Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 42)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شھباز شاہ حریم کے پاس آئے تو اُس کو آنکھیں موند کر لیٹا پایا انہوں نے حریم کو دیکھ کر گہری سانس خارج کی اور چلتے ہوئے اُس کے پاس آئے۔

حریم۔شھباز شاہ نے آہستہ سے اُس کا نام لیا مگر حریم کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔

حریم بات کرو مجھ سے۔شھباز شاہ نے اُس کے ڈرب لگے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔

ماما۔حریم کے ہونٹ پِھڑپِھڑائے۔

میں یہی ہوں میرا بچہ۔شھباز شاہ نے اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تو حریم نے اپنی آنکھیں کُھولی تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے

روتے نہیں میرا بچہ آپ تو بہادر ہو نہ۔شھباز شاہ نے اُس کے آنسو صاف کیے تو حریم نفی میں سر کو ہلانے لگی۔

آروش آرہی ہے آپ سے ملنے پریشان مت ہو۔شھباز شاہ نے کہا

ہمارا کیا قصور تھا؟حریم نے بہت آہستہ آواز میں پوچھا

کوئی قصور نہیں تھا خود کو ہلکان مت کرو جو ہوا بھول جاؤ اللہ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے تم بھی آزمائش سمجھ کر بھول جاؤ۔شھباز شاہ نے کہا

ہم مرنا چاہتے ہیں ہم مر کیوں نہیں جاتے ہم اتنے ڈھیٹ کیوں ہیں ہمارے دماغ کی نس کیوں نہیں پھٹتی۔حریم کی آواز بلند ہوتی جارہی تھی۔

حریم بیٹے سنبھالوں خود کو۔شھباز شاہ فکرمند ہوئے۔

آپ ہمارا گلا دبادے ہمیں ماردے ہمیں نہیں جینا پلیز آپ ہمیں ماردے آپ کا ہم پہ احسان ہوگا۔حریم اپنے ہاتھوں سے ڈرپ نوچتی اُن کو منت کرنے لگی۔

حریم نہیں تکلیف ہوگی تمہیں بیٹے۔شھباز شاہ نے جلدی سے اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔

اِسی تکلیف سے ہی تو چھٹکارا حاصل پانا چاہتے ہیں ہمیں ماردے ہم مزید برداشت نہیں کرسکتے یہ دُنیا اور اِس کے لوگ بہت ظالم ہے یہاں بھیڑے رہتے ہیں ہمیں اِن بھیڑیوں کی خوراک نہیں بننا۔حریم ہذیاتی انداز میں چیخیں مارنے لگی تو کمرے میں نرسز داخل ہوئی۔

آپ پلیز باہر جائے ہمیں پیشنٹ کو آرام کا انجیکشن لگانا ہے۔ایک نرس نے شھباز شاہ سے کہا تو وہ سراثبات میں ہلاتے وہاں سے چلے گئے۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تنہائی میں بیٹھا دُرید سوچ رہا تھا کب اُس نے اپنی زندگی میں خود کو اتنا بے بس پایا تھا؟کبھی بھی تو نہیں مگر جس کیفیت سے وہ آج گُزر رہا تھا وہ بے حد مختلف تھی ایک الگ احساس تھا جس کو وہ چاہ کر بھی کوئی نام نہیں دے پارہا تھا اُس کو اپنے آپ پہ حیرت ہورہی تھی کیسے ایک چھٹانگ بھر کی لڑکی نے اُس کے چاروں چھانے چت کردیئے تھے جس کو ہمیشہ وہ بس ایک بچی سمجھتا آیا تھا کیسے وہ اُس کا سکون برباد کرکے خود آرام سے لیٹی ہوئی تھی۔

ہمیں آپ سے محبت ہے۔

کانوں میں بے بسی سے کہا ہوا حریم کا جُملا گونجا تو اُس نے آنکھوں کو زور سے میچ لیا ایک باغی آنسو آنکھ سے بہہ کر ڈارھی میں جذب ہوا۔

مانا میں غلط تھا مگر یہ سزا بہت بڑی ملی ہے میں اِس کا حقدار نہیں حریم میرے فیصلے نے اگر تمہاری زندگی خراب کی ہے تو مجھے کم سے کم ایک موقع تو دو میں اُن سب کا ازالہ کروں۔دُرید تصویر میں حریم سے مخاطب ہوا وہ ہسپتال سے سیدھا حویلی آکر خود کو کمرے میں بند کردیا تھا وہ جانتا تھا اُس کے والد کی بات اپنی جگہ ٹھیک تھی مگر یہ بھی سچ تھا وہ حریم سے ملنا چاہتا تھا ایک نظر اُس کو دیکھنا چاہتا تھا اس کو اپنے اندر کجھ خالی پن سا محسوس ہورہا تھا ایک بے چینی تھی جس نے اُس کو اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

سُنا ہے دو دن بعد جرگہ بیٹھایا جائے گا۔آمنہ نے زین سے کہا

ہممم میں نے بھی سُنا ہے خون کے بدلے خون چاہتے ہیں تابش کا باپ نواب شاہ بہت بپھرا بیٹھا ہے ان کو لاش بھی نہیں ملی تابش کی۔زین نے بتایا

اصولنً جرگہ کرنا نہیں چاہیے کسی کو کیونکہ انہوں نے جو حویلی والوں کی بیٹی کے ساتھ کیا انہوں نے تو بس حساب لیا اپنا۔آمنہ زین کو دیکھتی بولی۔

تابش نے جو کیا مگر اُس کا فیصلہ بھی جرگہ کرتا دُرید شاہ نے جوش میں آکر بہت غلط قدم اُٹھایا ہے۔زین گہری سانس بھر کر بولا

اللہ خیر کرے پر ماہی بھی شہر سے واپس آئی ہے تم نے پتا کیا دلدار شاہ کا قتل کس نے کیا تھا جب اُس کا اصل قاتل سامنے آئے گا تبھی ہمیں ماہی ملے گی۔آمنہ نے فکرمندی ظاہر کی۔

کوشش کررہا ہوں ان شاءاللہ پتا چل جائے گا۔زین نے کہا تو آمنہ زِیر لب آمین بولی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم ہسپتال میں تھے خیریت؟دلاور خان جو گاؤں پہنچ کر ڈیرے پہ آئے تھے شھباز شاہ سے بولے۔

بس کیا بتاؤں اللہ نے آزمائش میں ڈالا ہ دعا کرنا سب ٹھیک ہوجائے۔شھباز شاہ گہری سانس بھر کر بولے

ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ۔دلاور خان نے پوچھا تو شھباز شاہ نے سب کجھ اُن کے گوش گُزار کیا جس کو سن کر دلاور خان سن کر کافی پریشان ہوئے۔

اللہ ہر بیٹی کے نصیب کرے واقع آج کل تو انسان کے روپ میں جانور پائے جاتے ہیں۔دلاور خان افسوس سے بولے۔

ہممم تم سے ایک بات کہنا چاہ رہا تھا میں۔شھباز شاہ نے اُن کو دیکھ کر کہا

کہو کیا بات ہے؟دلاور خان اُن کی جانب متوجہ ہوا۔

میری بھانجی کی کنڈیشن تمہارے سامنے ہیں حویلی میں عجیب سوگواریت کا ماحول ہے ایسے میں اگر میں آروش تمہارے حوالے کروں گا تو پریشانیوں میں اضافہ ہوگا یہ وقت ایسا نہیں کے میں آروش کو حقیقت سے آگاہ کروں وہ اِس وقت میری کسی بات کا یقین نہیں کرے گی وہ پریشان ہے حریم کے لیے میں چاہتا ہوں وہ کجھ عرصہ ہمارے پاس رہے دیکھو دلاور انکار مت کرنا جب تمہیں ضرورت تھی مدد کی میں نے تمہاری کی اب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اُمید ہے تم انکار نہیں کرو گے۔شھباز شاہ نے سنجیدہ لہجے میں اپنی بات اُن کے سامنے کی۔

میری تمہاری بات سمجھ رہا ہوں پر شاہ کیا تمہیں نہیں لگتا میری بیٹی سے ساری سچائی چُھپاکر تم نے مجھ سے اور اُس کے ساتھ دونوں کے ساتھ زیادتی کی ہے جہاں میں نے چوبیس سال صبر کیا ہے وہاں کجھ ماہ اور ٹھیک مگر اِس سے کیا ہوگا کیا چوبیس سالہ لڑکی اچانک اپنے ماں باپ کے بدلنے پہ کیا اُس حقیقت کو تسلیم کرے گی تم نے مجھے بہت مشکل میں ڈال دیا ہے میں کیسے اُس کو فیس کروں گا؟کیا وہ میرے ساتھ آنے پہ راضی ہوجائے گی؟یقین جانوں یہ سوچے مجھے چین سے سونے نہیں دیتی۔دلاور خان شھباز شاہ کی بات سن کر پریشانی کے بولے۔

مجھے نہیں لگتا میں نے کوئی زیادتی کی ہے ہم سید ہیں بنا کسی رشتے کے کسی بچی کی پروش نہیں کرسکتے تھے میں نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک تھا اگر ایسا نہ کرتا تو وہ مقام آروش کبھی حاصل نہ کرپاتی جو آج اُس کا ہے رہی بات فیس کرنے کی تو بُرا مت ماننا یہ تمہیں تب سوچنا چاہیے تھا جب تم نے اپنی بیٹی میری گود میں ڈالی تھی کوئی بھی باپ کوئی بھی باپ ہو خان جہاں بات اولاد پہ آئے وہ بے بس نہیں ہوتا مگر یہاں معاملہ تو بیٹی کا تھا جو خدا کی طرف سے رحمت ہوتی ہے پر اُس معاملے میں تم بے بس ہوگئے وہ بھی چوبیس سال تک کون اپنی بیٹی سے اتنا فاصلہ کرتا ہے اگر میں نے تم سے کوئی رابطہ نہیں کیا تو تم نے کونسا اُس کی خبرگیری لی بیٹی کا معاملا بہت نازک ہوتا بیٹی بچی ہو یا بالغ باپ کو سوچنا چاہیے وہ جہاں اپنی بیٹی کو بھیج رہا ہے وہاں اُس کا رہنا سیف ہوگا تم نے دیکھے ہوگے وہ مرد جو اپنی بیٹی کو ایک دن کے لیے نہیں رہنے دیتے کیونکہ وہ بیٹی کے معاملے اپنے سگے رشتیداروں تک یقین نہیں کرپاتے میں تو پھر بھی تمہارا دوست تھا تمہیں پتا ہے تمہاری بیٹی بہت خوبصورت ہے اگر میں وہاں اُس کو اپنی بیٹی کے بجائے تمہاری بیٹی کی حیثیت سے رکھتا نہ تو چاہے میری حویلی میں سید مرد رہتے تھے مگر شیطان ہر ایک کو بہکاتا ہے بنا کسی رشتے کی رہتی تو ہوسکتا تھا میرے بھتیجے اُس کو حراس کرتے ٹارچر کرتے وہ جب حویلی سے باہر نکلتی ہے نہ تو گاؤں کا کوئی آوارہ لڑکا بھی اُس کو دیکھ کر نظریں نیچے کرلیتا ہے اِس لیے نہیں کے وہ گاؤں کے سرپنج کی بیٹی ہے بھلا جن کو اپنے رب کا خوف نہ ہو ان کو میرا کیا ہوگا وہ پتا ہے کیوں کرتے ہیں ایسا کیونکہ اِس لیے کے اُس کی آنکھوں میں حیا ہوتی ہے وہ پردہ کرتی ہے سب سے بڑی بات اُن کی نظر میں وہ ایک سیدزادی ہوتی ہے جس پہ غلط نگاہ ڈال کر وہ گُناہ نہیں کرسکتے آروش کو میں نے ہر جگہ سے پروٹیکشن دی ہے ہماری حویلی میں جو میرے دو تین بھتیجے ہیں نہ اُن سے بھی اُس کا دودہ کا رشتہ ہے دودہ شریک بھائی ہیں اُن کے میں نہیں چاہتا تھا کل کو میرے بھائی اُس کا رشتہ مانگے کیونکہ مجھے یقین تو نہیں بس شک تھا کے تم اُس کو لینے آؤ تو میں کیا جواب دوں گا اگر مجھے امانت میں خیانت کرنی ہوتی تو میں ایسا کرتا اُس کی شادی اپنے کسی بھتیجے سے کرتا یا اُس کو دودہ کسی اور کا دے کر اپنے کسی بیٹے سے شادی کروادیتا مگر اُس کو میں نے اپنی بیوی کی گود میں ڈالا تھا جس نے اپنی بیٹی کھوئی تھی جس کا نام ہم آروش رکھنے والے تھے تمہیں نہیں پتا اُس وقت ہم دونوں پہ کیا گُزر رہی تھی میرا غم الگ تھا میری بیوی کو تھا پر بیٹی کھونے سے زیادہ اُن کو یہ تھا کے وہ مجھے بیٹی کی رحمت سے نہیں نواز پائی میری بیٹی سے محبت دیکھ کر اُس کو شک ہوتا تھا کے جس طرح بیٹوں کی لالچ میں مرد دوسری تیسری شادی کرتا ہے اُس طرح میں بیٹی کے لیے نہ کردوں مگر تمہیں میں دلچسپ بات بتاتا چلوں میں کبھی ایسا نہ کرتا کیونکہ اولاد مرد کی قسمت سے ہوتی ہے اُس میں عورت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا جو مرد اولاد کے لیے کرتے دوسری تیسری وہ شادی نہیں بے وقوفی ہوتی ہے اگر اللہ نے ان کو اولاد کی نعمت اور رحمت سے نواز ہوگا تو وہ پہلی سے ہی عطا کردے گا میری قسمت میں اپنی خود کی بیٹی نہیں تھی مگر بیٹی تھی جو تمہارے ذریعے مجھے ملی اگر میرے ایسا کرنے سے تم اُس کو زیادتی کا نام دیتے ہو تو یہ ہی ٹھیک مگر معاشرے میں مرد اگر عزت کرتا ہے نہ تو وہ بس اپنی ماں بہن کی دوسروں کی بہن اُن کے لیے بس لطف کا سامان ہوتی ہے کجھ مائیں ہوتی ہیں جو اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا سیکھاتی ہے مگر کجھ عورتیں خود عورت بن کر بیٹے کو سمجھاتی ہیں یہ لڑکی ہے اِس کو جُتی کی نوک پہ رکھنا تمہاری بیٹی کو جب ہم نے اُس کی گود میں ڈالا تھا نہ تو وہ اپنی بیٹی بھول گئ اِن سالوں میں اُس نے کبھی بھول کر بھی اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس تو تھی نہ تمہاری بیٹی جس کو اپنی سمجھ رہے تھے۔شھباز شاہ جو پہلے سے پریشان تھے اب دلاور خان کی بات نے اُن کو مزید پریشان کیا جس وجہ سے انہوں نے اپنے دل کا سارا غبار اُن پہ نکالا جس پہ دلاور خان کبھی آبدیدہ ہوئے تو کبھی شرمندہ۔

مجھے آج کوئی ایسا دن بتاؤں کے میں جب آؤں تو تم میرے بنا کہے مجھے میری بیٹی دو کوئی بات کوئی بہانا کوئی پریشانی بتائے بنا۔دلاور خان اُن کی باتوں کے جواب میں بس یہی بول پائے۔

آج سے پانچ ماہ بعد آنا کوئی بہانا نہیں ہوگا میں آروش کو تمہارے ساتھ رخصت کردوں گا۔شھباز شاہ نے سرجھٹک کر کہا

پانچ ماہ زیادہ عرصہ نہیں؟دلاور خان نے پوچھا

اگر اُس سے پہلے ساری حقیقت جاننے کے بعد آروش تمہارے پاس آنا چاہے گی تو میں تمہیں کال کردوں گا۔شھباز شاہ کی بات پہ اُن کے چہرے پہ اطمینان بِکھرا۔

میں تمہارا احسانمند رہوں گا تاعمر تم نے میری بیٹی کو عزت اور پیار بھری زندگی عطا کی ہے اُس کی ساری خواہشوں کو بھی پورا کیا ہوگا۔دلاور خان مشکور نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولے۔

میں نے اُس کی ہر بات مانی ہے مگر ایک بات نہیں مان پایا اُس کی خواہش کو حسرت میں بدل دیا ایسا کرنا میری مجبوری تھی میرے بس میں نہیں تھا۔شھباز شاہ گہری سوچ میں ڈوب کر بولے۔

کونسی خواہش؟مجھے بتاؤ کیا پتا وہ میرے بس میں ہو اور میں اُس کو پورا کردوں مجھے اطمینان ہوگا چلو اپنی بیٹی کے لیے میں نے بھی کجھ کیا۔دلاور خان متجسس بھری نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا۔

اب تو بہت دیر ہوگئ ہے۔شھباز شاہ نے کہا تو دلاور خان کے چہرے پہ مایوسی بھرے تاثرات اترے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

پریشان ہیں؟ماہی شازل کے پاس بیٹھ کر اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بولی۔

ہمممم بہت تمہیں پتا ہے پہلے جب جرگہ بیٹھایا گیا تھا میں تب بھی پریشان تھا کے جانے کسی معصوم کے ساتھ اب کیا ہوگا اُس کو ونی کیا جائے گا مگر اِس وقت میں پریشان ہوں حد سے زیادہ پریشان ہوں کیونکہ اِس بار میری اپنی خود کی بہن خطرے میں ہے شاید میری وجہ سے۔شازل پریشانی سے بتاتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔

آپ کی وجہ سے کیوں؟ماہی کو سمجھ نہیں آیا

پہلے جب جرگہ ہو رہا تھا تو میں بابا سائیں کو سمجھانے آیا تھا تب غلطی سے میں یہ بول بیٹھا کے اگر کل کلاں کو مجھ سے اگر قتل ہوجائے تو کیا آروش کو ونی میں دیا جائے گا تب بابا سائیں نے میری بات بیچ میں کاٹی تھی مگر دیکھو میں ایک بھائی ہوکر اپنی بہن کے لیے کیسے ایسی بات کرگیا اب مجھے وہ بات سمجھ آئی جو لوگ کہتے ہیں کے ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولا کرو کوئی وقت قبولیت کا بھی ہوتا ہے اور اب مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ وقت قبولیت کا تھا۔شازل کی بات سن کر ماہی نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے اب وہ کیا بتاتی تمہاری بات تو بیچ میں کاٹ دی گئ تھی مگر میں جلن اور غصے میں آکر ایسی بات بول بیٹھی تھی جس کا پچھتاوا آج اُس کو بھی ہورہا تھا کیا پتا تب وہ اُس کی قبولیت کا وقت ہو۔

آپ خود کو قصوروار کیوں سمجھ رہے ہیں ابھی جرگے میں وقت ہے اور اُس کا فیصلہ کیا ہوگا یہ بھی باقی ہے کیا پتا ایسا کجھ نہ ہو جیسا آپ سمجھ اور سوچ رہے ہیں آپ کے بابا کبھی آروش کو ونی میں ہونے نہیں دینگے۔ماہی نے اؐس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا

جانتا ہوں مگر آروش پاگل ہے وہ مان جائے گی وہ یہ نہیں چاہے گی کے کوئی لالہ کا نام لے۔شازل نے کہا

سب اچھا ہوگا اگر آپ اچھا سوچے گیں تو میں آپ کے لیے کافی بناکر آتی ہوں۔ماہی نے مسکراکر کہا۔

یہاں کافی شاید نہ ہو اگر کجھ بنانا چاہتی ہو تو بس قہوہ بنادینا۔شازل نے کہا تو وہ سراثبات میں ہلاتی کمرے سے باہر نکلی وہ جب باورچی خانے میں آئی تو آروش کو پہلے سے وہاں موجود پایا جو جانے کن سوچو میں گم تھی۔

کیا تم جرگے کی وجہ سے پریشان ہو کے جانے کیا فیصلہ ہوگا اور شاید ڈر بھی ہوگا کہی وہ ونی نہ مانگے۔ماہی نے اُس کو دیکھ کر اندازہ لگاتا تو آروش اُس کی بات پہ چونک پڑی۔

میں شھباز شاہ کی بیٹی ہوں اُن کے دل کا ٹکرا وہ تو مجھے کیا میرے بھائی تک مجھے ونی میں نہیں کرے گے اتنا مجھے یقین نہیں ہے اور میں بے فکر ہوں میں اگر پریشان ہوں تو اُس وجہ سے اپنے لیے پریشان نہیں ہوں حریم کی وجہ سے پریشان ہوں۔آروش نے ایک منٹ میں ماہی کو لاجواب کیا۔

تمہیں بہت مان ہے اپنے باپ پہ؟ماہی نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا

ہر لڑکی کا مان پہلے اُس کا باپ پھر بھائی ہوتا ہے اور میرے بھی یہی ہیں میرے بھائی اور میرے بابا سائیں۔آروش نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

ایک بات پوچھو اگر بُرا نہ مانو تو؟ماہی نے ہچکچاہٹ سے کہا

اگر تمہیں لگتا ہے تمہاری بات سے میں بُرا مان جاؤں گی تو کہہ کیوں رہی ہو مت کہو۔آروش نے کندھے اُچکاکر کہا

تم بہت لکی لڑکی ہو آروش تمہارے پاس جو بھی رشتے ہیں وہ سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں ہمیشہ تمہارے ہمقدم ہوگے اور ایسا کم لوگوں کی قسمت ہوتا ہے کوئی تمہارا نام نہیں لے سکتا سب تمہارے اپنے تمہارے پاس ہیں جن سے تم محبت کرتی ہو جو تم سے محبت کرتے ہیں۔ماہی سرجھٹک کر آروش سے بولی تو آروش کے کانوں میں کوئی اور جُملا گونجنے لگا دماغ میں پرانی بات تازہ ہوئی تھی۔

آپ ایک دفع مجھ ناچیز پہ اعتبار کرلیں دیکھیے گا یہ بندہ بشر آپ کو کبھی رسوا ہونے نہیں دے گا زندگی کے ہر سفر میں آپ مجھے اپنے ہمقدم پائے گی اگر کوئی آپ کے بارے میں کجھ غلط کہے گا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا پر آپ کی ذات پہ ایک حرف آنے نہیں دوں گا میں بہت محبت کرتا ہوں آپ سے۔

ہاں واقع میں بہت لکی ہوں میرے سب اپنے میرے پاس ہیں جن سے میں پیار کرتی ہوں اور جو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں میری لائیف ایک آئیڈیل لائیف اور پرفیکٹ لائیف ہے جس میں سب کجھ ہے کسی چیز کی کمی نہیں۔آروش اپنا سرجھٹک کر زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولی۔

تمہاری آنکھیں تمہارا لہجہ تمہاری بات کا ساتھ نہیں دے رہا ہاں جو تم بول رہی ہو وہ سب ٹھیک ہے مگر مجھے ایسا لگتا ہے کجھ ہے جو تم چُھپاتی پِھرتی ہو سب سے شاید خود سے بھی مگر تمہارا چہرہ سب کجھ عیاں کردیتا ہے تمہیں پتا ہے میں نے کہی پڑھا تھا آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہے جہاں انسان کو سب پتا چل جاتا ہے دوسرا کیا سوچ رہا ہے اور کیا چاہتا ہے مگر تمہاری آنکھیں بے تاثر ہوتی ہے بے رونق سی مگر تمہارا چہرہ بہت ایکسپریسیو ہے تم جو جو بات کرتی ہوں تمہارے چہرے کے زاویئے بھی ایسے بن جاتے ہیں تم بھلے سب کجھ چُھپالوں مگر تمہارے چہرے کے تاثرات تمہارا ساتھ نہیں دیتے۔ماہی نے آج جیسے اُس کو اندر تک جھانک لیا تھا۔

تمہیں مجھ پہ ریسرچ کرنے کی ضرورت نہیں اپنے کام سے کام رکھا کرو اور پلیز میرے معاملات میں مت آیا کرو میں جو ہوں جیسی ہوں جیسے نظر آتی ہوں جیسے نظر آنا چاہتی ہوں اُس کے بارے میں تمہیں سوچنے کی ضرورت نہیں یہ صرف میرا معاملہ ہے تمہارا اُس سے کوئی لینا دینا نہیں مجھے بلکل پسند نہیں کوئی میرے معاملات میں دخل اندازی کرے مجھے سخت چڑ ہے اِس بات سے۔آروش کی جیسے کسی کے چوری پکڑ لی تھی تبھی ماہی کی بات سن کر حددرجہ سخت لہجہ اختیار کرگئ تھی جس سے ماہی کو شرمندگی کے احساس نے آ گھیرا۔

سوری اگر تمہیں بُرا لگا ہو تو۔ماہی نے معذرت خواہ لہجے میں کہا تو آروش بنا جواب دیئے وہاں سے چلی گئ۔

آروش کے جانے کے بعد ماہی شازل کے لیے قہوہ بناتی کمرے میں داخل ہوئی۔

لیٹ کیوں کردی۔شازل نے پوچھا

آروش سے بات کررہی تھی تو بس دیر ہوگئ۔ماہی نے آہستہ آواز میں بتایا

کیا ہوا آرو نے کجھ کہا تم سے؟شازل نے اُس کے تاثرات نوٹ کیے تو پوچھا۔

نہیں ویسے ہی نیند آرہی ہے۔ماہی قہوہ اُس کی جانب بڑھاتی نظریں چُراکر بولی

اگر آرو نے کجھ کہا ہے تو بتادو ویسے تم آرو کی بات دل پہ مت لیا کرو وہ بہت اچھی ہے بس کبھی کبھی زبان کی تیز ہوجایا کرتی ہے کیا ہے وہ دل میں کجھ نہیں چُھپاتی جو ہوتا ہے سامنے والے کے منہ پہ مارتی ہے۔شازل نے مسکراکر کہا تو ماہی کی آنکھوں میں شکوہ اُتر آیا۔

کیا ہوا؟شازل ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولا

کجھ نہیں۔ماہی اُس کو جواب دیتی بیڈ پہ کروٹ لیٹی سونے کی کوشش کرنے لگی۔

ماہی کجھ ہے تو شیئر کرو۔شازل قہوہ کا کپ سائیڈ پہ کرتا اُس کی جانب پوری طرح سے متوجہ ہوا۔

کجھ نہیں بس انجانے میں آروش کے ساتھ پرسنل ہوگئ تو اُس نے ڈانٹ دیا۔ماہی سیدھی ہوتی لیٹ کر جس انداز میں اُس کو بتایا شازل کو وہ بہت پیاری لگی۔

تم سچ میں بہت معصوم ہو۔شازل اُس کا گال کھینچ کر بولا۔

سیدھا سیدھا بے وقوف کیوں نہیں کہتے۔ماہی نے بُرا مان کر کہا تو شازل قہقہقہ لگانے لگا۔

یار اب مجھ کیوں ناراض ہو رہی ہو میں نے تھوڑی آروش سے کہا تمہیں ڈانٹیں مگر تم فکر نہیں کرو میں صبح اُس سے کہوں گا میری بیوی کو دوبارہ مت ڈانٹیں۔شازل کہنیوں کے بل لیٹتا مسکراہٹ ضبط کیے اُس سے بولا

ڈانٹ ہی نہ لے آپ اُسے۔ماہی کو زرہ برابر یقین نہیں آیا۔

اچھا سوجاؤ تمہیں نیند آرہی تھی نہ۔شازل اُس کی جانب کھسک کر آتا اُس کا سر اپنے بازوں پہ رکھ کر بولا

میں جس کروٹ پہ لیٹتی ہوں تو جب جاگ ہوتی ہے پھر بھی وہی ہوتی ہوں۔ماہی نے سراُٹھاکر شازل سے کہا جو اُس کے بال سہلا رہا تھا

مجھے بتانے کا مقصد؟شازل نے پوچھا

مقصد یہ کے آپ کا بازوں صبح تک سن اور ساکت ہوجائے گا۔ماہی نے سکون سے کہا

کجھ نہیں ہوتا تم آنکھیں موند لوں۔شازل نے مسکراہٹ سے کہا۔

ٹھیک ہے میرا کام آپ کو خبردار کرنا تھا سو میں نے کردیا اب آپ جانے اور آپ کا سُن سُناتا بازوں۔ماہی مزے سے کہتی اُس کے سینے پہ ہاتھ رکھتی آنکھیں بند کرگئ تو شازل بھی نفی میں سرہلاتا خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *