Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 16)

Haal e Dil by Rimsha Hussain

آپ ناراض ہیں مجھ سے سوری میری بات کا کوئی غلط مطلب نہیں تھا وہ جو میرے اندر خیال آیا تو میں نے پوچھ لیا مجھے اندازہ نہیں تھا آپ اتنا غصہ ہوجائے گے۔دوسرے دن شازل کمرے میں آیا تو ماہی جلدی سے اُس کے پاس پہنچ کر بولی

میں کل رات کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تم بھی نہ کرو۔شازل سنجیدگی سے کہتا وارڈوب کی جانب بڑھا

میں سوری کر تو رہی ہوں۔ماہی کی آنکھیں نم ہوئی اُس کی بے رخی دیکھ کر۔

تو نہ کرو مجھے نہیں چاہیے تمہارا سوری۔شازل سپاٹ انداز میں بولا

مجھے پتا ہے آروش میں آپ سب بھائیوں اور سرپنج شھباز شاہ کی جان بستی ہے میں نے بس ایسے ہی بول دیا نہیں کہنا چاہیے تھا پلیز معاف کردے آئیندہ نہیں کہوں گی۔ماہی اتنا کہتی پھوٹ پھوٹ رو پڑی اُس کو روتا دیکھ کر شازل سٹپٹا کر اُس کی طرف آیا

ہے یار ماہی کیا ہوگیا ہے رونا بند کرو۔شازل اُس کے آنسو صاف کرتا نرمی سے بولا

پہلے آپ کہے آپ نے مجھے معاف کیا۔ماہی سوں سوں کرتی بولی۔

میں نہیں ناراض اِس لیے معافی کا تو کوئی سوال نہیں بنتا۔شازل مسکراکر اُس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا

پھر ایسے بات کیوں کررہے تھے۔ماہی نے نیا سوال داغا۔

وہ تو بس میں جلدی میں تھا اماں سائیں نے بتایا آروش کو بخار ہوا ہے شہر لے جارہا ہوں۔شازل نے بتایا

بخار ہوا تو شہر کیوں یہاں بھی تو ڈسپینسری ہے۔ماہی اپنا رونا بھول کر بولی۔

گاؤں کے ڈاکٹر اور شہر کے ڈاکٹر میں فرق ہے خدانخواستہ اگر بخار سر پہ چڑھ جائے تو اِس حالت میں آروش ویسے بھی خود سے لاپرواہ ہوجاتی ہے ہم ابھی نکلے گے تو ان شاءاللہ کل تک آجائے گے۔شازل نے کہا تو ماہی کو گھبراہٹ ہونے لگی۔

میں بھی چلوں ساتھ.ماہی نے کہا

تم کیوں؟شازل کو جانے کیوں ہنسی آئی۔

وہ بس ایسے ہی۔ماہی نے کہا تو شازل نے گہری سانس ہوا میں خارج کی۔

دیکھو ماہی میں جانتا ہوں تم ساتھ چلنے کا کیوں بول رہی ہو پر میں ایک بات واضع کردوں اب کوئی تمہیں کجھ نہیں کہے گا ٹرسٹ می تمہیں میں ضرور ساتھ لے جاتا پر مسئلہ ہوجائے گا کیونکہ میں چاہے جو بھی کروں سب کو پتا ہے تم ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی ہو تمہارا حویلی سے باہر جانا بند ہے میری اِس بات کا یہ مطلب ہرگز مت سمجھنا کے تم اب ساری زندگی یہاں رہو گی میں جلد تمہیں تمہارے گھروالوں کے پاس چھوڑ آؤں گا پھر تم جیسے پہلے زندگی گُزارا کرتی تھی ویسے ہی گُزارنا۔شازل اُس کے گال پہ ہاتھ رکھتا نرمی سے بولا پر جانے کیوں اپنے گھر جانے کا سن کر ماہی کو کوئی احساس اپنے اندر جاگتا محسوس نہیں ہوا۔

کیا آپ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں؟ ماہی کے منہ سے بےساختہ پھسلا جب کی شازل اپنی بات کے جواب میں اِس سوال کی توقع نہیں کررہا تھا۔

مجھے شادی کرنے کا کوئی شوق نہیں میں خود کو کسی کا پابند نہیں بناسکتا شادی ایک بہت بڑی زمیداری ہے جو میں پوری نہیں کرسکتا۔ شازل اُس کو جواب دیتا واشروم کی طرف بڑھ گیا دوسری طرف ماہی کو اُس کا جواب اُداس کرگیا تھا۔

یہ تو ہونا تھا۔ ماہی نے خود کو تسلی دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دُرید کہاں جارہے ہو؟ کلثوم بیگم نے دُرید کو باہت جاتا دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔

ڈیڑے پہ جارہا تھا آپ کو کوئی کام تھا۔ دُرید نے بتانے کا بعد پوچھا

ہاں وہ حریم کو کب لارہے ہو شہر سے۔ کلثوم بیگم نے پوچھا

حریم کے تو اگلے ہفتے پیپرز ہیں اِس لیے ابھی وقت ہے جب پیپرز ہوجائے گے تو لینے چلا جاؤں گا آپ بتائے آپ کو کیسے خیال آگیا اُس کا؟دُرید صوفے پہ بیٹھ کر مسکراکر پوچھنے لگا ہاں وہ بس ایک بات بتانی تھی۔کلثوم بیگم کی بات پہ دُرید شاہ نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھا

میں سن رہا ہوں۔دُرید نے کہا

تمہاری خالہ حریم کا رشتہ چاہ رہی تھی پیپرز کے بعد نکاح پھر رخصتی اُس کی پڑھائی کے بعد چاہتی ہیں۔کلثوم بیگم اُس کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرتی بتانے لگی

کس خالہ جان نے؟دُرید نے سنجیدگی سے پوچھا

صدف نے۔کلثوم بیگم نے بتایا

انہیں کہے حریم ابھی چھوٹی ہے ناسمجھ ہے شادی کی عمر نہیں اُس کی جب اُس کی شادی کروانی ہوگی ہم سوچ لینگے تب۔ دُرید سپاٹ انداز میں کہتا اُٹھ کھڑا ہوا۔

دُرید یہ تو کوئی وجہ نہ ہوئی انکار کی ویسے بھی ابھی صرف نکاح ہوگا۔کلثوم بیگم نے اُس کو راضی کرنا چاہا

جو بھی امی پر جب تک حریم بیس سال کی نہیں ہوجاتی میں اُس کی شادی کا یا نکاح کا نہیں سوچ سکتا وہ معصوم ہے میں نہیں چاہتا اُس کے ذہین میں ایسی کوئی بھی بات آئے اُس کی پڑھائی کی عمر ہے تو پلیز آپ بس اُس کو پڑھنے دے۔دُرید اپنی بات پہ قائم رہا

آروش کی شادی بھی ہم اِسی عمر میں کروا رہے تھے تو اب حریم کی کیوں نہیں صدف نے بہت چاہ سے اُس کا رشتہ مانگا ہے انکار کرے گے تو ناشکری ہوگی حریم کی پڑھائی کا حرج بھی نہیں ہوگا تم بس ایک دفع ہامی تو بھرو۔کلثوم بیگم اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر بولی

انکار کا نہیں انتظار کا کہے دوسری بات آپ مجھے آروش کی مثال دے رہی ہیں آپ کے اور بابا سائیں کے ان جذباتی فیصلے پہ میں نے کبھی آروش کو مسکراتے نہیں دیکھا کیسے تھی وہ اور کیا بنا دیا ہے آپ لوگوں نے اُس کو ایک کے بعد ایک رشتہ اُس کے سامنے کیا شادی کروانے کے چکر میں اُس کے جذبات مرگئے ہیں پر نتیجہ کیا ہوگا تینوں بار اُس کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئ آخر آپ سب کو سوجھی کیا تھی میرے اور شازل کا انتظار تو کرتے ہمارے بنا ہی سب کجھ طے کردیا۔دُرید اُن کی بات پہ پھٹ پڑا

لالہ ہم شہر جارہے ہیں۔کلثوم بیگم جواب میں کجھ کہتی اُس سے پہلے شازل آروش سمیت اُن تک آیا۔

میں بھی چلتا ساتھ پر زمینوں کا ضروری کام ہے دُرید ایک نظر عبائے میں ملبوس سرجھکائے کھڑی آروش پہ ڈال کر بولا

کوئی بات نہیں ہم کل تک آجائے گے۔شازل نے جوابً کہا پھر آروش کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔

میں صدف کو ہاں کہہ دوں گی۔کلثوم بیگم دُرید کو جاتا دیکھنے لگی تو بول پڑی

حریم میری زمیداری ہے اُس کے بچپن سے لیکر سارے فیصلے میں نے کیے ہیں تو شادی کا اتنا بڑا فیصلہ بھی میں کروں گا آپ کی جلدبازی کے چکر میں اُس کی زندگی داؤ پہ نہیں لگاؤں گا۔دُرید سرد لہجے میں بولا۔

میں ماں ہوں تمہاری تم باپ مت بنو میرے۔کلثوم بیگم نے اِس بار سخت لہجہ اپنایا

میں اِس گھر میں دوسری آروش نہیں چاہوں گا بابا سائیں اِس بار یہ کہہ کر مجھے خاموش نہیں کرواسکتے کے حریم کا فیصلہ وہ کرے گے کیونکہ آروش کا کیا میں اور شازل خاموش رہے پر اِس بار ایسے نہیں ہوگا۔دُرید کا اٹل انداز میں بولا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

دلاور خان مسز دلار نور ارمان یہ سب اِس وقت ہسپتال میں موجود تھے مسز دلاور نے رو رو کر اپنا حال بے حال کیا تھا دلاور خان بھی پریشانی کے عالم میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں ٹہل کر اپنی پریشانی کم کرنے کی ناکام کوشش کرنے میں مصروف تھے دوسری طرف ہسپتال کے باہر لوگوں کا جم و غفیر لگا ہوا تھا جانے کیسے یمان کی خرابی طبیعت کا سب کو پتا چل گیا تھا۔

ارمان میں نے تم سے کہا تھا یمان کی حالت کا کسی کو پتا نہ چلے تو باہر میڈیا کیا کررہی ہے۔دلاور خان نے کڑک لہجے میں ارمان نے کہا

سر ڈونٹ نو شاید اسٹوڈیو میں کسی نے یہ بات پھیلادی ہے۔ارمان نے کسی مجرم کی طرح بتایا

ڈیڈ رلیکس ابھی یہ وقت میڈیا کے بارے میں ڈسکس کرنے کا نہیں آپ یمان کا سوچے جانے کیا ہوا ہے اُس کو کیس حالت ہوگی اُس کی۔نور اُن کے پاس آتی آہستہ آواز میں بولی۔

اُسی کی تو پرواہ ہے پتا نہیں نیوز چینلز میں اب تک جانے کیا افواہیں پھیلادی گئ ہوگی ارمان تم ایک کام کرو باہر جاؤ اور اِن سب کو ہینڈل کرو اگر کسی بھی چینل پہ یمان کی خبر چل رہی ہو تو اُس کو رکوادو۔دلار خان بات کرتے اچانک ارمان سے مخاطب ہوئے تو ارمان نے سر کو جنبش دی اور ہسپتال سے باہر جانے لگا۔

۔…..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسی طبیعت ہے یمان کی وہ ٹھیک تو ہے نہ؟دلاور خان نے ڈاکٹر کو اے سی یو کے باہر نکلتا دیکھا تو پریشانی سے پوچھا۔

یمان مستقیم کو ہارٹ اٹیک آیا۔ڈاکٹر کی بات کسی بم کی طرح اُن کے سب کے سروں پہ گِری مسز دلاور گِرنے کو تھی جب پاس کھڑی نور نے جلدی سے اُن کو سہارا دیا۔

یہ کیسے ہوسکتا ہے یمان تو بلکل ٹھیک تھا اور ابھی اُس کی عمر ہی کیا ہے؟دلاور خان بہت دیر بعد بولنے کے قابل ہوئے۔

دیکھے میں آپ کی حالت کا اندازہ لگاسکتا ہوں پر یہی سچ ہے خون یمان مستقیم کے رگوں میں جم گیا ہے ہم نے صفائی تو کردی ہے پر کوشش کیجیے گا دوبارہ ایسا کجھ نہ ہو ورنہ ہمیں اُن کا بائے پاس کرنا ہوگا۔ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا چلاگیا۔

خان۔مسز دلاور نے ٹوٹے لہجے میں دلاور خان کو مخاطب کیا جو کسی مجسمے کی طرح کھڑے تھے۔

حوصلہ کرو زوبیہ۔دلاور خان اپنی حالت پہ قابو پائے بولے۔

میری وجہ سے ہوا ہے یہ سب نا میں اُس کو شادی پہ فورس کرتی نہ یہ سب ہوتا میں بہت بُری ہوں بہت بُری۔مسز دلاور اتنا کہتی زاروقطار رونے لگی تو دلاور خان نے اُن کو اپنے ساتھ لگایا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

جی تو ناضرین ہم آپ کو نئ خبر سے آگاہ کرتے چلتے ہیں کے پاکستان کے معروف گلوکار یمان مستقیم کو آیا

لالہ یہ ریڈیو بند کریں پلیز۔گاڑی میں بیٹھے شازل گانا چلانے والا تھا جب کوئی نیوز چینل شروع ہوا تبھی آروش بنا پورا سُنے شازل سے بول پڑی

اوکے اینڈ سوری۔شازل معذرت خواہ لہجے میں بولا

نو اِٹس اوکے پر ہم جا کہاں رہے ہیں؟آروش نے پوچھا

اسلام آباد۔شازل کے جواب پہ آروش کا دل دھڑک اُٹھا

وہاں کیوں ہم پاس میں ہی کسی ہسپتال چلتے ہیں۔آروش نے جلدی سے کہا

ہمارے گاؤں کے پاس تو جو قریب والا شہر ہے وہ اسلام آباد ہے اور میں چاہتا ہوں تمہاری طبیعت بلکل ٹھیک ہو دوسرا یہ کے ہم انجوائے کرے گے تم ایسے تو کہی باہر نہیں چلتی تمہارا موڈ بھی فریش ہوجائے گا۔شازل نے مسکراکر بیک مرر سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پہ آروش گہری سانس خارج کرتی آنکھوں کو بند کرگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ماضی!

آروش لائبریری میں موجود تھی جب اُس کو لگا پاس والی چیئر پہ کوئی بیٹھ گیا ہے پر وہ جان کر انجان بنی۔

اسلام علیکم!آواز سن کر اُس کو ایک منٹ نہیں لگا پہچاننے میں کے سامنے والا کون لوگا۔

وعلیکم اسلام۔آروش نے مروتً جواب دیا سلام نہ کرکے وہ گنہگار نہیں بننا چاہتی تھی۔

کیسی ہیں آپ؟دوسرے سوال پہ آروش نے دانت پہ دانت جمائے سُنا۔

ٹھیک۔آروش خود پہ کنٹرول کیے دیا پھر اچانک اُس کی نظر لائبریری کے دروازے پہ پڑی تو اُس کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ وہاں اُن کے گاؤں کا آدمی تھا جو یقیناً اُس کی جاسوسی کرنے آیا تھا۔

اللہ پوچھے آپ سے دادی۔آروش دل ہی دل میں خود کو بڑبڑاتی اُٹھ کھڑی ہوئی وہ نہیں چاہتی تھی کے کوئی اُس کو غلط سمجھے اِس لیے وہاں سے اُٹھنے میں ہی عافیت جانی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یمان سے کیا تمہاری بات ہوتی ہے؟رات کے وقت آروش سونے کی تیاریوں میں تھی جب اُس کی روم میٹ ہما جو کلاس میٹ بھی تھی پرشوق نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔

کون یمان؟آروش بنا کوئی خاص ری ایکٹ کیے ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔

ارے وہی یمان جو ہمارا کلاس فیلو ہے اور سب سے زیادہ ہینڈسم اُپر سے اُس کی آواز بھی بہت خوبصورت ہے لاسٹ ویک اُس نے گانا بھی گایا تھا۔ہما نے اُس کو یاد کروانا چاہا جس پہ آروش کی آنکھوں کے سامنے کیفے والا منظر لہرایا تو اپنا سرجھٹکا

نہیں میری کیوں بات ہوئی۔آروش نے سنجیدگی سے جواب دیا

اچھا پر وہ تو تم میں بہت دلچسپی لیتا ہے کلاس میں لیکچر کے بجائے اُس کا دھیان تمہاری طرف ہوتا ہے دوسری بات یہ کے جہاں تمہاری موجودگی کا گمان ہوتا ہے اُس کو وہ وہاں چلا آتا ہے جب تم کالج نہیں آتی تو وہ بے چارہ اُداس ہوجاتا ہے

اگر تمہاری بکواس ہوگئ ہو تو لائیٹ بند کردو مجھے نیند آرہی ہے۔آروش اُس کی بات درمیان میں کاٹتی ناگواری سے بول کر خود کے اُپر چادر تان گئ دوسری طرف ہما نے گھور کر اُس کو دیکھا تھا۔

پتا نہیں کیا چاہتا ہے یہ لڑکا؟کروٹ بدل کر آروش نے پریشانی سے سوچا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

ارسم پاکستان آگیا ہے شادی کرنا چاہتا ہے اب وہ۔فائزہ بیگم نے فجر کو بتایا

آپ کو کس نے بتایا؟فجر نے پوچھا

اُس کی سوتیلی ماں زکیہ کا فون آیا تھا جلد شادی کی تاریخ رکھنے آئے گے۔فائزہ بیگم نے بتایا

اچھا ٹھیک۔فجر جواب دیتی اُٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی جہاں اُس کا سیل فون رنگ کررہا تھا۔

یمان کا دوست عرفان مجھے کیوں کال کررہا ہے؟اسکرین پہ نمبر دیکھ کر وہ تعجب سے بڑبڑائی۔

ہیلو عرفان خیریت؟فجر نے کال اٹینڈ کرنے کے بعد پوچھا

جی آپی آپ کو ایک بات بتانی تھی یمان کے مطلق۔دوسری طرف عرفان نے کہا

کہو میں سن رہی ہوں۔فجر نے اجازت دی تو عرفان نے اپنی بات کا آغاز کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری شکل فجر کی شادی کا سن کر لٹکی ہوئی ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟عیشا یمان کے کمرے میں آتی پوچھنے لگی۔

ایسی کوئی بات نہیں میں ٹھیک ہوں۔یمان زبردستی مسکراہٹ سے بولا

یمان میرے بھائی کیا بات ہے سچ سچ بتاؤ سب کیا کوئی مسئلہ ہے کالج میں یا کوئی اور بات ہے۔عیشا اُس کا چہرہ اپنی طرح کرکے پوچھنے لگی۔

سچ میں کجھ نہیں آپ خوامخواہ پریشان ہورہی ہیں۔یمان تسلی آمیز لہجے میں کہا تبھی فجر زور سے دروازہ کھول کر کمرے میں آئی اُس کو ایسے آتا دیکھ کر فجر اور یمان دونوں کھڑے ہوگئے۔

دروازہ توڑنا ہے کیا؟فجر نے گھور کر اُس سے کہا جب کی فجر اُس کی بات نظرانداز کرتی یمان کے روبرو کھڑی ہوگئ۔

چٹاخ۔

ایک زوردار تھپڑ اُس نے یمان کے چہرے پہ ماردیا اُس کے عمل پہ عیشا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئ جب کی یمان اپنے گال پہ ہاتھ رکھتا سرجھکایا

پاگل ہوگئ ہو کیا فجر؟عیشا نے اُس کو جھڑکا

پہلے اِس سے پوچھو ہم نے اِس کو کالج کیوں بھیجا تھا۔فجر طنزیہ لہجے میں چیخ پڑی

یہ کیسا سوال ہے؟عیشا کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی۔

یمان یہ میں نے کیا سُنا ہے تم کالج میں کسی سیدذادی کے چکر میں ہو کہو یہ سب جھوٹ ہے تمہارا کسی بھی لڑکی کے ساتھ کوئی واسطہ کوئی تعلق نہیں۔فجر اُس کو بازوں سے پکڑتی جھنجھوڑ کر بولی۔

چھوڑو فجر بچہ ہے۔عیشا دونوں کے درمیان آتی بولی

بچہ۔فجر اُس کا لفظ دُھراتی تمسخرانہ انداز میں ہنسی

غلطی کردی اِس کو بچہ سمجھ کر کیونکہ اِس نے ثابت کردیا ہے یہ کوئی بچہ نہیں بلکہ بڑا ہوگیا ہے۔فجر نے تیز آواز میں کہا

آہستہ بولا امی سن لینگی تو کیا سمجھے گی۔عیشا نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا اِس بیچ یمان خاموش تماشائی بنارہا۔

تو سن لے اُن کو بھی تو آخر پتا چلے لاڈ صاحب نے کیا کیا ہے۔فجر غصے بھری نظروں سے یمان کو دیکھ کر بولی

بات کو گول مٹول کرنے سے اچھا یہ ہے کے تم وہ بات بتاؤ جو اصل ہے کس نے تم سے کیا کہا ہے جو پہلی بار یمان پہ ہاتھ اُٹھایا اور اِس انداز میں اُس سے بات کررہی ہو۔عیشا نے تحمل کا مظاہرہ کیے پوچھا

میں کیا بتاؤ اپنے بھائی سے پوچھو جو گونگا بہرا بنا کھڑا ہے۔فجر نے یمان کی جانب اِشارہ کیا۔

یمان تم کیوں خاموش ہو کیا بات ہے فجر کیا بول رہی ہے بتاؤ اِس میں کوئی صداقت نہیں۔عیشا نے نرمی سے یمان سے پوچھا

وہ مجھے پسند ہیں میں بہت چاہتا ہوں انہیں۔یمان نے بالآخر بتادیا۔اُس کی بات اُن دونوں کے سِروں پہ کسی بم کی طرح گِری عیشا کی آنکھوں میں بے یقینی اُبھری پر فجر نے نخوت سے سرجھٹکا۔

ہوش میں ہو تم۔عیشا ہوش میں آتی بولی

میں اپنے پورے ہوش وحواس میں اعتراف کرتا ہوں مجھے آروش شاہ سے بے انتہا محبت ہے۔یمان دھڑکتے دل کے ساتھ بولا

چٹاخ۔

فجر نے ایک اور تھپڑ اُس کے چہرے پہ جڑا پر اِس بار عیشا آگے نہیں آئی۔

یہ بات کہتے ہوئے تمہیں شرم سے ڈوب کر مرجانا چاہیے تھا۔فجر اُس کا گریبان پکڑ کر بولی

کیوں آپی کیا محبت کرنا گُناہ ہے؟یہ تو خودساختہ جذبہ ہے جو انسان کی دل میں خود ہی پیدا ہوجاتا ہے تو میں کیوں ڈوب کر مرجاتا۔یمان کا لہجہ عجیب تھا

یمان کیا ہوگیا ہے تمہیں مت کرو ایسی باتیں تمہیں ابھی بہت کجھ کرنا ہے یہ کیا تم پیار محبت کے چکر میں پڑرہے ہو۔عیشا اُس کے دونوں گالوں پہ ہاتھ رکھتی بولی

سچی میں نے کجھ نہیں کیا جو بھی ہوا ہے خودبخود ہوگیا ہے۔یمان اُس کے ہاتھ تھام کر بولا تو عیشا کے قدم لڑکھڑائے۔

شاہ خاندان کی ہے وہ تمہارا اور اُس کا کوئی جوڑ نہیں ساری زندگی رُل جاؤ گے پر وہ تمہاری کبھی نہیں ہوگی اِس لیے ابھی بھی وقت ہے اُس کو بھول جاؤ۔فجر نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا۔

آپی وہ میری رگوں میں خون کی مانند ڈورتی ہیں میں کیسے اُن سے دستبردار ہوجاؤں جو مجھے اب میرے جینے کی وجہ لگتی ہیں مجھے لگتا ہے اگر وہ مجھ سے یا میں اُن سے الگ ہوگیا تو میں اگلی سانس نہیں لے پاؤں گا آپ مجھے جان سے ماردے پر اُن کو بُھول جانے کے لیے نہ کہے۔یمان بے بسی کی انتہا چھوکر بولا

تمہیں ہماری بات سمجھ کیوں نہیں آرہی یمان وہ بہت بڑے اونچے خاندان کی ہے جان سے ماردے گے تمہیں پر اُس لڑکی کا بال تک نہیں دینگے۔فجر تنگ آتی بولی

مجھے نہیں پتا بس اتنا پتا ہے میں اُن سے محبت کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔یمان کے جواب پہ وہ بس اُس کو دیکھتی رہ گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *