Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 64)Part 2
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 64)Part 2
Haal e Dil by Rimsha Hussain
کجھ دن بعد!
آپ اتنا جلدی جارہی ہیں شازم کی باری پہ تو پورا ایک ماہ تھی اور اب ہماری حورم کی باری پہ بامشکل ایک ہفتہ رہی ہے۔حریم نے شکوہ کناں لہجے میں آروش سے کہا جو بیڈ پہ لیٹی حورم کے ساتھ مصروف تھی
میرا بس چلے تو میں یہاں سے کہیں نہ جاؤں مگر دلاور بابا نے کہا ہے تو مجھے جانا پڑے گا۔آروش نے گہری سانس بھر کر بتایا
پھر کب آئے گی؟حریم نے اُداسی سے پوچھا
ان شاءاللہ جلد۔آروش نے مسکراکر کہا
اچھا۔حریم بس یہی بولی
تم حورم کو بے بی کارٹ میں ڈالو میں آتی ہوں۔آروش بیڈ سے اُٹھ کر حریم سے بولی
ڈالتی ہو ایک تو یہ سوتی بہت ہے۔حریم منہ بناکر حورم کو دیکھ کر بولی
کجھ دنوں کی بات ہے پھر کہو گی یہ سوتی کیوں نہیں کیونکہ اکثر بچے رات کے وقت ہی تنگ کرتے ہیں اپنی ماں کو۔آروش اُس کی بات پہ نفی میں سرہلاکر بولی تو حریم ہنس کر حورم کو اپنی گود میں اُٹھانے لگی جب کی آروش کمرے سے باہر آئی تو اُس کا سامنا دُرید سے ہوا جس کے ہاتھوں میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔
لالہ یہ؟آروش نے سوالیہ نظروں سے دُرید کو دیکھا۔
اب تو ہمارا نکاح ہوسکتا ہے نہ تم نے ایک بار خود بتایا تھا حریم یہ بات جانتی ہے کے میں نے تابش کا قتل کیا تھا۔دُرید نے سنجیدگی سے بولا
جی میں نے ایک بار باتوں ہی باتوں میں اُس کو بتادیا تھا پر حریم نے کبھی مجھ سے ذکر نہیں کیا تھا پھر اور اب نکاح آپ جلدبازی کررہے ہیں۔آروش پریشان ہوئی
یہ جلدبازی نہیں ہے حریم ایسے مجھے کبھی حورم کے پاس نہیں جانے دے گی دوسرا وہ حورم کی اکیلی پرورش نہیں کرسکتی وہ خود ابھی چھوٹی ہے اور مجھے یہ بتاؤ تم ایک ہفتے سے یہاں ہو تم نے حورم کو میرے پاس دیکھا؟دُرید سنجیدگی سے کہتا آخر میں اپنی سوالیہ نظریں اُس پہ ٹِکائی۔
نہیں لالہ۔آروش نے نظریں چُرائی۔
وہ جان بوجھ کر حورم کو مجھ سے دور کرنا چاہتی ہے پر میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔دُرید اٹل انداز میں بولا
آپ کو لگتا ہے وہ مان جائے گی؟آروش نے جھجھک کر پوچھا
اُس کو ماننا ہوگا کیا میری ایک غلطی کی وجہ سے خود کو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور رہ پائے گی؟میں تو اِس بات پہ حیران ہوتا ہوں جہاں پہلے مجھ سے بات کیے بغیر اُس کا گُزارا نہیں ہوتا تھا یہ دو سال اُس نے بنا مجھ سے کوئی بات بنا کسی شکوہ شکایت کے کیسے گُزارے ہیں۔دُرید اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر پریشانی سے بولا
آپ جائے حریم کے پاس وہ بولے یا نہ بولے مگر سب جانتے ہیں وہ آپ سے پیار کرتی ہے آپ کو یاد کرتی ہے بس خود کو ایک خول میں چُھپا کے رکھا ہوا ہے۔آروش نے گہری سانس بھر کر کہا
مجھے حریم کو اِس خول سے ہی تو باہر نکالنا ہے۔دُرید فورن سے بولا تو آروش مسکراکر سائیڈ پہ ہوگئ جس پہ دُرید اُس کے سر پہ ہاتھ پھیرتا حریم کے کمرے کی طرف بڑھا۔
دُرید نے حریم کے کمرے کا دروازہ کُھولا تو حریم کی پشت دیکھائی دی۔حریم نے دروازہ کُھلنے پہ بے خیالی میں دروازے کی طرف دیکھا جہاں دُرید شاہ کھڑا تھا آج اُس کو اِتنے وقت بعد دیکھ کر حریم نے اندر ہلچل مچل تھی جس کو وہ سِرے سے نظرانداز کرگئ تھی۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟حریم حورم کو بے بی کارٹ میں لیٹا کر دُرید کی جانب متوجہ ہوکر بولی تو دُرید جو غور سے حریم کا چہرہ دیکھ رہا تھا اُس کی آواز پہ ہوش میں آیا دُرید کو حریم پہلے سے زیادہ کمزور لگی تھی۔
یہ کپڑے ہیں پہن کر جلدی سے تیار ہوجاؤ۔دُرید ہاتھ میں پکڑا بیگ بیڈ پہ رکھ کر اُس سے بولا
ہم کس لیے تیار ہونے لگے بھلا؟حریم ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
کپڑے چینج کر آؤ پھر بتاتا ہوں۔دُرید نے اُس کی طرف دیکھ کر جواب دیا
ہمیں کجھ نہیں کرنا اور آپ اپنا بیگ لیکر جائے یہاں سے۔حریم نے سنجیدگی سے کہا
ہمارا نکاح ہے آج شام اِس لیے فورن سے کپڑے تبدیل کرکے آؤ۔دُرید کی بات اُس کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھی ایک پل کے لیے حریم کی سانس ساکن ہوئی تھی دُرید کی بات پہ۔
ک کی کیا مذاق ہے یہ ؟حریم کی زبان لڑکھڑاسی گئ تھی۔
مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔دُرید نے کہا
آپ سے نکاح کرنے سے اچھا ہم خودکشی کرلے۔حریم نخوت سے سرجھٹک کر بولی
فضول مت بولو حریم۔دُرید دھاڑا
آہستہ بات کرے ہماری بچی سو رہی ہے۔حریم جلدی سے حورم کو دیکھ کر دُرید سے بولی
ہماری بچی۔دُرید اُس کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھ کر اُس کا لفظ اچک کر بولا تو حریم بُری طرح سے سٹپٹائی تھی اُس کا کہاں عادت تھی دُرید کی ایسی والہانہ نظروں کی۔
ہماری اور تاب
اِس سے آگے ایک لفظ مت بولنا حریم ورنہ مجھ سے بُرا کو نہیں ہوگا۔حریم کجھ کہنے والی تھی جب دُرید ایک جست میں اس تک پہنچ کر وارن کرنے لگا۔
آپ سے بُرا کوئی اور ہے بھی نہیں سکتا ہمیں آپ سے نکاح نہیں کرنا اِس لیے چلے جائے یہاں سے۔حریم رخ موڑ کر بولی
سوچ لو حریم اگر تم نے انکار کیا تو اُس صورت میں تم کبھی حورم کا چہرہ نہیں دیکھ نہیں پاؤں گی میں اُس کو تم سے دور لیکر جاوں گا۔دُرید سخت لہجے میں بولا تو حریم گردن موڑ کر بے یقین نظروں سے دُرید کو دیکھنے لگی جو اُس کے سامنے کھڑا اُس کی بیٹی کے بارے میں ایسے بول رہا تھا
آپ کا ایسا کوئی حق نہیں اور خبردار جو ایسا سوچا بھی تو۔حریم نے وارن کیا جب کی دُرید ایک نظر اُس پہ ڈال کر کاٹ میں لیٹی حورم کو اُٹھا کر بانہوں میں بھرا تو حریم کا دل خوف کے احساس سے دھڑک اُٹھا۔
دُر لا پلیز حورم مجھے واپس دے آپ ہمارے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟حریم نے دُرید کو حورم لیکر کمرے سے باہر جاتا دیکھا تو تیزی سے اُس کے راستے میں حائل ہوتی بولی۔
دُرید کے لب “دُر لا”لفظ پہ گہری مسکراہٹ میں ڈھلے میں تھے آج ایک عرصے بعد اُس نے اپنے لیے حریم سے یہ لفظ سن تھا جو اُس کو پرسکون کرگیا تھا اُس نے نرمی سے حورم کو بیڈ پہ لیٹا کر اُس کا ماتھا چوما پھر حریم کے روبرو آیا جو سہمی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔
اچھا لگا مجھے در لا سن کر پر اب تمہیں چاہیے دُر لا سے “لا” ہٹا کر بس “در”پہ آجاؤ اور میں ایسا کجھ نہیں کرنا چاہتا تھا تم بس نکاح کے لیے تیار ہوجاؤ۔دُرید نے نرمی سے اُس کو دیکھ کر کہا
ہم نہیں کرنا
ٹھیک ہے پھر حورم کو بھول جاؤ میں اُس کو پال لوں گا جو میرے لیے مشکل نہیں کیونکہ تم بھی حورم جتنی تھی جب پُھپھو جان نے تمہارا وجود میرے حوالے کیا تھا تب تو میں چھوٹا تھا پھر بھی تمہارا خیال رکھ لیا کرتا تھا تو اب تو میرے لیے یہ بائے ہاتھ کا کھیل ہیں۔حریم دوبارہ سے انکار کرنے والی تھی جب دُرید حورم کو ایک بار پھر اُٹھانے کے لیے جُھکا
نہیں نہیں
پلیز نہیں
ہم کرینگے آپ سے نکاح بس آپ حورم کو ہم سے دور نہ کرے۔اُس سے پہلے دُرید حورم کو سچ میں لے جاتا حریم جلدی سے ایک سانس میں بولی تو دُرید کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ چھاگئ۔
