Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 45)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

اگر یہ سچ ہے تو ہمیں پہلے کیوں نہیں پتا چلا؟گاؤں کے کسی آدمی نے کہا

کیونکہ یہ بات جاننا آپ کے لیے ضروری نہیں تھا۔شھباز شاہ نے دو ٹوک انداز میں کہا

ہمیں ونی نہیں چاہیے نہ دُرید شاہ کا خون ہمیں کجھ زمینیں چاہیے۔عاکف شاہ کی بات پہ سب لوگ اُن کو دیکھنے لگے۔

زمینیں کیا تم اپنے بیٹے کے عیوض زمینوں کے خواہش مند ہو؟لوگوں نے جیسے مذاق اُڑایا۔

خاموش اگر عاکف کی یہی خواہش ہے تو ٹھیک ہے مگر اُس کے بعد ہمارا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔شھباز شاہ نے گھمبیر آواز میں کہا تو سب نے سراثبات میں ہلایا

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

یہ کیا تھا بابا سائیں اتنا بڑا سچ آپ ہم سے کیسے چُھپاسکتے ہیں۔وہ لوگ ڈیرے پہ پہنچے تو دُرید شاہ نے خاموش بیٹھے شھباز شاہ سے پوچھا

تم لوگوں کا جاننا ضروری نہیں تھا۔شھباز شاہ نے سپاٹ انداز میں کہا

دلاور خان کیا وہ ہے جس کی فلم کو اِس سال کی بیسٹ فلم ہونے کا ایوارڈز ملا تھا؟شازل سنجیدہ بھرے لہجے میں بولا

ہاں وہ دلاور خان جس نے مجبوری کے تحت اپنہ بیٹی کی ذمیداری مجھے سونپی تھی مگر اب کجھ ماہ سے وہ چاہتا ہے میں اُس کو اُس کی امانت واپس لوٹاؤں۔شھباز شاہ کے چہرے پہ مایوسی بھرے تاثرات نمایاں ہوئے

آروش کے نین نقش آنکھوں کو رنگ سب مختلف ہوتا ہے اُس کا رنگ گورا چٹا ہے پر وہ جیسے پٹھان خاندان کی لگتی ہے آپ نے کبھی اُس کے گال دیکھے ہیں کیسے سرخ وسپید

شھباز شاہ کے جواب پہ شازل کے کانوں میں ماہی کے الفاظ گونجے۔

آرو کہی نہیں جائے گی

آروش کہی نہیں جائے گی۔

دُرید اور شازل یکدم ایک ساتھ بولے تو شھباز شاہ مسکرائے۔

بابا سائیں میں اِس سچائی کو نہیں مانتا آرو حویلی سے کہی نہیں جائے گی اگر کسی کو اعتراض ہوا تو میں اُس کو اپنے ساتھ رکھوں گا مگر وہ کسی دلاور خان کے پاس نہیں جائے گی اُن کا لائیف اسٹائیل بہت الگ ہے جب کی ہماری آرو الگ انداز میں اپنی زندگی گُزاری ہے وہ وہاں ایڈجسٹ نہیں کرے پائے گی دوسری بات کے وہ خود کہی نہیں جائے گی۔شازل کا انداز حتمی تھا۔

میں شازل کے ساتھ ہوں اگر آروش ہماری بہن نہیں اُن کی بیٹی ہے یہ خیال اُن کو اب کیوں آیا چوبیس سال پہلے کیوں نہیں آیا۔دُرید بھی دو ٹوک انداز میں بولا

تم دونوں آروش سے مجھ سے زیادہ پیار نہیں کرتے اگر میں راضی ہوگیا ہوں تو تم دونوں کو بھی ہوجانا چاہیے اگر نہ بھی ہو تو میں تم دونوں کا اعتراض کسی خاطے میں نہیں لانے والا۔شھباز شاہ نے سرد لہجے میں بولے

مانا کے آپ ہم سے زیادہ پیار کرتے ہیں مگر وہ بہن ہے ہماری ہمارا حق ہے اُس پہ ایسے کیسے آپ اُس کو جانے دے سکتے ہیں۔شازل کو اُن کی بات پسند نہیں آئی۔

آپ ہماری بات کسی خاطے میں چاہے نہ لائے پر آروش کا سوچے کبھی اُس کے بارے میں سوچا ہے حقیقت جاننے کے بعد اُس کا کیا ری ایکشن ہوگا؟کتنی تکلیف ہوگی اُس کو کتنا مشکل ہوگا اُس کے لیے اِس حقیقت کو تسلیم کرنا اور اللہ جانے وہ کبھی تسلیم کرپائے گی بھی یا نہیں دُرید پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پِھیرنے لگا۔

وہ سمجھدار ہیں۔شھباز شاہ بس یہی بول پائے۔

آپ کی سمجھدار بیٹی آپ کو کسی سے شیئر نہیں کرتی تھی اگر بچپن میں آپ غلطی سے ہمیں دیکھ لیتے تو وہ رونے لگ جاتی تھی کے آپ نے اپنی نظریں اُس پہ کیسے اور کیوں ہٹائے گی تو آپ کیسے بول سکتے ہیں وہ یہ بات مانے گی کے شھبازشاہ اُس کا آئیڈیل فادر اُس کا اپنا باپ نہیں بلکہ دلاور خان ہے جس کی زندگی بس فلمیں بنانے میں گُزری ہے۔شازل تو اُن کے جُملے پہ بھڑک اُٹھا۔

پیار سے سمجھاؤں گا تو سمجھ جائے گی جب تک حریم ٹھیک نہیں ہوجاتی یہ بات آروش کو پتا نہیں چلنی چاہیے کیونکہ حریم کو آروش کی ضرورت ہے ایسے میں اگر آروش یہاں سے چلی گئ تو جو سُدھار حریم کی صحت پہ آرہا ہے وہ ختم ہوجائے گا۔شھباز شاہ نے کہا

آرو کا سوچے رو رو کر خود کو نڈھال کرلے گی آپ سے ناراض ہوجائے گی میں بتارہا ہوں۔شازل نے اُن کو سمجھانا چاہا

میں جانتا ہوں تم آروش سے بہت پیار کرتے ہو مگر یقین کرو میں زیادہ اُس سے پیار کرتا ہوں اور مجھے پتا ہے اُس کو کیسے سنبھالنا ہے۔شھباز شاہ کی بات پہ شازل کو چپ لگ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

آؤ کچن میں کام میری مدد کرواؤ مفت میں تو روٹیاں توڑنے نہیں دوں گی میں تمہیں۔ماہی اپنے کمرے کی صفائی کررہی تھی جب شبانا کمرے میں آکر طنزیہ لہجے میں بولی

آپ جائے میں آتی ہوں۔ماہی نے جواب دیا

ہممم جلدی آنا۔شبانا ایک تیکھی نظر اُس کے سِراپے پہ ڈال کر کمرے سے باہر چلی گئ۔

یااللہ میری مدد کرنا ایک تو شازل بھی حویلی میں نہیں ضرورت کیا تھی مجھے اِن لوگوں کے سامنے زبان چلانے کی۔ماہی نے کل تو بہادر کا مظاہرہ کرلیا تھا مگر اب اُس کو ڈر لگ رہا تھا خود میں ہمت جما کرتی وہ باورچی خانے میں آئی تو وہاں فردوس بیگم شبانا اور ملازمائیں پہلے سے موجود تھی جن کو دیکھ کر اُس نے اپنا خشک ہوتا گلا تر کیا۔

میں کیا بناؤں؟ماہی اپنے ماتھے سے آتا پسینا صاف کرتی پوچھنے لگی اُس کو اچانک سے گھبراہٹ کا احساس ہونے لگا تھا۔

پلاؤ اور گاجر کا حلوہ بنادو مہربانی ہوگی تمہاری۔شبانا نے طنزیہ کہا تو ماہی نے ملازماؤ کو دیکھا جو چھ سے سات تھی وہ سمجھ گئ تھی وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے اُس سے کام کروانا چاہتی ہیں ورنہ اُس کی یہاں ضرورت نہیں تھی۔

چاول میں نے بھگو دیئے ہیں وہ پڑے ہیں سامنے۔ایک ملامہ نے اِشارے سے اُس کو بتایا

اندھی نہیں ہے وہ نظر آتا ہے تم اپنے کام پہ توجہ دو۔شبانا نے ملازمہ کو لتاڑا۔

ماہی خاموشی سے اپنا کام کرنے لگی وہ جلدی سے ان سب سے دور جانا چاہتی تھی۔

تیرے کو اتنا پسینا کیوں آرہا ہے گرمی تو نہیں ہے۔فردوس بیگم اُس کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں دیکھی تو تنقیدی نظروں سے اُس کو گھورا

طبیعت ٹھیک کجھ دنوں سے۔ماہی نے بنا دیکھے جواب دیا اُس کے ہاتھ تیزی سے گاجر کاٹنے میں مصروف تھے۔

اماں۔شبانا نے فردوس بیگم کا بازوں پکڑا تو انہوں نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو وارن کیا۔

اچھا کیا ہوا ہے کجھ دِنوں سے تمہیں؟فردوس بیگم نے باورچی خانے میں موجود سبھی ملازموں کو جانے کا اِشارہ کیے ماہی سے پوچھا

طبیعت ٹھیک نہیں تو چکر آتے ہیں اور قے وغیرہ آجاتی ہر دس پندرہ منٹ بعد آج شازل سے دوائی وغیرہ کی بات کروں گی۔ماہی کی بات سن کر اُن دونوں ماں بیٹی کی رنگت پل بھر اُڑی تھی۔

ک ک کوئ کوئی ضرورت نہیں دوائی میں دوں گی کھالینا حویلی میں رہنے والی عورتیں تھوڑی تھوڑی سی بات اپنے شوہروں کو نہیں بتاتی۔شبانا نے بڑی مشکل سے اپنی حالت کو قابو پائے اُس سے کہا۔

تم جاؤ یہاں سے۔فردوس بیگم نے اُس کے ہاتھ سے چھڑی کھینچ کر بولی تو ماہی کے ہاتھ میں کٹ لگ گیا۔

ج جی۔ماہی اپنا ہاتھ دیکھتی فورن وہاں سے بھاگی۔

میرا شک ٹھیک نکلا یہ بدبخت سچ میں وارث دینے والی ہے۔شبانا پریشانی سے فردوس بیگم سے بولی۔

نجومی بننے کی ضرورت نہیں کرتے ہیں ابھی تو اِس کو خود نہیں پتا اچھی بات ہے ہم خود ہی کرلیتے ہیں کجھ اور وارث ہی ہو ضروری نہیں کیا پتا بیٹی ہو۔فردوس بیگم پرسوچ لہجے میں بولی۔

بیٹی ہو یا بیٹا مسئلہ وہ نہیں مسئلہ اولاد کا ہے جو وہ دینے والی ہوں میں بتارہی ہوں اماں اِس قاتل کی بہن کو میں یہاں برداشت نہیں کرپاتی تو بچہ کیسے کروں گی۔شبانا نے جلدی سے کہا

اِس کو وہ ٹیبلیٹ دیتے ہیں حمل روکنے والی اُس سے تو کسی کو شک بھی نہیں ہوگا۔فردوس بیگم کی آنکھوں میں شیطانی چمک آئی۔

حمل سے تو ہوگئ ہے نہ۔شبانا نے جیسے اُن کی عقل پہ ماتم کیا۔

میری اماں نہ بن دیکھنا میری دی ہوئی دوائی سے بچہ پیدا ہونے سے پہلے مرجائے گا۔فردوس بیگم نے کہا تو شبانا بھی سمجھنے والے انداز میں سرہلانے لگی۔

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

ڈسچارج ملنے پہ آروش حریم کو لیکر حویلی آگئ تھی حریم زیادہ نہیں تو پہلے سے کجھ بہتر تھی۔

السلام علیکم۔ماہی جو کمرے میں جانے والی تھی اُن دونوں کو دیکھا تو سلام کیا۔

وعلیکم السلام۔آروش نے جواب دیا جب کی حریم اپنا نقاب اُتارنے لگی۔

کیسی ہو تم؟ماہی نے مسکراکر حریم سے پوچھا

ٹھیک۔حریم نے مختصر جواب دیا۔

کجھ کھاؤ گی میں بنادیتی ہوں ہسپتال میں تو پرہیزی کھانا کھاکر اُکتاگئ ہوگی۔ماہی نے اپنائیت بھرے لہجے میں پوچھا

ہمیں بھوک نہیں سونا چاہتے ہیں اگر کجھ کھانا ہوگا تو ہم بتادینگے۔حریم نے آہستہ آواز میں کہا

مجھے تم سے سوری کرنا تھا۔آروش نے سنجیدگی سے ماہی کو دیکھ کر کہا

سوری کیوں؟ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی

میں اُس رات تم سے روڈ ہوگئ تھی مجھے بعد میں احساس ہوا اپنے رویئے کا دراصل میں پریشان تھی ایسے میں تمہاری باتوں سے مزید ڈسٹرب ہورہی تھی۔آروش کی بات پہ ماہی مسکرائی۔

مجھے پتا ہے تم حریم کی وجہ سے پریشان تھی میں نے تمہارے رویے کا بُرا نہیں منایا تھا بس تھوڑا دُکھ ہوا تھا۔ماہی نے صاف گوئی سے کہا

شکریہ۔آروش اُس کو جوابً کہتی حریم کی جانب متوجہ ہوئی جو غور سے ماہی کو دیکھ رہی تھی۔

اپنے کمرے میں چلوں گی میرے ساتھ روم شیئر کرو گی؟آروش نے سوچوں میں گم حریم سے پوچھا جس کی نظریں تو ماہی پہ تھی مگر دماغ جانے کہاں تھا

آپ کے کمرے میں رہنا چاہتی ہوں۔حریم نے سرجھکائے کہا تو آروش نے سراثبات میں ہلایا

آپ کی رنگت کیوں پیلی ہورہی ہے کیا پھر سے آپ کو کسی نے مارا ہے؟حریم ناچاہتے ہوئے بھی پوچھ بیٹھی اُس کی بات سن کر آروش نے چونک کر ماہی کا جائزہ لیا مگر اُن دونوں کے برعکس ماہی کے چہرے پہ حریم کے سوال پہ گہری مسکراہٹ آئی جو خود تکلیف میں ہونے کے باوجود اُس کی فکر کررہی تھی۔

مجھ کسی نے نہیں مارا میں ٹھیک ہو بس تم ٹھیک ہوجاؤ۔ماہی نرمی سے اُس کا گال چھو کر بولی۔

اگر بخار وغیرہ ہے تو مجھے بتادو میں میڈیسن دے دیتی ہوں۔آروش کو بھی وہ ٹھیک نہیں لگی تو کہا۔

ہاں پلیز اگر میڈیسن ہے تو مجھے دے دو ایک ہفتے سے کمزوری محسوس ہورہی ہے۔ماہی نے اُس کی بات پہ فورن سے کہا

ایک ہفتے سے بیمار ہو پہلے بتادیتی خیر میں حریم کو کمرے میں چھوڑ آؤں اُس کے بعد تمہارے پاس آتی ہوں۔آروش حریم کا ہاتھ تھام کر اُس سے بولی تو ماہی نے سراثبات میں ہلایا۔

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

تم یہاں لیٹو کوئی فضول بات نہیں سوچنی بس آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرو تھوڑی دیر تک میں بھی آتی ہوں۔کمرے میں آکر آروش حریم کے اُپر چادر ٹھیک کرتی اُس کو ہدایت دینے لگی۔

آپ کا شکریہ میرا بہت خیال رکھا ہے آپ نے۔حریم مشکور نظروں سے آروش کو دیکھ کر بولی۔

تمہاری جگہ اگر میری اپنی چھوٹی بہن ہوتی تو شاید میں تب بھی یہی کرتی میں اگر تم سے کبھی روڈ ہوجایا کرتی تھی تو اِس کا یہ مطلب نہیں مجھے تم عزیز نہیں تھی میں تمہارا خیال رکھ رہی ہوں اُس کے لیے تمہیں شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔آروش اُس کا ماتھا چوم کر نرمی سے بولی تو حریم نے گہری سانس لی۔

لائیٹ آن رہنے دے۔حریم نے آروش کو لائیٹ بند کرتا دیکھا تو بولی۔

اچھا ٹھیک ہے۔آروش اُس کو جواب دیتی خود کمرے سے باہر چلی گئ۔

آروش کے جانے کے بعد حریم سونے والی تھی جب اُس کی نظر دوسری سائیڈ پہ تکیے کے نیچے کسی شے پہ پڑی جو تھوڑا نظر آرہا تھا حریم نے ہاتھ بڑھاکر تکیہ دور کیا تھا ایک گلابی رنگ کی ڈائری تھی جس کو دیکھ کر حریم متجسس ہوئی اُس نے ایک نظر دروازے پہ ڈالی جہاں سے آروش گئ تھی پھر ڈائری لیتی ایسے ہی ورق اُلٹ پلٹ کرنے لگی تو اُس کی نظر ایک ورق پہ موجود شعر پہ تھم سی گئ۔

دیــدار جـو ہــوا۔۔۔۔۔ایـک تـیـری۔۔۔۔۔۔۔نـگاہ۔۔۔ســے۔۔

قــدموں نـے آگـے۔۔۔۔چـلنـے سـے ۔۔۔۔۔۔۔انـکار کـر دیـا۔۔

آپی کو شاعری پسند ہے کیا؟کیا میں اُن کی ڈائری پڑھوں مجھے پڑھنا چاہیے اُن کی اِجازت کے بغیر؟حریم ڈائری کو دیکھتی سوچنے لگی اُس کا بہت دل چاہ رہا تھا ڈائری کھول کر پڑھنے کا۔

ابھی رکھتی ہوں پھر کبھی پڑھوں گی۔حریم ڈائری کو اپنے تکیے کے پیچھے رکھتی ہوئی بولی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سوچا نہیں تھا کے میں کبھی یہ کہوں گا کے آروش میری بیٹی نہیں۔شھباز شاہ غیرمعی نقطے پہ نظر جمائے بولے۔

میرا دل بہت اُداس ہے شاہ سائیں وہ تو ہماری بچی تھی چاہے میں نے اُس کو جنم نہیں دیا تھا مگر وہ تھی تو چند گھنٹوں کی جب آپ اُس کو میرے پاس لائے تھے۔کلثوم بیگم اُس کے پاس بیٹھ کر بولی۔

مجھے آروش کی فکر ہورہی ہے۔شھباز شاہ نے کہا

ٹوٹ جائے گی وہ گُزرے واقع نے اُس پہ گہرا اثر چھوڑا تھا جس وجہ سے اُس کے لہجے میں کڑواہٹ گُھل گئ تھی حویلی میں دندناتی سب کی ناک میں دم کرنے والی آروش ایک خاموش مزاج لڑکی بن گئ تھی جہاں پہلے حویلی میں اُس کے قہقہقہ گونجتے تھے وہاں ہم اُس کی مسکراہٹ کو ترس گئے تھے مگر جو اب ہونے والا ہے وہ تو ہماری بچی سے سانسیں چھین لے گا پہلے محبت کا رشتہ نہیں تھا تو احساس حال ہوگیا میری بچی کا مگر اب تو اُس کو اپنے باپ سے اپنے بھائیوں سے اپنی ذات سے اپنے نام سے عشق ہے تو وہ کیسے اِن سب کے الگ رہ پائے گی چوبیس سال بہت بڑا عرصہ ہے شاہ سائیں آروش سے ساری حقیقت چُھپادے اپنے دوست سے کہے جیسے چوبیس سال گُزارے ویسے باقی کے سال بھی گُزار لے۔کلثوم بیگم کے لہجے میں ماں کی تڑپ تھی۔

بہت بار سوچا میں نے اِس بارے میں پر یہی فیصلہ ہوا آروش امانت کے طور پہ ملی تھی جس پہ میں نے دیانتداری کی مگر اب خیانت نہیں کرسکتا مزید اُس سے اُس کی اصل پہچان نہیں چُھپا سکتا۔شھباز شاہ کرب سے بولے۔

کاش ہم نے اُس کا کسی سے دودہ کا رشتہ نہ بنایا ہوتا تو وہ ہمیشہ یہاں رہ لیتی۔کلثوم بیگم کے لہجے میں حسرت تھی۔

یہ سوچو کے ہم اپنی بیٹی کی شادی کروا رہے ہیں اور اب اُس کی رخصتی کا وقت آ پہنچا ہے ہمیں چاہیے کے خوشی خوشی اُس کو رخصت کرے۔شھباز شاہ نے کہا

ہم اپنے دل کو کوئی بھی دلاسہ دے کر سنبھال لے گے مگر آروش کیا وہ اُس کے لیے کوئی دلاسہ کام آئے گا کاش آپ اُس سے اتنی محبت نہ کرتے اُس کو اپنے لاڈ پیار کا عادی نہ بناتے اُس کی غلطیوں پہ اُس کو پیار دینے کے بجائے اُس کو سخت ڈانٹ دیتے تو شاید کجھ ٹھیک ہوتا۔کلثوم بیگم کے لہجے میں افسوس بول رہا تھا مگر اُن کی باتوں کا جواب شھباز شاہ کے پاس نہیں تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

پریشان ہو میں جانتا ہوں سچ کہوں تو مجھے بھی بڑا افسوس ہوا جان کر۔دیدار شاہ نے حویلی کی پچھلی سائیڈ پہ شازل کو خاموش کھڑا پایا تو اُس کے پاس آتا کہنے لگا۔

آپ کو افسوس ہوا ہوگا لیکن جو میں محسوس کہہ رہا ہوں اُس کو میں الفاظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔شازل کی بات پہ وہ لاجواب ہوا۔

ہممم ٹھیک کہہ رہے ہوگے اب تو جانے کیوں ایک کے بعد پریشانیاں حویلی کا رخ احاطہ کیے ہوئے ہیں بہت بُری نظر لگی ہے حویلی کو تبھی تو خوشیاں رخ موڑ گئ ہیں۔دیدار گہری سانس بھر کر بولا

میں آروش سے مل آؤں۔شازل اُس کی بات سنتا اندر کی طرف جانے لگا۔

٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠

آروش میڈیسن لیتی ماہی کے پاس جانے والی تھی جب اُس کو لگا پاس کھڑی دو ملازمین اُس کو دیکھ کر آپس میں بات کررہی ہیں پہلے اُس کو اپنا وہم لگا مگر جب اُس نے واقع اپنا نام سُنا تو اُن کے روبرو کھڑی ہوتی بازوں فولڈ کیے اُن کو دیکھنے لگی جو اُس کو دیکھ کر گھبراگئ تھی۔

خاموش کیوں ہوگئ ہو مجھے بتاؤ تاکہ مجھے بھی پتا چلے میرے بارے میں کیا باتیں کررہی ہو۔آروش نے ناگوار نظروں سے دونوں کو دیکھ کر کہا

ایسی بات نہیں آپ کے بارے میں بات نہیں کررہے ہم۔ایک نے ہمت کرکے کہا

مجھے جھوٹا ثابت کرنے کی ضرورت نہیں جو پوچھا ہے اُس کا جواب دو۔آروش نے سخت لہجہ اختیار کیا حویلی میں داخل ہوتے شازل نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا

جی وہ میرے شوہر نے بتایا وہ جرگہ میں تھے اُس نے سُنا کے شاہ سائیں نے کہا اُن کی کوئی بیٹی نہیں اگر کسی کو یقین نہیں تو ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہوسکتا ہے۔دوسری ملازمہ نے ڈر کر بتایا۔

کیا بکواس ہے یہ ہوش میں ہو تم جانتی بھی ہو کیا بات کررہی ہو۔آروش اُس کی ساری بات سن کر چیخی۔شازل فورن سے اُس کے پاس آیا

آرو۔شازل نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

لالہ اچھا ہوا آپ آگئے اِنہیں دیکھے کیا بکواس کررہی ہیں اگر بابا سائیں کو پتا چل گیا یہ اُن کے بارے میں اور میرے بارے میں کیا بول رہی ہیں وہ اِن دونوں کو چھوڑے گے نہیں۔آروش شازل کی طرف رُخ کرتی ایک سانس میں اُس کو بتانے لگی۔

تم دونوں جاؤ یہاں سے دوبارہ مجھے نظر نہ آؤ۔شازل نے اُن دونوں کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ کر کہا تو وہ فورن سے رفو چکر ہوئی۔

آپ تھے نہ وہاں بتائے مجھے کیا فیصلہ ہوا وہاں بابا سائیں نے کیا باتیں کی۔آروش شازل کا چہرہ اپنی جانب کیے بے چینی سے کہا

آرو۔شازل اُس کا ہاتھ تھام کر بے بسی سے اُس کو دیکھتا رہا اُس میں ہمت نہیں تھی آروش کو کجھ بھی بتانے کی۔

کیا آرو لالہ بتائے مجھے جو میں پوچھ رہی ہوں یا میں جاؤں بابا سائیں کے پاس۔آروش اپنا ہاتھ چھڑواکر بولی۔

اِدھر آؤ۔شازل نے اُس کو اپنے ساتھ لگایا

لالہ مجھے سچ بتائے میں جانتی ہوں مگر پھر بھی آپ بتائے مجھے پتا ہے میرے بابا سائیں کبھی ایسا نہیں بول سکتے وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں انہیں پتا ہے اگر وہ ایسا مذاق میں بھی بولے گے تو میں اُن سے ناراض ہوجاؤں گی۔آروش شازل سے دور ہوتی اپنا سر نفی میں ہلانے لگی شازل اُس کو دیکھ کر اپنے لب سختی سے بھینچ گیا۔

میری بات سُنو پہلے۔شازل نے کہا

مجھے نہیں سُننا مجھے بابا سائیں کے پاس جانا ہے آپ میرے پیچھے مت آئیے گا۔آروش شازل کو دیکھتی اپنے قدم پیچھے لینے لگی ہمیشہ سر پہ رہنے والا اُس کا ڈوپٹہ کندھوں تک لڑھک آیا تھا جب کی کندھوں پہ پڑی شال کب کا نیچے گِرپڑی تھی مگر اِس وقت آروش کو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا وہ تیز قدم سے سیڑھیاں چلتی شھباز شاہ کے کمرے میں جانے لگی آج اُس کو یہ سیڑھیاں طویل سے طویل ہوتی محسوس ہو رہی تھی اُس کا پورا وجود کانپ رہا تھا اُس کے کانوں میں بار بار ملازمہ کی بات گونج رہی تھی جو اُس کو عجیب گھبراہٹ کا شکار کررہی تھی سیڑھیاں ختم ہوئی تو اُس کی جان میں جیسے جان آئی وہ بھاگ کر شھباز شاہ کے کمرے کے پاس آئی مگر دروازے کے پاس اُس کے قدم انکاری ہوئے اُس نے گہرے سانس لیکر خود کو پرسکون کرنا چاہا مگر کر نہ پائی اُس نے دھڑام سے دروازہ کھولا تو سامنے بیڈ پہ شھباز شاہ اور کلثوم کو ایک ساتھ بیٹھ پایا جو اُس کے ایسے آنے پہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے کلثوم بیگم اُس کے حُلیے پہ حیران ہوئی تھی جب کی شھباز شاہ بہت کجھ سمجھ گئے تھے۔

یہ آپ نے سب گاؤں والوں کے سامنے کیا کہا کے میں آپ کی بیٹی نہیں؟آروش شھباز شاہ کے کمرے میں آتی بے یقین نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولی

آرو یہ کیا طریقہ ہے کمرے میں آنے کا اور اپنے باپ سے بات کرنے کا؟کلثوم بیگم نے ناگواری سے کہا

یہی تو میں آپ دونوں سے پوچھنے آئی ہوں کے یہ کیا طریقہ ہے اپنی بیٹی کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایسا کیوں کہا کے اِن کی کوئی بے بیٹی نہیں ڈی این اے ٹیسٹ تک راضی ہوگئے۔آروش اُن کی بات پہ چیخی۔

آرو میری جان

نہیں ہوں میں آپ کی جان نہ آپ کے دل کا ٹکڑا آپ جھوٹ بولتے ہیں مجھ سے کے آپ مجھ سے بیٹوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں جھوٹ بولتی ہیں اماں سائیں جنہوں نے کہا تھا آپ میری پیدائش پہ بہت خوش ہوئے تھے آپ کے پیر زمین پہ نہیں ٹِک رہے تھے مجھے دھوکے میں رکھا تھا آپ لوگوں نے۔آروش کے گلے میں آنسوؤ کا گولہ اٹک گیا۔

ایسی بات نہیں ہے چندہ۔کلثوم بیگم کو اُس کو ایسے دیکھ کر تکلیف ہوئی۔

تو کیسی بات ہے بتائے مجھے آپ مجھے ونی کردیتے خدا کی قسم بابا سائیں نہ مجھے کوئی تکلیف ہوتی اور نہ میں کبھی افففف کرتی میں اپنے لالہ کے لیے ہنسی خوشی یہ قربانی دے ڈالتی مگر جو آپ نے یہ کہا آروش ہماری بیٹی نہیں اِس جُملے نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔آروش شھباز شاہ کے روبرو آتی نم نظروں سے دیکھتی نم لہجے میں بولی تو شھباز شاہ کو لگا جیسے کسی نے اُن کا دل چیر کے رکھ دیا ہو

یہ سچ ہے آروش تم ہماری بیٹی نہیں۔شھباز شاہ نے ہمت کرکے کہا مگر وہ آروش کی آنکھوں میں نہ دیکھ پائے اپنا رخ بدل گئے جب کی اُن کے ایک جُملے پہ آروش کو اپنا وجود سناٹوں کی زد میں آتا محسوس ہوا اُس نے بڑی مشکل سے اپنا گلا تر کیا۔

مجھے ایسے مذاق نہیں پسند۔آروش کو اپنی آواز کھائی سی آتی محسوس ہوئی جب کی کلثوم بیگم کا کلیجہ منہ کو آیا۔

یہ کڑوا سچ ہے تم میری بیٹی نہیں مگر مجھے خود کی بیٹی سے زیادہ عزیز ہو میری جان میرے دل کا ٹکڑا ہو اُس میں کوئی جھول نہیں میں نے ہمیشہ تمہیں اپنی بیٹی مانا ہے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا مجھے سچ میں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز اور پیاری ہو۔شھباز شاہ نے اپنی آنکھوں کو زور سے میچ کر کہا اُن کے لیے بہت تکلیف دہ عمل تھا آروش کو ساری سچائی سے روشناس کروانے کا۔

اچھا پھر بتائے کس کچڑے کے ڈبے سے ملی تھی میں آپ کو۔آروش اپنے آنسو بے دردی سے صاف کرتی اُن سے جواب طلب ہوئی تو شھباز شاہ تڑپ کر اُس کی جانب مڑے۔

آروش ایسے نہیں کہو مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔شھباز شاہ اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر بولے

تکلیف؟آروش نے اُن کا الفاظ دُھرایا

اِس وقت آپ میری تکلیف کا اندازہ لگاسکتے ہیں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کے جب ایک باپ اپنی بیٹی سے یہ کہتا ہےکے تم میری بیٹی نہیں تو اُس بیٹی پہ کیا گُزرتی ہیں۔آروش بے تاثر نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولی

مجھے اندازہ ہے میرے بچے۔شھباز شاہ نے بے بسی سے کہا

اگر ہوتا تو یہ سب مجھ سے نہ کہتے۔آروش اُن کی بات سے انکاری ہوئی

میں بے بس ہوں آروش تمہارا باپ دلاور خان اگر میرے پاس نہ آتا تو میں کبھی یہ راز فاش نہ کرتا وہ تمہیں واپس اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہے تم بتاؤ میں کیا کروں اُس کی دی ہوئی امانت اپنے پاس رکھ لوں اپنے دوست سے دغابازی کرو تاکہ دوستی کے اُپر سے لوگوں کا اعتبار اُٹھ جائے میں لاکھ بُرا صحیح آروش پر اپنے جُڑے رشتوں کے ساتھ مخلص ہوں۔شھباز شاہ اُس کو اپنے حصار میں لیکر آہستہ آواز میں بولے

آپ بے بس نہیں میرے مجرم ہیں میں آپ کو معاف نہیں کروں گی اور مجھے کسی دلاور خان کے پاس نہیں جانا میرے باپ آپ ہیں شھباز شاہ میں آروش شھباز شاہ ہوں آپ میرے نام سے اپنا نام الگ نہیں کرسکتے اتنی بڑی زیادتی کرنے کا حق میں آپ کو نہیں دوں گی آپ تو مجھ سے پیار کرتے ہیں پھر کیسے مجھے کسی اور کے پاس بھیج سکتے ہیں آپ کو تو ایک منٹ کے لیے بھی میرا وجود حویلی سے باہر برداشت نہیں ہوتا تو پھر کیسے ہمیشہ کے لیے کسی اور در پہ چھوڑ سکتے ہیں بتائے مجھے کیا ہے جواب؟آپ کے پاس میرے سوالوں کا۔آروش نے اُن کو جھنجھوڑا۔

وہ کوئی اور نہیں تمہارا باپ ہے۔شھباز شاہ نے اُس کو سمجھایا۔

وہ باپ جس کو میں نے کبھی دیکھا نہیں وہ باپ جس کی آواز تک میں نے نہیں سُنی یا وہ باپ اگر میرے سامنے بھی آگیا تو میں پہچان نہ پاؤں وہ باپ جس کا لمس میں نے اپنی زندگی کے چوبیس سالوں سے محسوس نہیں کیا وہ باپ جس کے وجود سے میں سِرے سے ناواقف تھی یا وہ باپ جس کا نام بھی آج جانی ہوں وہ بھی چوبیس سال بعد۔آروش بولنے پہ آئی تو بولتی چلی گئ شھباز شاہ کا چہرہ شرم سے جھک گیا تھا جب کی کلثوم بیگم بس آروش کو دیکھ رہی تھی۔

میں ہوں کیا آپ بتادے کیا ہوں میں؟کٹھ پتلی گڑیا مطلب حد نہیں چوبیس سالوں سے میں اپنی زندگی ایک گمان کے تحت گُزار رہی تھی میری ساری سچائی جھوٹی تھی میں خود کو ایک سیدزادی سمجھ رہی تھی وہ زندگی جیتی آرہی تھی اپنے سید گھرانے پہ مجھے فخر تھا جہاں لڑکیاں بقول اُن کے ماڈل زمانے کی تھی جینز پینٹ پہنا کرتی تھی اور ایک میں تھی جو اِس جدید دؤر میں عبایا پہنتی تھی سادہ حُلیہ اختیار کرتی ہے اپنے اللہ کو راضی کرتی ہے نامحرم کے سامنے اپنی نمائش نہیں کرتی تھی اُس کو اپنے باپ دادا پہ فخر تھا جنہوں نے ہمیں بچپن سے ایسا ماحول دیا جو ہمیں کبھی عبایا بوجھ نہیں لگا حجاب اولڈ فیشن نہیں لگا نقاب سے گھٹن نہیں ہوئی بلکہ ایک سکون محسوس ہوتا کے میں محفوظ ہوں بُری نظروں سے مگر آج آپ مجھے بتارہے ہیں میرا تو اِس خاندان سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں میں اِس خاندان کی بیٹی نہیں کسی دلاور خان شخص نامی کی بیٹی ہوں جس کو چوبیس سال بعد یاد آیا ہے کے اُس کی ایک بیٹی ہے جو اُس نے اپنے دوست کو ایک امانت پہ دی تھی چلو اب واپس کرتے ہیں بہت رکھ لیا اپنا بوجھ کسی اور در پہ۔آروش کا لہجہ طنزیہ بے بسی افسوس دُکھ تکلیف سے بھرپور تھا وہ کبھی بولتے بولتے ہنس پڑتی تو کبھی اپنی حالت پہ آنسوؤ کو بے دردی سے صاف کرتی۔

تعلق ہے میرا بچہ خون کا نہیں تو کیا ہوا اپنائیت کا احساس کا رشتہ ہے جو خون سے زیادہ مضبوط ہے اور گہرا۔کلثوم بیگم نے پہلی بات لب کُشائی کی۔

میں کہیں نہیں جاؤں گی آپ لوگ پلیز مجھے جانے مت دینے اگر میں نہیں چاہتی تو بات ختم ہوئی نہ۔آروش شھباز شاہ کے سینے سے لگتی روتے ہوئے بولی۔

وہ باپ ہے ایک بار مل تو لو تمہاری ایک ماں ہے اُس کی تڑپ کا اندازہ لگالو۔شھباز شاہ اُس کے بالوں میں بوسہ دے کر بولے۔

ان کو میرا خیال تب نہیں آیا جب وہ مجھے آپ کے ہاتھ سونپ رہے تھے ایک ماں کو تو اپنی اولاد سے دوری ایک منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں ہوتی وہ کیسی ماں تھی جو چوبیس سال رہ لی اُن کو اپنا وجود خالی محسوس نہیں ہوا تبھی تو مجھے کجھ احساس نہیں ہوا کے میرا ایک حصہ یہاں ہے دوسرا کہی اور۔آروش کی باتوں میں صداقت تھی جس پہ شھباز شاہ نے فلوقت اُس پہ کوئی پریشر نہیں ڈالا نہ کسی بات کا زیادہ دباؤ دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *