Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 04)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 04)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
ماضی!
وہ سب اِس وقت مل کر کھانا کھارہے تھے جب مستقیم صاحب نے روغبت سے کھانا کھاتے یمان کو مخاطب کیا
یمان۔
جی ابا۔یمان کھانا چھوڑ کر اُن کی طرف متوجہ ہوا۔
کل تم میرے ساتھ دُکان پہ چلنا۔مستقیم صاحب کی بات پہ عیشا نے ایک چور نظر فجر پہ ڈالی جو پریشانی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
میں کیوں ابا۔یمان کے گلے میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی
کیا مطلب کیوں میں دُکان پہ کیوں جاتا ہوں۔مستقیم صاحب نے اُس کو گھورا
ابا یمان تو کالج جائے گا نہ۔فجر نے ہمت کرکے کہا
کالج کس کالج جس کالج پڑھنے کی فرمائش تمہارے بھائی نے کی ہے وہ ہماری اوقات سے باہر ہے اچھا تھا کسی سرکاری ادارے میں پڑھ لیتا تو اِس کا سال برباد نہ ہوتا اب جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا میرے ساتھ دکان دیکھے اب۔مستقیم صاحب اٹل لہجے میں گویا ہوئے
پر ابا دکان تو میں نے بچپن سے دیکھی ہوئی ہے۔یمان کی بات پہ پانی پیتی عیشا کو زبردست قسم کا غوطہ لگا تھا فجر نے جلدی سے اُس کی پیٹھ تھپتھپائی۔
دوسری طرح سے دیکھنا اب کل آؤ گے تو سمجھ آجائے گا۔مستقیم صاحب پانی پی کر دسترخواہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے یمان رونی صورت بنا کر اپنی ماں کو دیکھنے لگا
اللہ سے بہتر کی اُمید رکھو میں بات کرتی ہوں تمہارے ابا سے وہ نہیں روکے گے تمہیں آگے پڑھنے سے۔فائزہ بیگم نے تسلی آمیز لہجے میں کہا تو یمان نے سر ہلایا۔
آپی مجھے کرانے کا دُکان نہیں دیکھنا۔یمان فجر اور عیشا کے مشترکہ کمرے میں آتا فجر سے بولا جو ٹیوشن کے بچوں کی کاپیاں چیک کررہی تھی جن کو ہٹا کر یمان نے اپنا سر فجر کی گود میں رکھا
جی جی آپ تو راج کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔نیچے بیٹھ کر سلائی کرتی عیشا نے میٹھا سا طنزیہ کیا اُن دونوں کی عمر میں تین سال کا فرق تھا پر لڑتے ایسے تھے جیسے ایک عمر کے ہو جب کی فجر دونوں سے بڑی تھی فجر تین سال کی تھی جب عیشا پیدا ہوئی تھی اُس کے تین سال بعد پھر یمان کی پیدائش ہوئی تھی فجر نے گھر کے حالات دیکھ کر گریجویشن کے بعد پڑھائی چھوڑ کر مُحلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا تھا اُس کو دیکھ کر عیشا نے بھی گریجویشن کے بعد پڑھائی کو خیرآباد کردیا تھا پھر ٹیوشن کے ساتھ ساتھ سلائی وغیرہ کا کام بھی کرتی پر یمان کی خواہش آگے پڑھنے کی تھی ساتھ میں اُس کو سنگنگ کرنے کا بھی شوق تھا جو مستقیم صاحب کو پسند نہیں تھا وہ اِس بات کے سخت خلاف تھے اُن کا کہنا تھا گانا اور ڈھول بجانا مراثیوں کے کام ہوتے ہیں عزت گھرانے کے لوگ ایسے کام نہیں کرتے پر یمان بضد تھا اپنے میٹرک کے ایکزامز کے بعد اُس نے کراچی کے اچھے کالج میں ایڈمیشن لینے کی خواہش کی جس کی داخلہ زیادہ تھی پر فجر نے اُس کو یقین دلایا تھا وہ اُس کالج میں ضرور پڑھے گا پر اُس کا ایک سال ضائع ہوگیا تھا اِس لیے مستقیم صاحب اُس کو اپنے ساتھ دُکان پہ لگانا چاہتے تھے۔
آپی آپ پلیز ابا کو راضی کریں سچی میں جب امیر ہوجاؤں گا نہ تو آپ کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہناؤں گا۔عیشا کی بات اٙن سنی کرتا یمان نے جیسے فجر کو لالچ دی
اور مجھے کیا دوگے لیکر۔عیشا کے کان کھڑے ہوئے تھے
آپ کو سونے کا سیٹ۔یمان نے بنا تاخیر کیے کہا جب کی فجر مسکراکر اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی۔
مطلب تم ایویں ہمیں سبزے باغ دیکھا رہے ہو۔عیشا منہ بناکر بولی
میری یہ بات لکھ لیں میں یمان مستقیم مستقبل کا مشہور سنگر آپ سے یہ بات کررہا ہے جو وہ پوری بھی کرے گا۔یمان کالر جہاڑ کر بولا
اچھا اگر پھر تمہاری بیوی ہمیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دے تو پھر تمہیں تو بہنوں سے زیادہ وہ عزیز ہوجائے گی۔عیشا نے شریر نظروں سے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر کہا
اول تو میری عمر شادی کی ہے نہیں دوسری بات بہنوں کی الگ جگہ ہوتی ہے بھائی کے دل میں جب کی بیوی کی الگ ہوتی ہے۔یمان نے آرام سے کہا
اچھا جی دیکھتے ہیں پھر۔عیشا کہہ کر سلائی کی مشین کی جانب متوجہ ہوئی
آپی۔یمان فجر کو دیکھا
اِس ماہ بعد کالج کے ایڈمیشن بند ہوجائے گی تم فکر نہیں کرو ان شاءاللہ اِس ہفتے تمہارا ایڈمیشن ہوجائے گا۔فجر پُریقین لہجے بولی جس کو سن کر یمان کا چہرہ کِھل اُٹھا پر عیشا کا ماتھا ٹھٹکا اُس نے شاکی نظروں سے اپنی بہن کو دیکھا جس کا پورا دھیان یمان کی طرف تھا۔
سچ آپی۔یمان پرجوش لہجے میں بولا
مچ اب تم جاکر سوجاؤ رات بہت ہوگئ تھی۔فجر نے کہا تو وہ منہ بناکر اُٹھ کھڑا ہوا یمان کے جانے کے بعد فجر کاپیاں سمیٹ کر دوسری جگہ رکھنے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی
ایک ہفتے تمہارے ہاتھ کونسا قارون کا خزانہ ہاتھ آجائے گا جو یمان کو دلاسہ دیا ہے۔عیشا نے سنجیدگی سے پوچھا
تم کیا چاہتی ہوں عیشا جیسے ہم نے زندگی گُزاری ہے ہمارا بھائی بھی ویسی زندگی گُزارے مانا کے ابا نے ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھا پر ہم لڑکیاں تھی ہم نے آگے پڑھنے کی خواہش کو اپنے اندر دبادیا کجھ ایسی چیزیں ہیں جن کے لیے ہم ترس گئے ہیں اپنے گھر کے حالات دیکھ کر تو کیا یمان بھی چھوٹی چھوٹی خواہشات کے لیے ترسے یمان لڑکا ہے عیشا اُس کو آگے بڑھنے کے لیے اچھی تعلیم کی ضرورت ہے آجکل جاب بھی اُس کو ملتی ہے جس کے پاس اچھی مہنگی یونیورسٹی کی ڈگری ہو کیا ابا کی طرح ہمارا بھائی بس کرانے کا دکان سنبھال جہاں پانچ پانچ دس دس روپے کا بھی حساب لکھنا ہوتا ہے اُس سے کیا ہوگا یمان کی اولاد بھی ہماری طرح بنے گی یا تو گریجویشن کرے گی یا جس طرح مہنگائی کا دور چل رہا ہے پانچویں جماعت بھی بامشکل پڑھ پائے یہ جدید دور صرف امیر لوگوں کے لیے غریب لوگوں کے لیے نہیں وہ تو اپنی خواہشات کا گلا دباکر زندگی گُزارتے ہیں ہمارا ایک معصوم بھائی ہے میں چاہتی ہو اُس کو وہ ہر چیز ملے جس کی وہ خواہش کرے یمان اعلیٰ تعلیم ضرور حاصل کرے گا میں اُس کو سپورٹ کروں گی ان شاءاللہ اگر یمان سنگر بننا چاہتا ہے تو وہ بھی بنے گا سنگر ہونے کے لیے کیا ہونا ضروری ہے اچھی آواز نہ تو ہم بھی جانتے ہیں یمان کی آواز ابھی سے بہت خوبصورت ہے تو وہ بن جائے گا پر اُس سے پہلے یمان اپنی پڑھائی مکمل کرے تاکہ اُس کی نسل سے کوئی فجر عیشا یا دوسرا یمان پیدا نہ ہو ہم آگے پڑھ بھی لیتے تو جاب کرنے کی اجازت نہیں ملتی پر یمان تو لڑکا ہے وہ تو کرسکتا ہے نہ تو بس میں اپنے ارمان یمان سے پورے کروں گی۔فجر سنجیدگی سے بولتی چلی گئ عیشا کو اُس کی بات سے اتفاق تھا پر اُس کو یہ سب اتنا آسان نہیں لگتا تھا
تم کروں گی کیا جو کجھ تم نے کہا اُس کے لیے پئسو کا ہونا بھی ضروری ہے آجکل صرف پئسا بولتا ہے۔عیشا نے اُلجھن زدہ لہجے میں پوچھا
تمہیں ارسم یاد ہے؟فجر کی بات پہ عیشا کو ایک پل کے لیے کجھ یاد نہ آیا پر جیسے ہی یاد آیا اُس نے بُری طرح سے فجر کو دیکھا جس کے چہرے پہ اطمینان قابلِ دید تھا
ارسم کا کیا ذکر ہم بہنوں میں۔عیشا نے ناگواری سے کہا
تمہیں پتا تو ہے اُس نے اپنا پرپوزل میرے سامنے رکھا تھا اور کہا تھا اگر میں اُس سے شادی کروں گی تو وہ یمان کی زمیداری اُٹھائے گا آگے چل کر سنگنگ کرنے وقت بھی یمان کو فنانشلی سپورٹ بھی کرے گا۔فجر نے بتایا
فجر بے وقوفو والی بات مت کرو پہلی بات تو یہ ارسم کا پرپوزل ایک سال پہلے آیا تھا دوسری بات ارسم دس سال تم سے بڑا ہے اور دو دفع اُس نے شادی کر رکھی ہوئی ہیں جو ناکام ٹھیری ہیں پھر کیوں تم اپنے پیروں پہ کلہاڑی مار رہی ہو۔عیشا نے اُس کو عقل دلانی چاہی۔
میں نے تب انکار کیا کیونکہ مجھے لگتا تھا میں یمان کی خواہشات خود پوری کرسکتی ہوں پر عیشا میں ناکام ہورہی ہو اِس لیے اب میں نے سوچ لیا ہے ورنہ یمان کا یہ سال بھی ضائع ہوجائے گا۔فجر اپنی بات پہ قائم رہی۔
فجر
عیشا نے کجھ کہنا چاہا پر فجر نے اِشارے سے روک لیا
عیشا اب بس ارسم کا ساتھ میرے لیے ضروری ہے اگر میری اُس سے شادی ہوجائے گی وہ یمان کی زمیداری اُٹھائے گا تو اُس سے بڑی بات میرے لیے کیا ہوگی میری خوشی یمان کی مسکراہٹ میں ہے اور یمان کی خوشی کالج میں ایڈمیشن لینا اور ایک سنگر بننے میں ہے۔فجر کی بات پہ عیشا نے ٹھنڈی سانس خارج کی
ابا مان جائے گے۔عیشا نے دوسرا تجزیہ پیش کیا
گریجویشن جب میں نے کردیا تھا تب ابا میری شادی کروانا چاہتے تھے خیر سے اب میں تئیس سال کی ہوں تو وہ ارسم جیسے لڑکے کا پرپوزل قبول ضرور کرے گے۔فجر کہہ کر بیڈ پہ سونے کے لیے لیٹنے لگی
ایک دفع پھر سوچو یمان سے بات کرو ہم کسی اور کالج میں ایڈمیشن کروالیں گے وہ سمجھ جائے گا یمان کبھی نہیں چاہے گا تم اُس کے لیے قربانی دو۔عیشا نے ایک اور کوشش کی۔
اولاد میں جو پہلا بچہ ہوتا ہے اُس کو قربانی دینی ہوتی ہیں بیٹا ہو یا بیٹی میں اما ابا کی پہلی اولاد ہوں مجھے تم لوگوں کا بھی سوچنا ہے میری ارسم سے شادی ہوجائے گی تو بہت سے مسائل حل ہوجائے گے تو اِس میں کوئی سوچنے والی بات نہیں۔فجر نے جوابً کہا
یمان کے ایک کالج ایڈمیشن کے لیے تم اپنی خوشیاں داؤ پہ لگا رہی ہو۔عیشا ابھی بھی بے یقین تھی۔
تمہارے لیے بس ایڈمیشن کی بات ہے پر میں یمان کا مستقبل سیکیور کرنا چاہتی ہوں شادی تو میری ہونی ہے پھر ارسم سے کیوں نہ ہو جو سپورٹ بھی کرے گا۔فجر نے کہا
کیا گارنٹی ہے وہ اپنی بات پہ قائم رہے گا۔
قائم رہے گا تم پریشان مت ہو اور لائیٹ آف کرکے سوجاؤ۔فجر مزید بحث سے بچنے کے لیے کروٹ بدل گئ عیشا بس اُس کی پشت کو دیکھتی رہی۔






دو دن بعد!
فجر نے فائزہ بیگم سے بات کردی تھی جس سے وہ سوچ بیچار کے بعد راضی ہوگئ تھی اور مستقیم صاحب کو بھی راضی کرلیا تھا جس سے دوسرے دن ارسم اپنی سوتیلی ماں کے ہمراہ رشتہ لینے آگیا تھا ارسم کی فیملی میں بس اُس کی سوتیلی ماں اور اُس کے بچے تھے باپ کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔
فجر صحن میں مشین میں کپڑے ڈال رہی تھی جب دروازے پہ دستک ہوئی وہ ڈوپٹہ سر پہ لیتی دروازے کے پاس آئی اُس نے دروازہ کھولا تو گرے کلر کی شرٹ کے سے ساتھ جینز پینٹ پہنےارسم کھڑا تھا اُس کے پیچھے دو لڑکے اور بھی کھڑے تھے۔
اسلام علیکم۔فجر اپنا ڈوپٹہ سہی کرتی سلام کرنے لگی۔
وعلیکم اسلام یہ لو۔ارسم نے سلام کے بعد ایک انویلپ اُس کی طرف بڑھایا
کیا ہے یہ؟فجر نے ایک نظر انویلپ پہ ڈال کر پوچھا۔
کالج فارم ہے نیکسٹ منتھ یمان کے کلاسس سٹارٹ ہے۔ارسم نے بتایا تو فجر کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
شکریہ۔فجر نے انویلپ دے تھام کر کہا
شکریہ کی کوئی بات نہیں یہ کجھ بیگز ہیں جس میں یونیفارم وغیرہ کا سامان اور یمان کی ضرورت کی چیزیں ہیں اور اِس شاپرز میں تین سیل فونز ہیں ایک تمہارا میں بات کیا کروں گا تم سے دوسرا یمان کے لیے اُس کو ضرورت پڑے گی پڑھائی کے لیے تیسرا عیشا کے لیے اگر تم دونوں کو دیتا تو سالی صاحب ناراض ہوجاتی۔ارسم نے مسکراکر بتایا
اِن سب کی ضرورت نہیں تھی یمان کا ایڈمیشن ہوجائے یہی بہت تھا۔فجر نے سنجیدگی سے کہا
اب جب زمیداری لی ہے تو اُس کو پوری طریقے سے کروں گا میں کام کے سلسلے میں آؤٹ آف کنٹری جارہا ہوں واپس آکر شادی کے معاملات طے ہوگے تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟بات کرتے کرتے ارسم نے اُس سے پوچھا جس پہ فجر نے بس نفی میں سرہلانے پہ اکتفا کیا۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں یہی دینے آیا تھا تاکہ تمہیں یہ شک نہ ہو مکر نہ جاؤں۔ارسم نے کہا
میں آپ کو چائے کا ضرور کہتی پر عیشا اور اماں پڑوس میں گئ ہے یمان بھی باہر ہے۔فجر نے کجھ شرمندگی سے کہا کیونکہ اُس کو اب احساس ہوا تھا ارسم بہت دیر سے دروازے کے پار کھڑا ہے۔
نو مینشن اگلی بار چائے پی لیں گے۔ارسم نے مسکراکر کہا فجر کے اندر ساری خلش نکل گئ تھی اُس کو اپنے فیصلے پہ کوئی افسوس نہیں تھا۔





حال!
دُرید شاہ شازل شاہ کو لیکر حویلی جب پہنچا تو رات کا وقت تھا اُس نے فون پہ اطلاع دے ڈالی تھی سب کو شازل کو ساتھ لانے کی اِس لیے وہ شازل کو اُس کے کمرے میں چھوڑتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا پر ایک خیال کے تحت اُس نے حریم سے ملنے کا سوچا تھا پر جب گھڑی میں وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے ابھی ملنے کا ارادہ ملتوی کرتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا یہ سوچ کرکے اُس کی چیزیں صبح کے وقت دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیا دن شروع ہوا تو سب مرد ڈائیننگ ہال میں موجود تھے شاہ حویلی میں پہلے مرد ایک ساتھ کھانا کھاتے اُس کے بعد عورتیں اب بھی سب ناشتے کی ٹیبل پہ موجود تھے دُرید اور شازل ایک ساتھ وہاں آکر سلام کرنے لگے۔
اسلام علیکم!دُرید اور شازل نے ایک آواز میں کہا
وعلیکم اسلام اِس بار بہت دیر چکر لگایا ہے شازل تم نے۔ارباز شاہ سلام کے بعد بولے
جی بس ایسے ہی۔شازل نے گول مٹول جواب دیا
سربراہی کرسی پہ بیٹھے شھباز شاہ کی نظریں اپنے سائیڈ پہ موجود خالی کرسی پہ تھی
بابا سائیں آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟شازل نے شھباز شاہ کو خاموش دیکھا تو کہا
الحمداللہ میں ٹھیک ہوں۔شھباز شاہ نے جواب دیا تو شازل نے سب پہ ایک نظر ڈالی جہاں اُس کی ماں اور تائیاں اپنا چہرہ ڈہانپ کر ناشتہ سرو کررہی تھی۔
آرو کہاں ہیں؟شازل کے سوال پہ سب چونک کر اُس کو دیکھنے لگے۔
ایسا کیوں دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے ساتھ ناشتہ کرتی ہے نہ تو پھر۔شازل شاہ نے سب کی نظریں خود پہ محسوس کی تو کہا
بھول گئے ہو شاید اب آروش بڑی ہوگئ ہے اِس لیے وہ ہمارے ساتھ ناشتہ نہیں کرتی۔دلدار شاہ نے بامشکل اپنے لہجہ نارمل کیے بتایا
مجھے یاد ہے پر وہ بابا سائیں کو کھانا سرو کرتی ہے اِس لیے پوچھا۔شازل نے سنجیدگی سے کہا
اب نہیں کرتی تم اپنا ناشتہ کرو۔اب کی دیدار شاہ نے چڑ کر کہا تو شازل نے اپنے باپ پہ نظر ڈالی جنہوں نے اپنا ناشتہ شروع کردیا تھا۔
شازل جلدی سے اپنا ناشتہ ختم کرتا وہاں سے اُٹھتا آروش کے کمرے کی طرف بڑھا
لالہ آپ کب آئے۔آروش نے شازل کو اپنے کمرے میں دیکھا تو ڈوپٹہ ٹھیک کرتی اُس سے مل کر بولی
رات کو آگیا تھا تم کیوں ابھی تک کمرے میں ہو باہر چلو میں تو یہاں سالوں بعد آتا ہوں تو زرہ خیال کرو اپنے لالہ کا۔شازل اُس کے سر پہ چپت لگاکر بولا تو وہ مسکرائی پر آنکھوں نے اُس کی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دیا
میں آتی ہوں۔آروش نے بس یہ کہا
ساتھ چلو اپنے لالہ کے۔شازل اُس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف بڑھا تو آروش اُس کے ساتھ ہمقدم ہوئی۔
اماں سائیں حریم کہاں ہیں؟دُرید نے کافی دیر تک حریم کو نہیں دیکھا تو کلثوم بیگم سے پوچھا
کل رات سے بخار ہے اُسے آرام کررہی ہے۔کلثوم بیگم کی بات پہ وہ بے چین ہوا
آپ نے دوائی دی اُس کو۔دُرید نے پوچھا
بلکل بیٹا رات میں اُسی کے کمرے میں تھی۔کلثوم بیگم نے کہا تو اُس نے سرہلایا
میں دیکھ آتا ہوں ایک مرتبہ۔دُرید کھڑا ہوا
دُرید حریم اب چھوٹی بچی نہیں تمہارا اُس کے کمرے میں جانا مناسب نہیں تھوڑی دیر تک بخار اُتر جائے گا تو آجائے گی نیچے۔کلثوم بیگم کی بات پہ دُرید شاہ نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے
اماں سائیں آپ جانتی ہیں میں نے حریم کو کسی بچے کی طرح پالا ہے پھر آپ
دُرید اتنا کہتا خاموش ہوگیا اُس کو اپنی ماں کی بات سن کر افسوس ہوا تھا
جانتی ہوں حریم تمہارے کلوز رہی ہے تم نے بڑا بن کر اُس کو سنبھالہ پر ہے تو وہ تمہاری پھوپھو زاد حویلی میں کسی کو پتا چلا تو اعتراض کرے گے۔کلثوم بیگم نے رسانیت سے کہا تو دُرید اب کی کجھ نہیں بولا
شازل اور آروش نیچے آے تو خاموشی کا راج تھا۔
یہ سب کو ہو کیا گیا ہے اتنی خاموشی کیوں ہے حویلی میں۔شازل تعجب سے آروش سے بولا جس نے کندھے اُچکا دیئے۔
بی بی سائیں
بی بی سائیں
غضب ہوگیا ذین سالک نے دلدار شاہ کا قتل کردیا۔
وہ آپس میں بات کررہے تھے جب اُن کی خاص ملازمہ بین کرتی حویلی میں داخل ہوئی کلثوم بیگم کا ہاتھ بے ساختہ اپنے سینے پہ پڑا تھا
واٹ ربش ابھی لالا یہاں تھے ہمارے ساتھ۔شازل پہلے تو اُس کی بات پہ سکتے میں آگیا پھر سنبھل کر سخت ترین لہجے میں گویا ہوا
دُرید خاموش یہ کیوں کررہے ہو دیکھ آؤ خبر جھوٹی ہو شاید۔کلثوم بیگم ساکت سی دُرید سے بولی جو ملازمہ کی بات سنتے ہی اپنی پستول میں گولیاں بھر رہا تھا آنکھیں آگ اُگلنے کو تیار تھی۔
وہ تو ہم دیکھ آتے ہیں ورنہ اُس حویلی کا ہر فرد میرے ہاتھوں قتل ہوگا آپ بس تائی جان اور بھابھی ماں کو سنبھالیں۔دُرید سپاٹ لہجے میں کہتا شازل کو اِشارہ سے اپنے ساتھ آنے کا کہا جس پہ وہ سر کو جنبش دیتا اُس کے پیچھے چلنے لگا
آروش دعا کرو دلدال شاہ ٹھیک ہو۔کلثوم بیگم بنا آروش کے تاثرات نوٹ کرتی پریشان لہجے میں اُس سے بولی
اماں سائیں پریشان نہ ہو موت تو برحق ہے یہ تو آنی ہے۔آروش کی سرسراتی آواز پہ کلثوم بیگم نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا جس کے تاثرات نارمل تھے کلثوم بیگم کو افسوس نے آ گھیرا آروش اپنی بات کہہ کر سیڑھیون کی جانب بڑھنے لگی تو کلثوم بیگم نے اُس سے کہا
چھ سال ہوگئے ہیں آروش اپنا دل صاف کیوں نہیں کرلیتی بھول کیوں نہیں جاتی سب کجھ خدانخواستہ اگر بات سچ ہوئی تو۔
میں آروش شاہ ہوں اماں سائیں دل میں بغض رکھ کر چہرے پہ جھوٹی مسکراہٹ جھوٹی ہمدردی نہیں سجا سکتی جو دل میں ہوگا اُس کا اظہار بھی میں ڈنکے کی چوٹ پہ کروں گی۔آروش مضبوط لہجے میں کہہ کر رُکی نہیں تھی






کیسا ہے میرا بیٹا۔یمان مستقیم دلاور خان کے گھر آیا تو مسز دلاور خان جن کا نام زوبیہ تھا وہ گرم جوشی سے یمان سے مل کر بولی
میں ٹھیک آپ کیسی ہیں۔یمان اُن کا ماتھا عقیدت سے چومتا بولا
میں ٹھیک اور تم آے ہو تو اور بھی زیادہ ٹھیک۔زوبیہ بیگم مسرت بھرے لہجے میں گویا ہوئی
میں تو ابھی فری ہوں تو یہی رہوں گا۔یمان اُن کو اپنے ساتھ لگائے لاوٴنج کی طرف لایا
سچی میرا تو دل خوش ہوگیا جان کر۔زوبیہ بیگم مسکراکر بولی
کیسے ہو برخودار۔دلاور خان بھی لاوٴنج میں آتے یمان سے بولے جن کو دیکھ کر یمان احتراماً کھڑا ہوگیا تھا۔
الحمداللہ آپ بتائے۔یمان نے پوچھا تو انہوں نے اپنی طرف انگلی کرکے فٹ اور فائیٹ ہونے کا اشارہ دیا۔
میں نے تمہارا نیوں سانگ سُنا کیا ضرورت تھی اتنا تیار ہونے کی خوامخواہ نظر لگ جائے گی پہلے ہی اتنے ماشااللہ سے پیارے ہو۔زوبیہ بیگم خفگی بھرے لہجے میں گویا ہوئی تو یمان نے دلاور خان کو دیکھا
تیار کہاں ہوا تھا نارمل تھا میں تو۔یمان نے جوابً کہا
میں بھی یہی کہہ رہا تھا بس کیمرہ کا کمال ہے پر میری سنتی کہاں ہیں بیگم۔دلاور خان مزاحیہ لہجے میں بولے تو زوبیہ بیگم نے اُن کو گھورا
آپ تو پھر کیمرے میں اتنے پیارے نہیں لگے۔زوبیہ بیگم کی بات پہ وہ گڑبڑا سے گئے
آپ کو قدر نہیں ورنہ ایک زمانے میں لڑکیوں کی لائنیں لگی ہوئی تھی لائنیں۔دلاور خان شوخ ہوئے یمان ہونٹوں پہ ٹھوڑی ٹکائے خاموش نظروں سے اُن کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا
اچھا
میں فریش ہوکر آتا ہوں۔یمان اُٹھ کر اُن دونوں سے بولا جس سے زوبیہ بیگم کی بات بیچ میں رہ گئ دلاور خان نے اُس کو جاتا دیکھا تو ٹھنڈی سانس خارج کی زوبیہ بیگم نے بھی افسردہ نظروں سے اُس کی پشت کو دیکھا
یمان میں تبدیلی نہیں آئی ہم نے کوشش کی پر اُس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ کا شبہ بھی نہیں تھا۔زوبیہ بیگم مایوسی سے گویا ہوئی
ٹھیک ہوجائے گا پریشان کیوں ہوتی ہیں۔دلاور خان نے اُن سے زیادہ خود کو تسلی دی۔
