Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 57)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 57)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
ڈرائیور یا نجمہ لے آتی گاڑی سے۔زوبیہ بیگم نے یمان سے کہا جو سب شاپنگ بیگز ایک ساتھ لارہا تھا۔
کیا ہوا اگر میں لے آیا تو۔یمان ہلکی مسکراہٹ سے بولا
نجمہ آروش کو تو بلاؤ۔زوبیہ بیگم مسکراکر یمان کو دیکھتی نجمہ کو آواز دینے لگی۔
میں آتا ہوں ایک کام ہے۔یمان نے کہا
کہاں؟ ابھی تو باہر سے آؤ۔زوبیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا۔
ضروری کام ہے آتا ہوں۔یمان مسکراکر کہتا باہر چلاگیا تب تک آروش بھی نیچے آگئ تھی۔
السلام علیکم۔آروش نے سلام کیا
وعلیکم السلام۔صبح ہی تو سلام کیا تھا۔زوبیہ بیگم اُس کو سلام کا جواب دیتی مسکراکر بولی
آپ کو کوئی کام تھا؟آروش بس یہ بولی
ہاں یہ دیکھو میں نے تمہارے لیے بہت بڑے مال سے کپڑے خریدے ہیں یقیناً تمہیں پسند آئے گے اور اب اِنہیں میں سے کوئی پہننا اِس ایک جوڑے کو پہننے ہوئے ایک ہفتہ ہونے والا ہے۔زوبیہ بیگم نے مسکراکر اُس کو دیکھ کر کہا
شکریہ۔آروش اتنا کہتی ایک بیگ کھولا
یہ تو جینز ہیں۔آروش ایک کے بعد ایک بیگ کھولتی سارے ڈریسز بیگز میں سے نکالتی اُن سے بولی۔کسی ڈریس میں بازوں نہیں تھے تو کوئی بیک لیس تھی یا تو حددرجہ شارٹ ڈریسز تھی جن کو دیکھ کر اُس کے تاثرات میں ناپسندیدہ ہوگئے۔
تو؟زوبیہ کو سمجھ نہیں آیا
تو میں ایسے کپڑے نہیں پہنی۔میں ایسے پہنتی ہوں جیسے میں نے ابھی پہنے ہوئے ہیں۔آروش نے اپنی جانب اِشارہ کیے سنجیدگی سے کہا
دیکھو آروش تم پہلے ایسے کپڑے پہنتی ہوگی مگر اب تمہیں پہنا لائیف سٹائیل بدلنا ہوگا۔زوبیہ بیگم نے نرمی سے کہا
آپ نے بس یہ مہنگے ڈریسز لیکر پئسو کا ضائع کیا ہے کیونکہ نہ میں نے ایسے کبھی کپڑے پہنے ہیں اور نہ کبھی پہننے کا تصور کرسکتی ہوں مجھے پورے اور کُھلے ہوئے کپڑے پسند ہیں۔آروش نے اُن کی بات کے جواب میں کہا۔
شاید تم میری بات سمجھی نہیں۔زوبیہ بیگم نے اُس کی ایک ہی رٹ پہ کہا
میں نہیں شاید آپ میری بات نہیں سمجھ پائی آپ لوگوں کا جیسا لائیف سٹائیل ہے وہ میرا نہیں ہوسکتا ہے۔اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو یہ غلط ہے اور اگر بات چاہ کی ہے تو میں چاہتی ہوں آپ لوگ وہ لائیف سٹائیل اپنائے جو میں نے اپنایا ہوا۔میرا لائیف سٹائیل اگر آپ لوگوں کو اپنانے میں مشکل لگ رہی ہے تو مجھے بھی مشکل لگ رہا ہے۔آروش دو ٹوک انداز میں کہتی وہاں سے چلی گئ۔پیچھے زوبیہ بیگم حیرت سے بس اُس کی پشت کو دیکھنے لگی۔
کیا ہوا موم؟نور چیونگم چباتی اُن کے ساتھ بیٹھ کر بولی
یہ کپڑے دیکھو۔زوبیہ بیگم نے بیگز کی جانب اِشارہ کیا
واہ بہت پیارے ہیں کیا آروش کے لیے ہیں؟نور ستائش بھری نظروں سے کپڑوں کو دیکھ کر بولی
ہاں اُس کے لیے تھے مگر محترمہ نے کہا وہ یہ ایسے کپڑے نہیں پہنے گے آروش وہ بات مجھ سے کرگئ ہے جو سالوں پہلے خان کی ماں نے مجھ سے کہی تھی۔زوبیہ بیگم نے سرجھٹک کر بتایا۔
آروش نے کیا کہا؟اور دادو نے کیا کہا تھا؟نور نے جاننا چاہا
یہی کہا تھا میری ساس نے کے وہ غیرتمند پٹھان ہے اُن کے یہاں لڑکیاں ایسے کپڑے پہن کر نمائش نہیں کرتی اپنے جسم کی لہٰذا اگر مجھے اُن کے یہاں رہنا ہے تو بڑا سا ڈوپٹہ پہننا پڑے گا۔زوبیہ بیگم جھرجھری لیکر کہا
ہاؤ چیپ۔جسم کی نمائش ہر ایک کا اپنا طور طریقہ ہوتا ہے زندگی بسر کرنے کا۔نور نے ناگواری سے کہا
اور نہیں تو کیا جب تم چاروں پیدا ہوئی تھی تو اُن کا کہنا تھا اِن سب کو بھی بڑی ہوکر اپنی ماں جیسا بننا حرام کمائی کمانی ہے تم سب کو غیر مسلم کہا تھا جب کی تم لوگوں کا باپ مسلمان تھا اور میں نے بھی شادی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا۔زوبیہ بیگم نے مزید کہا
الحمداللہ وی آر مسلمز وہ کون ہوتی تھی ہمارے مسلمان ہونے پہ سوال کرنے والی تھی۔آپ نے ہمیں سب پہلے کیوں نہیں بتایا تھا؟اور ڈیڈ کیا ان کو پتا تھا ان کی ماں آپ کو ایسے اپنی باتوں سے ٹارچر کیا کرتی تھی۔نور نے جاننا چاہا
خان سے کجھ ڈھکہ چُھپا نہیں تھا بڑا ہی کوئی جاہلانہ رواج تھا دلاور خان کی بہنیں اپنے گھر میں بھی آدھا چہرہ چُھپاکر رکھتی تھی پہلے یہ سب نہیں بتایا کیونکہ وہ جیسی بھی تھیں تم چاروں کی دادی تھی اِس لیے سوچا تم لوگوں کو کیا بدگمان کروں اُن سے۔زوبیہ بیگم بولی
کیا ڈیڈ کی بہنیں بھی ہیں؟نور کو حیرانی ہوئی جان کر۔
ہاں دو بہنیں تھی ایک بڑی اور ایک چھوٹی۔بڑی کا نام خجستہ تھا تو چھوٹی کا یاسمین۔زوبیہ بیگم نے بتایا۔
اچھا ہوا جو ڈیڈ یہاں موو آن ہوگئے۔نور اُن کی بات سن کر بولی۔
ہاں مگر یہ آروش تو مجھے اُن کا عکس لگتی ہے اِس کی آنکھیں اپنی دادی سے ملتی ہے۔زوبیہ بیگم نے کہا
واٹ ایور اگر یہ ڈریسز نہیں لے رہی تو میں لے لیتی ہوں کیونکہ بہت دِنوں سے میں شاپنگ کرنے کا سوچ رہی تھی۔نور نے کہا
ہاں تمہاری مرضی مگر اِن میں جو سینڈلز اور گھر میں پہننے کے لیے سلپرز ہیں وہ تم آروش کو دے آؤ۔زوبیہ بیگم نے کہا
سینڈلز تو ڈریسز سے میچ ہوگی تو وہ میں لوں نہ۔نور نے کہا
اُس کے پیروں کی ناپ کے ہیں اُس کو دو۔زوبیہ نے آنکھیں دیکھائی تو ناچار نور اُٹھ کھڑی ہوئی۔







تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟شازل نے ماہی کو کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا پایا تو پوچھا
گھٹن کا احساس ہورہا تھا تو بس یہی چلی آئی۔ماہی نے بتایا
طبیعت ٹھیک ہے؟یہاں بیٹھو۔شازل نے اُس کا ماتھا چھو کر صوفے پہ بیٹھایا۔
ہاں طبیعت تو ٹھیک ہے بس عجیب ڈر لگ رہا ہے۔ماہی اُس کے کاندھے پہ سر ٹِکاکر بولی
ڈر کیوں؟شازل سنجیدہ ہوا
اگر ڈیلیوری کے دوران مجھے کجھ ہوگیا تو۔ماہی نے کہا تو شازل نے زور ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی
یہ خُرافت سوچنے کے علاوہ کوئی اور کام بھی کرلیا کرو۔شازل نے سختی سے اُس کو ڈپٹا
کہیں باہر چلے؟ماہی نے بس یہ کہا
اُٹھو چلتے ہیں۔شازل اُس کا ماتھا چوم کر بولا۔








یمان گھر آیا تو بہت رات ہوگئ تھی اُس نے جو شاپنگ کی تھی وہ بیگز لاتا نجمہ کو ہال میں آنے کا کہنے کا سوچتا خود گانا گُنگُناتا کچن میں جانے لگا۔
تیری نظروں کا جو جام پی لے
تیری نظروں کا جو جام پی لے
عمر بھر پھر وہ سنبھلتا نہیں ہے
یہ کیا تم ہر جگہ ٹپک جاتے ہو تہمیز نہیں کہیں بھی آنے جانے کی۔یمان جو گانا گُنگُناتا اپنی دُھن میں کچن میں داخل ہوا تھا آروش کی آواز پہ یکدم اپنا رخ بدل گیا۔
سوری ایکچوئلی مجھے پتا نہیں تھا نہ آپ بھی یہاں موجود ہیں ورنہ میں کچن کا دروازہ ناک کرکے آتا۔یمان اپنی مسکراہٹ دبائے بولا تو آروش نے اُس کی پشت کو گھورا
میں جب یہاں ہوں تو تم یہاں مت آیا کرو۔آروش نے دانت پیس کر کہا
کیوں کیا آپ کو مجھ سے شرم آتی ہے؟یمان مصنوعی حیرت سے بولا
کیا پاگل ہو مجھے کیوں تم سے شرم آنے لگی۔آروش نے تیز آواز میں کہا
پھر کیا اعتراض یقین جانے میں نے بس ایک دفع آپ کا چہرہ دیکھا تھا وہ بھی اتفاقً اُس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔یمان اپنے گلے کی ہڈی میں ہاتھ رکھتا معصومیت سے بولا
فضول گوئی کے علاوہ کجھ آتا ہے؟آروش نے زچ ہوکر بولی
یقینً آپ نے اپنے چہرے کے گرد ڈوپٹہ لیا ہوگا تو کیا میں مڑ سکتا ہوں؟یمان اُس کی بات نظرانداز کیے بولا تو آروش نے کوئی جواب نہیں دیا جس پہ یمان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی اور خود ہی اپنا رخ آروش کی جانب کیا جو اُس کی سوچ کے مطابق اپنے چہرے پہ ڈوپٹہ لیے ہوئے تھی اور خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی یمان سمجھ گیا تھا یقینً آروش کا چہرہ بھی لال بھبھو بن گیا ہوگا۔یمان کی مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی جارہی تھی دوسری طرف آروش کی نظر اُس کے ڈمپلز پہ پڑی تو مزید تاؤ آیا۔
آپ موٹی ہوگئ ہیں۔یمان لب دانتو تلے دبائے سرتا پیر اُس کو دیکھ کر بولا تو آروش کی رنگت پل بھر میں سرخ انار ہوگئ تھی جو اگر یمان دیکھتا تو یقین بیہوش ہوجاتا
اپنی نظروں کا علاج کرواؤ۔آروش اپنا رخ بدل کر کافی میکر سے کافی کپ میں انڈیل کر اُس سے بولی۔اُس کو شام سے اپنے سر میں درد ہورہا تھا مگر اُس نے کسی کو بتایا نہیں تھا۔مگر اب جب سردرد برداشت سے باہر ہوتا محسوس ہونے لگا تو اُس کو لگا سب اب سوگئے ہوگے تبھی وہ کچن میں آئی تھی اپنے لیے کافی بنانے کا سوچتی مگر اچانک یمان کی آمد نے اُس کو تپادیا تھا۔
کس کس چیز کا علاج کرو دل کا جو آپ کو چاہتا ہے؟دماغ کا جو ایک سیکنڈ کے لیے بھی آپ کے خیالوں سے غافل نہیں ہوتا؟یمان ایک قدم اُس کی جانب بڑھاتا بولا تو آروش کے ہاتھ ایک پل کو تھمے تھے۔
میرے سامنے بکواس مت کیا کرو ورنہ تیسرا تھپڑ مارنے میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔آروش نے ٹوکا
شکریہ۔یمان اُس کی ساری باتیں نظریں انداز کیے اپنا چہرہ اُس کے کان کے پاس کرتا دلکش مسکرائٹ سے بولا بولا
کس
اِس لیے۔یمان بڑی چلاکی سے اُس کی بنائی ہوئی کافی اپنے ہاتھ میں لیتا پیچھے سے اُس کے چہرے پہ پھونک مار کر دور کھڑا ہوا۔آروش جو وجہ پوچھنے والی تھی یمان کی حرکت پہ ایک جگہ اسٹل ہوگئ تھی۔
یہ میری کافی ہے مجھے واپس کرو۔آروش ہوش میں آتی اُس پہ چیخی۔
میں بھی تو آپ کا ہوں۔یمان آنکھ وِنک کرتا شرارت سے اُس سے بولا تو آروش تپ اُٹھی جب کی یمان کے ڈمپلز آج اندر ہی نہیں جارہے تھے۔
مجھے واپس کرو ورنہ میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔آروش ہاتھ کی مٹھی بھینچ کر بولی
شوق سے مگر کتنا عجیب لگے گا نکاح کے دن جب میں ٹوٹے سر کے ساتھ آپ کے ساتھ بیٹھا ہوگا میرا تو کجھ نہیں جائے خوامخواہ لوگ آپ کا دل بُرا کرینگے۔یمان کی سوچ بہت دور تک پہنچی
دماغ کی سرجری کرواؤ۔آروش نے طنزیہ کیا۔
میرے دماغ کو کیا ہوا ہے جو سرجری کرواؤ۔یمان بُرا مان گیا۔
مجھے اپنا کافی کا کپ واپس کرو۔آروش صبر کا گھونٹ پی کر بولی
یہ لے۔یمان کافی کا ایک بڑا سا گھونٹ اپنے اندر انڈیلتا کافی کپ اُس کی جانب بڑھانے لگا تو آروش نے دانت کچکچائے
خود پیو۔آروش اُس کو تیز گھوری سے نوازتی کچن سے باہر جانے لگی جب یمان اُس کے راستے میں حائل ہوا
کہتے ہیں چھوٹا کھانے اور پینے سے محبت بڑھتی ہے کیوں نہ ہم بھی ٹرائے کرے میں نے بہت بار ٹرائے کیا ہے کبھی آپ کا چھوٹا پراٹھے کھائے ہیں تو کبھی آپ کی چائے آج آپ بھی کرے کیا پتا آپ کا دل میرے لیے پگل جائے۔یمان اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا تو آروش کا دل بغاوت پہ اُتر آیا تھا کیا کجھ نظر نہیں آیا تھا اُس کو یمان کی آنکھوں میں عزت،پیار،احترام،پاکیزگی سے بھرے جذبات کے علاوہ بھی بہت کجھ جن کو دیکھ کر آروش نے بے اختیار تھوک نگلا اُس کو کمزور نہیں تھا بننا مگر ایک یمان تھا جو اُس کو کمزور بنانے میں ہر ہتھیار استعمال کررہا تھا۔
دیکھو یمان
آپ کو ہی تو دیکھ رہا ہوں مگر یقین جانے صرف آپ کی خوبصورت آنکھوں کو چہرہ تب دیکھوں گا جب ہمارے درمیان پاکیزہ رشتہ ہوگا ابھی میرے اندر ایسی کوئی خواہش نہیں۔آروش جو ہمت کرتی کجھ کہنے والی تھی۔یمان اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر اپنی بات بولا تو آروش بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔
تمہیں شاید یاد نہیں میری وجہ سے تم موت کے منہ میں گئے تھے۔آروش نے اُس کو خود سے بدذن کرنا چاہا
آپ کا خیال آپ کی آنکھیں کجھ اور یاد رہنے ہی نہیں دیتی۔یمان اُس کی بات پہ مبہم سا مُسکرایا
تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ لیتے؟آروش کجھ فاصلے میں کھڑی ہوتی اُس کو بولی
آپ اپنی ضد کیوں نہیں چھوڑتی یقین جانے جو کہے گی وہ کروں گا بنا کوئی سوال کیے۔یمان نے دوبدو کہا۔
اتنا اعتماد۔آروش نے طنزیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
بلکل یقین نہیں آتا تو آزماکر دیکھ لے۔یمان نے کہا
میرے لیے کیا کرسکتے ہو؟آروش نے جاننا چاہا
یہ دُنیا چھوڑ سکتا ہوں۔یمان بنا تاخیر کیے بولا تو آروش کا دل ڈوب کے اُبھرا
میرے لیے مجھے چھوڑ دو یمان ہمارا ملنا نہ سات آٹھ سال پہلے ممکن تھا اور نہ آج کبھی ممکن ہوگا۔آروش سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں جھانک کر کہتی رُکی نہیں تھی مگر یمان نے اِس بار روکا نہیں تھا وہ تو اُس کے لفظوں پہ پتھر کا بن گیا تھا۔
میں ناممکن کو ممکن بنا کر رہوں گا آپ ایک دن مجھ سے پیار ضرور کرے گی چاہے اُس کے لیے مجھے مرنا ہی کیوں نہ پڑے۔یمان کافی دیر بعد بولنے کے لائق ہوا تو خود سے بڑبڑاتا۔ہال میں واپس آیا اور لینڈ لائن میں نجمہ کو کال کرکے یہاں آنے کا کہہ کر وہ اُس کا انتظار کرنے لگا جو کجھ ہی منٹس میں اُس کے سامنے آگئ تھی۔
صاحب آپ مجھے ایک بتادے میری نیند سے آپ کو کوئی خاص دُشمنی ہے۔نجمہ آتے ہی نون سٹاپ بولنے لگ پڑی۔
تمہاری نیند سے مجھے کیا مسئلہ ہوگا؟یمان ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولا
صاحب یہ کجھ دنوں سے جو آپ بے وقت کسی کام کے لیے انٹر کام گُھماتے ہیں یہ پہلے تو نہیں کرتے تھے اب لگتا ہے مجھے انٹرکام کا کام (کریڈل) الگ کر کے سونا چاہیے تاکہ کسی کی کال تو نا آئے ویسے بھی نو دس بجے کا بعد میرا کام ختم ہوجاتا ہے۔نجمہ جمائی لیتی اُس سے بولی
میں نے کوئی تمہیں کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے نہیں بُلوایا یہ بیگز ہیں اُن کو دے آؤں۔یمان نے گھور کر کہا
ایک بات بتاؤں صاحب ؟جو آپ کا کمرہ ہے ٹھیک تین قدموں کی مُساوت پہ اُن کا کمرا ہے یہ نہیں تھا اچھا کے آپ اپنے کمرے میں جاتے وقت اپنے قدموں کو مزید تھوڑی زحمت دیتے اور اُن کے کمرے کا دروازہ نوک کرکے اُن کو یہ بیگز دیتے۔نجمہ نے ایسے بتایا جیسے یمان کو کجھ پتا ہی نہیں تھا۔
سیریسلی نجمہ مجھے پتا نہیں تھا اچھا ہوا تم نے بتادیا اب یہ بیگز اُٹھاؤ اور اُن کو دے آؤ میرا نام
آپ کا ہی نام آئے گا کیونکہ میں اپنا نام لینے سے تو رہی بنا دیکھے ہی بتاسکتی ہو ایک جوڑے کی قیمتی میری ماہانہ سیلری سے زیادہ ہوگی۔یمان جو طنز بھرے لہجے میں اُس کو بتارہا تھا نجمہ اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی
یار تمہارا مسئلہ کیا ہے؟تمہاری زبان اتنی بریک لیس کیوں ہے؟یمان زچ ہوتا ہوا بولا
اچھا میں بریک دیتی ہوں اپنی زبان کو آپ خوش ہوجائے اُن سے کہوں گی یہ بیگز آپ رکھ لے میری عمر بھر اور مستقبل میں کی جانے والی کمائی کی شاپنگ ہیں مجھے پیدا ہوتے ہوئے الہام ہوا تھا ایک دن آپ آئے گی اِس لیے میں نے روپیہ روپیہ جوڑ کر آپ کے لیے خریداری کی ہے۔نجمہ پھر سے بولنا شروع ہوئی تو یمان نے صبر کا گھونٹ بھرا۔
جاؤ یہاں سے۔یمان نے کہا
جاتی ہوں یہ تو اُٹھالوں پہلے۔نجمہ نے کہا
اپنے کوارٹرز میں جاؤ میں خود دے آؤں گا تمہاری مہربانی۔یمان سنجیدگی سے بولا
اگر خود جانا تھا تو مجھے کیوں کہا آنے کو۔نجمہ کا منہ کُھل گیا۔
میرا دماغ خراب ہوگیا تھا اِس وجہ سے اب جاؤ اُس سے پہلے میرا بی پی شوٹ کرجائے۔یمان تیز آواز میں بولا
ایک تو آپ امیروں کا بی پی جلدی شوٹ کرجاتا ہے اور ایک ہم ہوتے ہیں دونوں پاؤں قبر میں پہچنے والی ہوتے ہیں تو بچ جاتے ہیں۔نجمہ جاتے جاتے ہوئے بھی اپنی زبان کے جوہر دِیکھانے سے باز نہیں آئی۔جب کی یمان اُس کی پشت کو گھورتا سر نفی میں ہلانے لگا۔
میں خود تو جاؤں مگر جو باتیں میں نے اب کی ہے دوبارہ میری شکل دیکھ کر انہوں نے اب سیدھا میرا سر پھاڑ دینا ہے۔یمان بیگز ہاتھوں میں لیتا اُپر کی جانب چلتا بڑبڑایا
کمرے کے پاس پہنچ کر یمان گہری ساس بھرتا دروازہ نوک کرنے لگا۔
آروش بیڈ پہ لیٹی یمان کی باتوں کو سوچ رہی تھی وہ لاکھ چاہنے کے بعد باوجود بھی اپنا ذہن یمان کی سوچ سے جھٹک نہیں پارہی تھی مگر جب کمرے کا دروازہ نوک ہوا تو اُس نے تعجب سے دروازہ کو دیکھا
اِس وقت کون ہوگا؟ آروش بڑبڑائی تھوڑا چہرے کے گرد ڈوپٹہ رکھے دروازہ کھولا تو یمان کو دیکھے اُس نے صبر کا گھونٹا بھرا
تم یہاں پھر؟ آروش نے اُس کو گھورا
میں آپ کو یہ دینے آیا تھا۔ یمان نے جلدی سے اُس کی توجہ بیگز کی جانب کی۔
کیا ہے یہ؟ آروش سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
آپ کو موم کی شاپنگ پسند نہیں آئی تھی نہ تو انہوں نے یہ کجھ ڈریسز آپ کے لیے دوسرے منگوائے تھے۔یمان کو کجھ اور سمجھ نہیں آیا تو یہی بول دیا
یہ سارے؟ آروش نے کنفرم کرنا چاہا
جی یہ سارے آپ کے ہیں۔ یمان نے کہا
وہ خود کیوں نہیں؟ اور تمہیں کیوں اِس وقت یہاں بھیجا کچن میں تم نے ایسا کجھ نہیں بتایا تھا۔ آروش نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
تب مجھے کجھ نہیں تھا پتا تو آپ کو کیسے بتاتا یہ تو ابھی انہوں نے کہا اور آپ کو سختی سے تاکید کی ہے کے کل اِنہیں میں سے کوئی جوڑا پہنے۔ یمان بڑی صفائی سے ایک کے بعد ایک جھوٹ بولا
ہممم شکریہ۔ آروش بحث سے بچتی بیگز اُٹھانے والی تھی جب یمان پھر بولا
بہت بیگز ہیں اور بھاڑی ہیں آپ نہیں اُٹھا پائے گی میں وارڈروب سیٹ کردیتا ہوں۔ یمان اتنا کہتا بنا آروش کو کجھ بولنے کا موقع دیئے کمرے کے اندر داخل ہوگیا۔
آروش کُھلے منہ کے ساتھ اُس کی جرئٹ پہ اپنے دانت بُری طرح سے کچکچائے
یمان یہ کیا بدتمیزی ہے؟باہر جاؤ۔آروش دروازہ کے پاس کھڑی پیچھے جانے کے بجائے وہی پہ رک کر اُس سے سخت لہجے میں بولی
بدتمیزی کہاں میں تو آپ کی مدد کرنے آیا ہوں۔ یمان بُرا مان کر بولا
دیکھو یمان بہت رات ہوگئ ہے جاؤ یہاں سے مجھے فلحال تمہاری کسی بھی مدد کی ضروری نہیں۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے۔یمان بیگز رکھتا بنا اُس پہ ایک نظر ڈال کر چلاگیا۔اُس کے جانے کے بعد آروش دروازہ بند کرتی بیگز کو دیکھنے لگی جو یمان رکھ کر گیا تھا۔
