Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 13)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کہاں تھی اتنی دیر لگادی۔آروش جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی دیدار شاہ نے کہا۔

سوری لالہ دراصل دُرید لالہ کے کمرے میں گئ تھی تو وہاں دیر ہوگئ۔آروش معذرت خواہ لہجے میں بولی۔

اچھا ویسے تمہیں شہر جانے کی ضد نہیں کرنی چاہیے تھی تم نے کونسا پڑھ کر ڈاکٹر انجنیئر یا وکیل بننا ہے۔دیدار شاہ نے کہا

کیوں نہیں بن سکتی لالہ اور شہر جاکر پڑھنا میری ضد نہیں بلکہ میرا شوق ہے میری خواہش ہے اگر پڑھ لکھ کر میں کجھ بن نا بھی پاؤں تو کیا ہوا شعور تو حاصل ہوگا نہ۔آروش مسکراکر نرم لہجے میں بولی تو دیدار نے اپنا سرجھٹکا

کالج میں لڑکے بھی ہوگے تو زرہ احتیاط کرنا کسی سے بھی بلاوجہ بات مت کرنا لڑکوں کی طرف تو دیکھنا بھی مت صرف اور صرف اپنی پڑھائی پہ دھیان دینا اور آخری بات پردے کا خاص خیال کرنا کسی لڑکی کو بھی اپنا چہرہ مت دیکھنے دینا تمہیں نہیں پتا یہ شہر کی لڑکیاں پھر ہر ایک کو تمہاری نین نقش بتاتی پِھرے گی۔دیدار شاہ گاڑی ڈرائیو کرتا سنجیدگی سے بولا

لالہ آپ مجھ سے نہ بھی بولے تو میں اپنی حدود جانتی ہوں اور مجھے یہ بھی پتا ہے وہاں میری ہر ایکٹویٹی پہ نظر ہوگی۔آروش دو ٹوک لہجے میں بولی تو دیدار خاموش ہوگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

حال!

ماہی اب قدرے بہتر تھی اِس لیے آج اُس نے اپنے کمرے پہ غور کرنے کا سوچا پورے کمرے کا جائزہ لینے کے بعد وہ بیڈ پہ جیسے ہی بیٹھی تو ڈریسنگ ٹیبل پہ پڑا شازل کا فون بج اُٹھا ماہی اُٹھ کر فون کی طرف دیکھا تو کسی عائشہ نامی لڑکی کی کال تھی لڑکی کا نام دیکھ کر وہ جو شازل کی طرف سے کجھ پرسکون تھی اچانک سے بددل ہوگئ۔

میرا فون ہے؟شازل کمرے میں آیا تو اُس کے ہاتھ سے سیل فون لیکر بولا

کسی عائشہ کی کال آرہی تھی۔ماہی نے جلے کٹے لہجے میں بتایا اُس کا انداز دیکھ کر شازل آنکھیں سیکڑ کر اُس کو دیکھنے لگا۔

اچھا عائشہ میری گرل فرینڈ کا نام ہے۔شازل موبائیل کی اسکرین پہ نظر جمائے بتانے لگا تو ماہی بے یقین نظروں سے شازل کو منہ تکنے لگی اُس کو یقین نہیں آیا اُس کا شوہر خود اپنے منہ سے اپنی گرلفرینڈ کا بتارہا تھا

ان شاہ خاندان کے فرد کے بھی کیا کہنے ہیں ہر بات منہ پہ ماردیتے ہیں۔شازل کی جانب دیکھ کر ماہی بس سوچ سکی اُس کو اِس وقت آمنہ کی ساری باتیں یاد آنے لگی جو ہمیشہ سے وہ اُس کو بتاتی آرہی تھی۔

اور کتنی گرلفرینڈز ہیں آپ کی؟ماہی اپنا لہجہ نارمل کیے پوچھنے لگی۔شازل جو عائشہ کو کال ملانے والا تھا ماہی کے سوال پہ رک کر ہاتھوں کی مدد سے گنتی کرنے لگا یہ دیکھ کر ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کے قریب تھی۔

ثانیہ تانیہ ستارہ تارا یاسمین امبر فرح سارہ رباب دلنشین اور کجھ کا نام یاد نہیں آرہا اِس وقت۔شازل پرسوچ لہجے میں بولا

اور بھی ہیں؟ماہی غش کھانے کے در پہ تھی۔

ہاں یہ تو کجھ بھی نہیں۔شازل مسکراکر بولا تو ماہی کو لگا جیسے اُس کو کسی نے آسمان پہ پہنچا کر بے دردی سے زمین پہ پٹخ دیا ہو۔

میں کام سلسلے میں باہر جارہا ہوں تم کسی سے ڈرنا مت اگر کہی جانا ہو تو آروش کو ساتھ چلنے کا کہنا۔شازل اُس کا گال تھپتھپاکر کہتے کمرے سے باہر چلاگیا۔

کمینا۔شازل کے جانے کے بعد بے اختیار اُس کے منہ سے گالی نکلی جس پہ اُس نے جلدی سے منہ پہ ہاتھ رکھا۔

میری بلا سے جتنی چاہے گرلفرینڈز بنائے میرا کیا ویسے بھی میں نے کونسا ساری زندگی اِس قید میں رہنا ہے بابا ضرور مجھے لینے آئے گے۔ماہی خود سے باتیں کرتی بیڈ پہ بیٹھ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حریم نظر نہیں آرہی۔حویلی میں آج کلثوم بیگم کی بہن صدرہ آئی تھی تبھی باتوں باتوں میں انہوں نے حریم کا پوچھا

ایک ہفتہ پہلے دُرید اُس کو ہاسٹل چھوڑنے گیا تھا وہی ہے اب۔کلثوم بیگم نے بتایا

ٹھیک ٹھیک مجھے دراصل ایک بات کرنی ہے تم سے۔صدرہ بیگم نے کہا

کرو۔کلثوم بیگم نے اِجازت تھی۔

ویسے تو یہ ٹھیک وقت نہیں پر میں نے سوچا ابھی تمہارے کان میں یہ بات ڈال دوں۔صدف بیگم کجھ ہچکچاہٹ سے بولی

جو بات ہے بے جھجھک کہو۔کلثوم بیگم نے مسکراکر کہا

تابش کے لیے میں حریم کا رشتہ مانگنا چاہتی ہوں شروع سے مجھے وہ پسند ہے۔صدف بیگم کی بات پہ کلثوم بیگم کے چہرے کے تاثرات یکدم سنجیدہ ہوئے۔

ابھی ایک مہینہ پہلے حویلی سے ایک میت اُٹھی تھی خاندان کا بیٹا قتل ہوگیا ہے اور تم اِس وقت ایسی باتیں کررہی ہو شبانا کے عدت کے دن تو پورے ہونے دو۔کلثوم بیگم سخت لہجے میں بولی۔

آپا میں کونسا چٹ منگنی پٹ بیاہ والی بات کررہی ہوں جب عدت پوری ہوجائے اُس کے بعد کرنے کا بول رہی ہو اِس وقت بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کے آپ کہی اور اُس کی بات نہ طے کردے۔صدف بیگم نے جلدی سے کہا

آروش کی پہلے کہیں شادی ہوجائے اُس کے بعد ویسے بھی حریم کا نمبر بعد میں ہے نور اور نازلین اُس سے بڑی ہیں۔کلثوم بیگم نے دوسرا نقطہ نکالا

آروش کو تو تم رہنے دو رہی بات نور اور نازلین کی تو نازلین کا نکاح ہوگیا ہے بس رخصتی رہتی ہے اللہ کے حکم سے ہو بھی ہوجائے گی نور کا بھی تو رشتہ طے ہے نہ تو پریشانی کس بات کی۔صدف بیگم کی بات پہ کلثوم بیگم کو پسند نہیں آئی۔

آروش کے بارے میں ایسا کیوں کہا اُس کو رہنے دو۔کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے پوچھا

تین بار بار اُس کی شادی ہوتے ہوتے نہیں ہوئی پورے گاؤں میں اب یہ بات پھیل گئ ہے کے شاہ خاندان کی لاڈلی بیٹی آروش شاہ کے قدم سبز ہیں اُس کی کبھی شادی نہیں ہوگی۔صدف بیگم بنا یہ سوچے وہ بات کس کی اور کس کے سامنے کررہی ہیں بس بولتی چلی گئ۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے لوگوں کا تو کام ہیں باتیں بنانا وہ تو بہت کجھ کہہ جاتے ہیں پر خیر کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر اُس کی شادی کروادے گے۔کلثوم بیگم بولی

خاندان میں کوئی دے گا نہیں خاندان سے باہر رشتیداری کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے تو آپا بس آپ اپنے ارمانوں پہ فاتح پڑھ لیں کیا ہوتا اگر آپ دیدار شاہ کو اُس کا دودھ شریک بھائی نا بناتی حویلی کی بات حویلی میں رہ جاتی۔صدف بیگم تاسف سے اُن کو دیکھ کر بولی۔

اب تم بہت بول رہی ہو یہ بات شاید بھول رہی ہو جس کے بارے میں بات کررہی ہو وہ تمہاری بھانجی ہے۔کلثوم بیگم ناگواری سے بولی۔

میرا کوئی غلط مطلب نہیں آپا میں معذرت چاہتی ہوں آج تو میں بس آپ سے حریم کی بات کرنے آئی تھی آپ بھائی صاحب سے بات کیجیے گا۔صدف بیگم کجھ شرمندہ ہوئی۔

حریم کی شادی کا فیصلہ دُرید کرے گا کیونکہ مریم نے حریم کی ذمیداری دُرید کو دی تھی۔کلثوم بیگم نے بتایا

وہ تو سب کو پتا ہے پر بڑے تو بھائی صاحب ہیں نہ۔صدف بیگم اُن کی بات پہ مسکرائی۔

بیشک وہ بڑے ہیں پر جو پیار اور خیال حریم کو دُرید سے ملا ہے اُس حساب سے اُس کی زندگی کے فیصلہ کرنے کا حق صرف دُرید کو ہے جس پہ نا شاہ صاحب کو اعتراض ہوگا اور نہ خود حریم کو۔کلثوم بیگم کا لہجہ دو ٹوک تھا

ٹھیک ہے جیسا آپ کہیں تابش کو تو سب جانتے ہیں مجھے یقین ہے دُرید کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔صدف بیگم پرسکون سی بولی

💕
💕
💕
💕
💕

عشق بھی توں ہے پیار بھی توں ہے

توں ہی میری محبت ہے

سانسوں میں تیری سانسوں میں لے لوں

تیری اگر اِجازت ہو

آروش اپنے کمرے میں موجود ٹی وی پہ چینل سرچ کررہی تھی جب ایک چینل پہ چلتے سونگ پہ اُس کا ریموٹ پہ کام کرتا ہاتھ تھم گیا۔

ٹی وی پہ کوئی لائیو شو چل رہا تھا جس میں یمان مستقیم فل بلیک سوٹ میں کھڑا مائیک ہاتھ میں لیے گانا گارہا تھا جس کو سن کر وہ چاہ کر بھی چینل تبدل نہ کرپائی۔

عشق بھی توں ہے پیار بھی توں ہے

توں ہی میری محبت ہے

سانسوں میں تیری سانسوں میں لے لوں

تیری اگر اِجازت ہو

اِس سے زیادہ گھٹیاں کوئی سنگر گانا گا بھی نہیں سکتا۔یمان مستقیم کو ایک مصرعہ دوبارہ گاتے سن کر آروش جل کر بڑبڑائی۔

تیرے بن میں اِس دنیا کا یار کروں گا کیا؟؟

مجھ کو تو بس شام سویرے اِک تیری

چاہت ہے

سانسوں میں تیری سانسوں میں لے لوں

تیری اگر اِجازت ہو

میں اندر آسکتی ہوں؟آروش جو سرد نظروں سے ٹی وی اسکرین پہ نظر جمائے بیٹھی تھی اچانک ماہی کی آواز پہ چونک کر ٹی وی بند کرنا چاہا جب ماہی بول پائی۔

چلنے دو پلیز۔ ماہی کے الفاظ پہ آروش نے ریموٹ اُس کی جانب بڑھایا جس کو ماہی نے خوشدلی سے اپنے ہاتھ میں لیا۔

ہے جتنے بھی موسم تیرے سِنگ گُزرے گے

دل پہ چڑھے ہیں جو تیرے اب نہ اُترے گے

Music 🎶

جتنے بھی سپنے ہیں

نام تیرے کردے گے۔

آنسو تیرے ہم تو خود کی

آنکھوں میں ہے بھر لینگے

ساتھ تیرا نہ میں چھوڑوں گا

یہ کرتا ہوں واعدہ

کیسے چھولوں اب تجھ کو میں

توں ہی میری عادت ہے

سانسوں میں تیری سانسوں میں لے لوں

تیری اگر اِجازت ہو

عشق بھی توں ہے پیار بھی توں ہے

توں ہی میری محبت ہے

سانسوں میں تیری سانسوں میں لے لوں

تیری اگر اِجازت ہو

اِس کے گانے کمال کے ہوتے ہیں اور یہ خود بھی بہت ہینڈسم ہیں اِن سیلیبرٹی کے بھی کیا ٹھاٹ ہیں۔گانا ختم ہونے کے بعد ماہی نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہا تو آروش اُس کو گھورنے لگی۔

یہ بات لالہ شازل کو بھی بتانا۔آروش ہاتھ کی مٹھیاں بھینچ کر بولی تو ماہی سٹپٹائی۔

ان کو کیوں؟ماہی نے ہڑبڑاکر کہا

ایسے ہی جنرل نالج مل جائے گی ان کو۔آروش نے کندھے اُچکاکر کہا۔

اچھا ایک بات پوچھو؟ماہی نے کہا

پوچھو۔آروش نے اِجازت دی

اب کوئی مجھے کام کرنے کا کیوں نہیں کہتا ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے میری حالت بھی قدرے بہتر ہے اور کسی نے اِس بیچ مجھ پہ غصہ بھی نہیں کیا۔ماہی کے لہجے میں حیرت عیاں تھی۔

کام کرنے کا شوق چڑھا ہے یا بھابھی شبانا کی مار یاد آرہی ہے؟اُس کی بات پہ آروش نے طنزیہ کیا تو ماہی بول کر پچھتائی۔

دونوں کا نہیں دل کررہا وہ تو میں بس جنرل نالج کے لیے پوچھ رہی ہوں۔ماہی نے جلدی سے کہا۔

لالہ نے سب کو وارننگ دی ہے تم پریشان نہیں ہو جب تک لالہ یہاں ہیں کوئی تمہیں کجھ نہیں کہے گا۔آروش نے کہا

اور جب وہ نہ ہو تو؟ماہی نے ڈر کر پوچھا

تو تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں تم اچھے سے سب جانتی ہو حویلی میں سب تمہیں ونی کی نظر سے دیکھتے ہیں جب کی لالہ تمہیں اپنی زمیداری سمجھتے ہیں۔آروش نے بتایا پر اُس کی آخری بات سن کر ماہی کو جانے کیوں دُکھ ہوا

تم کیا سمجھتی ہو مجھے اور کس نظر سے دیکھتی ہو؟ماہی نے اُس کا نظریہ جاننا چاہا

میں تمہیں اپنے لالہ کی بیوی کی حیثیت سے دیکھتی ہوں۔آروش نے کہا۔

پر اُن کے لیے تو محض ایک زمیداری ہوں۔ماہی افسوس سے کہا

میں کیا کہہ سکتی ہوں۔آروش نے کندھے اُچکائے

ایک اور بات پوچھو؟ماہی نے سرجھٹکتے کہا

پوچھو۔آروش نے اِجازت دی

میں جب سے یہاں ہوں تمہیں صرف اور صرف اپنے کمرے میں دیکھا ہے جب کی تمہارے علاوہ جو تین اور لڑکیاں ہوتی ہیں وہ تو پوری حویلی میں نظر آتی ہیں پھر تم کیوں نہیں۔ماہی متجسس لہجے میں بولی۔

تمہیں میرے کمرے میں رہنے سے مسئلہ ہے یا اُن تینوں کے حویلی میں ہر جگہ نظر آنے سے مسئلہ ہے؟آروش بے تاثر لہجے میں اُس سے بولی۔

مجھے دونوں سے کوئی مسئلہ نہیں وہ تو بس ایسے ہی سوال کیا۔ماہی نے فورن سے کہا۔

مجھے نہیں پسند کوئی مجھ سے ایسے سوال کرے۔آروش نے صاف لہجے میں کہا

تم بہت روڈ ہوں۔ماہی نے بتانا ضروری سمجھا پر اُس کی بات پہ آروش کے دماغ میں کجھ اور گونجنے لگا

آپ بہت روڈ ہیں۔

مجھے پتا ہے۔آروش اپنا سرجھٹک کر بولی۔

میں چلتی ہوں پھر۔ماہی اُس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

لالہ کہی گئے ہیں کیا؟اب کی آروش نے پوچھا

ہاں ہر شام کے وقت چلے جاتے ہیں پھر دوسرے دن صبح کو آتے ہیں۔ماہی نے بتایا۔

ٹھیک۔آروش نے سرہلا۔

ویسے تمہارا فیورٹ سنگر کون ہے؟ماہی کو جانے کیا سوجھی جو سوال کر بیٹھی۔

کوئی بھی نہیں۔آروش نے گہری سانس لیکر کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج یمان کو شو میں انوائٹ کیا گیا تھا شو ختم ہونے کے بعد یمان باہر نکلا تو لوگوں کی ایک قطار اُس کی منتظر تھی۔

یمان کے باہر آتے ہی سب زور شور سے اُس کا نام لینے لگے۔

میں نے کہا بھی تھا مجھے دوسرے ایکزٹ دروازے سے جانا ہے یہاں کے آنے کا نتیجہ یہ ہے۔ہجوم کے درمیان اپنا راستہ نکالتا یمان تیکھے لہجے میں ساتھ چلتے ارمان سے بولا

سر وہاں اِس سے زیادہ لوگ موجود ہیں۔ارمان نے صفائی پیش کی۔

اور جو اب میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے اُس کا کیا تمہیں اتنا سینس نہیں ارمان کے گاڑی کو پاس میں ہی کھڑا کردیتے تمہیں پتا ہے میں آج نہ کسی کے سوال کے جواب دے سکتا ہوں نہ اور نہ کجھ اور کام کرسکتا ہوں۔یمان سخت لہجے میں بولا

سر آٹوگراف پلیز

سر ون سیلفی پلیز۔ارمان کے کجھ کہنے سے پہلے سب لوگوں نے یمان کو گھیرلیا جس سے سیکیورٹی گارڈز نے اُن کو ہٹانا چاہا پر یمان نے ہاتھ کی مدد سے رک لیا اُس کے چہرے پہ تکلیف کے آثار دیکھ کر ارمان نے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا وہ جانتا تھا یمان کی طبیعت اب اکثر خراب رہنے لگی تھی یہ بات وہ دلاور خان کو بھی بتاچُکا تھا انہوں نے یمان کو سنگنگ کرنے اب کجھ گیپ لینا کا بھی کہا تھا پر یمان اُن کی بات ٹال گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمان سے بات کراؤں میری۔ارمان اور یمان ابھی گاڑی میں بیٹھے تھے جب ارمان کے سیل فون پہ مسز دلاور کی کال آئی تھی اُن کی بات پہ ارمان نے یمان کو دیکھا جو سیٹ پہ ٹیک لگاکر آنکھیں موند کر بیٹھا تھا۔

مسز دلاور آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔ارمان نے یمان سے کہا تو یمان نے اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو کُھولا۔

اسلام علیکم!یمان ارمان سے فون لیتا بولا۔

وعلیکم اسلام یمان کیسے ہو۔مسز دلاور فکرمندی سے حال احوال دریافت کرنے لگی۔

میں ٹھیک ہوں آپ بتائے۔یمان نے بتانے کے بعد پوچھا

میں ٹھیک ہوں تم آج رات گھر آنا بات کرنی ہے تم سے۔مسز دلاور نے کہا

آج؟یمان نے کنفرم کرنا چاہا

ہاں کیوں کیا مصروف ہو؟مسز دلاور نے پوچھا

ایسی بات نہیں میں آجاؤں گا۔یمان گہری سانس بھر کر بولا اُس کا اِرادہ نیند کی گولیا لیکر لمبی تان سونے کا تھا پر مسز دلاور خان کو انکار بھی نہیں کرسکتا تھا۔

ٹھیک ہے میں انتظار کروں گی۔مسز دلاور خوش ہوتی بولی تو یمان کال بند ہونے کے بعد سیل فون ارمان کی طرف بڑھایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *