Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 20)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 20)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
میری بیٹی کو اب تک ہوش کیوں نہیں آرہا؟شھباز شاہ سنجیدہ بھرے لہجے میں ڈاکٹر کے کیبن میں آکر استفسار کرنے لگے۔
تھوڑی دیر تک آجائے گا۔ڈاکٹر پروفیشن انداز میں بتانے لگی۔
کب تک؟شھباز شاہ نے پوچھا
ایک دو گھنٹے تک۔ڈاکٹر نے بتایا
صبح سے رات ہونے والی ہے اب بھی آپ ایک دو گھنٹہ بول رہی ہیں۔شھباز شاہ تیز آواز میں بولے
دیکھے اُن کا نروس بریک ڈاؤں ہوا تھا وہ زندہ ہے اِسی بات پہ فلحال آپ کو شکر گُزار ہونا چاہیے باقی اُن کو ہوش جلدی آجائے گا۔ڈاکٹر نے گہری سانس خارج کرکے کہا تو شھباز شاہ کجھ پرسکون ہوئے۔







کہاں ہم…؟؟
کہاں محبت…؟؟
جانے دیجئے…
رہنے دیجئے…!!
بس کیجئے…
یہ جو “ع” ہے…!!
یہ جو “ش” ہے…!!
یہ جو “ق” کرتا ہے…!!
یہ لاحق جِس کو ہو جائے…!!
اُسے برباد کرتا ہے…!!
ریاضی دان بھی حیران ہیں…!!
اِس بات پہ آ کر…!!
یہ کِس کُلیے کی نِسبت سے…!!
جُفت کو طاق کرتا ہے…؟؟
کیسا ہے وہ؟دلاور خان نے ڈاکٹر کو ایمرجنسی وارڈ سے باہر نکلتا دیکھا تو پوچھا
یہ پولیس کیس تھا پر ہم نے آپ کی وجہ سے اُن کو ایڈمٹ کرلیا ہے پر اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں کے وہ سروائیو کرپائے۔ڈاکٹر گہری سانس کھینچ کر بولے
آپ ڈاکٹر ہوکر ایسی نااُمیدوں والی باتیں کیوں کررہے ہیں؟دلاور خان کو اُن کی بات پسند نہیں آئی۔
ہم بس آپ کو پہلے سے ہر خبر کے لیے آگاہ کرنا چاہتے ہیں اُن کے سر پہ گہری چوٹیں آئی ہیں وہ ہم اگر نظرانداز کرے تو بتاتے چلے دل کے عین پاس سینے میں اُن کو گولی لگی ہے اگر تھوڑا نشانہ درست ثابت ہوتا گولی دل پہ لگتی تب تو وہ اُسی وقت مرجاتے ہیں لیکن بچاؤ ہوگیا پر زیادہ تر وہ زندہ نہیں رہ پائے گا سر میں لگی چوٹ کی وجہ سے وہ کومہ میں بھی جاسکتے ہیں پھر وہاں اُن کو ہوش آتا ہے یا نہیں یہ بعد کی باتیں ہیں۔ڈاکٹر کا انداز خاصا پروفیشنل تھا
آپ پلیز اُن کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں اُن کا آپریشن کرے تاکہ وہ جلد صحتیاب ہوجائے۔دلاور خان پریشانی سے بولے
جہاں تک ہمیں علم ہیں آپ میڈیا سے ہر وقت رابطے میں ہوتے ہیں آپ کا تو کوئی شاید بیٹا نہیں پھر یہ کون ہے؟ڈاکٹر نے جاننا چاہا
یہ میرا بیٹا ہے باہر رہتا تھا اب آیا تو ایسا حادثہ پیش آگیا۔دلاور خان کو نہیں تھا پتا وہ ایسا کیوں بول گئے پر یہ بات سچ تھی وہ بنا کسی رشتے کے یمان کے لیے فکرمند ہوگئے تھے۔
اوو افسوس ہوا سن کر ہم نے گولی تو خیر سے نکال دی ہے پر ابھی وہ خطرے سے باہر نہیں آپ دعا کریں کیونکہ اُن کو دعا کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ساری بات سننے کے بعد بولا۔
جی وہ ہم کرینگے۔دلاور خان نے کہا۔









ٹھاہ
یمان۔بیہوشی کی حالت میں بھی گُزرا ہوا واقع آنکھوں کے سامنے لہرایا تو آروش جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھ بیٹھی۔
آپ ریسٹ کریں۔پاس کھڑی نرس نے آہستہ سے کہا تو آروش ناسمجھی سے آس پاس نظر گھمانے لگی۔
میں کہاں ہوں۔آروش اپنا سر پکڑ کر بولی
آپ ہسپتال میں ہیں اور پلیز اپنے دماغ میں زیادہ زور مت ڈالے یہ آپ کے لیے ٹھیک نہیں۔نرس نے نرمی سے کہا
مجھے کیا ہوا تھا؟آروش نے پتھرائی نظروں سے اُس کو دیکھ کر دوسرا سوال کیا۔
نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا آپ کا خوشقسمت ہیں جو آپ بچ گئ ورنہ ایسی صورتحال میں یا انسان پاگل ہوجاتا ہے یا مرجاتا ہے۔نرس نے بتایا تو آروش کو شدید حیرانی کا جھٹکا لگا۔
ایسا کیسا ہوسکتا ہے۔وہ پریشانی سے بڑبڑائی
آپ لیٹے میں آپ کے فادر کو انفارم کردیتی ہوں کل سے انہوں نے سارا ہسپتال سر پہ اُٹھالیا ہے کے اُن کی بیٹی کو ہوش کیوں نہیں آرہا۔نرس اُس کو سونے کا اِشارہ کرتی خود باہر جانے لگی۔
میرے بابا سائیں سے کہے وہ اندر آئیں مجھے اُن سے بات کرنی ہے۔اپنے باپ کا سن کر آروش جذباتی ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا سائیں۔شھباز شاہ اُس کے کمرے میں آئے تو آروش نے روتے ہوئے اُن کا نام لیا۔
کیا ہوا میرے بچے روتے نہیں۔شھباز شاہ جلدی سے اُس تک پہنچ کر سینے سے لگایا۔
بابا سائیں لالہ والوں نے اُس معصوم کا ماردیا ہماری نظروں کے سامنے۔آروش اُن نے سینے میں چہرہ چُھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔آروش کی ایسی حالت دیکھ کر شھباز شاہ کو بے اختیار دلدار شاہ اور دیدار شاہ پہ غصہ آیا۔
بھول جاؤ۔شھباز شاہ اُس کے بال سنوارتے بولے
بھول جاؤ بابا سائیں کیسے بھول جاؤ اُن سب نے مل کر اُس بے چارے کو بے دردی سے مارا اور آپ کہہ رہے ہیں میں بھول جاؤ۔آروش اُن سے الگ ہوتی بے یقین نظروں سے اُن کا چہرہ دیکھنے لگی۔
اُس نے جو کیا تھا یہ اُس کی سزا تھی۔شھباز شاہ سنگدلی سے بولے
بابا سائیں۔آروش کے گلے سے آواز نکلنا بند ہوئی وہ بُت بنی اپنے باپ کا چہرہ دیکھنے لگی جو سپاٹ سرد تھا جیسے اُس کی باتوں سے اُن پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں آرام کرو تاکہ جلدی ٹھیک ہوجاؤ فضول باتوں کو سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔شھباز شاہ اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر بولے۔
وہ بے قصور تھا بابا سائیں۔آروش کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔
تمہاری اماں سائیں بھی آتی ہوگی انہیں کجھ مت بتائیے گا۔شھباز شاہ نے اُس کی بات نظرانداز کی۔
میں ہمیشہ اِس پچھتاوے میں زندگی نہیں گُزار سکتی کے کس کی جان میری وجہ سے گئ۔آروش ٹوٹے لہجے میں بولی
تمہاری وجہ سے کجھ نہیں ہوا۔شھباز شاہ نے کہا
میری وجہ سے ہوا ہے آپ پلیز مجھے اُس سے ملنے دے پتا نہیں کیسا ہوگا وہ کوئی اُس کو ہسپتال لیکر گیا بھی ہوگا یا نہیں۔آروش کسی خیال کے تحت یکدم منت کرنے لگی
آروش۔شھباز شاہ اب کی سخت ہوئے
وہ کمینہ تو مرگیا ہوگا اگر نہیں تو ہمیں مارنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔دلدار شاہ اچانک اندر داخل ہوتا آروش کی بات سن کر غصے سے بولا
پلیز اللہ کا واسطہ ہے اب تو آپ اُس کو چھوڑدے اُس کو کجھ مت کرئیے گا میں ہر بات مانوں گی آپ کو پر اُس کو مت مارے اللہ سے ڈرے کیا بِگاڑا ہے اُس نے سب میری غلطی ہے اُس کا کوئی قصور نہیں۔آروش دلدار شاہ کو دیکھتی رو کر التجا کرنے لگی اُس کی ایسی حالت پہ شھباز شاہ کا دل کٹ کے رہ گیا۔
ضد نہیں کرو۔شھباز شاہ نے کہا
چاچا سائیں آپ اب بھی اِسکے ساتھ نرمی سے پیش آرہے ہیں جب کی آپ کو پتا ہونا چاہیے غلطی آروش کی بھی ہے سزا کی حقدار وہ بھی ہے۔دلدار شاہ پھٹ پڑا
باہر جاؤ اور ہسپتال کے ڈیوز جمع کرواؤ۔شھباز شاہ نے سخت لہجے میں کہا تو دلدار شاہ ایک نفرت بھری نظر آروش پہ ڈال کر چلاگیا۔
بابا سائیں میری بات کا یقین کریں
سوجاؤ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔شھباز شاہ اُس کی بات بیچ میں کاٹ کر اُس کے اُپر چادر ٹھیک کرنے لگے۔






پتا نہیں میرا یمان کیسا ہوگا؟فائزہ بیگم اپنے آنسو صاف کرتی نم لہجے میں بولی
بابا نے ٹھیک نہیں کیا اتنی صبح کے وقت یوں غصے میں آکر یمان کو باہر جانے کا کہا جب کی وہ یہ بات جانتے تھے کے ان کو دھمکیاں دیتے تھے کجھ لوگ۔عیشا افسوس بھرے لہجے میں بولی۔
جب سے یمان گیا تھا اُن کا سک چین غائب ہوگیا تھا فجر نے اپنا حال بُرا کردیا تھا وہ مایوں میں تھی اُس کی شادی ہونے والی تھی پر اُس کا اکلوتہ بھائی نہیں تھا جانے کہاں چلا گیا تھا اب اُس پہ قرآن کا سایہ کرکے کون رخصت کرے گا یمان کا یوں گمشدہ ہوجانا سب کو پریشانی میں ڈال گیا تھا ارسم اپنی طرف سے اُس کو تلاش کررہا تھا پر ابھی تک کوئی سراخ نہیں ملا تھا فائزہ بیگم نے مستقیم صاحب سے بات کرنا ختم کردی تھی وہ اب بیمار رہنے لگی تھی ہر وقت بُرے برے خیالات آتے یمان کے مطلق جس وجہ سے انہوں نے کھانا پینا تک چھوڑدیا تھا۔
اماں پلیز یمان کو لادے۔فجر فائزہ بیگم کے گھٹنوں کے پاس بیٹھ کر التجا کرنے لگی۔
میں کہاں سے لاؤ میری بچی میرا اپنا دل اُس کے لیے تڑپ رہا ہے جانے کیسا ہوگا میرا بچہ کس حال میں ہوگا۔فائزہ بیگم کے کلیجے میں ہاتھ پڑا تھا۔
بچہ نہیں تھا سترہ اٹھارہ سال کا بالغ لڑکا تھا کرلیا ہوگا تلاش اپنے لیے اُس نے کوئی ٹھکانا۔مستقیم صاحب گھر میں اندر داخل ہوتے ہوئے سرد لہجے میں بولا
کیسے باپ ہیں آپ تھوڑی سی بھی فکر نہیں اپنے جوان بیٹے کی۔فائزہ بیگم کا دل دکھا۔
اُس جوان بیٹے کو خیال تھا اپنے بوڑھے ماں باپ اور جوان بہنوں کا۔مستقیم صاحب نے تیز آواز میں پوچھا
نادان تھا وہ اُس کو یوں گھر سے باہر کرنا ٹھیک نہیں تھا۔فجر نے آہستہ میں کہا
خود اپنی مرضی سے گیا تھا بھوت سوار تھا اُس کے سر پہ عشق کا۔مستقیم صاحب سر جھٹک کر بولے
آپ نے اُس کا گِٹار تک توڑ دیا آپ کو پتا ہے نہ اُس کے لیے گِٹار کتنا ضروری تھا۔عیشا نے نم لہجے میں باپ سے شکوہ کیا۔
اُس کو ہر چیز عزیز ہے سوائے ہمارے۔ مستقیم صاحب غصے سے کہہ کر چلے گئے۔فائزہ بیگم کی آس بھری نظریں داخلی دروازے پہ ٹِک سی گئ تھی۔تھوڑی سی بھی آہٹ ہوتی تو اُن کو لگتا یمان آگیا ہے پر ایسا کجھ نہیں ہوتا تھا جانے وہ کہاں اور کیوں چلاگیا تھا۔








کجھ عرصے بعد!
دلاور اِس بچے کو ابھی تک ہوش کیوں نہیں آرہا؟مسز دلاور مختلف مشینوں میں جکڑے چت بیڈ پہ لیٹے یمان کو دیکھتی دلاور خان سے پوچھنے لگی جو خود یمان کے ہوش میں آنے کے انتظار میں تھے۔
کومہ میں چلاگیا ہے دعا کرو بس جلدی سے اِس کو ہوش آجائے پتا نہیں کون ہے اِس کے گھروالے کتنے پریشان ہوگے اپنے بچے کے لیے۔دلاور خان نے کہا
کتنے بے رحم لوگ تھے جو اِس بچے کو مارا۔مسز دلاور افسوس سے بولی
بس شکر ہے اللہ کا اِس کی سانسیں چل رہی ہیں۔دلاور خان نے کہا
ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟مسز دلاور نے پوچھا
یہی کے سر پہ آئی گہری چوٹ نے اُس کے دماغ میں گہرا اثر چھوڑا ہے ہوش آ بھی جاتا ہے تو اِس نے وقت پہ پروپر میڈیسن لینی ہے ورنہ دماغ کی نس پھٹ بھی سکتی ہے۔دلاور خان نے بتایا
اور جو آپریشن ہوا تھا۔مسز دلاور نے پوچھا
جب یہ کومہ سے باہر آئے گا تب معلوم ہوگی اِس کی کنڈیشن ٹھیک سے شاید یہ لڑکا اپنی یاداشت بھول سکتا ہے یا اپنا ذہنی توازن ایک اور آپریشن ہوگا کیا پتا پھر سب کجھ ٹھیک ہوجائے۔دلاور خان نے اپنی معلومات کے حساب سے بتایا۔
جو بھی پر اب میں اِس کو کہی جانے نہیں دوں گی عجیب سے انسیت اور لگاؤ محسوس ہورہا ہے۔مسز دلاور آہستہ سے یمان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتی بولی تو دلاور خان محض اُن کی بات پہ سرہلاتے رہ گئے وہ جانتے تھے یمان چھوٹا تھا پر اتنا بھی نہیں کے وہ اپنے ماں باپ کو بھول کر کسی اور کے ساتھ رہنے لگ جاتا۔







اماں جان پلیز مجھے ایک مرتبہ ملنے کی اجازت دے میں مرجاؤں گی خدارا مجھ پہ رحم کریں۔
جب سے کلثوم بیگم اُس کے پاس ہسپتال آئی تھی یہ بات جانے وہ کتنی بار کہہ چُکی تھی پر کوئی بھی اُس کی فریاد سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔
آروش شرم کرو کیوں خود کو جہنمی بنارہی ہو نامحرم کے پیچھے تمہیں کیا اِس لیے شہر پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔کلثوم بیگم اُس کی ایک ہی رٹ پہ تنگ آکر بولی
آپ سب کو ہو کیا گیا ہے ایسا کجھ نہیں ہے وہ بے قصور تھا اُس کے ساتھ ایسا کیوں کیا آپ لوگوں نے۔آروش بھیگے چہرے سے اُن کو دیکھ کر بولی ایک سیکنڈ کے لیے بھی اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنا ختم نہیں ہوئے تھے یہ خیال اُس کو پل پل مار رہا تھا کے اُس کی وجہ سے کسی کے ساتھ اتنا بُرا ہوا تھا۔
مرگیا ہے وہ اب قبر میں ہوگا کیا کروں گی مل کر۔کلثوم بیگم نے اُس پہ دھماکا کیا۔
مرگیا؟آروش ساکت سی اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے لگی اُس کو اپنی سماعتوں پہ یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
یہ آپ کیا بول رہی ہیں ایسا کجھ نہیں ہے۔آروش نفی میں سرہلانے لگی۔
تمہیں کیا لگتا ہے جیسا حال اُس کا کیا گیا تھا وہ اب تک زندہ ہوگا؟۔کلثوم بیگم نے طنزیہ سوال کیا۔
میں قاتل ہوں
میں قاتل ہوں
میں ایک بے قصور انسان کی قاتل ہوں یااللہ یہ مجھ سے کیا ہوگیا میں نے قتل کردیا اُس کا اُس کے جذبات کا اُس کے احساسات کا مجھے بھی مرجانا چاہیے میں کیوں زندہ ہوں۔آروش پاگلوں کی طرح ہاتھ میں لگی ڈرپ کو کھینچنے لگی تو وہاں سے خون رسنے لگا پر وہ ہر چیز سے لاپرواہ اپنے بال نوچنے لگی۔کلثوم بیگم اُس کو رُکنے کی کوشش کرنے لگی پر آروش کو کسی چیز کا ہوش نہیں تھا اُس کے سر پہ جنون سوار ہوگیا تھا خود کو ختم کرنے کا جب آروش اُن کے کنٹرول میں نہ آئی تو کلثوم بیگم تیز آواز میں نرس اور ڈاکٹرز کو آوازیں لگانے لگی جو جلدی سے اندر آگئ تھیں۔
آپ سے ہم نے کہا تھا کوئی اسٹریس والی بات مت کیجیے گا کیوں اِن کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔دو نرسز آروش کو کنٹرول کرتی بیہوشی کا انجیکشن لگانے لگی تبھی اُن کو دیکھ کر لیڈی ڈاکٹر نے کلثوم بیگم سے کہا جن کا دل بھر آیا تھا اپنی بیٹی کا ایسا پاگل پن دیکھ کر اِس لیے وہ بنا کجھ کہے کمرے سے باہر چلی گئ۔
شاہ صاحب۔کلثوم بیگم کوریڈور میں آئی تو شھباز شاہ نظر آیا تبھی وہ اُن کے پاس آکر آواز دینی لگی۔
ہممم کیا ہوا۔شھباز شاہ نے پوچھا
وہ مرجائے گی آپ خدا کے واسطے کجھ کریں اُس کو ابھی دورہ پڑا تھا اگر ایسا رہا تو وہ پاگل ہوجائے گی۔کلثوم بھیگے لہجے میں کہتی اُن کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی۔
یہ سب دلدار اور دیدار شاہ کی وجہ سے ہوا ہے آج ہماری بیٹی اگر اِس حال میں ہے تو اُس سب کا ذمیدار وہ دونوں ہیں اگر ان کو یہ سب کرنا تھا تو خاموشی سے کرجاتے آروش کی نظروں کے سامنے کیوں کیا میں ان کو چھوڑوں گا نہیں بس آروش ایک دفع ٹھیک ہوجائے۔شھباز شاہ غصے سے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر بولے
یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا ہے آپ اُس لڑکے والوں کے پاس لیکر جائے آروش کو کیا پتا وہاں سے کوئی تسلی آمیز بات سن کر آروش ٹھیک ہوجائے وہ خود کو قاتل سمجھتی ہے یہی وجہ ہے جس وجہ سے وہ اپنا ہوش کھو بیٹھتی ہے۔کلثوم بیگم نے التجا کی
میں بتادوں گا آروش کو۔شھباز شاہ اُن کی بات سن کر بولے
وہ یقین نہیں کرے گی تب تک جب تک خود اپنے کانوں سے سن نہ لے۔کلثوم بیگم نے جلدی سے کہا
میں کرتا ہوں کجھ آروش کو گاؤں لیکر جانا ہے اور اُن سب سے حساب بھی لینا ہے جس وجہ سے میری بیٹی کا یہ حال ہوا ہے۔شھباز شاہ پرسوچ لہجے میں بولے تو کلثوم بیگم خاموش ہوگئ اُن کو فلحال آروش کی فکر تھی۔







آج فجر رخصت ہوکر ارسم کے گھر آئی تھی وہ بیڈ پہ بیٹھی انتظار تو ارسم کا کررہی تھی پر اُس کی سوچو کا محو یمان کی جانب تھا تبھی کلک کی آواز سے ارسم دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔
میں جانتا ہوں تم یمان کی وجہ سے پریشان ہو۔ارسم بیڈ پہ اُس کے سامنے بیٹھتا اُس کے ہاتھ تھام کر بولا
کیا مجھے پریشان نہیں ہونا چاہیے؟فجر اُس کی جانب دیکھ کر بولی
بلکل ہونا چاہیے تمہاری بھائی ہے میں نے تو بہت کوشش کی پر پتا نہیں وہ کہاں غائب ہوگیا۔ارسم گہری سانس کھینچ کر بولا
میری دعا ہے وہ جہاں بھی صحیح سلامت ہو۔فجر دعائیہ انداز میں بولی۔
وہ ٹھیک ہوگا اب اپنا موڈ ٹھیک کرو ہماری زندگی کا خوبصورت دن ہے آج۔ارسم اُس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اُپر کیے بولا تو فجر زبردستی مسکرائی۔
میں چینج کرلوں۔فجر نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ الگ کیے کہا
شیور۔ارسم نے مسکراکر کہا تو وہ اُٹھ کر واشروم کی جانب چلی گئ۔
دس منٹ بعد وہ واپس آئی تو کمرے میں اندھیرہ تھا وہ سمجھ گئ ارسم سوگیا ہوگا اِس لیے آہستہ قدم اُٹھاتی وہ بیڈ کی جانب آکر ایک سائیڈ پہ لیٹنے لگی۔
میں ایک بار پھر سے کوشش کروں گا یمان کا پتا لگوانے میں بس تم پریشان ہونا ختم کردو مجھے تم مسکراتی ہوئی اچھی لگتی ہو۔فجر کو لیٹے ابھی کجھ منٹس ہوئے تھے جب ارسم اُس کو اپنی جانب کرتا اُس کا سر اپنے سینے پہ رکھ کر محبت بھرے انداز میں بولا
آپ بہت اچھے ہیں مجھے نہیں تھا پتا میں جس سے شادی کرنے جارہی ہو وہ اتنا اچھا ہوگا اور میرا اتنا خیال کرے گا۔ارسم کی بات اُس کا لہجہ فجر کو سکون پہنچارہا تھا تبھی وہ دل میں آئی بات زبان پہ لائی
ہاہاہا میں جانتا تھا تمہارے خیالات کے بارے میں تبھی تو تم نے میرا پرپوزل ٹھکرادیا تھا۔ارسم اُس کی بات سن کر ہنس کر بولا
ہممم انکار کیا تھا کیونکہ آپ شادی شدہ تھے عمر میں بھی بڑے تھے اور ایک اہم بات یہ کے آپ کے بارے میں باتیں بھی کافی مشکوک سنتی تھی اِس لیے آپ کے لیے میرا دل نہیں مانتا تھا پر دیکھے اب آج ہماری شادی ہوگئ ہے۔فجر کھوئے انداز میں بولی تو ارسم نے عقیدت سے اُس کا ماتھا چوما۔
باقی باتوں کو سائیڈ پہ کرکے عمر کی بات کرتے ہیں تو اِس میں قصور تمہاری اماں کا ہے۔ارسم نے لب دانتو تلے دبائے۔
میری ماں کا قصور کیسا؟فجر ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔
وہ ایسے کے اگر وہ جلدی شادی کرتی تو تمہاری پیدائش بھی جلدی ایسے میں ہماری عمر میں گیپ نہ ہوتا۔ارسم نے شریر لہجے میں کہا۔
بہت بدتمیز ہیں آپ۔ساری بات سمجھ آنے کے بعد فجر نے اُس کے سینے پہ تھپڑ مارا
سو تو میں ہوں۔ارسم نے سر کو خم دیتے اپنے لیے یہ لقب قبول کیا۔
