Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 26)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کیا کام ہے؟شھباز شاہ نے ملازمہ کو آروش کے کمرے میں آتا دیکھا تو پوچھا وہ جو پہلے سے خوفزدہ تھی آروش کے بلکل پاس شھباز شاہ کو دیکھ کر اُس کی روح فنا ہوئی تھی اُس کا وجود تھر تھر کانپنے لگا تھا جو شھباز شاہ نے بغور نوٹ کیا تھا پر اُن کے بازوں پہ سر رکھے آروش ہر بات سے سِرے سے ہی انجان تھی۔

آروش بی بی کے لیے دودوہ لائے ہیں۔اُس نے ڈر کر اپنے آنے کا مقصد بتایا۔

آروش دودوہ پینا ہے۔شھباز شاہ ایک نظر اُس پہ ڈال کر نرمی سے آروش سے پوچھنے لگا۔

نہیں بابا سائیں۔آروش نے انکار کیا۔

آپ کو پینا چاہیے آپ کی صحت کے لیے اچھا ہے اور شاہ سائیں آپ یہاں ہیں آپ کو بڑی شاہ صاحبہ یاد کررہی تھی۔ملازمہ نے جلدی سے کہا

آروش کو یہ نہیں پینا اِس لیے یہ تم پیو۔شھباز شاہ اُس کی بات نظرانداز کرکے بولے

ہ ہمم ہم کیسے پی سکتے ہیں۔وہ ہکلاکر بولی

جیسے پیا جاتا ہے یہی پیو ہمارے سامنے۔شھباز شاہ نے اپنی بات پہ زور دیئے کہا

ہم نہیں پی سکتے۔ملازمہ نے انکار کیا

کیوں؟شھباز شاہ کڑی نظروں سے اُس کو دیکھا

یہ ہم آروش بی بی کے لیے لائے ہیں اور اِن کو ہی پِلاِئے گے۔وہ اپنی حالت پہ قابو پاکر بولی۔

جو میں نے کہا ہے وہ کرو۔شھباز شاہ نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو گھورا

بابا سائیں یہ آپ اِس کو کیا کرنے کا کہہ رہے ہیں؟آروش کو شھباز شاہ کے رویے پہ حیرانگی ہوئی کہاں وہ اُن کو اپنے پاس کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے تھے اور اب یہ سب

تم بیٹھو یہی۔شھباز شاہ اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کرتے خود اُٹھ کھڑے ہوئے۔

شاہ سائیں

خاموشی سے یہ پورا گلاس خالی کرو۔شھباز شاہ نے اُس کی بات بیچ میں کاٹ کر کہا تو وہ اپنا سر نفی میں ہلاکر باہر جانے لگی مگر عین دروازے کے پاس دو اور ملازم کھڑی تھیں جنہوں نے اُس کو پکڑ وہ دودہ اُس کو زبردستی پِلایا۔

بابا سائیں۔آروش حیرت سے اپنی جگہ کھڑی ہوئی۔

زہر پِلانا چاہتی تھی یہ تمہیں۔شھباز شاہ اُس کو اپنے حصار لیکر کہا تو آروش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ اُس نے بے یقین نظروں سے اُس کو ملازمہ کو دیکھا جس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ایک سال بعد!

دوسری تیسری دفع بارات نہیں آئی لگتا ہے اِس کی قسمت میں شادی کرنا لکھا ہی نہیں۔آروش خاموش سی دولہن کے جوڑے میں ملبوس بیڈ پہ بیٹھی عورتوں کی باتیں سن رہی تھی آج اُس کی شادی تھی مگر جس کے ساتھ تھی اُس کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوچکا تھا جس سے وہ اپنی جان کی بازی ہار چُکا تھا۔

اُس سے پہلے بھی دولہن بنی تھی پہلی بار میں لڑکے والوں کی طرف سے جانے کس بات پہ انکار ہوا اور پھر دوسری دفع میں لڑکا معذور ہوگیا جس وجہ سے شادی نہیں ہو پائی اُس نے اپنے لیے فیصلہ لینا چھوڑدیا تھا سب کجھ شھباز شاہ اور کلثوم بیگم کے حوالے کردیا تھا وہ جو اُس کے لیے فیصلہ لیتے وہ اپنا سر جھکا دیتی یمان کی موت پھر فجر کی بددعا سے وہ نہیں سنبھلی تھی کے اپنی دادی کے حقارت بھرے الفاظ اُس کے مارنے کے منصوبے جان کر وہ اندر سے ٹوٹ سی گئ تھی آج اُن کی موت کو پانچ ماہ گُزر چُکے تھے اُن کی موت پلین کریش ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی جب وہ حج کرنے جارہی تھی مگر شاید اُن کی قسمت میں حج کرنا نہیں تھا۔آروش سے جب اُن عورتوں کی باتیں برداشت نہ ہوئی تو بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

ارے کہاں جارہی ہوں حویلی پوری مہمانوں سے بھری پڑی ہے ایسے میں تم جاؤں گی تو وہ باتیں بنائے گے لوگ۔فاریہ بیگم جو خود افسردہ تھی آروش کو بیڈ سے اُٹھتا پایا تو فکرمندی سے گویا ہوئی پر آروش بنا کوئی جواب دیئے کمرے سے نکل کر بھاگ کر شھباز شاہ کے کمرے میں آئی۔

آرو۔شازل جو شھباز شاہ کے کمرے میں تھا آروش کو عروسی جوڑے میں ایسے آتا دیکھا تو اُس کو اپنے سینے میں ٹیس سی اُٹھتی محسوس ہوئی جب کی کسی کو کال کرنے میں مصروف شھباز شاہ نے اپنی بیٹی کی حالت دیکھی تو ہونٹ سختی سے بھینچ لیے۔

لالہ ہمیں بابا سائیں سے بات کرنی ہیں۔ آروش شھباز شاہ کو دیکھ کر شازل سے بولی تو شازل خاموشی سے کمرے سے باہر چلاگیا۔

آروش

بس بابا سائیں۔

شھباز شاہ نے کجھ کہنا چاہا مگر آروش نے ہاتھ کے اِشارے سے کجھ کہنے سے روک لیا۔

اور کتنا بابا سائیں اور کتنا میں لوگوں کے آگے یوں رسوا اور زلیل ہوگی مجھے نہیں کرنی کوئی شادی میں وہ ہوں جو بددعاؤ کے زِیر اثر ہے آپ کو کیا لگتا ہے ایک ایسی لڑکی کا گھر بس سکتا ہے جو جانے کتنوں کی زندگی برباد کرچُکی ہے۔آروش اپنے آنسو بے دردی سے صاف کیے بولی

ایسی بات نہیں میرے بچے۔شھباز شاہ نے اُس کو سمجھانا چاہا

ایسا ہے ایسا ہی ہے میں ایک بدکردار لڑکی ہوں جس نے پہلے ایک لڑکے کو اپنے پیچھے لگایا پھر جب دل نہیں لگا تو اُس کو قتل کروادیا۔آروش اپنے چہرے پہ زور سے تھپڑ مارتی ہذیاتی انداز میں چیخی۔

آروش

آروش

آہستہ میری جان تمہاری آواز باہر بھی جاسکتی ہے۔شھباز شاہ اُس کے پاس آکر بیڈ پہ بیٹھا کر بولے

اِن دو سالوں میں میرے ساتھ بہت بُرا ہوا ہے میں اب یہاں نہیں رہنا چاہتی کجھ عرصے کے لیے یہاں سے دور جانا چاہتی ہوں۔آروش نے سپاٹ انداز میں کہا

جیسا تم کہو گی ویسا ہی ہوگا بس تم خود کو تکلیف مت دو۔شھباز شاہ اُس کا چہرہ صاف کیے نرمی سے بولے

آپ کو قسم ہے میری آج کے بعد آپ میری شادی کروانے کا سوچے گے بھی نہیں۔آروش نے اپنا دوسرا مدعا بیان کیا۔

ٹھیک ہے کوئی اور بات؟شھباز شاہ نے کہا

آپ سب کو یہ کہے گے میں اپنی پڑھائی کی وجہ سے جارہی ہوں۔آروش نے مزید کہا

ٹھیک ہے۔شھباز شاہ نے اُس کی یہ بات بھی مان لی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان کی آنکھوں میں ہلکی سی جنبش ہونے لگی اُس نے بامشکل آہستہ اپنی آنکھوں کو کُھولا تو اُس کو سب کجھ دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگا۔

آپ کو ہوش آگیا میں ابھی ڈاکٹر کو بُلاتی ہوں۔پاس کھڑی نرس نے اُس کو ہوش میں آتا دیکھا تو فورن سے کہتی باہر کو بھاگی۔جب کی یمان بے مقصد چھت کو گھورنے لگا۔.

میں زندہ ہوں میں بچ کیسے گیا۔یمان کو چھت کو گھورتا خود سے سوال کرنے لگا۔

ہیلو ینگ میں۔ڈاکٹر اُس کے روم میں آتا پرجوش انداز میں سلام کرنے لگا۔

میں یہاں کب سے ہوں؟یمان نے بہت ہلکی آواز میں پوچھا گلا خشک ہونے کی وجہ سے اُس کے گلے سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔

پورے دو سالوں سے۔ڈاکٹر کی بات سن کر یمان کو شدید قسم کا حیرت کا جھٹکا لگا

کیاا۔یمان چیخ کر کہتا اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا مگر اِس طرح اچانک اُٹھنے کی وجہ سے اُس کے سر سے ٹیسیں اُٹھنے لگے

رلیکس آپ کو ابھی آرام کی ضرورت ہے میں دلاور خان سے بات کرتا ہوں وہ بہت خوش ہوگے آپ کے کومہ سے باہر آنے کی خبر سن کر۔ڈاکٹر اُس کو بیڈ پہ لیٹاتا ہوا بولا

دلاور خان کون؟یمان اپنے سر پہ ہاتھ رکھتا ناسمجھی سے پوچھنے لگا

ڈاکٹر لگتا ہے ان کی یاداشت چلی گئ ہے۔پاس کھڑی نرس نے افسوس بھری نظروں سے یمان کو دیکھ کر کہا اُس کی بات پہ سن کر یمان کو پہلا خیال آروش کا آیا۔

کاش ایسا ہوتا۔یمان نے بے ساختہ سوچا

مجھے سب یاد ہے۔یمان نے جلدی سے کہا

ہم دلاور خان کو کال کرکے آپ کا بتاتے ہیں ابھی آپ ریسٹ کرے۔ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بولا

مجھے میرے گھر جانا ہے میری ماں اور بہنیں میرے لیے پریشان ہوگی۔یمان نے سنجیدگی سے کہا تو ڈاکٹر کے ماتھے پہ ناسمجھی کے بل نمایاں ہوئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارا نام کیا ہے؟دلاور خان مسکراتی نظروں سے یمان کو دیکھ کر پوچھنے لگے۔

یمان مستقیم۔یمان نے مختصر جواب دیا

ماشااللہ نام اور شخصیت دونوں بہت خوبصورت ہیں۔زوبیہ بیگم یمان کے واری صدقے ہوئی۔

آپ لوگ کون ہیں اور میں کہاں ہوں میرے گھروالے میرے پاس کیوں نہیں؟یمان نے اپنے اندر آتے سوالات کے جوابات چاہے۔

میں مشہور فلم انڈسٹری کا مالک دلاور خان ہوں یہ میری زوجہ ہیں زوبیہ دلاور خان دوسری بات یہ کے تم کہاں ہو تو تم اسلام آباد میں ہو ہم کراچی سے تمہیں یہاں لائے کیونکہ ہم وہاں زیادہ وقت رُک نہیں سکتے تھے اور نہ تمہیں اکیلا چھوڑ سکتے تھے باقی تمہاری فیملی تو ہمیں اُن کا سیل نمبر دے دو میں ان تک اطلاع پہنچادوں گا۔دلاور خان نے سنجیدگی سے سب کجھ بتایا۔

میں خود جاؤں گا کراچی واپس جانے وہ کیا سمجھ بیٹھے ہو۔یمان پریشانی سے بولا

تمہارا جانا ضروری ہے کیا؟زوبیہ بیگم اُداس سی ہوگئ تھی اُن کو یمان سے عجیب قسم سی انسیت ہوگئ تھی۔

زوبیہ۔دلاور خان نے اُن کو ٹوکا تو وہ خاموش ہوگئ۔

میرا گھر ہے وہاں میرا جانا تو ضروری ہے نہ۔یمان نے کہا۔

جب تم مکمل ٹھیک ہوجاؤ گے تو میں خود تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤں گا۔دلاور خان کے من میں سوالات تو بہت تھے مگر وہ اپنے اندر دباتے بس یہی بولے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ ہے میرا چھوٹا سا گھر اُمید ہے تمہیں پسند آیا ہوگا۔شازل آروش کو اپنے چھوٹے سے فلیٹ لاتا شرارت سے بولا

سوری لالہ ہمیں پتا ہے آپ کو یہاں سے آمریکا جانا تھا آپ کی پڑھائی کا حرج ہورہا ہے ہوگا میں نے تو بابا سائیں سے اکیلے رہنے کا کہا تھا خوامخواہ آپ کو بھی اب پریشانی ہوگی۔آروش شرمندگی سے بولی

آرو تم شرمندہ مت ہو تمہیں یاد ہو تو میں بتادوں میں چھٹیوں پہ ہوں مطلب دو ماہ یہاں تمہارے پاس رہوں گا اُس کے بعد تم کسی اور کو ہائیر کرنا ویسے بھی لالہ کی سخت وارننگ کے تم دو ماہ گاؤں کے باہر قدم بھی نہیں رکھو گے اِس نے مجھے بڑا پریشان کیا تھا مگر تمہاری وجہ سے میرا بھی بھلا ہوگیا۔شازل نے مسکراکر کہا

جزاك اللّٰه خيرًا پر اماں سائیں آپ کو بہت یاد کرتی ہیں اِس لیے اپنا وقت آپ سے جتنا ہوسکے حویلی میں گُزارا کرے۔آروش نے اتنا کہا۔

جب میں چھوٹا تھا اور مجھے بورڈن اسکول بھیج دیا تھا تو یقین جانوں مجھے بھی وہ بہت یاد آیا کرتی تھیں میرا دل نہیں لگتا تھا راتوں کو نیند بھی نہیں آتی تھی پھر مجھے عادت سی ہوگئ اِس لیے اب حویلی میں اگر کوئی پیار سے بات کر بھی لے تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ چاپلوسی کررہا ہو یا خوشامدی۔شازل ہلکی مسکراہٹ سے بولا

تو کیا آپ بدلا لے رہے ہیں اُن سے؟آروش نے پوچھا

ارے نہیں میں کیوں بدلا لینے لگا میں تو جسٹ ایسے بتارہا تھا تمہیں خیر تم فریش ہوجاؤ تب تک میں تمہارے لیے کجھ کھانے کا پکاتا ہوں۔شازل نے رلیکس انداز میں کہا

آپ پکائے گے؟آروش کو تعجب ہوا

ہاں کیوں کیا تم نے مجھے اپنی طرح پھوہڑ سمجھا ہے۔شازل نے مصنوعی روعب سے پوچھا۔

نہیں مطلب آپ کُکنگ کیسے۔آروش کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے۔

تمہیں پتا ہے باہر اکیلے رہنے میں انسان کو یہ فائدہ ہوتا ہے کے وہ سب کجھ سیکھ جاتا ہے اب دیکھو کیا حویلی میں ایسا کوئی مرد ہوگا جس نے باورچی خانے میں قدم بھی رکھا ہوگا یقیناً نہیں پر ایک میں ہوں جس کے دن کی شروعات اور رات کا احتتام کچن میں ہوتا ہے یعنی صبح کا ناشتہ دوپہر کا لنچ رات کا ڈنر مجھے خود کرنا پڑتا تھا پھر جب اسٹڈی کے چکر میں رات بھر جاگنا ہو تو بار بار اُٹھ کر کافی الگ سے بنانا پڑتی ہے۔شازل نے مظلومیت سے کہا

آپ کتنے باتونی ہوگئے ہیں۔آروش نے شازل کو بنا سانس لیے بس بولتا دیکھا تو کہا

ہاں کیونکہ میرے تین سے چار دوست ہیں وہاں اور مزے کی بات بتاؤ وہ سب ایک سے بڑھ کر ایک باتونی قسم کے ہیں تو بس مجھ پہ اُن کی۔صحبت کا اثر پڑگیا ہے۔شازل اُس کی بات پہ ہنس کر کہتا کچن میں داخل ہوا تو آروش بھی اُس کے پیچھے کچن میں آئی۔

لالہ آپ وہاں ہیلپر رکھنا تو افورڈ کرسکتے ہیں نہ۔آروش نے کہا

وہاں ہیلپر ہیلپ نہیں کرتا۔شازل نے گول مٹول سا جواب دیا۔

آپ کی بیوی کے مزے ہوگے۔آروش نے شازل کو مہارت سے کام کرتا دیکھا تو ستائش بھرے لہجے میں بولی

نہیں یہ مزے بس تمہارے ہیں۔شازل فریج سے انڈے نکال کر اُس سے بولا

وہ کیسے؟آروش کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔

پہلے مجھے فریج سے آٹا نکال کردوں پھر بتاتا ہوں۔شازل لب دانتوں تلے دبائے کہا

یہ لے۔آروش نے فریج سے آٹا نکال کر اُس کو پیش کیا

ڈیئر سسٹر وہ ایسے کے میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔شازل نے سکون سے بتایا

کیوں نہیں کرینگے؟آروش نے جاننا چاہا

شادی کے علاوہ بھی بہت سے کام ہیں اور میں اِس شادی وغیرہ کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا۔شازل نے بیزار شکل بنائی۔

آپ کو آمریکا میں کوئی گوری پسند نہیں آئی۔آروش جانے کیوں متجسس ہوئی۔

نہیں کیونکہ وہاں لڑکیاں کالی ہوتی ہیں۔شازل شرارت سے کہا تو آروش نے گھورا

اچھا اگر تصور کریں کوئی لڑکی آپ کو اچھی لگتی ہے تو کیا پھر بھی نہیں کرے گے شادی؟آروش نے پوچھا

نہیں۔شازل نے صاف چِٹا انکار کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ عرصے بعد!

تم اندر جاؤ میں یہی ہوں۔دلاور خان نے یمان سے کہا جو اپنے گھر کے پاس کھڑا بس اُس کو دیکھے جارہا تھا جانے کیوں وہ اپنے اندر ہمت پیدا نہیں کر پارہا تھا کے گھر میں داخل ہوتا اُس کا دل انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اُس نے اپنی قیمتی چیز کھودی ہو۔

آپ اندر چلیں آپ غیر ہوکر میرے لیے بہت کجھ کیا ہے۔یمان دلاور خان کی بات پہ بولا

آر یو شیور میں چلوں ساتھ۔دلاور خان نے کنفرم کرنا چاہا۔

جی بلکل۔یمان نے کہا تو دلاور خان نے سراثبات میں ہلایا جیسے اپنی رضامندی ظاہر کی ہو۔

وہ دونوں جب گھر میں داخل ہوئے تو خاموشی نے استقبال کیا یمان نے پورے ہال میں نظر گُھمائی پھر نیچے بچھے قالین کو دیکھا جس پہ بیٹھ کر فائزہ بیگم کپڑے سِلا کرتی تھی آج وہ جگہ پوری خالی تھی نا فائزہ بیگم تھی اور نہ اُن کی کپڑے سِلنے والی مشین۔

لگتا ہے گھر خالی ہے۔دلاور خان نے اندازہ لگایا

میں امی کے کمرے میں جاتا ہوں۔یمان اپنے ڈر کو قابوں پاتا فائزہ اور مستقیم صاحب کے مشترکہ کمرے کی طرف بھاگا تو چونک پڑا کیونکہ مستقیم صاحب نڈھال حالت میں بیڈ پہ پڑے ہوئے تو اور پاس عیشا ہاتھ میں سوپ کا باؤل پکڑے مسلسل اُن سے کجھ کہہ رہی تھی۔

ابا۔یمان جلدی سے اُن کے پاس آیا

یمان!!!!!!!!!

عیشا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ یمان کو اپنے پاس بلکل زندہ صحیح سلامت دیکھ کر۔

آپی ابا کو کیا ہوا ہے؟یمان اُس کے تاثرات نوٹ کیے بنا عیشا سے بولا دلاور خان بھی پریشان ہوگئے تھے۔

ج جا ؤ ی یہ یہا یہاں س سے۔مستقیم صاحب نے یمان کو دیکھا تو مُنہ مور کر بولے تو یمان کو تکیلف ہوئی۔

مجھے معاف کردے پر پلیز ایسے نہ کہے میں آپ لوگوں کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔یمان کی آنکھیں نم ہوئی۔

یمان تم کہا تھا اتنے وقت سے تمہیں پتا ہے ہم سب کتنے پریشان تھے ہماری ماں تمہاری جھوٹی موت کا سن کر ہمیں چھوڑ کر چلی گئ پھر اُن کے بعد ابا کی یہ حالت۔عیشا اپنی آنکھوں کو صاف کیے یمان سے پوچھنے لگی

اماں

اماں کہاں ہے آپی۔یمان مستقیم صاحب کے پاس سے اٹھتا عیشا سے فائزہ بیگم کا پوچھنے لگا اُس کو یقین نہیں آرہا تھا اُس کے پیچھے یہ سب ہوگیا ہے۔

وہ اب اِس دنیا میں نہیں۔عیشا اتنا کہتی رو پڑی آج پھر اُس کا غم تازہ ہوگیا تھا جب کی یمان پتھر کا بن گیا یہ خبر سن کر اُس کو آج اپنا آپ بدنصیب لوگوں میں سے لگا جس نے آخری وقت پہ اپنی ماں کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا۔

آپ جھوٹ بول رہی ہیں نہ؟یمان عیشا کو کندھوں سے پکڑتا اُمید بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔

نہیں۔عیشا اُس کے سینے پہ سر ٹکاتی بس اتنا بولی۔

میر میرا کوئی ب بیٹا نہیں میں ب بس دو بٹ بٹیوں ک کا باپ ہ ہوں تم یہاں سے چلے جاؤ اور دوبارہ اپنی شکل مت دیکھانا۔مستقیم صاحب نے اٹک اٹک کر اپنے الفاظ کہے۔

آپ اپنے بیٹے سے ایسے بات کیوں کررہے ہیں آپ کو تو شکر گُزار ہونا چاہیے اللہ نے آپ کو بیٹے کی نعمت سے نوازہ ہے اُس پہ بجائے آپ شکرگُزار ہونے کے اُس سے ایسے بات کررہے ہیں ناراضگی اپنی جگہ مگر یوں بیٹے سے منہ موڑنا اچھی بات نہیں۔دلاور خان نے پہلی مرتبہ باتوں میں حصہ لیا۔

ابا یمان کہاں جائے گا۔عیشا نے یمان کا ہاتھ زور سے پکڑ کر کہا

جہاں دو سال پہلے تھا۔مستقیم صاحب کے جواب پہ یمان کا دل کٹ کے رہ گیا۔

اگر میرے اتنے کہنے کے باوجود بھی آپ اپنی بات پہ قائم ہے تو ٹھیک ہے یمان میں تمہارا باہر گاڑی میں انتظار کررہا ہوں۔دلاور خان افسوس بھرے لہجے میں مستقیم صاحب سے بول کر یمان کو بولے جو خالی خالی نظروں سے اپنا باپ کا ایسا بے رحمی والا سلوک دیکھ رہا تھا۔

یمان اب کہی نہیں جائے گا۔عیشا نے نفی میں سر کو جنبش دے کر کہا

ابا۔یمان نے مستقیم صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کجھ کہنا چاہ رہا تھا مگر مستقیم صاحب نے اپنا ہاتھ جھٹک دیا۔

تم اپنے کمرے میں جاؤ ابا ابھی ناراض ہے۔عیشا یمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر دلاسہ دینے لگی۔

اگر یہ یہاں رہا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی۔مستقیم صاحب کو اپنی بات پہ بضد دیکھ کر یمان اپنے آنسو پیتا کمرے سے باہر پھر گھر سے باہر نکلتا چلاگیا۔

یمان

یمان

رُکو میری بات سنو پلیز اب کہی مت جاؤ ابا ناراض ہیں کجھ وقت تک مان جائے گے۔عیشا باہر کی جانب آتی یمان کو روک کر بولی۔

میری لیے یہاں اتنا رہنا ضروری نہیں جتنا ابا کی زندگی ضروری ہے میں نے ماں تو کھودی ہے اپنی وجہ سے مگر باپ کو نہیں کھو سکتا۔یمان کی بات پہ عیشا جیسے کجھ کہنے کے قابل ہی نہ رہی۔

میں آپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں میری وجہ سے آپ سب نے بہت تکلیف دیکھی ہیں مگر اب دوبارہ میری وجہ سے ایسا کجھ نہیں ہوگا۔یمان نے شرمندگی سے سرجھکاکر کہا

ایسی بات نہیں ہے یمان۔عیشا نے اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔

مجھے ابھی جانے دے آپی میں نہیں چاہتا میری یہاں موجودگی سے ابا مزید مجھ سے خفا ہو۔یمان نے اُس کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے۔

فجر کو آنے دو وہ تمہیں دیکھے گی تو خوش ہوجائے گی تمہیں پتا ہے وہ اُمید سے ہے جلد تمہارا بھانجا اِس دُنیا میں آئے گا۔عیشا نے ایک اور کوشش کی۔

آپی مجھے کمزور مت کرے۔یمان اپنے قدم پیچھے کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا تو دلاور خان نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اِشارہ دیا۔پیچھے عیشا دیر تک گاڑی کو دور جاتا دیکھنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *