Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 30)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

ارے تم سب یہاں۔ماہی نے ابھی اُن کو اندر آنے کا راستہ نہیں دیا تھا مگر شازل کی آواز سن کر وہ جلدی سے سائیڈ پہ کھڑی ہوگئ تھی۔

شازل کیسے ہو ڈارلنگ؟عائشہ نے شازل کو دیکھا تو جلدی سے اُس کو ہگ کر بے تکلف انداز میں اُس کا حال احوال دریافت کرنے لگی۔ماہی جو ابھی ڈارلنگ لفظ پہ سنبھل نہیں پائی تھی اُس انجان لڑکی کو اپنے شوہر کے گلے لگتا دیکھ کر اُس کی آنکھیں اور منہ دونوں کو کُھلا کا کُھلا رہ گیا باقی چار لڑکیوں نے بھی شازل کو اپنے گھیرے میں لیے رکھا تھا۔ماہی نے غور سے شازل کو دیکھا جو نارمل انداز میں اُن سے بات کررہا تھا۔

بے شرم انسان شاہ خاندان سے اور حرکتیں دیکھیں ذرہ۔ماہی اُن سب کو گھور کر کرہ کر سوچنے لگی۔

شازل تم تو ہمیں بھول ہی گئے تھے کلب میں کیوں نہیں آتے اب۔ماہین صوفے پہ بیٹھتی شکایت بھرے لہجے میں شازل سے بولی تو باقی چاروں بھی سوالیہ نظروں سے شازل کو دیکھنے لگی۔

یہ کیا بات ہوئی کہنے کی بہنیں بھی کوئی بھولنے والی چیز ہوتی ہیں بس اب شازل شادی ہونے کے بعد کجھ مصروف سے ہوگئے ہیں۔شازل کے جواب دینے سے پہلے ماہی بول پڑی۔

واٹ شادی؟عائشہ کے چہرے پہ حیرانگی سے بھرے تاثرات نمایاں ہوئے۔

شازل تم نے شادی کردی؟دلکش اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بولی

کب ہمیں بتانا تو دور بُلایا تک نہیں۔ماہین نے شکوہ کیا

مجھے تم سے یہ اُمید نہیں تھی شازل۔نیہا بے یقین لہجے میں بولی۔

میرا تو دل ہی ٹوٹ گیا۔صبور رونے کے قریب تھی۔

شازل کی سوئی جو بہن لفظ پہ اٹکی ہوئی تھی اُس سوئی سے اُس کا دھیان اُن پانچوں نے ہٹایا جو سب ایک ساتھ میں اپنے اپنے دل کا حال بیان کررہی تھی۔ماہی نے بیزارگی سے اُن کا چہرہ دیکھا۔

ایسا بھی کیا ہوا جو تم سب اتنا حیران ہو رہی بس شادی کی تو کی ہے مجھے لگا ارحم یا رضا میں سے کسی نے بتایا ہوگا۔شازل عام لہجے میں بولا۔

واہ جی واہ لڑکوں میں بس دو فرینڈز کا نام جب کی لڑکیوں سے دوستی کی تو قطار ہے۔ماہی جلے کٹے انداز میں سوچنے لگی

اُن سے ہماری بات نہیں ہوتی۔ماہین نے بتایا

اچھا پھر اگلی بار آپ سب اُن کے گھر جائے گی۔ماہی نے میٹھا سا طنزیہ کیا۔

ماہی تم یہاں بیٹھی کیوں ہو اِن کے لیے ریفریشمنٹ کا بندوبست کرو نہ۔شازل نے ماہی کو دیکھ کر کہا

شیور۔ماہی زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر اُس سے بولی

شکریہ۔شازل نے مسکراکر اُس سے کہا تو ماہی تیز نظر اُن سب پہ ڈال کر کچن کی طرف بڑھی۔

تم تو بڑا داعوہ کرتے تھے کبھی نہ شادی کرنے کے پھر اِس لڑکی میں کیا نظر آگیا جو ڈائریکٹ شادی کردی۔عائشہ نے حسد بھرے لہجے میں شازل سے کہا

ہماری کوئی لو میریج نہیں۔شازل نے اُن کی غلطفہمی دور کی۔

وہ لڑکی پرٹین تو ایسے کررہی تھی جیسے تم دونوں کے درمیان دھواں دار عشق ہو۔ماہین نے منہ کے زاویئے بنا بنا کر کہا

ہاں اور نہیں تو کیا کیسے ہمیں شازل کی بہن بنا ًڈالا۔نیہا نے بھی اُن کی ہاں میں ہاں ملائی۔

یہ سب چھوڑو تم سب مجھے یہ بتاؤ آج یہاں کیسے آنا ہوا؟شازل نے اُن کا دھیان اپنی شادی کے ٹاپک سے ہٹایا۔

ماہی تم یہاں کیوں بیٹھی ہو ریفریشمنٹ کا بندوبست کرو ہونہہ میں جیسے اُن چڑیلوں کی نوکرانی ہوں۔کچن میں سامان یہاں سے وہاں پٹھختی ماہی جل کٹے انداز میں بتانے لگی۔

ریفریشمنٹ میں اُن کے سامنے زہر نہ پیش کروں چڑیلے بھوتنی کہی کی تیار شیار ہوکر بھن ڈھن کر میرے شوہر کو اپنے جال میں پھسانے آئی ہیں۔چولہے کی آنچ تیز کرکے وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔

ویسے بنانا کیا ہے ان چڑیلوں کے لیے۔ماہی کو اچانک خیال آیا تو چونک پڑی۔

ایک خون کا پیالہ دوسرا دوسرے میں کُتے کا گوشت؟ماہی کمر پہ ہاتھ رکھ کر گہرے انداز میں سوچنے لگی۔

کُتا اور خون کہاں سے آئے گا۔ماہی نے افسوس سے کہا۔

کل رات والا کباب گرم کرکے اُن کے سامنے پیش کرتی ہوں چائے کے ساتھ۔ماہی کے دماغ میں اچانک خیال آیا تو چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی۔

نہیں نہیں مہمان تو اللہ کی طرف سے رحمت ہوتے ہیں وہ جب جاتے ہیں تو بلائے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں رہے گا ایسا کرتی ہوں بریانی بناتی ہوں۔بریانی؟ماہی اپنے خیالات کی نفی کرتی کجھ اور سوچنے لگی جب بریانی لفظ پہ اُس کو تعجب ہوا۔

کونسا اِن کی دعوت ہے جو میں اِن چڑیلوں بھوتنیوں کے سامنے بریانی پیش کروں گی بریانی بنانے میں وقت بھی بہت لگتا ہے تب تک کیا یہ لوگ یہاں بیٹھی رہے گی ہرگز نہیں اور اگر میں اپنے قیمتی وقت سے کجھ وقت نکال کر بریانی بھی نہ لو پھر جو اِن کو پسند آجائے تو ایسے تو یہ روز میرے گھر آئے گی مجھے کجھ ایسا کرنا ہے جیسے یہ پھر کبھی یہاں نہ آئے۔ماہی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کرے تو کرے کیا۔

یااللہ اِس بار ایسا کرے ہوں اگلی بار اگر کوئی اور مہمان آیا تو اُن کی خدمت بہت زیادہ کروں گی پر اِن کی میں نہیں کرسکتی میرا اتنا بڑا ظرف نہیں۔ماہی اُپر کی جانب دیکھتی فریج سے کباب نکال کر اُس کو گرم کرنے لگی ساتھ میں چولہے پہ گرم پانی بھی چڑھا دیا چائے کے لیے۔

سینکس بنادیتی ہوں کیا پتا شازل وہ کھائے۔کباب گرم کرنے کے بعد اُس کو نیا خیال آیا۔

سب کجھ بنانے کے بعد اُس نے سب اچھے سے ٹرے میں سیٹ کیا پھر باہر کی جانب آئی تو اُس کا خون کھول اُٹھا کیونکہ شازل کے ایک طرف نیہا تو دوسری طرف عائشہ بیٹھی شازل کے کان میں جانے کیا باتیں کررہی تھی۔

بے شرم کیسے اپنے اگل بگل میں لڑکیوں کو بیٹھایا ہوا ہے۔ماہی ٹرے ٹیبل پہ رکھتی بیزاری سے بڑبڑائی۔

غالباً تمہیں یہی بنانا آتا ہے۔عائشہ نے ایک نظر ٹرے پہ ڈال کر ماہی سے کہا

یقیناً آپ کو یہ بھی بنانا نہیں آتا ہوگا۔ماہی تُرکی پہ ترکی بولی تو عائشہ کا چہرہ زلت کے احساس سے سرخ ہوا شازل حیرت سے ماہی کے یہ روپ دیکھ رہا تھا جو اُس کی فرینڈز کو کچا چباجانے والی نظروں سے بس دیکھے جارہی تھی۔

ہاؤ روڈ۔ماہین کو ماہی کا ایسا کہنا بلکل پسند نہیں آیا تھا تبھی کہا مگر ماہی اُن سب کو نظرانداز کرتی کپوں میں چائے ڈالنے لگی۔

پہلےمجھے پانی کا گلاس دو۔عائشہ نے روعب بھرے انداز میں اُس سے کہا تو ماہی نے شازل کو دیکھا جو خود کو لڑکیوں کے درمیان پھنستا محسوس کررہا تھا ماہی شازل نے نظر ہٹاکر اُس کے لیے پانی لینے کچن میں چلی گئ۔

یہ لو پانی۔ماہی نے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھا کر دانت پہ دانت جمائے کہا

تھن

آ آ آ آ یہ کیا کردیا۔عائشہ نے ابھی گلاس میں ہاتھ ڈالا ہی نہیں تھا جب ماہی کے گلاس سے اپنی گرفت نکالی تو سارا پانی عائشہ پہ گِرپڑا جس سے وہ پریشانی سے اُٹھتی تقریباً چیخ پڑی

آہستہ کیا ہوگیا ہے صرف پانی ہی تو ہے۔شازل نے اُس کو اتنا اور ری ایکٹ کرتا دیکھا تو کوفت بھرے لہجے میں بولا

تمہاری بیوی نے مجھ پہ جان بوجھ کر پانی گِرایا۔عائشہ ماہی کو گھور کر بولی جو معصوم شکل بنائے کھڑی تھی۔

مجھے کتنے نفلوں کا ثواب ملے گا ایسا کرکے۔ماہی نے اپنا دفاع کیا۔

عائشہ کوئی بات نہیں تم یہاں بیٹھ جاؤ۔دلکش نے اُس کو اپنے پاس آنے کا اِشارہ دیا

چائے۔ماہی نے شازل کی طرف چائے کا کپ بڑھایا۔

میں چائے اِس وقت نہیں پیتا پلیز میرے لیے کافی بنادو۔شازل نے مسکراکر کہا تو ماہی کے چہرے کی ہوائیاں اُڑگئ۔

کافی۔ماہی نے کنفرم کرنا چاہا کیونکہ اُس نے کبھی کافی نہیں بنائی بنانا تو دور اُس نے کبھی کافی شکل تک نہیں دیکھی تھی کیوں اُن کے گاؤں میں زیادہ تر چائے یا کہوہ پیا جاتا یا نزلہ زکام کے لیے جوشاندہ اب اگر وہ یہ شازل کو بتاتی تو اُس نے اور اُس کی گرلفرینڈز نے یقیناً اُس کا مذاق بنانا تھا۔

ہاں کافی۔شازل نے جیسے مہر لگائی۔

ضرور۔ماہی نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر کہا۔

شازل تمہارے کیس کا کیا بنا؟نیہا نے چائے کا سِپ لیتے شازل سے پوچھا

کل ہیئرنگ ہیں پتا چل جائے گا ویسے بھی میرا کیس اسٹرونگ ہیں۔شازل پرسکون لہجے میں بتایا۔

ہاں بھئ کیوں نہیں ہوگا آپ صاحب تو کیس لینے سے پہلے جانچ پڑتال کرتے ہیں کے جو کیس آپ لینے والے ہیں اُس میں صداقت ہے بھی یا نہیں۔ماہین نے شرارت سے کہا تو سب ہنس پڑے۔

کافی میں پتی ڈالنی ہوتی ہے یا نہیں اور کیا کیا مِکس کرنا پڑتا ہوگا۔کچن میں آتی ماہی پریشان سی ہوگئ اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اب کرے تو کیا کرے۔

میرے پاس تو موبائیل بھی ورنہ یوٹیوب سے ہی دیکھ لیتی۔ماہی کو آج اپنا شمار جاہل لوگوں میں شمار ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

شازل کے پاس تو ہوگی؟اُن کا لے لیتی ہوں ویسے بھی اُن کا فون کمرے میں چارجنگ پہ لگا ہوا ہے اُن کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ماہی کے دماغ کی بتی گُل ہوئی تو جلدی سے شازل کے کمرے میں گئ جہاں عین اُس کی سوچ مطابق فون چارجنگ پہ تھا ماہی نے لپک کر فون ہاتھوں ہاتھ لیا تو خوشقسمتی سے کوئی پاسورڈ بھی نہیں تھا۔

ہائے اللہ شازل آپ کتنے اچھے ہیں۔وال پیپر پہ شازل کی تصور دیکھ کر اور کوئی پاسورڈ نہ دیکھ کر ماہی کی باچھیں کُھل گئ۔وہ جلدی سے کچن میں جاکر موبائل میں یوٹیوب آن کیا پھر کافی بنانے کا طریقہ دیکھا تو اُس کو معلوم ہوا کافی میں پتی کا استعمال نہیں ہوتا ماہی کو بے ساختہ اپنے خیالات پہ ہنسی آرہی تھی۔

لو جی کافی تیار اب میں شازل کو بھی ایسا مزہ چکھاؤں گی کے کبھی اپنے کسی دوست کو گھر آنے کی دعوت نہیں دینگے اسپیشلی اِن چڑیلوں کو تو بلکل بھی نہیں۔ماہی ایک نیا منصوبہ تیار کرتی باہر کی جانب بڑھی۔

کافی۔شازل عائشہ کے کسی بات کا جواب دے رہا تھا جب ماہی نے کافی کا کپ اُس کی طرف بڑھایا۔

تھینکس۔شازل کپ تھام کر اُس سے بولا تو ماہی بلکل اُس کے ساتھ جڑکر بیٹھ گئ۔شازل جو کافی پینے والا تھا ماہی کی اِس حرکت پہ اُس نے اپنی دوستوں کی جانب دیکھا جن کی نظریں اُس پہ تھی شازل اُن سب کو دیکھتا کجھ فاصلے پہ بیٹھا ماہی نے اُس کو کھسکتا دیکھا تو خود بھی تھوڑا کھسک کر دوبارہ سے اُس کے ساتھ جڑکر بیٹھی۔شازل نے گردن موڑ کر اُس کی جانب دیکھا تو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا کیونکہ ماہی میٹھی میٹھی نظروں سے اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔

کیا ہوا کافی پسند نہیں آرہی کیا میں اپنے ہاتھوں سے آپ کو کافی پِلاتی ہوں۔ماہی سب کی موجودگی کو فراموش کیے چاشنی بھرے لہجے میں شازل کو دیکھ کت بولی تو حیرت سے شازل کی آنکھیں اُبلنے کے قریب تھی۔

نہیں پسند ہے میں خود پی لوں گا۔شازل زبردستی مسکراہٹ سے بول کر کافی کا گھونٹ بھرنے لگا۔

آپ کی ڈارھی بہت بڑھ گئ ہے شازل۔ماہی اُس کی بیئرڈ پہ ہاتھ پھیر کر بولی تو شازل کے چہرے کی رنگت پل بھر میں اُڑی تھی۔

ماہی یار نہیں کرو مجھے گدگدی ہورہی ہے۔شازل فورن سے اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس سے بولا تو ماہی اُس کی اُڑی رنگت دیکھ کر بامشکل اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا۔

نامحرم لڑکیوں سے تو بڑا ہنس ہنس کر بات کررہے تھے گلے بھی ملا جا رہا تھا مگر اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھنے میں شرم آرہی ہے واہ کیا کہنے ہیں موصوف کے۔شازل کی سرخ پڑتی رنگت دیکھ کر ماہی چسکا لیکر سوچنے لگی دوسری طرف شازل کو ماہی سے اتنی بے باکی کی اُمید بلکل نہیں تھی وہ سمجھ نہیں پارہا تھا آج ماہی ایسا بی ہیو کیوں کررہی تھی۔

میرے خیال سے اب ہمیں جانا چاہیے۔صبور کباب کی پلیٹ ٹیبل پہ رکھ کر بولی۔

یوئر رائٹ لیٹس گو۔نیہا کو بھی مزید رُکنا ٹھیک نہیں لگا جب کی ماہی کو ذرہ توقع نہیں تھی اُس کا پلین اتنی جلدی کام کرجائے گا۔

اوکے شازل بائے۔وہ سب اُٹھ کر کھڑی ہوکر بولی تو شازل نے صرف سر ہلانے پہ اکتفا کیا۔

مجھے کجھ کام ہے میں آتا ہو۔۔شازل بنا ماہی کی جانب دیکھتا اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو اُس کی حرکت پہ ماہی کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہوگیا

اوو اللہ یہ وکیل صاحب تو بڑے شائے نکلے۔ماہی شازل کا ردعمل سوچتی پھر سے ہنس پڑی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ نے حریم کو جھوٹی اُمید کیوں دلائی تھی وہ معصوم ہے اُس کا دل ٹوٹ جائے گا آپ اچھے سے جانتے ہیں دُرید کبھی حریم سے شادی کرنے پہ رضامند نہیں ہوا۔دوسرے دن کلثوم بیگم پریشانی کے عالم میں شھباز شاہ سے بولی جو باہر جانے والے تھے۔

تم سے کس نے کہا میں نے حریم کو جھوٹی اُمید دلائی ہے میں شھباز شاہ ہوں جو کہتا ہوں وہ کرکے بھی دیکھاتا ہوں۔شھباز شاہ مغرور لہجے میں بول کر ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی گھڑی اُٹھاکر پہننے لگے۔

حریم کس احسان کی بات کررہی تھی؟کلثوم بیگم کے اچانک خیال آیا تو پوچھ بیٹھی مگر اُن کے سوال پہ شھباز شاہ کے ہاتھ گھڑی پہنتے ہوئے تھمے تھے وہ جیسے ماضی میں کھو سے گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماما جان۔حریم بھاگتی ہوئی شھباز شاہ کے کمرے میں آکر پُھولی ہوئی سانسوں کے درمیان اُن کو آواز دی۔

حریم آپ سے کتنی بار کہا ہے ڈوپٹہ اچھے سے پہنا کرے اب آپ بڑی ہوگئ ہیں۔شھباز شاہ نے اُس کا ڈوپٹہ سر کے بجائے کندھے پہ جھولتا دیکھا تو ڈپٹ کرے بولے

معذرت ماما جان مگر ہمیں آپ کو کجھ بتانا ہے وہ آروش آپی۔حریم اتنا کہتی خاموش ہوئی۔

کیا ہوا آروش کو؟شھباز شاہ آروش کے نام پہ پریشان ہوئے۔

نانون جان انہیں زہر پِلانے کا حکم دے رہی ہم نے ڈرامے میں دیکھا تھا وہاں کہہ رہے تھے زہر پینے سے انسان مرجاتا ہے۔حریم کی بات پہ شھباز شاہ کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہورہا تھا وہ اُٹھے اور آروش کے کمرے کی طرف بڑھے۔

۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ سائیں۔کلثوم بیگم نے اُن کو آواز دی تو وہ جیسے ہوش میں آئے۔

جب اُس نے بتایا تھا تب میں نے کہا تھا اُس سے حریم کی معصومیت میں بتائی ہوئی وہ بات بہت ضروری تھی ورنہ ہماری آرو کو نقصان بھی ہوسکتا تھا۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہہ کر اپنے کمرے سے باہر جانے لگے

کیا اب آپ دُرید سے بات کرنے والے ہیں؟کلثوم بیگم نے پیچھے سے آواز دی۔

ہمممم۔شھباز شاہ نے مختصر جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات کا وقت تھا شازل گھر واپس لوٹا تو ماہی کو ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا پایا۔

ماہی میرے لیے ایک کپ کافی بناکر کمرے میں لاؤ۔شازل اؐس سے کہتا اپنے کمرے کی جانب چل گیا اُس کے جانے کے بعد ماہی نے وال کلاک پہ وقت دیکھا جہاں رات کے گیارہ بج رہے تھے صبح تو اُس نے بڑی دلیری سے شازل کے ہوش اُڑا دیئے تھے مگر اب اُس کو شازل کا سامنا کرنے میں ہچکچاہت سی محسوس ہورہی تھی۔

اللہ کرے صبح کے مطلق وہ کوئی بات نہ کرے۔ماہی دعائیہ انداز میں کہتی کچن میں چلی گئ کافی بنانے کے لیے۔

یااللہ خیر۔ شازل کے کمرے کے پاس کھڑی ہوکر اُس نے گہری سانس بھر کر خود کو ہمت دلائی پھر دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھ کر دروازہ کھول کر وہ کمر میں داخل ہوئی جہاں شازل سنجیدگی سے بیڈ پہ لیپ ٹاپ لیے کسی کام میں مصروف تھا ماہی نے شکر کا سانس خارج کیا اور کافی کا کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر وہ جانے کے لیے جیسے ہی پلٹی اُس کی کلائی شازل کی آہنی گرفت میں آگئ جس کو محسوس کرکے اُس نے اپنی آنکھوں کو زور سے میچا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دُرید کمرے میں آیا تو بیڈ پہ بیٹھے وجود کو دیکھ کر اُس کے زخم پھر سے تازہ ہوئےوہ دندناتا اُس کے قریب آتا بازوں سے پکڑ بیڈ سے نیچے اُتارہ جس سے وہ اُس کی اتنی سخت گرفت میں حریم کراہ اُٹھی۔

کیا کہہ رہی ہو یہاں۔دُریدا شاہ دھاڑا

وہ ہم۔حریم کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا بولے اُس کے لیے دُرید کا یہ رویہ پہلی بار دیکھنے کو ملا تھا جس سے اُس کی آنکھیں نم ہوگئ تھی ہمیشہ پیار سے بات کرنے والا شخص کیسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

کیا وہ ہاں کیا وہ یہ مگرمچھ کے آنسو میرے سامنے نہیں چلے گے کیا سمجھتا آرہا تھا میں تمہیں اور کیا نکلی تم۔دُرید اُس کا بازوں اپنی سخت آہنی گرفت میں لیتا غصے سے پھنکارا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ حریم کو شوٹ کردیتا۔

ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔حریم اُس کی بات پہ تڑپ کے بولی

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ بہت شوق تھا نہ تمہیں مجھ سے شادی رچانے کا تو خوش ہوجاؤ ہوگیا شوق پورا تمہارا پر میری بات ذہین نشین کرلوں میں نہ کل تمہارا تھا اور نہ کبھی ہوگا بیٹھی رہو یہاں میرے نام پہ ہمیشہ۔دُرید اُس کو پیچھے دھکیلتا بولا جس سے وہ بیڈ پہ اوندھے منہ گِری۔

آپ ہمارے ساتھ ایسے نہیں کرسکتے۔حریم نے التجائیہ انداز میں کہا مگر وہ بے حس بن کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *