Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 37)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

حریم کو ہمیشہ خوش رکھنا اُس کی آنکھوں میں کبھی کوئی آنسو مت آنے دینا۔دُرید نے خود کو اور اپنی حالت کو سنبھال لیا تھا رخصتی کا وقت جب قریب ہوا تو اُس نے گہرے سنجیدہ لہجے میں تابش سے کہا

جی لالہ۔تابش نظریں نیچے کرتا اُس سے بولا

وہ جو کہے اُس کی بات فورن سے مان لیا کرنا اُس کو کوئی کام کرنے بھول کر بھی مت کہنا اُس کو اِن سب کی عادت نہیں۔دُرید نے مزید کہا تو تابش نے سراُٹھا کر اُس کو دیکھا جس کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا۔

میں جانتا ہوں آپ نے اُس کو بہت لاڈ پیار سے پالا ہے مگر ایک بات کہنا چاہوں گا لڑکی کی زندگی شادی سے پہلے الگ ہوتی ہے اور شادی کے بعد بہت مختلف ہوجایا کرتی ہے۔تابش کا لہجہ خاصا جتایا ہوا تھا

کیا تم میری باتوں سے انحراف کررہے ہو؟دُرید نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا تو تابش ہڑبڑا سا گیا۔

بلکل بھی نہیں لالہ میں جسٹ ایک بات کررہا تھا حریم جیسے پہلے تھی ویسے ہی میرے گھر رہ لیا کرے گی آپ کو کسی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔تابش نے کہا

اچھی بات ہے اور جب کبھی تمہیں غصہ آئے تو اُس وقت اپنے گھر مت آیا کرنا یو نو کجھ ہوتے ہیں جاہل لوگ جو اپنی فرسٹریشن معصوم بیویوں پہ اُتارتے ہیں تو میں ایسا بلکل نہیں چاہوں گا کے تم غصے میں آکر حریم کو ایک حروف بھی کہو۔دُرید نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو تابش تپ اُٹھا تھا اُس کو لگتا تھا لڑکیوں کے خاندان والے اُس کے سسرالیوں کے سامنے جھک کر رہتے ہیں مگر دُرید کی باتوں میں چھپی دھمکیوں سے اُس کو غصہ آگیا تھا جو اُس نے بڑی مشکل سے دبایا تھا وہ جانتا اگر کجھ بھی ایسا ویسا کہا تھا تو دُرید ایک لمحہ نہیں لگائے گا اُس کا منہ توڑنے میں۔

لالہ اگر حریم اتنی نازوں کی پلی اور آپ کو عزیز ہے تو میرے ساتھ اُس کی شادی کیوں کروانی چاہی ایسی لڑکیوں کو بس نخرے کرنے آتے ہیں گھر بسانا نہیں آتا۔تابش کی زبان نے دغابازی کردی۔

حریم کے شوہر نہ ہوتے تو اچھے سے اِس بات کا جواب دیتا۔دُرید اُس کے ہاتھ پہ دباؤ دیتا سپاٹ انداز میں بولا تو تابش کو اپنا ہاتھ ٹوٹتا محسوس ہوا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج بہت پیاری لگ رہی تھی تم۔شازل نے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی جیولری اُتارتی ماہی کے پیچھے کھڑے ہوکر مرر میں اُس کا عکس دیکھ کر کہا تو ماہی نے نظر اُٹھا آئینے سے نظر آتا اُس کا عکس دیکھا جو ان دونوں کو بہت مکمل کررہا تھا آج اتفاق سے دونوں کی سیم ڈرسینگ ہوگئ تھی جس سے حویلی میں موجود بہت لوگ جلن کا شکار ہوئے تھے اور شازل کے تو کیا ہی کہنے تھے حویلی میں آئے سب لوگوں سے اُس کا تعارف ایسے کروارہا تھا جیسے دونوں کی لو میریج ہو ماہی کو اپنی قسمت پہ کبھی کبھی رشک آتا تو کبھی کبھی رونا آتا وہ یہ بات سمجھ گئ تھی حویلی کا ہر فرد اُس کے لیے ایک مسٹری کے سِوا کجھ نہیں ان کے بارے میں وہ جتنا سوچے گی اُتنا اُلجھ جائے گی اِس لیے اُس نے سوچنا ہی ختم کردیا تھا اگر اُس کی سمجھ میں اپنا شوہر شازل جس کے ساتھ اب وہ دن کے چوبیس گھنٹے ہوتی ہے اگر اُس کو سمجھ نہیں پارہی تھی تو کسی اور کو کیا خاک سمجھنا تھا اُس نے۔

دل سے تعریف کررہے ہیں؟آج جانے کیوں ماہی کو اُس کی بات سے حیا نہ آئی تھی نہ اُس کے چہرے پہ سرخ رنگ بُِکھرا تھا کیونکہ وہ ابھی تک اُس دن کہی شازل کی باتوں کو بھولی نہیں تھی جو اُس کے دل پہ گہرا تاثر چھوڑ چُکی تھی۔

تم اِن ڈائریکٹلی مجھے جھوٹا بول رہی ہو۔شازل کو جیسے افسوس ہوا۔

میں بس خود کو مزید غلطفہمیوں کا شکار ہونے سے بچا رہی ہوں۔ماہی سنجیدگی سے جواب دیتی واشروم میں جانے لگی جب شازل اُس کی کلائی تھامتا اپنے روبرو کرگیا۔

ناراض ہو؟شازل نے پوچھا

میں کیوں ناراض ہوگی آپ سے کیا ہمارے درمیان ایسا رشتہ ہے جو ایک روٹھے اور دوسرا منائے۔ماہی اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی

تم کیا چاہتی ہو میں تمہیں ہر بار ڈیفینڈ کرتا ہوں مگر تم پھر بھی مجھ سے خوش نہیں ہوتی اب بھی روٹھی روٹھی سی ہو۔شازل اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر بولا وہ جیسے تھک سا گیا تھا۔

کیا آپ کو میرے روٹھنے سے فرق پڑتا ہے؟ماہی نے جاننا چاہا

افکورس پڑتا ہے۔شازل بنا تاخیر کیے بولا

کیوں پڑتا ہے؟ماہی ایک قدم اُس کے پاس بڑھاکر بولی تو شازل کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔

جواب نہیں نہ آپ کے پاس؟ماہی کے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ آئی۔

جب میری اِس بات کا جواب ہو تب آپ پوچھ لینا کے میں ناراض ہوں یا نہیں۔ماہی اُس کے ہاتھ سے اپنی کلائی آزاد کرواتی واشروم چلی گئ پیچھے شازل گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حریم کو تابش کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا فاریہ بیگم اور کلثوم بیگم نے بہت سمجھا کر اُس کو رخصت کیا تھا مگر اب بیڈ پہ اپنا لہنگا پِھیلائے بیٹھی حریم کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے اپنی زندگی ایک ان چاہے جیون ساتھی کے ساتھ گُزارے گی؟اُس کا دل بہت وسوسو کا شکار تھا ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے آج اُس کا آخری دن ہے۔

جانے وہ کونسے لوگ ہوتے ہیں جن کو محبت نہیں ملتی تو یا اُن کو ہارٹ اٹیک آجاتا ہے یا دماغ کی نسیں پھٹ جاتی ہیں مجھ کو تو ایسا کجھ بھی نہیں ہوا نہ دماغ کی نس پھٹی اور نہ ہی دل کی والز پہ کوئی اثر پڑا۔حریم تلخ انداز میں سوچنے لگی۔

اپنا یہ بھاری لہنگا ہٹاؤ مجھے سُونا ہے۔حریم اپنی سوچوں میں گم تھی جب کسی مردانہ آواز پہ اُس نے چونک کر سراُٹھایا

اگر تمہیں لگتا ہے میں تمہارا گھونگھٹ اُٹھا کر تمہاری تعریفوں میں زمین آسمان ایک کردوں گا تو اِس غلطفہمی سے باہر آجاؤ۔تابش نے طنز کیا تو حریم نے اُس کی بات کا کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا خاموشی سے اپنا لہنگا سنبھالتی وہ چینج کرنے کے غرض سے واشروم جانے والی تھی جب تابش نے اُس کا بازوں دوبوچا۔

یہ کیا کررہے ہیں چھوڑے ہمیں۔حریم اپنا بازوں اُس کی سخت گرفت سے آزاد کروانی کی جدوجہد کرتی ہوئی بولی

یہ نخرا کس کو دیکھا رہی ہو سُنو میں تمہارا دُر لا نہیں جو تمہارے ایسے رویے پہ فدا ہوجاؤں گا۔تابش کے اِس قدر ہتک آمیز لہجے میں حریم دنگ رہ گئ۔

ہوش میں رہے ہم آپ کی بیوی ہیں۔حریم نے اُس کو شرم دلانی چاہی۔

یہ تم خود کو اتنی عزت کیوں دے رہی ہو سنو حریم دوبارہ میں لفظ استعمال کرنا ہم کیا تو اچھا نہیں ہوگا۔تابش نے جیسے وارن کیا۔

آپ ہم سے اِس طرح بات کیوں کررہے ہیں؟حریم کو اندازہ نہیں تھا شادی کی پہلی رات ہی اُس کو نئ آزمائش سے گُزرنا ہوگا۔

میری بات ایک دفع میں سمجھ جایا کرو دوبارہ ہم ورڈ استعمال مت کرنا۔تابش نے گھور کر کہا تو حریم کو سمجھ نہیں آیا اُس کے ہم کہنے سے تابش کو کیا اور کیوں اعتراض تھا۔

ہمیں کیوں نہ کرے استعمال بچپن سے عادت ہے۔حریم نے بڑی مشکل سے خود کو رونے سے باز رکھا۔

دیکھو حریم میں اِس وقت بہت تھکا ہوا ہوں تم سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا اِس لیے سامنے سے ہٹو۔تابش بیزار لہجے میں کہتا بیڈ پہ آ بیٹھا حریم بے تاثر نظروں سے تابش کو دیکھنے لگی جس کے ساتھ نکاح کیے ابھی چند گھنٹے ہوئے تھے اور وہ کیسا رویہ اختیار کررہا تھا۔

تو یہ تھا آپ کا انتخاب میرے لیے جس کو پانے کے بعد ہم سب کجھ بھول کر اپنی زندگی میں مگن ہونے والے تھے۔تابش کو دیکھ کر وہ تصور میں دُرید شاہ سے مخاطب ہوئی۔

کیا آپ اِس شادی سے خوش نہیں تھے؟حریم نے ابھی سے جاننا ضروری سمجھا

بلکل بھی نہیں۔تابش نے صاف لفظوں میں کہا

پھر شادی کیوں کی؟دوسرا سوال

تم بہت امیر ہو اِس لیے اب سب جان لیا تو سوجاؤ۔تابش نے کوفت کا مظاہرہ کیا

وہ اگر تمہاری ماں تھی تو یہ بات بھی جان لو ان کی ہر چیز پہ صرف تمہارا حق ہے یہ حویلی اِس میں تمہارا حصہ بھی اُتنا ہی نکلتا ہے جتنا کے بابا سائیں چچا جان والوں کا نکلتا ہے کیونکہ پھوپھو جان کا جو حصہ تھا وہ تمہیں ہی ملے گا نہ آخر کو تم اُن کی اکلوتی اولاد ہو اِس لیے دوبارہ یہ مت کہنا تم اِس گھر کی مکین نہیں یا تمہاری یہاں کوئی جگہ نہیں کیونکہ جتنی جائیداد تمہاری ہے نہ اُتنی تو درید لالہ یا شازل لالہ کی بھی نہیں وجہ یہ کے تمہارے باپ کی جو جائیداد تھی اُس میں بھی اُن کے مرنے کے بعد تمہارے ہی حصے میں آئی تھی وہ تمہیں تب ملے گی جب تم اٹھارہ سال کی ہوجاؤ گی۔

تابش کی بات سن کر حریم کو آروش کے کہے جُملے یاد آئے تو دل میں ایک ٹیس اُٹھی۔

تو کیا خالہ جان نے اِس لیے شادی کا شور مچایا ہوا کیونکہ کجھ ماہ بعد ہم اٹھارہ سال کے ہوجائے گے پر اِن کو کیا ضرورت ہے ایسی واحیات حرکت کرنے کی۔حریم الجھ سی گئ تھی انسان اتنا لالچی اور مطلب پرست ہوتا ہے یہ بات اُس کو آج معلوم ہوئی تھی۔

ناجانے اب اور کیا کیا دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔حریم افسوس سے سوچتی واشروم میں گُھس گئ اُس کو اب ہر حال میں خود کو آنے والے حالات کے لیے تیار کرنا وہ اتنا سمجھ گئ تھی دُنیا بہت ظالم ہے اگر وہ کمزور پڑی تو اُس کو چیر پھاڑ دینگے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

شازل چینج کرکے واشروم سے باہر آیا تو ماہی کو گہری نیند میں سوتا پایا اُس کو دیکھ کر شازل گہری سانس بھرتا چل کر اُس کے پاس آیا جو کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی اُس کا چہرہ دیکھ کر شازل بے ساختہ مسکرایا کیونکہ نیند میں بھی ماہی کے تاثرات ناراضگی سے بھرے ہوئے تھے۔

تعریف تمہاری دل سے کی تھی آج تم واقع بہت پیاری لگ رہی تھی۔شازل تھوڑا جُھک کر اُس کے چہرے سے آئی آوارہ لٹوں کو ہٹاتا ہوا آہستہ سے بولا

تمہاری ناراضگی ناجانے کیوں میرے دل پہ گہرا اثر چھوڑنے لگی ہے مجھے عادت نہیں تمہاری ناراضگی کی مجھے بس تمہاری بے تکی باتوں اور بے تُکے سوالوں کی عادت ہے۔شازل آہستہ سے سرگوشی نما آواز میں کہہ کر اُس کے ماتھے پہ اپنا لمس چھوڑا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آروش کو کب بتانا ہے؟کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے پوچھا

میں اُس کو اسلام آباد بھیج رہا ہوں۔شھباز شاہ کی بات پہ وہ چونک پڑی۔

اسلام آباد کیوں؟کلثوم بیگم کو سمجھ نہیں آیا۔

شازل کے پاس بھیجوں گا میں ساری حقیقت اُس کو وہاں بتانا چاہوں گا۔شھباز شاہ نے گہری سانس بھر کر بتایا

جیسے آپ کی مرضی مگر آپ کو اِس حقیقت سے سب کو آگاہ پہلے سے کرنا چاہیے تھا اب سب کو پتا چلے گا کتنے مسائل ہوگے گاؤں والے حویلی والے یہ سب کیا باتیں بنائے گے۔کلثوم بیگم پریشانی سے بولی۔

مجھے اِس وقت بس آروش کی ٹینشن ہے جانے وہ کیسا ری ایکٹ کرے مجھے یہ ڈر ہے کہیں وہ ساری بات جان کر مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے۔شھباز شاہ کسی خدشے کے تحت بولے

وہ کیوں کرے گی آپ سے نفرت کونسا ہم نے اُس کو اُس کے باپ سے چوری کیا تھا یا لیا تھا اُس کے باپ نے خود ہمیں سونپی تھی۔کلثوم بیگم کو اُن کی بات پسند نہیں آئی۔

جو بھی دُرید اور شازل یہ دونوں میرے سر کا درد ہے آروش سے بہت پیار کرتے ہیں ساری حقیقت جاننے کے بعد اصل تماشا تو انہوں نے کرنا ہے۔شھباز شاہ اپنا ماتھا مسل کر بولے۔

آپ اپنے جگر کا ٹکرا انہیں سونپ رہے ہیں تو وہ دونوں بھی خاموش رہے گے ہاں شازل شاید اوور ری ایکٹ کرے کیونکہ وہ آروش سے بہت اٹیج ہے۔کلثوم بیگم نے اپنی راے کا اظہار کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماہی سامان پیک کرلینا ہمیں جلدی نکلنا ہے۔شازل کمرے میں آتا ماہی سے بولا

پیکنگ میں نے کرلی ہے اپنی بھی اور آپ کی بھی۔ماہی نے اُس کو دیکھ کر بتایا

اچھا اوکے گُڈ پھر تیارو ہوجاؤ میں جب تک سب سے مل لوں۔شازل نے کہا تو ماہی نے سراثبات میں ہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

حویلی میں کام کرتی مومل میری سہیلی ہے وہ بتارہی تھی ماہی بی بی بڑی خوش ہے اپنے شوہر کے ساتھ۔ستارہ بیگم اور آمنہ باورچی خانے میں ملازمہ کے ساتھ مل کر کھانے کی تیاریوں میں تھی جب ان کی ملازمہ نے بتایا

ونی میں گئ ہوئی لڑکیوں کو شوہر نہیں ہوتا۔ستارہ بیگم نے سرجھٹک کر کہا جب کی آمنہ کی نظریں ملازمہ پہ تھی۔

نہیں جی وہ بتارہی تھی جب حویلی میں شادی کا ماحول تھا تب شازل شاہ نے بڑی عزت سے ماہی بی بی کو سب سے ملوایا اور ماہی بی بی بڑی خوش تھی مہنگا ڈریس اور جیولری پہنی ہوئی تھی کسی کو لگ ہی نہیں رہا تھا وہ ونی میں گئ ہوئی ہیں۔ملازمہ نے کہا تو آمنہ نے آسودگی بھری سانس خارج کی۔

اچھا اب باتیں نہ بگاڑو جاؤ جاکر چھت سے لال مرچیں اُٹھا لاؤ۔ستارہ بیگم نے اُس کو باہر بھیجا۔

امی یہ ٹھیک بول رہی ہیں جب ماہی یہاں آئی تھی تو بہت خوش تھی۔آمنہ نے ستارہ بیگم سے کہا

تمہیں نہیں پتا شازل کا بہت عیاش پرست قسم کا ہے شہر میں بھی بس عیاشی کرنے کے لیے رہتا ہے پتا نہیں شاہ خاندان میں کیسے پیدا ہوگیا۔ستارہ بیگم نے نخوت سے کہا

آپ ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں ماہی نے جیسا بتایا شازل اُس سے بہت مختلف ہے شازل شہر میں رہتا ہے تبھی سب نے اُس کے لیے یہ خودساختہ سوچ سوچی ہوئی ہے۔آمنہ نے ان کی بات کی نفی کی۔

اچھا تو بتا پھر وہ شہر میں کیوں رہتا ہے جب اُس کے ماں باپ سب یہاں رہتے ہیں تو۔ستارہ بیگم نے سوال اُٹھایا۔

سُنا ہے اُس نے اور دُرید شاہ نے وکالت کی ہوئی ہے دُرید شاہ نے اپنی ڈگری ردی میں پھینک دی پر شازل شاہ شہر اپنے کام کی وجہ سے رہتا ہے۔آمنہ نے سرسری لہجے میں بتایا

پتا نہیں کب کی انہوں نے وکالت میں نے تو کبھی نہیں سُنا پتا نہیں تمہیں کون ایسی خبریں دیتا ہے خیر شازل نے کیا کرنا ہے وکالت کا سرپنج کا بیٹا ہے آگے چل کر اِس نے بھی یہی کرنا ہے جو اُس کا باپ کررہا ہے۔ستارہ بیگم نے کہا

وہ تو دُرید شاہ بنے گا کیونکہ بڑا وہ ہے ویسے بھی سرپنج شازل شاہ کبھی نہیں ہونا چاہے گا وہ جانتا ہے اگر وہ ایک بار سرپنج بن گیا تو دوبارہ وہ شہر نہیں جاپائے گا۔آمنہ نے اپنے علم مطابق بات کہی۔

ذین کے اُپر سے قتل کا داغ اُتر جائے اور ماہی گھر واپس آجائے یہی بڑی بات ہے۔ستارہ بیگم نے کہا

ماہی کے آنے کا امکان تو نہیں مگر ہاں شاید کوئی خوشخبری آجائے اُس کی جانب سے ایک سال ہونے والا ہے۔آمنہ اپنی بات کہتی فورن سے کچن سے باہر نکل گئ جبکہ ستارہ بیگم نے جاتی ہوئی آمنہ کی پشت کو گھورا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ دن بعد!

آرو اگر تمہیں اسلام آباد آنا تھا تو پہلے کیوں نہیں آئی جب میں اور ماہی آ رہے تھے۔شازل نے ڈرائیونگ کرتے آروش سے کہا جو جانے کِن سوچو میں گم تھی۔

میں نہیں آنا چاہ رہی تھی پر بابا سائیں نے کہا اسلام آباد گھوم پِھر آؤ حویلی میں رہ کر بور ہوجاتی ہوگی۔آروش نے جواب دیا

شکر ہے انہیں احساس ہوا۔شازل مزاحیہ انداز میں بولا

بُری بات لالہ۔آروش نے ٹوکا

سوری بابا سائیں چمچی۔شازل نے کہا تو آروش ہنسی

میں نے ماہی سے کہا تھا تمہیں لینے جارہا ہوں تو اچھا سا کجھ بنائے۔شازل نے بتایا

اُس کی کیا ضرورت تھی۔آروش نے کہا

بلکل ضرورت تھی

شازل مزید کجھ کہتا جب اُس کی گاڑی کو بریک لگ گئ۔

کیا ہوا لالہ؟اچانک گاڑی رُکنے پہ آروش نے شازل سے پوچھا

پتا نہیں شاید گاڑی کا انجن خراب ہوگیا ہے۔شازل اُس کو جواب دیتا گاڑی سے باہر نکلا

میں باہر آجاؤں؟آروش نے ونڈو سے چہرہ باہر نکال کر اِجازت چاہی۔

آجاؤ پوچھنے والی کیا بات ہے تم نے ویسے بھی عبایا پہنا ہوا ہے۔شازل اُس کی بات سنتا مسکراکر بولا تو آروش بھی گاڑی سے اُتر آئی۔

اب کیا کرینگے؟آروش نے آس پاس دیکھ کر پوچھا

کیب منگواتا ہوں پانی پتا نہیں یہاں ہوگا بھی کے نہیں۔شازل نے بتایا

کسی مکنیک کو فون کرے۔آروش نے مشورہ دیا

ہممم

شازل ابھی کجھ کہتا کے کسی گاڑی کے رکنے کی چرر چر نے خاموش ہونے پہ مجبور کیا۔

کوئی ہیلپ چاہیے؟یمان جو اپنے کسی کام سے لاہور جانے والا تھا کسی کو ایسے کھڑا پایا تو اپنی گاڑی کو بریک لگاتا پوچھنے لگا۔

یمان کی آواز پہ آروش نے جھٹکے سے اپنا سراٹھایا تھا عین وقت یمان کی نظر بھی اُس پہ پڑی تھی یمان اُس کو دیکھ کر اپنی جگہ جم گیا تھا جبکہ آروش اپنی نظریں نیچے کرتی شازل کے پیچھے چُھپ گئ تھی۔

یمان تم اچھا ہوا آگئے دراصل میری گاڑی خراب ہوگئ ہے۔شازل بنا اُس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھتا بتانے لگا مگر دوسری جانب یمان نے تو جیسے اُس کی بات سُنی ہی نہیں تھی اُس کی آنکھیں تو اُس کے پیچھے چُھپنے والے وجود پہ جمی تھی۔

کیا یہ میرا وہم ہے؟یمان کے اندر سے اچانک آواز آئی

یمان

یمان

کہاں کھوئے ہو؟شازل نے اُس کو خاموش دیکھا تو اُس کے پاس آتا چٹکی بجاکر بولا

کہیں نہیں یہاں تم بتاؤ۔یمان ہوش میں آتا بولا

ڈراب کردو گے؟اگر تمہیں مسئلہ نہ ہو تو میں اکیلا ہوتا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر۔شازل اتنا بتاتا خاموش ہوا۔

میں یہاں پہلے اکیلا رہتا تھا مگر اب اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہوں۔یمان کے کانوں پہ کجھ وقت کہے پہلے شازل کے جُملے آئے تو اُس کو لگا جیسے اُس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑلیا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *