Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 35)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کاش آپ ہمیں جذبات رکھنے والا انسان بھی سمجھتے آپ کو پتا ہے وقت آنے پہ جب آپ کو آپ کی زیادتی کا احساس ہوگا اور آپ ہمارے پاس آکر شادی کی پیش کش رکھے گیں تو خُدا کی قسم ہم انکار کردینگے کیونکہ ہم اُن میں سے نہیں جو ایک ہی پتھر سے بار بار ٹھوکر کھاتے ہیں۔

رات کا وقت تھا دُرید سونے کی کوشش کرنے میں تھا مگر نیند اُس کی آنکھوں سے کوسو دور تھی اُس کے کانوں میں بار بار حریم کے جملے گونج رہے تھے جو اُس کو پریشان کررہا تھا وہ کروٹ پہ کروٹ بدلتا پریشان ہوا تو تھک ہار بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔

کیسے کہوں حریم تم مجھے عزیز ہو مگر میں تمہیں وہ پیار نہیں دے سکتا جو تم ڈیزرو کرتی ہوں مجھے تم سے محبت ہے مگر وہ نہیں جو تمہیں مجھ سے ہے جو تم مجھ سے چاہتی ہو۔دُرید اپنا سر ہاتھوں میں گِراتا تصور میں حریم سے مخاطب ہوا اُس کی آنکھوں کے سامنے بار بار حریم کی روئی روئی آنکھیں آ رہی تھی جو اُس کو بے چین کررہی تھی۔

میری دعا ہے تم ہمیشہ خوش رہو تابش کے ساتھ وہ تمہیں ہر وہ چیز دے جو تم ڈیزور کرتی ہو۔دُرید کے چہرے پہ بھولی بُسری مسکراہٹ آئی اُس نے سائیڈ ٹیبل پہ پڑا اپنا والٹ اُٹھاکر کُھولا جہاں کومل کی تصویر آج بھی موجود تھی تصویر دیکھ کر اُس نے گہری سانس خارج۔

میں تمہارا مجرم ہوں مجھے معاف کردینا نہ میں تمہیں گاؤں آنے کا کہتا اور نہ تمہاری جان جاتی۔تصویر کو دیکھ کر دُرید نے بے ساختہ سوچا

اے میری گُل زر میں تجھے چاہ تھی کتاب کی

اہل کتاب نے مگر۔کیا حال تیرا کردیا

ممکنہ فیصلوں میں اک حجر کا فیصلہ بھی تھا

ہم نے تو ایک بات کی اُس نے کمال کردیا

میرے لبوں پہ مہر تھی؛پر مہرے شیشہ رونے تو

شہر کے شہر کو میرا واقف حال کردیا

چہرہ نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے

وقت نے کس شبیہہ کو خواب وخیال کردیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان آج اپنے سیکریٹ روم آیا تھا جو اُس نے دلاور خان کے گھر میں ہی تھا مگر یمان نے کبھی کسی کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی تھی جبھی دلاور خان نے اُس کو سیکریٹ روم کا نام دیا تھا اور بہت بار یمان کو چِڑایا بھی تھا یمان کمرے میں داخل ہوتا دروازے کو بند کیے آس پاس دیکھنے لگا جہاں سِوائے ایک پینٹنگ کے کجھ نہیں تھا یمان چلتا ہوا پینٹنگ کے پاس آیا اور اُس کے اُپر سے پردہ ہٹایا تو شُہد آنکھوں کا اسکیچ اُس کے سامنے تھا دلاور خان کو شک ہوا تھا کے یمان نے اِس کمرے میں شاید اُس لڑکی کی کوئی تصویر رکھی ہے تبھی یمان نے پینٹگ کے نام پہ وہ اسکیج یہاں محفوظ کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اِس بات کی کسی کو بھنک پڑے۔

سب کہتے ہیں آپ کو بھول جاؤں پر میرے دل سے آپ جاتی ہی نہیں میں آپ کا اسیر بن گیا تھا سالوں پہلے اور آج بھی آپ اسیر ہوں۔یمان سامنے کی جانب دیکھتا ایسے بولا جیسے وہ سچ میں اُس کے سامنے کھڑی اُس کی باتیں سن رہی ہوں۔

میں نے کہی پڑھا تھا۔

وہ جو چاہے تو کیا نہیں ممکن

وہ جو نہ چاہے تو کیا کرے کوئی۔

اگر ایسا ہے تو مجھے لگتا ہے آپ کا اور میرا سامنا ضرور ہوگا ورنہ کسی کے لیے محبت بے وجہ تو نہیں ہوتی۔یمان کی آنکھوں میں اُمید کے جگنوں آج بھی تازہ تھے۔

حدود عشق کی جانچ کے پیمانے نہیں ہوتے

وہ جومخلص ہوں ہرایک کے دیوانے نہیں ہوتے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ سائیں خیریت آج آپ نے آنے میں دیر کردی رات کے دو بج رہے ہیں۔شھباز شاہ حویلی میں داخل ہوئے تو کلثوم بیگم پریشانی سے پوچھنے لگی۔

میں کجھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔شھباز شاہ اُن کی جانب دیکھے بغیر بول کر اپنے کمرے میں جانے کے بجائے اسٹڈی روم میں داخل ہوئے جہاں ڈھیر ساری کتابوں کا مجموعہ تو تھا ہی مگر دیوار پہ بچپن سے لیکر مختلف جگہوں پہ کھینچی گئ آروش کی تصاویر بھی تھی جس میں کہی وہ چلنا سیکھ رہی تھی تو کسی تصویر میں دُرید شاہ اور شازل شاہ کو گھوڑا بنایا ہوا تھا اور خود اُن کے اُپر بیٹھی ہوئی تھی کہی وہ کھیل رہی تھی تو کہی رونے والی شکل بنائی ہوئی تھی اور کجھ تصویر اُس کے اسکول میں لی گئی تھی شھباز شاہ اُن سب تصاویر پہ نظر ڈالنے کے بعد وہ وقت یاد کرنے لگے جب انہوں نے بیٹی جیسی رحمت کو پایا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

ہسپتال کے کوریڈور میں تیس سالہ نوجوان یہاں سے وہاں چکر لگانے میں مصروف تھا اُن کا دل تیز رفتار سے دھڑک تھا اُن کی بیوی حاملہ تھا اور آج وہ اُن کی خواہش کو پُورا کرنے والی تھی اُن کو بیٹی کی صورت میں شھباز شاہ جن کو گاؤں کا سرپنج بنے ابھی کجھ عرصہ ہی ہوا تھا اُن کو کسی وارث کی خواہش نہیں بلکہ پھول جیسی بیٹی کی تمنا تھی جو آج دس سال بعد دو بیٹے کے پیدا ہونے کے بعد اُن کو ایک بیٹی بھی مل رہی تھی جن کے لیے انہوں نے بہت ساری دعائیں بھی کی تھی اپنی بیوی کلثوم کے حاملہ ہونے کے وقت وہ ان کا خیال تو بہت رکھتے تھے مگر جب سے ان کو پتا چلا تھا اِس بار اللہ کے حکم سے بیٹی ہے تو اُنہوں اپنے گاؤں میں کسی دائی سے رجوع نہیں کیا تھا بلکہ اُن کو لیکر شہر آگئے تھے تاکہ اُن کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اُن کے اِس طرح شہر آجانے سے اُن کی باپ اسداللہ نے اور ماں مہتاب بیگم نے اعتراض تو بہت اُٹھایا تھا مگر شھباز شاہ سب کو راضی کیے شہر آگئے تھے اِس وقت اُن کا ہر عضو دعا میں مشغول تھا کے اُن کی بیٹی صحیح سلامت ہو کیونکہ ڈاکٹرز نے اُن کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا تھا مگر اُن کے اندر ایک اُمید تھی کے اُن کی بیٹی صحیح سلامت ہی ہوگی مگر اللہ کو شاید کجھ اور ہی منظور تھا۔

شاہ سائیں۔ایک فیمل ڈاکٹر نے اُن کو آواز دی تو شھباز سے تیر کی تیزی سے اُن کی جانب پہنچے تھے۔

کیسی ہے ہماری بیٹی؟ان کی آواز میں بلا کا رعب تھا جس کو محسوس کرتی ڈاکٹر کے وجود میں سنسی سی ڈور گئ تھی۔

آپ کی بیوی نے مُردہ بیٹی کو جنم دیا ہے۔ڈاکٹر نے ڈر ڈر کے بتایا تو شھباز شاہ کو لگا جیسے کسی نے اُن پہ پہاڑ گِرادیا ہو اُن کے خواب اُن کی خواہشات جو بیٹی کے روپ میں انہوں نے سوچے ہوئی تھی وہ کرچی کرچی ہوگئ تھی۔

یہ جھوٹ ہے ایسا کیسا ہوسکتا ہے۔شھباز شاہ بے یقین لہجے میں بولے۔

یہ سچ ہے شاہ سائیں ہم نے آپ کو پہلے سے بتادیا تھا بچہ ٹھیک کنڈیشن نہیں اُس کو گِرادے ماں کے پیٹ سے کیونکہ ایسے میں ماں اور بچہ دونوں خطرے میں مگر آپ نے بات نہیں مانی آپ کی بیوی تو اللہ کے حکم سے ٹھیک ہے مگر بچی نہیں۔ڈاکٹر نے بتایا تو شھباز شاہ نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچ کر باہر آتی نمی کو اندر دھکیلا وہ تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ کمرے میں گئے جہاں کلثوم بیگم کو رکھا گیا تھا وہ جیسے ہی اندر آئے نرس نے مردہ بیٹی اُن کے سامنے کی جس کو دیکھ کر اُن کا دل تڑپ اُٹھا تھا انہوں نرس کو باہر جانے کا اِشارہ کیا اور خود کلثوم بیگم کی جانب آئے جنہوں نے رو رو کر اپنا حال بے حال کردیا تھا۔

مجھے معاف کردے شاہ سائیں میں آپ کو بیٹی جیسی رحمت نہیں دے سکی۔کلثوم بیگم نے اُن کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رو کر بولی ضبط سے شھباز شاہ کی آنکھوں میں سرخ ڈورے نمایاں ہورہے تھے جن کو دیکھ کر کلثوم بیگم کا دل خوفزدہ ہورہا تھا۔

یہ دیکھو۔شھباز شاہ نے اپنی جیب کی پاکٹ سے ایک چھوٹی سی خوبصورت چین نکال کر اُن کے سامنے کی جو ہارٹ شیپ پہ بنی ہوئی تھی کلثوم بیگم کانپتے ہاتھوں سے وہ چین اپنے ہاتھ میں لیکر اُس کو کھولا تو ہارٹ کی ایک سائیڈ پہ بڑے خوبصورت طریقے سے آروش شاہ نام کُندہ ہوا تھا جن کو دیکھ کر ان کے رونے میں روانگی آئی تھی۔

میں نے اپنی بیٹی کا نام بھی سوچ لیا تھا۔شھباز شاہ گھمبیر لہجے میں بولے

اللہ کو یہی منظور تھا۔کلثوم بیگم نے کہا جبھی شھباز شاہ کا موبائل رِنگ کرنے لگا پہلے تو انہوں نے خاص توجہ نہ دی مگر بار بار کالز آنے پہ وہ موبائل کو بند کرنے والے تھے مگر اسکرین پہ خان کالنگ دیکھ کر اُنہوں کے کال اٹینڈ کرلی کیونکہ کال کرنے والا اُن کا جگری دوست تھا جس کو وہ نظرانداز نہیں کرسکتے تھے

السلام علیکم۔شھباز شاہ اپنا لہجہ نارمل کیے سلام کیا۔

وعلیکم السلام۔کیا تم اسلام آباد آسکتے ہو؟دوسری طرف بڑی سنجیدگی سے کہا گیا تھا۔

میں اسلام آباد میں ہوں تم بتاؤ کیا بات ہے خان؟ پریشان لگ رہے ہو۔شھباز شاہ اُٹھ کر کمرے سے باہر آکر اُن سے بولے۔

میں پریشان ہوں بس تم جلدی سے میرے بتائے ہوئے ہسپتال پہنچ جاؤ۔خان جن کا پورا نام دلاور خان تھا وہ بولے

میں آتا ہوں۔شھباز شاہ نے مثبت جواب دے کر کال کٹ کردی۔پھر واپس کمرے میں کلثوم بیگم کے پاس آئے۔

میں کسی کام سے باہر جارہا ہوں جلدی واپس آجاؤں گا تب تک تم آرام کرو۔شھباز شاہ نے سنجیدہ بھرے لہجے میں اُن سے کہا

آپ نے حویلی میں کسی کو خبر دی۔کلثوم بیگم اُن کی بات پہ بس یہ بولی۔

میری ہمت نہیں جب واپس جائے گے تب خود بتادینا کل سے اُن کی کال پہ کال آرہی ہے مگر میں ریسیو نہیں کررہا تھا۔شھباز شاہ کے لہجے میں ایک دکھ تھا۔

مع

تم معافی مت مانگوں میں کام سے جارہا ہوں جلدی واپس آؤں گا۔کلثوم بیگم کی بات درمیان کاٹ کر وہ سپاٹ انداز میں اُن سے بول کر باہر نکل گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خان کیا بات ہے اتنی ایمرجنسی میں مجھے کیوں بُلایا؟شھباز شاہ دلاور خان کے بتائے ہوئے ہسپتال پہنچ کر پریشان کن لہجے میں اُن سے بولے تو دلاور خان اُن کا ہاتھ پکڑ کر دوسری طرف لے گئے جہاں فلوقت کوئی نہیں تھا۔

تمہیں پتا ہے میں اپنے سب دوستوں سے زیادہ تم پہ اعتبار کرتا ہوں اور اِسی اعتبار کی وجہ سے میں نے تمہیں یہاں آنے کا کہا اُمید ہے تم میری لاج رکھو گے۔ہسپتال کے کوریڈور میں دلاور خان جس کی بانہوں میں نو مولوں بچہ تھا اُس نے اپنے سامنے کھڑے شھباز شاہ سے کہا جو اُن کا ہم عمر تھا اور ایک اچھا مضلص دوست تھا

بلکل میرے یار تم حکم کرو۔شھباز شاہ اپنا غم بھول کر اُن کا حوصلہ بڑھایا

تمہیں پتا ہے میری چار بیٹیاں ہیں ہمارے یہاں بچیوں کو ناپسند کیا جاتا ہے میری اماں حضور ان کو جانے کیسے برداشت کررہی ہیں پر اِس بار ان کی سخت تاکید تھی بیٹے کی ورنہ بیٹی اگر ہوئی تو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔دلاور خان نے بے بسی سے بتایا

بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہے تمہیں اپنی اولاد کے لیے اسٹینڈ لینا چاہیے۔شھباز شاہ افسوس کا اظہارہ کیا بیٹی کی قدر اہمیت کوئی اُن سے پوچھتا

سب میرے خلاف ہے میرے کام کی وجہ سے اُس کے بعد پسند کی شادی پھر اب بیٹیاں۔اتنا کہتے دلاور خان خاموش ہوگیا

اب مجھ سے کیا چاہتے ہو تم۔گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے ہوئے شھباز شاہ نے پوچھا

میں چاہتا ہوں میری بچی کی پرورش تم کرو اُس کو اپنا نام دوں پر یہ میری امانت ہوگی جو وقت آنے پہ میں واپس لوں گا۔اپنے دوست کی بات پہ شھباز شاہ کی نظر اُن کی گود میں خوبصورت بچی پہ پڑی جس کی آنکھیں بند تھی انہوں نے بے اختیار اُس کو اپنی بانہوں میں بھر کر ماتھا چوما جس سے بچی کسمساکر اپنی آنکھیں کھول کر کبھی اُن کو دیکھتی تو کبھی اپنے اصل باپ کو۔

تمہاری بچی تو بہت پیاری ہے ماشااللہ۔شھباز شاہ نے محبت سے اُس بچی کو دیکھ کر کہا تو اُن کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آئی

تم لیکر جاؤ گے پیار دو گے اُس کو باپ کا۔ دلاور خان نے آس بھرے لہجے میں پوچھا

ہاں اور میرا واعدہ ہے تمہاری بیٹی کو اپنے بچوں سے زیادہ پیار دوں گا۔شھباز شاہ نے بچی کا چھوٹا سا ہاتھ چوم کر کہا اُن کی تو جیسے آج مُراد پوری ہوگئ تھی اپنی بیٹی کے مُردہ پیدا ہونے کا غم وہ یکسر بھول سے گئے تھے۔

میری بچی کا بہت خیال رکھنا اُس کی ہر فرمائش پوری کرنا۔اب کی دلاور خان نے پرسکون لہجے میں کہا

کہا نہ پریشان مت ہو آج سے یہ میری بیٹی تمہیں نہیں پتا مجھے بیٹی کی کتنی چاہ تھی جو آج پوری ہوگئ۔شھباز شاہ پرجوش آواز میں بولے

امانت ہے میری بیٹی۔دلاور خان کا دل کسی خدشے کے تحت دھڑکا تبھی بولے

اور میں امانت میں خیانت نہیں کروں گا تم میرے جگری یار ہو تو کیسے میں تمہارے خون کو تکلیف دوں گا۔شھباز شاہ نے دل موہ لینے والا جواب دیا

میں تمہارا تاعمر شکرگُزار رہوں گا اور اِس کا نام حور رکھنا۔دلاور خان نے سکون بھری سانس کھینچ کر کہا تو انہوں نے محض سر کو جنبش دی۔

تین یا چار سال بعد میں آؤں گا واپس لینے بس تب تک تم خیال رکھنا میں اپنے بیوی بچوں سمیت باہر سیٹل ہونے کا سوچ رہا ہوں۔دلاور خان نے بتایا۔

ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں میری بیوی ہسپتال میں اکیلی ہے۔شھباز شاہ نے کہا

کیوں ویسے خیریت تو ہے؟دلاور خان نے پوچھا

ہاں بس اللہ کا شکر ہے۔شھباز شاہ نے مسکراکر کہا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کلثوم۔شھباز شاہ نے ہسپتال پہنچ کر کلثوم بیگم کو آواز دی جو ابھی سوئی تھی۔

شاہ یہ کون۔کلثوم بیگم نے آنکھیں کھولی تو ان کی گود میں بچی دیکھ کر حیران ہوئی

دلاور خان کی بیٹی تھی مگر اب یہ ہماری بیٹی ہے دیکھو ماشااللہ سے کتنی پیاری ہے۔شھباز شاہ کا چہرہ خوشی کے مارے چمک رہا تھا۔

کیا انہوں نے اپنی بیٹی ہمیں دے دی۔کلثوم بیگم بے یقین لہجے میں اُن سے استفسار ہوئی۔

وہ سب چھوڑو بس یہ بات یاد رکھو ہماری بیٹی مُردہ پیدا نہیں ہوئی یہ ہے ہماری بیٹی آروش شھباز شاہ۔شھباز شاہ اُن کی بات نظرانداز کیے بولی۔

شاہ سائیں مجھے سب سچ سچ بتائے۔کلثوم بیگم نے ساری حقیقت سے آگاہ ہونا چاہا۔

دلاور خان نے اپنی بیٹی مجھے امانت کے طور پہ دی ہے ان کے یہاں بیٹیوں کو منحوس کہا جاتا ہے اُس کے پاس چار بیٹیاں پہلے سے ہیں مگر پانچویں بیٹی کو خطرہ ہے اِس وجہ سے اُن نے مجھے دی ہے۔شھباز شاہ نے مختصر بتایا

اگر یہ امانت ہے تو ہماری بیٹی کیسے ہوئی آج نہیں تو کل انہوں نے واپس لینی ہے اپنی امانت۔کلثوم بیگم ساری بات سننے کے بعد بولی۔

کل کا سوچ کر آج کی خوشی برباد مت کرو بتایا نہ اُس کے پاس چار بیٹیاں پہلے سے موجود ہے تو اُس کو کہاں آروش یاد ہوگی۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا

اولاد کیا بھولنے والی چیز ہے؟کلثوم بیگم نے سوال اُٹھایا۔

اُس کو نہیں پتا کجھ ویسے بھی میں اُس سے رابطہ ختم کرلوں گا۔شھباز شاہ کی نیت بدل گئ تھی۔

امانت میں خیانت کرینگے؟کلثوم بیگم کو افسوس ہوا۔

تمہیں بات بتائی ہے اب میری بات غور سے سُنو یہ آج سے ہماری بیٹی ہے حویلی میں سب کو یہی بتانا ہے ٹھیک ہے؟شھباز شاہ نے تائید کرتی نظروں سے اُن کو دیکھا تو کلثوم بیگم نے اپنا سراثبات میں ہلایا

گُڈ کوشش کرنا دیدار اور دلدار میری بیٹی کے دودھ شریک بھائی بن جائے کیونکہ میں نہیں چاہتا میری بیٹی حویلی میں قید رہے حویلی میں سب اُس کے اپنے ہوگے تو یہ تتلی کی طرح ہر جگہ اُڑا کرے گی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔شھباز شاہ بچی کا ماتھا چوم کر بولے تو کلثوم بیگم بس اُن کی بیٹی کے لیے دیوانگی دیکھتی رہ گئ اگر اپنے دوست کی بیٹی سے اتنا پیار ہے تو خود کی بیٹی کے لیے تو جانے کیا کر گُزرتے۔کلثوم بیگم جھرجھری لیکر بس سوچ سکی۔

مجھے دے۔کلثوم بیگم نے اُن کی گود میں بچی کو دیکھ کر کہا تو شھباز شاہ نے احتیاط سے اُن کی گود میں بچی کو ڈالا۔

پٹھانوں کی اولاد لوگ دور سے پہچان لیتے ہیں کیا حویلی میں کسی کو شک نہیں ہوگا کے اِس بچی کے نین نقش شاہوں خاندان کے بجائے پٹھانوں جیسے ہیں آپ غور سے اِس کا چہرہ دیکھے جو ابھی سے اِس کے پٹھان ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔کلثوم بیگم اُس بچی کا ماتھا چوم کر بولی

منہوسیت پھیلانے کی ضرورت نہیں لوگ وہ دیکھے گے جو میں اُن کو دیکھاؤں گا یہ ہمارے ساتھ رہے گی تو ہمارے جیسی بن جائے گی۔شھباز شاہ سخت لہجے میں بولے تو وہ خاموش ہوگئ۔

تو کیا اِس بچی پہ وہ اصول لاگو ہوگے جو ایک سیدزادی پہ ہوتے ہیں جبکہ اِس بات سے آپ واقف ہیں یہ سیدزادی نہیں ہوگی۔کلثوم بیگم زیادہ دیر تک خاموش نہ رہ سکی۔

سید شھباز شاہ کی بیٹی ہے اب سے یہ تو سیدزادی ہوگی نہ اور اصول آروش شاہ پہ بھی لاگو ہوگے۔شھباز شاہ تکبر بھرے لہجے میں بولا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تیری بیٹی اتنی الگ کیوں ہے مطلب دُرید جیسے تھوڑا تجھ پہ اور کلثوم پہ ملتا جُلتا ہے شازل تیری کاپی ہے اُس طرح یہ تجھ پہ کیوں نہیں گئ۔مہتاب بیگم تنقید بھری نظروں سے بچی کا جائزہ لیتی بولی۔

ابھی چھوٹی ہے آپ کیسے بول سکتی ہیں ایسے ویسے بھی ہم پہ جائے یا نہیں جائے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔شھباز شاہ پُراعتماد لہجے میں بولے۔

ٹھیک بات ہے مگر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے اِس کے نین پٹھان سے میل جول رکھتے ہیں۔مہتاب بیگم کے لہجے میں شک کا عنصر نمایاں تھا۔

میری بیٹی کو پیار دینے کے بجائے آپ بہت خراب باتیں کررہی ہیں یہ میری بیٹی ہے پھر آپ کی کیا تک بنتی ہے جو پٹھانوں سے ملا رہی ہے۔شھباز شاہ نے اپنا لہجہ سخت کیے بولے۔

غصہ کیوں ہو رہے ہو میں نے جو سمجھا وہ بتایا۔مہتاب بیگم نے کہا

اچھا مجھے آروش دے اِس کے سونے کا وقت ہوگیا ہے۔شھباز شاہ نے اُن کی گود سے آروش کو لیا۔

ہمممم لو ویسے تمہاری بیٹی بڑی ہوکر بہت خوبصورت بنے گی آنکھیں دیکھو کتنی پیاری ہے۔مہتاب بیگم اُس کی شہد آنکھوں کو دیکھ کر شھباز شاہ سے بولی۔

میری بچی تو ابھی سے بہت پیاری ہے۔شھباز شاہ محبت سے اُس کا چہرہ دیکھ کر اُس کی آنکھوں پہ بوسہ دینے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال!

شھباز شاہ ماضی کی یادوں میں اِس قدر کھوئے ہوئے تھے کے ان کو احساس ہی نہیں ہوا کے کوئی اُن کے بلکل پاس بیٹھ کر اُن کی جانب مسلسل دیکھ رہا تھا جیسے جاننا چاہ رہا ہوں کے اتنی گہری سوچ میں ڈوب کر آخر ایسا بھی وہ کیا سوچ رہے ہیں جو اُن کو اپنی آنکھوں میں اُتر آتی نمی تک کا احساس نہیں ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *