Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شھباز شاہ آپس میں تین بھائی تھے اور ایک بہن سب سے بڑے وہ خود تھے اُن کی تین اولاد تھیں دو بیٹے اور ایک بیٹی ایک بڑا بیٹا درید شاہ جس کی عمر اُنتیس سال تھی دوسرا بیٹا شازل شاہ جو چھبیس سال کا تھا شازل شاہ جو زیادہ تر شہر رہنا پسند کرتا تھا کیونکہ اُس کو اپنے گاؤں اور حویلی کے رسم ورواج سے سخت چڑ تھی اِس لیے کبھی کبھار سب کے اصرار کرنے پہ آجاتا تیسرے نمبر اُن کی بیٹی آروش شاہ جو چوبیس سال کی تھی جس طرح بادشاہ کی جان اُس کے طوطے میں ہوتی ہیں اُسی طرح شھباز شاہ کی جان آروش شاہ میں تھی وہ جتنے سخت اور جابر قسم کے تھے اُس سے زیادہ نرم مزاج اپنی بیٹی آروش شاہ کے سامنے ہوتے شھباز شاہ کا دوسرا بھائی ارباز شاہ جن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھی بڑا بیٹا دلدار شاہ جس کی شادی اپنی چچا زاد کزن شبانا سے ہوئی تھی اُس کے بعد دیدار شاہ جو ابھی تک کنوارا تھا بیٹیوں میں ایک نازلین دوسری نور تھی تیسرا بھائی شھنواز شاہ جس کی بس ایک اولاد تھی بیٹی شبانا۔اُن تینوں بھائیوں کی شادیاں خاندان میں ہی طے پائی تھی
شھباز شاہ کی بیگم کلثوم شاہ
ارباز شاہ کی بیگم فردوس شاہ
شھنواز شاہ کی بیگم فاریہ شاہ
جب کی ان تینوں بھائیوں کی بہن اُمِ مریم کی شادی اپنے ماما زاد سے ہوئی تھی شادی کے ایک سال بعد اُن کے شوہر فردین علی شاہ وفات پاگئے تھے تب اُمِ مریم اُمید سے تھی جن کو شھباز شاہ حویلی لائے تھے حریم کی پیدائش کے چند دن بعد وہ اپنی بیٹی کی زمیداری بارہ سالہ درید شاہ کو سونپتی اِس فانی دُنیا سے کوچ کرگئ تھی تب سے حریم حویلی میں رہتی آرہی تھی جس کی ساری زمیدار درید شاہ بخوشی پوری کرتا تھا جس وجہ سے حریم اگر حویلی میں کسی سے زیادہ قریب تھی تو وہ تھا دُرید شاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *