Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 66)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 66)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
آپریش میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ڈاکٹر حمید نے سنجیدگی سے دلاور خان سے کہا
یمان ہوش میں ہیں؟دلاور خان اُن کی بات پہ پوچھنے لگے۔
ابھی آیا ہے مگر ایسے یمان کی یاداشت کا مسئلہ ہوجائے گا اب اگر مزید تاخیر ہوئی تو اور کیا پتا پھر آپریش بھی کام نہ آئے۔ڈاکٹر نے کہا
تو آپ کرے نہ انتظار کس چیز کا ہے۔زوبیہ بیگم نے کہا
پیشنٹ راضی ہے۔ڈاکٹر حمید نے کہا
میں بات کرتا ہوں یمان سے۔دلاور خان اُن سے کہتے یمان کی طرف جانے لگے جہاں اُس کو رکھا گیا تھا۔
یمان ضد چھوڑدو اور مان جاؤ کیونکہ اب تم جو وجہ بنا رہے ہو نہ وہ بھی تمہیں یاد نہیں آئے گی پوری طرح سے تمہارے حواسوں سے آروش نکل جائے گی۔دلاور خان نے اپنی طرف سے ایک کوشش کی تو یمان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
مسکرا کیوں رہے ہو؟دلاور خان کو اِس وقت اِس حالت میں اُس کا مسکرانا پسند نہیں آیا
اُن سے تعلق دل کا ہے حواسوں سے نکل بھی جائے تو دل میں ہمیشہ رہے گی۔یمان کے جواب پہ دلاور خان بس اُس کو دیکھتے رہ گئے۔
تمہارا آپریش ہوگا اور اب بہت سن لی تمہاری پاگلوں والی باتیں۔دلاور خان نے سخت لہجہ اختیار کیا۔
نہیں بلکل بھی نہیں جب تک وہ مجھ سے نکاح نہیں کرلیتی میں آپریشن نہیں کرواؤں گا۔یمان تیز آواز میں کہنا چاہ رہا تھا مگر ایسے اپنے دماغ میں اُس کو ٹیسے اُٹھتی محسوس ہو رہی تھی۔
چہرہ دیکھو اپنا مرجھایا گیا ہے رنگت دیکھو اپنی جو پیلی ہوگئ ہے اور اِس حالت میں تمہیں نکاح کی سوجھ رہی ہے کجھ ہوش ہے تمہیں۔دلاور خان نے اُس کی ایک ہی رٹ سن کر زچ ہوئے۔
آپریشن میں میرے بچپنے کا چانسز مرنے سے کم ہیں اور مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگ رہا یہ برحق ہے مگر وہ کسی اور کی ہوجائے گی کہتے ہیں جو اِس دُنیا میں نہیں ملتے وہ اُس دُنیا میں مل جاتے ہیں تاعمر کے لیے پر ڈیڈ اُس دنیا میں ملنے کے لیے اِس دُنیا میں نکاح ہونا تو ضروری ہے نہ اگر نکاح ہوجائے گا تو میں سکون سے مرجاؤں گا پر ایسے نہیں مرنا چاہتا۔یمان بے بسی سے اُن سے بولا تو دلاور خان حق دق اُس کی باتیں سُنتے رہے جس کی سوچ جانے کہاں تک پہنچ گئ تھی۔
یمان تم پاگل ہو۔دلاور خان نے کہا
آپ اُن کو یہاں بلوادے۔یمان نے اُن کیا بات نظرانداز کی۔
وہ آگئ ہے۔ارمان کی آواز پہ چونک کر دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں عبایا پہنے آروش کھڑی تھی اُس کو دیکھ کر یمان کے چہرے پہ جہاں سکون اُترا تھا وہی اُس کی بھیگی آنکھوں نے اُس کو پریشانی میں مبتلا کیا تھا۔
میں آتا ہوں۔دلاور خان اُن دونوں کو وقت دینے کا سوچتے وہاں سے چلے گئے تو ارمان بھی اُن کے پیچھے چلاگیا۔اُن کے جانے کے بعد آروش آہستہ سے چلتی یمان کے پاس آئی۔
آپ روئی ہیں؟یمان نے فکرمندی سے دیکھا تو آروش نے اپنے چہرے سے نقاب اُتارا تو اُس کی سرخ ناک دیکھ کر یمان کی فکر میں اُضافہ ہوا اُس نے ایک بات شدت سے نوٹ کی تھی کے اب آروش اُس کے سامنے اپنا چہرہ نہیں ڈانپتی تھی شروع کے دن کے علاوہ وہ اب ایسے ہی اُس سے بات کرلیا کرتی تھی۔
آپریشن کے لیے مان جاؤ یمان۔آروش نے پہلی بار لب کُشائی کی۔
آپ نکاح کے لیے مان جائے۔یمان اُس کے ہی انداز میں بولا تو آروش نے نظریں اُٹھا کر اُس کو دیکھا جس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی آروش کو اُس دن والا یمان یاد آیا جب اُس نے کچن میں اُس کو دیکھا تھا تب کتنا مختلف تھا یمان اور آج کتنا مختلف لگ رہا تھا۔
تمہیں لگ رہا ہے میں کسی اور سے شادی کرلوں گی تو ایسا نہیں ہے میں نہیں کروں گی کسی سے بھی شادی تم بس آپریشن کے لیے رضامند ہوجاؤ۔آروش نے اُس کو سمجھانا چاہا
میری رضامندی آپ کی رضامندی سے جڑی ہے۔یمان کی بات پہ آروش نے بے بسی سے اُس کو دیکھا
ٹھیک ہے میں کرلیتی ہوں نکاح۔آروش نے ایک ہی منٹ میں فیصلہ کیا تو یمان نے بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔
کبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا
میرا عشق اُن کی چاہت میرا شوق اُن پہ مرنا
آپ مذاق کررہی ہیں؟بہت دیر بعد یمان بس یہی بول پایا
نہیں بابا سائیں دُرید لالہ شازل لالہ آجائے اُس کے بعد جو تم چاہتے ہو وہ ہوگا۔آروش اتنا کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
آپ دل سے راضی ہیں نہ؟یمان نے اُس کو جاتا دیکھا تو پوچھا
تمہارے لیے نکاح کا ضروری ہونا چاہیے میری رضامندی کا نہیں۔آروش اُس کو جواب دیتی باہر نکل گئ۔
باہر آتے اُس نے سب کو اپنا فیصلہ سُنادیا تھا جس پہ سب کے چہروں پہ طمانیت چھاگئ تھی۔دلاور خان آروش کے کہنے پہ شھباز شاہ کو کال کرنے لگے اور ارمان اُن سب پہ ایک نظر ڈال کر الگ حصے میں آیا اور ایک نمبر ڈائل کیا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے کال کرنے کی۔دوسری طرف فجر کال اُٹھاتے ہی اُس پہ برس پڑی۔
اسلام آباد کی پہلی فلائٹ بُک کرے خود بھی آئے اور اپنی بہن اور اپنے اُن کے بچوں کو بھی لائے۔ارمان مسکراہٹ دبائے بولا
کس خوشی میں؟فجر نے بیزاری سے پوچھا
آپ کے بھائی کا نکاح ہورہا ہے نکاح میں شرکت نہ سہی مبارک باد دینے آجائے۔ارمان نے کہا
یمان کا نکاح؟فجر بے یقین نہیں ہوئی۔
جی آجائے ایئرپورٹ پہ ریسیو کرنے کے لیے یہ بندہ بشر حاضر ہوگا۔ارمان نے مزے سے کہا
یمان کا نکاح ہوتا آج تو یہ بات وہ خود مجھے بتایا ابھی دو دن پہلے ہی میری اُس سے بات ہوئی تھی اُس نے کہا کے وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اور آج یہاں تم مجھے اُس کے نکاح کا بتارہے ہو۔فجر کو یقین نہ آیا
فلحال اُنہیں کسی چیز کا ہوش نہیں اِس لیے یہ خبر میں نے آپ کو سُنادی آپ اِسے غنیمت جانے اور آجائے پھر یہ شکوہ مت کیجئے گا کے کسی نے بتایا نہیں۔ارمان نے گہری سانس خارج کرکے بتایا۔
یمان ٹھیک تو ہے؟فجر پریشان ہوئی۔
جی وہ خود تو ٹھیک ہے بس کسی اور کو ٹھیک رہنے نہیں دیتے کہاں میں اپنے بچوں کے خواب دیکھ رہا تھا اور سر نے چپ کے چپ کے اپنے ٹانکے فِٹ کردیئے۔ارمان نے افسوس بھرے لہجے میں کہا
تمہیں تو میں وہاں آکر سیٹ کرتی ہوں۔فجر کو اچانک یاد آیا تو جل کر کہا
جلدی سے سیٹ کردے میں آپ کے انتظار میں ہوں۔ارمان بے خوفی سے بولا تو فجر تپ کے کال کٹ کرگئ۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
نکاح ہوجائے اب۔دلاور خان نے آروش سے کہا
بابا سائیں اور لالہ نہیں آئے وہ آجاتے پہلے تو اچھا تھا۔آروش نے بس یہ کہا
ان کے آنے میں ابھی وقت لگ جائے گا خیر سے ولیمہ ہوگا تو وہ ساتھ ہوگے۔دلاور خان اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے تو آروش خاموش ہوگئ۔جس کو سب لوگ رضامندی جان کر خوش ہوئے۔دلاور خان نے ارمان سے امام صاحب کو یہاں آنے کا کہا آروش جو یمان کے وارڈ میں بیٹھی تھی زوبیہ بیگم نے اُس کے سر پہ لال ڈوپٹہ پہنا دیا۔یمان کی خوشی کا آج کوئی ٹِھکانا نہیں تھا آخر کار آج اُس کی خواہش پوری ہونے جارہی تھی جس کا اُس نے بہت عرصے سے انتظار کیا تھا۔کجھ ہی وقت میں امام صاحب گواہوں کے ساتھ آگئے تھے اور نکاح کے کلمات پڑھنا شروع ہوئے۔
آپ آروش خان ولد دلاور خان ‘یمان مستقیم ولد مستقیم احمر کو ایک کڑور روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔
عقل سے پیدل نہیں ہوں سمجھدار ہوں تبھی تو آپ کا انتظار کیا۔
قبول ہے۔
آروش نے آہستہ آواز میں اپنی رضامندی ظاہر کی تو یمان جو گردن موڑ کر اُس کو ہی دیکھ رہا تھا اُس کی ہلکی آواز سن کر مسکرادیا۔
آپ آروش خان ولد دلاور خان ‘یمان مستقیم ولد مستقیم احمر کو ایک کڑور روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔
“کس کس چیز کا علاج کرواؤ دل کا جو آپ کو چاہتا ہے؟دماغ کا جو ایک سیکنڈ کے لیے بھی آپ کے خیالوں سے غافل نہیں ہوتا”؟
قبول ہے۔
اُس کے آس پاس یمان کے جُملوں کی بازگشت ہونے لگی جس پہ وہ اپنی آنکھوں کو بند کرتی امام صاحب کے دوسری بار پوچھنے پہ دوبارہ سے “قبول ہے”کہہ گئ۔
آپ آروش خان ولد دلاور خان ‘یمان مستقیم ولد مستقیم احمر کو ایک کڑور روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے
“مجھے پتا ہے آپ حیران ہو رہی ہوگی مگر مسلمان ہونے کی صورت میں اتنا مجھے بھی پتا ہے کے کسی نامحرم کو چھونا بہت بڑا گُناہ ہے اُس کا ہاتھ بھی نہیں پکڑنا چاہیے چاہے آپ میری محبت ہیں مگر مجھے آپ کا احترام ہے اللہ گواہ ہے میں نے کبھی آپ کو بُری نظر سے نہیں دیکھا اُس دن جو ایونٹ میں ہوا تھا وہ سب بے اختیاری میں ہوا تھا وگرنہ یقین جانے میں ایسا کجھ نہیں کرتا۔”
قبول ہے!
تیسری بار پہ بھی اُس نے قبول ہے کہہ دیا تو یمان نے پرسکون ہوکر اپنی آنکھون کو بند کرکے کھولا تھا آج اُس کی محبت پاکیزہ محبت میں بدل گئ تھی جس کو وہ چاہتا تھا وہ اُس کے ساتھ حلال رشتے میں جڑگئ تھی۔
امام صاحب نے پھر جب یمان سے پوچھا تو اُس نے بھی بے چینی سے قبول ہے کہہ دیا دلاور خان اور زوبیہ بیگم اُس کے چہرے کی رونق دیکھ کر خوشی کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔
مبارک ہو۔نور آروش کو اپنے ساتھ لگائے خوشی سے بولی مگر آروش خاموش رہی۔
ناراض ہو؟میں جانتی ہوں میں نے تمہیں بہت کجھ کہہ دیا تھا پر تم ایک بات پہ ضد کرکے بیٹھ گئ تھی تو میں اور کیا کرتی۔نور نے اُس کو خاموش دیکھا تو کہا
میں کسی سے ناراض نہیں ہوں۔آروش نے بس یہ کہا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°′°°°°°°°°
آپ سے کجھ بات کرنا چاہتا ہوں۔یمان نے آروش کو دیکھ کر مسکراکر کہا تو آروش اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کے پاس آتی اسٹول پہ بیٹھ گئ باقی سے باہر چلے گئے تھے اب بس وہ دونوں تھے۔
کیا بات؟آروش نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔یمان نے بتایا
جانتی ہوں۔آروش تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی تو یمان ہنس پڑا
کیا میں آپ کا ہاتھ پکڑ سکتا ہوں؟یمان نے اُس کو دیکھ کر اِجازت چاہی تو آروش نے خود ہی اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا
میں جانتا ہوں آپ خوش نہیں میں بہت بُرا لگتا ہوں آپ کو۔یمان اُس کے ہاتھ کی پشت سہلاتا کہنے لگا۔
ایسا نہیں ہے۔آروش کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تو یمان نے سراُٹھا کر اُس کو دیکھا
پھر کیسا ہے آپ بتائے؟یمان نے بے چینی سے پوچھا۔
تم مجھے کالج لائیف سے ہی بُرے کبھی نہیں لگے تھے بس میں جس خاندان سے تعلق رکھتی تھی ایسے میں تمہارا میرے لیے ایسے میں جذبات رکھنا بہت بُرا لگتا تھا۔آروش نے کہا
ایک بات بتاؤ مجھے یقین نہیں آرہا کے اب آپ میری آپ پہ صرف میرا حق ہے اب کوئی آپ کو مجھ سے دور نہیں کرسکتا۔یمان نے محبت بھرے لہجے میں کہا
تم مجھے آپ کیوں کہتے ہو؟ تم کہہ کر بھی مخاطب کرسکتے ہو۔آروش نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو یمان سوچ میں پڑگیا
پتا نہیں۔یمان بہت دیر سوچنے کے بعد بولا تو آروش نے اُس کو گھورا
آج تمہارا آپریشن ہوگا۔آروش نے بتایا
جانتا ہوں مگر میں اب پرسکون ہوں۔یمان نے جوابً کہا
کیا تمہیں میں کبھی بُری نہیں لگی میرا بار بار تمہیں یوں دھتکارنا چڑ نہیں دینے لگا؟آروش نے اُس کو دیکھ کر پوچھا جس کی نظریں اُس کے ہاتھ پہ تھیں
تکلیف ہوتی تھی یہاں۔یمان نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کے مقام پہ رکھا تو آروش کجھ بولنے کے قابل نہ رہی۔
اگر میں بدصورت ہوتی تو؟آروش نے اُس کی والہانہ نظروں سے بچپنے کے لیے دوسرا سوال کیا
تو بھی میں آپ سے ایسی محبت کرتا کیونکہ مجھے آپ کے چہرے سے محبت نہیں ہوئی تھی آپ کی پاکیزگی آپ کی حیا آپ کے گریز سے محبت ہوئی تھی جہاں سب لڑکیاں خود کو خوبصورت دیکھانے کے لیے مہنگے کپڑے پہنا کرتی تھی وہاں آپ ہر وقت عبایا اور حجاب نقاب میں رہتی تھی مجھے آپ کی یہ چیزیں بہت اٹریکٹ کرتی تھی میں چاہ کر بھی خود کو آپ سے محبت کرنے پہ روک نہیں پایا تھا۔یمان نے جواب دیا
تم پاگل ہو۔آروش کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے
اگر بچ جاؤں تو آپ ٹھیک کرلینا۔یمان نے مسکراکر کہا
ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو؟آروش کا دل دھڑکا تھا یمان کی بات پہ
خوبصورت لمحات چند پل کے لیے ہوتے ہیں نہ۔یمان نے کہا
میری نماز کا وقت ہوگیا ہے۔آروش اتنا کہتی اُٹھ کر جانے لگی مگر یمان نے اُس کے ہاتھ پہ اپنی گرفت مضبوط کی۔
کاش آپ سرجن ہوتی۔اُس کو دیکھ کر یمان نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
سرجن ہوتی تو؟آروش کو اُس کی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا
تو آج آپ میرا علاج کرتی۔یمان نے دل کی بات بیان کی۔
تم بچوں جیسی باتیں کیوں کررہے ہو؟آروش کو اب پریشانی ہونے لگی
کہیں پڑھا تھا مرد اپنی من پسند عورت کے سامنے بچہ بن جاتا ہے شاید یہ وجہ ہو۔یمان کندھے اُچکاکر بولا
اچھا تصور کروگے تو اچھا ہوگا۔آروش دوبارہ سے اُس کے پاس بیٹھ کر بولی
ُآپ ساتھ ہوگی تو یقیناً اچھا ہوگا۔یمان اُٹھ کر تھوڑا اُس کے قریب ہوا
میں جاؤں؟آروش ایک نظر اُس کو دیکھ کر اِجازت چاہی تو یمان دیر تک ہنستا رہا آروش کو اُس کا ہنسنا بُرا نہیں لگ رہا تھا وہ غور سے قریب سے اُس کے ڈمپل دیکھنے لگی۔
آپ مجھ سے اِجازت لے رہی ہیں؟سمجھ نہیں آرہا میں کیسا ری ایکشن دوں۔یمان اپنی ہنسی ضبط کرتا بولا
اوور ہونے کی ضرورت نہیں۔آروش نے ٹوکا
ہاں اب لگی نہ آپ کھڑوس سی آروش۔یمان نے اُس کی آنکھوں میں غصہ دیکھا تو کہا
تمہیں میں کھڑوس لگتی ہوں؟آروش کا حیرت سے منہ کُھل گیا
صرف کھڑوس کیا سنگدل بے رحمی کا مظاہرہ کیا ہے آپ نے میرے معاملے میں۔یمان نے مزید کہا
تو تم نے بھی تو اپنی ضد منوالی نہ۔آروش نے منہ کے زاویئے بگاڑے
میں نے اپنی ضد نہیں منوائی میں نے بس اپنی محبت پائی ہے۔یمان نے خوشی خوشی جواب دیا۔
ہاتھ چھوڑو مجھے اب باہر جانا ہے اور تمہیں یاد کروادوں یہ ہوسپٹل ہے۔آروش نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے چھڑوانا چاہا مگر یمان کی گرفت مضبوط تھی۔
ہممم کافی ایڈوینچر بھرے انداز میں ہمارا نکاح بھی ہاسپٹل میں ہوا ہے۔یمان نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر کہا
ہاتھ چھوڑو۔آروش نے اُس کو آنکھیں دیکھائی
دل نہیں چاہ رہا بڑی مشکل سے تو میرے ہاتھ میں آپ کا ہاتھ آیا ہے۔یمان نے کہا
مجھے نماز پڑھنی ہے۔آروش نے بہانا تراشا
عِشا کی نماز میں وقت ہے۔یمان نے اُس کا بہانا ٹال دیا
مجھے تمہارے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینا ہی نہیں چاہیے تھا۔آروش بُری طرح سے زچ ہوئی کیونکہ یمان کی پکڑ اُس کے ہاتھ پہ مضبوط تھی۔
ہاتھ کیا اب تو آپ پوری خود کو مجھے سونپ چُکی ہیں۔یمان نے آنکھ وِنک کیے کہا تو آروش سرتا پیر سرخ ہوئی۔
بہت ڈھیٹ انسان ہو۔آروش تھک ہار کر اپنی کوشش کو ترک کر اُس سے کہا
ایک بات بتائے سچی سچی پھر میں آپ کا ہاتھ آج کے لیے چھوڑ دوں گا۔یمان کو اُس پہ ترس آیا
کونسی بات؟آروش نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
ہم کالج میں ڈیڑ سال تک رہے تو کیا اِس وقت میں ایک دن یا ایک پل کے لیے میں آپ کو اچھا نہیں لگا میری سوچے آپ کے دماغ میں حاوی نہیں ہوئی کیا میری سوچے میری محبت کی طرح یکطرفہ تھی؟یمان اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو آروش کا دل پوری شدت سے دھڑکا تھا وہ اب اُس کو کیا بتاتی وہ کبھی اُس کی سوچو سے غافل نہیں ہوئی تھی وہ ناچاہنے کے باوجود بھی اُس کو سوچتی رہتی تھی۔
می
سچ بتائیے گا۔آروش نے کجھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے جب یمان بیچ میں بول پڑا
جب تم کالج کے کیفے ۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔میں گانا گارہے تھے تب ۔۔۔۔مجھے تم اچھے لگے۔۔۔تھے۔۔۔مگ۔۔مگر یہ میرے ۔۔۔۔۔لیے غلط۔۔۔تھا۔۔۔۔تمہاری آواز۔۔۔مجھے بہت اچھی۔۔۔۔لگی تھی۔۔۔۔۔تمہیں یاد ہو یا۔۔ نا ہو۔۔۔میں۔۔۔نے ایک۔۔۔۔چِٹ۔۔۔۔۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔لکھی۔تھی۔۔۔۔۔جو۔ ۔۔میں لکھنا نہیں چاہتی وہ۔ ۔۔۔میرا۔ ۔۔خودساختہ۔ ،۔عمل تھا جو میں کرنا نہیں۔ ۔۔۔۔۔چاہتی تھی مگر۔ ۔۔۔۔ہوگیا۔ ۔۔تھا تمہاری آواز۔ ۔۔۔۔نے مجھے۔۔۔۔۔۔جکڑا۔۔۔۔۔تھا۔ ۔۔اُس دن۔ ۔۔میں پہلی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بار کمزور۔ ۔۔۔۔،۔پڑی۔ ۔۔۔۔۔تھی۔ ایسا۔ ۔۔پہلی بار۔ ۔ہوا تھا۔ ۔۔میں نے خود کو بہت۔ ۔بار زرنش بھی کی تھی۔ ۔آروش لڑکھڑاہٹ بھرے لہجے میں آہستہ آہستہ اُس کو بتانے لگی تو یمان سانس لینا تک بھول چُکا تھا۔
میں آپ کے قریب آنا چاہتا ہوں۔یمان یک ٹک اُس کا چہرہ دیکھ کر بولا تو آروش کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی مگر اُس سے پہلے وہ بات کا مطلب پوچھتی یمان آگے بھر کر اُس کو اپنے حصار میں لیکر سینے سے لگایا تھا آروش کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں میں صاف گونجتی محسوس ہورہی تھی بے اختیاری میں اُس نے یمان کی پشت پہ اپنے بازوؤں کا حصار قائم کیا تھا
ہر کسی کے نام پہ نہیں گونجتی،
دھڑکنیں بڑی بااصول ہوتی ہیں
