Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 43)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 43)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
آپ مانے یا نہیں مانے مگر سچ یہی ہے کے آپ کے دوست کی نیت میں کھوٹ ہے وہ ہمیں اپنی بیٹی واپس کرنا ہی نہیں چاہتے کاش آپ اُس وقت میرے ساتھ مشورہ کرلیتے تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا مگر عجیب بات ہے ہم اپنی بیٹی کے لیے اُن کے محتاج ہے۔دلاور خان اگلے دن واپس آئے اور اُن کے ساتھ آروش کو ناپا کر زوبیہ بیگم نے پوچھا تو دلاور خان نے اُن کو ساری بات سے آگاہ کیا جن کو سن کر زوبیہ بیگم ناگواری سے بولی۔
وہ ایسا نہیں چاہتا وہ اِس وقت پریشان ہے تبھی ایسا بول رہا ہے اور مجھے اُس کا ساتھ دینا ہے وہ ہماری بیٹی ہمیں واپس کرے گا تم پریشان مت ہو مجھے شاہ پہ پورا بھروسہ ہے اگر ایسا کجھ ہوتا تو اُس کے پاس بہت مواقع تھے۔دلاور نے اُن کو تسلی کروائی ۔
مجھے نہیں لگتا وہ کیوں تصویر تک تو آپ کو دیکھا نہیں رہا۔زوبیہ بیگم اُن کی بات سے انکاری ہوئی۔






تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟شازل نے ماہی کی زرد ہوتی رنگت دیکھی تو اُس کا ماتھا چھو کر پوچھنے لگا۔
جی میں ٹھیک ہوں۔ماہی زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولی ورنہ حقیقت تو یہ تھی اُس کو صبح سے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی عجیب بوجھل پن کا احساس ہورہا تھا۔
پکا؟شازل نے کنفرم کرنا چاہا
جی پکا۔ماہی نے جواب کہا
اوکے پھر چلو ناشتہ کرنے۔شازل نے کہا
آپ کرے میرا دل نہیں۔ماہی نے انکار کیا۔
دل کیوں نہیں یہ کیا بات ہوئی ایسا کرو تم یہی بیٹھو آج میں تمہارے لیے بریک فاسٹ بناتا ہوں۔شازل نے خود ہی پلان ترتیب دیا
نہیں شازل پلیز حویلی میں سب کیا سوچے گے۔ماہی کو گھبراہٹ ہونے لگی۔
مجھ کسی کی پرواہ نہیں اِس لیے تم بھی کسی کا مت سوچو یہی بیٹھو میں آتا ہوں۔شازل جلدی سے اُس کو کہتا خود باہر چلاگیا۔
ماہی اُس کے پیچھے جانے والی تھی مگر اُس کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا تو بیڈ پہ بیٹھ گئ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
شازل تم یہاں کیا کررہے ہو؟فردوس بیگم باورچی خانے میں آئی تو شازل کو دیکھا تو حیرت سے بولی
میں بریک فاسٹ بنارہا ہوں۔شازل نے مصروف انداز میں بتانے لگا۔
کیاااا؟فردوس بیگم گِرتے گِرتے بچی۔
جی بریک فاسٹ مطلب ناشتہ۔شازل کو لگا شاید اُن کو مطلب سمجھ نہیں آیا
پتا ہے بیٹا پانچویں تک تو ہم نے بھی اسکول کی شکل دیکھی ہے۔فردوس بیگم نے طنزیہ کہا
اچھا۔شازل جانے کیوں ہنس پڑا
تم یہاں کیا کررہے ہو مرد باورچی خانے میں نہیں آتا۔فردوس بیگم نے سنجیدگی سے کہا
ایسا کس کتاب میں لکھا ہے اور کونسے چیپٹر میں لکھا ہے ذرہ مجھے بھی بتائے تاکہ میں لکھاری کو اکیس توپوں کی سلامی پیش کروں۔شازل کہنیوں کے کف فولڈ کرتا اپیرن پہن کر بولا
شازل تم اپنی حیثیت مت بولوں اور تم ایک ہاتھ سے کیوں کام کررہے ہو دوسرے ہاتھ کو کیا ہوا ہے تمہارے۔فردوس بیگم زچ ہوئی۔
وہ میرا ایک بازوں سن ہوگیا ہے۔شازل اب اُن کی موجودگی ڈسٹرب کرنے لگی۔
سُن کیوں؟فردوس بیگم نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا
یہ کجھ پرسنل سوال ہے میں نہیں بتاتا مجھے شرم آتی ہے۔شازل نے ڈرامائی انداز میں کہا
تمہیں پتا ہے حویلی میں اگر کسی کو پتا چلا کے تم یہاں کھڑے ہوکر بیوی کی غلامی کررہے ہو وہ بھی اُس کی جو ونی میں آئی ہوئی ہے تو کتنا خراب سمجھے گے وہ تمہاری کون عزت کرے گا۔فردوس بیگم نے اُس کو گھور کر کہا
عزت وہ دیتا ہے جس کے پاس عزت ہوتی ہے اور یہ میری زندگی ہے میں اپنی بیوی کی غلامی کروں یا اُس سے غلامی کرواؤں کسی اور کو اُس میں سردرد نہیں ہونا چاہیے اینڈ پلیز ایکسکیوز می میری بیوی کو بھوک لگی ہے میں اُس تک ناشتہ پہنچادوں۔شازل اپیرن اُتار کر ٹرے ہاتھ میں لیتا فردوس بیگم کے تن بدن میں آگ لگاتا اُن کی سائیڈ سے گُزر گیا۔
جانے اُس ڈائن نے کیا جادوں ٹوٹکا کردیا ہے۔فردوس بیگم نخوت سے سوچنے لگی۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یہ لے میڈم آپ کا گرما گرم انڈا پراٹھا۔شازل کمرے میں آتا ماہی سے بولا
آپ نے تکلف کیوں کیا شازل جانے وہ اب میرے بارے میں سوچ رہے ہوگے۔ماہی شرمندگی سے بولی
میں نے اُن کو بتادیا اب آپ لوگوں نے میری اتنی کھڑوس لڑکی سے شادی کروائی تو مجھے بھگتنا تو پڑے گا نہ۔شازل چہرے پہ مظلومیت طاری کیا بولا
ہاں شازل میں آپ کو کھڑوس لگتی ہوں اور آپ مجھے بھگتے ہیں۔ماہی کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔
ہاں اور نہیں تو کیا تم خود کوئی مجھے ایک بیوی والی خوبی بتاؤ جو تمہارے اندر ہو اور میرے سامنے کی ہو۔شازل شیطانی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے بولا تو ماہی سوچ میں پڑگئ۔
ایسی باتیں نہ کرے میں صبح سویرے آپ کے لیے ناشتہ تیار کرتی ہوں اگر آپ کو کہی جانا ہو تو کپڑے پریس کرتی ہوں آپ کے لیے لنچ تیار کرتی ہوں رات دیر تک ڈنر کے لیے آپ کا انتظار کرتی ہوں جب تک آپ ڈنر نہیں کرتے میں بھی نہیں کرتی اور یہ سب ایک بیوی کرسکتی ہے جو میں کرتی ہوں پھر بھی آپ ایسا بول رہے کے مجھ میں بیویوں والی خوبی نہیں۔ماہی بنا سانس لیے بولی تو شازل کا دل کیا قہقہقہ لگائے مگر اپنی مسکرائٹ اُس نے ضبط کی۔
بیویوں کے اور بھی بہت فرائض ہوتے ہیں جن سے تم سِرے سے انجان ہو یا انجان ظاہر کرتی ہو۔شازل شانِ بے نیازی سے بولا
نہیں شازل مجھے نہیں پتا آپ بتائے میں انہیں بھی پورا کروں گی۔ماہی روہانسی ہوگئ۔
تم نے کیا کبھی ڈرامے فلمیں وغیرہ نہیں دیکھی کیا؟شازل نے اُس کو دیکھ کر کہا
دیکھے ہیں نہ ڈرامے بن روئے من مائل وہ ایک پل عشقیہ خانی دل کیا کرے گُلِ رانا اے مشت خاک حبس اور بھی بہت مگر یہ سب آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔ماہی اُس کو سارے ڈراموں کے نام بتاتی آخر میں پوچھ بیٹھی شازل بس ہونک بنا اُس کو دیکھنے لگا۔
یہ اتنے سب دیکھے ہیں مگر اِن سے سیکھا کیا ہے۔شازل نے اب کی اُس کو گھورا
آپ ڈراموں کی چھوڑے یہ بتائے بیوی کے اور کونسے فرائض ہوتے ہیں جو میں پورے نہیں کرتی۔ماہی نے بے چینی سے پوچھا
بیویاں اپنی شوہروں کو ساتھ اچھی اچھی باتیں کرتی ہیں اُن کے لیے خود کو سنوارتی ہیں اور بھی بہت کجھ کرتی ہیں مگر ایک تم ہو جو مجھ سے فرمائشیں تک نہیں کرتی۔شازل نے انگلیوں کے اِشارے سے بتانے لگا۔
فرمائشیں کیسی؟شازل کی باتیں ماہی کے سر پہ سے گُزری۔
ماہی یار میں تمہیں کیا کہوں بے وقوف یا معصوم۔شازل نے ہر بار کہا جُملا پھر سے دوہراہا
پلیز بتائے نہ۔ماہی نے پوچھا
یہی کے شیمپو لادو تیل لادو۔شازل جلے کٹے انداز میں بولا وہ سخت بیزار ہوا تھا ماہی کی اِس قدر بے نیازی پہ
شیمپو وغیرہ تو ہر وقت موجود ہوتا ہے باقی تیل میں یوز نہیں کرتی۔ماہی بہت دیر تک سوچنے کے بعد بولی تو شازل اُس کے جواب پہ عش عش کراُٹھا اُس کو حیرانی ہورہی تھی ماہی اب تک اُس کی باتوں کا مطلب نہیں سمجھی تھی۔
چھوڑو اِن سب کو ناشتہ کرو ٹھنڈا ہورہا ہے۔شازل سرجھٹک کر بولا
پتا ہے شازل مجھے ایسا لگ رہا ہے اگر میں یہ کھاؤں گی تو مجھے قے آئے گی۔ماہی چہرے کے عجیب تاثرات سجاتی شازل سے بولی
اتنا بُرا بھی ناشتہ نہیں بناتا جو تمہیں قے ہی آجائے گی۔شازل اُس کی بات پہ جلدی سے بولا
نہیں وہ بات نہیں ہے۔ماہی نے وضاحت کرنا چاہی۔
چپ چاپ ناشتہ کرو۔شازل خود ہی نوالہ بناتا اُس کے منہ کے پاس کرنے لگا تو ماہی نے ہار مانی۔









کجھ کھا کیوں نہیں رہی حریم پلیز میرے لیے کجھ کھالوں۔آروش پریشانی سے حریم کو دیکھ کر بولی جو آج اُس کی جانب دیکھ تک نہیں رہی تھی۔
ہمیں بھوک نہیں۔بہت دیر بعد حریم نے اپنوں ہونٹوں کو جنبش دی۔
کھانے سے منہ نہیں موڑتے اللہ ناراض ہوتا ہے اِس لیے کجھ کھالوں۔آروش نے اُس کو سمجھانا چاہا۔
اللہ میاں ہم سے ویسے بھی خوش نہیں ناراض ہیں اگر تھوڑا اور ہوجائے گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔حریم تلخ لہجے میں بولی۔
بُری بات ہے حریم ایسے نہیں بولتے۔آروش نے اُس کو ٹوکا
پتا ہے آروش آپی ہم تین چار دنوں سے یہاں ہیں اور سوچ رہے ہیں ہم نے اپنی زندگی میں کب اور کس کے ساتھ اتنا بُرا کیا ہے جو اللہ نے ہمیں سزا دی ہے؟مگر پتا ہے حیرانکن بات کیا ہے کوئی ایک واقع بھی ہمارے ذہن میں نہیں آیا شاید ہم اپنے گُناہوں سے اتنا غافل ہیں کے کجھ یاد نہیں۔حریم کی پلکیں بھیگ چُکی تھی۔اُس کو ایسے حال میں دیکھنا آروش کے لیے تکلیف دہ ثابت ہورہا تھا۔
