Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 32)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 32)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
کیا ہوا؟ چلو۔شازل نے اُس کو ہلتا جُلتا نہ دیکھا تو کہا
وہ میں سوچ رہی تھی سبزیاں پسند ہے تو پسند ہیں اِس وقت کھانے کی یا مقابلے کی کیا ضرورت ہے۔ماہی نے بات سنبھالنا چاہی۔
بلکل ضرورت ہے آؤ۔شازل اُس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا اپنے ساتھ لیکر جانے لگا۔
گھر میں بھنڈیاں اور کریلے نہیں ہے۔ماہی اُس کی تلقین میں چلتی بتانے لگی
ہیں فریج میں۔شازل نے مزے سے بتایا
یہ لو تم ترتیب سے کریلے اور بھنڈیاں کٹ کرو میں تب تک آتا گوند لیتا ہوں۔کہنیوں کے کف فولڈ کرکے شازل نے جان بوجھ کر ماہی کو یہ کام دیا۔
آٹا میں گوندہ لوں گی آپ اپنا ضروری کام کریں۔ماہی نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا وہ سمجھ گئ تھی اب راہِ فرار ممکن نہیں
تم نے کیا مجھے ظالم شوہر سمجھا ہوا ہے جو خود آرام سے بیٹھ کر بیوی سے کام کروائے گا۔شازل نے مصنوعی افسوس سے کہا۔
ایسی بات نہیں۔ماہی نے فورن سے کہا
ایسی بات نہیں تو وہ کرو جو کہا ہے۔شازل نے بنا تاخیر کیے بولا تو ماہی بے دلی سے سبزیاں کاٹنے لگی۔
اور بنو شوہر کی فرمانبردار بیوی اور ملاؤ شوہر کی ہاں میں ہاں۔سبزیاں کاٹنے کے درمیان وہ دانت کچکچا کر سوچنے لگی۔






حریم یہ تمہارے نکاح کا جوڑا اور کجھ دیگر سامان ہیں۔فاریہ بیگم حریم کے کمرے میں آتی اُس کی جانب ایک بیگ بڑھاکر بولی
مامی جان ہمیں یہ شادی نہیں کرنی۔حریم نے نم آنکھوں سے اُن کو دیکھ کر کہا
بچے مانا تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتی مگر ایک نہ ایک دن تو شادی ہونی ہے نہ اِس لیے دل چھوٹا نہ کرو۔فاریہ بیگم اُس کی اندر کی کیفیت سے بے نیاز سمجھانے لگی۔
ہمیں تابش لالہ سے نہیں دُر لہ سے شادی کرنی ہے۔حریم کی بات پہ فاریہ بیگم کا ہاتھ منہ پہ پڑا
حریم کیا پاگل ہوگئ ہو یہ کیا بات کہی تم نے خبردار جو دوبارہ ایسا کجھ کہا بھی۔فاریہ بیگم نے اُس کو جھڑکا۔
کیوں مامی جان آخر کیوں اِس میں قباحت کیا ہے ہمیں دُر لا سے محبت اور سب ہماری محبت کو گناہ کیوں بنارہے ہیں۔حریم نے روتے ہوئے کہا
حریم روؤ مت بیٹا یہ سب قسمت کا کھیل ہے دُرید شاہ کبھی تمہیں نہیں اپنائے گا وہ سینے میں دل کے بجائے پتھر لیکر گھومتا ہے اگر وہ تم سے شازل سے آروش سے ہنس کر بات کرلیتا ہے تو اُس کا یہ مطلب بلکل نہیں کے وہ خوش مزاج شخصیت کا مالک ہے دُرید نے ایک بار محبت کی ہے جس کا نتیجہ اُس کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا وہ تمہیں کجھ نہیں دے سکتا اُس کا ساتھ بس تمہیں تڑپائے گا بہتر ہے ابھی سے تم سنبھل جاؤ اور خوشی خوشی اِس شادی کے لیے تیاریاں کرو۔فاریہ بیگم اُس کو اپنے ساتھ لگاکر سمجھانے والے انداز میں بولی جب کی حریم کی سانسیں ایک بات پہ رُک سی گئ تھی۔ (دُرید نے ایک بار محبت کی ہے جس کا نتیجہ اُس کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا تھا)
کس سے محبت کی تھی انہوں نے؟حریم کو لگا اُس کا دل بند ہوجائے گا وہ اتنی بے خبر کیسے ہوسکتی تھی آخر دُرید شاہ کے معاملے میں
کومل نام تھا۔فاریہ بیگم افسوس بھرے لہجے میں بتانے لگی۔
تھا مطلب؟حریم ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگی۔
وہ اب اِس دنیا میں نہیں مرگئ بے چاری۔فاریہ بیگم کی بات نے جیسے اُس کے جسم میں جان پُھوک دی ہو۔
شکر ہے مرگئ ورنہ ہم اپنے ہاتھوں سے اُن کا ق*ت*ل کردیتے۔حریم جنونیت سے بولی تو فاریہ بیگم اُس کو دیکھتی رہ گئ۔
بُری بات حریم ایسا نہیں بولتے۔فاریہ بیگم نے اُس کو ٹوکا
کیوں نہ بولے ہم دُر لا اور اُن کی محبت پہ صرف اور صرف ہمارا حق ہے۔حریم بے خوف سی بولی۔
دُرید نے بہت بڑی غلطی کردی تمہیں اتنا لاڈ پیار دے کر وہ یہ تو سوچتا ایک دن تمہیں اپنے گھر بھی جانا ہے ایک دن تمہاری شادی بھی ہونی ہے۔فاریہ بیگم کو افسوس ہوا حریم کی باتیں سن کر۔







ماتھے پہ ہم نے بینڈیج کرلی ہے بس خ*وف کی وجہ سے وہ بیہوش ہوئے تھے۔ڈاکٹر نے مسکراکر یمان سے کہا تو فجر کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔
میں مل سکتی ہوں اپنے بیٹے سے؟فجر نے بے چینی سے پوچھا
شیور صبح ڈسچارج بھی مل جائے گا۔ڈاکٹر نے بتایا تو فجر فورن سے یامین کے کمرے میں گئ۔
تمہیں انگھوٹی یوں پھینکنی نہیں چاہیے تھی۔روزی نے دیوار سے پشت ٹِکائے یمان سے کہا
پریشانی میں مجھے کجھ سمجھ نہیں آیا تھا۔یمان نے جوابً کہا
یہ لو اور پہناؤ مجھے۔روزی نے انگھوٹی اُس کے سامنے کی۔
یہاں تک لائی ہو تو پہن بھی لو مجھے کجھ ضروری کام ہے۔یمان ایک نظر اُس کے ہاتھ میں موجود انگھوٹی پہ ڈال کر کہتا سائیڈ سے گُزرگیا پیچھے روزی کی شعلہ باری نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔
ہسپتال سے باہر نکلتے ہی یمان نے ایک نمبر ڈائل کیا۔
السلام علیکم سر۔دوسری طرف ارمان نے کال اُٹھاتے ہی سلام کیا۔
وعلیکم السلام کہاں ہو؟یمان نے سلام کا جواب دینے بعد پوچھا
آپ نے لاہور بھیجا تھا بھول گئے ورنہ میں تو آپ کی سالگرہ کے دن ساتھ رہنا چاہتا تھا۔ارمان شکایت بھرے انداز میں بتانے لگا۔
اچھا اگر کام ختم ہوگیا ہے تو واپس آجانا کل۔یمان نے سنجیدگی سے کہا
خیریت میرا مطلب سب ٹھیک ہے؟ارمان نے اُس کا سنجیدہ انداز نوٹ کیا تو پوچھا
آجاؤ پھر بات ہوگی۔یمان اتنا کہہ کر کال کٹ کرلی اُس کے بعد گاڑی میں بیٹھتا بے مقصد گاڑی یہاں سے وہاں چلاتا رہا تھا۔








ماہی نے اپنے سامنے سالن سے بھری پلیٹ دیکھ کر بے ساختہ تھوک نگلا جس میں سوائے بھنڈیوں اور کریلے کجھ نہیں تھا شازل نے چن چن اُس کی پلیٹ میں سبزی ڈالی تھی ماہی کو سمجھ نہیں آرہا تھا آخر آج شازل اُس سے کس بات سے بدلا لے رہا تھا اگر وہ اُس کی گئ شرارت کا بدلا لے رہا تھا تو ماہی نے توبہ کرلی تھی اُس سے پنگا لینے سے۔
کیا ہوا کھانا شروع کرو۔شازل روٹی کا نِوالہ لیتا اُس کی حالت سے لطف اندروز ہوا۔
جی کھاتی ہوں۔ماہی نے اتنا کہہ کر روٹی میں تھوڑی سی بھنڈی میکس کی پھر چبانے کے بجائے سیدھا نگل گئ۔
تمہیں پتا ہے یہ سبزی میری اور آروش کی موسٹ فیورٹ ہے ہمارے درمیان اکثر بہت لڑائی ہوتی کے کون زیادہ کھاتا ہے اور کون کم۔شازل نے کھانے کے درمیان اُس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
تبھی تو وہ اتنا کڑوا بولتی ہے۔شازل کی بات پہ اُس نے بے ساختہ سوچا۔
یہ آروش کھاتی ہے؟ماہی نے جیسے کنفرم کرنا چاہا
شوق سے بتایا جو لڑائی ہوتی ہے ہم مقابلہ بازی کرتے تھے کے کون زیادہ اور جلدی کھالیتا ہے مزے کی بات یہ ہم دونوں جیت جاتے تھے۔شازل نے مزے سے بتایا۔
آپ دونوں کی کیمسٹری بہت اچھی ہے۔ماہی نے بس یہ کہا
ہممم مجھے پتا ہے میری اور آرو کی بہت بنتی ہے ہم بھائی بہن سے زیادہ اور پہلے آپس میں بیسٹ فرینڈز ہیں ہر بات ہم ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں پر اہم بات یہ کے لڑائی بھی بہت ہوتی ہے۔شازل کے لہجے میں آروش کے لیے بے انتہا محبت تھی جس کو محسوس کرکے ماہی کو بے اختیار آروش پہ رشک سا آیا۔
کیا کبھی شازل مجھ سے بھی اتنی محبت کرے گا کیا کبھی میرے ذکر میں بھی اُس کے لہجے میں اتنی میٹھاس اور محبت ہوگی۔شازل کا خوبصورت چہرہ دیکھتی وہ خود سے سوال کرنے لگی جس کا جواب فلوقت اُس کے پاس موجود نہیں تھا۔
تم سُست کیوں ہوگئ ہو کھانے میں رُکو میں کِھیلاتا ہوں جیسے تم نے مجھے کافی پِلانے کی آفر کی تھی مگر میں آفر نہیں دے رہا کرکے بھی دیکھاؤں گا۔شازل اپنا کھانا چھوڑتا بلکل اُس کے پاس والی چیئر پہ بیٹھا تو ماہی چہرے کی ہوائیاں اُڑنے لگی۔
آپ زحمت نہیں کرے میں کھالوں گی خود ہی۔ماہی نے اُس کو نوالہ بناتے دیکھا تو فورن سے کہا
خاموش میں کِھیلا رہا ہوں نہ ویسے بھی محرم ہوں تمہارا۔شازل عام لہجے میں بولا تو ماہی کو چپ لگ گئ۔
منہ کھولوں یا وہ بھی میں کھولوں ۔شازل نوالہ اُس کے سامنے کرتا مزاحیہ لہجے میں بولا تو ماہی کو جھجھک سی ہونے لگی شازل سے۔
کیا صبح برش نہیں کیا تم نے؟جو منہ کھولنے سے کترا رہی ہو۔شازل شوخ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔
کیا ہے۔ماہی فٹ سے بولی
تو شاباش اچھے بچوں کی طرح منہ کھولوں۔شازل نے بچوں کی طرح اُس کو پچکارنے لگا۔
آپ کے ہاتھ سے تو زہر بھی خوشی خوشی کھالوں گی یہ کریلے اور بینڈی کیا چیز ہیں آپ نے جو میرے لیے کیا ہے وہ شاید ہی کوئی کسی کے لیے کرتا ہو۔ہلکہ سا منہ کھول کر ماہی نے بے ساختہ سوچا۔
آپ بھی کھائے نہ۔ماہی نے شازل کو دیکھ کر کہا
ہاں ایک منٹ؟شازل کا موبائل رِنگ کرنے لگا تو اُس نے خاموش رہنے کا اِشارہ دیا۔
ہیلو ارحم اِس وقت کال خیریت۔شازل نے کال اٹینڈ کرتے کہا
اوکے میں آتا ہوں سیریسلی میں بھول گیا تھا۔دوسری جانب جانے کیا کہا گیا تھا جب شازل اپنی آنکھوں کو زور سے میچ کر بولا ماہی غور سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی جو بات بات پہ الگ سے ایکسپریشن دے رہا تھا
کیا ہوا کس کا فون تھا؟ماہی نے شازل کے کال ڈراب کرنے بعد شازل کو اُٹھتا دیکھا تو پوچھا
میرے فرینڈ کی برتھ ڈے ہے میں وہاں جارہا ہوں تم سوجانا اوکے کافی میں کل تمہیں پلادوں گا۔بات کرتے کرتے آخر میں شازل کا لہجہ شوخ ہوا۔
ابھی تو بہت رات ہوگئ ہے۔ماہی کو یوں شازل کا جانا اچھا نہیں لگا۔
جانا بہت ضروری ہے تم میرا انتظار مت کرنا سوجانا۔شازل اُس کو ہدایت دیتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔
توبہ کتنے چلاک ہیں شازل مجھے لگا میرے پہ پیار آیا ہے مگر نہیں انہوں نے بڑی چلاکی سے خود کجھ نہیں کہا بلکہ کڑوا کریلا اور بینڈیاں مجھے کِھلائی۔ماہی کی نظریں جیسے ہی شازل کی پلیٹ پہ پڑی تو اُس کا منہ حیرت سے کھل گیا اُس کو شازل ایسی عقلمندی کی توقع نہیں۔
میرے منہ کا زائقہ ہی خراب ہوگیا ہے لگتا ہے اگین برش کرنا پڑے گا۔ماہی کو اب اپنے منہ کا زائقہ خراب محسوس ہوا جب اپنی پلیٹ پہ نظر پڑی تو جہاں شازل نے اپنی میٹھی میٹھی باتوں کے جال میں پھنساکر اُس کو ساری سبزی کِھلادی تھی۔







تم نے لگتا ہے ہم سے پردہ شروع کرلیا ہے۔شازل کلب پہنچا تو رضا اُس سے ملتا بولا
ایسی بات نہیں بس مصروف تھا کجھ۔شازل نے مسکراکر بتایا۔
شکر ہے تم آئے تو ورنہ مجھے اُمید نہیں تھی۔ارحم اُس کی جانب وائن کا گلاس بڑھا کر بولا
میں آج ڈرنک نہیں کروں گا۔شازل نے انکار کیا۔
کیوں بھئ یہ کیا بات ہوئی تم ہمیشہ ڈرنک کرتے آئے ہو تو آج کیوں نہیں۔ارحم کو شازل کے انکار پہ حیرت ہوئی۔
بیوی اپنے ساتھ لایا ہے شاید اُس نے منع کیا ہو۔رضا ارحم کے ہاتھ پہ تالی مارتا بولا تو ارحم ہنس پڑا۔
ایسی بات نہیں۔اپنے گلے موجود چین کو گھماتا لاپرواہ انداز میں بولا
تو پی نہ یار آج میرا دن ہے۔ارحم نے زبردستی اُس کے ہاتھ میں وائن کا گلاس تھمایا
ہیوی تو نہیں نہ؟شازل نے پینے سے پہلے کنفرم کرنا چاہا
تو آج ڈرنک کرنے سے ڈر کیوں رہا ہے؟ارحم اُس کے جواب پہ چڑ گیا۔
ڈر ور نہیں رہا بس ایسے ہی پوچھا۔شازل ایک ہی گھونٹ میں سارا گلاس خالی کرتا اُس سے بولا تو شازل کو احساس ہوا کے جو اُس نے ڈرنک کی ہے وہ ہیوی تھی۔
سناٹا کتنا ہے یار میوزک وغیرہ لگاؤ۔رضا نے پرجوش آواز میں کہا تو ارحم نے ڈی جے کو اِشارہ کیا۔
دوسرا گلاس دوں؟ارحم نے شازل کو بار بار آنکھیں جھپکتا دیکھا تو کہا
نہیں ایکچوئلی مجھے گھر جانا چاہیے اِس سے پہلے مجھے پہ ڈرنک کا نشہ پوری طرح سے حاوی ہو۔شازل اپنے قدم پیچھے کی جانب بڑھاتا اُس سے بولا
یار شازل کیا ہوگیا ہے کیوں ایسے بیہیو کررہے ہو کوئی پہلی بار تو تم نے پی نہیں۔ارحم کو شازل کا انداز سمجھ نہیں آرہا تھا۔
پہلے کی بات اور تھی۔شازل اتنا کہتا باہر کی جانب گیا آج اُس کو کلب میں رہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
یہ شازل واپس کیوں چلاگیا؟رضا نے حیرت سے ارحم سے کہا
پتا نہیں۔ارحم نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
کلب سے باہر نکلنے کے بعد شازل فورن سے اپنی گاڑی میں بیٹھا اُس کو بس گھر جانے کی جلدی اِس لیے گاڑی کو فل اسپیڈ میں چھوڑدیا یہ جانتے ہوئے بھی اُس کی یہ حرکت نقصان بھی دے سکتی ہے۔








یمان رات کے پہر بیچ سڑک پہ اپنی گاڑی رُکتا کھڑا تھا اُس کی سپاٹ نظریں آسمان میں موجود چاند پہ تھی وہ ابھی یہ دیکھنے میں لگا ہوا تھا جب ٹ*ھاہ کی آواز سے اُس کی گاڑی سے کسی اپنی گاڑی ٹھوکی تھی یمان اگر اپنی گاڑی سے کجھ دور کھڑا نہ ہوتا تو یقین وہ اپنا بیلنس برقرار نہیں رکھ پاتا۔
آپ ٹھیک ہیں؟یمان نے گاڑی سے کسی کو اُترتا نہیں دیکھا تو پاس جاتا ونڈو پہ نوک کرتا پوچھنے لگا۔
ہاں میں ٹھیک ہوں۔دوسری طرف شازل جو سامنے کھڑی گاڑی دیکھ نہیں پایا تھا تبھی اُس گاڑی ٹکراؤ ہوگیا تھا اُس نے بچانے کی کوشش کی مگر تب تک دیر ہوچکی تھی اُس نے اپنے پاس کسی کی بھاری آواز سُنی تو ونڈو کھولتا اُس کو جواب دینے لگا اُس کا سر بُری طرح سے چکرارہا تھا وائن آہستہ آہستہ اُس پہ اثر کررہی تھی۔
آپ نے ڈرنک کی ہے؟یمان کی نظروں میں ناگواریت بھرے تاثرات نمایاں ہوئے اُس کو یہ چہرہ دیکھا دیکھا سا لگا مگر اُس نے زیادہ توجہ نہ دی۔
ہاں کیا تم نے کبھی نہیں کی؟شازل کی آواز لڑکھڑا سی گئ۔
الحمداللہ نہیں خیر آئے میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں اِس حالت میں آپ کا ڈرائیو کرنا سیو نہیں۔یمان نے کہا
میں کونسا تمہارے چچا کا پُتر ہوں جو میری مدد کررہے ہو۔شازل نے ہنس کر کہا
انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے۔یمان نے جتایا
اوکے اگر تم اتنا انسسٹ کررہے ہو تو چھوڑ آؤ میری بیگم گھر میں اکیلی ہے۔شازل سیٹ بیلٹ کھولتا جیسے اُس پہ احسان کرنے لگا۔
جی بڑی مہربانی آپ نے مجھے شرف بخشا۔یمان نے میٹھا سا طنزیہ کیا( اگر اُس کو معلوم ہوتا وہ آروش کا بھائی ہے تو ایسے بات کرنے کا سوچتا بھی نہ)
آرام سے۔یمان نے اُس کو گِرتا دیکھا تو جلدی سے اُس کے پاس آیا
اپنے گھر کا ایڈریس بتائے؟یمان نے اُس کو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھانے کے بعد خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آیا گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے اُس نے ایڈریس پوچھنا لازمی سمجھا
بلو ورلڈ سِٹی۔شازل ٹھوڑی پہ انگلی رکھتا پرسوچ لہجے میں بولا
بلو ورلڈ سِٹی میں بس آپ کا گھر تو نہیں ہوگا نہ۔یمان نے گہری سانس بھر کر کہا
تم گاڑی تو چلاؤ سوسائٹی بتائی ہے تو گھر بھی بتادوں گا پریشان کیوں ہوتے ہو۔شازل مکمل طور پہ اپنے حواس کھو رہا تھا یمان نے اُس کی بات سن کر غور سے اُس کی جانب دیکھا دیکھنے میں وہ اُس کو بہت میچیور اور پڑھا لکھا لگا مگر جب وہ بات کررہا تھا تو کہی سے بھی میچیورٹی نظر نہیں آئی شاید اُس کی وجہ نشے میں ہونا تھا شازل نے ٹھیک سے اپنے گھر کا پتا بھی دے دیا تھا مگر جانے کیوں یمان کو شازل جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔
ایسے غور سے مت دیکھو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں میری چمڑی چاہے جتنی بھی گوری ہو پر خوبصورتی میں تم مجھ سے زیادہ پیارے ہو۔شازل نے اُس کی نظریں خود پہ محسوس کی تو شریر لہجے میں بولا
مجھے ایسی کوئی خوشفہمی نہیں اور نہ میں ایسا کجھ سوچ رہا تھا۔یمان سرجھٹک کر بولا اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کوئی اتنا سیلف کونشئس بھی ہوسکتا ہے کم سے کم اُس کو کسی لڑکے سے ایسی اُمید نہیں تھی کے وہ اپنے سمارٹنس کی بات کرے گا اُس کے خیال میں رنگت اور خوبصورتی کی بات صرف لڑکیاں ہی کیا کرتی ہوگی۔
خوشفہمی کہاں میں تو تمہاری تعریف کررہا ہوں تمہیں خوش ہونا چاہیے ورنہ آج تک میں نے اپنی بیوی کی بھی تعریف نہیں کی۔شازل نے بتایا۔
تمہارا گھر آگیا۔یمان نے گاڑی کو بریک لگاتا بولا
شکریہ شکریہ ویسے تمہارا نام کیا ہے؟شازل کو اچانک نام پوچھنے کا خیال آیا۔
یمان مستقیم۔یمان نے بتایا
بہت اچھا ہے نام تمہاری شخصیت سے میل کھاتا ہے ویسے میرا نام سید شازل شاہ ہے۔شازل سیٹ بیلٹ کھول کر بولا۔
نائیس نیم۔یمان نے مروتً کہا
اوکے میں چلتا ہوں پھر ملے گے۔شازل گاڑی سے باہر نکلتا ہاتھ ہلاتا اُس سے بولا تو یمان نے گاڑی ریورس کی۔
آپ اتنی جلدی واپس آگئے۔ماہی نے شازل کو سیڑھیاں چڑھتا دیکھا تو تعجب سے پوچھا اُس کے خیال میں شازل جیسی باتیں کرکے گیا تھا اب اُس نے دیر واپس آنا ہوگا۔
ہممم۔شازل اتنا کہتا سیڑھیان چڑھنے لگا جب اُس کے قدم لڑکھڑا سے گئے جس کو دیکھ کر ماہی بھاگ کر اُس کے پاس جانے لگی
آپ ٹھیک ہیں۔ماہی نے پریشانی سے پوچھا
ہاں میں ٹھیک ہوں۔شازل اُس سے کجھ فاصلہ کیے بولا تو ماہی کو شازل کے منہ سے عجیب قسم کی بوء محسوس ہوئی۔
شازل آپ نے ش”راب پی ہے؟ماہی کے لہجے میں افسوس تھا وہ بھی سوچ بھی نہیں سکتی شازل کسی حرام چیز کو منہ بھی لگاسکتا ہے۔
ہاں مجھے تو عادت ہے پینے کی پر تمہیں پتا ہے آج میرے کمینے دوست نے زبردستی مجھے پِلائی ورنہ میرا پینے کا دل نہیں تھا۔شازل کمرے میں داخل ہوتا اُس کو بتانے لگا۔
میں آپ کے لیے لیموں پانی لاتی ہوں پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ماہی کو اچانک خیال آیا تو وہ اُس کو بتاکر جانے لگی جب شازل نے اُس کی کلائی پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔
کہاں جارہی ہو مجھے چھوڑ کر۔شازل اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا معصوم شکل بنائے بولا مگر اُس کے لہجے میں بے قراری صاف عیاں تھی جو اُس کے اتنے پاس آنے کی وجہ سے گھبراہٹ کا شکار ہوتی ماہی محسوس نہیں کرپائی۔
آپ کے لیے لیموں پانی لینے۔ماہی نے سوکھے لبوں پہ زبان پھیر کر بتایا اُس کو شازل کی حالت جاننے کے بعد باوجود بھی کمرے داخل ہونا اپنا بے وقوفانہ عمل لگا تھا۔
مجھے نہیں چاہیے پلیز تم مجھے چھوڑ کر مت جاؤ مجھے کسی لیموں کی ضرورت نہیں ہے۔شازل اُس کو اپنے سینے سے لگاتا التجائیہ انداز میں بولا تو ماہی کا دل زور سے دھڑکا اُس نے شازل کو خود سے دور کرنا چاہا مگر اُس کی گرفت مضبوط تھی جس کو محسوس کرکے تھک ہار کر ماہی نے اپنا آپ شازل کے حوالے کردیا
