Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 70)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کیا ہے تمہیں سکون نام کی کوئی چیز نہیں؟کبھی ملے ہو اُس سے؟شازل جو اپنی گود میں شازم کو بیٹھائے ایک ہاتھ سے اپنا سیل فون پکڑے کجھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا مگر بار بار شازم اُس کے ہاتھ ہٹاتا خود اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ موبائیل اسکرین پہ پھیر رہا تھا۔تبھی شازل نے اُس کو جھڑکا

آرام سے بات کرو بیٹا ہے ہمارا۔وارڈروب سیٹ کرتی ماہی نے ٹوکا

جانتا ہوں یہ نمونا ہمارا بیٹا ہے مگر اِس کو بھی کجھ عقل دو جس کو بیٹھا تو جاتا نہیں اور آیا بڑا میرا موبائیل چلانے جیسے بہت اچھے سے آتی ہوں۔شازل شازم کو گھور کر بولا جو اپنی آنکھوں کو پوری طرح سے کھولتا موبائل اسکرین کو دیکھ رہا تھا

بچہ ہے جو دیکھے گا وہی کرے گا۔ماہی نے کہا

اچھا تو ہم جو چلتے پھیرتے ہیں یہ اِس کو نظر نہیں آتا؟ہم جو باتیں کرتے ہیں یہ اِس کو سُنائی نہیں دیتی؟کبھی اِن چیزوں کو بھی تو کرکے دیکھے مگر نہیں موصوف کا دماغ تو خرافاتی چیزوں میں لگا رہتا ہے۔شازل سرجھٹک کر بولا

مجھے دے شازی آپ کو تو بس موقع چاہیے میرے بچے کو باتیں سُنانے کا۔ماہی شازل کی گود سے شازم کو لیتی منہ بسور کر بولی

اچھا نہ کہاں جارہی ہو ناراض ہوکر بیٹھو یہاں میرے پاس ایک بات بتانی ہے۔شازل ماہی کا ہاتھ تھامتا اپنے ساتھ بیٹھا کر بولا

جی بتائے کیا بات کرنی ہے؟ماہی سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

میں نے ہمارا ولیمہ کرنے کا سوچا ہے۔شازل اُس کے چہرے پہ پڑتے بالوں کو کان کے پیچھے اُڑستا بتانے لگا۔

کیا ہوگا ہمارا؟ماہی کو لگا جیسے اُس نے کجھ غلط سُنا

ولیمہ۔شازل نے دوبارہ سے کہا

شادی کے اتنے سال بعد ایک بچے کے بعد آپ کو ولیمے کی سوجھی ہے۔ماہی حیرت سے شازل کو دیکھ کر بولی

تمہیں خوشی نہیں ہوئی سن کر؟شازل الگ سے حیران ہوا وہ تو سمجھا تھا یہ بات سن کر ماہی سیدھا اُس کے گلے لگے گی مگر یہاں اُلٹی گنگا بہہ رہی تھی۔

بلکل بھی نہیں شازل کتنا عجیب لگے گا۔ماہی نے فورن سے کہا

اِس میں عجیب کیا بات ہے ولیمہ کرنا تو سنت ہے۔شازل نے کہا

ہاں پر وہ شادی کے اگلے دن ہوتا دو تین سال یا بچے کی پیدائش کے بعد تھوڑی۔ماہی منہ بناکر بولی

تمہیں کجھ نہیں پتا اور ایسی بات مت کرو یہ غلط ہے۔شازل نے اِس بار سنجیدگی سے ٹوکا

اچھا سوری کب ہوگا ہمارا ولیمہ؟ماہی معصوم شکل بناتی بولی تو شازل کو نے اختیار اُس پہ آیا جس پہ وہ جھک کر اُس کا ماتھا چوم گیا۔

وہ جب

پپ ۔۔۔پاپ۔۔ پپ۔۔۔۔۔۔۔

شازل ماہی کی پیشانی کے ساتھ اپنی پیشانی ٹِکائے بتانے والا تھا جب شازم کی آواز پہ حیرت سے اُس کو گھورنے لگا۔

یہ کوئی پاپ نہیں ہم ایک دوسرے پہ پاک ہیں اور پاپ وہ ہے جو تم ہم میاں بیوی کی پرائیویسی میں دخل دے کر کر رہے ہو چلو شاباش اپنی آنکھیں بند کرو بڑا آیا ہمیں پاپ کا درس دینے۔شازل اپنی آنکھیں چھوٹی کیےاُس کو گھور کر بولا تو شازم روہانسا ہوتا ماہی کو دیکھنے لگا جس کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہوگیا تھا۔

ہاہاہا شازل کیا ہوگیا ہے وہ پاپ بول رہا ہے جس کا مطلب ہے صاف شازم صاف کہنا چاہ رہا ہے کیونکہ شازم کا ڈائیپر چینج کرنا ہے جو آج میں نے نہیں کیا۔ماہی ہنسی کے درمیان میں شازل کو بتانے لگی۔

تو آج سے اِس کو مما سکھانے سے اچھا ہے “صاف” لفظ سکھاؤ خوامخواہ کسی اور کے سامنے ایسا لفظ باہر نکالا تو لوگ جانے کیا سمجھے گے کے ہم کونسا پاپ کررہے ہیں۔شازل نے کہا تو اُس کی بات پہ ماہی نے منہ بسورا۔

اچھا ہمیں اب اپنا کام کرنے دے آپ کی تو شازی سے شکایات ختم نہیں ہوگی۔ماہی کھڑی ہوتی بولی

اپنے شازی کے کرتوتوں پہ نظر نہ ڈالنا کبھی۔شازل تو جل اُٹھا جبکہ ماہی ہنستی واشروم کی جانب بڑھ گئ۔

پاپ۔ ماہی کے جانے کے بعد شازل لفظ دوہراتا ہنس پڑا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں نکاح سادگی سے چاہتی ہوں جس میں بس ہم ہو اور کجھ گواہ۔فجر نے دلاور خان زوبیہ بیگم اور خاموش بیٹھے یمان کو دیکھ کر کہا۔زرفشاں زرگل زرنور تو پہلے ہی پاکستان سے چلی گئ تھی اب کجھ ماہ پہلے نور بھی اپنے گھر چلی گئ تھی۔

وہ سب تو ٹھیک مگر فنکشن وغیرہ تو کوئی ہونا چاہیے تھا نہ۔زوبیہ بیگم نے کہا

نکاح سادگی سے کرنے کا حکم ہے کیونکہ سادگی میں برکت ہوتی ہے۔فجر نے ایک بار پھر کہا تو زیادہ کسی نے زور نہ دیا۔

شام کو نکاح خواہ آجائے گا آپ تیار رہنا۔یمان نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔

ویسے یہ یامین کہاں ہے نظر نہیں آرہا؟دلاور خان آس پاس نظر ڈورا کر بولے۔

اُس کو ارمان لیکر گیا ہے پارک۔فجر نے بتایا۔

اچھا رات کو ہمیں بھی نکلنا ہے ایک دوست کی پارٹی ہے۔زوبیہ بیگم نے کہا

ٹھیک۔فجر اتنا کہتی یمان کو دیکھنے لگی جو اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔

تم چلو گے نہ یمان؟تمہارا بھی انویٹیشن آیا تھا۔دلاور خان نے یمان کو مخاطب کیا

میرا موڈ نہیں۔ یمان نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

کب تک ایسا چلے گا؟فجر نے سنجیدگی سے پوچھا

پتا نہیں آپی۔یمان نے کندھے اُچکائے۔

آپ اپنی بیٹی کو سمجھاتے کیوں نہیں؟فجر اب کی دلاور خان اور زوبیہ بیگم سے بولی۔

ہم نے بہت کوشش کی ہے۔زوبیہ بیگم افسردہ سانس خارج کرتی بولی تو یمان وہاں سے اُٹھ کر چلاگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کہاں تھے کل سے؟دُرید جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا حریم لپک کر اُس کے روبرو کھڑی ہوتی پوچھنے لگی۔

کام تھا ضروری۔دُرید بنا دیکھے جواب دیتا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا۔

آپ ناراض ہیں؟حریم انگلیاں چٹخاتی پوچھنے لگی۔

نہیں۔دُرید سپاٹ لہجے میں کہتا واشروم میں داخل ہوا تو حریم نے نم نظروں سے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا

آپ کے لیے کھانا لاؤں؟دس پندرہ منٹ بعد دُرید واشروم سے نکلتا اپنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر آتا تو حریم نے کھانے کا پوچھا

تمہیں کب سے میرے کھانے پینے کی فکر ہونے لگی؟دُرید اُس کے روبرو کھڑا ہوتا سنجیدگی سے بولا تو حریم کجھ پل بول نہ پائی۔

ہمیں معاف کردے ہمیں آپ سے ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے تھی۔حریم اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتی آنسو بہاتی بولی

مجھے تمہاری معافی نہیں چاہیے۔آج دُرید اُس کے آنسو سے پِگھلا نہیں تھا رخ پھیر کر بس یہی بولا

پلیز ایسے برتاؤ مت کرے ہم جانتے ہیں آپ ناراض ہیں پر ایسے مت کہے ہم معافی مانگ رہے ہیں نہ اور پھر کبھی ایسے بات نہیں کرینگے۔حریم اُس کے سامنے کھڑی ہوتی ندامت سے بولی۔

کیا چاہتی ہو تم حریم؟جو تم چاہتی تھی وہ کر تو رہا ہوں نہ اب کیا کروں؟دُرید تنگ آتا بولا

ایسے نہ کرے حورم کو آپ کی عادت ہوگئ ہے وہ کل رات سے بہت رو

کہاں ہے حورم؟حریم ابھی بات کررہی تھی جب دُرید سنجیدہ سے پوچھنے لگا۔

آپ کو حورم کی پرواہ ہے مگر ہمارے آنسو آپ کو نظر نہیں آرہے؟حریم چڑ کر بولی

تم اب بڑی ہوگئ ہو تمہیں میری ضرورت کہاں۔دُرید طنزیہ لہجے میں کہتا کمرے سے جانے والا تھا جب حریم آگے بھرتی اُس کے سینے پہ اپنا سر رکھ گئ اُس کے عمل پہ دُرید ساکت سا اُس کو دیکھنے لگا جو رونے کا شغل فرما رہی تھی۔

رو کیوں رہی ہو؟دُرید اُس کے گرد حصار بناتا بولا

آپ ناراض جو ہیں۔حریم سوں سوں کرتی ہوئی بتانے لگی۔

نہیں ہوں میں ناراض۔دُرید اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا

پھر ایسے بات کیوں کررہے ہیں؟دوسرا سوال

تمہیں وحشت جو ہوتی ہے۔دُرید نے کہا تو حریم نے اُس کے سینے سے سراُٹھا کر دیکھا۔

ہم ایسے ہی بول گئے تھے آپ نے ہماری باتوں کو دل پہ لے لیا پہلے تو ایسے نہیں کرتے تھے۔حریم اُس کی جانب دیکھتی شکوہ کناں لہجے میں بولی۔

پہلے تم ایسی باتیں نہیں کرتی تھی جو دل پہ لگتی۔دُرید نے کہا۔

کیا آپ ہم سے پیار کرتے ہیں؟یا حورم کی وجہ سے نکاح کیا؟حریم نے جاننا چاہا

تمہیں کیا لگتا ہے؟دُرید اُس کے گالوں پہ آنسو کے نشان ہاتھ کی پوروں سے صاف کرتا اُلٹا اُس سے سوال پوچھنے لگا۔

ہمیں لگتا ہے آپ اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے یہ نکاح کیا۔حریم نظریں جُھکائے بولی

تم مجھے عزیز ہو حریم کیسے یقین دلاؤ؟دُرید جھک کر اُس کی پیشانی چومتا بولا۔

آپ نے ہمیں بہت تکلیف دی ہیں گال پہ تھپڑ بھی مارا تھا۔حریم کو پھر سے وہ باتیں یاد آئی تو نم نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔

میں شرمندہ ہوں اپنے عمل پہ۔دُرید اُس کے گال پہ پھیرکر بولا

تھپڑ کی گونج آج تک سُنائی دیتی ہیں ہمیں ہمارے کانوں میں۔حریم نے بتایا

بھول جاؤ سب۔دُرید نے کہا

آپ بدل جائینگے ہم سے پیار بھی نہیں کرتے۔حریم منہ بسور کر ایک بار پھر بولی تو دُرید کے دل میں شدت سے خواہش جاگی کے وہ اپنا سر دیوار پہ مارے۔

میں اب کیا اگر سینے سے دل نکال کر تمہارے سامنے پیش کروں تو آجائے گا یقین؟دُرید ضبط کرتا اُس سے پوچھنے لگا

آپ طنز کررہے ہیں؟حریم کو دُکھ ہوا

میری کیا مجال میں تو بس آپ سے پوچھ رہا ہوں زوجہ محترمہ۔دُرید مسکراہٹ ضبط کرتا بولا

یہ زوجہ محترمہ کیا ہوتا ہے؟حریم نے اُس کو گھورا

وہی جو آپ میری ہیں۔دُرید اُس کو دوبارہ سے اپنے حصار میں لیکر بولا۔

آپ واقع ہم سے پیار کرتے ہیں؟وہی مرغی کی ایک ٹانگ

حریم اب لگاؤں گا کان کے نیچے۔دُرید نے اُس کو گھورا تو وہ ہنس کر اپنا سر اُس کے سینے پہ رکھ گئ۔

آپ بوڑھے ہورہے ہیں؟حریم نے کہا تو دُرید نے ایک جھٹکے سے اُس کو خود سے دور کیا تو حریم سٹپٹاکر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔

کیا کہا؟دُرید نے تند نظروں سے اُس کو گھورا

وہ اُس دن ہم نے آپ کے بالوں میں ایک سفید بال دیکھا تھا۔حریم دانتوں کی نمائش کرتی ہوئی بولی۔

جھوٹ۔دُرید ماننے سے انکاری ہوا

سچی میں اِتنوں سا چھوٹوں سا بال تھا سفید اگر آپ غور کرینگے تو نظر آجائے گا۔حریم دو انگلیوں سے فاصلہ بناتی بتانے لگی۔

بڑی ہی کوئی عجیب شے ہو بجائے تم میرے نین نقش پہ غور کرنے کے اتنوں سے سفید بال پہ غور کرتی ہو۔دُرید نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

اب نظر آگیا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔حریم شانِ بے نیازی کا مظاہرہ کرتی بولی۔

ایک سفید بال سے کوئی بوڑھا نہیں ہوتا۔دُرید نے جتایا

آپ تو بڑے ایج کونشئس نکلے۔حریم نے شرارت سے کہا

بات نہ کرو تم مجھ سے۔دُرید ناراض لہجے میں اُس سے کہتا ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھتا بالوں میں برش پھیرنے لگا۔

اچھا نہ ہم تو مذاق کررہے تھے خیر آپ یہ بتائے کھانا لاؤں آپ کے لیے؟حریم نے مسکراکر کہا

تم نے کھانا کھایا ہے؟درید گردن موڑ کر اُس کو دیکھ کر بولا

نہیں۔حریم نے معصوم شکل بنائی۔

حد کرتی ہوں حریم جاؤ کسی ملازمہ سے کھانے کا کہو اور تم حورم کو لے آؤ۔دُرید نے حکم صادر کیا۔

لاتی ہوں حورم کو پر اُس کے سامنے ہمیں بھول مت جائیے گا۔حریم اُس کو تاکید کرتی کمرے سے باہر نکلی۔دُرید اُس کی بات پہ مسکراکر سرجھٹکتا خود پہ پرفیوم چِھڑکنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یونہی کوئی مل گیا تھا

سرِ راہ چلتے چلتے

وہیں تھم کے رہ گئی ہے

میری رات ڈھلتے ڈھلتے

یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔

جو کہی گئی نہ مجھ سے

وہ زمانہ کہہ رہا ہے

کہ فسانہ بن گئی ہے

میری بات ٹلتے ٹلتے

یونہی کوئی مل گیا تھا ۔۔۔

شبِ انتظار آخر

کبھی ہوگی مختصر بھی

یہ چراغ بجھ رہے ہیں

میرے ساتھ جلتے جلتے

یونہی کوئی مل گیا تھا۔

آروش نے فیصلہ کرلیا تھا وہ اب مزید وقت ضائع نہیں کرے گی اب مزید وہ یمان کو تکلیف نہیں دے گی بلکہ وہ اچانک جاکر یمان کو سرپرائز دے گی۔یمان کا ری ایکشن سوچ سوچ کر اُس کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا تھا وہ اپنے سر پہ ڈوپٹہ ٹھیک کرتی کمرے سے باہر نکلتی شھباز شاہ کے کمرے میں آئی۔

بابا سائیں۔آروش نے شھباز شاہ کو آواز دی۔

جی میرا بچہ آؤ اندر۔شھباز شاہ نے مسکراکر اندر آنے کی اِجازت دی۔

مجھے اسلام آباد جانا ہے آپ چھوڑ آئینگے؟آروش اندر داخل ہوتی اُن سے بولی۔

کیوں نہیں تم تیار ہوجاؤ میں چھوڑ آؤں گا۔شھباز شاہ نے ہلکی مسکراہٹ سے جواب دیا۔

وہاں مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے۔آروش نے بتایا

ہم سب بھی تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔شھباز شاہ اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولے تو آروش مسکرائی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارمان اور فجر کا خیر سے نکاح ہوگیا تھا جس پہ ارمان بہت خوش تھا۔نکاح کے بعد وہ فجر کو اور یامین کو اپنے گھر لایا تھا نکاح پہ عیشا نہیں آئی تھی کیونکہ اُس کے بیٹے کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جس وجہ سے اُس نے معذرت کرلی تھی جبکہ یمان فجر کے نکاح کے وقت تو ساتھ تھا پھر کسی ضروری کام کا کہہ کر چلاگیا تھا۔

مجھے چٹکی کاٹیں۔ارمان کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پہ بیٹھی فجر کو دیکھ کر ڈرامائی انداز میں کہا

سُدھر جاؤ۔فجر نے اُس کو گھورا

عموماً اِس دن پہ لڑکیاں شرم سے گُلنار ہوجایا کرتی ہیں اور ایک آپ ہیں جو مجھ پہ روعب جمارہی ہیں۔ارمان منہ بسور کر بولا

منہ دھوکر رکھو کے میں شرم سے گُلنار ہوگی۔فجر نے کہا تو ارمان سخت والا بدمزہ ہوا

خیر ماشااللہ سے بہت بڑا والا ہوں میرا ارمان تو ٹوٹ گیا خیر آپ ہاتھ دے اپنا۔ارمان تھوڑا اُس کے قریب بیٹھ کر اپنی ہتھیلی اُس کے سامنے کی تو فجر نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پہ رکھا۔

شکریہ میرا پرپوزل قبول کرنے کے لیے اور میری زندگی میں شامل ہونے کے لیے۔ارمان اُس کے ہاتھ کی انگلی میں رِنگ پہناتا اُس پہ اپنے لب رکھتا بولا تو فجر کے گال سچ میں گلابی ہوئے تھے جس کو وہ چاہ کر بھی ارمان سے چُھپا نہ پائی۔

او مائے گُڈنس یہ میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں آپ بلش کررہی ہیں؟ارمان سینے پر ہاتھ رکھ کر بیڈ پہ گِرنے والے انداز میں لیٹتا فجر سے بولا

تم سُدھرنے والی ہڈی ہی نہیں ہو۔اپنی خفت مٹانے کے غرض سے فجر نے پاس پڑا کشن اُس پہ دے مارا

ہاہاہاہاہاہا ابھی سے ہی بیویوں والے کام شروع کردیئے۔ارمان ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتا بولا

مرو تم یہاں میں یامین کے پاس جارہی ہوں۔فجر بیڈ سے اُٹھتی بولی تو ارمان کرنٹ کھاکر اُٹھ کھڑا ہوا۔

ایسا ظلم مت کیجئے گا ابھی تو مجھ اپنے نکاح ہونے کا یقین تک نہیں آیا اور آپ جارہی ہیں۔ارمان اُس کے روبرو کھڑا ہوتا بولا۔

تمہیں یقین تو آنا نہیں ہے اِس لیے میں اپنے بیٹے کے پاس جارہی ہو۔فجر اُس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر پیچھے کرتی ہوئی بولی۔

میں تو مذاق کررہا تھا مجھے تو یقین بھی کب کا آگیا ہے اور یامین تو خواب و خرخوش کے مزے لوٹ رہا ہے کیوں اُس کی نیند خراب کرنا چاہ رہی ہیں آپ۔ارمان اُس کے دونوں کا ہاتھ تھام کر بولا۔

تم بہت نان سیریس انسان ہو۔فجر نے بتایا

ہوگا مگر آپ کے لیے میں بہت سیریس کنڈیشن والے جذبات رکھتا ہو۔ارمان شوخ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو فجر مسکرادی اُس کو احساس ہورہا تھا ارمان اتنا بُرا نہیں تھا جتنا وہ اُس کو سمجھتی تھی وہ ایک خوش طبع انسان تھا جس کو بس خوشیاں بانٹنی آتی تھی وہ بھی بغیر کسی غرض کے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یمان گھر داخل ہوا تو اندھیرے نے اُس کا استقبال کیا وہ ہاتھ مار کر سوئچ بورڈ کو ٹٹول کر لائیٹس آن کی تو پورا ہال روشنی میں نہاگیا مگر ہال کی وسط پہ کھڑی ہستی کو دیکھ کر یمان کتنے ہی پل ساکت رہا تھا اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کے واقع آروش ایک بار اُس کے سامنے کھڑی ہے یا اُس کا وہم ہے۔وہ چلتا ہوا اُس کے روبرو کھڑا ہوگیا اور غور سے آروش کو دیکھنے لگا جو نم نظروں سے اُس کو ہی دیکھ رہی تھی جو بکھرے بال اُلجھا ہوا حُلیہ بڑی ہوئی شیو کے ساتھ وہ یمان لگ ہی نہیں رہا تھا جس کو وہ جانتی تھی پہچانتی تھی آروش کو خود پہ حد سے زیادہ غصہ آنے لگا وہ کیوں آخر اُس کے ساتھ زیاتی کر جایا کرتی تھی؟

آپ سچ میں ہیں؟یمان اُس کو چھو کر دیکھتا جیسے خود کو یقین دلانا چاہ رہا تھا کے ہاں وہ واقع اُس کے سامنے کھڑی تھی۔

ہ ہاں۔آروش سرجھکاتی بولی۔

آج کیسے مجھ پہ ترس آگیا آپ کو؟یمان اپنی پیشانی اُس کی پیشانی سے جوڑ کر سکون کا سانس اپنے اندر کھینچ کر بولا

کیا مجھے نہیں آنا چاہیے تھا؟آروش نظریں اُٹھاکر اُس کو دیکھ کر بولی۔

میری حالت دیکھنے کے بعد آپ کا یہ پوچھنا بنتا ہے؟یمان نے بے اختیار شکوہ کیا۔

میں اپنی ہر زیادتی کی تم سے معاف

اِس سے آگے ایک لفظ نہیں آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں۔آروش نم لہجے میں اُس سے معافی مانگنے والی تھی جب یمان اُس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش کرواکر بولا۔

تم جتنے اچھے ہو میں اُتنی ہی بُری ہوں میں کبھی سمجھ نہیں پاؤں گی کے تمہیں مجھ سے اتنی محبت کیوں ہیں؟آروش کی آنکھ سے آنسو گِر کر گال پہ پِھسلا۔

اب چھوڑ کر تو نہیں جائے گی نہ؟یمان اُس کا چہرہ ہاتھ کے پیالوں میں بھرکر تصدیق چاہنے لگا۔

مزید ہمت نہیں کے بہادری کا مظاہرہ کروں۔م۔۔۔می۔۔۔۔میں۔۔۔سچ۔۔۔۔میں۔۔۔۔تم۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔پیار۔۔۔۔۔کرتی ہوں۔۔۔۔۔بہت۔۔۔پیار کرتی ۔۔۔۔ہوں کب۔۔۔سے۔۔کیسے۔۔یہ نہیں جانتی۔۔۔۔میں۔آروش نے اٹک اٹک کر اظہار کیا تو یمان سانس لینا بھول کر یک ٹک آروش کا چہرہ دیکھنے لگا جس کا پورا چہرہ آنسوؤ سے تر تھا۔

مجھے یقین نہیں آرہا۔یمان خود پہ ہنس پڑا

کرلو یقین۔آروش نے کہا

مجھے آپ مل گئ ہے میں اِس بات پہ جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے میرے لیے آپ کا ہونا کسی نعمت یا معجزے سے کم نہیں مجھے آپ تب ملی جب میرے اندر آپ کے پانے کی خواہش دم توڑنے لگی تھی۔یمان زور سے اُس کو خود میں بھنیچتا جذب کے عالم میں بولا تھا جس پہ آروش نے سکون سے اپنی آنکھوں کو موندا تھا پھر ایک خیال کے تحت اپنی آنکھیں کھول کر یمان سے تھوڑا فاصلہ کیے کھڑی ہوتی اُس کی شرٹ کے اُپری بٹن کھولنے لگی۔

یہ آپ کیا کررہی ہیں کوئی آجائے گا؟یمان آروش کی حرکت پہ سٹپٹاتا اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بولا تو اُس کی بات اور ری ایکشن کا مطلب جان کر آروش نے اُس کو بُری طرح سے گھورا۔

خاموشی سے کھڑے رہو۔آروش نے اُس کو ٹوکا پھر شرٹ کے چار بٹن ایسے ہی کھول دیئے جس پہ یمان کے ماتھے پہ پسینے چھوٹنے لگے تھے اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا یہ اچانک آروش کو ہو کیا گیا؟

بٹنز کھولنے کے بعد آروش نے یمان کے سینے پہ دیکھا تو سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچ گئ تھی جہاں آج بھی واضع طور پہ گ*ول*یوں کے نشان ظاہر تھے۔یمان جو ناسمجھی سے آروش کے چہرے کے بدلتے تاثرات نوٹ کررہا تھا اُس کی نظروں کے تعاقب میں نظریں نیچے کیے اپنے سینے کی جانب دیکھا تو اُس کو ساری ماجرا سمجھ آگئ۔

آپ کو یاد تھا؟یمان کجھ حیران ہوا کیونکہ اِن نشانوں کا پتا تو فجر یا عیشا کو تو کیا ارمان کو بھی نہیں تھا شاید دلاور خان کو بھی نہیں

بھولی کب تھی۔آروش اتنا کہتی اُس کے دل کے مقام پہ اپنا ہاتھ رکھا جس کے کجھ فاصلے پہ گولی کا نشان تھا اور کجھ نیچے ایک اور گ*ول*ی کا نشان بھی واضع تھا۔

بھول جائے۔یمان اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پہ رکھ کر بولا

کوشش کرتی ہوں مگر ہو نہیں پاتا میری ایک غلطی کی وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سب ہوا تھا۔آروش نے کہا اُس کی نظریں ابھی بھی اُن نشانوں پہ تھیں۔

آپ کی وجہ سے کجھ نہیں ہوا اِس لیے ایسا نہ سوچے۔یمان اُس کو اپنے حصار میں لیکر بولا

شرٹ کے بٹن بند کرو اپنے۔آروش کو اب اُس کے ایسے کھڑے ہونے پہ شرم محسوس ہونے لگی۔

میں کیوں کروں بند کھولے آپ نے ہیں تو خود کرے۔یمان شرارت سے اپنا ماتھا اُس کے ماتھے سے ٹکرا کر کہا۔

بے شرم ہو تم۔آروش نے گھور کر کہا تو یمان ہنس کر اُس کو اپنے حصار میں قید کیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

پردہ کرو کیونکہ………. تم کسی باپ کا غرور ہو

پردہ کرو کیونکہ……… تم کسی بھائی کی غیرت ہو

پردہ کرو کیونکہ……. تم کسی شوہر کی عزت ہو

پردہ کرو کیونکہ……… تم کسی کے گھر کی زینت ہو

پردہ کرو کیونکہ…… پردہ حیاء کا زیور ہے

پردہ کرو کیونکہ…… پردے میں عورت کی شان ہے

پردہ کرو…کیونکہ تم کوئ معمولی سامان نہیں…بلکہ اسلام کی شہزادی ہو

زوبیہ بیگم دلاور خان کی تلاش میں یہاں وہاں نظریں پھیر رہی تھیں جب اُن کے کانوں میں کسی عورت کی آواز پڑی تو اُن کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑا تھا وہ پلٹ کر دیکھنے لگی جہاں ایک عورت سات سالہ بچی کو حجاب کی صورت میں ڈوپٹہ پہناتی مسلسل پردے کے بارے میں اُس کو بات رہی تھی۔

اِتنی چھوٹی سی بچی کو ایسے ڈوپٹہ کیوں پہنا رہی ہو؟بچی ہے اُلجھن ہوگی اُسے۔ زوبیہ بیگم کے قدم بے ساختہ اُن کی طرف بڑھے تھے۔ اُن کی بات پہ وہ عورت مسکرائی پھر سراٹھاکر اُن کو دیکھا

ڈوپٹا اُلجھن نہیں دیتا سکون دیتا ہے مانا کے میری بچی بہت چھوٹی ہے مگر جیسا ماحول بن گیا ہے اُس سے مجھے خوف آتا ہے میں نہیں چاہتی اِس ماحول کی ہوا میری بیٹیوں کو لگے اور وہ بھی ماڈرن کے نام پہ جہالت کا روپ اختیار کرنے لگے جائے اگر ابھی سے عادت ہوگی حجاب کی تو بڑھی ہوکر اِن کو ڈوپٹے سے اُلجھن یا گھٹن نہیں ہوگی بلکہ سکون ملے گا اِن کو احساس ہوگا کے ہمارے اللہ کو عورتیں کیسے پسند ہوتی ہیں جس طرح قرآن پاک کو غلاف پہنایا جاتا ہے ٹھیک اُس طرح ایک اسلام کی شہزادی ہونے کی صورت میں اِن کے سروں پہ حجاب ہونا لازم ہیں تاکہ کسی نامحرم یا ہوس پرست کی نظریں انہیں نہ چھو پائے۔وہ بہت خوبصورت اور دھیمے لہجے میں بولی تو زوبیہ بیگم لاجواب ہوئی۔

سیدزادی ہو؟ زوبیہ بیگم نے اِندازہ لگایا

ایک مسلمان عورت ہوں۔اس نے بتایا

پردے کے بارے میں کیا جانتی ہوں مطلب آجکل کہاں یہ سب ہوتا ہے زمانہ بہت آگے نکل چُکا ہے تمہیں چاہیے اپنی بیٹی کا دماغ اوپن کرو اُس میں کانفڈنٹ لاؤ۔زوبیہ بیگم نے اپنی بات کہی۔

میری امی حضور کہا کرتی تھی جب میں نے بارہ سال کی عمر میں اُن سے پوچھا تھا کے وہ حجاب یا پردہ کیوں کرتی ہیں تو انہوں نے بتایا۔

میں آج کی ماڈرن لڑکی ہوں اور پردہ کرتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے یہ 1400 سال پرانا ہے ۔

حجاب نہ لینا تو حضرت آدم کے زمانے کا رواج تھا ۔

مگر میں تو آج کی ماڈرن لڑکی ھوں ۔

اب یہ آخری نبیؐ کے حکم سے ہے

نہ انکے بعد کوئی نبی آئے گا نہ میرا فیشن بدلے گا،

اور ویسے بھی اگر فیشن اچھے ھوں تو بدلتے نہیں ۔

صرف وہی بدلتے ہیں جن کو اچھا بنانے کی گنجائش ہوتی ہے۔

میرا فیشن تو پرفیکٹ ہے۔ حجاب ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں۔ رب تعالیٰ کے پاک کلام کی ایک آیت ہے جو ماڈرن لڑکیاں تھامے رکھتی ہیں، اور ویسے بھی جیسے ہر عمارت پہ غلاف نہیں سوائے

خانہ کعبہ کے ہر کتاب پہ غلاف نہیں سوائے قرآن پاک کے ویسے

ھر لڑکی کو چادر نصیب نہیں ہوتی سوائے

حیاء والی کے،

تب کجھ خاص سمجھ نہیں آیا تھا مگر پھر آگیا آہستہ آہستہ۔اُس نے بتایا

باتیں اچھی کرلیتی ہو۔ زوبیہ بیگم ایمپریس ہوئی اُن کو آج پہلی بار اپنی ڈریسنگ سے شرمندگی ہونے لگی تھی۔

باتوں کا کیا ہے وہ تو ہر کوئی کرلیتا ہے ہاں مگر اپنی اچھی باتوں پہ عمل کوئی کوئی کرتا ہے۔ وہ بولی۔

میری ایک بیٹی بھی پردہ کرتی ہے۔ زوبیہ کو آروش کا خیال آیا تو بتایا

ماشااللہ یہ تو اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ ہر انسان کو صراطِ مستقیم پہ چلائے۔ وہ دعائیہ انداز میں بولی

میں چلتی ہوں اب۔ زوبیہ بیگم کو وقت کا احساس ہوا تو کہا جس پہ اُس عورت نے محض سراثبات ہلانے پہ اکتفا کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *