Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 64)Part 1

Haal e Dil by Rimsha Hussain

پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کبھی؟ اتنا وقت تو ہوگیا ہے تھا آروش کو گھر آئے۔دلاور خان بس یہی پوچھ پائے۔

سوچا تھا پہلے خود سے اُن کو راضی کرلوں پھر آپ سے بات کروں مگر ڈیڈ وہ ابھی تک میری محبت پہ یقین نہیں کرتی پتا نہیں کیا بے یقینی ہے اُن کو میں جو بھی کرلوں جیسا بھی کرلوں اُن کو اعتبار ہی نہیں آتا۔یمان بے بسی سے بولا

پریشان مت ہو کیونکہ اب تمہیں مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یمان اب وہ ہوگا جو تم چاہتے ہو تم بس آپریشن ہوجانے دو۔دلاور خان اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولے

آپریشن میں بچنے سے زیادہ مرنے کے چانسز زیادہ ہیں میں پہلے اُن سے نکاح کروں گا اُس کے بعد آپریشن کے لیے حامی بھروں گا آپ بس اُن کو نکاح کے لیے راضی کرے۔یمان ضدی لہجے میں بولا تو دلاور خان نے ڈاکٹر حمید کو دیکھا جو کندھے اُچکا گئے تھے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج صبح سے حریم کی طبیعت بگڑ گئ تھی جس لیے دُرید اُس کو ہسپتال لایا تھا فاریہ بیگم اُس کے ساتھ تھی۔ہسپتال پہچتے ہیں حریم کو ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا تھا جس وجہ سے دُرید کے اندر عجیب قسم کے خدشات بیٹھ گئے تھے اُس کا ہر عضوو حریم اور اُس کے بچے کی صحت یابی کے لیے دعا گو تھا۔

چچی جان ڈاکٹر نے آپریشن کا بولا ہے۔دُرید پریشانی سے فاریہ بیگم سے بولا

کجھ نہیں ہوتا دُرید ان شاءاللہ آپریشن کی نوبت نہیں آئے گی تم بس خود کو پرسکون رکھو۔فاریہ بیگم نے اُس کو تسلی کروائی۔

ابھی تو تین سے چار دن رہتے تھے نہ۔دُرید پرسوچ لہجے میں فاریہ بیگم سے بولا

رہتے تو تھے مگر حریم کی طبیعت خراب ہوگئ تھی شاید اِس لیے بول رہے ہو۔فاریہ بیگم نے کہا

آپ دعا کرے۔دُرید بس یہی بول پایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کہاں جارہے ہیں؟ماہی نے شازل کو تیار ہوتا دیکھا تو پوچھا

اسلام آباد حریم ہوسپٹل میں ہے۔شازل نے جواب دیا

ابھی تو دن ہیں نہ؟ماہی نے کہا

ہممم مگر اُس کی اچانک طبیعت خراب ہوگئ ہے لالہ کا فون آیا تھا مجھے جانا ہے اُن کو ضروری پڑسکتی ہے۔شازل نے جواب دیا

اچھا میں بھی چلوں ساتھ؟ماہی نے پوچھا

شازم تنگ کرے گا ویسے بھی اِس کو سردی لگ جاتی ہے اور ایسے موسم میں اتنا لمبا سفر بچے کے لیے ٹھیک نہیں۔شازل نے کہا

میں شازم کو کمبل میں ڈھانپ لوں گی اور پھر آپ گاڑی کا ہیٹر آن کرلینا اور اتنا لمبا سفر بھی نہیں مجھے حریم کا بے بی دیکھنا ہے۔ماہی بضد ہوئی۔

شازم اماں سائیں کے حوالے کرو پھر ہم چلتے ہیں۔شازل نے کجھ سوچ کر کہا تو ماہی نے اُس کو گھورا

شازل دو ماہ کا بچہ اپنی ماں کے بنا کیسے رہے گا؟ہزار کام ہوتے ہیں بچے کے ایک اور ہمارا شازی ہے بھی ابھی بہت چھوٹا۔ماہی نے جیسے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔

وہ ہی تو تمہیں سوچنا چاہیے یہ ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا جو اِس کو ساتھ لیکر کہیں بھی آیا جایا جائے اِس لیے تم یہی رکو ایک دو دن کی تو بات ہے خیر سے بچہ ہوجائے پھر واپس آنا ہے۔شازل نے نرمی سے اُس کو سمجھایا

اچھا ٹھیک ہے جلدی۔ماہی نے نیم رضامندی دی تو شازل مسکرایا

اپنا اور شازم کا خیال رکھنا۔شازل اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ بابا کو کال کرے نہ مجھے ہسپتال جانا ہے ایمرجنسی ہے۔آروش نے پریشان سے زوبیہ بیگم سے کہا

وہ راستے میں ہیں مگر آروش تم پورا ایک ماہ وہاں گُزار چُکی ہوں اب پھر تم وہاں جانا چاہتی ہو کیونکہ پھر کسی کی ڈیلیوری ہے تم کوئی ڈاکٹر تو نہیں۔زوبیہ بیگم نے کہا

میں ڈاکٹر نہیں ہوں مگر مجھے ابھی وہاں رہنا چاہیے تھا کیونکہ میں نے حریم سے واعدہ کیا تھا میں اُس کی ڈیلیوری کے آخری ماہ میں اُس کے ساتھ رہوں گی یا یہاں بلوالوں گی مگر آپ لوگوں کو میرا وہاں جانا پسند نہیں آیا جبکہ وہ اِسی شہر میں تھے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا

ہاں تو وہ لڑکی یہاں رہ لیتی۔زوبیہ بیگم نے کہا

دُرید لالہ کو ٹھیک نہیں لگا تھا۔آروش نے وجہ بتائی۔

ایک تو اِن گاؤں والے کے مسائل بہت ہیں خیر تم ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں۔زوبیہ بیگم نے سرجھٹک کر کہا

میں ایسے کسی کے ساتھ چلی جاؤں۔آروش کو بُرا لگا۔

اچھا میں ارمان کو کال کرتی ہوں وہ تمہیں چھوڑ آئے گا گھر کا بچہ ہے وہ تم بھی تو اتنے عرصے سے اُس کو جانتی ہوں۔زوبیہ بیگم نے کہا

ٹھیک ہے مگر پھر آپ نجمہ کو بھی کہیے گا وہ ساتھ آئے۔آروش کجھ سوچ کر بولی

نجمہ کیوں؟زوبیہ بیگم نے تعجب سے پوچھا

اکیلے ٹھیک نہیں لگتا۔آروش نے اتنا کہا ہی تھا جب دلاور خان اور یمان گھر کے اندر داخل ہوئے اُن دونوں کے اتنے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر آروش کو شک گُزرا۔

السلام علیکم بابا۔آروش نے دونوں کو دیکھ کر سلام کیا

وعلیکم السلام تم کہی جارہی ہو؟دلاور خان نے اُس کو عبائے میں ملبوس دیکھا تو پوچھا یمان جو سیدھا اپنے کمرے میں جارہا تھا دلاور خان کی بات پہ پلٹ کر آروش کو دیکھا جو عبائے اور حجاب میں تھی۔

جی ہسپتال جانا ہے میری کزن کی ڈیلیوری ہے آپ کا انتظار کر رہی تھی کے آپ چھوڑ آئے۔آروش نے بتایا

میں چھوڑ آتا ہوں۔یمان اُس کی بات سُنتا فورن سے بولا

اُس کی ضرورت نہیں شکریہ۔آروش بنا اُس کو دیکھ کر بولی۔

میں چھوڑ آؤں گا اور مجھے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے آروش سے۔دلاور خان نے یمان کو دیکھ کر کہا تو اُس نے خاموش سے سراثبات میں ہلایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حریم کیسی ہے؟دُرید نے ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھا تو فورن سے اُس کی طرف بڑھ کر بولا

جی وہ اب ٹھیک ہے ڈیلیوری بھی آج ہوگی۔ڈاکٹر نے بتایا

آپریشن ہوگا؟دُرید کسی خدشے کے تحت بولا

ہمم نہیں کیونکہ اُن کی طبیعت بہت سنبھل چُکی ہے اور دن بھی پوری ہیں تو ایسا نہیں ہوگا۔ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا

تین چار دن رہتے ہیں ابھی اور یہاں کی ایک ڈاکٹر نے کہا تھا ڈیلیوری کے آخری دن بچہ گرو کرتا ہے میرا مطلب وزن وغیرہ جو ہوتا ہے اگر آج ہوگا تو بچے کو کوئی نقصان وغیرہ تو نہیں ہوگا نہ۔دُرید نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا

کہا ہوگا مگر اب سب نارمل ہے آپ بس دعا کرے ماں اور بچہ اللہ کے فضل سے دونوں ٹھیک ہے۔ڈاکٹر نے کہا تو دُرید نے شکر کا سانس خارج کیا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آپ کو شاید کوئی ضروری بات کرنی تھی؟دلاور خان نے گاڑی ہسپتال کے پاس روکی تو آروش جو سارے راستے میں انتظار میں تھی کے کب دلاور خان کوئی بات کرے گا مگر اُس کو کوئی بات نہ کرتا دیکھ کر خود ہی بات کی۔

ہاں مگر اب شاید وقت ٹھیک نہیں تم گھر آجاؤں گی تو بات ہوجائے گی۔دلاور خان نے کہا

آپ اب بھی مجھ سے بات کرسکتے ہیں اگر آپ کو مناسب لگے تو۔آروش نے کہا

مجھے آج پتا چلا کے یمان کو برین ٹیومر ہے۔دلاور خان نے کہا تو آروش چپ سی ہوگئ تھی وہ دلاور خان کے چہرے سے اُن کی تکلیف کا اندازہ باخوبی لگاسکتی تھی۔

وہ آپ کو عزیز ہے؟آروش نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔

سترہ اٹھارہ سال کا تھا یمان جب وہ مجھے خون میں لت پت سڑک پہ نیم مُردہ حالت میں ملا تھا اُس کے سینے میں دو گولیاں ماری گئ تھی سر سے خون الگ سے بہہ رہا تھا جب میں نے اُس کو ایسی حالت میں دیکھا تو یہ سوچنے لگا کوئی ایک بچے کو اتنی بے رحمی سے کون مار سکتا ہے اور کیوں؟(دلاور خان کی بات پہ آروش کا وجود لرزا تھا آج پھر وہ واقعہ اُس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا جس کو وہ بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی)”میرے ڈرائیور نے کہا مجھ سے کے اُس کو ہسپتال لے جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ مرگیا ہوگا مگر میرا دل مان نہیں رہا تھا عجیب قسم کی ایک انسیت مجھے اُس سے محسوس ہونے لگی وہ نے اُس کی سانسیں چیک کی جو بہت مدھم سے چل رہی تھی میری اُس وقت اسلام آباد کی فلائٹ تھی میں کبھی کراچی میں زیادہ عرصہ نہیں رہا تھا اُس بار بھی اپنے ایک شوٹ کی وجہ سے گیا تھا جہاں اتفاق سے مجھے یمان بھی ملا تھا پھر جب ہم ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر اُس کا چیک اپ کیے بنا مُردہ قرار دیا پولیس کیس نہیں بنا تھا ضرور بنتا مگر میری ایک پہچان تھا ایک نام تھا میں نے سب ہینڈل کرلیا تھا ڈاکٹروں نے اُس علاج کرنا شروع کیا دو گولیاں نکلا چُکے تھے اور مجھ سے کہا اگر گولی مارنے والا کا نشان تھوڑا بھی پکا ہوتا تو ایک گولی سیدھا یمان کے دل میں لگتی۔(آروش کو گھٹن کا احساس ہونے لگا تھا بے ساختہ اُس نے اپنا نقاب اُتارا تھا وہ نہیں جانتی تھی دلاور خان کیوں اُس کو یہ سب ایسے اچانک سے بتارہا ہے مگر جو بھی تھا یہ حقیقیت سن کر آروش کو ایک بار پھر سے اپنا آپ مجرم لگنے لگا تھا کیونکہ اُس نے بس یمان کو مار کھاتے دیکھا تھا اُس کے بعد یمان کِن تکلیفوں سے گُزرا وہ اِن سب سے جان کر بھی انجان تھی) مگر اللہ کا شکر تھا گولی دل کے پاس تھی دل پہ نہیں لگی تھی ورنہ یمان آج زندہ نہ ہوتا وہ گولیوں سے تو بچہ گیا مگر جو اُس کے سر پہ وار ہوا تھا اُس نے یمان کے دماغ کی رگوں کو ڈیمیج کیا تھا ایک سے ڈیڑھ سال تک وہ کومہ میں رہا تھا جب ہوش آیا تو اپنے گھر جانے کی ضد کی مگر تب وہ اُس حالت میں نہیں تھا جو سفر کرپاتا ایک دو ماہ تک میں نے اُس کو ٹالا پھر ہم جو کراچی سے لاہور سے اسلام آباد پھر لاہور سے اسلام آباد آگئے تھے دوبارہ کراچی آگئے تو ایک نئ خبر ہماری منتظر تھی پتا ہے کونسی بات ہے؟دلاور خان نے گردن موڑ کر آروش کو دیکھا جس کی رنگت فق تھی اُس کا وجود ہلکہ سا کانپ رہا تھا۔

ک کیا؟آروش نے ہمت جمع کرکے پوچھا

یمان کی ماں اِس فانی دُنیا سے چل بسی ہے وجہ اپنے بیٹے کی جُدائی تھی کتنا بدنصیب بیٹا تھا نہ جو اپنی ماں کا چہرہ بھی نہ دیکھ پایا نہ اپنی ماں کے جنازے کو کندھا دیا اور کتنی بدنصیب وہ ماں تھی جو مرتے وقت اپنے بیٹے کو یاد کرتی رہی مگر اُس سے مل نہ پائی زیادہ تر والدین بیٹے کی خواہش اِس وجہ سے کرتے ہیں کے تاکہ وہ اُن کے بوڑھاپے کا سہارہ بنے مگر یمان کی ایک غلطی نے اُس سے اپنے ماں باپ سے دور کردیا وہ اپنے اصل سے چھوٹ گیا۔دلاور خان گہری سانس بھر کر خاموش ہوگئے تھے۔جب کی آروش کے منہ سے ایک سسکی بر آمد ہوئی تھی وہ چاہ کر بھی خود کو رونے سے باز نہیں رکھ پائی تھی۔

اُس کو اپنالوں بیٹا وہ مررہا ہے تم اُس کو جینے کی اُمید تھمادوں۔دلاور خان نے اچانک کہا تو آروش بے یقین نظروں سے دلاور خان کو دیکھنے لگے جو سامنے کی طرف دیکھ رہے تھے۔

یہ آپ کیا بول رہے؟آروش نے کہا

یمان نے مجھے دیا ہے وہ جس کو کالج لائیف میں چاہتا تھا وہ تم ہو۔دلاور خان نے بتایا

جو وہ مجھ سے چاہتا ہے وہ ناممکن ہے۔آروش نے کہا

کیوں ناممکن ہے بیٹا؟دلاور خان کو سمجھ نہیں آیا

بس ناممکن ہے اور مجھے ہوسپٹل جانا ہے۔آروش اتنا کہتی نقاب پہنے لگی۔

سنگدلی کا مظاہرہ مت کرو اتنا آروش وہ چاہتا ہے تمہیں۔دلاور خان نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا

پر میں ایسا کجھ نہیں چاہتی آپ کے لیے منہ بولے بیٹے سے زیادہ اپنی بیٹی کے فیصلے کی اہمیت ہونی چاہیے۔آروش اتنا کہتی گاڑی کا دروازہ کھول کر ہسپتال کے اندر جانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ مجھے دے میں اِس کو اپنی گود میں اُٹھاؤ۔شبانا ابھی نہا کر باورچی خانے میں جانے کا اِرادہ کیے ہوئے تھے جب اُس کی نظر شازم پہ پڑی جو کلثوم بیگم کی گود میں تھا۔

یہ پکڑو میں بھی نماز پڑھ لوں۔کلثوم بیگم شازم کو شبانا کی گود میں دے کر بولی تو شازم اپنی آنکھیں بڑی بڑی کرتا شبانا کو دیکھنے لگا جو اُس کو تیکھی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

سُنا ہے تجھے سردی بڑی لگتی ہے۔کلثوم بیگم کے جانے کے بعد شبانا شازم کے اطراف لپیٹے ہوئے کمبل کو کھول کر اُس سے بتانے لگی تو جب کمبل سارا کُھل گیا تو شازم اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہلانے لگا۔

بڑی جلدی تھی اِس دُنیا میں آنے کی۔شبانا اُس کا چھوٹا سا ہاتھ پکڑ کر بولی تو شازم کا دوسرا چھوٹا سا ہاتھ اُس کے کُھلے ہوئے گیلے بالوں میں بُری طرح سا اُلجھا تھا۔

آآہ۔ شبانا جو اُس کو گھورنے میں مصروف تھی اپنے سر پہ کجھ کھچاؤ محسوس کرکے اُس کی چیخ نکلی تھی وہ شازم کا ہاتھ چھوڑتی اُس کے دوسرے ہاتھ سے اپنے بال نکالنے لگی کیونکہ شازم کے ہاتھ کی مٹھی بند ہوگئ تھی۔

مُٹھی کھولو اپنی۔شبانا اپنے سر میں اُٹھتی ٹیسوں کو برداشت کرتی شازم سے ایسے بولی جیسے وہ اُس کی بات سمجھ رہا ہو وہ اپنا سر اُس پہ جُھکانے لگی تاکہ اُس کی مٹھی آسانی سے کھول سکے مگر ایسے میں شازم اپنا دوسرا ہاتھ اُس کے چہرے پہ پھیرنے لگا تو شبانا کی آنکھ کا نشانہ ہوگیا۔شبانہ بُری طرح سے پھسی تھی۔ماہی جو خود شازم کو لینے آئی تو اُس کو ایسے دیکھا تو فورن سے بھاگ کر شبانا کے پاس آئی۔

یہ آپ نے کمبل کیوں اُتارا یہ چھوٹا سا بچہ ہے یہ تو خیال کرتی۔ماہی شازم اُس سے لیتی فکرمندی سے بولی

کجھ نہیں ہوتا اِسے میرے بال نوچے ہیں تمہارے بیٹے نے۔شبانا نے تیز آواز میں کہا تو ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

شازم اب اتنا بڑا بھی نہیں ہوا جو کسی کے بال نوچے آپ کو چاہیے تھا اپنے بال باندھ لیتی ایسے میں کسی بچے کے ہاتھ میں بال اٹک تو جاتے ہیں نہ۔ماہی شازم کے گرد کمبل اُوڑھ کر شبانا کو جوابً بولی۔

اِس کو اپنے بستر پہ لیٹایا کرو میں نیچے نہ دیکھو دوبارہ۔شبانا نے دونوں کو گھورا

سارا دن اپنے بستر اور بے بی کاٹ میں ہوتا ہے اب تھوڑا کُھلی فضا میں آیا تو آپ کو ناگوار لگ رہا ہے۔ماہی کو اُس کی بات بُری لگی تو کہا

یہ کُھلی فضا نہ اپنے کمرے میں اِس کو دیا تھا یہاں دینے کی ضرورت نہیں اللہ جانے میرے کتنے بال ٹوٹے ہوگے۔شبانا اُس کو سخت لہجے میں سُناتی اپنے بالوں کو دیکھ کر بڑبڑائی۔

چلو مما کا شہزادہ اب سونے کا وقت ہوگیا ہے ہم اپنے کمرے میں جائے گے۔ماہی شبانا کو نظرانداز کرتی شازم کو پچکارنے لگی جو اُس کو دیکھ رہا تھا۔

میرا بچہ مجھے امی کب بولے گا؟ماہی اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیتی بتاتے کرتی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی۔شبانا بھی جلدی کڑھتی باورچی خانے میں جانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش شازل دُرید اور فاریہ بیگم یہ سب بیٹھے انتظار میں تھے کے کب ڈاکٹر اُن کو کوئی خوشخبری سُناتی ہے شھباز شاہ بھی آنے والے تھے مگر اُن کو کوئی کام پڑگیا تھا جس وجہ سے شہر نہ آپائے مگر آروش کا زیادہ تر توجہ دلاور خان کی باتوں کی طرف تھیں وہ چاہ کر بھی اپنا ذہن اُن کی باتوں سے جھٹک نہیں پارہی تھی۔

مُبارک ہو بیٹی ہوئی ہے۔ڈاکٹر نومولود بچے کو اپنی گود میں اُٹھاتی باہر آکر اُن سب سے مسکراکر بولی تو سب خدا کا شکر ادا کرکے اُٹھ کھڑے تھے۔

مجھے دے۔دُرید تیر کی تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھ کر اُس سے بچی لی جس کی آنکھیں بند تھی۔

بڑی خاموشی سے آئی ہے شازم تو رو کر پیدا ہوا تھا۔شازم بچی کو دیکھ کر بولا تو فاریہ بیگم نے اُس کو گھورا اُن سب سے بے نیاز دُرید بچی کے چہرے پہ اپنا شفقت بھرا لمس چھوڑ رہا تھا۔

حریم کیسی ہے؟آروش نے ڈاکٹر سے پوچھا

شی اِز فائن تھوڑی دیر تک آپ اُس سے مل سکتے ہیں۔ڈاکٹر نے بتایا۔

بہت پیاری ہے ماشااللہ لائیک پرنسز۔شازل بچی کو دُرید کی سے لیکر اپنی بانہوں میں اُٹھا کر بولا۔

مجھے بھی تو دے۔آروش نے کہا تو شازل نے اُس کو زبان دیکھائی جس پہ آروش نے معصوم شکل بنائے دُرید کو دیکھا

توں اپنا بچہ یہ ہمیں دے۔دُرید کی بات پہ آروش جہاں خوش ہوئی تھی وہاں شازل کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا۔

اب میں کسی کو اپنا بچہ نہیں دوں گا۔دُرید نے بچی آروش کو دی تو شازل نے کہا

دیکھتے ہیں۔دُرید نے چیلنج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

چھوٹا ہونا بھی ایک عذاب۔شازل منہ بناتا کہہ کر بینچ پہ بیٹھ گیا جس پہ سب نے نفی میں سراثبات میں ہلایا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ہمیں یقین نہیں آرہا یہ ہماری بچی ہے۔حریم بچی کو دیکھتی عجیب کیفیت میں بولی اُس کی آنکھوں میں خوشی کے مارے آنسو آگئے تھے۔

یقین کرلوں بچے۔فاریہ بیگم نے مسکراکر کہا جب کی آروش نے اُس کو اپنے ساتھ لگایا

نام سوچا ہے کوئی؟آروش نے پوچھا

حورم۔حریم اتنا بتاکر بچی کا ماتھا چوما

ماشااللہ بہت پیارا نام کیا ہے۔فاریہ بیگم اور آروش ایک ساتھ بولی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

لالہ آپ حریم سے ملنے نہیں جائینگے؟شازل نے دُرید سے پوچھا جو خاموش کھڑا تھا۔

میں اب اُس سے نکاح کے دن ملنے جاؤں گا میں نہیں چاہتا وہ مجھے دیکھ کر کجھ بُرا فیل کرے۔دُرید ہلکی مسکراہٹ سے بولا

وہ بُرا فیل کیوں کرے گی؟آپ کو جانا چاہیے اور کیا وہ آپ سے نکاح کرے گی آئے مین جو اُس کے ساتھ ہوا ہے۔شازل ہچکاہٹ سے بولا

اُس کو راضی ہونا پڑے گا میں اُس کو راضی کرلوں گا جانتا ہوں غصہ ہوگی مگر پھر سب کجھ ٹھیک ہوجائے گا۔دُرید کا لہجہ پُرامید تھا۔

ہوپ سو۔شازل بس یہی بول پایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ابھی تو اُس نے بہت ساری خوشیاں دیکھنی تھی۔دلاور خان نے زوبیہ بیگم کو یمان کے “برین ٹیومر”کا بتایا تو انہوں نے اپنا سر پکڑلیا تھا وہ چاروں بھی اپنی جگہ پریشان ہوگئ تھیں۔

مجھے تو شروع سے ہی شک ہوگیا تھا کے آروش اور یمان کا کوئی نہ کوئی سین ضرور ہے۔نور نے کہا

مجھے تو حیرت اِس بات پہ ہے کے ہم نے یہ بات محسوس کیوں نہیں کی کے جب سے یہاں آروش آئی ہے تب سے یمان میں خاصا بدلاؤ آیا تھا۔زوبیہ بیگم نے کہا

ڈیڈ آپ آروش سے بولے وہ یمان کے لیے راضی ہوجائے اب کیا وہ اُس کی جان لیکر رہے گی۔زرگل نے دلاور خان سے کہا

زر۔زوبیہ بیگم نے اُس کو ٹوکا

نو موم اِٹس ٹو مچ ناؤ آروش آخر چاہتی کیا ہے؟ چلو مان لیا پہلے ذات پات کا مسئلہ تھا گھر والے نہیں مانے واٹ ایور جو کجھ بھی تھا مگر اب تو ایسا نہیں نہ کجھ آپ فادر ہیں اُس کے ایسا چاہتے ہیں کے یمان اور اُس کا نکاح ہوجائے تو آروش کو کیا مسئلہ ہے؟ یمان میں کِس چیز کی کمی ہے ویل میئنرڈ ہے ویل ایجوکیٹڈ ہے گُڈ لُکنگ ہینڈسم ہے اور سب سے بڑی بات اُس کو چاہتا ہے آروش کیوں اپنی بات پہ بضد ہے۔زرفشاں سنجیدگی سے بولی۔

میں آروش کو راضی کرلوں گا اُس کی بے جا ضد پہ میں یمان کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔دلاور خان گہری سانس بھر کر بولے

یس ڈیڈ یو کین ڈو اِٹ۔زرنور نے بھی کہا تو انہوں نے ہنکارہ بھرا۔

پر ڈیڈ یمان پہلے آپریشن کیوں نہیں کرواتا نکاح کیوں چاہتا ہے؟زرگل پرسوچ لہجے میں بولی۔

پتا نہیں۔دلاور خان نے لاعلمی کا مظاہرہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *