Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 23)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کافی۔یمان ٹیرس پہ کھڑا تھا جب نور نے کافی کا کپ اُس کی طرف بڑھایا

شکریہ۔یمان نے کپ تھام کر کہا

سوئے نہیں ابھی تک؟نور نے پوچھا

کافی پی کر چلا جاؤں گا سونے کے لیے۔یمان نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا

تمہاری مسکراہٹ بہت پیاری ہے اِس کو چہرے سے علیحدہ مت کیا کرو۔نور نے مسکراکر کہا

چہرے سے مسکراہٹ خود علیحدہ ہوجائے تو؟یمان نے سوال کیا

تو انسان کو چاہیے وہ خوش ہونے کی وجہ تلاش کرے اپنا ماضی اپنا کل بُھلانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔نور نے کہا تو یمان کی گرفت کپ پہ مضبوط ہوئی۔

آپ کو پتا ہے بات کرنا اور اُس پہ عمل کرنا یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں بات تو ہر کوئی کرسکتا ہے مگر اُس پہ عمل کوئی کوئی کرتا ہے کیونکہ یہ ایک مشکل کام ہے کجھ چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

یہ بتاؤ کیا تم شروع سے اتنے سنجیدہ مزاج ہو؟نور نے پوچھا

حالات نے بنادیا ہے۔یمان نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔

تمہاری بات روزی سے پکی ہوگئ ہے اگر ایسے میں وہ لڑکی تمہارے سامنے آئے تو تم کیا کروگے؟نور نے متجسس لہجے میں کہا

میں خوشی سے مرجاؤں گا۔یمان کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولا

یمان۔نور نے تنبیہہ کی

میرے اندر اُن کے ملنے کی اُمید سالوں پہلے دم توڑ گئ تھی اور آپ کو پتا ہے میں نے کبھی اُن کا چہرہ نہیں دیکھا آٹھ سال ہوگئے ہیں پر میرے اندر صرف ایک بار ملنے کی خواہش ہے اُن کا چہرہ دیکھنے کی نہیں وہ جو بھی ہیں جیسی بھی ہوگی مجھے وہ جی جان سے قبول ہے مجھے اُن کی خوبصورتی سے کوئی غرض نہیں مجھے عشق ہے اُن کی پاکیزگی سے مجھے عشق ہے اُن کی حیا سے اُن کا ہر وقت احتیاط سے رہنا مجھے لگتا ہے میں پاگل ہوگیا ہوں کبھی سوچتا ہوں اُن کو بھولنے کی کوشش کرو مگر جب یہ خیال آتا ہے تو دل چاہتا ہے خود کو ختم کرڈالوں۔یمان کھوئے ہوئے انداز میں اپنی کیفیت بتانے لگا۔

خود پہ کنٹرول کرنا سیکھو یمان خود کو ایسا بناؤ کے تم کسی کے اِشارے پہ نہ چلو تمہیں کسی کی خواہش نہ ہو بلکہ ہر ایک کو تمہاری خواہش ہو اپنی ذات کو کسی قلعے کی طرح مضبوط کرو تم چوبیس سال کے مضبوط جسامت کے مرد ہو ایسی کمزور کرنے والی باتیں تمہیں زیب نہیں دیتی۔نور اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتی سمجھانے لگی۔

یہ باتیں سترہ سال کا یمان کررہا ہے آپ سے جس کی ساری خواہشات ایک خواہش پہ بھاری پڑگئ تھی اور وہ تھی آروش شاہ کی محبت۔یمان نے جانے کتنے سال بعد اُس کا نام لیا تھا جس کو سن کر نور حیران ہوئی تھی۔

کالج لائیف والا یمان چاہتا تھا اُس کو آروش شاہ کی توجہ ملے جب اُن کے ہاتھ میں کتابیں دیکھتا تھا نہ تو مجھے حد سے زیادہ جلن ہوتی تھی کیونکہ جب وہ کوئی کتاب پڑھتی تھی تو اُن کو آس پاس کے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا تھا اور ایسی توجہ میں اپنے لیے چاہتا تھا چاہتا ہوں چاہتا رہوں گا پر کبھی انہوں نے مجھے ایسی توجہ نہیں تھی اُن کا تعلق سید گھرانے سے تھا میرا نہیں تو اِس میں میری تو کوئی غلطی نہیں تھی نہ محبت اوقات دیکھ کر تو نہ کی جاتی نہ پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا یہ سوال مجھے ایک پل کے لیے بھی چین لینے نہیں دیتا اگر میرے نصیب میں اُن کی محبت نہیں تھی تو پھر میرے دل میں محبت کا انوکھا احساس کیوں پیدا ہوا میں تو انجان تھا مجھے کیا خبر تھی ایسی محبتوں کی میرے لیے تو میری بہنیں اور والدین ہی سب کجھ تھے میری دُنیا اور میرا جنون تھا پاکستان کا مشہور سنگت بننا بس یہی تھا اور میں اِس میں مگن تھا پھر میری زندگی میں وہ آئی تو سب کجھ بدل گیا جہاں ہر وقت میرے چہرے پہ مسکراہٹ کا بسیرا ہوتا تھا وہ مسکراہٹ بس ان کے لیے مخصوص ہوگئ جب اُن پہ نظر نہیں پڑتی تھی تو بے سکونی سی محسوس ہوتی تھی میں مریضِ عشق بن گیا تھا جس کی دوا بہت مہنگی تھی اور میں ایک لاعلاج بیماری کا مریض بن گیا۔یمان جیسے اپنی باتوں سے خود کا مذاق اُڑا رہا تھا نور کافی پینا بھول کر یک ٹک یمان کا چہرہ دیکھنے لگی اُس کو بے اختیار یمان پہ ترس آیا جو مضبوط نظر آنے والا شخص مضبوط نہیں تھا۔

میں چلتا ہوں کافی تو ٹھنڈی ہوگئ۔یمان کافی کا کپ نور کے ہاتھ میں دیتا بولا

گُڈ نائٹ۔نور نے کہا

گڈ نائٹ۔یمان اتنا کہتا اپنے کمرے میں آیا۔

میڈیسن کہاں گئ؟یمان کمرے میں داخل ہوتا سائیڈ ٹیبل کے ڈرار کھول کر وہاں سے اپنی میڈیسن لینی چاہی مگر وہ نہیں تھی تبھی وہ اپنی پیشانی مسلتا ارمان کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔

السلام علیکم سر۔ارمان نے پہلی ہی بار میں بار کال ریسیو کرتا سلام کرنے لگا۔

میری میڈیسن کہاں ہیں جو تمہیں کہا تھا میرے کمرے کی سائیڈ ٹیبل کی ڈرار میں رکھنا۔یمان سلام کا جواب دیئے بنا کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہلتا بے چینی سے پوچھنے لگا۔

سر وہ تو

کیا وہ تو جلدی بتاؤ مجھے ضرورت ہے اُس کی۔یمان اُس کی بات کاٹتا پریشانی سے بولا

وہ سر دلاور نے کہا تھا آپ کو نہیں دینی۔ارمان نے ہچکچاہٹ میں بتایا

کیا مطلب نہیں دینی اُن کو بتایا کس نے تھا۔یمان غصے سے پوچھنے لگا۔

مجھ سے پوچھا تھا۔ارمان نے ڈر کر بتایا

تم سے پوچھا اور تم نے بتا دیا کیا کہنے ہے تمہارے جب میں نے ایک بار منع کردیا تھا اُن کو میری پرسنل ایکٹویٹی کے بارے میں نہیں بتانا تو کیوں بتایا؟یمان اُس پہ گرجا

سوری سر اُن کو آپ کی فکر رہتی ہے اور جو آپ میڈیسن لیتے ہیں وہ آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں آپ ہر رات ایک کے بجائے دو تین ایک ساتھ نگل لیتے تھے تبھی سر دلاور نے اُس کو اُٹھوالیا آپ کے کمرے سے۔ارمان نے وضاحت دیتے کہا

کسی کام کے نہیں تم پتا نہیں میں نے کیوں تمہیں اپنے کام کے لیے ہائیر کیا ہے۔یمان سخت لہجے میں اُس کو سُناتا کال بند کرگیا۔دوسری طرف ارمان اپنے سیل فون کی اسکرین تکتا رہ گیا۔

یمان اپنا موبائیل بیڈ پہ پھینکتا اپنے کمرے سے نکلتا دلاور خان کے کمرے کے پاس آکر دروازہ نوک کیا۔

یمان تم اِس وقت خیریت؟دلاور خان دروازے کے پاس آکر حیرت سے یمان سے پوچھنے لگے پھر ایک نظر پلٹ کر بیڈ پہ سوئی زوبیہ بیگم پہ ڈال کر وہ خود دروازہ بند کرکے باہر آئے۔

مجھے میری میڈیسن چاہیے جو آپ نے میرے روم سے اُٹھوائی تھی۔یمان نے اپنے آنے کا مقصد بتایا

وہ تمہیں نہیں مل سکتی۔دلاور خان نے سہولت سے انکار کیا

کیوں نہیں مل سکتی مجھے وہ چاہیے۔یمان بضد ہوا

دیکھو یمان تمہیں پتا ہے وہ میں تمہیں کیوں نہیں دے رہا جانے کیوں تم اپنی جان کے دُشمن بنے ہوئے ہو میں تم سے اتنا غافل جانے کیسے ہوگیا جو تم یہ میڈیسن پانچ سالوں سے یوز کررہے ہو مجھے پتا ہی نہیں تھا وہ تو شکر ہے جو اُس دن ڈاکٹر نے مجھے بتایا میں نے ارمان کی خوب کلاس لی تبھی اُس نے مجھے بتایا۔دلاور خان نے سنجیدگی سے کہا

ارمان کو میں نے منع کیا ہوا تھا میری ایسی کسی پرسنل ایکٹویٹی کا نہ بتائے وہ آپ کو مجھے پتا تھا آپ نے ایسا سلوک کرنا ہے پھر۔یمان ناراض لہجے میں بولا

ارمان تمہارا اسسٹنٹ بعد میں ہے پہلے تمہارا ایک اچھا دوست ہے اِس لیے ہماری طرح اُس کو بھی تمہاری پریشانی ہوتی ہے میں جانتا ہوں تم نے اُس کی کلاس لی ہوگی ذرہ خیال کیا کرو دو سے تین سال بڑا ہے وہ تم سے۔دلاور خان نے اُس کو جھڑکا۔

کوئی بڑا نہیں مجھ سے سیم ایج ہے۔یمان فورن سے بولا

بیٹا جی خود کو تم نے جو اتنا پہلوان بنالیا ہے نہ اُس سے تمہاری عمر نہیں چُھپ سکتی اِس لیے کوششیں بیکار ہیں۔دلاور خان نے بھگور کر تیر مارا

مجھے آپ سے بحث نہیں کرنی مجھے میڈیسن چاہیے مجھے اُس کے بنا نیند نہیں آتی۔یمان نے زچ ہوکر کہا

وہ اِس لیے کیونکہ تم نے خود کو اُس کا عادی بنالیا ہے ایک دو دن نہیں کروگے استعمال تو خود ہی نیند آجائے گی۔دلاور خان نے ہری جھنڈی دیکھائی۔

آپ نہیں دینگے کے تو موم کے پاس جاؤں گا یا پھر اسٹور سے بھی لے سکتا ہوں۔یمان کا لہجہ دھمکی آمیز ہوگیا۔

رات کے دو بجے کونسا اسٹور اوپن ہوگا؟دلاور خان اُس کو تنگ کرنے لگے۔

ہوگا کوئی نہ کوئی۔یمان نے کہا

چپ چاپ اپنے کمرے میں جاؤ چوکیدار دروازہ نہیں کھول رہا تمہارے لیے رات کا وقت ہے مجھے بھی سونے دو خود بھی سوجاؤ۔دلاور خان جمائی لیتے بولے

میرے ساتھ زیادتی ہے۔یمان نے احتجاج کیا۔

یہاں سے رائٹ جاکر فرسٹ نمبر پہ جو کمرہ ہے وہ تمہارا ہے وہاں جاؤ۔دلاور خان اُس کی بات نظرانداز کرکے ہاتھ سے اِشارے سے اُس کو اُس کا کمرہ بتانے لگے تو یمان ایک نظر اُن پہ ڈالتا جانے لگا جب دلاور خان نے اُس کو آواز دی۔

سنو یمان

جی۔یمان رک گیا۔

یہ جو تم بوڈی وغیرہ کے چکر میں ڈوز لیتے ہو نہ اُس کو بھی ختم کرو ایسا نہ ہو پھر ہمیں تمہارے کمرہ کا دروازہ ہٹا کر بڑا سا گیٹ لگوانا پڑے۔دلاور خان نے بڑے سنجیدگی سے کہا البتہ اُن کی آنکھیں مسکرا رہی تھی۔

میں کوئی ڈوز نہیں لیتا دوسری بات میں یہاں آپ سے اپنی نیند کی دوائی لینے آیا تھا نہ کے آپ کے طعنے سُننے آپ نے تو حد ہی کردی۔یمان جھنجھلاکر کہتا چلاگیا۔دلاور خان بھی ہنس کر اپنے کمرے میں آئے۔

کیا کہہ رہا تھا یمان؟دلاور خان بیڈ پہ بیٹھے تو زوبیہ بیگم نے پوچھا جو جانے کب جاگ گئ تھی۔

کجھ خاص نہیں تم سوجاؤ۔دلاور خان نے ٹالا

مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔زوبیہ بیگم اُٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ۔

اِس وقت کونسی بات کرنی ہے؟دلاور نے گھڑی میں وقت دیکھ کر کہا

مجھے بہت عجیب خواب آیا تھا اِس لیے بات کرنا چاہتی ہوں ابھی۔زوبیہ بیگم نے کہا

کہو میں سن رہا ہوں۔دلاور خان نے کہا

تئیس سال ہوگئے ہیں کیا آپ اپنا واعدہ بھول چُکے ہیں۔زوبیہ بیگم نے بس اتنا کہا تھا پر دلاور خان ساری بات سمجھ چُکے تھے۔

تئیس سال سات ماہ پندرہ دن ہوچکے ہیں اور میں کجھ نہیں بھولا جہاں تم نے اتنا صبر کیا ہے وہاں کجھ اور کرلوں۔دلاور خان نے کا لہجہ یکدم سنجیدہ ہوگیا تھا پہلے والی شوخی یکدم غائب ہوگئ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمان اپنے کمرے میں آیا اُس نے سونے کی بہت کوشش کی پر نیند نہیں آئی تو وہ اُٹھا وارڈروب کی جانب آیا وہاں اپنے پرسنل ڈرار کا لاک اوپن کیے اُس نے وہاں سے ایک ڈبہ نکالا جو ربن میں بند تھا۔یمان اُس کو لیتا بیڈ پہ بیٹھ کر ربن کھول کر ڈبے کو کھولا تو اُس کی نظر اپنی مطلوبہ چیز پہ پڑی جو ریڈ کلر کی چٹ تھی۔اُس کو دیکھ کر یمان کی آنکھوں کے سامنے وہ پل لہرایا جب اُس نے پہلی بار اِس چٹ کو ہاتھ میں پکڑا تھا جب اُس نے وہ چٹ پہ لکھی تحریر پڑھی تھی۔

تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے سُننے والا مسمرائز ہوجاتا ہے۔

پھر وہ دن یاد آیا جب اُس نے دوبارہ سے اِس چٹ کو حاصل کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی!

یمان۔فجر کی آواز پہ وہ یکدم پلٹا تھا

جی۔یمان اپنی حالت پہ قابو پائے بولا

تم جارہے ہو پر جلدی آنا ہمیں تمہاری ضرورت ہے میرے بیٹے کو بھی تمہاری ضرورت ہے بہت۔فجر نے نم لہجے میں اپنی گود میں موجود ایک سالہ یامین کو دیکھ کر اُس سے کہا

آپ اپنا اور یامین کا بہت خیال رکھئیے گا پر میں اپنے آنے کی اُمید نہیں دلاسکتا آپ اور یامین میرے ساتھ چلے مجھے یہاں وحشت ہوتی ہے۔یمان بے بسی سے بولا

غلط کررہے ہو۔فجر نے اُس کو سمجھانا چاہا

کیا صحیح ہے اور کیا غلط اِن سب سے اب میں بہت دور چلا آیا ہوں۔یمان کہتا اُس کی گود سے یامین کو لیکر اُس پہ پیار کرنے لگا۔

تم پہ گیا ہے پورا تمہاری طرح اِس کے گالوں پہ بھی ڈمپلز ہیں۔فجر نے دونوں ماموں بھانجے کو دیکھ کر کہا۔

دعا کیجیے گا قسمت میرے جیسی نہ ہو۔یمان یامین کا ماتھا چوم کر بولا تو فجر کو لگا جیسے اُس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑلیا ہو۔

کیوں ایسی باتیں کرکے تپارہے ہو۔فجر نے افسوس سے کہا

میں چلتا ہوں دیر ہورہی ہے۔یمان یامین کو فجر کی طرف بڑھاکر بولا

ایک چیز لینا بھول رہے ہو۔فجر کی بات پہ یمان کے قدم تھمے تھے۔

کونسی چیز؟یمان سوالیہ نظروں سے فجر کو دیکھنے لگا جواب میں فجر نے اپنی بند مٹھی یمان کی طرف بڑھا کر اُس کو کھولا۔

فجر کے ہاتھ میں وہ چِٹ دیکھ کر یمان تیر کی تیزی سے اُس کے پاس آکر وہ چٹ اپنے ہاتھ میں لے گیا تھا۔

آپ کو کہاں سے ملی؟یمان کا لہجہ اتنا اچانک خوشگوار محسوس کرکے فجر کا دل کٹ کے رہ گیا تھا۔

مجھے لگا تھا تم کوئی خاص ری ایکشن نہیں دوگے مگر اب معلوم ہوا تمہیں ابھی تک وہ یاد ہے بھول کیوں نہیں جاتے اِس کو۔فجر نے کہا

شکریہ آپی مجھے یہ دینے کے لیے۔یمان اُس کی بات سرے سے نظرانداز کرگیا تھا۔

کیا تھا اُس لڑکی میں کیا ہے اِس معمولی کاغذ کے ٹکڑے میں جو تمہارے چہرے پہ اچانک رونق آگئ ہے مت بھولوں اُس نے تمہاری ہنستی بستی زندگی کو اُجاڑا تھا۔فجر نے اُس کو حقیقت سے آگاہ کرنا چاہا

جس کو آپ معمولی سا کاغذ کا ٹکڑا بول رہی ہیں آپ کو نہیں پتا یہ میرے لیے کیا ہے کبھی کبھی معمولی نظر آنے والی چیز انسان کے جینے کی وجہ بن جاتی ہے میری زندگی انہوں نے نہیں اُجاری یہ سب میری قسمت میں تھا۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

پتا ہے یمان جب میں نے اِس چٹ کو تمہارے کمرے کی الماری میں دیکھا اِس میں موجود تحریر کو پڑھا تو میرا دل چاہا اِس کو آگ لگادوں پر پھر پتا نہیں کیوں نہیں جلایا۔فجر کی بات پہ یمان کے چہرے پہ اُداس مسکراہٹ نے بسیرا کیا۔

میرے پاس بس یہ ایک چیز ہے نشانی کے طور پہ۔یمان نے کہا

فریم کرواکر دیوار پہ چسپاں کردوں۔فجر نے طنزیہ کیا۔

ضرورت پڑی تو ضرور۔یمان نے جوابً کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال!

ایک آنسو یمان کی آنکھ سے نکل کر اُس چٹ پہ پڑا تو یمان نے فورن سے آہستہ سے اُس کو صاف کیا اُس کو ڈر لگنے لگا کہیں تحریر مٹ نہ جائے۔

آپ چاہے میری قسمت میں نہیں تھی مگر میرے دل میں آپ کے علاوہ نہ کوئی ہے اور نہ کوئی کبھی آئے گا میں نے بس ایک لڑکی سے عشق کیا ہے اور وہ آپ ہیں آپ کے علاوہ کسی اور چاہنا کسی اور کو سوچنا میں حرام سمجھتا ہوں۔چٹ پہ موجود آروش نام پہ اپنا ہاتھ پھیرتا یمان تصور میں اُس سے مخاطب ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

رات کے پہر آروش کی آنکھ کُھلی تو اُس نے اپنے کمرے کی لائٹ آن کرکے وقت دیکھا جہاں رات کے تین بج رہے تھے وقت دیکھ کر اُس نے گہری سانس بھر کر بیڈ سے اُٹھ کر واشروم کی طرف بڑھی وضو کرنے کی نیت سے۔وضو کرنے کے بعد وہ جائے نماز لیتی تہجد نماز کی نیت کرکے مُسلے پہ کھڑی ہوگئ۔

دعا کا وقت آیا تو اُس نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے اُس کی آنکھوں سے آنسو زاروقطار بہنے لگے تھے جس سے لاپرواہ وہ اپنے ہاتھوں کو بس دیکھے جارہی تھی۔

یااللہ مجھے معاف کردے۔پانچ منٹ بعد اُس کے ہونٹ پھڑپھرائے۔

میں بہت گنہگار ہوں پلیز یااللہ مجھے معاف کردے میری سوچوں کو میرے اختیار میں کردے میں کسی نامحرم کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی میرے اللہ مجھے اِس گُناہ سے بچالے آپ جانتے ہیں سب جانتے ہے میرے اندر ایک پچھتاوا تھا اُس کی موت کا جو اب ختم ہوگیا ہے کیونکہ وہ زندہ ہے مجھے اُس سے نفرت سے آپ پلیز اُس کو میرے خیالوں سے باہر کردے میں نفرت میں بھی اُس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتی آپ پلیز مجھے ایسا بنادے جیسا آپ چاہتے ہیں میری سوچ کو پاک کردے تاکہ کسی نامحرم کا خیال میرے دماغ میں نہ آئے میں اپنا مقام جانتی ہوں میں یہ بھی جانتی ہوں میرا تعلق کس خاندان سے ہے یااللہ جس طرح آپ نے مجھے نماز پڑھنے کی قرآن پڑھنے کی توفیق دی ہے ٹھیک اُسی طرح مجھ میں اتنی ہمت پیدا کرے جو میں کوئی غلط خیال اپنے دماغ میں نہ لاؤں بیشک آپ ہر چیز پہ قادر ہے۔آروش روتے ہوئے دعا مانگنے کے بعد اُٹھ کر واپس اپنے بیڈ پہ آکر لیٹ گئ تھی اُس کو پتا تھا اب ساری رات جاگ کے گُزارنی ہے کیونکہ نیند کو تو اُس کے پاس آنا نہیں۔

ایک طرف دور اسلام آباد میں یمان مستقیم رات کے وقت اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا آسمان میں موجود چاند کو دیکھ رہا تھا تو دوسری طرف اپنے گاؤں کی حویلی میں موجود آروش جاگ کر رات گُزار رہی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شازل اور ماہی کو شہر پہنچتے وقت کافی دیر ہوچکی تھی شازل اُس کو گھر چھوڑتا خود کسی کام سے باہر چلاگیا تھا جس پہ ماہی پورے گھر کا جائزہ لینے لگی جو تین کمروں پہ مشتمل ایک خوبصورت سا اپارٹمنٹ تھا بڑا سا ٹی وی لاؤنج تھا عین پاس شاید بیٹھک کی جگہ تھی جس کو ڈرائینگ روم کا نام دیا ہوا تھا ماہی نے پورا گھر چیک کرلیا تھا تینوں کمرے لاکڈ تھے ڈرائینگ روم تک کا دروازہ بھی بند تھا طویل سفر کرنے کے بعد اُس کو تھکاوٹ محسوس ہورہی تھی تبھی لاؤنج میں موجود صوفے پہ بیٹھ کر شازل کے آنے کا انتظار کرنے لگی عبایا اُس نے کب کا اُتار دیا تھا اب وہ سادہ سے گلابی کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس تھی

پتا نہیں کب آئے گے اتنی رات ہوگئ ہے یہ بھی نہیں سوچا ایک عدد بیوی کو گھر میں اکیلا چھوڑ آیا ہوں جو یہاں پہلی بار آئی ہے۔کافی دیر تک شازل کو نہ آتا دیکھ کر ماہی نروٹھے پن سے بڑبڑائی ایک تو اب اُس کی کمر تک اکڑگئ تھی۔

صوفے پہ سوجاتی ہوں۔ماہی اپنے پیر سیدھے کرتی صوفے کو اپنا بیڈ بنالیا تھکن کی وجہ سے جلدی ہی نیند نے اُس کو اپنی آغوش میں لے لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہی

ماہی

اُٹھو شاباش یہاں کیوں سو رہی ہوں۔شازل کھانے پینے کا سامان لایا تھا تو اُس کی نظر بے آرامی سے صوفے پہ سوئی ماہی پہ پڑی تبھی وہ شاپرز ٹیبل پہ رکھتا ماہی کو جگانے لگا۔

آپ۔ماہی نے اپنی آنکھیں کھولی تو شازل کو خود پہ جھکا پایا تو فورن سے اُٹھ بیٹھی۔

ہاں میں کھانا لایا تھا تمہیں بھوک لگی ہوگی۔شازل نے بتایا

آپ نے بہت دیر کردی۔ماہی ڈوپٹہ اچھے سے کندھوں پہ ڈالتی شازل سے پوچھنے لگی۔

ہاں یار بس دیر ہوگئ تم بیٹھو یہاں میں کچن سے پلیٹس لاتا ہوں۔شازل نے کہا

مجھے بتائے میں لیکر آتی ہوں۔ماہی نے اُٹھتے ہوئے کہا۔

تم بیٹھو میں لاتا ہوں۔شازل اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کرتا خود کچن کی جانب گیا۔

میں نے اپنے ایک دوست سے کہا ہے کجھ دن تک ملازمہ کا بندوبست ہوجائے گا۔شازل واپس آتا ماہی کو بتانے لگا۔

ملازمہ کیوں؟ماہی نے حیرت سے پوچھا

میں تو دن میں زیادہ تر باہر ہوتا ہوں تمہیں اگر کوئی کام ہو تو اُس سے کہنا اور وہ ساتھ ہوگی تو تمہیں یوں اکیلے رہنے میں بوریت بھی نہیں ہوگی پہلے سوچا حویلی میں سے کسی ملازمہ کو لاؤں پھر اپنا خیال جھٹک دیا۔شازل پلیٹس لگاتا بتانے لگا۔

نہیں مجھے کسی ملازمہ کی ضرورت نہیں۔ماہی نے انکار کیا۔

کیوں ضرورت نہیں تمہارے سارے کام وہ کیا کردیا کرے گی تمہیں پتا ہے حریم کے پاس بھی ایک کام والی ہے جو اُس کے سارے کام کردیتی ہے نور نازلین کے پاس بھی ہے آروش کے پاس تو بچپن سے ہوتی تھی ایک پر پتا نہیں کیوں وہ ملازمہ غائب ہوگئ پھر اُس کے بعد میں نے آروش کے پاس کسی ملازمہ کو نہیں دیکھا۔شازل تفصیل سے سب کجھ اُس کو بتانے لگا اور ساتھ کھانا کھانے کی شروعات بھی کرنے لگا۔

آپ کے یہاں حویلی میں تو ملازموں کی فوج ہے پر مجھے اپنا کام خود کرنے کی عادت ہے یہاں میں آپ کا اور اپنا کام کرلوں گی مجھے اچھا لگے گا۔ماہی نے مسکراکر کہا

مرضی ہے تمہاری۔شازل نے زیادہ فورس نہیں کیا

آپ ویسے کیا کام کرتے ہیں؟ماہی کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

میں مونال ریسٹورنٹ میں ویٹر کی جاب کرتا ہوں۔شازل نے سنجیدہ لہجے میں بتایا تو ماہی کھانا بھول کر حیرت سے شازل کو دیکھنے لگی جو سکون سے پانی پی رہا تھا

واقع؟ماہی کو یقین نہیں آیا

ہاں کیوں کیا ویٹر کی جاب کرنے میں کوئی قباحت ہے؟شازل نے پوچھا

نہیں پر وہ جاب آپ کرتے ہیں؟ماہی کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا۔

ہاں تمہیں میرا گھر دیکھ کر لگ نہیں رہا میں کتنا غریب بندہ ہوں۔شازل کو ماہی کا حیرانگی سے بھرا چہرہ دیکھ کر ہنسی آرہی تھی۔

آپ کا یہ اپارٹمنٹ بہت خوبصورت ہے آپ غریب تو نہیں بلکہ آپ کا تعلق بہت اونچے خاندان سے ہیں آپ شھباز شاہ کے بیٹے ہیں جو گاؤں کے سرپنج ہیں۔ماہی نے جلدی سے کہا

بلکل میں شھباز شاہ کا بیٹا ہوں مگر مجھے اپنی زندگی اپنے طریقے سے گُزارنا پسند ہے مجھے کسی کا پابند ہونا اچھا نہیں لگتا میں یہاں رہتا ہوں کیوں رہتا ہوں اِس لیے کیونکہ یہاں کوئی مجھے روک ٹوک نہیں کرتا یہاں ایسے کوئی اصول نہیں جن کو دیکھ کر میرا دل خراب ہو مجھے ایڈوینچر سے بھری زندگی پسند ہے جو مجھے چاہیے اور وہ گاؤں میں نہیں یہاں میسر ہے میں اگر گاؤں میں رہوں گا تو لالہ کی طرح زمینے کی دیکھ بھال کرنے ہوگی ڈیرے پہ جانا ہوگا لوگوں کے مسائل سُننا پڑے گے کیونکہ میں شھباز شاہ کا بیٹا ہوں پھر فیصلہ مجھے وہ کرنا پڑے گا جو بڑا آدمی ہوگا کوئی غریب آدمی کا ہوگا تو ہم اُسے غلط قرار دینگے سیدھی بات یہ ہے مجھے زمینوں کی دیکھ بھال کرنا پسند نہیں کجھ سال بعد نئے سرپنج کا فیصلہ ہوگا لالہ نے انکار کردیا ہے میں نہیں چاہتا وہاں کوئی میرا نام لے تبھی میں گاؤں سے دور رہتا ہوں کیونکہ جب وقت آئے گا کوئی بھی سرپنج پہ میرا نام نہیں لے گا میں نے گاؤں والوں کے لیے کیا ہی کیا ہے مجھے اپنی اِس زندگی سے پیار ہے جو میں جی رہا ہوں یہاں سکون ہے۔شازل کھانے سے ہاتھ اُٹھاتا سنجیدگی سے بتانے لگا۔

آپ کی ہر بات ٹھیک مگر آپ ویٹر کی جاب کیسے آپ تو بہت پڑھے لکھے ہیں میں نے تو سُنا تھا آپ اور آپ کے بھائی آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھے ہیں۔ماہی نے کہا تو شازل کا قہقہقہ نکل گیا۔

ہاہاہاہاہاہا ماہی یو آر سو کیوٹ مطلب تم کیا واقع اتنی معصوم ہو میں نے تو ایسے ہی جسٹ مزاقً تم سے کہا۔شازل اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کے گال کھینچ کر بولا تو ماہی اپنی جگہ چور سی ہوگئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *