Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 36)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

بابا سائیں۔ آروش نے اُن کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر جیسے اُن کو اپنی موجودگی کا احساس کروانا چاہا

آرو تم یہاں کب آئی؟ شھباز شاہ جیسے گہری نیند سے جاگے۔

صبح سے یہی ہوں آپ کو دیکھ رہی ہوں کیا ہوا یہ آپ کی آنکھوں میں نمی کیوں ہے؟ آروش ہاتھ بڑھاکر اُن کی آنکھوں میں موجود نمی صاف کیے پوچھنے لگی۔

صبح ہوگئ ہے؟ شھباز شاہ حیران ہوئے۔

جی بابا سائیں صبح ہوگئ ہے اور آج آپ نے فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی لگتا ہے ساری رات آپ سوئے بھی نہیں۔ آروش نے گہری سانس بھر کر بتایا۔

میں قضا پڑھ لوں۔ شھباز شاہ اُٹھ کر بولے تو آروش نے اُن کا ہاتھ تھاما

کیا ہوا ہے آپ کو کیا کوئی بات ہے جو آپ کو پریشان کررہی ہے مجھے بتائے۔ آروش کے لہجے میں فکرمندی کا عنصر نمایاں تھا۔

کوئی بات نہیں ہے تم پریشان مت ہو۔ شھباز شاہ زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولے۔

اچھا۔ آروش کو یقین تو نہیں آیا مگر زیادہ اصرار بھی نہیں کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شازل اور ماہی حویلی پہنچے تو شازل سے سب گرمجوشی سے ملے مگر اُس کے ساتھ کھڑی ماہی کو شعلہ برساتی نظروں سے دیکھا تو ماہی شازل کے پیچھے کھڑی ہوگئ تھی۔

اِس کو ساتھ لائے ہو تو اب یہ یہی رہے گی ونی بن کر تاکہ اپنی اوقات یاد رکھے۔ فردوس بیگم حقارت بھرے لہجے میں ماہی کو دیکھ کر کہا تو ماہی نے زور سے شازل کا بازوں دبوچہ جس پہ شازل نے اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ دے کر اپنے ہونے کا اعتماد بخشا۔

میری بیوی ہے یہ اور اِس کی اوقات کیا ہے وہ آپ لوگوں میں سے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ شازل بے تاثر نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا

شازل

سفر لمبا تھا ہم تھک گئے آرام کرنا چاہتے ہیں۔ فردوس بیگم کجھ کہنا چاہ رہی تھی مگر وہ اُن کی ان سنی کرتا ماہی کو اپنے حصار میں لیتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔

ایسی بے حیائی تو پہلے کسی نے حویلی میں نہیں کی۔ فردوس بیگم کو شازل کا ایسا بے باک انداز ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔

تم یہی بیٹھو میں آروش سے مل آؤں۔شازل ماہی کو کمرے میں چھوڑتا اُس سے بولا۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ماہی نے کہا

ڈر کیوں۔شازل اُس کی جانب دیکھتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔

بس لگ رہا ہے۔ماہی نے کہا تو شازل نے گہری سانس لی۔

یہاں بیٹھو۔شازل نے اُس کو بیڈ پہ بیٹھنے کا اِشارہ کرنے لگا اور خود اُس کے ساتھ بیٹھا۔

تمہیں اگر میرے گھروالوں سے ڈر لگ رہا ہے تو ڈرنا چھوڑدو میں تمہارے ساتھ ہوں اور آج نہیں تو کل تمہارے بھائی کی بے گُناھی سب کے سامنے لاکر رہوں گا۔شازل اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتا یقین دلانے کی کوشش کرنے لگا۔

اُس سے کیا ہوگا میرے گھروالے مجھے اپنے ساتھ لیکر چلے جائے گے کیا میرے جانے سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ماہی نے آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا جیسے اُس کو یقین ہو شازل کہے گا تمہیں میں جانے نہیں دوں گا اپنے پاس رکھوں گا ہمیشہ کے لیے

جو وقت آیا نہیں اُس کے بارے میں ابھی سے کیا سوچنا وہ تمہارا گھر ہے اگر تم وہاں جاؤں گی تو مجھے کیا اعتراض ہوگا۔شازل کے جواب نے چھناک سے اُس کے خوابوں کا محل توڑا تھا

ہمممم ٹھیک کہا آپ نے۔ ماہی نے شازل کا ہاتھ اپنے گال سے ہٹاکر کہا

ماہی۔شازل کو بُرا لگا۔

آپ کو آروش کے پاس جانا تھا نہ جائے پھر۔ ماہی اُٹھ کھڑی بولی تو شازل بس اُس کو دیکھتا رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آروش تم فری ہو؟ شازل آروش کے کمرے کا دروازہ نوک کرتا بولا

السلام علیکم لالہ جی میں فری ہوں آپ آئے۔ آروش نے مسکراکر کہا

وعلیکم السلام تم سے پوچھنا تھا یہ حریم کی شادی اتنی جلدی کیوں اُس نے تو ابھی پڑھنا تھا نہ۔ شازل بیڈ پہ بیٹھتا اُس سے پوچھنے لگا۔

بس خالہ جان نے حریم کا رشتہ مانگا تو اماں سائیں نے انکار نہیں کیا دُرید لالہ کو بھی اعتراض نہیں۔ آروش نے کندھے اُچکائے۔

اور حریم کیا وہ راضی ہے اہم تو اُس کی رضامندی ہے نہ؟ شازل نے کہا۔

درید لالہ نے اُس کو راضی کرلیا ہے آپ اُس کی ٹینشن نہ لے یہ بتائے آپ کی زندگی کیسی چل رہی ہے؟ آروش نے بات کا رخ اُس کی جانب موڑا

اچھی چل رہی ہے۔شازل نے بس یہ کہا

کیا آپ پریشان ہیں؟آروش نے اندازہ لگایا

نہیں پریشان تو کوئی نہیں بس میں چلتا ہوں بابا سائیں اور اماں جان سے ملنا ہے۔شازل اُٹھ کر بولا تو آروش نے سراثبات میں ہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

مطلب اب فائنلی ہم اپنی بہن سے ملے گے میں زرگل زرفشاں زرنور کو پاکستان بُلواتی ہوں۔نور پرجوش آواز میں اپنی سب بہنوں کو نام لیتی دلاور خان اور زوبیہ بیگم سے بولی

نہیں ابھی نہیں حور آجائے ایک بار اُس کے بعد۔زوبیہ بیگم اُس کی خوشی دیکھ کر مسکراکر بولی۔

ڈیڈ ویسے وہ تھی کیسی مطلب ہم بہنوں پہ گئ ہیں یا موم پہ؟نور نے اشتیاق بھرے لہجے میں اُن سے پوچھا

بھئ میری بیٹی تو مجھے پہ گئ ہے۔دلاور خان اپنے ہاتھ اُپر کیے فخریہ انداز میں بولے

ہیں واقع؟نور کا منہ بن گیا۔

آنکھیں تو پوری مجھ پہ گئ ہوگی پھر؟زوبیہ بیگم نے جاننا چاہا

لگتا ہے جب وہ پیدا ہوئی تھی تم نے غور نہیں کیا تھا پر میں نے اپنی بچی پہ غور کیا تھا اُس کی آنکھوں کا رنگ ہم سب سے مختلف تھا۔دلاور خان نے مسکراکر بتایا۔

السلام علیکم۔ یمان نے سب کو ایک ساتھ بیٹھا پایا تو خود بھی وہاں آگیا۔

وعلیکم السلام کیسے ہو؟لاہور کی فلائٹ کب ہے تمہاری؟زوبیہ بیگم نے سلام جا جواب دینے کے ساتھ پوچھا

پڑسو کی فلائٹ ہے۔یمان نے بتایا پھر اپنے سیل فون میں بزی ہوگیا

اچھا ڈیڈ یہ بتائے پھر کونسا کلر ہے اُس کی آنکھوں کا ہمیں تو بتایا ہی نہیں کبھی اُس کے بارے میں؟نور نے سلسلہ کلام وہی سے جوڑا

شہد رنگ کی آنکھیں ہیں۔دلاور خان نے مسکراکر بتایا تو اپنے سیل فون پہ کجھ ٹائپنگ کرتے یمان کے ہاتھ کجھ پل کے لیے تھمے تھے۔

کس کی آنکھوں کا رنگ شہد ہے؟یمان کے لہجے میں بے قراری صاف عیاں تھی جو اپنی خوشی میں مگن وہ تینوں محسوس نہیں کرپائے۔

ہماری پانچویں بیٹی حور کی آنکھوں کا رنگ شہد ہے۔زوبیہ بیگم نے مسکراکر بتایا

اچ اچھا۔یمان زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شاہ سائیں آخر ایسی کیا بات ہے جو آپ کو پریشان کررہی ہیں پلیز مجھے بتائے۔کلثوم بیگم فکرمند لہجے میں شھباز شاہ سے بولی جو اُن کو بہت کھوئے کھوئے سے لگ رہے تھے

مجھے بددعا لگ گئ کلثوم۔شھباز شاہ غیر معی نقطے کو گھور کر اُن سے بولے

بددعا کس کی؟یہ آج آپ کیا بول رہے ہیں؟کلثوم بیگم اُن کے ساتھ بیٹھ کر بولی۔

فراز احمد کی۔شھباز شاہ کی بات پہ کلثوم بیگم ساکت ہوئی تھی۔

فراز احمد کومل کا باپ؟کلثوم بیگم اپنے خوف کو قابو میں کیے پوچھنے لگی تو شھباز شاہ نے گردن موڑ کر کلثوم بیگم کو دیکھا جن کے چہرے کی رنگت اُڑی ہوئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی!

آرو ٹھیک سے کھاؤ سارا عبایا اپنا خراب کردیا۔شھباز شاہ ڈیڑے پہ بیٹھے تھے جہاں اِس وقت اُن کے ساتھ کوئی تھا کیونکہ آج وہ اپنے ساتھ چودہ پندرہ سالہ آروش کو لیکر آئے تھے جو عبایا اور حجاب پہنے اُن کے ساتھ بیٹھی آئسکریم کھا کم گِرا زیادہ رہی تھی اور شھباز شاہ اپنی شال سے اُس کی آئسکریم صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کو سمجھا بھی رہے تھے۔

میں نے تو ایسے ہی کھانی ہے۔آروش شرارت سے کہتی اِس بار آئسکریم شھباز شاہ کی ناک پہ لگائی تو وہ غصہ کرنے کے بجائے ہنس پڑے۔

تمہاری ماں ٹھیک کہتی ہے پوری شیطان کی اماں بن گئ ہو۔شھباز شاہ اپنی ناک صاف کیے مصنوعی گھوری سے نواز کر بولے۔

ہممم اماں جان یہ بھی ٹھیک کہتی ہے یہ سب شاہ سائیں(کلثوم بیگم کی نقل اُتارتے ہوئے)آپ کا کیا دھڑا ہے۔آروش کے انداز پہ شھباز شاہ کا قہقہقہ بلند ہوا تھا ابھی وہ کجھ کہتے اُس سے کے کوئی غصے میں اُن کے ڈیڑے میں اندر داخل ہوئے تھے جب کی کجھ لوگ جو اُس کو روک رہت تھے وہ دروازے کے پاس ہی کھڑے ہوگئے

شھباز شاہ۔سامنے والے آدمی نے غصے سے اُن کا نام لیا تو آروش کانپ کر شھباز شاہ کے پیچھے چُھپ گئ۔

کون ہو تم اور اِس گستاخی کا نتیجہ جانتے ہو۔شھباز شاہ نے کڑک آواز میں کہا

بہت اچھے سے جانتا ہوں نتیجہ تم کر ہی کیا سکتے ہو سِوائے معصوم لوگوں کو ق*ت*ل کروانے کے علاوہ۔آدمی کا لہجہ حددرجہ گُستاخ تھا۔

اپنے آنے کا مقصد بیان کرو اور جاؤ ورنہ تمہاری لاش کُتوں کو بھی نہیں ملے گی۔شھباز شاہ آروش کی موجودگی کا لحاظ کیے اُس سے بولے

تمہیں پتا ہے میں کون ہوں؟اُس نے پوچھا

نہ جانتا ہوں اور نہ جاننا چاہتا ہوں۔شھباز شاہ کا لہجہ غرور سے بھرا ہوا تھا

فراز احمد ہوں میں کومل کا باپ جس کا تم نے بے رحمی سے ق*ت*ل کیا تھا۔فراز آدمی شخص نے کہا تو شھباز شاہ کے دماغ میں کجھ کلک ہوا

میں نے کوئی ق*ت*ل نہیں کیا۔شھباز شاہ انجانے بنے۔

تم نے نہ کیا ہو اپنے بھتیجے سے تو کروایا نہ میری بات ہمیشہ یاد رکھنا میں اپنی بیٹی کے ق*ت*ل کا بدلا ایک دن ضرور تم سے لوں گا وہ کوئی لاوارث نہیں تھی۔فراز نے چیخ کر کہا

جس کے سامنے تم کھڑے ہوکر دھمکی دے رہے ہو اگر وہ چاہے تو ابھی تمہارا سینہ گ*ول*ی*وں سے چ*ھل*نی کرسکتا ہے۔شھباز شاہ اپنی ب*ن*د*وق اُٹھا کر اُس سے بولے

بابا۔آروش سسک پڑی اُس کی آواز پہ فراز کی نظر آروش پہ پڑی

آرو میری جان ڈرو نہیں بابا ہیں تمہارے پاس۔شھباز شاہ جھک کر اُس سے بولے

لگت ہے بیٹی بہت عزیز ہے۔فراز کی بات پہ شھباز شاہ نے شعلہ برساتی نظروں سے اُس کو گھورا

ایک دن ایسا آئے گا جب تمہاری بیٹی تمہاری آنکھوں کے سامنے کوئی لیکر جائے گا اور تم خاموش تماشائی بننے کے علاوہ کجھ نہیں کر پاؤ گے اُس دن تمہیں احساس ہوگا کے جوان بیٹی کے م*ر*نے کا دُکھ کیا ہوتا ہے۔فراز کی بات سن شھباز شاہ آروش سے الگ ہوتے اپنی ب*ن*د*وق اٹھا کر اُس پہ فائیر کیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حال!

کون ہماری بچی کو لیکر جائے گا؟کلثوم بیگم نے پوچھا

دلاور خان اپنی امانت واپس لینے آیا ہے۔شھباز شاہ کی بات سن کر کلثوم بیگم جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی

امانت؟کونسی امانت وہ امانت جو چوبیس سال پہلے اُنہوں نے دی تھی اُن کو اب خیال آیا ہے کے ان کی کوئی امانت آپ کے پاس رہتی ہے ان سالوں میں وہ کہاں تھے اُن کو پہلے خیال کیوں نہیں آیا یہ اچانک اتنے سالوں بعد آیا اُس سے پہلے کبھی ملنے تک تو نہیں آئے خیر وخبر تک نہیں لی اپنی بیٹی اور اب آگئے ہیں اپنی امانت لینے۔کلثوم بیگم چیخ کر بولی تو شھباز شاہ نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا

یہ دن تو آنا تھا۔شھباز شاہ اپنے دل پہ پتھر رکھ کر بولے۔

آروش کہی نہیں جائے گی وہ ہماری بیٹی ہے۔کلثوم بیگم جذباتی ہوئی۔

خود کو تیار کرو کلثوم مجھے کسی مشکل امتحان میں مت ڈالوں کیونکہ میں پہلے سے پریشان ہوں کے ساری حقیقت سے سب کو کیسے واقف کرنا ہے۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا

شاہ سائیں

کلثوم بیگم نے کجھ کہنا چاہا

بس کلثوم شھباز شاہ نے اُن کو آگے بولنے سے باز رکھا جب کی کلثوم بیگم اپنے آنسو پہ بندھ باندھنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ حریم علی ولد فردین علی ‘تابش ولد محمد خان کو دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

دولہن کے جوڑے میں ملبوس لال چنڑی خود پہ اوڑھے وہ نکاح کے لیے خود کو تیار کیے بیٹھی اُس کے کمرے میں آج عورتوں کا مجموعہ اکھٹا تھا جن کا چہرہ بھی اپنے اپنے ڈوپٹوں میں چُھپا ہوا تھا وجہ وہاں کمرے میں دیدار شاہ دُرید شاہ اور شازل شاہ کا ہونا تھا آج کے دن کے لیے کجھ خواب اُس نے بھی سجائے تھے اور وہ بس یہ تھا دُرید شاہ کی دولہن ہونا مگر آج جو خود پہ لال چُنڑی اوڑھی تھی اُس بڑے حروف میں تابش کی دولہن لکھا ہوا تھا دوسرا ستم اُس پہ یہ تھا نکاح کی رضامندی جاننے کے لیے مولوی صاحب نہیں بلکہ وہ ستمگر خود تھا جو اُس کی خواہشات کا گلا دبانے کے بعد اُس سے اُس کی رضامندی مانگنے آیا تھا اِس وقت اُس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا مگر آنکھیں بنجر تھی اور لبوں پہ جیسے خاموشی کا قفل لگ گیا تھا۔

حریم۔فاریہ بیگم نے آہستہ سے اُس کا نام لیا تاکہ وہ ہوش کی دُنیا میں آئے۔

یہ محبت کا بھوت اپنے دماغ سے اُتاردو حریم میں بس یہ کہنا چاہ رہا ہوں جمعہ کو تمہارا نکاح ہے تابش سے اپنا مائینڈ سیٹ کرلینا اگر تم یہ سمجھی ہوں بابا سائیں کی باتوں میں آکر میں تم سے شادی کرنے پہ رضامندی ظاہر کرلوں گا تو ایسا کجھ نہیں ہونے والا۔

قبول ہے!

دُرید کے الفاظ کانوں میں ابھی بھی گونج رہے تھے اپنے دل پہ پتھر رکھ کر اُس نے بھرائی ہوئی آواز میں قبول ہے کہا جس کو سن کر ہاتھ میں تھامے نکاح نامے سے نظریں ہٹاکر دُرید شاہ نے اُس کو دیکھا جو عورتوں کے درمیان چھپ سی گئ تھی۔

آپ حریم علی ولد فردین علی ‘تابش ولد محمد خان کو دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

عقل سے کام لو میرا ساتھ تمہیں محرومیوں کے سوا کجھ نہیں دے سکتا تم ایک بہت اچھی خوبصورت لائیف ڈیزرو کرتی ہوں اور وہ لائیف میں تمہیں نہیں دے سکتا

قبول ہے!

اُس نے دُرید شاہ کی آواز سے جان چھڑوانا چاہی۔

آپ حریم علی ولد فردین علی ‘تابش ولد محمد خان کو دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت میں اپنے نکاح میں۔۔۔۔۔۔۔ قبول ہے۔

تیسرے بار جب دُرید شاہ نے اُس سے پوچھا تو اُس کا دل چاہا انکار کردے مگر اُس دن اپنی کہی باتیں یاد آئی تو اپنی تمام خواہشات کے ساتھ اِس خواہش کو بھی ختم کردیا۔

قبول ہے!

حریم کے تیسری بار قبول ہے کہنے پہ مبارک باد کا شور اُٹھا۔

مبارک ہو میری بچی۔کلثوم بیگم اُس کا ماتھا چومتی بولی۔

مبارک ہو لالہ۔شازل دُرید شاہ کے گلے ملتا بولا تو دُرید اُس سے ملتا نکاح نامہ لیکر حریم کی جانب آیا تاکہ اُس کے دستخط لے سکے۔

حریم۔دُرید نے اُس کے سامنے نکاح نامہ رکھا پھر پین بڑھائی تو حریم نے اُس کے ہاتھ سے پین پکڑ کر نکاح نامے پہ دستخط کرنے لگی تو اُس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر نکاح نامے والی جگہ پہ گِرا تو دُرید نے اُس کے سر پہ ہاتھ رکھا

مجھے حریم سے کجھ بات کرنی ہے۔دُرید نے گھمبیر آواز میں وہاں کھڑے سب لوگوں سے کہا تو سب باری باری کمرے سے باہر چلے گئے تو حریم نے چُنڑی اُتار کر دوری کی اُس کو اپنا سانس رُکتا محسوس ہورہا تھا۔

حریم۔دُرید اُس کے خوبصورت سِراپے سے نظریں چُراتا اُس کو آواز دینے لگا مگر حریم کی طرف سے مکمل طور پہ خاموشی تھی اُس نے کوئی جواب نہیں دیا ایسے بنی رہی جیسے کجھ سُنا ہی نہ ہو اُس کا ایسا رویہ دیکھ کر دُرید نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔

تم ہمیشہ خوش رہوں گی دیکھنا کجھ وقت بعد تمہیں یہ سب یاد نہیں رہے گا۔دُرید شاہ نے دولہن بنی حریم سے کہا جس نے ایک لفظ تک نہیں بولا تھا بلکل خاموش تھی جیسے بولنا ہی بھول چُکی ہو۔

تم خاموش کیوں ہو کجھ بول کیوں نہیں رہی۔دُرید نے کہا تو حریم نے زخمی نظروں سے اُس کو دیکھا جس سے دُرید نظریں چُراگیا۔

آپ نے ہمارے ساتھ جو کیا ہے نہ وہ ہم کبھی نہیں بھولے گے ہم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گے ہم بہت دور چلے جائے گی آپ کی زندگی سے اتنا کے آپ ہماری پرچھائی دیکھنے کے لیے بھی ترس جائے گے مگر حریم نام کی کسی چیز لڑکی کا آپ کا سامنا نہیں ہوگا آپ نے ہمارے دل پہ وار کیا ہے ہمیں لہولہان کیا ہے آپ نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے نہ اُس کا احساس آپ کو ان شاءاللہ ایک دن ہوجائے گا مگر تب بہت دور ہوچکی ہوگی اُس وقت آپ کے پاس سِوائے پچھتاوے کے کجھ نہیں ہوگا۔حریم بنا دُرید کی جانب دیکھ کر پتھریلے لہجے میں گویا ہوئی تو دُرید کو وہ کہی سے بھی وہ نارمل نہیں لگی یہ وہ حریم نہیں تھی جس کو وہ جانتا تھا یہ تو جانے کون تھی جس کے لہجے میں نہ شوخ پن تھا نہ شرارت تھی۔

تمہاری یہ باتیں مجھے تکلیف پہنچا رہی ہیں۔دُرید نے کہا

وہ تکلیف آپ محسوس نہیں کرسکتے جو ہم پچھلے ایک ماہ سے برداشت کرتے آئے ہیں اور جو اب ساری زندگی سہے گی آپ ہمیں زندہ قبر میں دفنادیتے مگر یہ شادی نہ ہونے دیتے۔حریم پوری قوت سے چیخ کر اُس کا گریبان پکڑ کر بولی تو اُس کی کلائیوں میں موجود چوڑیوں کا شور برپا ہوا اور شاید دُرید شاہ کے دل میں بھی وہ آج حشر برپا کرچُکی تھی دُرید اپنی حالت سے گھبراہٹ کا شکار ہوتا اُس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا فاصلے پہ کھڑا ہوا۔

آپ نے ماما جان کا بدلا ہم سے لیا ہے اگر آپ کو آپ کی محبت نہیں ملی تو آپ نے ہم سے بھی ہماری محبت چھین لی ماما جان سے انتقام لینے کے چکر میں آپ نے ہمیں کہی کا نہیں چھوڑا ہمارے دل میں ہمارے دماغ میں ہمارے جسم میں آپ خون کی مانند ڈورتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی آپ نے ہمارا نکاح کسی اور سے کروادیا ہمیں گنہگار بنادیا۔حریم اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی اُس سے بول کر نیچے فرش پہ بیٹھتی چلی گئ دل میں موجود سارا غبار اب نکل پڑا تھا دوسری طرف دُرید جو اپنی حالت سے پریشان تھا حریم کو یوں پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھا تو گھنٹوں کے بل آتا اُس کے پاس بیٹھا

حریم۔دُرید نے اُس کو سہارا دینا چاہا

مرگئ حریم آپ نے مار دیا حریم کو اگر ہمارے ساتھ یہی سب کرنا تھا تو اپنے بہت پاس کرکے یوں اجنبی کیوں کردیا؟ہمیں آپ کا یہ وقتی سہارا نہیں چاہیے بلکہ ہمیں آپ کی شکل تک نہیں دیکھنی خدارا یہاں سے چلے جائے کبھی ہمیں اپنی یہ شکل مت دیکھائیے گا کیونکہ ہم جب جب آپ کا یہ چہرہ دیکھے گے ہمیں ہمارا خسارا یاد آئے گا۔حریم ہذیاتی انداز میں چیخ کر بولی تو دُرید کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی اُتری تھی وہ حریم کو اِس حال میں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا مگر اُس کا رونا اُس سے دیکھا نہیں جارہا تھا تبھی ایک جھٹکے سے اُٹھ کر اُس کے کمرے سے چلاگیا۔

یااللہ یہ ہم سے کیا کروادیا کیوں ہمارے دل میں دُر لا کی محبت ڈالی جب قسمت میں کسی اور کا ساتھ دیا تھا ہم کیسے اِس بوجھ کے ساتھ زندگی جیئے گے کے ہم نے اتنا بڑا گُناہ کردیا کسی غیر کی محبت اپنے سینے میں ڈال کر۔حریم اپنا چہرہ ہاتھوں میں چُھپاتی زاروقطار رونے لگی آج اُس کی حالت آروش سے زیادہ بدتر تھی۔جہاں کجھ سال پہلے آروش شاہ تھی وہاں آج حریم علی تھی تاریخ جیسے دوبارہ سے پلٹ آئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *