Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 54)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 54)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
خان میں آج بہت خوش ہوں اور ہماری بیٹی ماشااللہ سے کتنی پیاری ہے اُس کی آواز بات کرنے کا انداز سب منفرد اور اٹریکٹو ہے۔رات کے سونے کے وقت زوبیہ بیگم مسکراکر خوشی سے چور لہجے میں دلاور خان سے بولی
ماشااللہ سے خوبصورت ہے مگر شاہ نے اُس کی پرورش بھی بہت اعلیٰ انداز میں کی ہے ایک مٹھاس سی ہے اُس کے لہجے میں۔دلاور خان اُن کی بات سے متفق ہوئے
یہ تو ہے پھر ہم پارٹی آرگنائز کب کرے؟زوبیہ بیگم پرجوش آواز میں بولی
آروش کا انٹروڈیوس ہو اُس کے لیے پارٹی کی بات کررہی ہو؟دلاور خان نے تائید بھری نظروں سے اُن کو دیکھا۔
جی بلکل اب دُنیا والوں کو دیکھانا چاہیے ہماری بیٹی ہے وہ۔۔۔شاندار قسم کا فنکشن ہوگا میں تو پورے شہر کے لوگوں کو انوائیٹ کروں گی اور جشن مناؤ گی۔۔۔پہلے میں پارٹی اور گیدرنگز میں اکیلی جایا کرتی تھی پر اب آروش کو ساتھ لے جایا کروں گی۔زوبیہ بیگم کا چہرہ خوشی کے مارے دمک رہا تھا۔
ہممم ایک ہفتے تک میڈیا والے بھی ہوگے میں سب سے آروش کے بارے میں بات کروں گا سب کو بتاؤں گا میں بہت خوش ہوں۔دلاور خان نے کہا
مجھے تو اب گھر میں عجیب سی رونق محسوس ہورہی ہے۔زوبیہ بیگم نے کہا اُن کی خوشی دیکھ کر دلاور خان مسکرائے پھر بولے۔
آروش کھانے کی ٹیبل پہ کیوں نہیں آئی تھی؟
اُس کو بھوک نہیں تھی میں نے بہت کہا تھا پر وہ نہیں آئی تھی تو اسرار زیادہ میں نے بھی نہیں کیا۔زوبیہ بیگم نے بتایا
ہممم یمان نے بھی نہیں کیا۔دلاور خان اُن کی بات پہ بولے
یمان سے یاد آیا آپ نے ایک چیز نوٹ کی؟زوبیہ کو اچانک خیال آیا تو کہا
کس چیز پہ؟دلاور خان ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگے۔
میں جب سے آئی ہوں یمان کے چہرے پہ ہر وقت مسکراہٹ کا احاطہ ہے بات کرو تو مذاق بھی کرجاتا ہے اور ایسی حرکتیں کررہا ہے جو اُس نے کبھی نہیں کی۔زوبیہ بیگم کجھ حیرانگی سے بولی
ہاں یمان میں بدلاؤ آرہا ہے جو کی اچھی بات ہے۔دلاور خان کہا
اچھی بات ہے مگر اتنا اچانک اور یکدم سے یہ بات کجھ ہضم نہیں ہورہی۔زوبیہ بیگم کو کجھ کٹھک رہا تھا۔
زیادہ مت سوچو اور سوجاؤ کل آروش کو بازار لے جانا شاید اُس کو کسی چیز کی ضرورت ہو۔دلاور خان نے اُن کا دھیان دوسری بات کی جانب کیا۔
ہاں یہ بات میں بھی سوچ رہی تھی آصفہ کا مشہور بوتیک ہے اور بہت اچھے ڈیزائن کے کپڑے لیکر دوں گی میں اُس کو آج کجھ ماسیوں والے روپ میں تھی۔زوبیہ بیگم نے آروش کے پیارے حُلیے کو ماسیوں روپ کا نام دیتی ہوئی بولی جو اگر یہ بات آروش سُن لیتی تو یقینً اُس کا دل ٹوٹتا







یہ لیکر جاؤں اگر انکار کرے تو زور دینا کے کھائے اور کہنا خالی پیٹ سونا اچھی بات نہیں ہوتی اللہ ناراض ہوتا ہے اور ہمارے نبیؐ کا فرمان ہے اگر گھر میں کھانے کا کجھ نہ بھی ہو تو ایک کھجور ہی کھانا چاہیے یہاں تو اُن کے لیے بہت سی نعمتیں ہیں۔یمان کھانے کی ٹرے سیٹ کرتا بنا روکے نیند سے جھولتی نجمہ سے بولا
صاحب اگر اتنا تکلف کیا ہے تو خود ہی کھانا دے دیتے اُن نک چڑھی میم کو آپ کے برابر میں ہی تو رہتی ہے اور یقین جانے جتنا درس آپ نے مجھے ایک منٹ میں دیا ہے وہ جب میں پانچویں جماعت میں تھی نہ تب اتنا تو اسلامیات والی ٹیچر نے بھی نہیں دیا ہوگا۔نجمہ جمائیاں لیتی یمان سے بولی تو اُس نے تیز گھوری سے اُس کو نوازہ۔
جو کہا ہے وہ کرو۔یمان نے ٹوکا
جی کرتی ہوں۔نجمہ اتنا کہتی ٹرے ہاتھ میں پکڑی
احتیاط سے۔یمان نے تاکید کی۔
دروازے تک آپ ہی اُٹھا کر لے چلے۔نجمہ کو جو سونے کی پڑی تھی یمان کی اتنی اوور کیئر پہ جھنجھلائی ویسے تو نو بجے کے بعد اُس کے کام کا وقت ختم ہوجاتا ہے مگر آج یمان نے گیارہ بجے اُس کو زحمت دی تھی۔
کتنی نالائق ہو تم اتنا سا کام بھی تمہیں نہیں آتا۔یمان نے اچھا خاصا اُس کو شرمندہ کرنا چاہا
ایسی بات بھی اب نہ بولے بارہ بجنے والے ہیں وہ تو سو بھی چُکی ہوگی۔نجمہ کا منہ اُس کی بات پہ حیرت سے کُھل گیا۔
اتنی جلدی کوئی نئ جگہ پہ ایڈجسٹ نہیں ہوتا اِس لیے جاؤں اور کھانے کا بولو۔یمان نے کہا
میری مانے تو آپ بھی سوجائے کیونکہ آپ کے جاگنے سے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یہ سوچ کرکے آپ کا بلوا کبھی بھی آسکتا ہے۔نجمہ نے اُس کو اپنے مشورے سے نوازہ
اُن کے پاس جاؤ تاکہ کھانے کے بعد وہ سوجائے ورنہ آنکھوں کے گردے ہلکے ہوجائے گے۔یمان کی اِس بات پہ نجمہ گِرتے گِرتے بچی۔
کتنا پتا ہے آپ کو کبھی اپنی فیانسی کے بارے میں خبرگیری کرلیا کرے۔نجمہ کی بات پہ یمان کے ماتھے پہ بل آئے جس کو دیکھ کر نجمہ وہاں سے نو دو گیارہ ہوگئ۔یمان بھی اپنا سرجھٹکتا کمرے کی جانب بڑھا کیونکہ اُس کو بھی اب سخت نیند آرہی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تم یہاں اِس وقت؟دروازہ نوک ہونے پہ آروش نے دروازہ کھولا تو نجمہ کو دیکھ کر حیران ہوئی
جی آپ کے لیے کھانا لائی تھی۔نجمہ نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کی جانب اِشارہ کیا
میں نے تو نہیں کہا تھا۔آروش نے کہا
پر میں لائی ہوں خالی پیٹ سونا اچھی بات نہیں ہوتی اللہ ناراض ہوتا ہے اور ہمارے نبیؐ کا فرمان ہے اگر گھر میں کھانے کا کجھ نہ بھی ہو تو ایک کھجور ہی کھانا چاہیے یہاں تو آپ کے لیے بہت سی نعمتیں ہیں۔نجمہ نے یمان کا جُملا رٹ رٹائے طوطے کی طرح کہا
اچھا شکریہ اب جاؤ۔آروش اُس کے ہاتھ سے ٹرے پکڑتی بولی تو نجمہ سرہلاتی واپس چلی گئ۔








حریم ابھی تک سوئی نہیں؟رات کے پہر فاریہ بیگم کی آنکھ کُھلی تو انہوں نے حریم کو جاگتا دیکھا تو تفتیش بھرے لہجے میں بولی۔آروش کے جانے کے بعد وہ حریم کے پاس سویا کرتی تھی اور اُس کا ہر کام بھی کرتی تھی۔
ہمیں نیند نہیں آرہی آپی کی یاد آرہی آپ نے کہا تھا بات کروائے گی مگر ابھی تک نہیں کروائی۔حریم نے جیسے شکوہ کیا
میرے بچے اگر میرے ہاتھ بات کروانا ہو تو میں ابھی کرواؤ پر مجھے دیدار سے پتا چلا آروش کے پاس کوئی موبائل نہیں وہ یہاں سے خالی ہاتھ گئ تھی جب اُس کے باپ کا نمبر مل جائے گا تو وہ بات کروائے گا۔فاریہ بیگم نے تسلی آمیز لہجے میں اُس سے کہا
آپی نے ابھی تک پھر موبائل کیوں نہیں لیا؟کیا اُن کو ہماری یاد نہیں آتی؟حریم نے دوسرا سوال کیا
یاد اُن کو کیا جاتا ہے جن کو ہم بھول جاتے ہیں اور تمہیں لگتا ہے آروش تمہیں بھول گئ ہوگی؟فاریہ بیگم نے کہا تو حریم نے نفی میں سرہلایا
پھر آرام سے سوجاؤ میں کرتی ہوں کجھ جس سے آروش سے تمہاری بات ہوجائے۔۔فاریہ بیگم نے کہا تو حریم مسکراکر سر کو جنبش دیتی سونے کی کوشش کرنے لگی۔








یمان خواب وخروش کے مزے لوٹ رہا تھا جب اُس کا موبائیل فون رِنگ کرنے لگا پہلے تو یمان ٹس سے مس نہ ہوا مگر کال کرنے والا بھی شاید بہت ڈھیٹ ثابت ہوا یمان کی نیند میں خلل ڈالے کے ہی پرسکون ہوا۔
یمان اپنی مندی مندی آنکھیں کھولتا سائیڈ ٹیبل پہ پڑا اپنا فون دیکھنے لگا اُس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل کی اسکرین پہ ارمان کالنگ دیکھ کر اُس نے گہری سانس خارج کی۔
سر صبح ہوگئ ہے۔یمان نے ابھی کال ریسیو کر کے کان کے پاس کی تھی جب دوسری طرف ارمان بول پڑا
یہ بتانے کے لیے کال کی ہے۔یمان اپنی آنکھیں مسلتا اُس سے بولا
بلکل نہیں آپ نے جو چاند چڑھایا ہے نہ اُس کی آگاہی دینے کے لیے کال کی ہے۔ارمان نے کہا تو یمان کے ماتھے پہ بل پڑے
کونسا چاند چڑھایا ہے میں نے جس کی خبر مجھے نہیں تمہیں ہے۔یمان نے کہا
لگتا ہے کل رات سے آپ نے اپنا فون یوز نہیں کیا آپ کی تصاویر سوشل میڈیا پہ ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔ارمان اُس کی بے نیازی پہ دانت پیس کر بولا
میں نے ایسا کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔یمان سنجیدہ تھا
واہ بھئ آپ نے تو وہ مثال قائم کی ہے آگ لگے بستی میں آپ اپنی مستی میں۔ارمان کی بات پہ یمان تپ اُٹھا
ارماننننن۔یمان نے وارن کیا
سر آپ نے جو پراٹھے بنائے اور اُس کی تصاویر خان سر کے گھر کی ملازمہ نجمہ کے ساتھ کلک کی ہے وہ جانے کس نے سوشل میڈیا پہ دی ہے اور اب وائرل ہوگئ ہے ہر کوئی آپ کے ہاتھوں کا پراٹھا کھانا چاہتا ہے اور مزے کی بات بتاؤ کیا میں نے نیٹ پہ ایک بہت بڑا توا بھی دیکھ لیا اُس کو آرڈر کرتے ہیں پھر اسلام آباد کی کسی سنسان جگہ پہ اُس کو پہنچائے گے اب بڑے اسٹائل سے شرٹ کے بازوں کے کف فولڈ کرکے پراٹھے بنانے میں مصروف ہوجائیے گا میں اُس کو پیک کرتا لوگوں میں تقسیم کرتا جاؤں گا۔ارمان ایک سانس میں بولتا جارہا تھا۔
کیا تم نیند میں ہو؟یمان کو اُس کی بے تکی باتوں کا مطلب اب بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔
آپ کو نیند سے جاگنے کی کوشش میں ہوں۔جواب فورن سے آیا تھا۔
مجھے تم غصہ دلارہے ہو۔یمان جھنجھلا اُٹھا
سریسلی یمان سر؟میں آپ کو غصہ دلارہا ہوں یہاں کل رات سے جانے جانے کون کونسے لوگ کہاں کہاں سے نکل کر مجھے کال پہ کال کیے جارہے ہیں میرا جرم کیا ہے مجھے کس کی سزا مل رہی ہے ایک رات ہوتی ہے انسان کے پاس سونے کے لیے مجھے تو وہ بھی مُیسر نہیں میرا قصور بس اتنا ہے کے میں ارمان ملک کو بس آپ کے اکلوتے اسسٹنٹ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ارمان کی دُھیائیاں آج عروج پہ تھی۔
یہ ضرور نجمہ کا کیا دھرا ہوگا اُس کو تو میں دیکھتا ہوں میڈیا کو بھی میں ہینڈل کرلوں گا اور تم اپنی نیند پوری کرلوں۔یمان بالوں میں ہاتھ پھیر کر اُس سے بولا
یہ میڈیا والے تب تک ہینڈل نہیں ہوگے جب تک آپ اِن کو پراٹھے نہ کھیلائے میری مانے میں نے جو کجھ دیر پہلے مُفید مشورہ دیا تھا اُس پہ عمل پیراں ہوجائے۔ارمان نے رازدرانہ انداز میں کہا
وہ تو بس ایک کے لیے تھے۔یمان کی آنکھوں کے سامنے آروش کا سِراپا لہریا تو کھوئے ہوئے انداز میں بولا
ایک کے لیے کس کے لیے؟اُس نجمہ کے لیے؟ارمان نے یمان کے جذبات کا جنازہ نکالنے میں سب کو پیچھے چھوڑدیا۔
شکر کرو جو تم میرے سامنے نہیں ورنہ وہ حشر کرتا کے یاد کرتے۔یمان ارمان کی بات پہ دانت کچکچائے بولا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر گُزرتا۔
آپ نے بات ایسی کی کے میں اور کیا کرتا۔ارمان خجل ہوا جب کی یمان نے کال ڈراپ کردی تھی۔
عجیب بات ہے اتنا مفید مشورہ تھا میرا اگر عمل پیراں ہوتے تو اپنا فائدہ ہوتا۔ارمان موبائل کی اسکرین کو گھورتا بولا۔ابھی وہ اُس کو جیب میں رکھنے والا تھا جب فون رِنگ کرنے لگا تو ارمان بیزاری سے کال کاٹنے والا تھا جب نظر موبائل فون کی اسکرین پہ لکھے دُنیا کالنگ کو دیکھ کر اُس کو اپنی بینائی پہ یقین نہ آیا اُس سے پہلے رنگ ٹون ختم ہوجاتی ارمان نے جلدی سے کال ریسیو کی
زے نصیب
زہے نصیب آج مجھے خود سے کال کیسے کرلی۔ارمان کال ریسیو کیے شریر لہجے میں بولا
یمان سے بات کرنی تھی کہاں ہیں وہ؟دوسری طرف فجر نے سنجیدگی سے کہا
ضرور آپ نے وائرل ہوئی تصاویر دیکھی ہوگی اور خواہش جاگی ہوگی کے میں بھی پراٹھے کھاؤں تو بے فکر رہے میں یمان سر سے پراٹھو کی ریسپی لیکر آپ کے لیے بناؤں گا ویسے تو مجھے پتا ہے گُندم کا آٹا گوندنا ہوتا ہے پھر اُس کو بال جتنا گول کر چپاتی کی طرح بنایا جاتا ہے اُس کے بعد غبارے جتنا چپاتی کو پُھلائے پھر توے پہ رکھ کر اُس کی میں گیھ ڈالنا ہوتا ہے بس پھر گرما گرم پراٹھے تیار۔ارمان نے مزے سے اُس کو پراٹھے بنانے کا طریقہ بتایا تو فجر نے صوفے کا سہارہ لیا
کیا تم کوئی سستا نشہ کرتے ہو؟فجر نے طنزیہ کیا۔
میں مہنگا نشہ بھی افورڈ کرسکتا ہوں پر وہ حرام ہیں تبھی میں نہیں کرتا۔ارمان نے فخریہ انداز میں کہا
میں نے بہت بڑی غلطی کی تمہیں کال کرکے مجھے بہت ضروری بات کرنی تھی یمان سے مگر تمہاری وجہ سے یاد نہیں کے کیا کہنا تھا۔فجر دو انگلیوں سے اپنا مسلتی دانت پیس کر بولی
جان کر خوشی ہوئی۔ارمان تھوڑا شرماکر بولا
کیا جان کر خوشی ہوئی۔فجر کو سمجھ نہیں آیا
یہی کے جب آپ مجھ سے بات کرتی ہیں تو پھر آپ کو کجھ یاد نہیں ہوتا سب کجھ بھول جاتی ہیں۔ارمان فجر کی بات کا اپنا مطلب نکال کر بولا تو فجر نے بہت بُری طرح سے اپنے دانت کچکچائے
سائیکو انسان۔فجر دانت پہ دانت جمائے کہتی کال ڈراپ کرگئ۔
ٹوں
ٹوں
ٹوں کی آواز پہ ارمان نے موبائیل کان سے ہٹاکر اسکرین کو دیکھا تو منہ بن گیا۔
کوئی عزت نہیں میری ان دونوں بہن بھائی کی نظروں میں جب دیکھو اپنی بھڑاس نکال کر کال کٹ کرجاتے ہیں اب میں کس پہ اپنی بھڑاس نکالوں؟ارمان سیل فون جیب میں رکھتا تاسف سے بڑبڑایا
