پہ کاش ہمارا معاشرہ جتنی محنت بیٹیوں کی پرورش میں کرتا اُس کا آدھا حصہ بیٹوں کی تربیت میں لگائے جیسے بیٹیوں کو حُکم دیتے ہیں سر سے ڈوپٹہ نہ اُترے کسی غیر مرد کے سامنے ویسے ہی اپنے بیٹوں سے بھی کہا اگر کوئی لڑکی سامنے سے گُزرے تو بیٹا عزت سے اُس کو راستہ دینا اپنی نگاہیں نیچے رکھنا بیٹیوں پہ اکثر بہت پابندیاں ہوتی ہیں کاش کجھ پابندیاں بیٹوں پہ بھی کرے تو زیادہ نہیں تو کم معصوم لڑکیوں اور بچیوں کی عصمت پامال ہونے سے بج جائے ماں باپ کو چاہیے وہ اپنے بیٹے کی ہر ایکٹویٹی پہ نظر رکھے وہ کس سے ملتا جُلتا ہے اُس کی دوستی کس قسم کے لڑکوں سے ہے بیٹوں کو کیوں اتنی چھوٹ دیتے ہیں؟ کیوں اُن کو آزادی دیتے ہیں اتنی؟کہتے ہیں یہ معاشرہ مردوں کا ہے تو کوئی اُن سے پوچھے اگر سب کجھ مردوں کو ہے تو اللہ نے عورت جیسی رحمت کیوں پیدا کی؟”حریم بہت سنجیدہ انداز میں اپنے دل کا حال کھولتی بہت گہری باتیں کرگئ۔”آروش گردن موڑ کر اُس کو دیکھنے لگی جس کا چہرہ بے رونق سا تھا ہمیشہ والی شوخی چنچلاپن کا نام ونشان تک نہیں تھا۔”حریم کو دیکھ کر آروش کو اپنا غم چھوٹا لگنے لگا اور ایک حریم تھی جس کو اپنا غم دوسروں کے سامنے چھوٹا لگ رہا تھا وہ سمجھ نہیں پارہی تھی اصل زیادتی ہوئی کس کے ساتھ ہے؟حریم کے ساتھ؟جس کو جب زندگی کے خوبصورت رنگوں سے روشناس ہونا تھا تو قسمت نے دُنیا کا بھیانک روپ اُس کے سامنے کرکے اُس کے خود کے رنگ چھین لیے تھے یا اُس کے ساتھ جس کی چوبیس سال زندگی اپنی اصل شُناخت کے بغیر گُزری تھی۔
کہاں سے سِکھی ہیں یہ باتیں؟آروش غور سے اُس کا چہرہ دیکھ کر بولی
بہت پہلے سیکھی تھی مگر جب خود پہ آئی ہے تو غور بھی کرنے لگی ہوں پہلے سُنتی تھی کسی کی بھی زندگی پرفیکٹ مکمل نہیں ہوتی مگر اب واقع یقین تک آگیا ہے کے ہاں زندگی میں کجھ بھی پرفیکٹ مکمل نہیں ہوتا سب کجھ مل بھی جائے تو کسی نہ کسی چیز کی حسرت رہ جاتی ہے۔حریم کے چہرے پہ اتنے وقت بعد مسکراہٹ آئی تھی مگر اُداسی سے بھرپور تھی۔
سب کجھ ٹھیک ہوجائے گا بس اچھے کی اُمید رکھو۔آروش اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی۔
اُمیدیں رکھنا چھوڑدیا ہے ہم نے کیونکہ جب اُمیدیں ٹوٹتی ہیں تو اُن کے ٹوٹنے کی آواز روح تک گھائل کردیتی ہیں۔حریم نے آج آروش کو اپنی باتوں سے لاجواب کردیا تھا۔






تجھے پکا یقین ہے یہی وہ شخص ہے جس نے میرے جانے کے بعد دلدار شاہ کا قتل کیا تھا؟ذہن اپنے ہاتھ میں موجود موبائل پہ ایک تصویر دیکھتا اپنے دوست ساجد سے بولا
سؤ فیصد یقین ہے پر معاف کرنا یار میں نے اتنا وقت برباد کردیا پر میں بھی کیا کرتا مجبور تھا اپنے باپ اور بیوی کے سامنے۔ساجد نے تھوڑا شرمندہ ہوکر کہا
کوئی بات نہیں بس یہ شخص ہے کون اور اِس نے کیوں قتل کیا دلدار شاہ کا یہ بات معلوم ہوجائے گا مگر مسئلہ یہ ہے کے پہلے اِس شخص کو ڈھونڈنا پڑے گا۔ذین پرسوچ نگاہوں سے اُس تصویر کو دیکھتا ہوا بولا
اُس کے لیے توں کیوں فکرمند ہورہا ہے شازل شاہ سے بول آخر کو اُس کے چچا زاد بھائی کا اصل قاتل یہی ہے اُپر سے وہ خود وکیل ہے اچھے سے سب سنبھال لے گا اُس کو پتا ہوگا کیسے مجرم کو سامنے لانا ہے۔ساجد نے پرجوش آواز میں کہا
وہ شازل شاہ وکیل ہے پر کافی نان سیریس آدمی ہے وہ کیسے مجرم کو پکڑے گا وکیل ہے پولیس یا ایجنٹ نہیں مجھے خود کجھ کرنا پڑے گا۔ذین کو ساجد کی بات ٹھیک نہیں لگی۔
توں پھر کونسا پولیس یا ایجنسی کا بندہ ہے دیکھ شازل کی پہلی مُلاقات کا اثر نہ لے وہ بہت کام کا انسان ہے ہر کیس وہ جیتا ہے جس میں بھی ہاتھ ڈالتا ہے سب سے دلچسپ کام وہ غریبوں کے کیس لیتا ہے کیونکہ اُن کے پاس پئسے نہیں ہوتے کوئی اچھا سا وکیل ہائیر کرنے کے لیے تو وہ ایسے اُن لوگوں کی مدد کرلیتا ہے ورنہ خود سوچ اُس کو کیا ضروری ہے وکیل بننے کی زمیندار کا بیٹا ہے جو گاؤں کا سرپنج ہے وہ اگر نان سیریس رہتا ہے تو اپنی عادت سے مجبور ہے ورنہ اپنے پیشے سے وہ بہت سیریس مخلص انسان ہے بہت نام ہے اُس کا شہر میں بس میسنا بنتا ہے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی اُس کی کیونکہ وہ لگنے نہیں دیتا بھلا توں خود سوچ وہ صرف شہر کیوں رہتا ہے؟”اتنی بڑی حویلی ہے اُس کی پر وہ اسلام آباد کے تین کمروں کے فلیٹ میں رہتا ہے اپنے کام کی وجہ سے وہ وہاں ہوتا ہے۔ساجد نے شازل کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرلیے۔
جتنی تعریف تم کررہے ہو دیکھنے میں تو وہ اُس کے مستحق نہیں لگتا میں نے تو یہی سُنا ہے کے وہ عیاشی کرتا ہے شہر میں بہت غلط لوگوں سے اُس کا اُٹھنا بیٹھنا ہے۔ذین سرجھٹک کر بولا
جتنے لوگ اُتنی زبانیں اُن کو چھوڑ میری بات مان اور شازل سے رابطہ کر آخر کو تم اپنی بہن بھی تو لینی ہے اُن سے۔ساجد کی یہ بات ذین کے دل پہ لگی۔
ہممم میں کرتا ہوں اُس سے رابطہ مگر یار کیا ہے ابھی وہ کسی اور باتوں کی وجہ سے پریشان ہے ایسے میں مجھے نہیں لگتا شازل کو دلدار شاہ کے معاملے میں کوئی انٹرسٹ ہوگا کیونکہ اِس بار وہ اپنی بہن کی وجہ سے ٹینس ہوگا۔ذین کجھ سوچ کر کہا
پھر تو یہ اچھا موقع ہوا نہ وہ پریشان ہے تم جو کہو گے وہ مان لے گا اگر تم کہو گے مجھے اپنی بہن چاہیے تو وہ کجھ نہیں بولے گا کیونکہ کہی نہ کہی اُس کو بھی لگتا ہے کے اصل قاتل کوئی اور ہے۔ساجد نے کہا
میں نے کہا تھا وہ نان سیریس ہے یہ نہیں کہا تھا کے وہ بیوقوف ہے۔ذین کوفت سے بولا
تم بات کرو پھر خود پتا چلے گا۔ساجد نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے کہا تو ذین سوچ میں پڑگیا۔







حریم ٹھیک سے کھانا کھاؤ کمزور ہوگئ ہو پہلے ہی۔آروش نے حریم کو ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتے دیکھا تو کہا
آپی ہمارا دل متلا رہا ہے مزید نہیں کھایا جائے گا۔حریم کھانے سے ہاتھ کھینچ کر بولی۔
ایسے کیسے تم نے کجھ کھایا ہی نہیں حریم تم نے دوائی بھی کھانی ہوتی ہے اِس لیے خیال کرو اپنا۔آروش فکرمندی سے بولی۔
اگر کجھ کھانا نہیں چاہتی تو یہ دودہ پیو۔فاریہ بیگم اُس کے لیے دودہ کا گلاس لاتی اُس سے بولی۔
ہاں یہ
دور کرے۔آروش فاریہ بیگم سے دودہ کا گلاس لیتی حریم کو پِلانے والی تھی جب وہ دودہ کا گلاس دور کرتی منہ پہ ہاتھ رکھتی واشروم کی جانب بھاگی۔
حریم
حریم
کیا ہوا؟آروش پریشانی سے واشروم کے دروازے کے پاس کھڑی اُس کو آوازیں دینے لگی مگر وہاں سے حریم کوئی جواب نہیں آیا
حریم کیا تم ٹھیک ہو؟آروش کی پریشانی کم ہونے کو نہیں آرہی تھی۔
چچی آپ دیکھے حریم کو جانے کیا ہوا؟آروش فاریہ بیگم سے بولی جن کی پرسوچ نظریں واشروم کے دروازے پہ ٹِکی ہوئی تھی۔
ہ م۔ہم۔ٹ ٹھیک ہیں۔حریم واشروم کا دروازہ کھولتی نڈھال حالت میں باہر آئی۔
یااللہ حریم دیکھو کیسی پیلی رنگت ہوگئ ہے تمہاری ٹھیک سے اپنا خیال کیوں نہیں کرتی۔آروش جلدی سے آگے بڑھتی اُس کو سہارا دیتی بولی۔
حریم بیٹے یہاں آؤ بیٹھو آرام سے۔فاریہ بیگم حریم کو بیڈ پہ بیٹھاتی اُس پہ چادر ٹھیک کرنے لگی۔
آروش تم کسی ملازمہ سے کہو عبداللہ صاحب کی بیگم کو بُلا کر لائے۔فاریہ بیگم حریم کا ماتھا چومتی آروش سے بولی
وہ جو دوائیاں لِکھتی ہیں؟آروش نے اندازہ لگایا۔
ہاں وہی جلدی سے کہو ملازمہ سے۔فاریہ بیگم نے کہا
ہم ٹھیک ہے آپ کسی کو مت بُلائے۔حریم نے اُن کو رُوکنا چاہا
ضروری ہے بیٹا تم خاموش رہو۔فاریہ بیگم نے اُس کو پیار سے ڈپٹا۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
آرام سے کہا جارہی ہو بھاگ کر؟دُرید شاہ نے آروش کو اتنا عجلت میں دیکھا تو فورن سے سامنے آتا بولا
لالہ وہ حریم کو قے آئی
حریم کو قے آئی تھی اگر اُس کی طبیعت خراب تھی تو پہلے مجھے بتانا چاہیے تو میں اُس کو ڈاکٹر کے پاس لیکر جاتا۔آروش کجھ بتانے والی تھی جب اُس سے پہلے دُرید درمیان میں اُس کی بات کاٹ کر بولا
وہ شہر کیسے جاسکتی ہے لالہ۔آروش نے یاد کروایا۔
میں کجھ نہیں جانتا تم بس اُس کو تیار کرو میں گاڑی میں تم دونوں کا انتظار کررہا ہوں۔دُرید سنجیدگی سے بولا۔
بابا سائیں ناراض ہوگے۔آروش نے کہا
تم ہوگی تو کجھ نہیں کہے گے ویسے بھی اُن کے کہے مطابق میں دو ماہ سے حریم کے سامنے نہیں آیا مگر اب اُس کی طبیعت اگر خراب ہے تو میں کوئی رِسک نہیں لے سکتا۔دُرید کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔
حریم کو راضی کرتی ہوں۔آروش تھکی ہوئی سانس خارج کرتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
