Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 25)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

ماہی تمہیں کجھ نہیں پتا اِس لیے ایسی باتیں مت کیا کروں میرے سامنے۔شازل خود پہ ضبط کیے بولا

میں نے بس ایک بات کہی سوری اگر آپ کو بُرا لگا ہو تو۔ماہی نے شرمندگی سے کہا

آئیندہ احتیاط کیا کرو اور پلیز ایسی بات آروش کے سامنے مت کرنا۔شازل نے کہا۔

جی۔ماہی نے سر کو جنبش دیتے کہا

تم ریڈی ہوجاؤ پھر مارکیٹ چلتے ہیں تم گروسری خود کرلینا۔شازل بات بدل کر بولا

میں عبایا پہن کر آتی ہوں۔ماہی جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھی۔

عبایا پہننا نہ پہننا تمہاری اپنی مرضی ہے یہ مت سمجھنا ہم تم پہ زبردستی کر رہے ہیں۔شازل نے کہا۔

میں اپنی مرضی سے پہن رہی ہوں۔ماہی نے جواب دیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

حریم پاگل مت بنو۔ دُرید اپنے غصے پہ قابو پاتا اُس سے بولا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا تھپڑوں سے اُس کا منہ لال کردیتا۔

ہم نے کجھ غلط تو نہیں کہا۔حریم نے سرجھکائے کہا

حریم میرے صبر کا امتحان مت لو۔دُرید نے سخت لہجے میں کہا

آپ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہیں ہمیں آپ سے محبت ہیں اور ہم آپ کے علاوہ

چٹاخ

حریم کی بات بیچ میں رہ گئ جب دُرید نے زوردار تھپڑ اُس کے گال پہ مارا جس سے وہ اوندھے منہ بیڈ پہ گِری

تم۔

دُرید کجھ سخت کہتا کہتا رک گیا ایک غصے بھری نظر وہ زاروقطار روتی حریم پہ ڈالتا ٹھاہ کی آواز سے دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا۔

ہم آپ کے بنا مرجائے گے۔حریم نم لہجے میں کہتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالہ کیا ہوا آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟آروش نے دُرید کو غصے سے باہر جاتا دیکھا تو اُس کے پاس آئی۔

اگر میں یہاں رہا تو مجھ سے کجھ بُرا ہوجائے گا۔دُرید ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر بولا

ہوا کیا ہے آپ تو حریم کے پاس تھے نہ۔آروش نے اُس کو اتنا غصے میں دیکھا تو فکرمند ہوئی۔

حریم کو سمجھاؤ آروش ورنہ میں اُسے جان سے ماردوں گا۔دُرید دانت پہ دانت جمائے بولا

لالہ یہ آپ کیا بول رہے ہیں۔آروش کو دُرید کی بات پسند نہیں آئی۔

شادی کرنا چاہتی ہے وہ مجھ سے سمجھ نہیں آرہا یہ خُرافات اُس کے دماغ میں لایا کون ہے۔دُرید کی بات پہ آروش کا ہاتھ بے ساختہ اپنے منہ پہ پڑا۔

حریم نے ایسا خود کہا۔آروش بے یقینی نظروں سے دُرید کو دیکھ کر بولی

ہاں نہ اُس نے میری عمر کا لحاظ کیا اور نہ ہمارے درمیان موجود رشتے کا۔دُرید سخت خائف معلوم ہورہا تھا۔

حویلی میں یہ بات کسی کو پتا چل گئ تو لوگ بہت باتیں بنائے گے۔آروش نے کہا

جانتا ہوں اِس لیے میں اماں سائیں کو کہتا ہوں وہ اِسی جمعے حریم کا نکاح کروائے۔دُرید پتھریلے لہجے میں اپنا منصوبہ بتانے لگا آروش کو بے اختیار حریم پہ ترس آیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

آج شھباز شاہ آروش کو لیکر یمان کے گھر آئے تھے۔اُن کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا آروش کو ایسی جگہ لانے پہ مگر وہ مجبور تھے۔

یہ اُس کا گھر ہے۔آروش کی آواز پہ وہ اپنی سوچو سے باہر آئے۔

ہمممم یہی ہے تمہاری ضد پہ میں یہاں آیا ہوں۔شھباز شاہ نے ہنکارہ بھر کر کہا

میں اندر جاتی ہوں۔آروش نے بے چینی سے کہا

میں ساتھ چلتا ہوں۔شھباز شاہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر بولے۔

آپ لوگ کون اور یہاں کیوں آئے ہیں؟مستقیم صاحب نے شھباز شاہ اور آروش کو اپنے گھر میں داخل ہوتا دیکھا تو پوچھا۔صحن میں موجود چارپائی پہ بیٹھی فجر اور عیشا بھی اُن کو دیکھ کر کھڑی ہوگئ۔

فجر کہیں یہ؟عیشا فجر سے بولی تو اُس کو ساری بات سمجھ آئی فجر کے تاثرات یکدم سخت ہوئے تھے۔

تم ہو نہ وہ لڑکی جس نے میرے معصوم بھائی کو اپنی جال میں پھنسایا تھا۔فجر دندناتی آروش کے پاس آئی تو آروش ڈر کر شھباز شاہ کا بازوں تھام گئ۔

تھمیز سے بات کرو جانتی نہیں تم کس کے ساتھ کیا بات کررہی ہو۔شھباز شاہ کرخت آواز میں بولے

سب جانتی ہوں میں کس سے اور کیا بات کررہی ہوں آپ مجھے بس اتنا بتائے یمان میرا بھائی کہاں ہے؟فجر نے طنزیہ لہجے میں کہا

میرے بابا سائیں سے ایسے بات مت کرو انہوں نے کجھ نہیں کیا۔آروش کو فجر کا شمھباز شاہ سے ایسے بات پسند نہیں آیا تھا۔

تم تو مجھ سے بات مت کرو تمہیں دیکھے بنا ہی مجھے اتنی نفرت ہوگئ ہے جو میں بتا نہیں سکتی سید گھرانے سے تعلق ہے نہ تمہارا تو اُس کا تھوڑا لحاظ کرتی پردہ تو کرلیا مگر اپنی حدود بھول گئ تم۔فجر کی آواز تیز سے تیز ہوتی جارہی تھی فائزہ بیگم کی شور کی آواز پہ باہر آئی تھی۔فجر کی باتوں کو سن کر آروش کا سر نفی میں ہلنے لگا۔

میں ایسی نہیں ہوں۔آروش کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جو اُس کے نقاب میں جذب ہوئے

فجر ہمیں بات کرنے دو۔مستقیم صاحب جو اب تک خاموش تھے وہ بولے

میں بس آپ سے پوچھنے آیا تھا اپنے بیٹے کی جان کے بدلے کیا لو گے۔شھباز شاہ سپاٹ لہجے میں پوچھنے لگے اُن کی بات پہ فائزہ بیگم ہاتھ اپنے سینے پہ پڑا تھا۔فجر اور عیشا کو کجھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا۔

ک ک کیا م مطلب؟فجر نے اٹک اٹک کر پوچھا

وہ لڑکا اب زندہ نہیں رہا میرے بندوں نے اُس کا قتل کردیا۔شھباز شاہ عام انداز میں بولے جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو اُن کے لیے مگر وہ اپنی بات سے سب کا دل چیر چُکے تھے۔

نہیں میرا یمان۔

فائزہ بیگم اتنا کہتی زمین پہ ڈھے گئ تھی۔

امی۔

امی

فجر اور عیشا بھاگ کر اُن تک پہنچی تھی۔

بابا سائیں انہیں ہسپتال لے جائے۔آروش نے خوف بھری نظروں سے فائزہ بیگم کو دیکھ کر کہا

تم دفع ہوجاؤ یہاں سے تمہاری وجہ سے ہم نے اپنا اکلوتا بھائی کھویا ہے میری بددعا ہے تمہیں کوئی خوشی نصیب نہ ہو خوشیوں کے دروازے تم پہ بند ہوجائے تم لوگوں نے جو میرے بھائی کے ساتھ کیا ہے نہ اُس کا حساب اللہ تم سب سے لے گا تم سب تڑپوں گے یہ میری آہ ہے۔فجر روتے ہوئے چیخ کر بددعائیں دینے لگی۔آروش کو اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہوا۔

شھباز شاہ کو غصہ تو بہت آرہا تھا مگر وہ آروش کی وجہ سے خاموش تھے وہ آروش کو خود سے بدزن نہیں کرنا چاہتے تھے۔

فجر چھوڑو انہیں امی کو ہسپتال لے جانا ہے۔عیشا نے روتے ہوئے کہا جب کی مستقیم صاحب ٹیکسی کا بندوبست کرنے گئے تھے

میں ارسم کو کال کرتی ہوں۔فجر اندر کی طرف بھاگی۔

آروش چلو۔شھباز شاہ ایک نظر اُن پہ ڈال کر آروش کا بازوں تھام کر بولے

انہیں ہماری ضرورت ہے۔آروش نے فورن سے کہا

بیٹا ضد مت کرو چلو یہاں سے۔شھباز شاہ اُس کی سُنے بنا اپنے ساتھ لیکر چلے گئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

بابا سائیں مجھے گاؤں نہیں جانا آپ پلیز مجھے ایک دفع اُن سب سے ملنے دے مجھے بتانا ہے میں ایسی لڑکی نہیں ہوں انہیں یہ بھی بتانا ہے کے شاید اُن کا بیٹا زندہ ہو پلیز بابا سائیں مجھے گاؤں نہ لیکر جائے پتا نہیں وہ خاتون کیسی ہوگی۔آروش منت بھرے لہجے میں شھباز شاہ سے بولی جو اُس کو آج واپس گاؤں لے جارہا تھا

خاموش رہو آروش۔گاڑی ڈرائیو کرتا دیدار شاہ نے سخت نظروں سے بیک مرر سے اُس کو دیکھ کر کہا

میں ساری زندگی کے لیے خاموش رہنے کو تیار ہوں پر آپ لوگ میری یہ التجا سن لے۔آروش نے روتے ہوئے شھباز شاہ سے کہا جو بے تاثر بیٹھے تھے۔

بابا سائیں۔آروش نے اُن کو جھنجھورا

تمہیں کسی کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے تم شھباز شاہ کی بیٹی ہو اُن دو ٹکے کے لوگوں کے بارے میں نہ سوچو۔شھباز شاہ اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولا۔

بابا سائیں

آروش نے کجھ کہنا چاہا پر شھباز شاہ نے بیچ میں ٹوک دیا۔

ڈاکٹر نے تمہیں ٹینشن لینے سے منع کیا ہے اِس لیے فضول کی باتوں میں دھیان نہیں دو۔

💕
💕
💕
💕
💕

میری ماں کیسی ہے؟فجر نے ڈاکٹر کو ایمرجنسی وارڈ سے باہر نکلتا دیکھا تو بھاگ کر اُس کے پاس آئی۔

آئے ایم سوری شی از نو مور۔ڈاکٹر نے افسوس سے بھرے لہجے میں کہا تو عیشا اور فجر اپنی جگہ ساکت سی ہوگئ۔جب کی مستقیم صاحب نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچ لیا

نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہے آپ دوبارہ چیک کرے وہ بلکل ٹھیک ہوگی۔فجر اپنا سر نفی میں ہلاتی تڑپ کے بولی۔

اللہ آپ کو صبر دے۔ڈاکٹر اُس کو حوصلہ دیتی چلی گئ۔

فجر۔عیشا روتی ہوئی فجر کے گلے لگی۔

ہے عیشا رو کیوں رہی ہو ہماری ماں بلکل ٹھیک ہے وہ بس مذاق کررہی ہیں تاکہ یمان آجائے جیسے بچپن میں کرتی تھی یمان کہی چلاجاتا تھا تو۔فجر اپنے ساتھ لگی عیشا کے بالوں کو سہلاکر بولی۔

میں جاتی ہوں اُن کے پاس۔عیشا اپنی آنسو صاف کرتی ایمرجنسی وارڈ کی جانب بھاگی فجر اُس کے پیچھے جانے والی تھی جب ارسم نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔

ارسم امی ہمارا انتظار کررہی ہیں۔فجر نے اپنا ہاتھ آزاد کروانا چاہا

فجر حقیقت کو تسلیم کرو۔ارسم اُس کو اپنے ساتھ لگاتا تسلی آمیز لہجے میں بولا تو اُس کا سہارا پاکر فجر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اتنا کے ارسم کو سنبھالنا مشکل ہوگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اپنے کمرے میں جاؤ۔حویلی پہنچ کر شھباز شاہ نے آروش سے کہا تو وہ بنا کوئی بات کیے خاموشی سے اپنے کمرے کے راستے چلی گئ اُس کے جانے کا یقین کرتے شھباز شاہ نے اپنے قدم مہتاب بیگم کے کمرے کی جانب کیے۔

السلام علیکم اماں سائیں۔شھباز شاہ نے ادب سے سلام کیا۔

میرے منع کرنے کے باوجود تم اُس کے بدزات کو لیکر آئے۔مہتاب بیگم نے نفرت سے آروش کا ذکر کیا۔

اماں سائیں پلیز آروش میری بیٹی میرے جگر کا ٹکرا ہے اُس کے خلاف میں ایک لفظ نہیں سُنوں گا۔شھباز شاہ نے حددرجہ سنجیدگی سے بولے

تم اپنی بیٹی کی وجہ سے ماں سے بداخلاقی کررہے ہو۔مہتاب بیگم نے نخوت بھرے لہجے میں کہا

گستاخی معاف اماں سائیں پر وہ میری بیٹی ہے اور بے قصور ہے اِس لیے کوئی بھی اُس پہ الزام نہ ٹھیرائے۔شھباز شاہ نے کہا

ہم نے تو دلدار شاہ سے کہا تھا اُس لڑکے کو بعد میں پہلے آروش کا گلا دباکر ماردینا تھا۔مہتاب بیگم کی بات پہ شھباز شاہ نے بمشکل خود پہ ضبط کیا۔

آروش لاوارث نہیں ہے اُس کا باپ زندہ ہے میں اُس سے ایک پل کے لیے بھی غافل نہیں ہوتا شکر کرے آپ کے پوتوں کو بخش دیا ہے مگر جو اُن کی وجہ سے آروش کی حالت ہوئی تھی نہ میں اپنے پستول کی گولیاں اُن کے سینے پہ برساتا۔شھباز شاہ کا لہجہ برف کی مانند ٹھنڈا تھا۔

تم مانوں یا نا مانوں تمہاری بیٹی بدکردار ثابت ہوئی ہے ہماری خاندان کی بے عزتی کروانے میں اُس نے کوئی کثر نہیں چھوڑی۔مہتاب بیگم نے دو ٹوک کہا

میری آپ سے گُزارش ہے یہ بات بس ہم چاروں کے درمیان رہے گی کسی اور کو اِس بات کی بھنک تک نہیں پڑنی چاہیے حویلی کے کسی بھی فرد کو بھی نہیں شازل اور دُرید کو تو بلکل بھی نہیں۔شھباز شاہ نے جیسے اپنا فیصلہ سُنایا

کیوں نہ بتاؤں تمہاری لاڈلی کے کرتوت اُن دونوں کو غیرت کا معاملہ ہے۔مہتاب بیگم ناگواری سے بولی

اماں سائیں اول تو میرے بیٹے ایسے نہیں دوسرے بات مجھے جو کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔شھباز شاہ کو جیسے کوئی فرق نہیں پڑا

ہم تو یہ بات چھپا بھی لے تو یہ بات یاد رکھو وہاں حویلی کے چودہ پندرہ ملازم تھے جو آروش کے اِس عمل سے واقف ہے اب تک تو انہوں نے سب کو بتا بھی دیا ہوگا اِس لیے میری مانوں قتل کردو اُس کا۔مہتاب بیگم شیطانی مسکراہٹ سے بولی

آپ کو کیا لگتا ہے اُن کو میں نے شہر میں آزاد چھوڑ دیا ہوگا کیا مجھے اپنی بیٹی کا تماشا بنوانا تھا۔شھباز شاہ بھی انہی کے بیٹے تھے مگر ان کی بات سن کر مہتاب بیگم کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔

کیا مطلب؟مہتاب بیگم کو کسی انہونی کا احساس ہوا۔

مطلب۔شھباز شاہ اتنا کہہ کر اُس کجھ دن پہلے والا واقعہ یاد کرنے لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائیں پلیز ہمیں بخش دے ہم کسی کو کونسا کجھ بتائے گے۔دلدار شاہ کے بندے منت بھرے لہجے میں شھباز شاہ سے بولے جو اپنی بندوق میں گولیان بھر رہے تھے۔

میں اپنی بیٹی کی عزت کے معاملے میں رسک نہیں لے سکتا تم لوگوں نے وہاں ہوکر بہت بڑی غلطی کردی ہے تم لوگوں کو کوئی بھی میری بیٹی کے خلاف جانے پہ استعمال کرسکتا ہے اِس لیے میں سب کو ختم ہی کردوں گا تاکہ ایک ہی جھٹکے میں سارا قصہ تمام ہو ۔شھباز شاہ سرد لہجے میں بولے

سائیں پلیز رحم۔ان کا خون خشک ہوا تھا شھباز شاہ کے اِرادے جان کر۔

شھباز شاہ کی زندگی میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں۔شھباز شاہ اپنی بات کہتا اُن کے سامنے بندوق تان لی۔

س سا

ٹھاہ

ٹھاہ

ٹھاہ

اُس سے پہلے کوئی کجھ کہتا اور بات کرتا شھباز شاہ نے اندھا دھند اُن سب پہ فائرنگ کردی کجھ ہی سیکنڈز میں ہر جگہ خون پھیل گیا تھا شھباز شاہ ایک اچٹنی نظر اُن پہ ڈال کر اُس کوٹھڑی سے باہر چلے آئے جہاں اُس کا خاص آدمی کھڑا تھا۔

اِن سب لاشوں کو ٹھکانے لگادینا۔شھباز شاہ نے حکم صادر کیا جس پہ اُس کے خاص آدمی نے جلدی سے سر کو اثبات میں ہلایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم نے سب کا قتل کردیا؟مہتاب بیگم اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر بولی

میری بیٹی کا معاملہ تھا آپ نے بہت غلط کیا آروش کے پیچھے بندے لگاکر وہ میری بیٹی ہے ہمیں اپنی تربیت پہ پورا یقین ہے آپ کو ایسا کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا آروش ہے کون۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا

ہم آروش کا وجود یہاں برداشت نہیں کرسکتے اُس سے پہلے ہم کوئی غلط قدم اُٹھالے تم اُس کا بندوبست کہی اور کرو۔مہتاب بیگم نے حتمی لہجے میں کہا

اگر آپ ایسا کرے گی تو ہم یہ پوری حویلی آروش کے نام کردینگے۔شھباز شاہ نے گویا دھماکا کیا۔

شھباز ہوش میں رہو سردار بننے کے بعد تم میں بہت گھمنڈ آگیا ہے ہم نے یہ حویلی تمہارے نام اِس لیے نہیں کی تھی اِس حویلی پہ آروش کا حق نہیں آنے والا جو سردار ہوگا اُس کا حق ہے۔مہتاب بیگم کا لہجہ خاصا جتایا ہوا تھا

ہم آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتے آپ کوئی بھی نقصان آروش کو نہیں پہنچائے گی۔شھباز شاہ اتنا کہہ کر کمرے سے باہر چلاگیا۔

ایک سیدزادی ہونے کے ناطے آروش جو قدم اُٹھایا ہے اُس کے بعد آروش کو کاری کرنا پڑے گا یا میں اپنے ہاتھوں سے اُس کا قتل کردوں گی مگر اُس گند کو یہاں رہنے نہیں دوں گی۔مہتاب بیگم کو شھباز شاہ کی بات آگ لگاگئ تھی تبھی وہ غصے میں منصوبے بنانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

شھباز شاہ آروش کے کمرے میں آئے تو اُس کو کونے میں گھٹنوں میں سر چُھپائے بیٹھا پایا اُس کو اتنا ڈرا سہما دیکھ کر انہوں نے گہری سانس خارج کی۔

آروش۔شھباز شاہ اُس کے سامنے بیٹھ کر پیار سے اُس کو پکارا تو آروش نے اپنا سر اُٹھایا۔

آپ یہاں فرش پہ کیوں بیٹھے ہیں بیڈ پہ آئے۔آروش نے اُن کو ایسے بیٹھایا پایا تو جلدی سے اُٹھ کر بولی۔

تم پہلے یہاں بیٹھو اور مجھے بتاؤ کیا بات ہے جو تمہیں پریشان کررہی ہے؟شھباز شاہ نے اُس کو اپنے روبرو کیا۔

میرے کانوں میں بار بار گولیوں کو آوازیں آرہی ہیں بابا سائیں ایسا لگتا ہے جیسے میرا سر درد سے پھٹ جائے گا اُن آوازوں سے جان چھڑواتی ہوں تو پھر اُس لڑکی کی بددعائیں یاد آجاتی ہیں۔آروش نے بے بسی سے بتایا۔

دیکھو میرا بیٹا اُس بات کو چار ماہ ہوچکے ہیں تم بھول جاؤ سب کجھ۔شھباز شاہ نے سنجیدگی سے کہا

کیسے بھول جاؤ ایک معصوم کی جان میری وجہ سے گئ ہے یہ گِلٹ مجھے جینے نہیں دے رہا میں کیا کروں۔آروش اپنے بال نوچتے ہوئے بولی۔

آروش میرا بچہ سنبھالوں خود کو جو کجھ بھی ہوا اُس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔شھباز شاہ اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولے۔

میری وجہ سے ہوا مجھے پتا ہے سب۔آروش زور سے اپنا سر نفی میں ہلاکر چیخ کر بولی تو شھباز شاہ نے اُس کو اپنے سینے سے لگایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تمہیں میں نے ایک کام کہا تھا؟مہتاب بیگم نے پاس کھڑی ملازمہ سے کہا جو آروش کے سارے کام کیا کرتی تھی۔

مہتاب بیگم کی بات اُس سے اُن کے پاس بیٹھی چھوٹی حریم کو دیکھا جو چاکلیٹ کھانے میں مصروف تھی پھر اپنا ہاتھ جو اُس نے چادر میں چُھپایا ہوا تھا اُس کو باہر کرکے ایک شیشے مہتاب بیگم کے سامنے کی جس کو دیکھ کر مہتاب بیگم کی آنکھوں میں چمک در آئی۔

یہ کیا ہے؟چاکلیٹ کھاتی حریم نے پوچھا تو مہتاب بیگم نے اُس کو اپنی گود میں بیٹھایا

میں اب بڑی ہوگئ ہو۔حریم نے منہ بسور کر کہا

پتا ہے میرے چندہ پر میرے لیے تو آپ بچی رہے گی کیونکہ میری بیٹی کی نشانی جو ہیں۔مہتاب بیگم اُس کا ماتھا چوم کر بولی۔

میں جاؤں؟ملازمہ نے اپنے ماتھے سے پسینا صاف کرکے ڈر کر اجازت چاہی

نہیں ابھی تم اِس زہر کو آروش کے دودہ میں ملاکر اُس کو پلاؤ گی۔مہتاب بیگم نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو زہر کے نام پہ حریم نے اپنی آنکھیں بڑی کیے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ کر حیرانگی والا تاثر دیا

شاہ سائیں مجھے زندہ قبر میں دفنادینگے۔اُس نے ڈر کر کہا

اگر تم نے میرا کام نہیں کیا تو میں ضرور تمہیں عبرت کا نشانہ بناؤں گی مت بھولوں تمہارے سامنے کون بیٹھی ہے جو ایسا کہنے کے لیے بول رہی ہے میرے پاس ملازموں کی کمی نہیں تمہیں اِس لیے بول رہی ہوں کیونکہ آروش کے کام تم کیا کرتی ہو۔مہتاب بیگم نے سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر سخت لہجے میں کہا

وہ سب تو ٹھیک پر ان کو یہ پِلانا کیوں ہے۔ملازمہ نے ڈر کر کہا

کیونکہ جو اُس نے عمل کیا ہے اُس کی سزا صرف موت ہے اگر وہ زندہ رہی تو باقی بچیوں پہ اثر پڑے گا۔مہتاب بیگم حقارت بھرے لہجے میں بولی اُن کی گود میں بیٹھی حریم فورن سے باہر کو بھاگی تھی جس پہ دھیان کسی کا نہیں گیا تھا۔

آپ ان کی شادی کروادے اگر آروش بی بی کو کجھ ہوا تو شاہ سائیں کے قہر سے ہمیں کون بچائے گا۔ملازمہ کو بس اپنی پڑی تھی۔

جاتی ہو یا تمہارا کام ابھی تمام کروں۔مہتاب بیگم نے اپنے پیچھے رکھی بندوق کو ہاتھ میں لیے کہا تو وہ تیر کی تیزی سے وہاں سے رفو چکر ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *