Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 15)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 15)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یمان تم اب دوبارہ سے یہاں شفٹ ہوجاؤ۔مسز دلاور نے صبح ناشتے کے وقت یمان سے کہا
آپ کو تو پتا ہے میری روٹین کا خوامخواہ آپ لوگ ڈسٹرب ہوجائے گے ویسے بھی ملنے تو آجاتا ہوں جب بھی آپ کہتی ہیں۔یمان نے جوابً کہا
یمان تم اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے یہاں ہوگے تو کم سے کم میں خیال تو کروں گی نہ۔مسز دلاور نے فکرمند لہجے میں کہا
ارمان ہے نہ پھر آپ کیوں ٹیشن لیتی ہے۔یمان ہلکہ سا مسکراکر بولا۔
تم بس یہاں شفٹ ہوجاؤ بحث کو اب ختم کرو ویسے بھی میں نے اب تمہارے لیے لڑکیاں دیکھنی شروع کرلی ہے۔مسز دلاور دو ٹوک لہجے میں بولی جس کو سن کر جوس کا گلاس پیتے یمان کو اچھو لگا۔
لڑکیاں میرے لیے کیوں؟یمان سنجیدہ ہوا۔
دو ماہ بعد ماشااللہ سے پچیس سال ہوجاؤ گے کیا ابھی تمہیں میری بات کا مطلب سمجھ نہیں آرہا۔مسز دلاور نے افسوس کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
اگر آپ میری شادی کا سوچ رہی ہیں تو میں بتادو میرا ایسا کوئی اِرادہ نہیں۔یمان نے سنجیدگی سے کہا
دیکھو یمان تمہیں شادی کرلینی چاہیے اب آخر کب تک یوں تنہا زندگی گُزارو گے میری بات مانو ہاں کہہ دو۔مسز دلاور نے اُمید بھری نظروں سے اُس کو دیکھا
مجھے آپ کی ہر بات منظور ہے پر میں شادی نہیں کروں گا کبھی۔یمان نظریں چُراتا بولا
میری باقی باتوں کو رہنے دو بس جو اب کہہ رہی ہو اُس کو مان لو مجھے لگے گا تم نے واقع مجھے ماں کا درجہ دیا ہے۔مسز دلاور نے اب کی ایموشنل بلیک میل کیا۔
موم پلیز پانچ سال تک تو میں شادی کا سوچ بھی نہیں سکتا اُس کے بعد آپ جو کہے گی میں کروں گا دوسری بات میں نے بہت سالوں پہلے آپ کو اپنی ماں کا درجہ دیا ہے۔یمان نے گہری سانس لیکر کہا۔
پانچ سال یمان آر یو اِن یوئر سینس کیا بڑھاپے میں شادی کرنا چاہتے ہو میں دو ماہ بعد تمہاری سالگرہ کے دن تمہاری منگنی کا سوچے ہوئے ہوں اور تم پانچ سال کا اتنا طویل عرصہ مانگ رہو نہیں بلکل نہیں اگر میں سچ میں تمہاری ماں ہو تو میری بات پہ سرخم کرو۔مسز دلاور آج اپنی منوانے کے در پہ تھی اِس وقت یمان کو اپنا آپ بے بس سا معلوم ہورہا تھا۔
ٹھیک ہے آپ کی مرضی۔یمان اتنا کہتا اُٹھ کھڑا ہوا اُس کے جواب پہ مسز دلاور بے یقین نظروں سے یمان کو دیکھنے لگی اُن کو اپنی سماعت پہ شک گُزرا۔
یمان تم مان گئے۔مسز دلاور جلدی سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر خوشی سے چور لہجے میں پوچھنے لگی۔
جی آپ کے کہنے پہ میں مان تو گیا ہوں پر اگر کبھی مجھ سے اُس لڑکی کے حقوق پورے کرنے میں کوتاہی ہوئی تو اُس کا ذمیدار میں نہیں ہوگا۔یمان کا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا۔
اُس کی تم فکر نہیں کرو روزی بہت اچھی ہے تمہارا بہت خیال رکھے گی تم دونوں ہمیشہ خوش رہوگے۔مسز دلاور پرسکون لہجے میں بولی
یمان روزی نام پہ ٹھٹکا ضروری تھا پر کوئی ری ایکٹ کیے بنا وہاں سے چلاگیا۔








ماضی!
آروش کا آج کالج میں پہلا دن تھا جس کے لیے وہ کافی پرجوش تھی کالج چھوڑنے دیدار شاہ آیا تھا اور ساتھ میں اُس کے کجھ آدمی جو الگ گاڑی میں تھے آروش جانتی تھی وہ سب اُس پہ نظر رکھنے کے لیے تھے جن کو مہتاب بیگم کا حُکم تھا پر اُس نے کسی سے کجھ کہا نہیں تھا کیونکہ اُس کو خود پہ اعتماد تھا۔
کالج کے پہلے ہی دن اُس کو خود پہ کسی کی نظروں کی تپش کا احساس شدت سے ہوا تھا پہلے پہل تو اُس نے اپنا وہم جانا پھر یہ روزانہ کا معمول بن گیا جس سے کبھی اُس کو گھبراہٹ ہوتی تو کبھی نظرانداز کرتی کسی کی نظروں سے بچنے کے لیے اُس نے بس کلاس سے لائبریری اور لائبریری سے کلاس تک کا ہی سفر کیا تھا پر اُس کو کبھی پتا نہیں چلا کون ہوتا ہے جو بس اُس کو دیکھتا رہتا ہے کیونکہ اُس نے کبھی نظریں اُٹھاکر اُس کو تلاش کرنا نہیں چاہا تھا کالج کے شروع دنوں میں بہت لڑکیوں نے اُس کی طرف دوستی ہاتھ بڑھایا تھا پر اُس نے مسکراکر سہولت سے انکار کردیا تھا اِسی دنوں میں موسم کافی خوبصورت تھا جب اُس نے لائبریری جانے کے بجائے گراؤنڈ میں پانچ منٹ بیٹھنے کا سوچا ساتھ میں اُس نے کورس بُکس کے بجائے اشفاق احمد کی کتاب پڑھنے کے لیے نکال دی تھی وہ پڑھنے میں وہ اِس طرح مگن ہوگئ جو اُس کو وقت گُزرنے کا احساس تک نہیں وہ تب ہوا جب خود کے اُپر کسی کی پرچھائی محسوس ہوئی اُس نے چونک کر سراُٹھایا تو کسی لڑکے کی پیٹھ تھی جس کو دیکھ کر وہ بنا ایک منٹ لگائے اُٹھ کر لائبریری چلی گئ ابھی اُس کو بیٹھے کجھ ہی دیر ہوئی تھی جب اُس کو لگا کوئی اُس کے سامنے بیٹھ گیا پر اُس نے ہمیشہ کی طرح نظرانداز کیا
میرا نام یمان ہے۔کسی لڑکے کی آواز سن کر آروش حیران ہوئی اُس نے جب سے کالج آنا شروع کیا تھا اُس بیچ کسی بھی لڑکے میں ہمت نہیں ہوئی تھی کے وہ اُس سے مخاطب ہوتا۔
یمان ہو نام یا عاطف اسلم یا پھر فرحان سعید میں کیا کروں۔آروش کتاب میں نظر جماتی کرہ کر سوچنے لگی پر اُس کو جواب نہیں دیا۔
یہ اُٹھ کیوں نہیں رہا اگر کسی اور نے دیکھ لیا تو اففف اللہ مجھے ہی اٹھنا پڑے گا یہ خود تو مرے گا ساتھ میں مجھے بھی مروائے گا۔آروش کجھ پل تو اُس کے اُٹھنے کا انتظار کرنے لگی مگر اُس کو اُٹھتا نظر نہیں آیا تو خود ہی باہر جانے کا سوچا پر اُٹھتے ہوئے اُس نے تیز نظر اُس پہ ڈالی جس کی نظریں اپنے ہاتھوں پہ تھی آروش کو وہ عجیب لگا مگر پھر لاحول پڑھ کر اپنا سرجھٹکا۔
لالہ آپ یہاں؟آروش بریک ٹائم کلاس سے باہر آئی تو حیرت سے دیدار شاہ کو دیکھا
تایا سائیں تمہیں یاد کررہے تھے لینے آیا ہوں چلو۔دیدار شاہ نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔
تو آپ گارڈ سے کہتے وہ یہاں کسی ٹیچر تک پیغام پہنچاتا آپ اندر کیوں چلے آئے۔آروش کو جانے کیوں دیدار شاہ کا یوں چلے آنا عجیب لگا
میرے آنے پہ کیا پابندی ہے میں خود چلا آیا اب تم چلو۔دیدار نے مسکراکر کہا
وہ تو چلتے ہیں پر اگر آپ آگئے ہیں تو میرا ایک کام کردے۔آروش نے جلدی سے کہا
کام کونسا کام؟دیدار شاہ نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا۔
وہ یہاں جو کیفے ہیں وہاں سے مجھے کجھ خریدنا ہے آپ ساتھ چلے۔آروش نے کہا
کیا لینا ہے؟مجھے بتادو تمہیں گاڑی تک چھوڑنے کے بعد وہ لیتا آؤں گا۔دیدار شاہ نرمی سے بولا
آپ کیفے چلے پھر پتا چل جائے گا۔آروش بضد ہوئی۔
تم نے اگر وہاں کھانے کا کجھ لینا ہے تو کیا فائدہ تمہارے چلنے کا کھانا تو پھر بھی تم نے گاڑی میں ہے۔دیدار شاہ کا اُس کا یوں ضد کرنا سمجھ نہیں آیا۔
آپ نہیں چلیں گے تو میں بابا سائیں سے آپ کی شکایت کروں گی۔آروش نے اب کی دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو دیدار شاہ نے ہتھیار ڈال دیئے۔
یہاں تو بس لڑکے ہیں۔کیفے داخل ہوتے ہیں دیدار شاہ نے ناگواری سے ہر ایک کو دیکھا
ظاہر ہے گرلز اور بوائز کا کالج ہے سب ہوگے۔آروش پرسکون لہجے میں کہہ کر ایک ٹیبل کے پاس آکر بیٹھ گئ اُس کو بیٹھتا دیکھ کر دیدار بھی ناچار بیٹھ گیا۔
آروش مسکراتی نظروں سے آس پاس دیکھ رہی تھی جب اچانک سے گِٹار کی آواز سن کر اُس کی نظر سامنے پڑی جہاں ایک لڑکا گِٹار ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا اُس کو دیکھ کر آروش پہچان گئ کے یہ لائبریری والا ہے۔
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Aavan javan te mai
Yaara nu manawaan
Aavan javan te main
Yaara nu manawana
آروش کسی ٹرانس کی کیفیت میں اُس کو گاتا سنتی رہی وہ دیدار شاہ کی موجودگی سِرے سے فراموش کر بیٹھی تھی۔
Enna Suna
Enna suna
Enna suna
O..
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna suna..
O..
Enna suna
O..
Enna suna
O..
O…
Ho
تم نے کبھی بتایا نہیں تھا یہاں کالج میں مراثی بھی ہوتے ہیں۔دیدار شاہ کی غصے سے بھری آواز سن کر آروش سٹپٹا کر اُس کو دیکھنے لگی نقاب ہونے کی وجہ سے دیدار شاہ اُس کے چہرے کے تاثرات جان نہیں پایا۔
ایسی بات نہیں لالہ میں خود یہاں کسی کو پہلی بار گاتا دیکھ رہی ہوں۔آروش نے جلدی سے کہا
تمہیں دیکھنے کی ضرورت نہیں اور اُٹھو چلو یہاں سے لیا تو کھانے کا تم نے کجھ نہیں اگر بھوک ہے تو راستے میں خرید کر دے دوں گا۔دیدار شاہ کی آواز میں جھنجھلاہٹ صاف ظاہر تھی۔
لالہ میرا فیورٹ سونگ ہے یہ۔آروش نے منت بھرے لہجے میں کہا جانے کیوں اُس کا دل کررہا تھا وہ یہ گانا اُس لڑکے کے منہ سے پورا سُنے۔
گاڑی میں سن لینا۔دیدار جیسے آج کجھ سننے کو تیار نہیں تھا۔
چلیں۔آروش بے دلی سے کہہ کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔
باہر جانے کے لیے وہ جیسے ہی دروازہ کے قریب آنے لگے تو وہاں بہت اسٹوڈنٹ جمع تھے کجھ لڑکوں کو دیکھ کر دیدار شاہ نے دانت پیسے
واپس چلو۔دیدار نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
ہم نے تو باہر نہیں جانا تھا؟آروش نے حیرت سے کہا
اب کیا ان لڑکوں کے درمیان گُزار کر باہر لے چلوں گا۔دیدار جل کے بولا تو آروش مسکراہٹ دباتی اُس کے ساتھ واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گئ۔
Kol Hove te
Saik lagda Ae
Dour jave te
dil jalda Ae
Kehdi Aag naal
Rabb nay banaya
Rabb nay banaya
Rab nay banaya
یمان کو گانا گاتا دیکھ کر جانے اُس کے دل میں کیا آیا جو بیگ سے ایک چِٹ نکالی پھر ایک چور نظر دیدار شاہ کو دیکھ کر اُس نے چٹ پہ لکھنا شروع کیا۔
تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے سُننے والا سحر میں جکڑ جاتا ہے۔
سیدہ آروش شاہ!
اپنی لکھی ہوئی تحریر پڑھ کر اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جس کا احساس اُس کو خود بھی نہیں ہوا۔
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Enna Suna kyun
Rabb nay banaya
Aavan javan te main
Yaara nu manaawan
Aavan javan te main
Yaara nu manaawan
Enna suna
O..
Enna suna
O..
Enna suna
O..
Enna suna
O..
Enna suna
O..
گانا ختم ہوا تو دیدار شاہ نے اُس کو اُٹھنے کا اِشارہ کیا آروش کجھ ضروری کام کا کہتی کلاس میں واپس آئی آج لائبریری میں ہوئے واقع کے بعد تھوڑا بہت اُس نے یمان کا نوٹس لیا تھا جس سے اُس کو یہ پتا چل گیا تھا وہ بیٹھتا کہاں ہیں کجھ سوچ کر اُس نے وہ چِٹ اُس کی سیٹ پہ چپکادی وہ نہیں جانتی تھی وہ جو حرکت کررہی تھی ٹھیک تھی یا نہیں پر اُس کے اندر ایک تمنا اُبھری تھی جس وجہ سے اُس نے کیا۔چٹ لگانے کے بعد وہ بنا تاخیر کیے کلاس سے باہر چلی گئ اُس کے جانے کے عین وقت بعد یمان کلاس میں داخل ہوا تھا۔








اب ایک ہفتہ حویلی میں رہنا۔شھباز شاہ محبت سے آروش کا ماتھا چوم کر بولے۔
نو بابا سائیں آج کا دن کل ہفتے کا دن ہے وہ دن رہوں گی پھر اُتوار کو واپس شہر جانا پڑے گا کیونکہ اب ایکزیمز بھی قریب ہے تو بہت ٹف روٹین ہے۔آروش نے جلدی جلدی سے بتایا۔
یہ تو اب غلط بات ہم تو تمہاری صورت دیکھنے کو بھی ترس گئے ہیں۔کلثوم بیگم جوس کا گلاس اُس کی طرف بڑھا کر بولی۔
تو آپ بھی آجایا کریں نہ بابا سائیں کے ساتھ اُور حریم کو بھی لایا کریں۔آروش اُن کی بات پہ مسکراکر گود میں بیٹھی حریم کو دیکھ کر کہا جو اُس کو اتنے مہینوں بعد سامنے دیکھ کر بچی بن گئ تھی۔
آ تو جاؤں پر اپنی دادی کا تو تمہیں پتا ہے۔کلثوم بیگم کی بات پہ آروش نے لب دانتو تلے دبایا
جی جی پتا ہے ویسے وہ ہیں کہاں؟آروش نے شھباز شاہ کی جانب دیکھ کر پوچھا
اُن کی عبادت کا وقت ہے اپنے کمرے میں ہیں۔کلثوم بیگم نے بتایا۔
اگر تم تھک گئ ہو تو آرام کرلوں۔شھباز شاہ نے کہا
جی جاتی ہوں اور اِس کو بھی ساتھ لیکر جاتی ہوں۔آروش حریم کو گود سے اُتار کر بولی۔
حریم نے بھی بہت یاد کیا ہے تمہیں۔شھباز شاہ حریم کے گال کھینچ کر بولے تو حریم نے منہ بسورا
ڈرامے باز ہے۔آروش اُس کی شکل دیکھتی ہنس پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔. . . ۔۔۔۔۔۔۔۔
آروش کمرے میں آئی تو اُس کو کالج میں گُزرا سارا وقت یاد آنے لگا۔
مجھے چٹ نہیں لکھنی چاہیے تھی جانے وہ اب میرے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا اگر کسی کو پتا چل گیا حویلی میں تو بہت بُرا ہوگا خوامخواہ اُس لڑکے کو بھی خطرہ نہ ہو۔آروش کمرے میں یہاں وہاں ٹہلتی فکرمندی سے بڑبڑائی۔
کجھ نہیں ہوگا تھنک پوزیٹیو آروش۔آروش گہری سانس کھینچتی خود کو پرسکون کرتی بیڈ پہ سونے کے لیے لیٹ گئ








حال!
میں آپ کا انتظار ساری زندگی کرنے کو تیار ہوں پر آپ پلیز ایک بار کہہ دے آپ کو مجھ پہ اعتبار ہے آپ کہے گی مرجاؤ تو میں سچ میں مرجاؤں گا۔
یمان اسٹوڈیو آیا تو ماضی میں کہے جملے کی بازگشت اُس کو بار بار سُنائی دے رہی تھی جو اُس کو نئے سِرے سے تکلیف سے دوچار کررہی تھی۔
میں کیسے کرسکتا ہوں کسی اور سے شادی میں شادی کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہوں۔یمان اپنے کیبن سے یہاں وہاں ٹہلتا اپنی کنپٹی سہلاتے بڑبڑایا اچانک اُس کو گُھٹن کا احساس ہونے لگا تو اپنی شرٹ کے اُپری بٹن کُھولتا کھڑکی کے پاس کھڑا ہوگیا
اُس کی تم فکر نہیں کرو روزی بہت اچھی ہے تمہارا بہت خیال رکھے گی تم دونوں ہمیشہ خوش رہوگے۔
مسزا دلاور کی بات یاد آنے پہ اُس نے زور سے اپنی آنکھوں کو بند کرکے کھولا۔
یااللہ میں کیا کروں۔یمان پریشانی سے اپنا سینہ مسلنے لگا اُس کو اپنی حالت غیر ہوتی محسوس ہورہی تھی۔تبھی ارمان کیبن میں داخل ہوا۔
سر شیرازی انڈسٹری کے مالک آپ سے ملنے آئے ہیں۔ارمان نے یمان کو دیکھ کر کہا
تم بات کرلوں میری طبیعت ٹھیک نہیں۔یمان اتنا کہتا صوفے پہ بیٹھ گیا۔
سر آپ ٹھیک ہیں آپ کو پسینہ کیوں آرہا ہے۔ارمان فکرمندی سے اُس تک پہنچا
میں ٹھیک ہوں بس سینے میں درد ہورہا ہے۔یمان اُٹھنے کی کوشش کرتا بولا پر اُس سے اُٹھا نہیں گیا۔
آپ بیٹھے میں پانی لاتا ہوں پھر ہم ہاسپٹل چلتے ہیں۔ارمان جلدی سے ٹیبل سے پانی کا جگ اُٹھاتا پانی گلاس میں انڈیلنے لگا۔
یہ ل
ارمان کی بات منہ ہی رہ گئ جب اُس نے یمان کو ہوش وحواس سے بیگانہ پایا۔







نور میری جان تم کب آئی۔مسز دلاور جیسے ہی گھر پہنچی تو وہاں اپنی بیٹی نور کو دیکھ کر اُن کو خوشگوار حیرت نے آ گھیرا۔
بس ابھی سوچا اچانک آکر آپ کو سرپرائز دے دوں۔نور مسکراکر گرمجوشی سے اُن سے مل کر بولی۔
جھوٹی مجھے کیا کہا تھا فلائٹ کینسل ہوگئ ہے بتادیتی ہم ایئرپورٹ آجاتے۔مسز دلاور ہلکا سا تھپڑ اُس کے بازوں پہ مار کر بولی تو ہنس پڑی
ضرور بتادیتی اُس سے کیا ہوتا آپ کے یہ حیرانکن ایکسپریشن دیکھنے سے محروم ہوجاتی۔نور نے مزے سے بتایا
اچھا بچے کہاں ہیں وہ ساتھ نہیں لائی؟مسز دلاور کو اچانک خیال آیا تو پوچھا
اُن کے بنا کیسے آسکتی تھی تھک گئے ہیں آتے ہی سوگئے اور ڈیڈ کہاں ہیں؟نور نے بتانے کے بعد پوچھا۔
کہاں ہونا ہے اُن کو اپنے آفس میں ہیں تمہارے آنے کا پتا ہوتا تو یہی ہوتے۔مسز دلاور نے ہنس کر بتایا۔
او اچھا اچھا یمان کیسا ہے اب؟نور کی بات پہ انہوں نے افسردہ سانس کھینچی۔
ٹھیک ہے بس۔مسز دلاور نے بتایا
اُس کی شادی کا کجھ سوچا آپ نے ماشااللہ سے اتنا نام بنالیا ہے اُس نے اب شادی کروادے کسی اچھی لڑکی کے ساتھ۔نور صوفے پہ رلیکس انداز میں بیٹھ کر بولا
وہ تو ان شاءاللہ اب ہوگی تم ابھی آئی ہو ریسٹ کرو کیا ساری باتوں کو ابھی لیکر بیٹھ گئ ہو۔مسز دلاور نے پیار سے اُس کو ڈپٹا۔
میم یہ کال آپ کے لیے۔وہ دونوں باتوں میں مگن تھی جب ملازم اصغر نے مسز دلاور کو موبائل دے کر چلاگیا۔
ہیلو۔مسز دلاور نے ابھی اتنا ہی کہا تھا جب دوسری طرف ملنے والی خبر نے اُن کے چودہ طبق روشن کردیئے۔






یہ میڈیسن بوکس کس کو دینے جارہی ہو؟کلثوم بیگم نے ملازمہ جس کا نام زرینہ تھا اس کو میڈیسن کا بوکس ہاتھ میں لیے سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو پوچھا
وہ جی آروش بی بی نے منگوایا ہے۔زرینہ نے بتایا
خیریت؟کلثوم بیگم پریشان ہوئی۔
جی پتا نہیں بس انہوں نے کہا تو میں بس دینے جارہی تھی۔زرینہ نے لاعملی کا مظاہرہ کیا۔
اچھا تم کوئی اور کام دیکھو میں آروش کے پاس جاتی ہوں۔کلثوم بیگم اُس کے ہاتھ سے بوکس لیکر بولی تو وہ سرہلاکر چلی گئ۔
آروش کیا ہوا ہے۔کلثوم بیگم آروش کے کمرے میں آئی تو اُس کو بیڈ پہ لیٹا دیکھ کر فکرمندی سے گویا ہوئی۔
سر میں درد ہے بس۔آروش نے آہستہ آواز میں کہا۔
تمہیں تو بہت تیز بخار ہے۔کلثوم بیگم نے اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو پریشانی سے بولی۔
بُخار ہوگا پھر۔آروش لاپرواہی سے بولی تو کلثوم بیگم نے اُس کو گھورا۔
اُٹھو اور دوائی کھاؤ۔کلثوم بیگم پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھاکر بولی تو آروش ایک نظر اُن کو دیکھ کر بیٹھ گئ۔
آرام کرو اب اگر بخار کم نہ ہو تو بتانا ڈاکٹرنی کو بلا لینگے۔آروش نے دوائی کھالی تو کلثوم بیگم نے آرام کرنے کی تلقید کی جس پہ اُس نے محض سرہلانے پہ اکتفا کیا۔
