Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 48)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 48)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یہ اُس کی تصویر ہے جس نے قتل کیا تھا۔ذین نے اپنا فون شازل کی طرف کیا
شکل سے تو ایسے لگ رہا ہے جیسے زندگی میں کبھی مکھی بھی نہیں ماری ہوگی اتنا بے دردی سے قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔شازل نے تصویر دیکھ کر اُس پہ تبصرہ کرنا ضروری سمجھا۔
کسی کی شکل پہ ظاہر نہیں ہوتا وہ قاتل ہے یا ننہا منہا کاکا۔زین نے دانت پہ دانت جمائے کہا
تم اب یہ بتاؤ مجھ سے کیا چاہتے ہو؟میں کیا کروں گا اِس قاتل کا دیدار کرکے۔شازل اصل بات کی جانب آیا۔
مجھے بس اتنا پتا ہے کے یہ لاہور کا رہائشی ہے اسلام آباد میں اِس کا آنا جانا رہتا ہے
میرے پاس تو کبھی نہیں آیا۔شازل اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولا۔
میں نے یہی نہیں کہا کے یہ اسلام آباد میں تم سے ملنے آتا ہے۔زین صبر کے گھونٹ پی کر بولا
اچھا آگے۔شازل سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دیتا اُس کو بات جاری کرنے کا اِشارہ کرنے لگا۔
تمہارے شہر میں کُونٹیکٹس ہوگے تمہارے لیے اِس کے بارے میں کجھ معلوم کروانا مشکل کام نہیں۔زین اتنا کہتا خاموش ہوا
اِس کا مطلب تم اِن ڈائریکٹلی مجھ سے یہ بول رہے ہو میں اسلام آباد سے لاہور پھر لاہور سے اسلام آباد جاؤں؟شازل اپنے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پہ رکھتا داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔
ہاں میں ایسا چاہتا ہوں کیونکہ میری بے گُناہی ثابت ہونے کا بس یہ ایک راستہ ہے دوسرا یہ کے تمہارے کزن کا قاتل بھی پکڑا جائے گا۔زین سنجیدگی سے بولا
ٹھیک ہے میں چلا جاؤں گا اور پورے گاؤں کے سامنے اِس قاتل کا چہرہ بھی لاؤں گا اور کجھ؟شازل زین کو اُس کا فون واپس کرتا ہوا بولا
میری بہن چاہیے مجھے بہت مظالم اُس نے سہہ لیے بے قصور ہوکر۔زین کی بات پہ شازل کے ماتھے پہ بل آئے۔
اُس بے قصور کو بلی کا بکرا بنانے والے بھی تم خود ہو۔شازل نے طنزیہ کیا
میں ماہی کو کب لینے آؤں؟زین اُس کی بات نظرانداز کرکے بولا
وہ اب میری بیوی دوسری بات یہ کے میں جس کام سے جارہا ہوں وہاں میرا ایک ٹھکانہ نہیں ہوگا اور ماہی کو میں انجان شہر میں اکیلا چھوڑ نہیں سکتا اِس لیے جب تک میری واپسی نہیں ہوگی وہ تم لوگ کے پاس رہے گی مگر اُس کے بعد میں اُس کو لینے آجاؤں گا۔شازل نے سنجیدگی سے کہا
کیا تم یہ رشتہ نبھانہ چاہتے ہو؟زین نے سنجیدگی سے پوچھا
تمہیں کیا لگتا ہے؟شازل نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا
پہلے قاتل سامنے آجائے اُس کے بعد دیکھے گے آگے کیا ہونا ہے۔زین کندھے اُچکاکر بولا
وہ ہوگا جو میں چاہوں گا اور ایک بات میں کلیئر کردوں سید شازل شاہ کو اپنے راستے میں رُکاوٹیں پسند نہیں اِس لیے دھیان رکھنا ایسا نہ ہو پھر میں تمہیں لات مار کر اپنے راستے سے ہٹاؤں کسی گلی میں پڑے پتھر کی طرح۔شازل اُس کے پاس تھوڑا جُھکتا سپاٹ انداز میں کہہ کر بہت کجھ باور کرواگیا تھا۔








آروش کمرے میں آنا۔کلثوم بیگم نے پانی کا جگ اُٹھا کر جاتی آروش کو سیڑھیاں چڑھتا دیکھا تو کہا۔
آپ کو کام تھا؟آروش اُن کے کمرے میں داخل ہوتی پوچھنے لگی۔
ناراض ہو؟کلثوم بیگم اُس کو اپنے پاس بیٹھاتی پوچھنے لگی۔
کیا میرا حق ہے ناراض ہونے کا؟آروش نے اُلٹا اُن سے سوال داغا
ایسا لہجہ مت اختیار کیا کرو دل کٹ سا جاتا ہے۔کلثوم بیگم نے افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
میرا اپنا دل کٹا ہوا ہے اماں سائیں۔آروش اُداس مسکراہٹ سے بولی
ہم نے تمہاری حقیقت چُھپائی اُس میں ہماری مجبوری تھی بیٹا۔کلثوم بیگم نے آہستہ آواز میں کہا
مجھ کسی سے کوئی شکوہ نہیں۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
کب تک سب کجھ اپنے تک محدود رکھو گی؟دل میں جو کجھ ہے اُس کو باہر کرو یقین جانو جس سکون کی تلاش میں ہو وہ مل جائے گا۔کلثوم بیگم اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر بولی۔
مجھے کسی کی تلاش نہیں اور نہ میرے اندر کجھ ہے اب میں چلتی ہوں حریم کمرے میں اکیلی ہے اُس کو میری ضرورت ہے اگر کمرے میں کوئی ساتھ نہ ہو تو وہ ڈر جاتی ہے۔آروش سنجیدگی سے کہتی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
حریم کو اپنا عادی مت بناؤ آروش یہ جو حالات اُس پہ آئے اکیلے لڑنے دو ورنہ وہ بس دوسروں میں پناہ تلاش کرتی رہے گی خود کجھ نہیں کرپائے گی یہ لڑائی اُس کی اپنی ہے اچھا ہے وہ خود لڑے۔کلثوم بیگم نے اُس کو سمجھانا چاہا
معذرت اماں سائیں وہ بچی ہے اور اُس کو سہارے کی ضروری ہے میں اُس کو سہارہ دے کر بے سہارہ نہیں کرسکتی اُس نے سب کجھ اکیلے جھیلا ہے اب ساتھ کی ضرورت ہے جو میں اُس کو دوں گی اور آپ فکر نہیں کرے وہ میری عادی نہیں بنے گی بہت مضبوط دل کی ہے پہلے اُس کی باتیں دُرید لالہ سے شروع اور اُن پہ ختم ہوا کرتی تھی اور اب دُرید لالہ کا ذکر بھول سے بھی نہیں کرتی۔آروش سپاٹ لہجے میں بول کر کمرے سے باہر چلی گئ۔








ماہی مجھے تم سے بات کرنی ہے ایک۔ ماہی سونے کے لیے لٹنے والی تھی جب شازل نے اُس کو مخاطب کیا۔
جی کہے۔ ماہی اُس کی جانب متوجہ ہوئی۔
میں کسی ضروری کام سے لاہور جارہا ہوں تو میں چاہتا ہوں جاتے وقت تمہیں تمہارے والدین کے پاس چھوڑ آؤں مجھے حویلی والوں پہ یقین نہیں جانے وہ کیسا رویہ اختیار کرے میرے جانے کے بعد تمہارے ساتھ آرو کو بھی اب اپنا ہوش نہیں ہوتا ہر وقت حریم میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔شازل اپنی بات کہتا اُس کو دیکھنے لگا جو جانے کہاں کھوئی ہوئی تھی۔
میں یہی ٹھیک ہوں۔ماہی نے بس یہ کہا وہ جس کنڈیشن میں تھی اُس کو اپنے گھر جانا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔
تم شیور ہو؟شازل کو اُس کی بات عجیب لگی مگر اُس نے اپنی بات اُس پہ مسلط کرنا ٹھیک نہیں سمجھا۔
جی آپ نے خود ہی بولا تھا میں ونی میں آئی ہوں حویلی والے مجھے اپنے گھر جانے نہیں دینگے۔ماہی اُداس مسکراہٹ سے بولی
ہاں مگر اب سب کلیئر ہے قاتل تمہارا بھائی نہیں۔شازل نے کہا
کیا آپ مجھ سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں؟ماہی بدگمان ہوئی۔
ایسی کوئی بات نہیں فضول بکواس نہیں کرو میں نے اِس لیے کہا کیونکہ تمہارا بھائی چاہ رہا تھا تم اُن کے پاس آؤ۔شازل کو اُس کی بات پہ غصہ آیا تبھی سخت لہجے میں بولا
مجھے ایسا لگ رہا ہے اگر میں یہاں سے گئ تو حویلی کے دروازے میرے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گے۔ماہی کو ایک پل کے لیے خیال آیا وہ شازل کو ساری بات بتادے مگر اُس میں ہمت نہیں ہوئی۔
حویلی کے لیے دروازے بند بھی ہوجائے تو پریشان مت ہوں میرے گھر کے دروازے ہمیشہ تمہارے لیے کُھلے ہوئے ہوگے۔شازل کا اِشارہ اپنے اسلام آباد والے گھر کی جانب تھا جو ماہی اچھے سے سمجھ گئ تھی۔
ٹھیک ہے پھر آپ مجھے امی کے گھر چھوڑ آئیے گا۔ماہی کجھ سوچ کر بولی۔
جو تم کہو مگر پریشان مت ہو میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا اگر کوئی اور بات ہے جو تم کہنا چاہ رہی ہو تو بے جھجھک ہوکر بول دو۔شازل اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا اُس کو اعتماد بخشنے لگا۔
کوئی بات نہیں۔ماہی خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرتی بولی۔
ٹھیک ہے سوجاؤ پھر میں کوشش کروں گا ہسپتال سے تمہاری رپورٹس لیکر اُس کے بعد لاہور جاؤ۔شازل نے مسکراکر کہا تو ماہی کا خون خشک ہوا۔
رپورٹس کے رہنے دے میں ٹھیک تو ہوں۔ماہی اپنے ڈر پہ قابو پائے بولی۔
رپورٹس لانی تو ضروری ہیں نہ یہ کیا بات ہوئی۔شازل کو اُس کی بات عجیب لگی مگر ماہی کا دل انجانے وسوسو سے گھیرا ہوا تھا۔








حریم نے کروٹ لیکر اپنے ساتھ لیٹی آروش کو دیکھا جو گہری نیند میں تھی حریم نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اُس کے چہرے کے سامنے لہرایا تاکہ یقین ہوسکے آروش واقع سوگئ ہے کے نہیں وہ ایک بات جان گئ تھی آروش بہت محتاط ہوکر اُس کے ساتھ سوتی تھی اُس کی ایک آہٹ پہ اُٹھ کر بیٹھ جایا کرتی تھی جو حریم کو سمجھ نہیں آتا آروش کی نیند کچی ہوا کرتی تھی یا نیند میں بھی وہ اُس کی خاطر فکرمند ہوتی تھی۔
آپی سوگئ ہیں یہی صحیح موقع ہے ڈائری پڑھنے کا۔حریم آروش کو غور سے دیکھتی سوچنے لگی جب سے اُس کے ہاتھ میں آروش کی ڈائری آئی تھی تب سے اُس کو تحسس ہوتا تھا کے آخر اُس ڈائری میں لِکھا کیا ہوگا۔وہ آہستہ سے اپنے پیر بیڈ سے نیچے کرتی ڈائری ہاتھ میں لیتی بنا قدموں کی چاپ کیے اُس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آئی۔ اپنے کمرے کا دروازہ لاک کیے اُس نے آگے سے پردے ڈال لیے تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
لائٹ آن کرتی حریم صوفے پہ بیٹھی ڈائری کے ورق گِردانی کرنے لگی۔
بات نہیں ہوتی مگر یقین کیجیے
وہ میرے لیے بہت خاص ہے۔
الفاظ گِرادیتے ہیں جذبات کی قیمت
ہر بات الفاظوں سے تو نہیں کی جاسکتی
ایک شخص آیا تھا میری زندگی میں
پھر میری زندگی بن گیا
اور پھر تیری سوچو نے
میری زندگی اُجاڑ دی
اُن سے بچھڑ جانے میں ہی بھلائی تھی
آج یہ احساس ہوگیا
یہ کافی ہے کے وہ میرا ہوا تھا
اِس بات کو تو چھوڑ کہ
وہ اب کس کا ہے
حال کرلینا’گنوا دینا’یہ الگ دُکھ ہیں
لیکن کل تک جو آپکا تھا آج اُسے کسی اور
دیکھنا’حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں
دوریوں سے سکون ملنے لگے تو
جُدائی کا ڈر ختم ہوجاتا ہے
خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے
محسن میں یوں بھی پھول تھی
مجھے آخر بکھرنا تھا
یہ کیا اِس میں تو بس شاعری ہیں ہم نے تو سوچا تھا آپی نے اپنے دل کی باتیں بیان کی ہوگی مگر وہ تو عجیب ہیں انسانوں سے کیا اپنی ڈائری میں بھی کجھ نہیں لکھا۔حریم ڈائری بند کرتی بے دلی سے بڑبڑائی اُس کا خراب موڈ مزید خراب ہوگیا تھا









جلدی آئیے گا۔شازل نے ماہی کے گھر کے باہر گاڑی رُوکی تو اُس نے شازل کی جانب رُخ کیے کہا
میں یہی کوشش کروں گا بس تم پریشان مت ہونا کیونکہ دیر سویر ہوسکتی ہے بس دعا کرنا میرا مقصد پورا ہوجائے۔شازل نے مسکراکر کہا
میری دعا آپ کے ساتھ ہیں بس آپ جلدی آئیے گا۔ماہی نے سنجیدگی سے کہا
ماہی میں ایک بار پوچھتا ہوں اگر کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ مجھے تم بہت کھوئی کھوئی سی لگ رہی ہو۔شازل اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا بولا۔
اگر کوئی بات ہوگی تو میں سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گی۔ماہی نے زبردستی مسکراہٹ سے کہا تو شازل نے مزید اصرار نہیں کیا وہ چاہتا تھا ماہی خود اُس کو سب کجھ بتائے جو اُس کے دل میں چُھپا تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ماہی میری بچی خدا کا شکر تم اپنے گھر واپس آگئ۔بختاور بیگم ماہی کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوگئ تھی باقی سب بھی اُس کے گرد جمع ہوگئے تھے۔
شازل لاہور گئے تھے تبھی مجھے یہاں چھوڑ گئے ہیں۔ماہی نے جانے کیا جتانا چاہا مگر سب اُس کو دیکھ کر خوشی میں اتنے مگن تھے کے غور ہی نہیں کیا۔
کتنی کمزور ہوگئ ہو کیا کھاتی پیتی نہیں تھی۔بختاور بیگم اُس کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر بولی
میں ٹھیک ہوں بس آپ لوگوں نے بہت وقت بعد دیکھا ہے تبھی لگ رہا۔ماہی نے مسکراکر کہا
میری بچی مجھ سے ناراض تو نہیں؟حشمت صاحب اُس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر بولے
بلکل بھی نہیں۔ماہی مسکراکر کہتی اُن کے سینے سے لگی باقی سب بھی آبدیدہ ہوگئے تھے۔









حال!
دُرید شاہ اور آروش اِس وقت ویٹنگ ایریا میں تھے حریم کا چیک اپ ہورہا تھا جس وجہ سے وہ ڈاکٹر کے انتظار میں تھے۔
ڈاکٹر حریم کیسی ہیں اُس کو کیا ہوا تھا؟ڈاکٹر باہر آئی تو دُرید بے چینی سے پوچھنے لگا
آپ دونوں میرے کیبن میں آئے۔ڈاکٹر سنجیدگی سے اُن دونوں کو دیکھ کر بولی۔
جی بتائے کیا کوئی خطرے والی بات تو نہیں؟آروش دُرید کے ساتھ کیبن میں آتی پوچھنے لگی۔
She is expecting;
ڈاکٹر اُن دونوں کو یہ خبر سُناتے ہوئے کافی ناخوش نظر آرہی تھی جب کی اُن دونوں پہ تو جیسے کسی نے بم گِرایا تھا۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔آروش کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی جب کی دُرید کجھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔
Is she unmarried?
ڈاکٹر دونوں کے تاثرات جانچتی اپنا اندازہ لگانے لگی تو دُرید کی آنکھوں میں خون اُتر آیا جب کی آروش کو بھی اُن کا ایسے پوچھنا پسند نہیں آیا تھا۔
ایکسکیوزمی ڈاکٹر وہ شادی شدہ ہے ہم بس اُس کی عمر کی وجہ سے پریشان ہوگئے تھے سن کر۔دُرید اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر بولا
رائٹ میں خود پریشان ہوگئ تھی کیونکہ وہ بہت کم عمر اور کمزور سی ہیں ایسے میں اُن کا پریگننٹ ہونا خطرے سے خالی نہیں پر آپ لوگوں کی حیرانی سمجھ نہیں آئی وہ اگر آپ لوگوں کو بھی چھوٹی لگ رہی ہے تو شادی کیوں کروائی اُس کی اتنی جلدی پھر یہ سب تو ہونا تھا نہ ابھی تو وہ خود بچی ہے آجکل کہاں ایسے ہوتا ہے قانونی حساب سے یہ جرم بھی ہے۔ڈاکٹر باتوں سے اُن کو کافی بے باک معلوم ہوئی جب کی آروش اپنی جگہ پہلو بدل کر رہ گئ۔
وہ ایک بالغ لڑکی ہے پھر جرم کیسا۔آروش نے سوال کیا تو دُرید نے اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر خاموش رہنے کا اِشارہ کیا
ہم بہت خیال رکھے گے حریم کا آپ بس اُن کی ڈائیٹ کا بتادے اُس کے لیے کیا ٹھیک رہے گا اور کیا نہیں۔دُرید سنجیدگی سے بولا
آپ سب کو اُن کا بہت خیال رکھنا بھی چاہیے ورنہ بہت کرائسس سے اُن کو گُزرنا ہوگا خیر میں کجھ سیمپلز وغیرہ لکھ کر دے رہی ہوں اور ایک چارٹ بناکر دوں گی آپ کو وہ فالو کرنا ہوگا۔ڈاکٹر اب کی پروفیشنل انداز میں بولی
اگر حریم کی جان کو نقصان ہے تو کیا ایسا ہوسکتا ہے کے بچہ نہ ہو۔دُرید کی بات پہ آروش جھٹکے سے سر اُٹھا کر دُرید شاہ کو دیکھنے لگی جس کا انداز سرد سپاٹ تھا
لالہ۔آروش نے اُس کو باز رکھنا چاہا
مجھے بات کرنے دو آرو حریم کی ایسی کنڈیشن نہیں جو بے بی کا خیال رکھ سکے میرے لیے سب سے پہلے حریم ہے۔دُرید نے اُس کو ٹوک کر کہا
کیا آپ اُن کے ہسبنڈ ہیں؟کیونکہ مجھے اُن کے ہسبنڈ کو سب کجھ سمجھانا چاہتی ہوں تاکہ کسی بھی کام میں کوتاہی نہ ہو۔ڈاکٹر دُرید کی بات سن کر اُس سے استفسار ہوئی۔
آپ پلیز یہ بتائے جو میں نے پوچھا۔دُرید نے ان کی بات نظرانداز کی۔
اگر آپ کا اِشارہ ابارشن کی جانب ہیں تو میں کلیئر کردوں یہ ایک غیرقانونی عمل ہے ہمارے ہوسپٹل میں ایسا نہیں ہوتا ہم کسی معصوم کی جان نہیں لیتے۔ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا
ہمیں کوئی ابارشن نہیں کروانا آپ بس احتیاطاً چیزیں بتائے ہم سب حریم کا بہت خیال رکھے گے۔آروش دُرید کو دیکھتی ڈاکٹر سے بولی۔
جی ٹھیک مگر ایک بات کہنا چاہوں گی اگر آپ لوگوں کو اُن کے پریگننٹ ہونے پہ ایشو ہے تو یہ تب سوچنا چاہیے تھا جب اُس کی شادی کروا رہے تھے یہ سب پہلے ہوا کرتا تھا آج کے زمانے میں بچیوں کی اتنی جلدی شادیاں نہیں ہوتی آپ لوگ خود سوچے کیا سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی کی شادی کروانا ایک دُرست عمل ہے؟پریگنسی میں بہت پیچیدگیاں ہوتی ہے کئ لڑکیوں کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ڈاکٹر دونوں کو دیکھتی بولی تو وہ دونوں خاموش رہے کیونکہ کسی کے پاس اُن کی باتوں کا جواب نہیں تھا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیا آپ کو ڈاکٹر سے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔وہ دونوں کیبن سے باہر آئے تو آروش نے دُرید سے کہا
جانتا ہوں میں اِس وقت تمہیں بہت بُرا لگ رہا ہوں مگر میں کیا کرتا اُن کی بات سن کر مجھے گھبراہٹ ہونے لگی تھی اگر حریم کو کجھ ہوجاتا تو۔دُرید بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا
اُس کو کجھ نہیں ہوگا لالہ آپ پریشان نہ ہو بس اُس کے لیے دعا کرے وہ ٹھیک ہوں سب کجھ خیریت سے ہوجائے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
ہممم ٹھیک تم حریم سے کہو وہ آئے ہمیں اب گاؤں کے لیے نکلنا چاہیے۔دُرید نے کہا تو آروش نے سر کو جنبش دیتے حریم کی جانب بڑھی جو روم میں تھی۔






اِس بار تمہارا ٹِرپ کافی لمبہ نہیں گُزرا؟زوبیہ بیگم یمان کا وجیہہ چہرہ دیکھتی اُس سے پوچھنی لگی جو ابھی لاہور سے آیا تھا۔
جی بس مصروفیت بہت ہوگئ تھی وہاں ایک دو انڈسٹریز تھی جہاں سے آفر ملی تھی سونگز تھی اُن کی رکارڈنگ سے فارغ ہوا پھر لاہور کا موسم خراب ہوگیا تھا راستے بند ہوگئے تھے اِس لیے واپس آنے میں وقت لگ گیا۔یمان ہلکی سی مسکراہٹ سے بولا
ہم نے تمہیں بہت مس کیا تمہارے بنا گھر سُونا سُونا سا ہوگیا تھا۔زوبیہ بیگم اُس کا ماتھا چوم کر بولی۔
اب تو یقیناً تم فری ہوگے؟دلاور خان نے پوچھا
جی فری ہوں اور تھکا ہوا بھی آرام کروں گا۔یمان نے جواب دیا۔
چلو اچھا ہے آرام کرو باتیں تو اب ہوتی رہے گی کمزور بھی لگ رہے ہو اپنا خیال بلکل بھی نہیں کرتے۔زوبیہ بیگم نے خفگی بھرے لہجے میں کہا
کہاں کمزور ہے اتنا ہٹا کٹا تو سامنے بیٹھا ہے۔یمان کے کجھ کہنے سے پہلے دلاور خان بول پڑے
آپ بس نظر لگانا میرے بچے کو۔زوبیہ بیگم نے اُن کو گھورا کر کہا تو یمان ہنس پڑا جب کی دلاور خان نے اپنے ہاتھ اُپر کرلیے۔
