Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Haal e Dil (Episode 58)Part 1

Haal e Dil by Rimsha Hussain

شازل آپ نے میری آنکھوں پہ ہاتھ کیوں رکھا ہے؟ ماہی پریشانی سے شازل سے بولی جو آج سارا دن حویلی میں نہیں تھا آنے کے بعد صرف اُس سے یہ کہا وہ تیار ہوجائے اور اب جانے وہ اُس کو کہاں لاتا اُس کے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ گیا تھا جس وجہ سے اُس کو کجھ نظر بھی نہیں آرہا تھا۔

سرپرائززززز۔ شازل اُس کی آنکھوں پہ سے اپنے ہاتھ ہٹاتا بولا تو ماہی بار بار اپنی آنکھوں کو جھپک کر کھول کر سامنے دیکھنے لگی جہاں دیوار پہ ایک بورڈ چسپاں تھا اور اُس بورڈ کے چاروں اطراف خوبصورت رنگ برنگی لائیٹس تھی جس پہ خوبصورت حرفوں سے لکھا تھا۔

Happy birthday my wife

Happy 1st anniversary

And Happy 2nd anniversary

Welcome baby

شازل یہ۔ اُس سے کجھ بولا نہیں گیا۔ ماہی ایک نظر بورڈ پہ ڈالنے کے بعد چاروں اطراف دیکھنے لگی جہاں غبارے اور پھولوں کے ساتھ ہال خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہال کے بیچوں بیچ ایک ٹیبل تھا جس میں ایک کے بجائے چار کیک تھے اور کجھ گفٹس کے پاکٹس تھے۔

مجھے نہیں تھا پتا چلا تمہاری سالگرہ کب آئی اور کب گئ۔ ایک اچھے شوہر ہونے کی حیثیت سے میرا فرض تھا تمہاری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو سیلیبریٹ کرنا جب کی سالگرہ کا دن تو تمہاری زندگی کا خاص دن تھا اور اب میرے لیے بھی ہے۔

ہمارا نکاح جن حالات میں ہوا تھا اُس کو کب ایک ماہ سے ایک سال ہوگیا مجھے پتا نہیں چلا تو اُس کو مناتا کیسے؟ ایسے ہی ہماری شادی کو ماشااللہ سے دو سال ہوگئے۔

پھر آتے ہیں ہمارے بچے کی جانب جو ہمارے لیے اللہ کی نعمت ہے اُس کے آنے کی خوشی تو پہلے ہی منانی چاہیے تھی تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی ہے اُس کو منانا چاہیے تھا دھوم دھام سے جب کی وہ بھی نہیں کرپایا مجھے افسوس تھا مگر جب تم نے یہ سب بیان کیا تو مجھے لگا۔ تمہارے لیے میں اِتنا تو ہی کرسکتا ہوں اِس لیے میں صبح سے یہاں تھا اپنے ڈیرے میں تیاری کی سوچا تمہیں سرپرائز دوں حویلی میں مجھے ٹھیک نہیں لگا اور یہاں تو کوئی آتا بھی نہیں تو مجھے یہ بیٹر آپشن لگا۔ شازل اُس کے گرد اپنا حصار بناتا نرم لہجے میں بولا تو ماہی کی آنکھوں میں نمی اُتری تھی۔

میں نے ویسے ہی کہا تھا شازل مگر یہ سب مجھے بہت اچھا لگا۔ ماہی خوشی سے چور لہجے میں کہا تو شازل نے اُس کا ماتھا چوما

مجھے پتا تھا تمہیں یہ سب پسند آئے گا اگر ہم اسلام آباد ہوتے تو میں یہ سب کسی اچھے سے ہوٹل میں ڈیکوریٹ کرتا مگر گاؤں میں تو مجھ سے بس یہ بورڈ اور لائیٹس وغیرہ ہوپائی۔ شازل نے کہا

یہ سب بہت ہے میں بتا ہی نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں۔ ماہی کا چہرہ دمک اُٹھا تھا۔

تم نے مجھ سے کبھی کجھ نہیں مانگا مگر میں چاہتا ہوں تم مجھ سے ہر چیز کی فرمائش کرو نخرے کرو میں شوہر ہوں تمہارا مجھ پہ تمہارے علاوہ کسی کا حق نہیں۔ شازل نے محبت بھرے لہجے میں اُس کو مان دیا تھا ماہی نے اپنی ٹھوڑی اُس کے سینے پہ ٹکائی۔

سوچ لے اگر میں ناز نخرے دیکھاؤں گی تو آپ کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔ماہی نے مسکراکر وارن کیا۔

منظور ہے مجھے یہ مسئلہ۔شازل بولا تو ماہی ہنس پڑی۔

آپ اتنے اچھے کیوں ہیں شازل؟ماہی اُس کے گال کھینچ کر بولی

اگر میں اچھا نہ ہوتا تو مجھے تمہاری جیسی گولوں مولوں معصوم عرف بے وفوق عرف کم عقل عرف نادان بیوی کیسے مل پاتی۔شازل اُس کے بھرے ہوئے گالوں کو زور سے دائیں بائیں ہلاتا شرارت سے بولا تو ماہی کا منہ گیا

میں بے وقوف نہیں۔ماہی نے لاڈ سے کہا

تم ہو ماہی۔شازل نے مسکراہٹ دبائی۔

اچھا کیک کاٹے یا یہ سب بس سجانے کے لیے ہیں۔ماہی نے بات کا رخ بدلا

بڑی چلاک ہو۔ شازل نے اُس کی بات بدلنے کے انداز پہ کہا

افکورس کیونکہ میں آپ کی بیوی ہوں۔ ماہی نے آنکھیں پٹپٹاکر معصوم شکل بنائے کہا تو شازل نفی میں سرہلانے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

زرفشاں زر نور زرگل پاکستان آگئ تھی وہ سب آروش سے ملنے کے بعد ہال میں بیٹھے ہوئے تھے ساتھ میں مروتً آروش بھی تھی مگر یمان اور زرگل کے خاص ملازم کی وجہ سے اُس نے چہرے پہ نقاب کیا ہوا تھا جو سب کو عجیب لگ رہا تھا سوائے یمان کے۔زرفشاں جو سب سے بڑی تھی اُس نے یمان کو مخاطب کیا

مان بہت وقت ہوگیا ہے تمہارا لائیو سونگ نہیں سُنا تو آج سُنادو۔ زرفشاں کی بات پہ یمان جو دلاور خان اور زوبیہ کے درمیان بھی بیٹھی آروش کو بار بار اپنے ہاتھ مسلتا دیکھ رہا تھا زر فشاں کی آواز پہ چونک کر اُس کو دیکھا جو اُس کو یمان کے بجائے “مان” نام سے مخاطب کرتی تھی۔

مان؟ یہ دینے میں کیا تکلیف ہو رہی تھی۔ آروش زرفشاں کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگی۔

گانا؟ یمان اُس کو دیکھ کر مسکرایا

ہاں گانا گِٹار بتادو میرا ملازم لے آئے گا تمہارے کمرے سے۔ اِس بار زرگل نے مسکراکر کہا۔

میرے کمرے میں جائے گا تو سامنے سے نظر آجائے گا۔ یمان نے کہا تو زرگل نے اپنے ملازم کو اِشارہ کیا تو وہ یمان کے کمرے میں گیا اور وہاں سے گِٹار اُٹھا لایا۔ آروش نے اُس کو گانا گانے کی تیاری کرتا دیکھا تو اُٹھ کر جانے لگی۔

آپ کہاں جارہی ہیں یقین جانے میں اتنا بُرا گانا نہیں گاتا۔ یمان نے اُس کو سب کے سامنے مخاطب کیا تو آروش اُس کی جرئت پہ سب کے سامنے گھور بھی نہیں پائی اور خاموشی سے واپس بیٹھ گئ کیونکہ وہ کسی کو شک نہیں دلوانا چاہتی تھی۔

میں جوس اور چپس کے پاکٹس لاتی ہوں۔ نور کو اچانک خیال آیا تو اُٹھ کر کچن میں چلی گئ۔ اُس کے جانے کے بعد سب اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے۔

یمان نے ایک مسکراتی نظر آروش پہ ڈالی اور گانا شروع کیا۔

کتابوں میں پڑھا تھا یہ خدا کو پیار

ہے پیارا کیا جو پیار ہم نے تو ہوا

دشمن جہاں سارا

ٹھکرا دیا میں نے

یہ جہاں لے آج تجھ کو چُنا۔۔۔۔۔۔۔۔

یمان نے ابھی اتنا ہی گایا تھا جب آروش نے وہاں سے جانا چاہا تو یمان بے نیازی کا مظاہرہ کرتا اچانک اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جہاں غصہ ہلکورے لے رہا تھا وہ اُس کے سامنے بے بس ہوتی صوفے پہ بیٹھ گئ۔

تیرا عشق ہے میری سلطنت

توں ہے ضد میری تو جنونیت

میں ہوں دل جلا مجھے تیری لت

توں ہے ضد میری تو جنونیت

آروش کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتا وہ آج ایک جذب سے گانا گارہا تھا جب کی آروش کا بس نہیں چل رہا تھا وہ یہاں سے اُٹھ کر کہی بھاگ جاتی آج دوسری بار اُس کو اپنا آپ بے بس سا لگ رہا تھا اس نے اپنی طرف سے کوشش تو بہت کی تھی یہاں سے اُٹھ کر چلی جائے پر یمان نے بنا کسی کو شک دلائے اُس کی کوششوں کو ناکام بنادیا تھا جس سے وہ دل ہی دل میں کلس کے رہ گئ تھی۔اُن دونوں کی حالت سے ہر کوئی بے نیاز سب بس یمان کے گانے کو انجوائے کررہے تھے۔

میں آیا ہوں تیرے در پہ تو اب جانا نہیں ہوگا

جیو گا یا مروں گا میں جو ہونا ہے یہی ہوگا

کہتا ہوں میں بے ساختہ سن لے یہ میرا خدا

تیرا عشق ہے میری سلطنت

توں ہے ضد میری تو جنونیت

میں ہوں دل جلا مجھے تیری لت

توں ہے ضد میری تو جنونیت

آروش کی اب سچ میں بس ہوئی تھی وہ سب سے نظر بچاتی اُپر کی طرف بڑھ رہی تھی جب یمان ایک بار پھر اچانک گِٹار کے ساتھ اُس کے سامنے کھڑا ہوگیا آروش کا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پہ پڑا اُس نے غصے سے یمان کو دیکھا۔ نقاب ہونے کی وجہ سے بھی وہ آروش کے چہرے کے تاثرات کا اندازہ لگاسکتا تھا اُس کے تپے ہوئے تاثرات کا سوچ کر اُس کے ہونٹوں پہ گہری مسکراہٹ آئی تھی جس کو دیکھ کر آروش کو مزید تاؤ آیا اب وہ بنا کسی کا لحاظ کیے ایک جھٹکے سے یمان کو سائیڈ پہ کرتی اندر کی طرف بڑھ گئ یمان کی نظروں سے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا جہاں پہلے آنکھوں میں چمک تھی وہاں نمی نے بسیرا کردیا تھا۔باقی سے نے بھی حیرت سے آروش کا ایسا ردعمل دیکھا تھا۔یمان بے تاثر نظروں سے وہاں دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی آروش گئ تھی کسی نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا یمان نے گردن موڑ کر دیکھا تو دلاور خان اُس کو ہی دیکھ رہے تھے۔

یہ کیا تھا یمان؟ دلاور خان نے سنجیدگی سے پوچھا تو ایک منٹ میں یمان نے فیصلہ کرلیا تھا وہ دلاور خان کو ساری سچائی بتادے گا۔

میں آپ کی بیٹی سے بہت پیار کرتا ہوں۔ یمان نے اُن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہا تو سب اپنی جگہ ساکت و جماد یمان کو دیکھنے لگے اُن میں سے کسی کو بھی یمان کی ایسی بات کی توقع نہیں تھی۔ جب کی دلاور خان کو اُس کا ایسا نڈر انداز دیکھ کر غصہ آیا تھا۔

چٹاخ

دلاور خان کا بے ساختہ ہاتھ اُٹھا تھا اور اُس کے گال پہ نشان چھوڑ گیا تھا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

یمان

یمان

یمان اٹھو۔

صبح کے بارہ بج گئے ہیں۔نور ایک گھنٹے سے کھڑی ہوتی یمان کو آواز پہ آواز دیئے جارہی تھی مگر یمان جیسے آج سالوں کی نیند پوری کررہا تھا جو ٹس سے مس نہیں ہوا تھا پھر اچانک سے وہ اُٹھ بیٹھا تو نور ایک قدم دور کھڑی ہوئی۔

کیا ہوگیا ہے؟ تم نے اپنا ہاتھ گال پہ کیوں رکھا ہے؟ نور ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی تو یمان خود حیران ہوتا پہلے اُس کو دیکھنے لگا پھر اپنے ہاتھ کو جو گال پہ تھا۔

آپ یہاں؟یمان شرمندہ ہوتا بس یہی پوچھ پایا وہ ابھی تک اپنے خواب کے زِیر اثر تھا۔

ہاں وہ زرفشاں زر نور زرگل آئی ہیں تمہارا انتظار کررہی ہیں تبھی سوچا تمہیں اُٹھادوں مگر تم شاید کوئی خواب دیکھ رہے تھے۔ نور اپنے آنے کا مقصد بتاتی غور سے اُس کو دیکھنے لگی۔

میری بچی کُچی زندگی تو بس خواب دیکھنے میں گُزرجانی ہے مگر حقیقت میں ہونا کجھ نہیں۔ نور کے سوال پہ یمان بڑبڑایا

کیا بول رہے ہو مجھے کجھ سُنائی نہیں دیا؟ نور نے اُس کو بڑبڑاتا دیکھا تو اپنا کان اُس کی طرف کیا

میں کہہ رہا تھا شکریہ مجھے جگانے کا ورنہ تو میں آج خود کو قبر میں اُتارنے کے بعد ہی اُٹھتا۔ ہڑبڑی میں یمان جانے کیا کہہ گیا احساس تب ہوا جب سب کجھ بول دیا۔

مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ نور فکرمندی ہوتی اُس کا ماتھا چھو کر ٹیمپریچر چیک کرنے لگی۔

میں ٹھیک ہوں آپ جائے میں فریش ہوکر آتا ہوں۔ یمان زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بولا

اوکے پر جلدی آنا وہ تینوں آروش سے پہلے تم سے ملنا چاہتی ہیں۔ نور اُس کو ہدایت دیتی کمرے سے باہر چلی گئ تو یمان گہری سانس خارج کرتا دوبارہ سے لیٹ گیا۔

دو بار وہ بھی تھپڑ مار چُکی ہیں۔ آپی نے بھی دو تین بار تھپڑ مار چُکی ہیں اُن کے بھائیوں نے بھی بہت بُرا حال کیا تھا اب اگر ایک تھپڑ ڈیڈ مارے گے تو کجھ نہیں ہوگا۔ یمان سب تھپڑوں کا حساب کرنے کے بعد خود کو ہمت دیتا فریش ہونے کے لیے واشروم کی جانب بڑھ گیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°

مان کیسے ہو؟ یمان تیار ہوتا باہر آیا تو زرفشاں زرگل زر نور اُس سے مل کر پوچھنے لگی۔ یمان پورے ہال میں نظریں پِھرانے لگا جہاں آروش نہیں تھی اور نہ اُس کو تھپڑ مارنے کے لیے دلاور خان۔

میں ٹھیک آپ بتائے فلائیٹ کیسی رہی؟ یمان نے مسکراکر پوچھا

بہت تھکادینے والی۔ جواب زرگل نے دیا تھا

ناشتہ کیا آپ لوگوں نے اور کب پہنچی ہیں یہاں؟ یمان نے تینوں کو دیکھ کر پوچھا

صبح کے پانچ بجے ناشتہ وغیرہ کردیا ہے آتے ہی ہم سوگئے تھے۔ زرنور نے ہنس کر کہا تو یمان محض مُسکرادیا

موم ڈیڈ کب آرہے ہیں۔ زرگل نے زوبیہ بیگم سے پوچھا

کل اور پڑسو تم سب کے لیے سرپرائز ہے۔ زوبیہ بیگم نے مسکراکر کہا

کونسا سرپرائز؟یمان ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگا

اگر بتادیا تو سرپرائز کیسا؟ زوبیہ بیگم نے کہا تو یمان بس مسکرادیا۔

ہم ذرہ اپنی بہن سے تو مل آئے۔ زر نور نے کہا تو باقی سب بھی اُٹھ کھڑے ہوئے۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

تم سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا جب سے پتا چلا تم یہاں آچُکی ہوں پھر تو ہم بے صبرے ہوگئے تھے پاکستان آنے کے لیے۔ زرگل نے مسکراکر آروش سے کہا جو حیرت سے اُن سب کو دیکھ رہی تھی۔ان تینوں کا نور نے تعارف کروالیا تھا مگر آروش کی حیرانگی ختم ہونے نام نہیں لے رہی تھی کہاں اُس کو حویلی میں اپنے اکلوتی بیٹی ہونے پہ فخر ہوتا تھا اور اب یہاں بن مانگے بیٹھے بیٹھائے اچانک سے اللہ نے اُس کو چار بہنوں سے نواز دیا تھا۔

مجھے اِنہوں نے بتایا تھا آپ لوگوں کے آنے کا۔ آروش نے نور کی طرف اِشارہ کیے بتایا

ہاں اِس کو ہم نے منع کیا تھا کسی کو بھی نہ بتائے تمہیں سرپرائز دینے کا سوچا تھا مگر اِس نے سارا مزہ خراب کردیا۔ زرنور ہلکہ سا تھپڑ نور کو مار کر بولی تو وہ اُن کی نوک جھونک پہ مسکرا پڑی۔

آروش بی بی گاؤں سے آپ کے لیے کجھ سامان آیا ہے۔وہ سب آپس میں بیٹھے ہوئے تھے جب رشیدہ نے اُس کو بتایا

گاؤں سے؟گاؤں لفظ پہ آروش کا دل خوشی سے اُچھل پڑا۔

جی۔رشیدہ نے ابھی اتنا کہا تھا جب آروش بنا پیروں میں چپل پہنے باہر کو بھاگی۔

زرفشاں زرنور زرگل اور نور حیرت سے اُس کو بھاگتا دیکھنے لگے۔

اِتنی خوشی تو ہم سے ملنے پہ بھی نہیں ہوئی تھی جو گاؤں کے سامان کا سن کر اُس کے چہرے پہ آئی ہے۔زرگل منہ بنا کر بولی

آروش نے اپنی زندگی کا ایک حصہ گاؤں میں گُزارا ہے تو اُس کے نام پہ خوش ہونا ایک فطری عمل ہے ہمیں اُس کو سمجھنا چاہیے ہم چاہے رشتے میں اُس کی بہنیں ہیں مگر اصلی رشتہ تو اُس کا کسی اور کے ساتھ جڑا ہے یوں سمجھوں ہم اُس کے اپنے ہوکر بھی غیر ہے جب کی وہ غیر ہوکر بھی اُس کے اپنے ہیں۔ہم سے آروش کا بس خون کا رشتہ ہے جب کی گاؤں والوں کے ساتھ احساس اور محبت گہرا رشتہ ہے چوبیس سے پچیس سال اُس نے وہاں گُزارا ہے یہ کوئی عام بات نہیں۔زرگل کی بات پہ نور نے ہلکی مسکرائٹ سے کہا

جو بھی پر خونی رشتوں میں کشش ہوتی ہے۔زر فشاں نے کہا

آہستہ آہستہ اُس کو کشش محسوس ہونے لگے گی اگر ہم اُس کو ویسا ہی پیار اور توجہ دینگے تو۔نور نے کہا

اچھا ابھی آؤ نیچے چل کر دیکھتے ہیں کیا سامان آیا ہے اُس کے لیے۔زونور اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن سب سے بولی

ہاں چلو۔زرگل فورن سے بولی۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

آروش بیٹا یہ سب کیا ہے؟ زوبیہ بیگم حیرت سے آروش کو بولی جو خاصی پرجوش تھی بیگ کھول رہی تھی۔

یہ قرآن پاک ہیں اور یہ جائے نماز شال نماز کا ڈوپٹہ تسبیح۔اُس کے ساتھ کجھ میرے دیگر ضرورت کے سامان جیسے سیل فون لیپ ٹاپ اور میری ڈائری ہلکی پُھلکی چیزیں وغیرہ۔ آروش نے مسکراکر بتایا

تم نے اُن کو تکلف کیوں دیا ہمیں بتادی یہ سب سامان آجاتا یہاں۔ زوبیہ بیگم کو بُرا لگا

جائے نماز اور قرآن میں نے یہاں ہر ایک کو بار بار کہا تھا جواب میں بس ہاں کہہ کر ہر کوئی چلاجاتا جب کی لالہ والوں سے میں نے نہیں کہا تھا ایک سرسری سا ذکر کیا تھا جس پہ انہوں نے یہ سب سامان بُھجوایا ہے۔ آروش کی مسکرائٹ پھیکی ہوئی تھی۔

اچھا تو یہ کپڑے اور جوتیں ہیئر برش گفٹس کا سامان کیوں ہیں؟زرگل والے جو ابھی نیچے آئے تھے اُن میں سے زر فشاں نے کہا

یہ سب جوڑے نئے ہیں بابا سائیں اماں سائیں دُرید لالہ شازل لالہ نے عید پہ دیئے تھے مگر کبھی پہننے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اور رہی بات جوتوں کی تو اُن کو پتا ہے میری پسند کا جب کی جو آپ میرے لیے لائی تھی وہ ہیلز والے تھے مجھے اُن پہ چلنا تک نہیں آرہا تھا ہیئر برش اِس لیے اُنہوں نے بھیجا کیونکہ یہ برش میرا فیورٹ ہے میں ہمیشہ اِس برش سے بالوں میں کنگی کرتی ہوں جب کی گفٹس انہوں نے اپنی طرف سے بھیجے ہیں۔ آروش نے ہر چیز کی وضاحت دی اُس کا دل بُری طرح سے ہر چیز پہ اچاٹ ہوگیا تھا۔

سیڑھیوں کی ریلنگ کے پاس کھڑا یمان یہ سب خاموشی سے دیکھ رہا تھا آروش کو اپنے خریدے ہوئے ڈریس میں دیکھ کر اُس کے اندر گُدگُدی ہوئی تھی مگر اب جب نے اُس کو کٹہرے پہ کھڑا پایا تھا تو یمان بس چپ کھڑا اُن کو دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا آروش کو اپنے لیے لڑنا آتا ہے مگر اُس کو تعجب زوبیہ بیگم پہ ہورہا تھا جو اُس سے عجیب وغریب قسم کے سوال اور اعتراض اُٹھا رہی تھیں۔

اچھا کوئی بات نہیں تم اندر جاؤ میں یہ سامان کسی ملازمہ کے ہاتھوں تمہارے کمرے میں بھجواتی ہوں۔نور نے اُس کی توجہ دوسری جانب کی تو وہ بنا کہے اپنے کمرے میں جانے لگی تو یمان اُس سے پہلے اپنے کمرے میں چلاگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *