Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 51)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

کیا وہ سچ میں تھی؟ یا میرا وہم تھا؟ یمان کجھ بولنے کے قابل ہوا بھی تو یہی بول پایا۔

وہ سچ میں تھی مگر یہاں کیسے اور کیا میں اُن کو یاد تھا؟ یمان کچن سے باہر دیکھتا خود سے تانے بانے جوڑنے لگا۔

پہچانہ تبھی تو ایسے بھاگی۔یمان کو ہنسی آئی وہ کچن سے نکلتا اُپر کی جانب آیا تو اپنے کمرے میں کا دروازہ کھولنے والا تھا جب نظر اپنے پاس والے کمرے پہ پڑی جو آج کُھلا ہوا تھا ورنہ اکثر اُس نے بند دیکھا تھا

تو کیا وہ میرے پاس والے کمرے میں قیام پزیر ہیں؟ یمان نے دور کی کوڈی پھینکی اپنے کمرے کے دروازے سے ہٹتا چلتا ہوا اُس کے کمرے کے دروازہ کے پاس پہنچا۔اُس نے دروازے کے پاس ہاتھ رکھ کر ابھی نوک کرنے والا تھا پھر رُک گیا

گھر میں تو ہمارے علاوہ کوئی نہیں ایسے میں کیا بات کروں گا میں اِن سے؟ خوامخواہ مجھے غلط سمجھ لے تو؟ یمان نے اپنے ہونٹ بے دردی سے کُچلے یہ اُس کی بچپن کی عادت تھی خود سے بڑبڑانے کی ساتھ میں ہونٹ دانتوں تلے دبانے کی۔

لیکن وہ یہاں کیسے کیوں یہ سولات مجھے بے چین کردینگے اور ابھی کوئی ہے بھی نہیں تو ساری رات کیسے کٹے گی؟یمان کا پریشانی سے بُرا حال تھا اُس کو سب کجھ جاننے کی جلدی تھی۔

وہ یہاں کیسے کیوں ہے کو رہنے دیتے ہیں اور وہ میرے پاس ہیں میں نے اُن کو دیکھا اِس بات کی خوشی مناتے ہیں۔ یمان نے بہت وقت بعد عقل کی بات سوچی۔

چل یمان اب صبح ہونے کا ویٹ کر کیونکہ یہ راز تو تب ہی کُھل سکتا ہے۔ یمان کمرے میں آکر بیڈ پہ گِرنے والے انداز میں لیٹ کر جیسے ہی آنکھوں کو بند کیا تو چھن سے آروش کا حیرانی سے بھرا خوبصورت چہرہ آیا جس پہ اُس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔

آنکھیں تو خوبصورت ہے مگر محترمہ خود بھی پیاری ہے ایویں تو میں اُن کو گرویدہ نہیں بنا خیر پیاری نہ بھی ہوتی تو میں نے اُن سے ہی عشق کرنا تھا۔یمان خود سے کہتا اپنی آنکھوں کو زور سے میچ گیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آروش کمرے میں آتی اپنی سانسیں بحال کرنے لگی اُس کو یقین نہیں آرہا تھا اُس نے اتنے سالوں بعد یمان کو دیکھا تھا اُس سب سے جو زیادہ بات اُس کو حیرانگی میں مبتکلا کررہی تھی وہ یہ تھی آخر یمان نے اُس کو پہچان کیسے لیا؟

وہ یہاں کیا کررہا ہے؟آروش کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہلتی بڑبڑائی۔

تمہارا کمرہ اُپر ہے رائٹ جاکر جو پہلا کمرہ ہے وہ تمہارے بھائی کا ہے اُس کے ساتھ والا کمرہ میں نے تمہارے لیے سیٹ کیا ہوا۔

توں یہ اُن کا اشارہ اِس کی جانب تھا یہ ہے میرا بھائی؟آروش کے کانوں میں دلاور خان کے الفاظ گونجے تو بے تُکی سوچے اُس کے گرد منڈلانے لگی۔

نہیں یہ تو نہیں اُس کا گھر تو کراچی میں تھا نہ۔آروش نے اپنی سوچ کی نفی کی۔

میری بلا سے وہ جہاں بھی ہو میں کیوں اُس کو اپنے سر پہ سوار کررہی ہو مہمان ہوسکتا ہے کوئی بھی ہوسکتا ہے۔آروش خود کو ڈپٹنے کے بعد بھی یمان کو سوچنے لگی اُس کا دل عجیب خوف کے احساس سے دھڑک رہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

وہ ہماری بہن تھیں بابا سائیں آپ نے دوبارہ سے دھوکہ دیا ہے۔ دُرید کو اگلے دن جیسے ہی آروش کے جانے کا پتا چلا تھا وہ غصے سے بپھرا ہوگیا تھا۔جب کی شازل بے یقین سے بیٹھا تھا۔

اونچی آواز میں بات مت کرو دُرید باپ میں ہوں تمہارا تمہیں میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں۔شھباز شاہ کو دُرید کا انداز ایک آنکھ نہ بھایا

بابا سائیں آپ نے اچھا نہیں کیا آرو ہماری بہن تھیں آپ کیسے اُس کو کسی کے ساتھ بھی رخصت کرسکتے ہیں۔ اب کی شازل غمزدہ لہجے میں اُن سے جواب طلب ہوا

وہ اُس کا باپ تھا اگر میں نے جانے دیا تو کجھ سوچ کر ہی جانے دیا ہوگا۔ شھباز شاہ تنگ آکر بولے

مجھے نہیں پتا آپ نے کیا اور کیوں سوچا؟ مگر بات یہ ہے آپ نے ہمیں دھوکے سے اپنے کاموں میں اُلجھا کر آروش کو بھیج دیا۔دُرید نے ناگواری سے کہا

کوئی دھوکہ نہیں دیا تھا اب جاؤ دونوں۔شھباز شاہ نے جانے کا اِشارہ کیا

بابا سائیں میں آرو واپس لاؤں گا اگر آپ یہاں اُس کو حویلی میں نہیں رکھ سکتے تو کوئی بات نہیں میں اپنے گھر لیکر جاؤں گا۔شازل کا انداز بے لچک تھا

پاگلوں والی باتیں کرنے کی ضروری نہیں آروش اپنے ماں باپ بہنوں کے پاس ہے اِس لیے کسی کو بھی اُس کو پریشان کرنے کی ضرورت نہیں اور کوئی تب تک اُس سے نہیں ملے گا جب تک آروش اپنے ماں باپ کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوجاتی۔شھباز شاہ نے سخت رویہ اختیار کیا۔

وہ کبھی اُن لوگوں کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوگی آپ یہ بات سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے کہاں گئ آپ کی وہ محبت جو اپنی بیٹی سے کرتے تھے مجھے تو سمجھ نہیں آرہا آپ نے اُس کو جانے کیسے دیا آپ کوئی بھی بہانا کرکے اپنے دوست کو ٹال سکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا وہ اتنے سالوں بعد آیا اور آپ نے آروش کو اُس کے ساتھ جانے دیا پتا نہیں وہ کیسے ہوگی؟ اُن کے گھر کا ماحول کیسا ہوگا؟آروش کیسے ایڈجسٹ کرپائے گی؟اُس کو تو اپنے کمرے کے علاوہ کہیں سکون بھی نہیں آتا۔شازل یہاں سے وہاں چکر لگاتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر پریشانی کے عالم میں بولتا گیا۔

سکون کا سانس تم لو جہاں وہ اِس وقت موجود ہے وہ اُس کے والدین کا گھر ہے بلکل ایسا ہی ماحول ہے جیسا یہاں ہے۔شھباز شاہ نے ایک نظر اُس کے پریشان چہرے پہ ڈال کر کہا

سیریسلی اگر اُن کا ماحول ہماری حویلی جیسا ہوتا تو پچیس سال پہلے وہ اپنی بیٹی آپ کو نہ دیتے پالنے کے لیے بلکہ خود اُس کی کفالت کرتے جانے کیسا باپ تھا۔۔۔جو اپنی بیٹی کے لیے آواز نہ اُٹھا پایا۔دُرید اُن کی بات سن کر دانت پیس کر بولا۔

تم دونوں حد سے بڑھ رہے ہو۔شھباز شاہ کا دل چاہا دونوں کے منہ پہ تھپڑ ماردے۔

ہمیں تھپڑ مار کر اپنا شوق بھی پورا کرلے مگر ہمیں اپنی بہن چاہیے۔شازل نے جیسے اُن کو اندر تک جانچ لیا۔

اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔شھباز شاہ نے اُس کو گھورا

یہ سیریس میٹر ہے بابا سائیں آپ نے ایسا کیوں کیا؟دُرید کی سوئی ایک ہی بات پہ اٹکی ہوئی تھی۔

میں جانتا ہوں تم دونوں کی آروش سے محبت تم دونوں کو پتا چلتا تو اُس کو جانے نہ دیتے اور آروش تم دونوں کی ایسی حالت دیکھتی تو وہ کمزور پڑجاتی کبھی نہ جاتی تبھی میں نے ایسا کیا سن لیا جواب اب ہوگئ تسلی۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا

نہیں ہوئی تسلی اور تب نہیں ہوگی جب آپ آرو کو واپس لائینگے۔شازل نے اُن کی بات سے انحراف کیا

تم آج میرے ہاتھوں سے مار کھاؤ گے شازل باپ بننے والے ہو اُس کا لحاظ کرو ایسا نہ ہو میں تمہاری اولاد کے سامنے دُھلائی کرو۔شھباز شاہ کی بات پہ شازل کا منہ حیرت سے کُھلا تھا

میں آپ کو آپ کے اِن عظیم خیالوں اِرادو میں کبھی کامیاب ہونے نہیں دوں گا اور یہ کیا بات ہوئی باپ بننے والے ہو تو کیا کرو گُونگا بن جاؤ۔شازل ایک سانس میں بولا

اپنی توں توں میں میں بند کرو۔شھباز شاہ نے ڈپٹا۔جب کی دُرید ایک تاسف بھری نگاہ اُن دونوں پہ ڈال کر چلاگیا۔

میں خود یہاں سے چلا جاتا ہوں مگر ایک بات میں آپ کو بتادوں سخت قسم کا ناراض ہوں میں۔شازل بھی جاتے وقت اُن کو جتاگیا

ایک سے بڑھ کر ایک نکمی نالائق بیٹے میرے ہی ہونے تھے۔شھباز شاہ نے دونوں کے جانے کے بعد اپنا سر پکڑلیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

شازل پریشان ہیں آپ؟ماہی نے شازل کو کمرے میں آتا دیکھا تو فکرمندی سے اُس کی جانب دیکھا۔

مجھے کیا پریشان نہیں ہونا چاہیے آرو میری بہب تھی وہ یہاں سے کل چلی گئ اور مجھے اب پتا چل رہا ہے۔شازل نے افسوس سے کہا

میں جانتی ہوں آپ بہت افسردہ ہیں مگر یہ تو ہونا تھا نہ وہ کب تک یہاں رہتی آروش نے ساری حقیقت جان لی تھی اُس کو ماں باپ کے پاس تو جانا تھا نہ۔ماہی شازل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی ہوئی بولی۔

اُس کو نہیں جانا چاہیے تھا مجھے بہت غصہ ہے خود پہ سب پہ۔شازل بس یہی بولا

غصہ بے وجہ ہے آپ کو چاہیے بس اُس کے لیے دعا کرے کے وہ یہ حقیقت جلدی سے قبول کرلے۔ماہی نے اُس کو سمجھایا

ہممم خیر تم کھڑی کیوں ہو بیٹھو۔شازل کو اچانک خیال آیا تو جلدی سے اُس کو بیٹھنے میں مدد کی۔

آپ اپنی پریشانی دور کرے اور میں ٹھیک ہوں۔ماہی نے مسکراکر کہا

نظر آرہا ہے ماشااللہ سے دن بدن گول مٹول ہوتی جارہی ہو۔شازل اپنی جون میں آتا شرارت سے اُسکو دیکھ کر بولا

آپ پریشان اچھے تھے۔ماہی شازل کی بات پہ بدمزہ ہوتی بولی

ہاہاہاہاہا بہت بُری بیوی ہو اچھی بیویاں شوہروں کو پریشان دیکھ کر خود بھی رونے لگ جاتی ہیں اور ایک تم ہو۔شازل اُس کی بات پہ قہقہقہ لگاتا ہوا بولا۔

شوہر اگر آپ جیسے ہو تو مجھ جیسی بیویاں شکر ادا کرتی ہوگی۔ماہی دانت پیس کر کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

کہاں جارہی ہو بیٹھو یہی اگر کہی گِر وِر گئ تو کون اُٹھائے گا مجھے میں تو اتنی طاقت نہیں دوسرا کرین آنے میں بھی وقت لگ جائے گا۔شازل نے اُس کو باہر جاتا دیکھا تو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھائے شریر لہجے میں کہا۔

میں اگر بُری بیوی ہوں تو آپ بھی کوئی اچھے شوہر نہیں۔ماہی اُس کے ساتھ بیٹھ کر منہ بناکر بولی

اب جیسے کو تیسا ملتا ہے۔شازل ہنکارہ بھر کر بولا تو ماہی روہانسی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

جب سے کیا ہے دلبر

میں نے دیدار تیرا

ہرپل مجھے رہتا ہے

بس انتظار تیرا

کوئی جادوں!!!!!!!!!!!

ہاں کوئی جادوں

بار بار ہونے!!!!!! لگا ہے

مجھے کو تیرا انتظار ہونے لگا ہے

کہتے ہیں میرے یار

یمان۔

یمان جو صبح سویرے اپنے کمرے سے نکلتا سیڑھیاں اُتررہا تھا ساتھ میں خوشگوار موڈ میں گانا گاتا جارہا تھا تو ہال میں بیٹھے دلاور خان نے اُس کو ایسے دیکھا تو پُکارا

یس ڈیڈ۔یمان جو کچن میں جانے والا تھا دلاور خان کی آواز پہ اُن کی جانب متوجہ ہوا۔

خیریت ہے؟دلاور خان نے بغور اُس کا جائزہ لیے پوچھا جو آج روز معمول سے زیادہ تیار تھا یا ان کو ایسا لگ رہا تھا۔

جی سب ٹھیک ہے پر آپ کیوں؟ایسے پوچھ رہے ہیں۔یمان نے اپنے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ سجا کر بولا تو دلاور خان کو غش آتے آتے رہ گیا ایسا اتنے سالوں میں پہلی بار ہوا تھا جو یمان اتنا خوش اور بات پہ بات مسکرا رہا تھا۔

تم آج ضرورت سے زیادہ خوش نظر آرہے ہو ماشااللہ اچھی بات ہے مگر وجہ سمجھ نہیں آرہی تمہاری اِس خوبصورت مسکراہٹ کی۔دلاور خان نے صاف گوئی سے کہا تو یمان اپنے اپنے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتا قہقہقہ لگانے لگا تو دلاور خان کو سمجھ نہیں آیا انہوں نے ایسا بھی کیا لطیفہ سُنادیا۔

کیا آپ کو میری مسکراہٹ پسند نہیں آرہی؟یمان مصنوعی افسوس سے بولا

بلکل پسند آرہی ہے بلکہ میری تو سالوں سے یہ حسرت تھی تمہیں یوں خوش باش دیکھنا۔دلاور خان نے جلدی سے کہا

اچھا ڈیڈ میری چھوڑے یہ بتائے کیا گھر میں کوئی مہمان آیا ہے ہمارے؟یمان اپنے مطلب کی بات پہ آیا جو کل رات سے اُس کو بے چین کیے ہوئی تھی۔

کیا تم نے حور کو دیکھا؟دلاور خان نے مسکراکر پوچھا

حور کو تو نہیں پری کو ضرور دیکھا۔یمان کی آنکھوں کے پردے میں آروش کا سراپا لہرایا تو اُس کے منہ سے بے ساختہ پھسلا

مطلب؟دلاور خان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگے

وہ میرا مطلب میں پوچھ رہا تھا کون حور؟یمان گڑبڑا کر بولا

حور میری بیٹی تمہیں بتایا تھا نہ میں اُس کو لینے جارہا ہوں پھر یہ بھی رات بتایا تھا حور اکیلی ہے تم جلدی آجانا۔دلاور خان پرجوش لہجے میں اُس کو بتانے لگے۔

کیوں دوبارہ ہارٹ اٹیک دلوانا چاہتے ہیں ڈیڈ۔یمان اپنی گردن پہ ہاتھ پھیرتا بڑبڑایا۔۔۔۔اُس کی سوئی بس “بیٹی”لفظ پہ اٹک گئ تھی۔

کیا بڑبڑائے ہو زور سے کہو تاکہ میں بھی تو سُنوں۔دلاور خان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر کہا

وہ کون بیٹی ہے آپ کی جن کی آنکھیں شہد ہیں؟یمان فورن سے اُن کے پاس آتا بے چینی سے پوچھنے لگا اُس کا رواں رواں کان بن گیا تھا۔

ہاں حور کل تم اُس سے ملے؟دلاور خان اپنی خوشی میں یمان کی بے چینی محسوس ہی نہیں کرپائے جو اُس کے چہرے پہ صاف عیاں تھی۔

مگر اُنہوں نے تو اپنا نام سیدہ آروش شاہ بتایا تھا۔یمان سامنے کی جانب اپنا رخ کیے ایک چور نگاہ دلاور خان پہ ڈالی۔

ہممم بس میں لاچار باپ نہ بنتا تو آج میری بیٹی خود کو خان خاندں کا کہلواتی شاہ خاندان کا نہیں۔دلاور خان افسوس بھرے لہجے میں بولے تو یمان کے ماتھے پہ ناسمجھی والی لکیریں اُبھری

میں سمجھا نہیں؟یمان پوری طرح سے دلاور خان کی جانب متوجہ ہوا

تمہیں سب کجھ تو بتایا ہوا ہے میری پانچویں بیٹی میرے دوست کے پاس ہے وہ حور آروش ہے میری بیٹی جو اب میرے پاس رہے گی۔دلاور خان نے مسکراکر بتایا تو یمان کی آنکھیں بے یقینی سے پوری طرح کُھلی کی کُھلی رہ گئ

آپ مذاق کررہے ہیں؟یمان بس یہی بول پایا

میں کیوں تم سے مذاق کروں گا کیا وہ تمہیں میری بیٹی نہیں لگی؟دلاور خان بُرا مان گئے

مگر وہ تو۔یمان اتنا کہتا خاموش ہوگیا

میرا دوست سید تھا اِس لیے حور بھی خود کو سیدہ بتارہی مگر وہ سیدہ نہیں ہے میری بیٹی ہے اُس کی رگوں میں سیدزادے کا خون نہیں پٹھانوں کا خون ہے۔دلاور خان نے اُس کی آدھی بات کا مطلب اخذ کیے بتایا

تو یمان کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا ری ایکشن دے اپنا۔۔۔۔سالوں پہلے جس وجہ کے طور پہ اُس کی محبت کو ٹھکرایا گیا تھا اصل میں وہ حقیقت تھی ہی نہیں۔

ایسا بھی ہوتا ہے؟یمان سر جھٹک کر بولا

کیا مطلب؟دلاور خان کو سمجھ نہیں آیا

میرا مطلب اگر وہ آپ کی بیٹی ہے مگر پرورش تو کہیں اور سے پائی ہیں تو کیا انہوں نے اتنے سالوں بعد جس کو باپ مانا جس خاندان کا طور اطوار قبول کیا تھا اچانک سے اگر سب بدل جائے تو کیا وہ نارمل رہی کجھ کہا نہیں ہے آپ سے شکوہ شکایت نہیں کی؟یمان کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے تبھی یہی کہا

کل آئی ہے بہت بات چیت وغیرہ بھی نہیں ہوئی آج اُس کی ماں بھی آجائے تو کیا پتا وہ اپنا دل کھول دے۔دلاور خان نے کہا

ناشتہ کیا ہے انہوں نے؟یمان کو فکر ہوئی

نہیں سو رہی ہے شاید میں گیا تھا پر اُس نے دروازہ نہیں کھولا۔دلاور نے کہا

اب تک تو اُٹھ جانا چاہیے تھا دس بج رہے ہیں پتا نہیں کل کجھ کھایا ہوگا یا نہیں۔یمان نے اپنا لہجہ سرسری بنائے کہا

میں دیکھتا ہوں۔دلاور خان کو بھی خیال آیا تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شھباز شاہ کمرے میں آئے تو کلثوم بیگم کو گم سم بیٹھایا پایا۔

کیا ہوا؟شھباز شاہ اندر داخل ہوئے استفسار ہوئے

آروش بہت اُداس ہوکر گئ ہے آپ نہ خود ملے نہ مجھے ٹھیک سے ملنے دیا جانے وہ کیا سوچ رہی ہوگی۔کلثوم بیگم نم لہجے میں بولی

مجھے میں اتنی ہمت نہیں تھی جو میں اُس کو یہاں سے جاتا ہوا دیکھتا۔شھباز شاہ سنجیدگی سے بولے کل سے وہ خود اضطرابی کیفیت کا شکار تھے۔

میں نہیں جانتی شاہ سائیں بس میرا دل اُداس ہورہا ہے بار بار آروش کا منت بھرا التجا کرتا چہرہ آرہا ہے آپ کو پتا ہے نہ وہ کتنا پیار کرتی ہے سب سے۔کلثوم بیگم نے کہا تو انہوں نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچا

بس کجھ دنوں کی بات ہے پھر بات وغیرہ کرلینا۔شھباز شاہ نے کہا

میں ملنا چاہوں گی۔کلثوم بیگم اُن کی بات سن کر بولی

ملنا ٹھیک نہیں ابھی۔شھباز شاہ نے ٹوکا تو وہ خاموش ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *