Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 39)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

میں پیزا آرڈر کرتا ہوں۔شازل زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولا

پیزا کیوں؟ماہی نے جلدی سے پوچھا

ماہی یار مجھے سمجھ نہیں آیا میں تم کیا کہوں معصوم یا پھر بے وقوف میں نے مزاق کیا تھا تم سے اور تم نے اُس کو سیریسلی لے لیا۔شازل اپنی جیب سے موبائل نکالتا اُس سے بولا تو ماہی کا منہ بن گیا بلاوجہ شرمندگی کا احساس الگ سے ہونے لگا۔

لالہ باہر سے کجھ منگوانے کی ضرورت نہیں۔آروش نے دونوں کو ایک نظر دیکھ کر کہا

کیوں؟شازل نے سے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا۔

ہم سب یہی کھائے گے۔آروش پرسکون بھرے لہجے میں کہتی خود کے لیے روٹیاں نکالنے لگی۔

مجھے یہ پسند نہیں تمہیں پتا ہے۔شازل نے احتجاجاً کہا

مجھے بھی نہیں پسند۔ماہی نے بھی بولنا ضروری سمجھا۔

تم نے تو کہا تھا تمہارا موسٹ فیورٹ ہے۔شازل نے اُس کو گھور کر کہا

اور اگر یہی سوال میں آپ سے کروں تو۔ماہی دوبدو بولی۔”جب کی آروش خاموش نظروں سے اُن کو ایک دوسرے سے لڑتا دیکھ رہی تھی۔

پسند تو مجھے بھی نہیں پر اگر بنایا ہے تو کھانا پڑے گا ورنہ رزق کا ضائع ہوجائے گا اور رزق کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہیے اِس لیے پسند ہے یا نہیں کھانا لازمی ہے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا تو وہ دونوں خاموش ہوئے کیونکہ دونوں کو آروش کی بات درست لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

میں…!!

اُسکی زندگی کی کتاب کا…!!

لاسٹ پیج ہوں…!!

جِس پر وہ ایکسٹرا لِکھتی ہے…!!

رف، بے دھیانی میں…!!

اور بے ڈھنگ…

یمان یہ تمہارے ہاتھ پہ کیا ہوا ہے؟زوبیہ بیگم نے رات کے ڈنر کے وقت یمان کا زخمی ہاتھ دیکھا تو فکرمندی سے پوچھنے لگی اُن کو ساری بات کا علم نہیں تھا دلاور خان نے یمان کے کمرے کا حال بہتر کروالیا تھا اور زوبیہ بیگم کو نہیں بتایا وہ جانتے تھے اگر وہ زوبیہ بیگم کو بتائے گے تو وہ پریشان ہوجائے گی اور زوبیہ بیگم اُس وقت گھر پہ نہیں تھیں تو اُن کو پتا بھی نہیں چلا۔

کجھ نہیں بس زرہ سی چوٹ لگ گئ تھی۔یمان سپاٹ لہجے میں بولا

زرہ سی چوٹ تو نہیں لگ رہی تمہاری آنکھیں بھی بہت سرخ ہے۔نور نے اُس کا جائزہ لیکر کہا

میں ٹھیک ہوں۔یمان نے جیسے بات ختم کی۔

لاہور کیوں نہیں گئے؟زوبیہ بیگم کو اچانک خیال آیا تو پوچھ لیا۔

پھر کبھی جاؤں گی۔یمان کو اتنے سوالوں سے کوفت ہونے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہمیں صوفے پہ نیند آتی۔حریم تابش کے سر پہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی

تو؟تابش نے بیزاری سے اُس کو دیکھا

تو یہ کے یا آپ ہمارے لیے الگ روم کُھلوائے یا خود صوفے پہ سوجائے۔حریم نے اپنی بات اُس کے سامنے کی۔

میں تمہارے دُر لا کا نوکر نہیں جو تمہاری ہر بات پہ لبیک پڑھوں گا۔تابش نے اُس کو گھورا

آپ بات پہ بات دُر لا زکر مت چھیڑا کرے۔حریم کو اُس کا یوں بار بار دُرید کے نام پہ طعنہ دینا بُرا لگ رہا ہے وہ دُرید کے بارے میں اب سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی مگر ایک اُس کا شوہر تھا جو اپنے جاہل ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔

حریم پہلی اور آخری بات میں تمہیں بہت بار کہہ چُکا ہوں مجھے تمہارا یہ ہم لفظ کوفت میں مبتلا کرتا ہے اِس لیے اچھا یہی ہے تمہاری لیے کے یہ لفظ استعمال نہ کرو۔تابش اُس کی بات نظرانداز کرتا بولا

کوشش کرینگے۔حریم نے ہر بار بحث کرنا ضروری نہیں سمجھا

ہممم گُڈ دوسری سائیڈ پہ سوجاؤ الگ کمرے میں جاؤں گی تو یہ بات پورے گاؤں میں پھیل جائے گی یہاں ملازم بھی رہتے ہیں۔تابش سنجیدگی سے کہتا خود لیٹ گیا۔

حویلی میں جو ملازم ہوتے ہیں وہ تو حویلی کی باتیں باہر نہیں کرتے۔حریم بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ آکر بولی

یہاں شھباز شاہ نہیں رہتا نہ۔تابش نے طنزیہ کیا۔

ایک بات پوچھو؟حریم نے کجھ سوچ کر اُس کو مخاطب کیا۔

پوچھو۔تابش نے اِجازت دی۔

کیا آپ کسی اور کو پسند کرتے تھے؟حریم نے کجھ جھجھک کر پوچھا

میرا مزاج تمہارے دُر لا اور شازل کی طرح عاشق مزاج نہیں ایک تمہارا دُر لا تھا جو اپنی محبت کے پیچھے خوار ہوا تو دوسرا شازل لالہ تمہارا جو ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی کو اپنے سر پہ بیٹھا رہا ہے جب کی اُس کو چاہیے تھا اپنی جُتی کے نوک پہ رکھتا۔تابش تکبر سے بولا

حویلی کے مردوں کو عورت کی عزت کرنا آتی ہے۔حریم کا لہجہ خاصا جتایا ہوا تھا۔

تم کیا کہنا چاہتی ہو مجھے عورت کی عزت کرنا نہیں آتی۔تابش اُٹھ کر اُس کا بازوں دبوچ کر بولا تو تکلیف کے احساس سے حریم نے اپنی آنکھوں کو زور سے میچا

جو مرد اپنی بیوی کی عزت نہیں کرسکتا وہ کسی اور لڑکی کو عزت کیا خاک دے گا۔حریم اپنی تکلیف نظرانداز کرتی ہوئی بولی تو تابش کی مردانہ انا کو ٹھیس پہچی۔اُس نے حریم کو بالوں سے پکڑ کر در پہ در اُس کے چہرے پہ تھپڑ رسید کیے اُس کی یہاں بس نہیں ہوئی تھی زہنی اور جسمانی تکلیف وہ اُس کو ساری رات دیتا رہا جس پہ حریم نے بے ساختہ اپنے مرنے کی دعا کی۔

حریم کی زندگی کی یہ رات بہت بھیانک تھی جس نے اُس کے ہر احساسات کو چھین لیا تھا آج کی رات نے حریم پہ بہت بھاری تھی اور وہ اندر سے پوری طرح سے مرچُکی تھی جس کا زمیدار وہ بس دُرید شاہ کو سمجھتی تھی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دُرید کافی وقت سے سونے کی کوشش کررہا تھا مگر نیند تھی جو شاید اُس سے روٹھی ہوئی تھی جو آنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی اُس کو اپنے اندر آج عجیب سے بے چینی محسوس ہورہی تھی جس کو وہ کوئی نام نہیں دے پارہا تھا۔

مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے حریم تکلیف میں ہے۔دُرید بیڈ سے اُٹھتا اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا ہوتا بڑبڑایا۔

میں کجھ زیادہ سوچ رہا ہوں اُس کے بارے میں۔دُرید نے اپنے دل کو ڈپٹا۔

تابش کو کال کرتا ہوں۔کسی خیال کے تحت وہ اپنے فون کی جانب بڑھا تو موبائل کی اسکرین آن کی تو اُس کو احساس ہوا۔

ایک بج رہا ہے اِس وقت کال کرنا ٹھیک نہیں وہ سب سوچُکے ہوگے۔دُرید نے اپنی بات کی نفی اور اپنا سر پکڑتا بیڈ پہ بیٹھ گیا اُس کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑک رہا تھا جیسے کجھ بُرا نہیں بہت بُرا ہونے والا ہو اور اُس کے سامنے بار بار حریم کا چہرہ آرہا تھا جو اُس کو بے چین کررہا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم سوئی نہیں ابھی تک؟ماہی جو کچن سے پانی لینے کے غرض سے جارہی تھی اُس نے جب لاؤنج میں آروش کو بیٹھا پایا تو اُس کے پاس آکر بولی۔

میں نے حریم کے مطلق بہت بُرا خواب دیکھا ہے اِس لیے مجھے نیند نہیں آرہی گھبراہٹ ہورہی ہے اور یہ گھبراہٹ تب تک رہے گی جب تک میں حریم کی آواز نہ سن لوں۔آروش اُس کو دیکھ کر بولی۔

سب ٹھیک ہوگا ایک خواب کے بارے میں اتنا مت سوچو۔ماہی نے اُس کو تسلی کروائی۔

میں کسی خواب کو اتنا سنجیدگی سے خود بھی نہیں لیتی مگر حریم رو روہی تھی اور تم نہیں پتا ہماری حریم بہت بہادر ہے وہ بلاوجہ روتی نہیں ہے۔آروش نے اُس کی بات سن کر کہا

تم بہت پیار کرتی ہو حریم سے؟ماہی نے اُس کی فکرمندی دیکھ کر اندازہ لگایا۔

حریم مجھے عزیز ہے میری کوئی چھوٹی بہن نہیں جس طرح میں لالہ والوں سے چھوٹی ہوں تو وہ میری ٹانگ کھینچا کرتے تھے بچپن میں میری چیزیں غائب کیا کرتے تھے ٹھیک اُسی طرح یہ سب میں حریم کے ساتھ کیا کرتی تھی وہ تب چھوٹی تھی بہت تو ایک بار رونے پہ آجاتی تو بس پھر روتی چلی جاتی اگر کوئی اُس کو خاموش کروانا چاہتا تو اُس کے رونے میں مزید روانگی آجاتی تب میں اُس کو اٹینشن سیکر کہا کرتی تھی سارا وقت درید لالہ کے پیچھے ہوا کرتی تھی کھانا تک اُن کے ہاتھ سے کھایا کرتی تھی مگر جب وہ پڑھائی کے سلسلے میں باہر گئے تو میں نے تھوڑا بہت اُس کا خیال رکھنا شروع کیا وہ بہت حساس تھی اُس کے پاس نہ ماں تھی نہ باپ کا پیار ہم جب اپنی ماؤں کے ساتھ ہوتی تو سب کو وہ حسرت کی نگاہوں سے دیکھتی تھی مگر جب درید لالہ ہوتے تو اُس محترمہ کے مزاج ہی نہیں ملتے تھے کے ہم سب سے بڑے دُرید لالہ تھے دلدار لالہ تو حویلی میں کم پائے جاتے تھے تو ہم سب بچوں کا خیال دُرید لالہ رکھتے اور حریم چھوٹی چھوٹی بات لالہ کو بتاتی میری تو جانے کتنی چغلیاں وہ اُن کو دیتی تھی چاہے دُرید لالہ مجھ سے کتنا پیار کیوں نہ کرے مگر جب حریم اُن کے سامنے ہوتی تو میرے بجائے وہ اُن کی سنتے کیونکہ پھپھو جان نے حریم کی زمیداری لالہ کو دی تھی اِس لیے وہ حریم کا کام سب خود کیا کرتے تھے اماں سائیں یا گھر کے ملازموں سے نہیں۔ماہی کے ایک سوال پہ آروش اُس کو سب کجھ بتاتی چلی گئ اور ماہی کجھ حیرت سے اُس کو دیکھ رہی تھی اتنے وقت میں آروش کو اُس نے اتنا زیادہ بولتا نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ اُس کی بات کا ہمیشہ مختصر جواب دیا کرتی تھی مگر آج وہ بہت اچھے سے اُس کو جواب دے رہی تھی ماہی کو آروش آج بہت مختلف لگی۔

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے تم نظر آتی ہو ویسی ہو نہیں۔ماہی سے رہا نہیں گیا تو کہا۔

آروش جو حریم کے مطلق سوچ رہی تھی ماہی کی اِس بات پہ وہ چونک پڑی

میں سمجھی نہیں۔آروش ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

میری بات کا مطلب یہ کے تم دیکھنے میں بہت سخت مزاج کی لگتی ہو اور تم بولتی بھی بہت سخت قسم کا ہو مگر آج مجھے ایسا بلکل نہیں لگا آج تم مجھے حساس مزاج کی پیار کرنے والی سب کا خیال کرنے والی لگی ہو۔ماہی اُس کو دیکھ کر مسکراکر بولی

رات بہت ہوگئ ہے تمہیں اپنے کمرے میں جانا چاہیے لالہ اتنظار کررہے ہوگے۔آروش نے اُس کی بات پہ یہ کہا تو ماہی نے اُس کو گھورا

کھڑوس۔ماہی اُس کو دیکھتی نئے لقب سے نوازنے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ہے یمان۔

شازل اپنے کلائنٹ سے ملنے مونال ریسٹورنٹ آیا تھا جہاں اُس کو یمان فینز کے درمیان کھڑا پایا تو اُس کو آواز دی۔

یمان نے اپنے نام کی پُکار پہ سامنے دیکھا تو شازل اُس کو آواز دے رہا تھا شازل کو دیکھ کر یمان کو اپنے زخم تازہ ہوتے محسوس ہوئے اُس نے اپنے ساتھ کھڑے لوگوں سے ایکسکیوز کیا اور ناچاہنے کے باوجود بھی شازل کے پاس آیا

السلام علیکم۔یمان اُس کے پاس والی چیئر پہ بیٹھ کر سلام کرنے لگا۔

وعلیکم السلام کیسے ہو؟شازل نے مسکراکر اُس کو دیکھا جو آج معمول سے زیادہ سنجیدہ نظر آرہا تھا۔

تمہارے سامنے ہوں۔یمان تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھ کر آپ جناب کا تکلف چھوڑ کر بولا “شازل اُس کو ہینڈسم ڈیشنگ پرسنائلٹی کا مالک لگا مگر اپنے مقابلے میں کم لگا”

اِن سے زیادہ تو میں اچھا ہوا پھر انہیں اِس میں کیا نظر آگیا۔یمان اپنا چہرہ دوسری جانب کیے سوچنے لگا

مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا تھا اگر کل تم نہ ہوتے تو پریشانی کا سامنا کرنا کیب جانے کب آتی اور میری بہن مجھ پہ غصہ ہوتی۔شازل کے بہن لفظ پہ یمان کو حیرت کا شدید قسم کا جھٹکا لگا وہ آنکھیں پھاڑ کر اُس کو دیکھنے لگا اُس کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔

بہن؟یمان دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کو دیکھنے لگا اُس کا رواں رواں شازل کے جواب کا منتظر تھا۔

ہاں بہن بھول گئے کیا کل جو میرے ساتھ تھی وہ۔شازل نے کہا تو یمان کو اپنے کم عقل ہونے پہ جی بھر کر غصہ آیا اور دل کے کسی کونے میں سکون ملا پھر اچانک اپنا ری ایکشن یاد آیا تو اُس کے چہرے پہ ہنسی آئی۔

از ایوری تھنگ فائن؟شازل نے اُس کو مسکراتا دیکھا تو کجھ تعجب سے پوچھا اُس کو سب سے زیادہ حیرانی یمان کے ڈمپلز دیکھ کر ہوئی تھی اُس کے حساب سے یمان کے گالوں پہ ڈمپلز نہیں تھے مگر اِس وقت اُس کے اتنے گہرے گڑھے دیکھ کر وہ حیران بھی ہوا تھا اور اُس کو وہ ڈمپلز خوبصورت بھی لگے تھے۔

ہاں فائن۔یمان نے خوشگوار لہجے میں کہا اُس کا موڈ اچانک سے فریش ہوگیا تھا ساری رات جو اُس نے کانٹوں پہ گُزاری تھی اب جیسے بھڑکتے دل کو قرار سا آیا تھا۔

یہ چوٹ کب آئی؟شازل کی نظر اب اُس کے ہاتھ پہ گئ۔

یہ چوٹ میرے بے وقوف ہونے کا ثبوت ہے۔یمان اپنا ہاتھ دیکھ کر بولا

سیریسلی۔شازل اُس کے جواب پہ مسکرایا۔

ہاں تم بتاؤ کجھ کھاؤ گے!یمان نے سخاوت کا مظاہرہ کیا

بل تم پے کرو گے؟شازل نے شرارت سے اُس کو دیکھا

بلکل میں کروں گا اور تم بتاؤ کیا کرتے ہو؟یمان نے مسکراکر پوچھا

آج تم مجھے کافی خوش دیکھائی دے رہے ہو میں اتنی بار تم سے ملا ہوں اور مجھے اب پتا چلا ہے تمہارے پاس اتنے پیارے پیارے ڈمپلز ہیں سچی بتاؤ تو مجھے پہلے لگتا تھا یہ ڈمپلز بس لڑکیوں پہ سوٹ کرتے ہیں مگر تمہیں دیکھا تو میری سوچ بدل گئ۔شازل اُس کی بات کا جواب دینے کے بجائے یہ بولا

میں خود اپنے ڈمپلز کم دیکھتا ہوں۔یمان اپنی بیئرڈ پہ ہاتھ پھیر کر گول مٹول سا جواب دینے لگا تو شازل قہقہقہ لگانے لگا۔

کبھی کبھی تم مجھے بہت فنی لگتے ہو۔شازل نے اپنی راے کا اظہار کیا جس پہ یمان محض مسکرایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم تیار ہو تو چلے ہم نے شہر جانا ہے۔شھباز شاہ سوچو میں گم کلثوم بیگم سے بولے

ایک مرتبہ سوچ لے شاہ صاحب آروش کا ردعمل شدید ہوگا۔کلثوم بیگم نے انہیں باز رکھنا چاہا

میں جانتا ہوں مگر بتانا تو ہے آخر کو ایک دن اُس کو اپنوں کے پاس جانا تھا۔شھباز شاہ نے یہ بات کس دل سے کہی تھی یہ بس وہ جانتے تھے

حویلی کتنی سونی ہوجائے گی نہ اُس کے بنا۔کلثوم بیگم افسردگی سے بولی

حویلی کا پتا نہیں دل ضرور سُونا سُونا ہوجائے گا۔شھباز شاہ کے کہا تو انہوں نے ضبط سے اپنی آنکھوں کو میچا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

یہ حریم ابھی تک اُٹھی نہیں کیا اور تابش وہ کہاں ہے نظر نہیں آرہا کیا وہ بھی ابھی تک سورہا ہے؟صدف بیگم نے ٹیبل پہ ناشتہ سجاتی ملازمہ سے پوچھا

جی وہ حریم بی بی تو شاید ابھی تک سو رہی ہیں مگر تابش بابا صبح سویرے کے گئے ہیں اور ابھی تک واپس نہیں آئے۔ملازمہ نے بتایا

اچھا تابش چلاگیا پر یہ حریم کیوں نہیں آئی اُس کو تو صبح سویرے اُٹھنے کی عادت ہے۔صدف بیگم پرسوچ لہجے میں بولی

میں دیکھ آؤں؟ملازمہ نے اِجازت چاہی۔

السلام علیکم۔ابھی صدف بیگم اُس کو کوئی جواب دیتی اُس سے پہلے درید شاہ کی بھاری آواز سن کر صدف بیگم اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

وعلیکم السلام دُرید بیٹا خیریت تم اتنی صبح صبح یہاں؟صدف بیگم نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا

جی میں بس حریم سے ملنے آیا تھا۔دُرید نے سنجیدگی سے بتاکر آس پاس نظر ڈورانے لگا کل پوری رات اُس کی کروٹیں بدل بدل کر گُزری تھی تبھی وہ صبح ہوتے ہی یہاں چلا آیا تھا۔

حریم سو رہی ہے تم بیٹھو میں اُس کو جگاتی ہوں۔صدف بیگم نے اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کیا

میں بھی چلتا ہوں دروازے کے پاس رُک جاؤں گا۔دُرید نے کہا

آؤں۔صدف بیگم اُس کی بات پہ سر کو جنبش دیتی اُپر کی جانب بڑھی تو دُرید بھی اُن کے پیچھے جانے لگا۔

حری

صدف بیگم کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب انہوں نے بیڈ پہ کافی بکھرے انداز میں حریم کو بے سود لیٹا پایا اُن کے چہرے کی ہوائیاں اُڑگئ تھی۔

دُرید کو نظریں نیچے کرتا آرہا تھا صدف بیگم کے اٙدھورے جُملے پہ بے اختیار اُس نے اپنا سراٹھایا تو نظر حریم کی ایسی لُٹی ہوئی حالت پہ پڑی تو اُس نے ڈھرکتے کے دل کے ساتھ اپنی نظروں کا رخ موڑا جب کی صدف بیگم بھاگ کر اُس کے پاس پہنچتی چادر سے اُس کا وجود ڈھانپنے لگی۔

حریم۔

صدف بیگم کے منہ سے الفاظ نکل ہی نہیں پارہے تھے حریم کی ایسی حالت دیکھ کر جس کا پورا وجود اُس کے ساتھ ہوئی دردندگی کا ثبوت دے رہا تھا

ہٹے آپ۔درید کپکپاہٹ بھری آواز سے کہتا صدف بیگم کو حریم سے دور کرتا ہوا بولا

در

مجھے کجھ نہیں سُننا بس اپنے بیٹے کے لیے کفن کا بندوبست کرے۔دُرید اُن کی بات بیچ میں کاٹتا دھاڑنے والی انداز میں بول کر اپنی پہنی شال اُتار کر حریم کو اچھے طریقے سے پہنائی جس سے اُس کا پورا وجود چُھپ گیا پھر اپنے بازوؤں میں اُٹھانے لگا حریم کا ایسے ڈھیلا ڈھلا سا وجود پھر اُس کا زخموں سے چور چہرہ دیکھ کر دُرید کو اپنا دل پھٹتا محسوس ہورہا تھا آنکھوں سے وہ منظر ہٹ نہیں رہا تھا جو اُس نے کمرے میں داخل ہوتے حریم کو ایسی حالت میں دیکھا تھا۔

دُرید میری بات تو سنو۔صدف بیگم نے اُس سے کجھ کہنا چاہا مگر دُرید اٙن سنی کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر جانے لگا۔

اپنی موت کو دعوت دے دی تابش توں نے۔صدف بیگم گِرنے والے انداز میں بیڈ پہ بیٹھ کر بولی دُرید کا اتنا شدت بھر ردعمل دیکھ وہ جان گئ تھی تابش کو دُرید کے ارتکاب سے سِوائے ایک زات کے کوئی بچا نہیں سکتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *