Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 50)Part 1
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 50)Part 1
Haal e Dil by Rimsha Hussain
تم ٹھیک ہوں؟ارحم فکرمندی سے شازل کو دیکھ کر بولا جو ہسپتال کے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا
میں ٹھیک ہوں مگر اُس کمینے کو میں چھوڑوں گا نہیں جس نے میرا خوبصورت حُلیہ بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔شازل اپنے ماتھے پہ ہاتھ رکھتا سیل فون کی فرنٹ کیمرہ کھول کر اپنا چہرہ دیکھ کر بولا
شکر کر تیری جان بچ گئ ہے اور ایک تو ہے جس کو اپنی شکل کی پڑی ہوئی ہے اگر جان ہی نہ رہتی تو اِس شکل کا توں نے اچاڑ ڈالنا تھا۔رضا جو دو دنوں سے اُس کے لیے پریشان تھا شازل کی ہوش میں آنے کے بعد ایسی بات سن کر دانت پیس کر بولا
میں اچار نہیں کھاتا خیر یہ بتاؤ میرا ایکسیڈنٹ کرنے کے بعد وہ کمینہ پکڑا گیا یا موقع پہ ہی بھاگ گیا۔شازل نے دونوں کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔
پکڑا گیا ہے اُس کی فکر نہیں کرو تم۔ارحم نے جواب دیا
میرے پاس اور بھی بہت سے کام ہے سِوائے اِس فکر کے۔شازل منہ کے زاویئے بناتا اپنی سیلفی بنانے لگا۔
تم یہ فون اِدھر کرو۔رضا نے تپ کر اُس کے ہاتھ سے موبائیل چھینا۔
کیا یار یادگار تصاویر تو بنانے دو تاکہ یاد رہے مجھے چوٹ بھی آئی تھی۔شازل اُس کی طرف ہاتھ بڑھاکر بولا
یہ کوئی اتنا خاص موقع نہیں جو تم نے یادگار بنانا ہے تمہارا پورے دو ماہ سے گھر سے رابطہ نہیں ہوا تمہیں اندازہ ہے وہ کتنے پریشان ہوئے ہوگے۔ارحم نے اُس کو گُھڑکا
اوہ ہاں ماہی تو بہت پریشان ہو رہی ہوگی۔شازل کو اچانک خیال آیا تو کہا تو اپنے سر پہ ہاتھ مار کر بولا
ماہی؟رضا اور ارحم ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگے
تم دونوں کی بھابھی ہے اِس لیے بھابھی بولو اور مجھے یاد آیا میرے ہاتھ میں کجھ رپورٹس تھی وہ کہاں گئ؟شازل فکرمندی والے تاثرات سجائے بولا
وہ تو میری گاڑی میں ہے کس چیز کی رپورٹس تھی ہم نے چیک نہیں کی تھی۔رضا نے جواب دیا
وہ دراصل مجھے شرم آرہی ہے۔شازل دونوں کو دیکھتا شرمانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا بولا
شازل توں نہ آج ہمیں بہت غصہ دلارہا ہے۔اِس بار ارحم زچ ہوا
یار کیا کروں بات ہی کجھ ایسی ہے۔شازل یہاں وہاں دیکھ کر بولا
نہ بتا ارحم تو گاڑی سے رپورٹس لاؤ خود ہی دیکھ لینگے کیا ماجرہ ہے۔رضا ارحم سے بولا
ارے نہیں نہیں میں بتاتا ہوں دراصل میں باپ کے رتبے پہ فائز ہونے والا ہوں کتنی عجیب بات ہے نہ حویلی میں سب سے چھوٹا بیٹا ہوں میں اور سب سے پہلے یہ شرف مجھے حاصل ہورہا ہے۔شازل اپنی دُھن میں بتانے لگا جبکہ ارحم اور رضا مُنہ کُھولے اُس کو دیکھنے لگے جس کا چہرہ یہ بات بتاتے وقت چمک رہا تھا۔
تم مذاق کررہے ہو؟رضا نے اپنی حیرت پہ قابو پائے پوچھا
مذاق کرنے کے لیے مجھے یہی بات رہ گئ تھی کیا کے میں باپ بننے والا ہوں کمینوں میں سچ میں باپ بننے والا ہوں۔شازل بدمزہ ہوتا دونوں کو گھور کر بولا
اتنی جلدی توں تو پہلے اِس شادی سے خوش نہیں تھا۔رضا اب بھی ماننے سے انکاری تھا۔
ہاں اور کیسے نکاح کے دن یہاں اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ارحم بھی رضا کی بات سے متفق ہوا۔
سب سے پہلے اتنا جلدی نہیں ہوا ڈیڑھ سال ہوگیا ہے ہماری شادی کو اور الحمد اللہ اب ایسا کجھ نہیں وہ پہلے کی بات تھی۔شازل مزے سے بولا
یار ارحم کوئی پہلے بڑے ڈنکے کی چوٹ پہ کہا کرتا تھا کے میں سید شازل شاہ ہوں میں کبھی شادی نہیں کروں گا اور اب وہ باپ کے رتبے پہ فائز ہونے والا ہے واقع یہ بہت عجیب بات ہے نہیں؟رضا چڑانے والی نظروں سے شازل کو دیکھ کر ارحم سے بولا تو شازل کجھ سٹپٹایا
ارے یہ تو کجھ بھی نہیں یاد ہے ایک دفع شازل نے کیا کہا تھا؟ارحم رضا کا ساتھ دیتا سوچنے کی اداکاری کیے رضا سے بولا تو شازل نے اُس کو آنکھیں دیکھائی مگر اُن دونوں کو فرق نہیں پڑا۔
مجھے یاد ہے مگر تم ٹھیک سے یاد کروادوں۔رضا ارحم کو دیکھ کر بولا۔
محترم سید شازل شاہ کے انمول الفاظوں میں سے چند الفاظ زیر اثر یہ ہیں کے(نقل اُتارتے ہوئے)
مجھے ان لوگوں پہ تعجب ہوتا ہے جو محبت کے نام پہ اپنی ساری زندگی ایک لڑکی کے ساتھ گُزار لیتے ہیں میں تو دو دن ایک ہی لڑکی کی شکل دیکھوں تو بوریت ہوتی ہے زندگی ایک بار ملتی ہے تو کیا گُزارا بھی ایک سے ہو نو نیور ہونہہ۔ارحم باقاعدہ شازل کی نقل اُتارتے رضا کی گرد چکر کاٹتا بولا تو رضا ہنس پڑا
اب بس بھی کرو پُرانی باتیں تھیں۔شازل اُن کو زچ کیے پچھتایا
کہاں پُرانی باتیں یار ہمارے لیے تو کل کی بات ہے ہمیں تو یقین نہیں ہورہا تھا دو دن ایک شکل دیکھ کر بوریت کا شکار ہونے والا شخص ایک لڑکی کی شکل ڈیڑھ سال کیسے برداشت کرگیا۔ارحم باز نہیں آیا۔
مار کھاؤ گے اب تم دونوں مجھ سے۔شازل نے دانت پیس کر کہا
ہمارا پتا نہیں بیوی سے تجھے ضرور مار پڑنے والی ہے۔رضا اتنا بول کر زور سے قہقہقہ لگانے لگا تو شازل نے دانت کچکچائے۔







یہ آج سے تمہارے ساتھ رہے گی۔کلثوم بیگم نے پاس کھڑی ملامہ کی جانب اِشارہ کیے ماہی کو بتایا
پر کیوں؟ماہی کو سمجھ نہیں آیا
کیونکہ تم ماشااللہ سے ماں بننے والی ہو تو کوئی تو ہو جو تمہارا خیال رکھے اور تم نے لاپرواہی کا مظاہرہ نہیں کرنا اپنا بہت سارا خیال رکھنا ہے۔کلثوم بیگم نے سمجھایا
آپ کا شکریہ اگر کل آپ نہ ہوتی تو میں یہاں نہ ہوتی۔مامی سرجھکائے بس اتنا بولی
شکریہ کی کوئی بات نہیں تم میرے شازل کی بیوی ہو ایسے میں میرا فرض ہے تمہارا خیال رکھنا خیر اپنا دماغ ہر سوچ سے آزاد کرو زیادہ سوچنا اچھی بات نہیں بس آرام کرو۔کلثوم بیگم اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر بولی تو ماہی نے سراثبات میں ہلایا۔
میں نے ناہید کو تمہارے کھانے پینے کا بتادیا ہے اِس لیے یہ جو کہے تمہیں ماننا ہوگا۔کلثوم بیگم جاتے جاتے تاکید کرنا نہ بھولی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیا ہوا آج آپ خاموش ہیں؟حریم نے آروش کو آج معمول سے زیادہ سنجیدہ دیکھا تو پوچھا
تمہیں بتایا تھا نہ میں بابا سائیں کی بیٹی نہیں؟آروش سپاٹ لہجے میں اُس سے بولی
جی۔حریم بس یہ بول پائی۔
کجھ ماہ بعد میں یہاں سے چلی جاؤں گی ہمیشہ کے لیے جانے سے پہلے ایک بات کہوں گی تمہارے دُر لا بہت اچھے ہیں انہوں نے اگر تمہاری محبت کو قبول نہیں کیا تو اُس میں انہوں نے تمہارا بھلا چاہا تھا تم یہ بات مت سوچنا کے وہ تمہیں اپنے قابل نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ خود کو تمہارے قابل نہیں سمجھتے تھے اماں سائیں نے جب تمہارے لیے تابش لالہ کا رشتہ سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا تھا پھر تمہاری لالہ سے شادی کرنے کی ضد نے انہیں مجبور کیا کوئی سخت قدم اُٹھانے پہ انہوں نے اپنی محبت کو پانے سے پہلے کھویا تھا حریم جب وہ محض بیس اکیس سال کے تھے تمہیں اُن کے غم کا اندازہ نہیں ہوسکتا وہ سمجھتے تھے اگر تمہاری شادی اُن سے ہوگی تو وہ کہی تمہارے ساتھ ناانصافی نہ کرجائے دُرید شاہ جو میرے لالہ ہے وہ جب تمہارے لیے کجھ خریدتے تھے تو چپل تک ملائم لیتے تھے کے کہیں چلنے میں تمہیں مسئلہ نہ ہو تمہارے پیروں میں کہیں درد نہ پڑجائے وہ بہت محتاط رہتے تھے مگر حریم اُن کے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ محبت نہ بھولنا جو انہوں نے تمہیں دی تھی جو وہ تم پہ لُٹا چُکے تھے دُرید لالہ نے دو قتل کیے ہیں اور وہ دو ہی قتل تمہاری وجہ سے کیے ہیں پہلا قتل اپنی پندرہ سالہ زندگی میں کیا تھا مالی کا قتل صرف اِس بات پہ کے اُن کی ایک غلطی کی وجہ سے تمہارے پاؤں پہ چوٹ آئی تھی تمہاری آنکھوں سے آنسو نکلے تھے لالہ رات کے پہر اپنا دایاں پیر جلتے کوئلوں پہ رکھتے تب تک رکھا جب تک تمہارا پاؤں بلکل ٹھیک نہیں ہوا تمہاری چوٹ کا نشان تو مٹ گیا مگر لالہ کا دایاں پیر اگر دیکھو گی نہ تو آج بھی وہ نشان نظر آئے گے لالہ نے تم سے بہت کی ہے مگر اُس میں پانے کی خواہش حاصل کی تمنا نہیں تھی لالہ کی محبت بس اتنی ہے کے وہ بس تمہیں خوش اور مطمئن دیکھنا چاہتے تھے وہ تمہاری زندگی گُلزار بنانا چاہتے تھے سب کو لگتا تھا لالہ شادی اِس لیے نہیں کرتے کیونکہ اُن سے اُن کی محبت چھینی گئ مگر در حقیقت انہوں نے تمہاری وجہ سے شادی نہیں کی اگر وہ شادی کرتے تو یقیناً اپنی ازواجی زندگی میں مگن ہوجاتے اُن کی توجہ تم پہ ہٹتی تو نہ مگر کم ضرور ہوجاتی جو لالہ نہیں چاہتے تھے ایک بارہ سال کے بچے کا ذہن کچا ہوتا ہے جو بعد میں بہت پکا ثابت ہوتا ہے بڑے لوگ باتیں فراموش کرجاتے ہیں مگر بچے نہیں لالہ بارہ کے تھے پھپھو نے تمہاری ذمیدادی لالہ کو دی تھی لالہ چاہتے تو وہ اُن کی بات کو نارملی لیتے کوئی کجھ کہتا بھی نہ کیونکہ وہ بچے تھے دُرید شاہ جو اپنی استعمال شدہ چیزیں بھی کسی کو نہیں دیتے تھے انہوں نے اپنا کمرہ تک تمہارے ساتھ شیئر کیا وہ تو تم جب چھ سال کی ہوئی تو اماں سائیں نے ان سے کہا حریم کا اب تمہارے کمرے میں رہنا ٹھیک نہیں لگتا اُس کو دوسرے کمرے میں رہنا چاہیے تو لالہ مان گئے تمہیں اگر چوٹ لگتی ہے تو تم سے زیادہ تکلیف اُنہیں ہوتی ہے تمہارے ساتھ جو حادثہ پیش آیا اُس کو تم قسمت کا لکھا سمجھتی ہو تو لالہ کو زمیدار مگر کبھی یہ بھی سوچا کرو تمہاری تکلیف پہ اُن کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی جو انہوں نے تابش لالہ کا قتل تک کرڈالا اب جب تم انہیں کہو گی میری حالت کے اصل گنہگار آپ ہیں تو یہ لالہ کے ساتھ حقیقتاً ناانصافی ہوگی انہیں جان بوجھ کر تمہارے لیے کوئی غلط فیصلہ نہیں لیا غلطیاں انسان کرتے ہیں غلط فیصلے بھی انہیں سے ہوا کرتے ہیں مگر ایک بات کی وجہ سے گُزری ہوئی بے لوث محبت کو فراموش نہیں کیا جاتا اگر تمہارے لیے یہ فیصلہ لالہ کے بجائے تمہارے والدین سے ہوتا تم ان کو معافی کردیتی تو میں بس یہ کہوں گی ان کو بھی معاف کردینا ضروری نہیں پچھتاوا محبت کا کھونا احساسِ ندامت بس میرے دُرید لالہ کے حصے میں آئے اُن کی زندگی میں بھی خوشیاں مختصر ہی رہی ہیں کسی کی بھی زندگی مکمل نہیں ہوا کرتی تھی میرے لالہ کی تو بلکل بھی نہیں۔آروش حریم کا ہاتھ پکڑتی ٹھیرے ہوئے لہجے میں اُس کو بتانے لگی جب کی حریم اپنی سانسیں تک رُوک چُکی تھیں آروش نے جانے اُس سے کیا کجھ کہا تھا مگر اُس کے کانوں میں بس یہ الفاظ گونج رہے تھے۔
دُرید لالہ نے دو قتل کیے ہیں اور وہ دو ہی قتل تمہاری وجہ سے کیے ہیں پہلا قتل اپنی پندرہ سالہ زندگی میں کیا تھا مالی کا قتل صرف اِس بات پہ کے اُن کی ایک غلطی کی وجہ سے تمہارے پاؤں پہ چوٹ آئی تھی تمہاری آنکھوں سے آنسو نکلے تھے لالہ رات کے پہر اپنا دایاں پیر جلتے کوئلوں پہ رکھتے تب تک رکھا جب تک تمہارا پاؤں بلکل ٹھیک نہیں ہوا تمہاری چوٹ کا نشان تو مٹ گیا مگر لالہ کا دایاں پیر اگر دیکھو گی نہ تو آج بھی وہ نشان نظر آئے گے۔
ایک شخص کررہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش!اُس زبان دراز کا منہ نوچ لے کوئی
جون ایلیا
اگر انہوں نے ہم سے بے لوث محبت کی ہے تو ہمیں بے لوث زخم بھی دیئے ہیں جن کی تکلیف اُن کی دی گئ محبتوں سے زیادہ ہے ہم تکلیف کو بُھلاکر محبت یاد کرنا بھی چاہے تو ہم سے نہ ہو پائے گا معافی مانگنا مشکل نہیں پر کسی کو معاف کرنا بہت مشکل ہے۔حریم اپنا ہاتھ آروش کے ہاتھ سے چھڑواتی سپاٹ لہجے میں بولی تو آروش نے افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھا
تم لالہ کے معاملے میں خودغرضی کا مُظاہرہ کررہی ہو اگر یہی سب تم لالہ کے ساتھ کرتی تو وہ جواب میں افففف تک نہ کرتے کیونکہ اُن کا دل تمہارے معاملے میں وسیع ہے وہ تمہارے سؤ قتل تک معاف کردینگے۔آروش افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
اگر کوئی آپ کی محبت کو ٹھکرائے تو آپ کیا کرے گی؟حریم کے سوال پہ آروش کے قدم زمین پہ جکڑ سے گئے تھے۔
میں ایک سید زادی ہوں یہ نہیں کہوں گی کیونکہ اب میرے پاس وہ حق نہیں ہے مگر ایک سید گھرانے سے پرورش پانے کے بعد اتنا ضرور کہوں گی میرا دل مضبوط ہے میں نے اپنے دل کے دروازے پہ سخت پہرے لگائے ہیں جو کم سے کم کوئی نامحرم مرد نہیں کھول سکتا جو ٹھکرانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایک بات میں واضع کرلوں لالہ نے تمہاری محبت کو ٹھکرایا نہیں ہے وہ ایسا مر کر بھی نہیں کرسکتے بس ان کی ایک خواہش تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنے کی نے ہر ایک کے سامنے مجرم بنادیا ہے سب کو لالہ کا فیصلہ نظر آرہا ہے مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا انہوں نے ایسا فیصلہ کیوں کیا لالہ نے حریم علی کے معیار کا لڑکا بہت اُونچا سوچا ہوا تھا وہ خود کو بھی اُس معیار پہ پورا نہیں سمجھتے تھے انہیں لگا تھا تابش لالہ تمہارے لیے آئیڈیل شوہر ثابت ہوگے لالہ کوئی نجومی نہیں تھے جو اُن کو پتا چل جاتا سب پہلے سے جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں تمہارا نکاح تابش لالہ سے پہلے سے لکھا ہوا تھا جو کوئی کجھ بھی کرتا ہوکر ہی رہنا تھا۔آروش سنجیدہ بھرے لہجے میں کہتی کمرے میں رُکی نہیں تھی جب کی حریم تو جیسے پتھر کی بن گئ تھی آروش کی باتیں اُس کو کسی تماچے سے کم نہیں لگ رہی تھی۔
آپ کو کیا پتا آپی جب آپ کسی کو حد سے زیادہ چاہوں اور وہ ہی انسان آپ کا ہاتھ پکڑ کر کسی اور کے حوالے کرے تو کیا محسوس ہوتا ہے خواب کرچی کرچی ہوجاتے ہیں دل ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے جینے کی تمنا آہستہ ختم ہوجاتی ہے پر آپ یہ نہیں سمجھ سکتی کیونکہ آپ کو کبھی کسی سے پیار نہیں ہوا یا آپ ایسی محبت کو مانتی نہیں اپنی انا کا پرچم بُلند کرنا چاہتی ہیں ورنہ اگر محبت ہونی ہوتی ہے تو ہوجاتی ہے چاہے پھر آپ اپنے دل پہ کوئی مضبوط قلعہ ہی کیوں نہ باندھ لو بس محبت کے دو اقسام ہوتے ہیں ایک وہ محبت جس میں آپ بے اختیار ہوجاتے ہیں تو دوسری محبت میں آپ کو اپنی محبت پانے سے زیادہ اپنی انا عزیز ہوتی ہے اور ہمیں جو محبت ہوئی ہے اُس میں ہم بے اختیار ہوئے تھے۔حریم اپنا سر گُھٹنوں میں گِراتی اُداس مسکراہٹ سے سوچنے لگی۔
ہم کو آتا اگر شرمندہ و رسوا کرنا
آپ کو تو ہم کہیں کا بھی رہنے نہ دیتے







شازل گاؤں پہنچ گیا تھا مگر اُس کو پہنچتے پہنچتے رات ہوگئ تھی تبھی وہ سیدھا حویلی آیا تھا ماہی کے پاس اگلے دن جانے کا سوچا تھا اُس نے کیونکہ اُس کو لگ رہا تھا ماہی ابھی تک اپنے والدین کے پاس ہوگی مگر جب وہ اپنے کمرے آکر لائیٹ آن کی تو بیڈ پہ لیٹے وجود کو دیکھ کر اُس کو حیرت کے بجائے خوشگوار احساس نے آ گھیرا’شازل آہستہ قدموں کے ساتھ چلتا بیٹھ پہ بیٹھ کر غور سے ماہی کو دیکھتا اُس کے چہرے پہ گِرے بال پیچھے کرنے لگا تو ماہی نے چونک کر آنکھیں کُھولی اُس کو اتنی جلدی آنکھیں کُھولتا دیکھ کر شازل کو حیرت ضرور ہوئی۔
شازل؟ماہی ایک جست میں اُٹھتی شازل کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر اُس کی موجودگی کا احساس کرنے لگی اُس کو یہ سچ ایک خواب لگ رہا تھا۔
ہاں میں مگر تم ایسے ری ایکٹ کیوں کررہی ہو؟شازل اُس کا ہاتھ پکڑے نرمی سے پوچھنے لگا تو ماہی جیسے نیند سے جاگی۔
شازل آپ سچ میں ہیں۔ماہی کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی۔
نہیں میرا بھوت تم سے ملنا آیا ہے۔شازل اُس کے ایک ہی سوال پہ چڑ کر بولا
آپ کہاں چلے گئے تھے مجھ سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا آپ کتنے ظالم ہیں کتنی آسانی سے مجھے بھول جاتے ہیں ایسا کون کرتا ہے؟باتیں تو بہت بڑی بڑی چھوڑتے ہیں مگر عمل تھوڑا بھی نہیں کرتے آپ بلکل اچھا نہیں کرتے میرے ساتھ میں بہت بہت ناراض ہوں آپ سے دو ماہ بعد واپس آئے ہیں پر اِس عرصے میں ایک بار بھی یہ نہیں سوچا ماہی کیسی ہوگی؟کیا آپ کو میری ذرہ پرواہ نہیں؟ماہی زور سے شازل کے گلے لگتی روتی ہوئی بولنے لگی۔شازل جو اُس کی حرکت پہ حیران تھا مگر اُس کی باتیں سن کر اُس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
یہاں دیکھو میری طرح کیوں رو رہی ہو اتنا میں نے کونسا آنے میں دس سال لگا دیئے اور اِس بیچ تمہارے بالوں میں چاندی گُھل گئ اور میرے انتظار میں تمہاری جوانی برباد ہوگئ۔شازل اُس کا چہرہ سامنے کرتا اُس کے آنسو صاف کرنے لگا تو ماہی جو رونے میں مصروف تھی شازل کے منہ سے ایسی سیریس سچویشن میں بے تُکی بات سن کر منہ کُھولے اُس کو دیکھنے لگی۔
شازل آپ بہت مین ہیں۔ماہی اُس کے کندھے پہ مُکے برساتی دور ہونے لگی جب شازل ہنس کر اُس کو دوبارہ سے اپنے سینے سے لگایا۔
مذاق کررہا تھا یار سوچا تمہارا موڈ ٹھیک ہوجائے گا مجھے کیا پتا تھا تمہارا ٹیمپریچر گرم ہے۔شازل آرام سے کہتا آخر میں اپنی عادت سے مجبور ہوا۔
بات نہ کرے آپ۔ماہی منہ بسور کر بولی
پھر کس سے کروں؟شازل اُس کے بالوں میں بوسہ دیتا شرارت سے بولا
اپنی ہوتی سوتی سے۔ماہی نے کہا
اچھا نہ اِدھر دیکھو میری طرف یہاں کیسے آئی تم؟میں نے تو تمہیں تمہارے والدین کے پاس چھوڑا تھا؟شازل کجھ سیریس ہوا۔
آپ تو چاہتے ہی یہی ہیں میں کبھی نہ آؤں یہاں۔ماہی اُس کی بات پہ بُرا مان کر بولی۔
میں ایسا کیوں چاہوں گا اللہ اللہ کرکے تو بیوی ملی ہے۔شازل اُس کی بات پہ فورن سے بولا
شازل اور کتنی بیویوں کی چاہت ہے آپ کو؟جو یوں حسرت سے بول رہے۔ماہی تپ اُٹھی۔
بیویوں کی کہاں بس ایک تمہاری ہی چاہت ہے۔شازل اُس کو دیکھ کر آنکھ وِنک کیے بولا تو ماہی جھنپ سی گئ۔
