Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 60)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 60)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
ضرور کوئی سازش چل رہی ہوگی تمہارے دماغ میں۔ دیدار بالوں میں برش کرتا شبانا سے بولا جو جانے کِن سوچو میں گم تھی۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں بس سازشیں کرتی ہوں؟ شبانا ناگواری سے بولی
لگتا تو کجھ ایسا ہے۔ دیدار نے تائید انداز میں کہا
تم نہ اپنی حد میں رہا کرو سمجھے۔ شبانا بیڈ سے اُترتی تو اُس کو وارن کرنے والے انداز میں بولی
تم اپنی آواز نیچے رکھ کر بات کیا کرو مجھے قطعاً پسند نہیں عورتوں کا یو گلا پھاڑ کر بات کرنا۔ دیدار اُس کا جبڑا دبوچ کر وارن کرنے والے انداز میں بولا
تم جھنگلی وحشی انسان چھوڑو مجھے۔ شبانا اپنے ہاتھ پاؤں چلاکر اُس کو خود سے دور کرتی گہرے سانس بھرنے لگی۔
آئیندہ کے بعد سوچ سمجھ کر مجھ سے بات کرنا۔دیا کیا ہے تم نے مجھے تمہیں تو میرا احسانمند ہونا چاہیے جانتے ہوئے بھی کے تم ایک بیوہ اور بھانج عورت کے ساتھ مجھ سے عمر میں بڑی ہو تو بھی میں نے تم سے شادی کی اور تم ہو جو مجھے اکڑ دیکھا رہی ہو۔ دیدار حقارت سے اُس کو دیکھ کر بولا
تو نہ کرتے کوئی تمہارے پاؤں نہیں پڑا تھا۔شبانا چیخی۔دیدار کی باتیں کسی کاری ضرب کی طرح اُس پہ لگی تھی۔
لالہ کی بیوہ تھی اِس لیے شادی کی وہ بھی تم جیسی عورت سے اور ہاں ایک بات کان کھول کر سن لو اگر تمہیں لگ رہا ہے تمہارے یوں مجھے اولاد نہ دینے پہ بھی میں خاموش رہوں گا تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے کیونکہ مجھے اولاد چاہیے اور میں دوسری شادی کروں گا۔ دیدار دو ٹوک انداز میں بولا تو شبانا کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئ۔
تم ایسا کجھ نہیں کروگے۔ شبانا نے کہا
میں کیا کروں گا اور کیا نہیں اُس کے لیے مجھے تم سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تم رہو ہر ایک کی خوشیوں سے جلتی ہوئی تم اِسی سب کے لائق ہو۔ دیدار ہتک آمیز لہجے میں بولا
دیدار تم ایسا کجھ نہیں کرو گے میں ہرگز یہاں اپنی سوتن کو برداشت نہیں کروں گی۔ شبانا پاگل ہونے کے در پہ تھی۔
برداشت تو تمہیں کرنا پڑے گا اِس لیے شازل کی نہیں میری دوسری شادی کی تیاری کرو۔ دیدار طنزیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہتا چلاگیا۔پیچھے شبانا یہاں سے وہاں ٹہلتی اپنے اشتعال پہ قابو پانے لگی۔








آروش عبایا پہنتی باہر آئی تو یمان گاڑی میں بیٹھا اُس کا انتظار کررہا تھا وہ ایک غصے سے بھری نگاہ اُس پہ ڈال کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھ کر زوردار آواز سے دروازہ بند کیا۔
آپ کو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھنا تھا۔ یمان بیک ویو سے اُس کو دیکھ کر بولا
یہاں اپنی ہوتی سوتی کو بیٹھانا اور گاڑی کو یہی کہیں سائیڈ پہ کرو مجھے کہی باہر نہیں جانا اور میں کوئی نہیں پہلی بار آئی ہو اسلام آباد بہت بار آچُکی ہوں۔ آروش نے تیز آواز میں کہا
ایسا کیوں ایک جگہ پہ رُکنے سے بہتر ہے لونگ ڈرائیو پہ جائے۔ یمان نے اپنا نظریہ پیش کیا
مجھے تم پہلے یہ بتاؤ میں نے کب تم سے کہا مجھے تمہارے ساتھ آؤٹنگ پہ جانا ہے؟آروش نے گھورتے ہوئے کہا
اور میں نے کب ہر ایک سے روزی کیا ذکر کیا؟یمان گردن موڑ کر پوری طرح سے اُس کی جانب متوجہ ہوا۔
ہاں تو وہ تمہاری فیانسی تھی اگر میں نے ایسا کجھ کہہ بھی دیا تو کوئی بڑی بات نہیں۔آروش نے گڑبڑا کر وضاحت تھی۔
اگر ایسی بات ہے تو آپ میری محبت ہیں اگر میں نے ایسا کجھ باہر جانے کا کہہ دیا تھا کوئی بڑی نہیں بات نہیں۔ یمان کندھے اُچکاکر لاپروائی سے بولنے لگا۔
شرم کرو یمان اپنی منگیتر کے ہوتے ہوئے بھی تم ایسی بات کررہے ہو۔ آروش نے اُس کو گھورتے ہوئے کہا
جب میری منگیتر نہیں تھی میں تب بھی آپ سے اپنی محبت کا اظہار کرتا تھا اور وہ میری فیانسی نہیں ہے ہماری منگنی نہیں ہوئی۔ یمان سنجیدہ ہوا
جھوٹ۔ آروش نے سرجھٹکا
میں کبھی آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا یہ سچ ہے ہماری انگیجمنٹ ہونی تھی مگر ہوئی نہیں تھی کیونکہ میرے بھانجے یامین کو چوٹ آئی تھی۔ یمان نے صفائی پیش کی۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تمہاری منگنی ہوئی ہے یا نہیں بس تم اپنے دماغ سے میرا خیال نکال دو۔ آروش نے سنجیدگی سے کہا
میں ایسا کیا کروں؟جو آپ کو میری محبت پہ ایمان آجائے؟ یمان بے بسی کی انتہا کو چھو کر بولا
تم میرے لیے کیا کرسکتے ہو؟ آروش نے جاننا چاہا
ایوری تھنگ فار یو۔یمان بنا تاخیر کیے بولا
اپنا نام چھوڑ سکتے ہو؟ آروش نے کہا تع یمان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا۔
میں سمجھا نہیں۔یمان نے کہا
سنگنگ کرنا تمہارا پیشن تمہارا جنون ہے تو کیا تم اتنی اونچائی پہ پہچنے کے بعد اتنا نام کمانے کے بعد اُس کو چھوڑ سکتے ہو؟جب کی یہ تمہاری پہچان ہے بہت حاصل کیا ہے تم نے اور آگے چل کر بھی بہت اپرچیونٹیز تمہیں مل سکتی ہے۔ آروش کا انداز چیلنج سے بھرپور تھا۔
بلکل چھوڑ سکتا ہوں یوں سمجھے میں نے چھوڑ دیا کیونکہ میرے لیے آپ سے بڑھ کر اور کجھ نہیں سنگنگ کرنا اگر میرا جنون ہے تو آپ اُس جنون سے بڑھ کر میرا عشق ہے میرے جینے کی وجہ ہیں آپ میں ہر روز ایک اِس اُمید سے جیتا تھا کے آپ مجھے ضرور ملے گی اتنے سالوں بعد بھی میں ایک اُمید کے تحت جیتا رہا کے میرا اور آپ کا سامنا ضرور ہوگا تب تو میری نظر میں آپ سیدہ آروش شاہ تھی اور یقین جانے جب میں نے آپ کو اچانک سے اپنے روبرو دیکھا تھا تو کیا محسوس کیا تھا۔یمان آروش کی بات کے احتتام پہ بنا تاخیر کیے بولا تو آروش سانس روکے بس اُس کو بولتا دیکھتی رہی اُس کو یمان کوئی پاگل لگا جو اپنے اتنے بڑے نقصان کی بات بہت عام انداز میں کررہا تھا۔
تم پاگل ہو۔ آروش بہت دیر بعد بس یہی بول پائی۔
آپ سے ملنے کے بعد ہوا ہوں۔ یمان نے مسکراکر کہا تو آروش کے پاس جیسے لفظ ختم ہوگئے۔








شازل اپنے کیس کی وجہ سے آج اسلام آباد آیا تھا اور ماہی کو بھی اپنے ساتھ لایا تھا کیونکہ ڈیلیوری کے دن قریب سے قریب ہوتے جارہے تھے ایسے میں گاؤں میں رہنا شازل کو ٹھیک نہیں لگا تھا اِس لیے سب کے اعتراض کے باوجود وہ ماہی کو یہاں لایا تھا اِگر گاؤں میں ماہی کو کوئی تکلیف ہوتی تو وہاں کوئی اچھا ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور گاؤں سے شہر جانے میں بھی وقت لگ جانا تھا جب کی اسلام آباد میں سب اُس کے لیے آسان تھا۔وہ ابھی ماہی کو ڈھیر ساری ہدایت دیتا گھر سے باہر آیا تھا جب اُس کے سیل پہ کال آنے لگی اُس نے نمبر دیکھا تو ذین کالنگ لکھا آرہا تھا۔
السلام علیکم سالے صاحب۔ شازل کال ریسیو کرتا خوشگوار لہجے میں اُس کو سلام کرنے لگا۔
وعلیکم السلام وہ مجھے کہنا تھا کے ماہی کا خیر سے نواں مہینہ شروع ہوگیا ہے
اچھا ماہی کا خیر سے نواں مہینہ شروع ہوچکا ہے اچھا ہوا بتادیا۔میں تو ورنہ ابھی تک پہلا مہینہ سمجھے ہوئے تھا۔ذین ابھی بات کررہا تھا جب شازل اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولا تو ذین نے صبر کا گھونٹ بھرا
بی سیریس شازل اُس کا نواں منتھ ہے تو امی چاہتی ہیں وہ گھر آئے۔ ذین نے سنجیدگی سے کہا
اب وہ کونسا سڑک پہ کھڑی ہے ماشااللہ سے اپنے گھر میں موجود ہے۔ شازل نے جواب دیا
دیکھو لڑکی کا جب نواں منتھ شروع ہوتا ہے تو وہ اپنی ماں کے گھر رہتی ہے اِس لیے اصولن ماہی کو بھی آنا چاہیے۔ ذین کے کہا
دیکھو بھئ وہ تب ہوتا ہوگا جب لڑکی پوری آٹھ ماہ اپنے شوہر کے گھر ہوتی ہوگی یہاں تو شروعاتی پورے دو ماہ اُس نے اپنی ماں کے گھر گُزارہے تو اصولن ایسا کوئی اصول مجھ پہ لاگو نہیں ہوتا۔ شازل نے آرام سے کہا۔
یہ کیا بات ہوئی شازل؟ ہر لڑکی اپنی ماں کے گھر رہتی ہے ڈیلیوری کے دوران اور یہ ایک نارمل بات ہے۔ ذین اُس کی بات پہ تپ اُٹھا
ہوگی نارمل بات مگر ہمارے معاملے شروعات سے کجھ نارمل نہیں ہوا تو اب کیسے نارمل ہوگا یا رہے گا؟ اور تمہارے یہاں ایسا ہوتا ہوگا ہمارے یہاں ایسا کجھ نہیں ہوتا پیچیدہ معاملات ہیں کہیں بھی کبھی بھی کوئی اونچ نیچ ہوجاتی ہے اور میں کوئی ایسا رِسک نہیں لے سکتا۔ شازل نے صاف الفاظوں میں انکار کیا
تمہیں کیا لگتا ہے ہم اپنی بہن کا خیال نہیں رکھے گے؟ ذین اُس کی بات پہ بولا
مجھے ایسا کجھ نہیں لگتا میں بس اپنی بیوی اور بچے کے لیے اور سینسٹو ہوں۔شازل اِس بار سنجیدگی سے بولا
ٹھیک ہے مگر اگلی بار ایسا نہیں ہوگا۔ ذین نے کہا تو اُس کی بات پہ شازل کی ہنسی نکل گئ۔
ایسی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ شازل نے کہا تو ذین ناسمجھی سے موبائل اسکرین کو گھورنے لگا۔
مطلب؟ ذین نے پوچھا
مطلب پہلا بچہ خیر سے ہوجائے اُس کے بعد دوسرے بچے کی پلاننگ ہوگی۔ شازل کی بات پہ ذین سٹپٹاگیا۔
انتہا کے بے شرم ہو میرے کہنے کا مطلب تھا ڈیلیوری کے بعد ماہی ہسپتال سے سیدھا ہماری طرف آئے گی حویلی نہیں۔ زین نے جلدی سے صفائی پیش کی۔
مگر میرے کہنے کا وہ ہی مطلب تھا جو تم سمجھے۔ شازل نے اِیک بار پھر کہا تو ذین نے کال کاٹنے میں عافیت جانی۔









آپ نے یہ اچانک فیصلہ کیوں لیا مطلب کوئی خاص وجہ؟میڈیا تھر تھر یمان کی تصویریں کھینچتا اُس سے جواب طلب ہوا آج اُس نے کانفرنس کروائی تھی جس میں اُس نے بتایا اب وہ کبھی کوئی گانا نہیں گائے گا سنگنگ کو ہمیشہ کے لیے وہ خیرآباد کررہا ہے جو کبھی اُس کا جنون ہوا کرتا تھا۔
مجھے بس اپنی آواز دُنیا تک پہچانی تھی اپنی الگ ایک پہچان بنانی تھی جو میں نے اِن گُزرے کجھ سالوں میں بنالی ہے تبھی گائیکی کو اب خیرآباد کررہا ہوں۔یمان مائک اپنی طرف ٹھیک کرتا میڈیا کو اُن کے سوالوں کا جواب دینا
آپ کو پتا ہے آپ کی اِس کانفرنس سے آپ کے فینز کا معصوم دل ٹوٹ سا گیا ہے۔ایک لڑکی نے اپنا سوال اُس کے سامنے کیا تو یمان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جس سے اُس کا ڈمپل نمایاں ہوا تو سب مبہوت ہوکر اُس کے چہرے پہ سجی مسکراہٹ کو دیکھنے لگے۔
ہر چیز کا زوال آتا ہے یوں سمجھ لے یہاں بھی کجھ ایسا ہی ہوا ہے۔یمان نے گول مٹول سا جواب دیا۔
سر مگر آپ نے ابھی اور طریقی کی منازلوں کو چھونا تھا پھر اتنی جلدی ہاتھ کھینچنے کی کوئی تو وجہ ہوگی آپ جانتے ہیں آپ کے پہلے گانے سے لیکر اب تک جو بھی گانا آیا ہے وہ کافی فیمس ہوا ہے۔ایک صحافی نے الجھن بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یہ یمان نے اچانک سے کیا فیصلہ کردیا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا اُس کا؟ زوبیہ بیگم ٹی وی پہ چلتے یمان کی باتیں سنی تو بولی اُن کو یمان سے ایسے کسی عمل کی توقع نہیں تھی۔ آروش خود اپنی جگہ جماد و ساکت تھی اُس کو ذرا برابر نہیں تھا پتا یمان اُس کی بات کو اتنا سیریسلی لے گا۔
یمان آئے تو کہے ایسی احمقانہ حرکت کرنے کا کیا جواز تھا۔ نور نے زوبیہ بیگم سے کہا جب کی آروش اپنی جگہ چور سی بن گئ تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
میں جانتا ہوں یہ سب کے میں یوں اِس طرح فیصلے پہ سب کے لیے بہت حیرانگی کا باعث ہے مگر یہ بھی سچ ہے میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ وچار کے بعد کیا ہے میں سب کا بہت شکر گُزار ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا۔ یمان نے مسکراکر جواب دیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
فجر بت بنی کھڑی ٹی وی پہ چلتے مناظر دیکھ رہی تھی جب اُس کا فون رِنگ کرنے لگا۔ فجر نے موبائل اسکرین پہ دیکھا تو عیشا کالنگ لکھا آرہا تھا۔
السلام علیکم۔فجر ٹی وی بند کرتی کال پہ متوجہ ہوئی۔
وعلیکم السلام یہ یمان کو کیا ہوگیا ہے جو آئے دن دھماکا کرتا رہتا ہے۔ عیشا نے چھوٹتے ہی پوچھا
ہوتا یہاں تو میں کان کھینچتی مگر یمان نے تو مجھے بھی پریشان کردیا ہے۔ فجر نے گہری سانس بھر کر کہا
یاد ہے کیسے پاگل ہوا کرتا تھا سنگر بننے کے لیے اور جب ہوگیا ہے تو ایسے گِیو اپ کررہا ہے۔ عیشا نے کہا
میں پوچھوں گی اُس سے کیا سوچ کر اُس نے میڈیا والوں کے سامنے گائیکی کو خیر آباد بولا ہے۔ فجر جوابً بولی
اب کیا فائدہ تیر تو کمان سے نکل گیا نہ۔ عیشا سر جھٹک کر بولی
کوئی تیر کمان سے نہیں نکلا جس طرح آج کانفرنس کی ہے ٹھیک اُس طرح دوبارہ کانفرنس کروائے گا یمان میں دیکھتی کیسے وہ اپنا مستقبل برباد کرتا ہے۔ فجر مضبوط لہجے میں بولی
ہاں تم ہی اُس کو کہو عقل کے ناخن لے وہ اب بچہ نہیں ہے۔ عیشا نے کہا تو فجر گہری سانس بھری۔








سر کیا آپ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں؟ کانفرنس ختم ہونے کے بعد ارمان نے یمان سے پوچھا
تمہیں کیا لگتا ہے؟ یمان نے اُلٹا اُس سے سوال داغا
مجھے تو آپ ضرورت سے زیادہ مطمئن لگ رہے۔ ارمان نے صاف گوئی سے بتایا
تو پوچھنے کا فائدہ۔یمان نے کہا
آپ کا یوں اچانک فیصلہ کرنا سب کو الجھن میں ڈال گیا ہے بہت کالز موصول ہو رہی ہیں مجھے دلاور انکل الگ سے ٹینس ہیں۔ ارمان نے بتایا
میں سب کو ہینڈل کرلوں گا۔ یمان نے کہا تو ارمان خاموش ہوگیا۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یہ کیا تھا یمان؟ہر نیوز اینکر کیا گلا پھاڑ پھاڑ کر بول رہا ہے تم ایسا کیسے کرسکتے ہو؟ ایٹلیسٹ ہم سے مشورہ تو کرتے۔ یمان جیسے ہی گھر پہنچا سب نے اُس کو اپنے گھیرے میں لیا
ڈیڈ میں اگر کانفرنس سے پہلے آپ میں سے کسی کو بتاتا تو یقیناً آپ لوگ مجھے روکتے تبھی میں نے نہیں بتایا۔ یمان ایک نظر سب پہ ڈال کر بولا
افکورس ہم میں سے کوئی بھی تمہیں یہ حماقت کرنے نہ دیتا۔ زوبیہ بیگم نے کہا
یہ حماقت نہیں ہے موم۔ یمان نے جلدی سے کہا
اِس حماقت ہی کہا جاسکتا ہے یمان کیونکہ کوئی باشعور انسان جذبات میں آکر کوئی فیصلہ نہیں لے سکتا۔ دلاور خان نے کہا
آپ لوگوں کو ایسا کیوں لگ رہا کے میں نے جو کیا وہ احمقانہ فیصلہ ہے جو میں نے جذبات میں آکر لیا ہے میں ایک پچیس سے چھبیس سال کا میچیور پرسن ہوں اگر میں نے یہ فیصلہ لیا ہے تو کجھ سوچ کر ہی لیا ہوگا۔ یمان اِس بار حددرجہ سنجیدگی سے بول کر جیسے بات ختم کردینی چاہی۔
روزی کو پتا ہے یہ بات؟ زرفشاں نے پوچھا
اب تک تو پوری دُنیا میں یہ خبر نشر ہوگئ ہوگی تو اُس کو بھی چل گیا ہوگا پتا۔ یمان نے کندھے اُچکاکر کہا۔







کانفرنس کا زمہ یمان نے تمہیں دیا ہوگا اور تمہیں یہ بھی پتا ہوگا وہ کانفرنس کیوں کررہا ہے تو تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا میں روکتی یمان کو ایسا کرنے سے۔ فجر ارمان کو کال کرتی ایک سانس میں اُس سے بولی
دیکھے مجھے زمہ دیا تھا مگر یہ نہیں تھا پتا کے وہ کیا بم گِرانے والے ہیں۔ ارمان نے اپنی صفائی پیش کی۔
کہاں ہے وہ؟ فجر نے پوچھا
اپنے گھر ہیں اور اُن کو بہت سمجھایا مگر وہ کسی کی کوئی بھی بات سننے کے موڈ میں نہیں۔ ارمان نے بتایا
دلاور خان نے بھی کوئی ری ایکٹ نہیں کیا؟فجر نے پوچھا
وہ خود پریشان ہوگئے تھے یمان سر کے اِس فیصلے پہ۔ ارمان نے بتایا تو فجر سوچ میں پڑگئ۔







بہت کم عقل ہو تم۔ آروش رات کے وقت کچن میں آئی تو وہاں یمان کو پہلے سے شیلف سے ٹیک لگائے کھڑا پایا تو کہا
مجھے پتا تھا آپ ضرور آئے گی۔ یمان اُس کی بات کے جواب میں بس یہ بولا
تو کیا تم میری ٹائمنگ کو نوٹ کرتے ہو؟ آروش گھورا
میں خود نوٹ نہیں کرتا خودبخود نوٹ ہوجاتی ہے۔ یمان نے بتایا
اچھا اب جاؤ مجھے کافی بنانی ہے اپنے لیے۔آروش سرجھٹک کر بولی
ایک کپ میرے لیے بھی۔یمان نے کہا
کِس خوشی میں؟آروش نے آئبرو ریز کیے
نہ کسی غم اور نہ کسی خوشی کے لیے ایسے ہی بنا کر دے۔یمان نے کجھ سوچ کر کہا
میں نہیں بناؤں گی تمہارے لیے۔ آروش نے انکار کیا
کوئی بات نہیں ہم ایک کپ شیئر کرلینگے ویسے بھی شیئرنگ از کیئرنگ۔یمان نے کندھے اُچکاکر کہا
کافی لیکر چلے جانا۔ آروش کافی میکر کو دیکھتی یمان سے بولی تو اُس نے مسکراکر سراثبات میں ہلایا








کجھ عرصے بعد!
شازل کمرے میں آیا تو بیڈ پہ ماہی کو پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر تڑپتا دیکھا تو اُس کے چہرے کی ہوائیاں اُڑگئ۔
ماہی
ماہی کیا ہوا؟ شازل ایک ہی جست میں اُس تک پہنچتا گال تھپتھپاکر بولا
پ پی پین ہ ہو ہور ہورہا۔ ماہی گہرے گہرے سانس لیتی بتانے لگی اُس کے چہرے پہ تکلیف کے آثار صاف نمایاں تھے جس کو دیکھ کر شازل نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے
تم فکر نہیں کرو کجھ نہیں ہوگا سب ٹھیک ہوجائے گا پین بھی بلکل ختم ہوجائے گا ہم ابھی ہسپتال جائینگے۔ شازل نرمی سے اُس کے گال سہلاتا ماتھے پہ بوسہ دے کر وارڈروب سے اُس کے لیے بڑی شال نکال کر اُس تک آیا۔
اُٹھنے کی کوشش کرو۔ شازل شال اچھی طرح سے اُس کو پہناتا بولا تو ماہی نے زور سے نفی میں سرہلایا۔اُس کی آنکھیں بار بار بند ہورہی تھی۔ جس پہ شازل اُس کو اپنے بازوں میں اُٹھاتا باہر کی جانب بڑھا۔
تم یہاں آرام سے بیٹھو۔ شازل نے اُس کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ آرام سے بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آکر جلدی سے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔
ش ش شا شازل ا اگ اگر م مج مجھے کجھ ہ ہو ہوجائے ت تو آپ پلیز دو دوسرے شادی مت کریئے گا۔ماہی نے اٹک اٹک کر اپنی بات مکمل کی شازل کو جو پہلے ہی پریشان تھا اِیسی سچویشن میں ماہی کی بات سن کر وہ مزید جھنجھلا اُٹھا
بے وقوفوں جیسی باتیں مت کرو ماہی تمہیں اور ہمارے بچے کو کجھ نہیں ہوگا۔ شازل نے اُس کو جھڑکا
آپ کو نہیں پتا پریگنسی میں کجھ بھی ہوسکتا ہے۔ماہی تکلیف برداشت کرتی اُس سے بولی
مجھے نہیں پتا تمہیں بڑا پتا ہے ایڈوانس میں جانے کتنے بچوں کی پیدائش کروائی ہے تم نے۔ شازل بیک ویو مرر سے اُس کو گھور کر بولا
آپ بس یہ بتائے دوسری شادی نہیں کرینگے۔ ماہی کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔
ماہی خدا کا واسطہ ہے اِس حالت میں کجھ پوزیٹو سوچو اور نہیں کرتا میں کوئی دوسری شادی ایک پہلا تمہارے والا تجربہ ہی کافی ہے۔ شازل اضطرابی حالت میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہتا گاڑی کی اسپیڈ تیز کرگیا۔
میرے بعد ہمارے بچے کی اچھی پرورش کرنا شازل۔ ماہی کے اِس والے جُملے پہ شازل کا دل چاہا گاڑی کہیں ٹھوک دے مگر خود پہ ضبط کے کڑے بندھ باندھتا اپنا سارا دھیان گاڑی ڈرائیو کرنے میں لگادیا۔







یمان نے اپنا الگ سے بزنس کرنے کا سوچا تھا جس پہ اُس نے کام کرنا بھی شروع کردیا تھا اور ہمیشہ کی طرح ارمان اُس کے ساتھ تھا۔ دلاور خان نے فنانشلی اُس کی مدد کرنا چاہی تھی مگر یمان نے سہولت سے انکار کردیا تھا کے اب اُس کے پاس سب کجھ ہے جس پہ دلاور خان محض مسکرادیئے تھے۔ہر ایک نے یمان کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی مگر یمان اپنی بات کا ایک نکلا۔فجر کی بہت ڈانٹ کے بعد بھی کہا وہ اب کبھی گانا نہیں گائے گا۔
ابھی وہ گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھا تھا جب اُس کو اپنے سر میں درد کی شدید ٹیسیں اُٹھتی محسوس ہوئی۔ اُس نے جلدی سے گاڑی سائیڈ پہ کھڑکی کی اور اپنے ہاتھ سر پہ رکھنے لگا۔ کجھ دنوں سے اُس کے ساتھ ایسا ہورہا تھا بیٹھے بیٹھائے سر میں درد ہونا شروع ہوجاتا تھا پہلے تو اُس نے نظرانداز کیا مگر اب کسی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کا سوچ کر اُس نے گاڑی گھر کے بجائے کسی ہسپتال کی طرف موڑ دی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یہ سردرد آپ کو کب سے ہے؟ ڈاکٹر نے بغور اُس کے چہرے کا جائزہ لیکر پوچھنے لگا۔
ایک دو ہفتوں سے۔ یمان سوچ کر بتانے لگا۔
ایک دو ہفتوں سے تو کیا اِس بیچ آپ کو علاج کروانے کا خیال نہیں آیا؟ اپنی صحت پہ انسان کو اتنی لاپرواہی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ کبھی کبھی معمولی چیزیں آگے چل کر آپ کی جان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر نے کہا
آپ کی بات تو ٹھیک مگر سردرد میں نے سوچا خود ہی ٹھیک ہوجائے گا اور کبھی کبھار سردرد کی گولی کھاتا تو ختم ہوجاتا تھا۔ یمان نے بتایا
ہمممم۔ ڈاکٹر نے ہونکارہ بھرا
دیکھے مسٹر یمان آپ کا پوری طرح جائزہ آئے مین چیک اپ کے بعد جو مجھے لگ رہا ہے وہ میں ابھی آپ کو بتاکر پریشان نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اصل وجہ تو رپورٹس کے بعد آئے گی اور میں چاہتا ہوں جو عموماً ہونا بھی چاہیے آپ کے دماغ کا ایکسرا بھی لیا جائے۔ڈاکٹر نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
دماغ کا ایکسرا؟ یمان کو ہنسی آئی۔
اِٹس سیریس میٹر مسٹر یمان۔ ڈاکٹر کو اُس کو یوں مُسکرانا پسند نہیں آیا وہ پہلے سے ہی اُس کی اِس قدر لاپروائی پہ حیران تھے۔
اوکے سوری نو ایشو۔ پر آپ کو کیا لگ رہا ہے مجھے کیا ہوا ہوگا؟ یمان نے جاننا چاہا
رپورٹس آجائے پھر آپ خود دیکھ لینا ابھی یہ بتائے کیا کبھی آپ کے سر میں کوئی چوٹ آئی تھی؟ ڈاکٹر نے اپنی نظریں اُس پہ مرکوز کیے پوچھا
نہیں۔ یمان نے بنا دیر کیے بتایا
سوچے پھر یاد کرے کیا پتا چوٹ آئی ہو یا کسی نے سر پہ حملا کیا ہوا جس کی وجہ سے آپ کے دماغ میں کوئی گھاؤ آگیا ہو اور اُس پہ بھی آپ نے یوں لاپروائی برتی ہو۔ڈاکٹر کی بات پہ یمان کے دماغ میں سالوں پُرانہ واقع یاد آیا تو اُس نے اپنا سرجھٹکا
جی حملا ہوا تھا میں ایک ڈیڑھ سال تک شاید کومہ میں بھی چلاگیا تھا مگر کوئی گھاؤ وغیرہ نہیں آیا تھا ایسا۔یمان نے بتایا
آپریشن ہوا تھا؟دوسرا سوال
آپریشن؟کومہ میں ہونے پہ شاید ہوا ہو وہ مجھے نہیں ہے پتا مگر کومہ سے باہر نکل آنے کے بعد کوئی آپریشن وغیرہ نہیں ہے ہوا۔یمان پہلے تو “آپریشن” لفظ پہ اُن کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا پھر سوچ سوچ کر جواب دیا
آر یو شیور؟ڈاکٹر نے کنفرم کرنا چاہا
یس آیم شیور۔ کومہ کے بعد میں ٹھیک تھا اِس لیے آپریشن وغیرہ نہیں کروایا تھا اور نہ ٹھیک سے علاج کے لیے فیملی ڈاکٹر کے پاس گیا کبھی۔ یمان نے بتایا تو وہ جیسے ساری بات سمجھ گئے۔
مطلب آپریشن کے آثار تھے مگر آپ نے خود نہیں کروایا؟ڈاکٹر کہنیاں میز پہ ٹِکائے بولا
جی کیونکہ میں نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ یمان بے لچک آواز میں بولا
ٹھیک ہے رپورٹس آئے گی تو آپ کو انفارم کردیا جائے گا اور ایکسرا بھی لیبارٹری میں کجھ مسئلہ ہے جس وجہ سے آج نہیں مل سکتا۔ڈاکٹر نے کہا تو یمان سر کو جنبش دیتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
