Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 05)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 05)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
جینے بھی دے دُنیا ہمیں
الزام نہ لگا۔۔۔۔۔۔
ایک بار تو کرتے ہیں سب
کوئی۔۔۔۔۔حسین خطا۔۔۔
ورنہ کوئی کیسے بھلا
چاہے کسی کو بے پناہ
اے زندگی۔۔۔۔۔۔۔
توں ہی بتا کیوں عشق ہے
گمان۔۔۔۔۔۔۔
جینے بھی دے دُنیا ہمیں
الزام نہ لگا۔۔۔۔۔۔
ایک بار تو کرتے ہیں سب
کوئی۔۔۔۔۔حسین خطا۔۔۔
ورنہ کوئی کیسے بھلا
چاہے کسی کو بے پناہ
اے زندگی۔۔۔۔۔۔۔
توں ہی بتا کیوں عشق ہے
گمان۔۔۔۔۔۔۔
یمان آنکھیں بند کیے اپنا گٹار ہاتھ میں پکڑے گانا گانے میں مصروف تھا دلاور خان نے اُس کے کمرے سے آواز سُنی تو آہستہ سے کمرے میں داخل ہوکر یمان کو دیکھنے لگے جس کا چہرہ ہمیشہ بے تاثر ہوا کرتا تھا پر اب چہرے پہ ہلکی خوبصورت مسکراہٹ تھی وہ سمجھ گئے تھے اُس کے چہرے پہ سجی مسکراہٹ کی وجہ
خود سے ہی کرکے گفتگو
کوئی کیسے جیے
عشق تو لازمی سا ہے
زندگی کے لیے
خود سے ہی کرکے گفتگو
کوئی کیسے جیے
عشق تو لازمی سا ہے
زندگی کے لیے
دل کیا کریں دل کو اگر
اچھا لگے کوئی جھوٹا سہی
دل کو مگر سچا لگے کوئی
جینے بھی دے دُنیا ہمیں
الزام نہ لگا۔۔۔۔۔۔
ایک بار تو کرتے ہیں سب
کوئی۔۔۔۔۔حسین خطا۔۔۔
ورنہ کوئی کیسے بھلا
چاہے کسی کو بے پناہ
اے زندگی۔۔۔۔۔۔۔
توں ہی بتا کیوں عشق ہے
گمان۔۔۔۔۔۔۔
یمان کو اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی محسوس ہوچکی تھی پر وہ بے نیاز بیٹھتا اپنے کام میں لگا رہا۔
دل کو بھی اُڑنے کے لیے۔۔۔۔
آسماں چاہیے۔۔۔۔۔
کُھلتی ہو جن میں کھڑکیاں۔۔
وہ مقاں چاہیے۔۔۔
دل کو بھی اُڑنے کے لیے۔۔۔۔
آسماں چاہیے۔۔۔۔۔
کُھلتی ہو جن میں کھڑکیاں۔۔
وہ مقاں چاہیے۔۔۔
دروازے سے نکلے ذرہ
باہر کو رہ گُزر
ہر موڑ پہ جو ساتھ ہو
ایسا ہو ۔۔۔۔ہمسفر۔۔
جینے بھی دے دُنیا ہمیں
الزام نہ لگا۔۔۔۔۔۔
ایک بار تو کرتے ہیں سب
کوئی۔۔۔۔۔حسین خطا۔۔۔
ورنہ کوئی کیسے بھلا
چاہے کسی کو بے پناہ
اے زندگی۔۔۔۔۔۔۔
توں ہی بتا کیوں عشق ہے
گمان۔۔۔۔۔۔۔
گانا ختم ہونے کے بعد بھی یمان آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا تو دلاور خان نے اُٹھ کر اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا جس پہ یمان نے اپنی آنکھیں کھول کر اُن کی جانب دیکھا یمان کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر دلاور خان اپنے ہونٹ بھینچ کر رہ گئے۔
آج کی تاریخ میں مینے اُن کو پہلی بار دیکھا تھا۔یمان اُن کی جانب دیکھتا سنجیدگی سے بولا تو دلاور خان اُس کے سامنے بیٹھ کر اُس کا چہرہ تکنے لگا جس کے چہرے پہ اُس کے ذکر پہ عجیب سا سکون تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی!۔
آج یمان کا کالج میں پہلا دن تھا وہ کالج گیٹ کے پاس کھڑا اپنے بیگ سے کجھ تلاش کررہا تھا جب اُس کی نظر کالج گیٹ پہ رُکتی گاڑی پہ پڑی پہلے تو سرسری نظر ڈالنی چاہی پر گاڑی سے عبائے میں ملبوس لڑکی کو دیکھا تو اپنی نظریں نہیں ہٹائی چہرہ بھی حجاب میں چھپا ہوا تھا ساتھ میں ہاتھوں میں دستانے پہنے ہوئے تھے ہاتھ میں چند کتابیں پکڑے وہ نظریں جُھکائے اندر کی طرف بڑھ رہی تھی جیسے ہی وہ یمان کے قریب سے گُزرنے لگی تو یمان نے بے اختیار اپنی نظریں نیچے کرلی اُس سب سے بے نیاز وہ جو کوئی بھی اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئ
تجھے کیا ہوگیا تھا یمان۔اُس کے جانے کے بعد یمان نے اپنے سر پہ چپت لگاکر بڑبڑایا اُس کو اپنی بے اختیاری پہ جی بھر کر شرمندگی محسوس ہورہی تھی اُنہیں سوچوں میں گم ہوتا جیسے ہی اپنی کلاس میں داخل ہوا نظریں سامنے بیٹھے اسٹوڈنٹس کے بجائے لاسٹ سیٹ پہ بیٹھی لڑکی پہ پڑی جو ابھی ویسے ہی بیٹھی تھی اُس کو دیکھ کر اب کی یمان نے جھٹ سے چہرہ دوسری طرف کرکے آنکھوں کو میچا
یااللہ یہ تو یہاں بھی ہیں۔یمان اُپر کی طرف دیکھ کر بولا پھر گہری سانس بھرتا پوری کلاس میں نظریں ڈوراتا پہلی سیٹ کو چھوڑ کر اُس کو بھی جانے کیا سوجھی جو لاسٹ پہ بیٹھ گیا اور ایک چور نظر دوسری طرف ڈالی جہاں وہ سب سے لاتعلق رجسٹر پہ جانے کیا لکھ رہی تھی۔
کیا اِن کو گرمی نہیں ہورہی۔اُس کو دیکھ کر یمان کے دماغ میں پہلا یہی خیال آیا۔
شاید نہیں ہورہی تبھی تو عبائے کے ساتھ ساتھ دستانے پھر حجاب افف اللہ کیا لڑکی ہے ۔یمان اپنی بات پہ جھرجھری لیتا سامنے بورڈ پہ نظریں جمادی کجھ منٹس بعد ٹیچر داخل ہوئی تو سب نے اُن کو سلام کیا۔
وعلیکم اسلام جیسے کے آج سب کا پہلا دن ہے تو سب باری باری اپنا انٹرڈیوس کروائے میں بھی کرواتی ہوں میرا نام فضا ہے اور آپ سب کی کلاس ٹیچر ہوں۔اُن کی ٹیچر فضا نے مسکراکر کہا تو سب باری باری اپنا تعارف کروانے لگے
میرا نام فروا ہے اور میں پنڈی میں رہتی ہوں
میرا نام دلنشین ہے اور میں کراچی کی ہی ہوں
میرا نام کاشف
سب نے باری باری اپنا تعارف کروایا تو اُن کی ٹیچر نے یمان کی طرف دیکھا جو جانے کن سوچو میں گم ہوگیا تھا ٹیچر کی آواز پہ ہوش میں آتا اُٹھ کھڑا ہوا
میرا نام یمان مستقیم ہے۔یمان پوری کلاس میں نظر ڈوراتا بس یہ بول کر واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔
نائیس۔ٹیچر اتنا کہتی اُس سے پہلے عبائے والی لڑکی کو مخاطب کرتی وہ خود اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی
میرا نام سیدہ آروش شاہ ہے میں گاؤں میں رہتی ہوں جب کی یہاں پڑھائی کے سلسلے میں آئی ہوں اور میں اپنے خاندان اور گاؤں کی پہلی سیدزادی ہوں جو کالج میں پڑھنے کے لیے آئی ہے شہر۔اُس کی آواز میں بہت کشش اور لہجے میں فخر تھا جس پہ آروش کی آواز پہ سب کی توجہ اُس کی جانب ہوگئ تھی جو سب کی نظروں کو نظرانداز کیے پُراعتماد کھڑی تھی جب کی اُس کی آواز سن کر یمان کو اپنے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوتی محسوس ہوئی پر اِس بار اُس نے اُس کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔
ماشااللہ گوڈ بلیس یو آپ بیٹھ جائے۔ٹیچر فیضا نے ستائش نظروں سے اُس کو دیکھ کہا تو وہ واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گئ
یمان کلاس میں سارا وقت کھویا ہی رہا تھا ساری کلاسس ختم ہوئی تو سب اسٹوڈنٹس کلاس سے نکلتے چلے گئے یمان نے اپنی کتابیں بیگ میں ڈالی تو نظر پھر آروش پہ پڑی جو کلاس خالی ہونے کے بعد بھی اکیلی بیٹھی تھی یمان ایک نظر اُس کو دیکھتا کلاس سے باہر چلاگیا.
۔….۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمان گھر واپس آیا تو سیدھا اپنے کمرے میں جاکر لیٹ گیا اُس کے آنے کا جان کر فائزہ بیگم نے کھانے کا پوچھا تو اُس نے بھوک نہیں ہے کا کہہ کر ٹال دیا پھر بنا کالج یونیفار چینج کیے سوگیا تھا فجر جب اُس سے ملنے آئی تو سوتا دیکھا تو گہری سانس لی اُس کے پاؤں سے شوز نکال کر کمرے کی لائیٹ آف کرکے وہ دوبارہ باہر چلی گئ۔
کیا ہوا۔عیشا نے فجر کو اکیلا باہر آتا دیکھا تو پوچھا
یمان سوگیا ہے شاید تھک گیا ہو۔فجر نے بتایا
پہلا دن تھا نہ تبھی۔عیشا نے کہا
ہممم کھانا بھی نہیں کھایا کالج میں بھی کجھ کھایا ہوگا یا نہیں۔فجر کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
کھایا ہوگا فکر نہیں کرو۔
ہمم میں کچن میں رکھے برتن دھولوں۔فجر جواب دیتی اُٹھ کر چلی گئ۔
شام کے وقت یمان کی آنکھ کُھلی تو اپنے حُلیے پہ نظر ڈالتا فریش ہونے کے لیے چلاگیا فریش ہوکر باہر آیا تو اپنی ماں اور بہنوں کو صحن میں رکھی چارپائی پہ بیٹھا پایا جو چائے سے لطف اندروز ہورہی تھی۔
اسلام علیکم۔یمان نے سلام کیا
وعلیکم اسلام میرے بھائی آج کیا زیادہ پڑھ لیا۔عیشا نے سلام کے بعد شریر لہجے میں استفسار کیا تو یمان بالوں میں ہاتھ پھیرتا رہ گیا
ایسا ہی سمجھ لیں۔یمان فائزہ بیگم کے پاس آکر بیٹھا
کھانا لاؤں۔فجر نے پوچھا
نہیں۔یمان نے یکلفظی جواب دیا۔فجر کو یمان ٹھیک نہیں لگا
سر میں درد ہے کوئی ٹیبلیٹ دیں دے۔یمان کجھ دیر بعد بولا تو فجر سرہلاتی اُٹھ کھڑی ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال!
بھول جاؤ۔دلاور خان کی آواز پہ یمان سوچو کے بھنور سے باہر نکلا
آپ یہاں آے کوئی کام تھا۔یمان نے اُن کی بات جیسے سنی ہی نہیں۔
تمہاری آواز سنی تو آگیا سوچا لائیو تمہارا سونگ سن لیا جائے۔اُس کو بات بدلتا دیکھا تو دلاور خان نے بھی بات کو طویل نہ دی۔
موم کہاں ہیں۔یمان نے پوچھا
کچن میں ہوگی تمہارے لیے کھانا بنوا رہی ہے اپنی نگرانی میں۔دلاور خان نے مسکراکر بتایا







وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر
بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی
ماہی ہر بات سے لاعلم اپنے کمرے میں گانا سننے میں مگن تھی جب آمنہ ہڑبڑائی سے اُس کے کمرے میں آئی جس سے ماہی نے چونک کر اُس کی حالت کو دیکھا
کیا ہوگیا ہے گھوڑے پہ کیوں سوار ہو؟ماہی نے تعجب سے پوچھا
ماہی۔
آمنہ اتنا کہتی اپنی سانس ہموار کرنے لگی۔
پریشان کررہی ہو اب تم مجھے۔ماہی نے کوفت سے کہا
ماہی ذہن نے قتل کردیا۔آمنہ کی بات سن کر ماہی پھٹی پھٹی نظروں سے آمنہ کو دیکھنے لگی جس کی رنگت اُڑی ہوئی تھی۔
یہ۔۔کیا۔۔بے ہودہ مذاق ہے۔ماہی کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی
تم باہر چلو۔آمنہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لائی جہاں ماتم کا سماں تھا سب عورتیں پریشانی سے یہاں وہاں چکر لگارہی تھی۔
ذین شاہ خاندان سے بیٹے کا قتل کیسے کرسکتا ہے وہ کب سے اتنا جذباتی ہوگیا ہم نے کہا تھا دور رہے اِس معاملے سے۔حشمت صاحب پریشانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولے
اللہ سوہینا خیر بس۔ستارہ بیگم آمنہ اور ماہی پہ نظر ڈال کر پریشانی سے بولی اُن کی نظروں کا مطلب جان کر وہ دونوں لرز اُٹھی
اِن دونوں کو گاؤں سے باہر بھیجو۔بختاور بیگم نے کہا
کیوں۔حشمت صاحب نے گھورتے پوچھا
کیونکہ آپ جانتے ہیں خون کے بدلے خون یا خون بہا میں ونی میں ہماری بیٹیاں جائے گی ماہی ذین کی بہن ہے تو آمنہ منگ۔بختاور بیگم کی بات پہ ماہی گِرتے گِرتے بچی اُس کو اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آرہا تھا یہ اچانک کیا ہوگیا تھا وہ جو پہلے شوق سے ونی بیس ناولز پڑھا کرتی تھی پر اب جب ایسے ہی اپنی ماں سے بات سنی تو اُس کا دل کیا کہیں جاکر چُھپ جائے جہاں کوئی اُس کو تلاش نہیں کرپائے۔
ایسا ہرگز نہیں ہوگا اچھا اچھا بولوں۔حشمت صاحب افسردگی سے بولے
لالا ہیں کہاں۔ماہی نے گھٹی گھٹی آواز میں پوچھا تو آمنہ کی نظر داخلی دروازے پہ آتے ذین پہ پڑی جس کی بوسکی کلر کی قمیض خون میں نہائی ہوئی تھی
یہ کیا کردیا بدبخت۔حشمت صاحب اُس پہ گرجے
میں نے کجھ نہیں کیا بابا جان۔ذین عجیب لہجے میں کہتا اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا ماہی سے مزید سب کجھ دیکھا نہیں گیا تو اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئ۔





پورا گاؤں حویلی میں موجود تھا اُن کے دُکھ میں شریک ہونے کے لیے دلدار شاہ کی لاش جیسے ہی حویلی میں داخل ہوئی تو شبانا بے ہوش ہوگئ تھی اُس کی ماں فردوس بیگم نے اپنا سینا پیٹ ڈالا تھا ساری عورتیں اُن کو حوصلہ دینے میں لگی ہوئی تھی دوسری طرف لڑکیاں قرآن پاک پڑھنے میں مصروف تھی جن میں سفید شلوار قمیض کے ساتھ کالے رنگ کی شال پہنے آروش بھی شامل تھی جس کی آنکھ سے ایک آنسو تک نہیں بہا تھا حریم کجھ دوری پہ بیٹھی سیپارہ پڑھ رہی تھی رو رو کر اُس کی آنکھیں سوجھ چُکی تھی نور اور نازلین کا حال بھی کجھ سہی نہیں تھا۔
تائی جان یوں ماتم نہ کریں اللہ کی امانت تھی اللہ نے واپس لیں لی یوں ماتم کرنے سے آپ بس اللہ کو ناراض اور اپنے بیٹے کی روح کو تکلیف دے رہی ہیں۔آروش نے فردوس بیگم کو اپنا سینا پیٹتے دیکھا تو سیپارہ پورا کر اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن کو دیکھ کر بولی
آروش تم شبانا کو جاکر دیکھو۔کلثوم بیگم نے کہا تو وہ سرہلاتی وہاں سے اُٹھ گئ۔
کیوں آئی ہو تم یہاں۔آروش جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی شبانا اُس پہ چیخی
پورا گاؤں یہاں جمع اِس لیے اپنے لہجے پہ قابوں پائے۔آروش سپاٹ لہجے میں بول کر الماری سے اُس کے لیے اجرک نکالنے لگی
تمہارے چہرے پہ کوئی غم کیوں نہیں آروش دودھ شریک ہی سہی بھائی تھا تمہارا ظالموں نے اُس کے سینے پہ گولیاں چلائی منہ میں بھی دماغ پہ بھی جس سے میرا دلدار مجھے چھوڑ کر چلاگیا۔شبانا اتنا کہتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جب کی حرکت کرتے آروش کے ہاتھ تھم سے گئے تھے۔
وہ کمینہ میرے ہاتھ آجائے اپنی پستول کی ساری گولیاں اُس پہ ختم کروں گا پہلے اُس کے دماغ پہ گولی برساؤں گا جس سے اُس نے ہمارے خاندان کی عزت کو سوچا اُس کے بعد منہ میں گولیاں برساؤں گا جس سے بڑا عشق معشوقی کا اظہار کررہا تھا پھر سینے میں جہاں اُس نے ایک سیدزادی کے لیے جذبات رکھے۔
غرور سے بھرا لہجہ یاد آیا تو آروش کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آئی۔
بیشک انسان بھول جاتا ہے پر اللہ نہیں بھولتا۔آروش بڑبڑاتی شبانا کے پاس آئی
باہر چلیں آخری دیدار کرلیں نمازِے جنازہ کا وقت ہونے والا ہے۔آروش اجرک سے اُس کا وجود ڈھانپتی بولی پھر جانے لگی جب شبانا نے اُس کی کلائی کو دبوچا
تم نے بددعا دی تھی نہ۔شبانا کا لہجہ کٹیلا تھا آروش استہزایہ انداز میں مسکرائی
ایک بوڑھی ماں کے دل سے آہ نکلی ہوگی جب اُس کا کم عمر بیٹا اغوہ ہوگیا ہوگا یہ بات جان کر اُن کے دلوں میں بھی قیامت برپا ہوگئ ہوگی اور آپ تو جانتی ہیں ماں کی دعا اور بددعا عرش کو ہلانے تک کی طاقت رکھتی ہے ۔آروش پتھراے لہجے میں گویا ہوئی تو شبانا کی آنکھوں سے بہتے آنسو ایک پل کو رکے تھے۔






رات کا وقت تھا آمنہ ماہی کے کمرے میں آئی جو سر گھٹنوں پہ رکھے سوچو میں گم تھی۔
دو دن بعد جرگہ بیٹھایا جائے گا دعا کرنا سب ٹھیک ہو۔آمنہ اُس کے پاس بیٹھتی بولی
ابا جان کبھی لالا کی جان داؤ پہ نہیں لگائے گے۔ماہی کھوئے ہوئے لہجے میں بولی
جانتی ہوں زمینے ابا جان اُن کے نام کروانے کے لیے تیار ہیں کیا پتا وہ ونی کا خون بہا کی شرط نہ رکھے۔آمنہ اُمید بھرے لہجے میں بولی
تمہیں لگتا ہے شاہ خاندان کو زمینوں کی پرواہ ہے یا ضرورت اُن کے خاندان کا فرد قتل کیا گیا ہے وہ شانت نہیں بیٹھے گے۔ماہی نے اُس کو حقیقت سے روشناس کروایا
ہم کیا کرسکتے ہیں ہوگا تو وہی جو شھباہ شاہ کا فیصلہ ہوگا۔آمنہ نے گہری سانس لیکر کہا
اُس کی اپنی بیٹی ہے پھر بھی کسی اور کی بیٹی کا اندازہ نہیں اُس کو۔ماہی حقارت سے بولی
ماہی یہ وقت ایسی باتوں کا تو نہیں پر ایک بات بتاؤ تم آروش شاہ سے اتنا چڑتی کیوں ہو ہم تو اُس سے ملی بھی نہیں بس اُس کا ذکر سنا ہے جس میں لوگوں کے لہجے میں۔رشک ہوتا تھا حسد نہیں گاؤں میں سب کہتے ہیں پوری حویلی میں ایک آروش شاہ ہے جو سب سے الگ سب سے مختلف منفرد اور نیک دل کی ہے پھر تم کیوں۔آمنہ نے اپنے اندر پلتا سوال اُس کے سامنے کیا
مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں یار بس حویلی والوں سے چڑ ہے جو غلطی کسی کی بھی ہو سزا ہم لڑکیوں کو ملتی ہے ونی کی صورت میں ویسے تو اصولوں کے بڑے پکے ہیں وہ خاندان کے باہر شادی نہیں کرتے تو کیا اب غیر سید لڑکی کو اپنا بنائے گے؟ماہی کے سوال پہ آمنہ دُکھ سے مسکرائی
ونی میں آنے والی لڑکی کو کب اُس کا رتبہ ملا ہے کب اُس کو بیوی مانا گیا کب اُس کو انسان سمجھا گیا ہے اگر وہ ایسی کوئی خواہش کرے گے بھی تو باندھی بنائے گے جس کی حیثیت ملازماؤں جتنی بھی نہیں ہوگی۔آمنہ کی سفاک بات پہ ماہی کا دل سہم سا گیا تھا
تم پریشان نہیں ہو ایسی بات ہوئی بھی تو میں قربانی دوں گی۔آمنہ۔نے اُس کے چہرے پہ خوف دیکھا تو تسلی کروائی دروازے کے پار کھڑے ذین کے بخوبی یہ الفاظ سنے تھے پھر مرے مرے قدموں سے واپس لوٹ گیا





ماضی!
یمان کالج آیا تو نظریں لاشعوری طور پہ آروش کو تلاش کرنے لگی جو آج اُس کو نظر نہیں آئی وہ جانتا تھا اِس وقت وہ کہاں ہوگی تبھی اپنا بیگ کلاس میں چھوڑتا لائبریری کی جانب آیا جہاں اُس کی سوچ کے مطابق آروش کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھی وہ آج براؤن کُھلے عبائے میں تھی نقاب اور حجاب دستانے یہ تینوں چیزیں یمان کو بُری طرح اٹریکٹ کررہی تھی یمان چلتا ہوں عین اُس کے سامنے والی جگہ پہ بیٹھ گیا جس سے وہ آسانی سے اُس کو دیکھ سکتا تھا آروش کی ایک عادت وہ جان گیا تھا وہ جہاں بھی بیٹھتی تھی آس پاس نظریں نہیں ڈوراتی چاہے پھر کلاس ہو یا لائبریری اِن دونوں جگہوں کے علاوہ یمان نے اُس کو کیفے یا گراؤنڈ وغیرہ میں نہیں دیکھا تھا وہ کافی محتاط رہتی تھی پر اُس کا دل شدت سے چاہ رہا تھا وہ اُس کی طرف دیکھے جو ناممکن سا تھا۔
یمان کلاس کا وقت ہوگیا ہے تم یہاں کیوں بیٹھے ہو ابھی تک۔یمان کا کلاس فیلو عرفان جس سے اُس کی اچھی بات چیت ہوتی رہتی تھی وہ آکر اُس سے بولا عرفان کی بات پہ یمان کی نظریں اُس جگہ پہ پڑی جہاں آروش تھی پر اب وہ نہیں تھی۔
کیا وہ چلی گئ۔یمان نے بے اختیار سوچا
یمان۔عرفان نے اُس کے آگے ہاتھ لہرایا
سوری چلو۔یمان اپنا سر جھٹک کر عرفان کے ساتھ کلاس میں داخل ہوا جہاں آروش پہلے ہی موجود تھی۔
عجیب جادوگرنی ہے۔یمان اُس کو دیکھتا بڑبڑایا
تمہیں پتا ہے آج ٹیسٹ کی رزلٹ اناؤس ہوگی۔عرفان نے یمان سے کہا
ہمم پتا ہے میں نے تو اپنی طرف سے بیسٹ دیا تھا۔یمان اُس کی بات کے جواب میں بولا
سیدہ آروش شاہ کون ہے؟اُن کی کلاس میں ایک لڑکی داخل ہوتی بولی تو یمان کی نظر ایک سیٹ چھوڑ کر دوسری سیٹ پہ بیٹھی آروش پہ پڑی جو اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
جی میں ہوں۔آروش نے بتایا
آپ سے کوئی ملنے آیا شاید آپ کے فادر ہیں وہ۔لڑکی نے بتایا تو آروش سرہلاتی کلاس سے باہر جانے لگی اُس کے جانے کے بعد یمان کو اپنے اندر خالی پن کا احساس ہوا
ویسے اِن محترمہ کو داد دینی پڑے گی پورا ٹائیم ایک سیکنڈ کے لیے بھی نقاب نہیں اُتارتی حیرت کی بات تو یہ ہے اِن کا حجاب اور نقاب خراب بھی نہیں ہوتا عجیب مغرور قسم کی لڑکی ہے کسی سے بات بھی نہیں کرتی چلو ہم لڑکے ہیں ہم سے پردہ پر لڑکیوں سے تو کرسکتی ہے تمہیں پتا ہے یمان کل ہماری کلاس فیلو نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو جواب میں کہنے لگی آپ کو اگر ہیلپ چاہیے تو آجانا پر میں دوست نہیں بناتی۔عرفان اپنی دھن میں یمان کو بتانے لگا جو غیردماغی حالت میں سنتا رہا
میں آتا ہوں۔یمان اتنا کہہ کر کلاس سے چلاگیا
ارے کہاں پروفیسر کے آنے کا وقت ہے۔عرفان اُس کو آواز دیتا رہ گیا۔
یمان کلاس سے باہر آتا آروش کو تلاش کرنے لگا جو گراؤنڈ میں کسی شخص کے ساتھ کھڑی تھی جو کاٹن کے شلوار قمیض کے ساتھ کندھوں پہ شال ٹکائی ہوئی تھی اُن کی روعبدار شخصیت کو دیکھ کر یمان کو اندازہ ہوگیا آروش کا باپ ہوگا اور یہ بھی کے وہ کسی بڑے خاندان سے ہوگی یہ خیال آتے ہی یمان نے اپنے ہونٹ بے دردی سے کچل ڈالے
میں کیوں سوچ رہا ہوں اُن کے بارے میں اتنا۔یمان خود ملامت کرتا کلاس کی طرف گیا جہاں پروفیسر نے کلاس لینا شروع کردی تھی۔
سر مے آے کمنگ۔یمان جانتا تھا جواب کیا ہوگا پر پھر بھی مروتً پوچھا
نو جن کو وقت کی قدر نہیں وہ میری کلاس اٹینڈ نہیں کرسکتا۔پروفیسر کے صاف چٹ انکار پہ یمان اپنا سا منہ لیکر جیسے ہی پلٹا نظریں آروش کی شہد آنکھوں سے ٹکرائی یمان کا دل زور سے دھڑکا تھا آج پہلی بار اُس نے آروش کی آنکھوں میں دیکھا تھا اور یمان کا دل اُس کے ہاتھوں سے پِھسلا تھا دوسری طرف آروش یمان کو پلٹتا دیکھ کر اپنی آنکھوں کو نیچے کرلیا تھا پر یمان کا کام تمام ہوگیا تھا آروش نے پروفیسر کا جواب سن لیا تھا اِس لیے ایک ہی جواب اپنے لیے الگ سننا نہیں چاہا اور کلاس کے بجائے دوسرے راستے چل دی جب کی یمان کے قدم زمین میں جکڑ گئے تھے