بعض دفع ہمارے ساتھ بُرا اِس لیے نہیں ہوتا کے ہم بُرے ہوتے ہیں کبھی کبھی اِس لیے بُرا ہوتا ہے کے ہمارا رب ہمیں آزماتا ہے ضروری نہیں کے ہر دفع آپ غلط ہو تمہیں شاید پتا نہیں اللہ بس اپنے پیاروں کو آزماتا ہے تاکہ وہ اپنے رب سے غافل نہ ہو۔آروش اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتی نرم لہجے میں بولی۔
محبت خدا سے ہو یا اُس کے بندے سے محبت بس رُلاتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے آپی۔حریم اتنا کہتی زارو زار رونے لگی۔
ایسا نہیں ہے حریم خدا کی مجبت سنوارتی ہے رُلاتی نہیں رُلاتی تو بس نامحرم کی محبت ہے۔آروش اُس کو اپنے ساتھ لگاتی کھوئے ہوئے انداز میں بولی۔
ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے آپی ہم نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔حریم نے روتے ہوئے کہا
اللہ تمہیں صبر دے گا حریم جس نے تمہارے ساتھ بُرا کیا ہے نہ اللہ کبھی اُن کے ساتھ اچھا نہیں کرے گا۔آروش اُس کے بال سہلاتی بولی۔
ہمارا دم گھٹتا ہے سانس رُک رُک کر آتی ہے۔حریم نے بتایا
اللہ کا نام لیا کرو جو کجھ ہوا اُس کو بھولنے کی کوشش کرو دیکھنا اب تمہارے ساتھ کجھ بُرا نہیں ہوگا۔آروش نے اُس کو دلاسہ دیا۔
اور کیا بُرا ہوگا آپی اتنا کجھ تو ہوگیا ہے۔حریم نے کہا تو آروش کے سختی سے اپنے ہونٹ بھینچ لیے اگر اُس کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی حریم کو اتنی تکلیف میں رہنے نہیں دیتی مگر وہ خود بے بس تھی۔
تمہیں آگے بڑھنا ہے حریم فضول لوگوں کے لیے خود کی زندگی خراب مت کرو تمہارے سامنے ابھی بہت کجھ ہے ابھی بھی کجھ نہیں بگڑا تمہیں ٹھیک ہونا ہے حریم یہ رونا دھونا تم پہ سوٹ نہیں کرتا تم بہادر ہو اللہ نے عورت کو بہادر بنایا ہے اگر وہ ہمیں آزماتا ہے تو اُس کا اجر بھی دیتا ہے خود کو یوں کمزور مت کرو اگر اپنا نہیں تو ہمارا سوچو تمہیں اِس حال میں دیکھ کر ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے اِس لیے اپنے لیے نہیں تو ہمارے لیے دوبارہ مسکرانا سیکھو زندگی میں کئ مشکلات آتی ہے اُس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کے انسان جینا چھوڑدے یہ جو مشکلات ہماری زندگی میں اِس لیے نہیں آتی کے ہمیں کمزور کرے بلکہ اِن مشکلات کا سامنا کرنے سے ہم بہادر بن جاتے ہیں ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے۔آروش اُس کو رخ اپنی جانب کرتی اُس کا ماتھا چوم کر بولی۔
ہم بہادر نہیں ہے۔حریم نے کسی مجرم کی طرح بتایا
کس نے کہا تم بہادر نہیں تم بہادر ہو اور اگر تم مجھ سے یا حویلی میں کسی سے بھی پیار کرتی ہوں ہمیں اپنا کجھ سمجھتی ہو تو موو آن کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہوں گی اب وہ ہوگا جو تم چاہتی ہو تم میری بات سمجھ رہی ہو نہ؟آروش نے بات کرنے کے درمیان اُس سے پوچھا
جی آپی۔حریم اتنا کہتی اُس کے گلے لگی۔
تم بہت معصوم ہو حریم بہت تمہیں سنبھالنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں میں جانتی ہوں تم پیار کی بھوکی ہوں اور پیار توجہ یہ سب تمہاری کمزوری ہیں تم نے اپنے ماں باپ کو بچپن میں ہی کھویا ہے اُن کی محبت کی ترسی ہوئی ہو یہ وہ خُلا ہے تمہاری زندگی کا جس کو کوئی پُر نہیں کرسکتا درید لالہ بھی نہیں وہ چاہے تم سے کتنی محبت کے دعوے دار تھے مگر انہوں نے کبھی تمہارے ماں باپ کی جگہ نہ لی کیونکہ ماں باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا پر ہاں اگر اماں سائیں یا چاچی جان والے تمہیں اپنی بیٹی سمجھتے تو شاید آج حالات کجھ مختلف ہوتے اب حریم حریم سب کررہے مگر جب حریم اُن کے سامنے ٹھیک صحیح سلامت تھی تو سب کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی۔حریم کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی آروش بس یہ سب سوچ سکی آج حریم کی حالت دیکھ کر اُس کو اتنا تو اندازہ ہوگیا تھا اگر اُس کے ساتھ ہرکوئی نرمی سے پیش آئے گا اُس کو اعتماد کی ڈوری پکڑائے گا تو وہ جلدی اپنے کل سے نکل کر آنے والے کل کے بارے میں اچھا سوچے گی۔







آج جرگہ تھا اور سب اُس جگہ پہ پہنچ چُکے تھے تابش کے گھر سے اُس کا چھوٹا بھائی عاقب اور اُس کا باپ عاکف آیا تھا جب کی حویلی سے شھباز شاہ ارباز شاہ دیدار شاہ دُرید شاہ اور شازل شاہ یہ سب اور گاؤں کے معزز لوگ بھی آئے تھے جن میں حشمت اللہ اور حق اللہ کا بھی شمار ہوتا تھا۔
لالہ یہ سب مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہیں جیسے میں اِن کا قرضا لیکر بھاگ گیا ہوں۔شازل نے سب لوگوں کی نظریں خود پہ جمی دیکھی تو خاموش بیٹھے دُرید سے پوچھا
اپنی ڈرسنگ دیکھو جواب مل جائے گا۔جواب دُرید کے بجائے دیدار شاہ نے دیا تھا جو اُس کے برابر بیٹھا تھا اور خود شازل اُن دونوں کے درمیان بیٹھا تھا
شازل نے ایک نظر اپنی ڈریس پہ ڈالی وہ اِس وقت بلیک ٹی شرٹ کے ساتھ گھٹنوں سے پھٹی جینز پینٹ میں ملبوس تھا گلے میں بڑی سا لاکیٹ پہنا ہوا تھا جس پہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ہاتھ حرکت کررہے تھے۔
شازل نے خود کو غور سے دیکھا پھر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا جو جیل سے سیٹ ہوئے تھے پھر اپنی ڈارھی پہ ہاتھ پھیرا جو آتے وقت اُس نے شیو کی تھی۔
سب کجھ سیٹ تو ہے۔شازل بڑبڑایا مگر تبھی اُس کی نظر اپنے گھٹنوں پہ پڑی جہاں سے جینز پھٹی ہوئی تھی۔
مطلب یہ میری گوری چِٹی پنڈلیاں دیکھ رہے ہیں شرم آنی چاہیے اِن کو۔شازل اپنے دونوں گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کر بولا تو دُرید اور دیدار نے زبردست قسم کی گھوری سے اُس کو نوازہ تو شازل گڑبڑا گیا۔
گاؤں کے سب لوگوں نے شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے بس ایک تم ہو جس نے اپنا یہ عجیب و حلیہ بقول تمہارے شہری کپڑے پہنے ہوئے ہیں تبھی سب تمہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں زیادہ نہیں تو جتنے وقت یہاں رہتے ہو تو شلوار قمیض پہنا کرو۔دیدار شاہ نے اچھا خاصا اُس کو لتاڑا اُس سے پہلے شازل کجھ کہتا جرگہ شروع ہوا۔
جیسا کے آپ سب کو پتا ہے یہاں ہم سب کیوں آئے ہیں۔شھباز شاہ نے بات کا آغاز کیا
میرے جواب بیٹے کا قتل کیا ہے دُرید شاہ نے ہمیں اپنے بیٹے کے خون کے بدلے دُرید شاہ کا خون چاہیے۔تابش کا باپ عاکف شاہ بولے
کتنی بوتلیں چاہیے خون کی ہمیں بتادے ہم مینیج کرلے گے۔شازل نے بڑی سنجیدگی سے کہا مگر آنکھوں میں تپانے والے تاثرات صاف عیاں تھے۔
یہاں کوئی مذاق نہیں ہورہا شازل ہمیں دُرید کی جان چاہیے۔عاقب ناگواری سے بولا
تمہیں جان کیوں چاہیے عزرائیل ہو کیا؟شازل نے طنزیہ کیا
اپنی حد میں رہو اور ہم بڑوں کو بات کرنے دو۔عاکف شاہ نے اُس کو ٹوکا
بات ختم ہوچکی ہے آپ کے حیوان بیٹے نے جو کیا تھا ہم نے بس اُس کو اُس کا جواب دیا ہے ہم نے اپنا فیصلہ خود کردیا اب کوئی جرگہ نہیں بنتا۔شازل کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔
میرے بیٹے نے جو کیا وہ اُس کا حق تھا۔عاکف شاہ کی بات پہ دُرید نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا
وہ اُس کی بیوی تھی کوئی گائے بکری نہیں جس کے ساتھ آپ لوگون نے جانوروں جیسا سلوک کیا تھا جرگہ تو ہمارا آپ پہ بنتا ہے ہماری معصوم بہن کی زندگی کے ہر رنگ آپ لوگوں نے چھینے ہیں اُس کی معصومیت چھینی ہے۔اِس بات دیدار شاہ کاٹ دار لہجے میں کہا
اچھا ہوگا جو اِس بات کا فیصلہ ہم بڑے کرے۔گاؤں کے معزز آدمی نے مداخلت کی۔
ٹھیک ہے کرے آپ لوگ فیصلہ مگر دیدار کی بات ٹھیک ہے جرگہ بنتا نہیں تابش کے ساتھ جو میں نے کیا وہ اُس کے مستحق تھا اگر دوبارہ گاؤں کے کسی لڑکے نے ایسا کیا تو اُس کا انجام بھی تابش سے مختلف نہیں ہوگا۔دُرید کے لہجے میں سختی تھی۔
ہمیں دُرید کا خون یا اُس کی بہن چاہیے ونی میں۔عاکف شاہ کی بات پہ اچانک ماحول میں سناٹا چھاگیا تھا شھباز شاہ کا ہاتھ بے ساختہ اپنے پستول پہ پڑا تھا
بھرے مجموعے میں سیدزادی کا نام لینا اچھی بات نہیں۔حشمت اللہ جو خاموش تھے وہ سنجیدگی سے بولے
میری بہن کا اگر کسی نے نام بھی لیا تو میں اُس کا وہ حشر کروں گا اُن کی روح تک کانپ اُٹھے گی۔دُرید اچانک شیر کی مانند دھاڑا۔
لالہ رلیکس۔شازل ایک نظر جرگہ میں بیٹھے لوگوں پہ ڈالتا دُرید سے بولا تو اُس نے سرجھٹکا۔
ٹھیک ہے اگر آرو
ہماری بیٹی کا نام یہاں کوئی نہیں لے گا۔گاؤں کا معزز آدمی کجھ کہنے والا تھا جب سرپنج کی جگہ بیٹھے شھباز شاہ نے انہیں خبردار کیا۔
اصول سب پہ وہی ہیں دُرید اگر آپ کا بیٹا ہے تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے اُس کو سزا نہیں ملے گی۔دوسرے آدمی نے ناپسندیدہ نظروں سے دُرید کو دیکھ کر کہا
ہمیں سبز قدموں والی چاہیے بھی نہیں اگر حویلی سے کوئی لڑکی نہیں آسکتی کیونکہ وہ سیدزادیاں ہیں تو ٹھیک ہیں ہمیں غیرسید لڑکی چاہیے ونی میں۔تابش کا چھوٹا بھائی بولا تو سب نے ناسمجھی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
لگتا ہے یہ حویلی کی ملازماؤ کی بات کررہا ہے حویلی میں آتے وقت کسی پہ دل آگیا ہوگا۔شازل بڑبڑایا تو دُرید نے کڑی نظروں سے اُس کو گھورا جس کو ایسی پیچیدہ حالات میں بھی لطیفے سوجھ رہے تھے
ہمیں وہ لڑکی چاہیے جو حویلی میں ونی کے طور پہ گئ تھی حشمت اللہ کی بیٹی۔تابش کے چھوٹے بھائی عاقب نے کہا تو شازل کی آنکھوں میں خون اُتر آیا
میں تمہاری زبان کاٹ دوں گا اگر میری بیوی کا نام بھی لیا تو۔شازل کے چہرے کی رگیں غصے سے تن چُکی تھی۔
ہمیں ونی چاہیے وہ حشمت اللہ کی بیٹ
کمینے انسان میں تمہیں جہنم وصل کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا پھر مانگتے رہنا ونی وہ میری بیوی ہے میری عزت ہے کسی حشمت اللہ کی بیٹی نہیں۔عاقب اُس سے پہلے مزید کجھ کہتا شازل ایک ہی جست میں اُس تک پہنچتا گلا پکڑ کر چہرے پہ مُکے برسانے لگا۔شازل کے ردعمل پہ سب لوگ فورن سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے۔
شازل چھوڑو اُسے۔دُرید اُس کو عاقب سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگا مگر شازل پہ جیسے جنون سوار ہوگیا تھا وہ جو کجھ پہلے دُرید کو پرسکون کرنا چاہ رہا تھا اب خود آپے سے باہر ہوگیا تھا۔شُھباز شاہ سنجیدہ نظروں سے اپنے بیٹے جو ہمیشہ کول ڈاؤن رہتا تھا اُس کو دیکھ رہے تھے اُس کا ردعمل اُنہیں بہت کجھ سمجھا گیا تھا۔
شازل میں نے کہا ہٹو۔دُرید نے زبردستی اُس کو عاقب سے ہٹایا مگر تب بھی شازل نے ایک زوردار لات عاقب کے پیٹ پہ ماری جس سے وہ کراہ اُٹھا۔
تو سیدھا کہو نہ تمہارے دل بہلانے کا کام وہ خوب اچھے سے کررہی ہے تبھی تو تم اُس کو چھوڑنے کا نام نہیں لے رہے۔عاقب اپنی ناک سے بہتا خون صاف کرتا فضول بولنے سے باز نہیں آیا۔
شازل نے اُس کی بات پہ ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچی تبھی اُس کی نظر لڑکے کے ہاتھ میں موجود بندوق پہ پڑی تو اُس سے بندوق چھینننے لگا۔
کلمہ پڑھ لو۔شازل بندوق کا رخ اُس کی جانب کرتا پتھریلے لہجے میں بول کر اُس پہ فائر کھول دیا
ٹھاہ
