Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 27)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

آپ نے ایسا کیوں کیا؟عیشا اندر کمرے میں آکر مستقیم صاحب سے جواب طلب ہوئی۔

وہ اِس کا مستحق تھا۔مستقیم صاحب نے جواب دیا۔

آپ نے ایسا کیوں کیا وہ اِس کے مستحق نہیں تھا جو آپ نے اُس کو گھر سے بے دخل کیا۔عیشا نے روتے ہوئے کہا

یہاں اُس کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔مستقیم صاحب کی اِس بات نے عیشا کو چونکنے پہ مجبور کردیا۔

کیا مطلب؟عیشا اُن کے پاس بیٹھ کر بولی

یہاں اگر رہتا تو کیا پتا جو اِس کو مرا ہوا سمجھ بیٹھے ہوئے وہ یمان کو دوبارہ سے نقصان پہنچائے۔مستقیم صاحب نے کمزور آواز میں کہا

اُس بات کو تو اب بہت عرصہ ہوچکا ہے۔عیشا نے کہا۔

میں یمان کو دوبارہ خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا ایک بار غلطی کردی بار بار نہیں وہ اگر دور رہے گا تو اُس کو سمجھ آئے گی پیار محبت کجھ نہیں ہوتا وہ اب اپنے بارے میں سوچے گا اپنی زندگی کے بارے میں سوچے گا۔مستقیم صاحب نے گہری سانس بھر کر کہا

آپ ایک دفع اُس کو اپنے سینے سے تو لگالیتے آپ کے رویے کی وجہ سے وہ اپنی ماں کے لیے رو بھی نہیں پایا آپ کو پتا ہے وہ کیا محسوس کررہا ہوگا اُس نے اپنی ماں کا آخری دیدار نہیں کیا اپنی ماں کے جنازے کو کندھا تک نہیں دیا ایسے میں آپ کی باتوں نے اُس کو بہت توڑا ہوگا ابا ہمارا بھائی اِن چیزوں کا مستحق نہیں وہ ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا جو اُس کو اتنی تکلیفیں اُٹھانی پڑ رہی ہیں۔عیشا نے تکلیف بھرے لہجے میں اُس کی نظروں کے سامنے بار بار یمان کا سہما ہوا چہرہ آرہا تھا۔

میں اگر اُس کو سینے سے لگاتا یا شفقت سے پیش آتا تو وہ کیا یہاں سے جاتا بلکل نہیں جاتا میرے رویے نے اُس کو جانے پہ مجبور کردیا تھا رہی بات تکلیفوں کی تو تکلیف انسان کے حالات یا عمر دیکھ کر نہیں آتی تم دیکھنا اب ہمارا یمان بدل جائے گا جو اُس نے اپنے لیے سوچا تھا اُس کو پورا کرے گا۔مستقیم صاحب اپنے عمل پہ مطمئن تھے۔

ہماری سپورٹ کے بغیر؟عیشا نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا۔

ہاں ہماری سپورٹ کے بغیر۔مستقیم صاحب ہلکہ سا مسکرائے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اچھا ہوا جو تم واپس آگئے یہ اب تمہارا ہی گھر ہے۔زوبیہ بیگم نے محبت سے یمان کا چہرہ تکتے ہوئے کہا

کیا آپ دونوں اکیلے رہتے ہیں یہاں؟یمان نے اُن دونوں کے علاوہ گھر میں کسی کو نہیں پایا تو پوچھا

ہاں میرا کوئی بیٹا نہیں پانچ بیٹیاں ہیں جن کی شادی ہوگئ ہیں تو اپنے اپنے شوہروں کے گھر میں ہیں۔دلاور خان نے مسکراکر بتایا۔

سب بیٹیوں کی شادیاں ہوگئ ہیں؟یمان کو جانے کیوں حیرت ہوئی۔

چار بیٹیوں کی شادیاں ہوگئ ہیں دو جڑواں تھی اُن کی ساتھ میں ہوگئ تھی تیسری کی بھی ہوگئ جب کی جو چوتھی بیٹی تھی زرنور اُس کی شادی کو ابھی ایک سال ہوا ہے۔دلاور خان سے پہلے زوبیہ بیگم بول پڑی اُن کے چار بیٹیوں کے زکر پہ یمان کا دل چاہا پانچویں بیٹی کا پوچھے کے وہ کہاں ہیں مگر خاموش رہا۔

میں تمہیں تمہارا کمرہ دِکھاتا ہوں۔دلاور خان ایک نظر زوبیہ بیگم پہ ڈال کر بولے۔

مجھے یہاں رہنا ٹھیک نہیں لگ رہا۔یمان کشمش میں مبتلا اُن سے بولا وہ یہاں آ تو گیا تھا مگر اب اُس کو پچھتاوا سا ہورہا تھا۔

یمان تم مجھے اپنی ماں اور خان کو اپنا باپ ہی سمجھو اِس لیے اتنا فارمل مت ہو یہاں تم ہمیشہ کے لیے رہ سکتے ہو ہمارا بیٹا بن کر۔زوبیہ بیگم محبت سے کہا

میں یہاں کیسے رہ سکتا ہوں میں اپنے گھر جاؤں گا جب میرے والد کی ناراضگی دور ہوجائے گی۔یمان نے کہا

ٹھیک ہے مگر تب تک تو اِس گھر کو اپنا گھر سمجھو۔دلاور خان نے بے تکلف لہجے میں کہا تو یمان محض مسکرادیا بھلا وہ کیسے کسی اور کے گھر کو اپنا سمجھتا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کاش میں اُس دن یہاں ہوتی۔فجر نے عیشا کی ساری بات سُنی تو حسرت سے بولی

یمان ٹھیک ہے صحیح سلامت ہے ہمارے لیے یہی بڑی بات ہونی چاہیے اور تم اب پریشان مت ہوا کرو تمہارے بچے کے لیے اچھا نہیں۔عیشا نے پرسکون لہجے میں اُس کا بھرا ہوا وجود دیکھ کر کہا

تم نے پوچھا نہیں تھا وہ کہاں تھا اتنے وقت تک؟فجر نے کہا

اِن باتوں کا موقع ہی نہیں ملا تم یہ بتاؤں ارسم جیل سے کب رہا ہوگا۔عیشا نے گہری سانس بھر کر پوچھا

پتا نہیں میں خود بہت پریشان ہوں میری ڈیلیوری کے دن بہت قریب آرہے ہیں اور ارسم کی رہائی کا کجھ پتا ہی نہیں۔فجر فکرمند لہجے میں بولی۔

ارسم اتنا بے وقوف تو نہیں جو اُس نے ایک فراڈیہ لوگوں کے ساتھ ملایا اور اُن کی کمپنی میں انویسٹمنٹ کی۔عیشا افسوس بھرے لہجے میں بولی۔

مجھے اُس کا کجھ نہیں پتا میں بس یہ چاہتی ہوں ارسم خیر سے رہا ہوجائے۔فجر نے کہا

ان شاءاللہ تمہاری ڈیلیوری سے پہلے وہ آجائے گا۔عیشا نے دعائیہ انداز میں کہا

ان شاءاللہ اور تم یہ بتاؤ کم سے کم تمہیں یمان سے یہ تو پوچھنا چاہیے تھا نہ وہ دوبارہ کب آئے گا۔فجر گھوم پِھر کر یمان کے زکر پہ آئی ۔

وہ آجائے گا خود ہی اب مجھے تمہیں ایک چیز دیکھانی ہے۔۔عیشا نے کہا اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔

کونسی چیز؟فجر ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی

یہ مجھے یمان کے کمرے کی صفائی کرتے وقت ملی۔عیشا نے ایک چِٹ اُس کی طرف بڑھا کر بتایا۔

یہ۔فجر نے چٹ کو دیکھا تو اُس میں موجود تحریر پڑھ کر بس یہی بول پائی۔

اُس لڑکی نے دی تھی شادی یمان کو۔عیشا نے بتایا تو فجر نے اُس چٹ کو پھاڑنا چاہا پر عیشا نے فورن سے اُس کو روکا۔

نہیں فجر۔عیشا نے نفی میں سرہلایا

کیوں نہیں اُس لڑکی کی وجہ سے ہم سب کی پرسکون زندگی میں اتنا کجھ ہوگیا۔فجر نے چیخ کر کہا

آہستہ فجر تمہارے لیے اتنا ہائپر ہونا ٹھیک نہیں ہمارے ساتھ جو ہوا وہ سب ہماری قسمت تھی یہ چٹ یمان کے لیے بہت معنی رکھتی ہے تبھی تو اتنا سنبھال کر اُس نے اپنے پاس رکھی ہے میں نہیں چاہوں گی کے اِس چٹ کے ٹکڑے کرکے ہم کسی ڈسٹربن میں پھینکے یہ یمان کی امانت ہے ہم اُس کو دینگے پھر اُس کی مرضی۔عیشا نے سنجیدگی سے اُس کو ٹوکا۔

تمہیں کیا لگتا ہے یمان کو اب تک وہ یاد ہونی چاہیے۔فجر نے پوچھا

کچی عمر کی محبت بہت پکی ہوتی ہے میں اور تم جتنا بھی کرلے یمان کے دل سے اُس لڑکی کی محبت ختم نہیں کرسکتے۔عیشا نے کہا تو فجر خاموش سی ہوگئ اُس کے پاس کجھ کہنے کو بچا ہی نہیں تھا جیسے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان کو دلاور خان اور زوبیہ کے ساتھ رہتے ہوئے ایک مہینے سے زیادہ وقت ہوگیا تھا دلاور خان اور زوبیہ کو اُس کو اپنے بیٹے کی طرح ٹریٹ کرتے تھے جس سے یمان بھی تھوڑا بہت اُن سے مانوس ہوگیا تھا اور اُن کے بے حد اصرار پہ وہ دلاور خان کو ڈیڈ اور زوبیہ بیگم کو موم کہہ کر پُکارتا تھا۔دلاور خان نے اُس کو اپنی پڑھائی جاری کرنے کا بھی کہا تھا مگر یمان نے سہولت سے انکار کردیا تھا اور بنا اُن کے علم میں کوئی بات ڈالے وہ کسی جاب کی تلاش میں تھا پر آج صبح صبح ہی دلاور خان اُس کو اپنے ساتھ سیٹ پہ لائے تھے جہاں اُن کی نئ آنے والی فلم کی شوٹنگ کی بات وغیرہ ہونی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,

یہ گانے کے لیے کس کو اُٹھالائے ہو۔دلاور خان غصے سے پاس کھڑے اپنے اسسٹنٹ سے بولا اُن کو اپنے فلم کے سونگ کے لیے کسی اچھے سِنگر کی ضرورت تھی جو اُن کو مل نہیں رہا تھا مگر اب جب کوئی ملا تھا وہ ٹھیک سے گانا گا نہیں پارہا تھا جس سے دلاور خان کو اُس پہ غصہ آرہا تھا اُن کے عین پاس بیٹھا یمان خاموشی سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔

سر میں دوبارہ اچھا گانے کی کوشش کرتا ہوں۔گِٹار پکڑے لڑکے نے فورن سے کہا

کوشش نہیں کرنی اچھا گانا ہے یہ مووی دلاور خان کی ہے اور میں اُس میں کوئی کمی نہیں چاہتا میں سہیل سے گانا کہنے والا تھا مگر وہ جانے کہاں غائب ہے۔۔دلاور خان نے سنجیدگی اور پریشانی کے ملے جُلے انداز سے کہا۔

میں ایک بار کوشش کروں؟آس پاس نظر ڈوراتا یمان سرسری لہجے میں بولا تو دلاور خان نے چونک کر اُس کو دیکھا۔

تمہیں سِنگنگ آتی ہے؟دلاور خان کو خوشگوار حیرت ہوئی۔

ایک بار ٹرائے کرتا ہوں پھر آپ بتانا۔یمان نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا تو اُس کے دونوں گالوں پہ گڑھے نُمایاں ہوئے جو آج دلاور خان نے شاید پہلی بار دیکھے تھے۔

شیور۔دلاور خان خوش ہوئے تو دلاور خان کے اسسٹنٹ نے گِٹار اُس کی جانب بڑھایا۔

کونسا گائوں؟یمان نے پوچھا

کوئی بھی ابھی تمہاری آواز کی ٹیسٹ ہے۔دلاور خان نے مسکراکر کہا تو یمان سوچ میں پڑگیا پھر کسی خیال کے تحت اُس نے گانا شروع کیا۔

آرام آتا ہے دیدار سے تیرے

مٹ جاتے ہیں سارے غم

ہے یہ دعا کے تجھے دیکھتے

دیکھتے ہی نکل جائے دم

شکرانہ چاہے جتنا بھی کرلوں

میں پھر بھی رہے گا وہ کم

تیرا تصور مجھے دے کر

مولا نے مجھ پہ کیا ہے کرم

یمان اتنا گاکر خاموش ہوکر دلاور خان کو دیکھنے لگا جو حیرت کا مجسمہ بنے ہوئے تھے اُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا یمان کی آواز گانا گاتے وقت اتنی خوبصورت ہوگی۔

زبردست۔دلاور خان حیرت سے باہر آکر بس یہی بول پائے۔

شکریہ۔یمان نے اتنا کہہ کر گِٹار واپس رکھ دیا۔

تم میرے کیبن میں آنا۔دلاور خان اتنا کہہ کر اٹھ گئے تو یمان اُن کے پیچھے گیا۔

جی۔یمان اُن کے کیبن میں آتا بولا

تم نے بتایا نہیں تمہاری آواز اتنی اچھی ہے۔دلاور خان نے شکایت بھرے لہجے میں کہا

کبھی بتانے کا موقع نہیں ملا۔یمان نے کندھے اُچکائے

تمہیں پتا ہے تم ایک بہت مشہور اور سنگر بن سکتے ہو تو اِس فیلڈ میں کیوں نہیں آجاتے میں تمہاری ہر لحاظ سے مدد کروں گا۔دلاور خان نے کہا

آپ کا مجھ پہ پہلے سے بہت احسان ہے اب مزید نہیں۔یمان نے کہا۔

احسان کیسا تم لیے میرے بیٹے ہو تم اپنا پہلا گانا میری فلم کے لیے گاؤ میں تم اُس کے لیے بہت اچھی پے دوں گا اُس کے بعد دیکھنا پھر تمہارے پاس آفرز آتی جائے گے مگر اُس کے ساتھ تمہیں اپنی پڑھائی جاری رکھنی پڑے گی یہ موسٹ امپورٹنٹ ہے۔دلاور خان نے مسکراکر کہا

اگر میری آواز آپ کو واقع میں پسند آئی ہے تو میں ضرور آپ کے لیے گائوں گا مگر اُس کی میں پے نہیں لوں گا جو آپ نے مجھ پہ خرچ کیا ہے میں اُس کی قیمت چُکانا چاہتا ہوں۔یمان نے سنجیدگی سے کہا

میں نے جو کجھ کیا وہ تمہیں اپنا بیٹا سمجھ کر کیا تھا۔دلاور خان نے کہا

میں جو کررہا ہوں وہ آپ کو اپنا باپ سمجھ کر کرہا ہوں باپ بیٹے میں حساب نہیں ہوتا۔یمان کے جواب پہ دلاور خان لاجواب ہوئے جس نے بڑی خوبصورت طریقے سے اپنی بات منوالی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کجھ عرصے بعد!

لاہور!

آج یمان کا پہلا گانا تھا جو آن ایئر ہونے والا تھا اِس دن کے لیے اُس نے بہت سارے خواب سجائے تھے ہزاروں لوگوں کے سامنے کھڑا ہوکر گانا اُس کا جنون بن گیا تھا جو آج پورا ہونے والا تھا مگر جو خوشی اُس کو محسوس ہونی چاہیے تھی وہ جانے کہاں غائب تھی اُس کو اپنا آپ کھوکھلا سا معلوم ہورہا تھا اُس نے اپنے دماغ کو ساری سوچو سے آزاد کرواکر ایک طائرانہ نظر سب لوگوں پہ ڈالی جو اُس کے گانے کے منتظر تھے یمان نے اپنی آنکھوں کو بند کیا اور گِٹار کی تاروں کو چھیڑا۔

کیا تھی وجہ جو کی بے وفائی

یاد جلا کے راکھ اُڑائی

کیا تھی وجہ جو کی بے وفائی

یاد جلا کے راکھ اُڑائی

جانے ضروری کیوں تھا درد جُدائی

ہونے لگی ہے کیوں یہ سانسیں پرائی

یہ حالِ دل ہم کہہ بھی نہ پائے

تنہا ایسے کہی مر ہی نہ جائے

یہ حالِ دل ہم کہہ بھی نہ پائے

تنہا ایسے کہی مر ہی نہ جائے

یہ حالِ دل جو ہم کہہ بھی نہ پائے

کیسی خطا کی وہ کیسی صدائیں

سُنتا نہیں کوئی دل کی صدا

کہہ بھی نہ پائے

یہ حالِ دل جو ہم کہہ بھی نہ پائے

کیسی خطا کی وہ کیسی صدائیں

سُنتا نہیں کوئی دل کی صدا

کہہ بھی نہ پائے

یمان نے گانا شروع کیا تو ہال میں موجود سب لوگ اُس کی آواز کے سحر میں جکر چُکے تھے۔

دوسری طرف اسلام آباد کے ایک فلیٹ میں موجود آروش جو لاؤنج میں بیٹھی چینل سرچنگ کررہی تھی چینل بدلتے بدلتے اُس کے ہاتھ تھام سے گئے تھے اُس نے ایک نظر ٹی وی پہ نظر آتے یمان پہ پڑی تو پہلے اُس نے اپنا وہم جانا تھا جس کو یقین دلانے کے لیے اُس نے وہ چینل دوبارہ سے لگایا جہاں کوئی گانا چل رہا تھا۔

جینے کی دعائیں ہم نے مانگی ہی نہ تھی

ایسا نہیں تھا آنکھیں بھیگی نہ تھی

ہاتھوں کی لکیریں جیسے کھینچی ہی نہ تھی

پوری وفائیں کیسے ہوتی

سِتم ہی ایسا ٹوٹا

نصیباں میرا روٹھاں

ملا تھا کوئی جھوٹا

کوئی ہی جھوٹا!!!!!!!

جانے ضروری کیوں تھا درد جُدائی

ہونے لگی ہے کیوں یہ سانسیں پرائی

یہ حالِ دل ہم کہہ بھی نہ پائے

تنہا ایسے کہی مر ہی نہ جائے

یہ حالِ دل ہم کہہ بھی نہ پائے

تنہا ایسے کہی مر ہی نہ جائے

یہ حالِ دل جو ہم کہہ بھی نہ پائے

کیسی خطا کی وہ کیسی صدائیں

سُنتا نہیں کوئی دل کی صدا

کہہ بھی نہ پائے

یہ حالِ دل جو ہم کہہ بھی نہ پائے

کیسی خطا کی وہ کیسی صدائیں

سُنتا نہیں کوئی دل کی صدا

کہہ بھی نہ پائے

مولا!!!!!!!!!!!!!!!

کہہ بھی ناپائے!!!!!!!!!

مولا!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

یہ حالِ دل ہم کہہ بھی نہ پائے

تنہا ایسے کہی مر ہی نہ جائے

یہ حالِ دل ہم کہہ بھی نہ پائے

تنہا ایسے کہی مر ہی نہ جائے

یمان جیسے ہی خاموش ہوا پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اُٹھا یمان اپنی آنکھوں کو کھول کر گہری سانس بھر کر سب کو سامنے دیکھنے لگا آج اُس کا خواب حقیقت بن کر اُس کے سامنے کھڑا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آروش حیرت کا بُت بنی بیٹھی سامنے اسکرین پہ چلتے مناظر کو دیکھ رہی تھی وہ جو اُس کو وہم لگا تھا وہ وہم نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت تھی سامنے گانا گانے والا کوئی اور نہیں یمان مستقیم تھا وائٹ شرٹ کے اُپر بلیک لیدر کی جیکٹ کے ساتھ جینز پینٹ پہنے ہاتھوں میں مختلف قسم کے بینڈز موجود تھے آج آروش نے اُس کو پورے چار سال بعد دیکھا تھا بلکل مختلف انداز میں اُس کی آنکھوں میں جہاں پہلے بے یقینی تھی وہاں آہستہ آہستہ نفرت نے جگہ لی وہ جو اتنے سال خود کو اُس کی موت کا زمیدار سمجھتی آرہی تھی ایک گِلٹ کے ساتھ زندگی گُزار رہی تھی مگر اُس کو یوں زندہ سلامت دیکھ کر اُس کو جانے کیوں یمان سے نفرت ہونے لگی اپنے اندر ایک لاوا پھٹتا محسوس ہوا اُس کو یمان کا یوں اپنی زندگی میں آگے بھرنا یوں مکمل دیکھنا عجیب کے احساس میں گھیر رہا تھا جس کو وہ کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی پھر اچانک جانے اُس کو کیا ہوا وہ اُٹھی اور پاس پڑا گُلدان اُٹھا کر ٹی وی کی جانب پھینکا جس سے چھناک کی آواز کے ساتھ ٹی وی کی اسکرین چکنا چور ہوگئ ہوگئ مگر اُس کو پھر بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔

آروش کیا ہوا یہ کیا کردیا۔دُرید جو ابھی اندر داخل ہوا تیز آواز کانوں پہ پڑی تو لاوٴنج میں آیا جہاں ہر طرف کانچ کے ٹکڑے پڑے بِکھرے پڑے تھے خود آروش ساکت سی کھڑی تھی۔

آروش۔دُرید اُس پاس کھڑا ہوتا جھنجھوڑنے لگا تو وہ اپنے ہوش وحواسوں سے بیگانہ ہوتی اُس کے بازوں میں جھول گئ۔

آروش

آروش۔

دُرید پریشانی سے اُس کا گال تھتھپاتا ہوش میں لانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرا نام ارمان ہے۔یمان گانے سے فارغ ہوتا کمرے میں آیا تھا جہاں زوبیہ بیگم دلاور خان پہلے سے موجود تھے اور ایک لڑکا بھی تھا جس سے وہ آج پہلی بار ملا تھا۔

تو؟یمان نے آئبرو سِیکڑے

تو کجھ نہیں۔ارمان خجل ہوتا بولا

برخودار آج تو تم نے کمال کردیا۔دلاور خان اُس سے بغلگیر ہوتا بولا

شکریہ سب آپ کی مہربانی ہے۔یمان نے کہا

میرا کجھ نہیں تھا اِس سے ملو یہ ارمان صدیقی ہے۔دلاور خان نے پاس بیٹھے ارمان کا تعارف کروایا تو یمان نے اُس کی طرف چہرہ کیا جو اب اُس کے دیکھنے پہ اپنے بتیس دانتوں کی نمائش کررہا تھا۔

سر آپ کے لیے کال ہے۔وہ سب باتوں میں مگن تھے جب ایک لڑکا یمان کے پاس آتا بولا۔

ہیلو۔یمان نے کال ریسیو کرکے جیسے ہی ہیلو کہا دوسری طرف سے آنی والی خبر نے اُس کے پیروں سے جیسے زمین کھینچ لی۔

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن میں آتا ہوں۔ یمان دھڑکتے دل کے ساتھ بول کر کال کٹ کرگیا۔

کیا ہوا یمان بیٹا؟ زوبیہ بیگم اُس کی اُڑی رنگت دیکھ کر پریشان بھرے لہجے میں بولی۔

کل میرے بہنوئی کی ڈیٹھ ہوگئ تھی میری بہن کے بیوہ ہونے کا سن کے ابا جو پہلے ہی بیمار تھے وہ بھی گُزرگئے۔ یمان یہ سب کس ضبط سے بتارہا تھا بس وہ جانتا تھا۔

یااللہ خیر۔ زوبیہ بیگم پریشان ہوئی

میں کراچی جارہا ہوں۔ یمان نے عجلت میں بتایا۔

رُکو یمان ارمان کو ساتھ لے جاؤ۔ دلاور خان نے اُس کو اکیلا جاتا دیکھا تو کہا۔

اُسے کہے آجائے۔یمان بنا پلٹے جواب دینے لگا تو دلاور خان نے ارمان کو اِشارہ کرنے لگا جو فورن سے سر اثبات میں ہلاتا یمان کے پیچھے گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا ہوا تھا آروش کو؟ دُرید نے پریشان کن لہجے میں ڈاکٹر روشن آرا سے پوچھنے لگا۔

کسی بات کا گہرا اثر لیا ہے آپ کوشش کرے اُن کو خوش رکھنے کی۔ روشن آرا نے بتایا تو دُرید نے سر کو جنبش دے کر آروش کو دیکھا جو ابھی ہوش میں آئی تھی۔

کیا بات ہے آروش تم اتنی گم سم کیوں رہنے لگی ہوں ایسی کونسی بات ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے؟دُرید آروش کے پاس بیٹھتا نرمی سے استفسار کرنے لگا۔

لالہ مجھے گاؤں واپس جانا ہے۔ آروش نے اُس کی بات کے جواب میں بس یہ کہا

ٹھیک ہے۔ دُرید ایک نظر اُس کے چہرے پہ ڈال کر بولا اُس کو اب آروش اُلجھی اُلجھی ہوئی سی لگتی تھی۔ اُس نے بہت بار اُس سے پوچھنے کی کوشش کی مگر کجھ خاص جواب نہ ملتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *