Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 14)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

آپ یہاں۔ ماہی نے رات کے وقت شازل کو کمرے میں دیکھا تو حیران ہوئی کیونکہ شازل اکثر رات کے وقت باہر ہوتا تھا۔

ہاں میں یہاں کیوں مجھے کہی اور ہونا چاہیے تھا کیا؟ شازل کو اُس کا حیران ہونا سمجھ نہیں آیا۔

ہاں۔ ماہی کے منہ سے بے ساختہ پِھسلا تو شازل نے آئبرو اُچکائے

میرا مطلب تھا آپ تو باہر ہوتے ہیں نہ اِس وقت۔ ماہی سنبھل کر بولی۔

ہوتا تھا کیونکہ کام ہوتے تھے آج نہیں ہیں تو اپنے کمرے میں ہوں۔ شازل یہ کہہ کر بیڈ پہ لیٹ گیا اُس کو بیڈ پہ سوتا دیکھ کر ماہی کشمکش میں مبتلا ہوئی۔

میں کہاں سوؤ گی؟ماہی نے بلآخر پوچھ لیا۔

کیا مطلب کہاں سوؤ گی یہی بیڈ پہ اور کہاں۔شازل نے تعجب سے کہا

بیڈ پہ تو آپ ہیں نہ۔ماہی نے بتایا۔

تو کیا ہوا پریشان مت ہو میرا کردار مضبوط ہے اِس لیے تم بے فکر ہوکر سوجاؤ۔شازل پرسکون لہجے میں بولا

جن کے کردار مضبوط ہوتے ہیں اُن کے سیل فون پہ ہر روز نئ لڑکی کی کال نہیں آتی۔ماہی یہ بات کرنا تو دل میں چاہتی تھی پر بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا جس کو سن کر شازل جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا۔

کیا مطلب تمہارا اِس بات سے کیا کہنا چاہتی ہو تم؟شازل گھور کر پوچھنے لگا۔

میں تو کجھ نہیں وہ تو بس منہ سے پھسل گیا۔ماہی ہڑبڑا کر بولی۔

یہ آجکل تمہاری زبان زیادہ پھسلنے نہیں لگی۔شازل نے دانت پہ دانت جمائے۔

پتا نہیں آپ سوجائے میں بھی سوجاؤ گی۔ماہی نے جان چھڑانے کیلئے کہا۔

میں تو سو ہی جاؤں گا۔شازل اتنا کہہ کر دوبارہ لیٹ گیا اُس کو سوتا دیکھ کر ماہی بھی بیڈ کی دوسری طرف آکر کمرے کی لائیٹ بند کرکے لیٹ گئ۔

سنے۔تھوڑی دیر بعد ماہی نے شازل کی طرف کروٹ لیکر اُس کو پُکارا۔

سُنائیں۔شازل نے فرمانبردار سے کہا

آپ کی ٹوٹل گرلفرینڈز کتنی ہیں؟ماہی کے سوال پہ شازل نے پٹ سے آنکھیں کُھولی۔

یہ رات کے وقت تمہیں میری گرلفرینڈز کہاں سے یاد آئی؟شازل حیران ہوا۔

بھولی کب تھی۔ماہی کے جل کے بولی

کیا مطلب۔شازل کو سمجھ نہیں آیا

میرا مطلب تھا کے بس یوں ہی خیال آیا تو سوچا آپ سے پوچھ لوں۔ماہی نے جلدی سے کہا

اچھا نمرہ فائزہ اور رابیعہ یہ تینوں اسکولز لائیف سے فرینڈز ہیں اور ثانیہ تانیہ ستارہ تارا یاسمین امبر فرح سارہ رباب دلنشین یہ کالج لائیف سے ہیں کالج کے بعد میں ہائی اسٹڈی کے لیے لنڈن گیا تھا وہاں بھی چھ سے سات تک بن گئ تھی۔ شازل ٹھر ٹھر کر بتانے لگا اُس کی باتوں سے ماہی کو جھٹکے پہ جھٹکے لگ رہے تھے۔

مطلب بچپن سے ہی دل پھینک ہیں۔ ماہی کی زبان ایک بار پھسلی تو شازل لائیٹ آن کرتا بیٹھ گیا اُس کو بیٹھتا دیکھ کر ماہی بھی منہ بناکر بیٹھ گئ۔

فرینڈز بنانے والے کیا دل پھینک ہوتے ہیں؟ شازل نے اُس کی طرف دیکھ کر کہا

گرلفرینڈز بنانے والے دل پھینک ہوتے ہیں۔ ماہی نے بناتاخیر کیے جواب دیا۔

اور ایسا تمہیں کیوں لگتا ہے۔ شازل اتنا کہتا چپ ہوگیا اُس کا دماغ اچانک کجھ کلک ہوا پھر اُس کے بے یقین نظروں سے ماہی کو دیکھا جس کا منہ غبارے کی طرح پُھولا ہوا تھا

اَسْتَغْفِرُاللّٰه تم مجھے ایسا سمجھتی ہو۔ ساری بات سمجھ آنے کے بعد شازل جھرجھری لیکر بولا

میں ایسا ویسا کیوں سمجھوں گی آپ نے خود بتایا آپ کی دس میں سے بیس سے زیادہ گرلفرینڈز ہیں اللہ جانے شادیاں کتنی کرنے کا اِرادہ ہے آپ کا۔ ماہی ہاتھ کھڑے کیے بولی۔

اوو کل عقل گرلفرینڈز کا مطلب یہ نہیں کے میرا اُن کے ساتھ ٹانکہ فٹ ہیں یہ تو میں نے اِس لیے کہا کیونکہ وہ لڑکیاں ہیں تو گرلفرینڈز ہوئی اب بوائے گرینڈ کہنے سے تو میں رہا۔شازل کی اِس بات پہ ماہی کے چونک کر اُس کی طرف دیکھا

اگر ایسی بات ہے تو آپ فرینڈ بھی بول سکتے تھے گرل لگانا ضروری تھا کیا۔ماہی اپنی خجلت مٹانے کے غرض سے بولی

مجھے کیا پتا تھا تم اتنی عقلمند ہو اور پتا ہوتا تو بلکل نہ کہتا خوامخواہ میرا کردار مشکوک کردیا۔شازل کانوں کو ہاتھ لگا کر بولا تو ماہی کی ہنسی چھوٹ گئ شازل نے اتنے دنوں کے بعد پہلی بار اُس کو ہنستا دیکھا تھا۔

أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّك‎‎۔شازل کے منہ سے یہ الفاظ سن کر ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

کیا پڑھا آپ نے؟ماہی متجسس ہوئی

أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّك‎‎ یہ ایک دعا ہے جب کسی کو ہنستا دیکھو تو پڑھا کرو۔ شازل نے مسکراکر بتایا

اچھا مجھے آج سے پہلے معلوم نہیں تھا۔ ماہی کو افسوس ہوا۔

مجھے یہ دعا یاد نہیں رہتی تھی پر آروش کو ہمیشہ یاد ہوتی تھی مجھے بھی وہ بار بار یاد کرواتی تھی تبھی مجھے اب یاد ہوتی ہے۔ شازل نے محبت سے آروش کا نام لیا تو ماہی کو آروش پہ رشک آیا۔

ایک بات پوچھو؟ ماہی نے کجھ سوچ کر پوچھا

ہاں پوچھ لو کیونکہ تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے تمہارا سونے کا کوئی موڈ نہیں۔ شازل کی بات پہ وہ کھسیانی ہوئی

کیا آروش آپ کی اپنی بہن ہے؟ماہی نے کجھ جھجھک کر پوچھا اُس کو ڈر تھا کہی شازل بُرا نا مان جائے۔

یہ کیسا سوال ہے افکورس وہ میری بہن ہے۔ شازل سنجیدہ ہوا۔

سوری اگر آپ کو بُرا لگا ہو تو میں نے اِس لیے پوچھا کیونکہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے میں یہاں ہوں حویلی کے ہر فرد سے میں واقف ہوں سب کی شکلیں بھی مجھے یاد ہیں پر اُن سے چہروں سے آروش کا چہرہ سب سے الگ ہوتا ہے۔ ماہی نے تھوڑا ڈر کر کہا

تم کہنا کیا چاہتی ہو؟ شازل اُس کی بات سمجھ نہیں پارہا تھا۔

میں بس یہ کہہ رہی تھی کے آپ کا چہرہ آپ کے بابا سے ملتا جُلتا ہوا ہے اور آپ کے بڑے بھائی درید شاہ کا اپنی ماں سے وہ جو حریم ہوتی ہے اُن کی شکل بھی آپ لوگوں سے کجھ ملی جُلی ہوتی ہے نور نازلین دیدار شاہ بھابھی شبانا پر اِن سب کے برعکس آروش کے نین نقش آنکھوں کو رنگ سب مختلف ہوتا ہے اُس کا رنگ گورا چٹا ہے پر وہ جیسے پٹھان خاندان کی لگتی ہے آپ نے کبھی اُس کے گال دیکھے ہیں کیسے سرخ وسپید

سٹاپ ماہی۔ شازل غصے سے اُس کی جانب دیکھ کر جھڑکا اُٹھا

سوری۔ ماہی اُس کی چیخ پہ کانپ اُٹھی

آروش بہن ہے میری شاہ خاندان کی ہے آج تو تم نے اُس کا شمار کسی اور ذات سے کردیا دوبارہ یہ غلطی مت کرنا کیونکہ میں تو یہ بات برداشت کرگیا حویلی میں اگر یہ بات بابا سائیں تک پہنچی تو تمہیں اندازہ نہیں وہ تمہارا کیا حشر کرے گے جان بستی ہے اُن کی آروش میں بیٹوں سے زیادہ بیٹی عزیز ہے انہیں۔ شازل ایک لفظ لفظ پہ زور دے کر بولا تو ماہی خاموش ہوگئ شازل ایک نظر اُس پہ ڈال کر کمرے سے باہر چلاگیا اُس کے جانے کے بعد ماہی نے ساری رات روکر گُزاری۔

💕
💕
💕
💕
💕

یامین نہیں آیا ابھی اسکول سے؟ عیشا فجر کے گھر میں داخل ہوتی پوچھنے لگی۔

کہاں ابھی ایک گھنٹہ رہتا ہے۔فجر نے بتایا۔

بات ہوئی تمہاری اُس سے؟ عیشا صوفے پہ بیٹھ کر پوچھنے لگی۔

وہ جو لڑکا آتا ہے ارمان اُس کو میں صاف صاف انکار کردیا تھا کے دوبارہ مہینے کی پہلی تاریخ کو راشن دینے نہ آئے ہمیں چیزوں کی نہیں چیزیں بھیجنے والے کی ضرورت ہے۔ فجر اُس کی بات کا مطلب سمجھ کر بتانے لگی۔

پھر کیا کہا اُس سے؟ عیشا نے جاننا چاہا

وہ کیا کہتا وہ تو یمان کے اِشارے پہ چلتا اور بولتا ہے اُس بات کو تین ماہ ہوگئے ہیں پھر اُس کے آدمی پلٹ کر نہیں آئے۔ فجر طنزیہ لہجے میں بولی۔

تین ماہ یمان ایسا تو نہیں تھا وہ ہم سے اتنا وقت غافل کیسے ہوسکتا ہے۔ عیشا کو دُکھ ہوا۔

وہ غافل نہیں ہے عیشا بس وہ یہاں آنا نہیں چاہتا پتا نہیں کیوں ہمیں کس بات کی سزا دے رہا ہے ہمارا کیا قصور۔ فجر کی آنکھیں نم ہوئی

چھوڑو یہ باتیں میں اِس بار تین دنوں کے لیے آئی ہو سوچا تم اکیلی ہوگی تمہارے ساتھ کجھ وقت گُزار لیا جائے۔ عیشا بات بدل کر مسکراہٹ سے بولی

میں سالوں سے اکیلی رہ رہی ہو اب تو عادت ہے وہ تو اللہ کا شکر ہے جو یامین میری زندگی میں آیا ورنہ پتا نہیں میرا کیا ہوتا۔ فجر سرجھٹک کر بولی۔

شادی کرلوں۔ عیشا نے اچانک سے اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر کہا

پاگل ہوگئ ہو۔ فجر اپنا ہاتھ اُس ہاتھ سے الگ کرتی بولی۔

اِس میں پاگل ہونے والی کیا بات ہے یامین کا سوچو اپنا سوچو تم کب تک اکیلی تنہا زندگی گؐزارو گی آگے چل کر تمہیں کسی کے سہارے کی ضرورت پڑنی ہے تو بہتر یہی ہے کے جلدی سے تم اپنے لیے کوئی فیصلہ کرلوں۔ عیشا سمجھانے والے انداز میں بولی۔

تمہارا لگتا ہے دماغ خراب ہوگیا ہے میں پہلے سے شادی شدہ ہوں پانچ سال کا بیٹا ہے میرا اور تم مجھے دوسری شادی کا مشورہ دے رہی ہو۔ فجر نے غصے سے کہا

شادی شدہ ہو نہیں شادی شدہ تھی اور تمہیں نہیں لگتا یامین کو باپ کے پیار کی ضرورت ہے۔ عیشا نے سنجیدگی سے کہا

اُس کو نہیں ضرورت اپنے بیٹے کے لیے میں کافی ہوں۔ فجر کا انداز اٹل تھا۔

تم خودغرض بن کر سوچ رہی ہو فجر۔ عیشا کو افسوس ہوا۔

تمہیں یہ اچانک سے میری شادی کا خیال کیوں آیا اتنے وقت بعد آئی ہو اور یہ باتیں لیکر بیٹھ گئ ہو خیر تو ہے۔ فجر مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو عیشا اپنا سرجھکاگئ۔

سر مت جھکاؤ عیشا ساری بات بتاؤ۔فجر کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا

ماہین جو میری نند ہے اُس کی ساس اپنے بیٹے فراز کے لیے تمہارا رشتہ مانگنا چاہتی ہے تبھی آنٹی نے مجھے کہا میں تم سے اِس سلسلے میں بات کروں۔عیشا نے کسی مجرم کی طرح بتایا تو فجر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

اوو تو یہ بات ہے تمہاری ساس نے یہ بھی کہا ہوگا تین دن اُس کے پاس رہنا اور راضی کرلینا۔فجر کو حقیقتاً دکھ ہوا۔

ہاں ایسی بات ہے پر اِس میں کجھ غلط بات بھی تو نہیں تمہیں جیون ساتھی ملے گا اور یامین کو باپ کا پیار۔عیشا نے ایک اور کوشش کی۔

وہ فراز ایک نمبر کا موالی جو ہر آتی جاتی لڑکی کو حوس بھری نظروں سے دیکھتا ہے وہ میرے بیٹے کو باپ کا پیار دے گا وہ کمینا میرا جیون ساتھی بنے گا کیا ہوگیا ہے تمہیں عیشا۔فجر کو اُس کی باتوں سے حیرانگی ہوئی۔

پلیز فجر میری بہن ہو مان جاؤ اگر تم نا مانی تو ماہین کو گھر آنے نہیں دے گے اگر اُس کا گھر خراب ہوا تو میرا گھر بسے گا اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوگی۔عیشا آہستہ آواز میں بولی۔

تمہاری نند کے سسرال والوں سے میرا کوئی کنسرن نہیں عیشا اِس لیے خدا کے واسطے دوبارہ یہ بات مت کرنا ورنہ میں یہ سوچ لوں گی بھائی کے ساتھ ایک جو بہن تھی اب وہ بھی نہیں۔فجر سپاٹ لہجے میں بولی

تم نے یمان کے لیے بھی تو قُربانیاں دی تھی نہ آج جب میں پہلی بار تم سے کجھ مانگ رہی ہوں تو یوں خالی ہاتھ لوٹا رہی ہو۔عیشا کو رونا آیا۔

تم نے مجھے کیا سمجھا ہے عیشا صرف قربانی دینے والا۔ بکرے کو بھی ایک دفع قربان کیا جاتا ہے تو میں کیوں بار بار قربانیاں دیتی پِھروں بہن کی محبت میں آکر میں اپنے بیٹے کا متسقبل خراب کردوں مجھے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے عیشا میرے لیے میرا بیٹا کافی ہے بڑا ہوکر وہ میرا سہارا بنے گا اور رہی بات اب کی تو یمان ہے نہ چاہے ملنے نہیں آتا پر وہ دور رہ کر بھی ہمارا سوچتا ہے تم فکر نہیں کرو اسفند کبھی تمہیں نہیں چھوڑے گا اُس کے دو بچوں کی ماں ہو تم چار سال کا تعلق بنا کسی وجہ کے وہ ختم نہیں کرے گا تم سے کیونکہ وہ یہ بات بھی اچھے سے جانتا ہے اُس کا گھر کس کے پئسو پہ چلتا ہے۔فجر بے لہچک لہجے میں بولی

طعنہ دے رہی ہو؟عیشا کو فجر کی آخری بات پسند نہیں آئی۔

نہیں میری بہن طعنہ نہیں دے رہی بس یہ بول رہی ہو تمہیں اُن سے دبنے کی ضرورت نہیں تم یمان مستقیم کی بہن ہو جو کوئی عام شخصیت کا مالک نہیں مشہور سنگر ہے۔آخری بات پہ ناچاہتے ہوئے بھی فجر کی آنکھوں میں آنسو آئے تو عیشا بنا کجھ کہے اُس کو اپنے گلے سے لگایا۔

پیچھے ہٹو یامین کو پِک کرنے جانا ہے۔فجر اُس کو پیچھے دھیکل کر بولی

تم نا بھی جاؤ یامین اُس نے باحفاظت گھر پہنچ ہی جانا ہے بڑا ذمیدار ہے اُس کا ماما۔عیشا جلے کٹے انداز میں بولی تو فجر ایک اُس کے بازوں پہ ایک تھپڑ رسید کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

چاچی جان کجھ کھالیتی۔آمنہ نے کمرے میں خاموش بیٹھی بختاور بیگم سے کہا جو ماہی کے جانے کے بعد زیادہ تر اپنے کمرے میں رہنا پسند کرتی تھی۔

جانے میری معصوم بچی نے کھانا کھایا بھی ہوگا یا نہیں پتا نہیں کیسا کیسا ظلم کرتے ہوگے اُس پہ۔بختاور بیگم اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھ کر بولی۔

اللہ ہے نہ وہ اُس کی حفاظت کرے گا آپ پریشان مت ہو کھانا کھالیں ورنہ طبیعت بگڑ جائے گی۔۔آمنہ نے اُن کو تسلی کروانے کے ساتھ ساتھ اُن کو سمجھانا چاہا

کیسے پریشان نہ ہو وہاں میری بچی ظالموں کے درمیان ہے تو کیسے میرے حلق سے نوالہ اُترے گا۔بختاور بیگم نے کہا

آپ دعا کرے وہ ٹھیک ہو ان شاءاللہ ماہی جلد ہمارے پاس ہوگی۔ذین سالک کی آواز پہ دونوں نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا جو بغیر کسی تاثر کے کھڑا تھا۔

توں نے اُس کے یہاں آنے کے سارے راستے ختم کردیئے ہیں یہاں تو وہ اُس کی لاش بھی نہیں بھیجے گے۔بختاور بیگم کے لہجے میں بے بسی تھی۔

اُس دن جو ہوا وہ ایک حادثہ تھا میں نے دلدار شاہ کا قتل نہیں کیا بلکہ وہ تو میرا کرنے والا تھا بس اپنے بچاؤ کرنے پہ کیسے گولی چل گئ پتا ہی نہیں چلا۔ذین نے وضاحت دیتے کہا۔

توں نے قتل کیا یا وہ ایک حادثہ تھا جو بھی تھا بے رحمانہ قتل کی سزا ہماری بچی کو مل رہی ہے اب کوئی فرق نہیں پڑتا قتل کیوں اور کیسے ہوا۔بختاور بیگم چیخ پڑی۔

امی جان فرق پڑتا ہے مجھے پھسایا جارہا ہے جو جرم میں نے کیا ہی نہیں اُس کی سزا مجھے یا میری بہن کو کیوں ملی اگر گولی ایک چلی تھی تو گولیوں سے چھلینی اُس کا سینہ کس نے کیا میں نے تو نہیں کیا میں تو وہاں سے بھاگ گیا تھا پھر خراب ملی اللہ کی قسم میں خود نہیں جانتا یہ سب کیسے ہوا۔ذین اُن کے قدموں کے پاس بیٹھ کر بولا

جب تجھ سے کہا گیا تھا دلدار شاہ سے دور رہ تو توں کیوں نہیں مانا؟بختاور بیگم نے پوچھا جب کی آمنہ خاموشی سے ذین کی طرف دیکھ رہی تھی۔

میں اُس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا وہ زبردستی مجھ سے کجھ پیپرز کے سائن لینا چاہتا تھا آپ بتائے پھر میں کیا کرتا۔ذین نے اپنا دفاع کیا۔

ذین توں بس اُن قاتلوں کو حویلی والوں کے سامنے کر پھر دیکھنا سب ٹھیک ہوجائے گا ہماری ماہی یہاں واپس چلی آئے گی۔بختاور بیگم امید بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔

آپ پریشان مت ہو میں اُسی کام میں ہوں جلد کجھ نہ کجھ معلوم ہوجائے گا۔ذین عقیدت سے اُن کا ہاتھ چوم کر بولا تو بختاور بیگم کے چہرے پہ اطمینان اُبھرا

💕
💕
💕
💕
💕

شبانا کی عدت پوری ہونے کے دو دن بعد اُس کا نکاح ہے۔رات کے وقت کلثوم بیگم اپنے کمرے میں آئی تو شھباز شاہ نے اُن سے کہا جس کو سن کر وہ حیران ہوئی۔

یہ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ نکاح وہ بھی شبانا کا اُس کا دُکھ اتنا چھوٹا نہیں جو دوسرا نکاح کرے گی دلدار شاہ سے اُس کو محبت تھی وہ کبھی نہیں مانے گی۔کلثوم بیگم فکرمندی سے بولی۔

تم سے یا اُس سے پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں سب طے ہوچکا ہے۔شھباز شاہ کا انداز دو ٹوک تھا۔

بھائی صاحب مان گئے ہیں۔کلثوم بیگم افسردہ سانس لیکر پوچھنے لگی۔

ہاں دونوں مان گئے ہیں شبانا کا نکاح دیدار شاہ سے ہوگا۔شھباز شاہ یہ بول کر بیڈ پہ لیٹنے لگے۔

دیدار شاہ پر شبانا تو اُس کو اپنا بھائی سمجھتی ہے۔کلثوم بیگم کو دوسری فکر لاحق ہوئی۔

شادی کے بعد شوہر سمجھ لے گی۔شھباز شاہ آرام سے بولے

آپ کو نہیں لگتا آپ کو شبانا کے بجائے آروش کا سوچنا چاہیے۔کلثوم بیگم کی بات پہ وہ یکدم اُٹھ بیٹھے۔

کیا مطلب آروش کے بارے میں کیا سوچنا چاہیے مجھے؟شھباز شاہ نے تیکھی نظروں سے اُن کو دیکھا۔

صدف آئی تھی کل۔کلثوم بیگم نے بتایا

تو۔شھباز شاہ نے خاص نوٹس نہیں لیا

حریم کا رشتہ مانگنے آئی تھی شبانا کی عدت کے بعد رسم کرنا چاہتی ہے۔کلثوم بیگم نے تفصیل سے بتایا

آروش کے ذکر میں حریم کہاں سے آگئ۔شھباز شاہ کجھ برہم ہوئے۔

حریم کا رشتہ بھی ہوجائے گا نور نازلین کا بھی ہوچکا ہے آروش کا بھی سوچے کجھ وہ کب تک یوں خود سے لڑتی رہے گی اُس کی شادی نہیں کروانی آپ نے؟کلثوم بیگم نے سوال کیا

مناسب رشتہ ہے تمہاری نظر میں اگر ہے تو بتادو ورنہ میری بیٹی مجھ پہ بوجھ نہیں۔شھباز شاہ کا سنجیدگی سے بولے

وحیدہ سے بات کروں ساجد کے لیے۔کلثوم بیگم نے ڈر کر پوچھا

ساجد سے شادی کروانے سے بہتر ہے وہ کنواری رہے۔شھباز شاہ ناگواری سے بولے تو کلثوم بیگم اُس کا منہ تکتی رہ گئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *