Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 58)Part 2

Haal e Dil by Rimsha Hussain

السلام علیکم۔ارمان مسکراکر فجر کو دیکھ کر بولا

تم یہاں کیوں آئے ہو؟ فجر اُس کو دیکھ کر حیران ہوئی جب کی ارمان ہمیشہ اچانک سے ہی آیا کرتا تھا۔

سلام کا جواب دینا ہر مسلمان پہ فرض ہے۔ ارمان نے جیسے یاد کروایا

وعلیکم السلام اب بتاؤ کیوں یہاں بار بار ٹپک پڑتے ہو؟فجر نے گھور کر کہا

میں تو یامین کے لیے آیا تھا وہ مجھے یاد کررہا ہوگا۔ارمان نے اپنے آنے کا مقصد بتایا

وہ تمہیں یاد نہیں کرتا اِس لیے تم اُس کی عادتیں مت بِگاڑو۔فجر نے سنجیدگی سے کہا

میں کیوں اُس کی عادتیں بگاڑنے لگا آپ پلیز اُس کو بتائے میں آیا ہوں۔ ارمان نے اتنا ہی کہا تھا جب یامین خود بھاگتا اُس کے پاس پہنچا

السلام علیکم چاچو۔ یامین ارمان کے پاس کھڑا ہوکر بولا تو فجر نے اُس کو گھورا جب کی ارمان شرارتی نظروں سے فجر کو دیکھ کر یامین کو گود میں اُٹھاکر اُس کے گالوں پہ بوسہ دینے لگا۔

یامین اندر جاؤ۔فجر یامین کو دیکھ کر بولی

مجھے چاچو کے ساتھ پارک جانا ہے۔یامین اپنے بازوں ارمان کے گلے میں حائل کرتا نروٹھے پن سے بولا

چاچو لاحول ولاقوة چیمپئن میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا مجھے ماموں اور چاچو مت بولا بلکہ پارٹنر بولا کرو۔ یامین کے “چاچو” لفظ پہ ارمان نے اب غور کیا تو جلدی سے یامین کو ٹوک کر بولا۔کیونکہ وہ چاچو بولتا یا ماموں ایسے تو وہ یا یمان کا بھائی بنتا یا فجر یہ دونوں نام اُس گنوارا نہیں تھے کیونکہ یمان بھی تو فجر کا بھائی تھا۔

اوکے پارٹنر۔یامین فرمانبرداری کے تمام رکارڈ توڑ کر بولا

مجھے پتا ہے تم نے آگے چل کر بہت ترقی کرنی ہے۔ ارمان تو واری صدقے ہوا اُس کے۔

فجر کبھی ارمان کو گھورتی تو کبھی اپنے بیٹے کو جنہوں نے اُس کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہوا تھا۔

میں بڑا ہوکر ڈاکٹر بنوں گا پھر ماموں یمان کی بیٹی سے شادی کروں گا۔ یامین کی بات پہ جہاں ارمان کا مُنہ حیرت سے کُھلا تھا وہی فجر بھی سٹپٹائی تھی۔

پہلے ماموں کی شادی تو ہونے دو جن کی شادی کا دور دور تک کوئی نام تو کیا مجھے تو ہلکہ سا نشان بھی نہیں آتا اور تم نے ابھی سے اُن کی بیٹی پہ نظر رکھی ہوئی ہے جو اِس دنیا میں آئی ہی نہیں ہے۔ ارمان جھرجھری لیکر بولا تو یامین نے منہ بسورا

امی کہتی ہیں اگر میں کوئی شرارت نہیں کروں گا اچھا بچہ بن کر رہوں گا تو میری دولہن ماموں یمان کی بیٹی ہوگی اور اُس کے بھی بہت پیارے پیارے ڈمپلز ہوگے۔یامین کی صفائی گوئی فجر کو پہلو بدلنے پہ مجبور کرگئ۔ارمان اپنی نظریں یامین سے ہٹاتا فجر کو دیکھنے لگا جو یہاں وہاں دیکھ کر خود کو لاتعلق ظاہر کررہی تھی۔

میری بات آپ لکھ کے رکھ لے یامین کی شادی کی عمر ہوجائے گی اُس کے بعد آپ کے بھائی کو خود کی شادی کا خیال آئے گا تو کیا یامین اُن کی بیٹی سے شادی کرے گا یا گود میں لیکر ایڈاپٹ کرے گا۔ ارمان کی بات پہ یامین کو اُس کی ساری بات تو سمجھ نہیں آئی تھی مگر جو سمجھ آئی تھی اُس پہ یامین کا منہ اُترگیا۔

تمہیں تو پارک لیکر جانا تھا یامین کو۔ فجر نے بات بدلنا چاہی۔

وہ تو ہم جائے گے مگر آپ ذرہ اِس بچے پہ رحم کرے۔ ارمان نے جیسے قسم اُٹھائی تھی آج فجر کو شرمندہ کرنے کی

تمہیں کیا مسئلہ ہے میرا بیٹا ہے یہ اور مرضی جو میں اُس سے کہوں تمہیں کیا پتا کتنا ناک میں دم کرتا ہے میرے ایک ہی اِس کی دُکھتی رگ ہے۔ فجر اپنی خجلت مٹانے کے غرض سے بولی

بڑا افسوس ہوا جان کر تم نے ساری عمر کنوارہ رہنا ہے۔ ارمان رحم بھری نظروں سے یامین کو دیکھ کر بولا تو اُس نے ہونٹ باہر نکال کر رونی شکل بنائی۔

انسان کی شکل اچھی نہ ہو تو کوئی بات ہی اچھی کرلے اور یہ تم کیا میرے بیٹے کو پٹی پڑھا رہے ہو۔فجر طنزیہ لہجے میں کہتی آخر میں سخت لہجے میں بول پڑی

پٹی تو آپ پڑھا رہی ہیں خیر وی آر گیٹنگ لیٹ تو گُڈ بائے۔ ارمان ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر اُس کو بولا

یمان کے اسسٹنٹ تبھی لحاظ کررہی ہو۔ فجر نے جتایا

جی شکر ہے کسی کے لیے تو لحاظ کیا۔ ارمان منہ بسور کر کہتا گیٹ عبور کرگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کو آروش سے ایک مرتبہ بات کرلینی چاہیے۔ رات کے پہر کلثوم بیگم نے شھباز شاہ سے کہا جن کی آنکھوں سے نیند کوسو دور تھی۔

ہممم سوچ رہا ہوں کروں اُس سے بات بہت ناراض ہوگی وہ۔ شھباز شاہ گہری سانس بھر کر بولے۔

جتنی بھی ناراض وہ ہو اگر آپ اُس کو خود سے کال کرینگے تو وہ سب کجھ بھول جائے گی۔ کلثوم بیگم نے کہا

جانتا ہوں بہت وقت ہوگیا ہے اُس کو حویلی سے گئے اب تو میرا دل بھی مچلتا ہے اُس سے بات کرنے کو۔ شھباز شاہ نے دل کی بات کی۔

پھر جلدی بات کیجئے گا۔ کلثوم بیگم نے کہا تو شھباز شاہ نے سر کو جنبش دی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج ایونٹ تھا جس میں دلاور نے ہر کسی کو انوائٹ کیا تھا ان کی اسلام آباد میں واپسی کل رات ہوئی تھی جب کی ایونٹ کا سارا انتظام ارمان نے کیا ہوا تھا اُس کے کام سے دلاور خان کافی مطمئن ہوئے تھے۔ مہمانوں کی آمد رفت جاری تھی میڈیا والوں کا بھی ایک ہجوم اکھٹا ہوا تھا ہر کوئی دلاور خان کی چھوٹی بیٹی آروش سے ملنا چاہتا تھا جس کو انہوں نے اتنے سالوں تک کسی سے ذکر تک نہیں کیا تھا۔

زرفشاں زر نور زرگل نور زوبیہ بیگم یہ سب تیار ہوکر مہمانوں سے ملنے میں لگی ہوئی تھی جب کی آروش ابھی تک نیچے نہیں آئی تھی اور نہ اُس کو اتنے مہمانوں کی خبر تھی۔

بلیک گول گلے والی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز پینٹ پہنے جب کی ایک ہاتھ میں سیم بلیک لیدر کی جیکٹ پکڑے یمان جیسے ہی ریلنگ کے پاس سے گُزرتا اُس کی نظر نیچے لوگوں کا اتنا رش اور آمد رفت دیکھنے میں پڑی تو اُس کو اپنی بینائی پہ شک ہوا۔ وہ جیکٹ بازوں پہ رکھتا حیرت سے ہر ایک کو دیکھنے لگا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب نیچے کیا ہورہا ہے۔

میڈیا والوں نے اُس کو دیکھا تو چاروں طرف سے گھیرلیا یمان اپنا آپ اُن سے بڑی مشکل سے بچاتا دلاور خان کی طرف پہنچا

ڈیڈ یہ سب کیا ہے؟ یمان دلاور خان سے آہستہ آواز میں مخاطب ہوا۔

سرپرائز کیسا لگا؟ دلاور خان ہاتھوں میں وائن کا گلاس پکڑے گرمجوشی سے اُس کے ساتھ مل کر بولے

ایسا سرپرائز کیوں اور کس لیے؟ یمان ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگا۔

یہ سارا کجھ میں نے اپنی بیٹی آروش کے لیے کیا ہے اُس کو منظرِ عام پہ لانا چاہتا ہوں جیسے ہی سب کو پتا چلا ہے میری ایک اور بیٹی بھی ہے سب بیتا ہوگئے ہیں اُس سے ملنے کے لیے اب بس آروش کے آنے کی دیر ہے۔ دلاور خان آس پاس لوگوں کی جانب اِشارہ کرتا اُس کو بتانے لگے۔

اُن کو پتا ہے یہ بات اور اگر پتا ہے تو کیا وہ مان گئ؟ یمان نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا

کہاں یہ سب تو آروش کے لیے سرپرائز ہے میں تو بس یہ سوچ رہا ہوں وہ کتنا خوش ہوگی یہ سب دیکھ کر اُس کو آج پتا چلے گا میں اُس سے کتنا پیار کرتا ہوں وہ جب یہاں آئے گی تو دیکھے گی یہ سب تیاریاں کے کیسے میں نے پئسا پانی کی طرح بہایا ہے۔ دلاور خان نے کہا تو یمان بس اُن کو دیکھتا رہ گیا اُس کو پتا تھا آروش کو یہ سب پسند نہیں آئے گا۔

ڈیڈ آپ ایک مرتبہ اُن سے پوچھ لیتے ی

خان یہاں کیا کررہے ہیں آپ مسٹر فیضی یاد کررہے ہیں آؤ گیسٹ سے ملو۔یمان کجھ کہنے والا تھا جب زوبیہ بیگم اُن دونوں کی طرف آتی دلاور خان سے بولی تو وہ اُن کے ساتھ چل پڑے جبکی یمان کی بات درمیان میں رہ گئ تھی۔یمان اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آپ موٹی ہوگئ ہیں۔

آروش یمان کا خریدہ ہوا وائٹ گاؤن پہنے ہوئے آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی جب اُس کے کانوں میں یمان کا جُملا گونجا تھا اُس نے غور سے ہر اینگل سے اپنا جائزہ لیا۔جہاں وہ وائٹ گاؤن کے ساتھ سیم حجاب کیے بنا کسی کے میک اپ کے شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی اُس کو کہی سے بھی اپنا آپ موٹا نہیں لگا۔

نظر خراب ہے اُس کی۔آروش جھرجھری لیکر بڑبڑائی۔

صبح زوبیہ بیگم اُس کو نیٹ والی ساڑھی پہن کر نیچے آنے کا کہتی چلی گئ تھی اُس کو نہیں تھا پتا کے زوبیہ بیگم نے کیوں تیار ہوکر جلدی آنے کا کہا تھا مگر جو بھی تھا اُس کو ساڑھی پسند نہیں آئی تھی بلکہ یہ گاؤن آیا تھا تبھی وہ پہن کر تیار ہوگئ تھی۔

اب جاتی ہوں پتا نہیں کیا بات ہے؟آروش بیڈ سے وائٹ کلر کا بڑا سا ڈوپٹہ اُٹھاتی کمرے سے باہر جانے لگی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یمان اپنی پیشانی مسلتا بار بار ایونٹ میں آئے اتنے سارے لوگوں کو دیکھ رہا تھا جہاں مرد حضرات بھی تھے میڈیا والوں کا ہجوم الگ سے تھا اُپر سے دلاور خان کا کہنا آروش کو کجھ نہیں پتا اُس کے لیے سرپرائز ہے وہ جب یہاں آئے گی تو پتا چلے گا۔یہ بات یمان کو پریشانی میں مبتلا کررہا تھا وہ اِن سب کو دیکھتا آروش کے پاس جانے کا سوچ رہا تھا۔جب ایک آواز اُس کے کانوں میں پڑی

وہ رہی میری سسٹر۔یمان نے اپنا سر اُٹھا کر اُپر کی جانب دیکھا تو آنکھوں میں سرد پن ڈور آیا جہاں آروش اپنے ڈوپٹے کے ساتھ اُلجھتی آروش ہر چیز سے بے نیاز سیڑھیوں سے چند قدم ہی دور تھی۔اُس سے پہلے کوئی اور مرد اُس کو دیکھتا یا میڈیا والے اپنے کیمرے کا رخ اُس کی جانب کرتے۔یمان سب کجھ فراموش کیے اُس کی طرف بھاگنے لگا تو سب حیرت اور تعجب سے یمان کو دیکھنے لگے۔

آروش کی نظر اپنی طرف بھاگ کر آتے یمان پہ پڑی تو اُس کے چلنے کی رفتار مدھم ہوئی تھی وہ ناسمجھی سے یمان کو دیکھ رہی تھی اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اِشاروں کِناروں سے وہ کیا بات اُس کو باور کروا رہا تھا۔

جائے یہاں سے۔یمان تیز قدموں سے اُس تک بھاگ کر آتا کہنے لگا تو آروش بس اُس کا چہرہ تکنے لگی جو ڈھال بن کر اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا آروش اُس کے پیچھے دیکھنے والی تھی جب یمان نے بے ساختہ اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر وہاں دیکھنے سے باز رکھا تھا۔

آپ کو میری بات سمجھ نہیں آرہی میں نے کہا اندر جائے۔۔۔۔۔یمان کا پہلی بار اُس سے بات کرتے ہوئے لہجہ سخت ہوگیا تھا جس کو محسوس کیے آروش کو بھی پہلی بار اُس سے ڈر لگنے لگا تھا۔ٹھیک اُسی وقت ہال میں موجود سب لوگوں کی چہ مگوئیاں تیز ہوتی گئ جس کو سن کر آروش کو جیسے سارا کجھ سمجھ آگیا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش اپنے چہرے پہ نقاب کرتی اپنے قدم واپسی کی جانب لیتی جلدی سے جو کمرہ اُس کو سمجھ آیا وہ اُس میں چلی گئ۔

آروش کے جانے کے بعد یمان کی جیسے اٙٹکی سانس بحال ہوئی اُس نے پلٹ کر نیچے ہال میں دیکھا جہاں سب خاموش سے ہوگئے تھے ہر ایک کی آنکھوں میں سوال تھا کوئی آپس میں چہ مگوئیاں کررہا تھا تو کوئی اپنے تیئے اندازے لگارہا تھا جب کی میڈیا والوں کو یہ تھا انہوں نے کیوں ایک بھی تصویر ٹھیک سے کیچ نہیں کی۔

سوری ٹو سے گائیز مگر ایونٹ کا احتتام ہوگیا ہے آپ لوگ یہاں آئے اُس کے لیے بہت بہت شکریہ پر اب آپ جاسکتے ہیں۔ یمان سب پہ ایک نظر ڈالتا تیز آواز میں بولا تو زوبیہ بیگم دلاور خان ہر کوئی ساکت سا یمان کو دیکھنے لگے جو اُن کو پوری طرف سے نظرانداز کیے ہوئے تھا

یمان یہ سب کیا کہہ رہے ہو؟ دلاور خان نے اُس کو ٹوکا

ارمان باہر کا گیٹ پوری طرح سے کُھلوادو تاکہ کسی کو جانے میں کوئی دکت نہ ہو۔یمان فلحال دلاور خان کی بات نظرانداز کرتا ارمان سے بولا تو سب لوگ باتیں بناتے باری باری چلتے جارہے تھے۔ زر فشاں زرگل نے انہیں روکنا چاہا مگر نے سود

کیا ہوگیا ہے تمہیں یمان ؟اندازہ ہے تمہیں کتنی انسلٹ ہوئی ہے ہماری تمہاری اِس حرکت کی وجہ سے باہر میڈیا والے جان کیا بکواس کررہے ہوگے ہمارے بارے میں۔ سب کے جانے کے بعد دلاور خان نے یمان کو جھڑکا

یہ سوال تو ڈیڈ مجھے آپ سے کرنا چاہیے یہ کیا کرنے والے تھے آپ؟ آپ جانتے ہیں وہ پردہ کرتی ہیں اُس کے باوجود بھی آپ نے اتنے سارے لوگوں کو انوائٹ کیا میڈیا تک کو بلوایا اگر اُن کی ایک بھی تصویر نیوز پہ آتی اُن کو پردہ ٹوٹ سکتا تھا۔ یمان نے سب کو افسوس کرتی نظروں سے دیکھ کر کہا

پردہ پردہ واٹ پردہ؟ آجکل کے زمانے میں ایسا کجھ نہیں ہوتا اسپیشلی وہاں جہاں ہم موو آن کرتے ہیں ہماری سوسائٹی میں ایسی چیزوں کو جاہلیت کا نام دیا جاتا ہے۔زوبیہ بیگم یمان کی بات پہ بولی

ہمیں زمانے کی سوچ سے نہیں اپنے دین کی نظر سے سوچنا چاہیے۔ یمان نے سنجیدگی سے کہا

دیکھو یمان آج تم مجھے بہت ڈس پوائنٹ کیا ہے لوگ کیا کہے گے دلاور خان جس کی فلمیں سینما میں دھوم مچاتی ہے جو خوبصورت اور مشہور ماڈلز کو کاسٹ کرتا ہے وہ خود کی بیٹی کو یوں چُھپانا چاہتا ہے زمانے ایسے تو میرے کریئر پہ یہ باتیں اثرانداز ہونے لگے گی۔ دلاور خان نے افسوس سے یمان کو دیکھ کر کہا

آپ زمانے کے بارے میں اور اُس زمانے میں رہنے والوں کی سوچ اور باتوں کا خیال اپنے دماغ سے نکال کر یہ سوچے آپ کی اپنی بیٹی کیا سوچے گی؟ آپ کو اُن کو اپنے اعتماد میں لینے کے بجائے خود سے دور کررہے ہیں۔ یمان نے اُن کو سمجھانا چاہا

آروش سے تو میں بات کرتی ہوں وہ کیوں یہ ضد باندھ بیٹھی ہیں۔ زوبیہ بیگم اتنا کہتی سیڑھیوں کی جانب جانے لگی تو وہ چاروں بھی اپنی ماں پیچھے گئ جب کی یمان اور دلاور ہال میں موجود تھے۔

وہ آگئ تھی یمان مگر تم نے اُس کو جانے کیا کہا جو وہ واپس چلی گئ اگر تم بیچ میں نہ آتے تو اب سب نارمل ہوتا۔ دلاور خان اپنی مسلتے یمان سے بولے۔

کجھ بھی نارمل نہ ہوتا ڈیڈ۔ یمان نے کہا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آروش کا وجود ہلکہ ہلکہ کانپ رہا تھا اُس کو سوچ سوچ کر خوف آرہا تھا اگر درمیان میں یمان نہ آیا ہوتا تو اُس کی تصاویریں میڈیا پہ ہر طرف پھیلی ہوئی ہوتی۔یہ سوچ آتے ہی اُس کے وجود میں سرد لہر ڈور گئ۔ وہ ابھی اپنی سوچو میں تھی جب کمرے میں زوبیہ بیگم آئی۔

آروش تم کیوں چلی آئی یہاں؟ زوبیہ بیگم کے سوال پہ آروش نے زخمی نظروں سے اُن کو دیکھا

آپ کو پتا تھا مجھے یہ سب نہیں پسند پھر بھی آپ لوگوں نے یہ کیا؟ آروش اُن نے روبرو کھڑتی ہوتی بولی

دیکھو آروش ہم تو تمہیں سرپرائز دینا چاہ رہے تھے پر تم ایسا رویہ اختیار کر رہی ہو ہم چاہتے تھے تم خوش ہوجاؤ تمہیں پتا لگے ہم سب بہت پیار کرتے ہیں تم سے۔زرگل اُس کا رخ اپنی جانب کیے بولی

پیار؟خوش؟آپ لوگوں کو لگا میں ایسی چیزوں سے خوش ہوجاؤں گی؟آروش طنزیہ انداز میں ہنسی

کجھ غلط نہیں تھا وہ سب تم اگر آجاتی تو ہم سب کو اچھا لگتا تمہیں بھی اچھا لگتا یہ سب آجکل نارم ہیں تم بھی نارمل وے پہ دیکھو۔زوبیہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا

میں ایسا کجھ نہیں چاہتی اور آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے اِن سب کے لیے فورس نہ کیا جائے۔ آروش اُن کے آگے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر بولی

آروش میں تمہاری ماں ہوں تمہیں میری بات کا پاس رکھنا ہوگا اِس لیے کل تم میرے ساتھ گیدرنگ میں چل رہی ہو وہ ڈریس پہن کر جو آج صبح میں نے تمہیں دی تھی۔ زوبیہ بیگم نے حکیمہ لہجہ اختیار کیا۔

کیسی ماں ہیں آپ جو خود اپنی بیٹی کو بے پردہ کرنا چاہتی ہیں۔ اب کی اُن کی بات پہ آروش تقریباً چیخ پڑی

آروش۔ زرفشاں جو اب تک خاموش تھی آروش کو یوں بات کرتا دیکھا تو اُس کو ٹوکنا چاہا

کیا آروش؟ ہاں کیا آروش؟ میں آپ کی نظر میں ہوں کیا ایک کٹھ پتلی جس کو پچیس سال پہلے کسی اور کے حوالے کرتے ہیں آپ پھر جب دل چاہا واپس بلوالیا کسی نے یہ نہیں سوچا میں کیا چاہتی ہو؟ مجھے اپنے اصل والدین کے پاس جانا بھی ہے یا نہیں میری خوشی کسی کو نظر نہیں آتی ہر کو اپنی پڑی ہے کسی کو امانت واپس لینی ہے تو کسی کو امانت واپس دے کر دیانتدار بننا ہے اپنا سر خرو کرنا چاہتا ہے۔ آروش بولنے پہ آئی تو بولتی چلی گئ۔

بدتمیزی مت کرو۔ زرفشاں کو سمجھ نہیں آیا وہ کیسے اُس کو خاموش کروائے جب کی زوبیہ اور باقی سب حیرت سے گنگ اُس کو دیکھنے لگے۔

آپ لوگ میری زات کے ساتھ مزاق کرنا بند کرے جو یہاں میرے بابا ہے انہوں نے کہا آروش تم پردہ مت کرو سیدہ نہیں ہو پٹھان ہو تو آج میں کہتی ہوں میرے سامنے کسی اُس پٹھان مرد کو لائے جو اپنے گھر کی عورتوں سے کہتا ہو تم سر پہ ڈوپٹہ نہ لو ننگے سر رہو میں نے تو سُنا تھا پٹھان لوگ غصے کے بہت تیز ہوتے ہیں بہت غیرتمند ہوتے ہیں اگر کوئی اُن کی عورت کا نام بھی لے تو مرنے مارنے پہ اُتر آتے ہیں تو یہاں کا کیسا نظام ہے؟ میں تھوکتی

چٹاخ

آروش جو بنا سانس لیے بولتی جارہی تھی اُس کی باتوں پہ زوبیہ بیگم کا ہاتھ بے ساختہ اُٹھ کر اُس کے گال پہ نشان چھوڑگیا تھا۔

آروش اپنے گال پہ ہاتھ رکھتی بے یقین نظروں سے زوبیہ بیگم کو دیکھنے لگی جن کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا۔

اتنی بداخلاقی یہ تربیت کی ہے پچیس سالو

میری تربیت پہ سوال مت اُٹھائے جانتی کیا ہیں آپ تربیت کے بارے میں؟آپ کی نظریں میں یہ تربیت ہیں؟ آروش اُن کی بات درمیان کاٹ کر زرفشاں کی طرف اِشارہ کرنے لگی جو مغربی سلیولیس لباس میں ملبوس تھی۔

تین بچوں کی ماں کو ایسا لباس زیب نہیں دیتا کبھی فرصت ملے تو ترجمے سے قرآن پڑھیے گا پتا چلے گا ہمارا اللہ ہم مسلمان عورتوں کو کیا حُکم دیتا ہے۔ مجھے میری اماں سائیں نے اِس ٹکڑے کی اہمیت بتائی تھی تب جب میں محض دس سال کی تھی۔آروش نے اپنا حجاب اُتار کر اُن کے سامنے کیا۔

انہوں نے کہا تھا آروش تم اب جوان ہوگئ ہو کبھی خود کو ننگے سر مت ہونے دینا ہمیشہ حجاب میں رہنا میں تو اپنے لالہ اور اپنے بابا سائیں کے سامنے بھی بغیر ڈوپٹے کے نہیں گئے تو نامحرم مردوں کے سامنے کیسے اپنی نمائش کرو اللہ نے اپنے محرم کے لیے پردے کا حکم دیا ہے تو سوچے اگر میں نامحرم کے سامنے جاؤں گی تو کتنا عذاب نازل ہوگا مجھ پہ۔آروش تھک ہار کر بیڈ پہ بیٹھتی اپنا سر ہاتھوں میں گِرالیا۔

ابھی تم نئ ہو آہستہ آہستہ ہمارے ماحول میں ایڈجسٹ کرلوں گی۔ زوبیہ بیگم کو جیسے اُس کی اتنی باتوں پہ رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا

سوچ ہے آپ کی نہ اماں سائیں بابا سائیں کی تربیت اتنی کمزور ہے اور نہ میرا ایمان۔ آروش کا لہجہ بے لچک تھا۔ زوبیہ بیگم ایک سنجیدہ نظر اُس پہ ڈال کر کمرے سے باہر چلی گئ۔ جب کی اُن کی باتوں سے آروش کا دل زخمی ہوگیا تھا اُن سب کے جانے کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ پورے کمرے میں اُس کی سسکیاں گونجنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *