Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 31)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

دُرید کمرے میں آیا تو بیڈ پہ بیٹھے وجود کو دیکھ کر اُس کے زخم پھر سے تازہ ہوئے وہ دندناتا اُس کے قریب آتا بازوں سے پکڑ بیڈ سے نیچے اُتارہ جس سے وہ اُس کی اتنی سخت گرفت میں حریم کراہ اُٹھی۔

کیا کہہ رہی ہو یہاں۔دُرید شاہ دھاڑا

وہ ہم۔حریم کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا بولے اُس کے لیے دُرید کا یہ رویہ پہلی بار دیکھنے کو ملا تھا جس سے اُس کی آنکھیں نم ہوگئ تھی ہمیشہ پیار سے بات کرنے والا شخص کیسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

کیا وہ ہاں کیا وہ یہ مگرمچھ کے آنسو میرے سامنے نہیں چلے گے کیا سمجھتا آرہا تھا میں تمہیں اور کیا نکلی تم۔دُرید اُس کا بازوں اپنی سخت آہنی گرفت میں لیتا غصے سے پھنکارا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ حریم کو شوٹ کردیتا۔

ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔حریم اُس کی بات پہ تڑپ کے بولی

شٹ اپ جسٹ شٹ اپ بہت شوق تھا نہ تمہیں مجھ سے شادی رچانے کا تو خوش ہوجاؤ ہوگیا شوق پورا تمہارا پر میری بات ذہین نشین کرلوں میں نہ کل تمہارا تھا اور نہ کبھی ہوگا بیٹھی رہو یہاں میرے نام پہ ہمیشہ۔دُرید اُس کو پیچھے دھکیلتا بولا جس سے وہ بیڈ پہ اوندھے منہ گِری۔

آپ ہمارے ساتھ ایسے نہیں کرسکتے۔حریم نے التجائیہ انداز میں کہا مگر وہ بے حس بن کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

آپ ہمارے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے پلیز ہمیں چھوڑ کر نہ جائے۔

حریم

پلیز مت جائے ہمیں چھوڑ کر

حریم ہوش میں آؤ کیا ہوگیا ہے تمہیں۔کلثوم بیگم حریم کو جھنجھوڑ کر بولی تو وہ ہڑبڑا کر اُٹھی۔

کیا ہوا ہے۔کلثوم بیگم نے پریشانی سے اُس کے چہرے پہ ہاتھ پھیر کر کہا تو حریم نے سہمی نظروں سے آس پاس دیکھا جہاں وہ اپنے کمرے میں تھی دُرید شاہ کے کمرے میں نہیں۔

تو کیا وہ خواب تھا؟حریم اپنے سوکھے ہونٹوں پہ زبان پھیر کر بے ساختہ بڑبڑائی۔

تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔کلثوم بیگم پریشانی سے اُس کا ماتھا چھوکر بولی

آپ اِس وقت یہاں ہمارے کمرے میں کوئی کام تھا۔حریم اُن کی بات نظرانداز کیے بولی

ہاں بس ہم دیکھنے آئے تھے تمہیں رات کا ڈنر بھی نہیں کیا تو مجھے فکر ہو رہی تھی۔کلثوم بیگم نے بتایا

ہمیں بھوک نہیں تھی اِس لیے۔حریم نے جواب دیا

ٹھیک ہے آیة الکرسی پڑھ کر سوجاؤ پھر کوئی بُرا خواب نہیں آئے گا۔کلثوم بیگم نے کہا تو اُس نے بس سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرا ہاتھ چھوڑے۔ماہی نے بنا اُس کی جانب پلٹے آنکھیں میچ کر کہا

اگر میں نہ چھوڑوں تو؟شازل نے مسکراہٹ دباکر کہا

کیوں نہیں چھوڑے گے؟ماہی نے سوال کے بدلے سوال کیا۔

میں نے شیو کروائی ہے وہ دیکھ لو پہلے صبح کہہ رہی تھی نہ بڑھ گئ ہے تو میں نے سوچا کلین شیو ہوجاؤں اب دیکھو اور بتاؤ کیسا لگ رہا ہوں۔شازل کے لہجے میں شرارت صاف عیاں تھی۔

اچھے لگ رہے ہیں اب میرا ہاتھ چھوڑے مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے۔ماہی نے جیسے جان چھڑائی۔

اِدھر دیکھو میری طرف بنا دیکھے کیوں بول رہی ہو۔شازل تھوڑا سائیڈ پہ ہوکر اُس کے لیے جگہ بنائی تو وہ بیڈ پہ بیٹھی۔

اچھے لگ رہے ہیں اب تو میں نے دیکھ بھی لیا۔ماہی نے نظریں اُٹھا کر کہا

آج ناشتے میں کیا لیا تھا۔شازل نے اِس سوال پہ ماہی حیران ہوئی۔

کیوں؟ماہی نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا۔

تم بتاؤ۔شازل نے زور دیا

انڈا پراٹھا کھایا تھا آپ کے سامنے ہی۔ماہی نے جیسے یاد کروانا چاہا

کھایا تو نارمل تھا پھر ہوکیا گیا تھا تمہیں ایسا برتاؤ کیوں کیا؟شازل نے آخر وہ سوال کرلیا جس سے وہ بچنا چاہ رہی تھی۔

تاکہ وہ یہ ناسمجھے کے ہمارے درمیان کجھ نارمل نہیں۔ماہی نے سرجھکاکر بتایا

کیا ہمارے درمیان ابنارمل چیزیں ہیں۔شازل کو جانے کیوں آج بات پہ بات ہنسی آرہی تھی۔

آپ مجھے تنگ کرنے بند کرے ورنہ میں ناراض ہوجاؤں گی۔ماہی چڑ کر بولی تو شازل کا قہقہقہ بے ساختہ تھا ماہی نے غور سے اُس کی مسکراہٹ کو دیکھا تھا۔

آپ مسکراہٹ بہت پیاری ہے۔ماہی تعریف کیے بنا نہ رہ پائی۔

عائشہ بھی یہی بولتی ہے۔شازل نے اِس بار جان بوجھ کر عائشہ کا نام لیا تو ماہی کے تاثرات یوں ہوگئے جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو۔

آپ کی مسکراہٹ مجھے اِس لیے اچھی لگی کیونکہ آپ جب ہنس رہے تھے تو آپ کی آنکھیں بھی مسکرا رہی تھی تو اُن کی چمک بہت خوبصورت ہے۔ماہی نے کسی ٹرانس کیفیت میں کہا تو شازل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔

میں نے تمہیں زیادہ ہنستے نہیں دیکھا مسکراتی رہا کرو مجھے یقین ہے تمہاری مسکراہٹ میری مسکراہٹ سے زیادہ پیاری ہوگی۔شازل اُس کے ماتھے پہ چپت لگاکر بولا تو ماہی کے چہرہ پہ حیا کے رنگ بِکھرے تھے جو شازل سمجھ نہیں پایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دُرید مجھے تم سے بات کرنی ہے۔شھباز شاہ نے دُرید شاہ کو ڈیرے سے باہر جاتا دیکھا تو سنجیدگی سے کہا۔

کونسی بات؟دُرید اپنا اجرک ٹھیک کرتا سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولا۔

میں نے تمہاری شادی حریم سے کرنے کا سوچا ہے۔شھباز شاہ نے جیسے اُن پہ بم گِرایا

میری شادی کے فیصلے کا حق صرف میرے پاس ہے۔دُرید گھمبیر لہجے میں بولا

میں تمہارا باپ ہوں اور تمہاری زندگی کے بارے میں فیصلہ لینے کا پورا اختیار ہے میرے پاس۔شھباز شاہ نے حکمیہ انداز میں کہا

جانتا ہوں کے آپ میرے باپ ہیں یہ بھی یاد ہے جو سالوں پہلے آپ نے میرے ساتھ کیا اُس کے بعد میں اپنے زندگی کے کسی بھی فیصلے کا اختیار نہیں دیتا حریم کی شادی تابش سے ہوگی وہ بھی اِسی جعمہ مبارک کے دن۔دُرید اپنی بات کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔

میں نے حریم کو زبان دی ہے تم مجھے اُس کے سامنے شرمندہ نہیں کرسکتے۔شھباز شاہ نے روعب بھرے انداز میں کہا۔

اگر آپ چاہتے ہیں میں سالوں پہلے کی طرح حویلی چھوڑ کر نہ جاؤں تو مجھے فورس نہیں کرینگے آپ۔دُرید اُن کے روعب میں آئے بنا بولا

میں نے اُس بچی سے واعدہ کیا ہے۔شھباز شاہ نے دو ٹوک کہا

وہ بچی آپ کی نہیں میری زمیداری ہے اُس کی زندگی کا فیصلہ کل بھی میں کرتا تھا اور آگے بھی میں کیا کروں گا اُس کے لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔دُرید اپنی بات سامنے کرتا وہاں سے چلاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج یمان کی سالگرہ اور منگنی کی تیاریاں خان وِلا میں بہت زور سے شور ہورہی تھی پہلے تو الگ الگ کرنے کا سوچا تھا پھر دونوں تقریبات ایک ہی دن میں کرنے کا فیصلہ کیا” یمان ٹیرس پہ کھڑا خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا کیونکہ یہ سارے انتظامات بڑے سے لان میں ہو رہے تھے۔

کیا ہوا اتنے خاموش کیوں ہو؟عیشا نے یمان کو اکیلا کھڑا پایا تو اُس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔

میں منگنی کے حق میں نہیں تھا۔یمان نے جواب دیا۔

راضی تو تھے اِس لیے یہ سب ہورہا ہے ماننا پڑے گا دلاور خان نے سچ میں تمہیں اپنا بیٹا مانتا تبھی تو آج پئسا پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔عیشا نے ستائش لہجے میں کہا

انہوں نے میرے لیے بہت کیا ہے آپی اگر وہ اب مجھ سے کجھ چاہتے ہیں تو میں انکار نہیں کرسکتا۔یمان نے کہا

یمان تم یہاں کیا کررہے ہو مہمانوں کی آمد رفت جارہی ہے جاؤ جاکر جلدی سے تیار ہوجاؤ۔وہ ابھی آپس میں محو گفتگو کررہے تھے جب نور عجلت بھرے انداز میں اُس سے بولی

جی میں بس جارہا تھا۔یمان نے جواب دیا

تم بھی تیار ہوجاؤ۔نور نے یمان کے جانے کے بعد مسکراکر عیشا سے کہا

پہلے بچوں کو کردوں اُس کے بعد۔عیشا نے جوابً مسکراکر کہا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حریم مجھے تم سے بات کرنی ہے۔دُرید حریم کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا اُس سے بولا

ہم سن رہے ہیں۔حریم رخ موڑ کر بولی تو دُرید نے گہری سانس ہوا میں خارج کی۔

تمہیں پتا ہے میں تم سے عمر میں بارہ سال بڑا ہوں تم عمر کے جس حصے میں ہوں یہ سب پچکانہ بات ہے

ہماری محبت کی کی تزلیل نہ کرے۔حریم دُرید کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی

یہ محبت کا بھوت اپنے دماغ سے اُتاردو حریم میں بس یہ کہنا چاہ رہا ہوں جمعہ کو تمہارا نکاح ہے تابش سے اپنا مائینڈ سیٹ کرلینا اگر تم یہ سمجھی ہوں بابا سائیں کی باتوں میں آکر میں تم سے شادی کرنے پہ رضامندی ظاہر کرلوں گا تو ایسا کجھ نہیں ہونے والا۔دُرید نے سنجیدگی سے کہا

آپ ہمیں ج*ان سے م*ار کیوں نہیں دیتے۔حریم نے چیخ کر کہا

حریم۔دُرید نے تنبیہہ کی۔

پلیز ایسا نہیں کرے کیوں زبردستی ہماری شادی کسی اور سے کروا رہے ہیں اگر یہی سب کرنا تھا تو ہمیں آپ نے خود کے قریب کیوں کیا کیوں ہم سے اتنا پیار کیوں ہمارا کہا مانتے تھے۔حریم دُرید کا گریبان پکڑ کر چیخ کر اُس سے جواب طلب ہوئی تو دُرید سپاٹ انداز میں کبھی اُس کا رویا چہرہ دیکھتا تو کبھی اُس کے ہاتھ جو اُس کے گریبان تک پہنچے تھے اگر یہ حرکت کوئی اور کرتا تو یقیناً دُرید نے اُس کے ہاتھ کاٹ دینے تھے مگر سامنے والی شخصیت اُس کو عزیز تھی۔

عقل سے کام لو میرا ساتھ تمہیں محرومیوں کے سوا کجھ نہیں دے سکتا تم ایک بہت اچھی خوبصورت لائیف ڈیزرو کرتی ہوں اور وہ لائیف میں تمہیں نہیں دے سکتا۔دُرید اُس کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا بولا

ہمیں محرومیاں منظور ہے پر آپ سے جُدائی نہیں۔حریم اُس کے سینے پہ سر ٹِکاتی بولی تو دُرید نے فورن سے اُس کو خود سے دور کیے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے پیچھے وہ اپنی قسمت پہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان تم یہاں ہو میں کب سے تمہیں تلاش کررہی تھی۔یمان یامین کے شوز لیس باندھ رہا تھا جب روزی بلیک کلر کی بیک لیس ساڑھی میں ملبوس یمان کے پاس آتی بولی خود یمان سنجیدہ تاثرات سجائے بلیک ڈنر سوٹ میں بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا۔

کوئی کام تھا۔یمان بنا اُس پہ ایک نظر ڈالے بولا

آج ہماری انگیجمنٹ ہے تم کیک کٹ کرلوں گے تبھی تو رِنگ ایکسچینج ہوگی۔روزی اپنا ہاتھ اُس بازوں میں حائل کرتی بولی۔

فجر یہ لڑکی مجھے یمان کے لیے بلکل اچھی نہیں لگ رہی ڈریس دیکھو کتنا واحیات ہے اِس کا اُپر سے میڈیاں والے بھی موجود ہیں تصاویر کھیچنے کے لیے۔عیشا نے ایک نظر روزی اور یمان پہ ڈال کر فجر سے بولی

کوئی تو بات ہوگی جو یمان مان گیا ہے۔فجر نے جوابً کہا۔

مجھے کام ہے فلحال تم پارٹی انجوائے کرو۔یمان فاصلہ قائم کرتا اُس سے بولا۔

سر پکچر پلیز۔یمان روزی کو جواب دیتا یامین کو لیتا جانے والا تھا جب فوٹوگرافر نے کہا تو مجبوراً یمان کو روزی کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا جس سے روزی کا دل باغ باغ ہوگیا۔

سر شو یوئر ڈمپلز پلیز۔فوٹوگرافر نے پکچر کلک کرنے کے درمیان بولا تو یمان کے چہرے پہ کوفت بھرے تاثرات نمایان ہوئے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا تم رو رہی ہو؟نازنین کی آواز پہ آروش نے چونک کر اُس کو دیکھا جو مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

ن نہیں تو میں کیوں روؤں گی۔آروش جو نیوز پہ یمان کی سالگرہ اور انگیجمنٹ کی خبر سُننے میں محو ہوگئ تھی اُس کو پتا ہی نہیں چلا کب اُس کی آنکھ سے آنسو نکل کر گال پہ پھسلا

یہ دیکھو۔نازنین نے اُس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر اپنا اُس کے سامنے کیا تو آروش حیران ہوئی کیا وہ اتنی بے خبر ہوگئ تھی۔

چینل تو کمال کا لگا ہوا ہے پھر تمہارا یوں ایموشنل ہونا سمجھ نہیں آتا دیکھنا اب یہ سنگر اپنی فیانسی کے لیے گانا بھی گائے گا وہ بھی رومانٹک کپل ڈانس کے ساتھ۔نازنین کندھے اچکاکر مزے سے اُس کو بتانے لگی تو آروش نے چبھتی نظروں سے ٹی وی اسکرین کو دیکھا جہاں یمان اور روزی کی تصاویریں منظرِ عام پہ تھی۔

میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں۔آروش ناگواری سے کہہ کر وہاں سے اُٹھ گئ۔

دو گھنٹے سے نیوز چینل کے سامنے بیٹھی ہے اور بول رہی فالتو وقت نہیں۔آروش کے جانے کے بعد نازنین طنزیہ بڑبڑائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ مجھے کیا ہوتا جارہا ہے۔کمرے میں آکر آروش پریشانی کا شکار ہوئی۔

مجھے شیطان کے بہکاوے میں نہیں آنا میں بابا سائیں سے کہہ دوں گی اگر وہ میری شادی کروانا چاہتے ہیں تو کروادے اب مجھے کوئی اعتراض نہیں۔آروش کسی نتیجے پہ آکر پہنچی مگر بار بار عجیب خیالات آئے تو وہ اپنے وارڈروب کی جانب بڑھی وہاں سے اپنی ڈائری نکال کر بیڈ پہ بیٹھ گئ کافی دیر تک بیٹھنے کے بعد اُس کو سمجھ نہیں آیا وہ آخر لکھے تو کیا لکھے یہ ڈائری دو سالوں سے اُس کے پاس تھی جب جب وہ پریشان ہوتی تو اِس میں کجھ نہ کجھ لکھتی رہتی ابھی بھی دماغ میں کجھ کوندہ تو پین پکڑ کر اُس نے لکھا شروع کیا۔

یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟نہیں تو

کسی سے مجھے شکایت ہے؟نہیں تو

کسی کے بن کسی کی یاد کے بن

جینے جانے کی ہمت ہے؟نہیں تو

ہے وہ ایک خواب ہے تعبیر اُس کو

بھلا دینے کی نیت ہے کیا؟نہیں تو

کسی صورت میں دل لگتا نہیں؟ہاں

تو کجھ دن سے یہ حالت ہے؟نہیں تو

تیرے اِس حال پہ سب کو حیرت

تجھے بھی اِس پہ حیرت ہے؟نہیں تو

ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری

تجھے اُس پہ ندامت ہے کیا؟نہیں تو

ہوا جو یہ ہی مقسوم تھا کیا

یہ ہی ساری حکایت ہے؟نہیں تو

اذیت ناک اُمیدوں سے تجھ کو

اماں پانے کی حسرت ہے؟نہیں تو

تو رہتا ہے خیال وخواب میں گم

تو اُس وجہ فرصت ہے؟نہیں تو

سبب جو اِس جدائی کا بنا ہے

وہ مجھ سے خوبصورت ہے کیا؟نہیں تو

جون ایلیا۔

لکھنے کے بعد اُس نے گہری سانس لی اور اپنا سر بیڈ کراؤن سے ٹِکالیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیک کٹ کرنے کے بعد یمان نے سب سے پہلے دلاور خان کے پاس آیا پھر زوبیہ بیگم کے بعد اُس کے بعد فجر اور عیشا کی جانب آگیا۔

میرے خیال سے اب منگنی کی رسم بھی ہوجائے۔زوبیہ بیگم نے کجھ دیر بعد کہا تو روزی کی والدہ نے روزی کو ایک انگھوٹی بڑھائی

یمان ہاتھ آگے کرو۔یمان کو اپنا ہاتھ آگے نہ کرتا دیکھ کر روزی نے کہا تو یمان نے زوبیہ بیگم کو دیکھا جن کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ تھی یہ دیکھ کر یمان نے اپنا ہاتھ آگے کیا تھا روزی نے اُس کو انگھوٹی پہنائی تو سب تالیاں بجانے میں لگ گئے۔

اب تمہاری باری۔ نور نے ایک خوبصورت انگھوٹی یمان کی طرف بڑھائی تو یمان کے دماغ میں بے ساختہ آروش کا خیال آیا۔

میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں۔یمان نے بے بسی سے سوچا

یمان کیا سوچ رہے ہو رِنگ پہناؤ۔نور نے جیسے اُس کو ہوش میں لانا چاہا۔

جی۔یمان کہتا جیسے ہی رِنگ پہنانے والا تھا اُس کی کانوں میں یہ الفاظ پڑے تو اُس کے ہاتھ تھم سے گئے۔

فجر یامین سیڑھیوں سے گِر گیا ہے۔عیشا کی پریشان بھری آواز سن کر یمان انگھوٹی وہی پھینکتا سب کو سائیڈ پہ کرتا یامین کی جانب بھاگنے والے انداز میں گیا باقی سب پریشانی سے سارا معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔

یامین۔فجر کا دل دھل سے گیا بے ہوش یامین کے سر سے خ*ون نکلتا دیکھ کر

آپی آپ پریشان نہ ہو یامین کو کجھ نہیں ہوگا۔یمان روتی ہوئی فجر کو تسلی دیتا خود یامین کو گود میں اُٹھاتا باہر کی جانب جانے لگا۔

فجر رلیکس۔عیشا نے اُس کو اپنے ساتھ لگایا۔

عیشا وہ یامین کے سر سے بہت سارا خ*ون بہہ رہا تھا۔فجر نے روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان کہا۔

فجر بیٹے پریشان نہ ہو ہم چلتے ہیں ہسپتال دیکھنا کجھ نہیں ہوا۔زوبیہ بیگم نے کہا تو اُس نے محض سرہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آج آپ باہر نہیں گئے۔ماہی نے صبح سے شازل کو اپنے کمرے میں دیکھا تو اُس کے پاس آکر پوچھنے لگی جو لیپ ٹاپ میں بزی تھا۔

ہاں ضروری کام ہے کجھ اِس وجہ سے باہر نہیں گیا سوچا کام ختم کرلوں۔شازل نے جواب دیا۔

اچھا میں کجھ پوچھو آپ سے؟ماہی نے اِجازت چاہی۔

ہاں ضرور پوچھو۔شازل اپنی بیئرڈ پہ ہاتھ پھیرتا اُس سے جواب جب کی اُس کی پرسوچ نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ تھی۔

آپ کا فیورٹ کلر کونسا ہے؟ماہی نے مسلسل لیپ ٹاپ میں مصروف شازل سے پوچھا

ریڈ۔شازل نے مصروف انداز میں بتایا۔

اچھا۔ماہی کو اُس کا یوں لیپ ٹاپ پہ دھیان دینا ایک آنکھ نہ بھایا۔

تمہارا فیورٹ کلر کونسا ہے۔شازل نے اُس کو خاموش دیکھا تو پوچھ لیا۔

میرا؟؟؟؟ماہی سوچ میں پڑگئ۔

نہیں پڑوس کی سیما کا۔شازل نے طنزیہ کیا تو ماہی اُس کو دیکھتی رہ گئ جو طنز کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔

بڑا معلوم ہے پڑوس کی لڑکیوں کا۔ماہی بڑبڑائی پھر بولی۔

میرا بھی موسٹ فیورٹ کلر ریڈ ہے آمنہ کہتی ہے لال کلر تو بنا ہی تمہارے لیے ہے ۔ماہی نے بڑھا چڑھا کر بتایا

اچھا۔شازل کو جانے کیوں ہنسی آئی۔

ہاں نہ۔ماہی نے فورن سے کہا

کبھی پہننا ریڈ کلر پھر میں دیکھ کر بتاؤں گا یہ کلر تم پہ کیسا لگتا ہے۔شازل لیپ ٹاپ بند کرتا بولا تو ماہی بلش کرنے لگی۔

جی ضرور آپ یہ بتائے آپ کو چائے زیادہ پسند ہے یا کافی۔ماہی نے دوسرا سوال داغا۔

کافی اور تمہیں؟شازل نے بتانے کے بعد پوچھا

مجھے بھی کافی بہت پسند ہے۔یہ بتاتے وقت ماہی کو یاد نہیں آیا اُس نے کب کافی پی ہو۔اُس کے اِس جواب پہ شازل سمجھ گیا وہ جھوٹ موٹ کا بتارہی ہے۔

نائیس۔شازل غور سے اُس کو دیکھ کر بولا

اور آپ یہ بتائے کھانے میں کیا چیز آپ کو زیادہ پسند ہے۔ماہی نے آرام سے نیا سوال داغا

کریلے اور بھنڈیاں مجھے بہت پسند ہیں یقیناً تمہیں بھی یہ پسند ہوگا کیونکہ غالباً ہماری پسند آپس میں بہت ملتی جلتی ہے۔شازل اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا ماہی سے بولا جس کے شکل کریلوں کے نام پہ کریلے جیسی بن گئ تھی۔

جی بہت پسند ہے۔ ماہی نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر کہا

واہ دیئٹس گریٹ چلو پھر ہم کچن میں چلتے ہیں کریلے اور بھنڈیاں پکائے گے اور کھانے کے وقت دیکھے گے کس نے زیادہ کھایا۔ شازل پرجوش آواز میں بولا تو ماہی کے چہرے کی رنگت پل بھر میں اُڑی تھی خدا گواہ تھا اُس کو کبھی کریلے اور بھنڈی کی سبزی پسند نہیں آئی تھی اور اب اُس کا شوہر مقابلے کی بات کر رہا تھا وہ بہت بُرا پھنسی تھی مگر اب تیر کمان سے نکل چُکا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *