Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 38)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 38)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
یمان کیا ہوگیا ہے؟لگتا ہے تمہاری آج طبیعت ٹھیک نہیں۔شازل نے اُس کو کھویا کھویا سا دیکھا تو باقاعدہ اُس کا ماتھا چھو کر بولا
م میں ٹھیی ٹھیک ہ ہوں آئے آپ دونوں کو ڈراپ کردیتا ہوں۔یمان اپنے ٹوٹتے دل کی کرچیاں سمیٹتا اُس سے بولا
تھینکس یار آرو تم بیک سیٹ پہ بیٹھ جاؤ۔شازل یمان کا شکریہ ادا کرتا آروش سے بول کر خود فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھا تھا جب کی آروش کے قدم جیسے زمین میں جکڑ سے گئے تھے ایک بار من میں خیال آیا شازل کو منع کردے لِفٹ لینے سے مگر پھر دوسرا خیال آیا کیا پتا یمان نے اُس کو نہ پہچانا ہو مگر کوئی اُس کو بتاتا یمان نے اُس کی آنکھوں سے عشق کیا تھا اُس کے پردہ کرنے کی ادا سے عشق کیا تھا اُس کی آواز سے عشق کیا تھا تو کیسے ممکن تھا وہ آج اُس کو نہ پہنچان پاتا اپنی طرف سے اُس نے تو اپنے خواب وخیال میں بھی نہیں سوچا تھا کے اُس کا سامنا کبھی دوبارہ یمان سے ہوگا وہ بھی اِس طرح سے وہ نظریں چُراتی آگے بھر کر بیک سیٹ پہ بیٹھنے لگی وہ یمان پہ خود پہ جمی نظروں سے خوب واقف تھی اُس کو اُلجھن ہو رہی تھی۔”یمان ساکت نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا جیسے بول رہا ہوں ایک ہی دل ہے کتنی بار توڑے گی؟
یمان پلیز آجاؤ اب۔شازل کی آواز پہ وہ ہوش میں آیا اُس کا دل اِس وقت شدت سے رونے کو چاہ رہا تھا ایک اُمید تھی اُس کے پاس کے وہ اپنی محبت کو پالے گا مگر آہستہ آہستہ اُس کو احساس ہورہا تھا یہ زندگی ہے یہاں ہر کسی کو سب کجھ نہیں ملتا خواہشات کبھی سب پوری نہیں ہوا کرتی کجھ ادھوری بن کر حسرتیں بن جاتی ہے۔”اپنی آنکھوں میں اُتر آتی نمی کو بار بار اندر کی جانب دھکیلتا وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا اسٹئرنگ پہ اُس کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی جس سے اُس کے ہاتھ کی رگیں تک نمایاں ہورہی تھی اُس کو اپنے ساتھ بیٹھے شازل سے نفرت محسوس ہورہی تھی رُقابت کا احساس شدت سے ہوا تھا۔
“لالہ اِس کو کیسے پہچانتے ہیں اگر لالہ کو سالوں پُرانہ واقع معلوم ہوا تو وہ مجھ سے نفرت کرنے لگے گیں اُن کی نظروں میں بھی میرے لیے حقارت ہوگی جیسے دلدار لالہ اور دیدار لالہ کی نظروں میں میرے لیے تھی یااللہ میں کیا کروں گی تب مجھے برداشت نہیں ہوگا اگر دُرید لالہ یا شازل لالہ مجھ سے نفرت کرنے لگے گے تو۔دوسری طرف آروش کو اپنی پریشانیوں نے آ گھیرا تھا اُس کو یمان کی نہیں بس اس بات کی پرواہ تھی اگر شازل کو ساری حقیقت کا پتا چل گیا تو کیا ہوگا۔
تھینکس اگین۔گاڑی رُکنے پہ شازل نے یمان سے کہا جس نے کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا جب کی آروش تیر کی تیزی سے گاڑی سے اُتر کر گھر کے اندر بڑھی تھی۔
شازل کے اُترنے کے بعد یمان ریش ڈرائیونگ کرتا لاہور جانے کے بجائے اپنے گھر کے راستے جانے لگا۔







ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔حریم لاؤنج میں آئی تو صدف بیگم نے مسکراکر اُس کی تعریف کی حریم نے تاسف سے اُن کے دوغلے پن کو دیکھا تھا اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کلثوم بیگم جو خود سُلجھی ہوئی صلحہ مزاج کی تھی اُن کی بہن ایسی بھی ہوسکتی ہے اُس کی شادی کو آج ایک ہفتہ ہوگیا تھا اور اِس بیچ وہ صدف بیگم کا یہ پیار بھرا انداز دیکھ رہی تھی اُس کو بس انتظار تھا کب وہ اپنے چہرے پہ لگا نقاب اُتارتی ہیں۔
شکریہ۔حریم نے جوابً کہا تبھی وہاں تابش بھی آکر بیٹھا۔
آج زمینوں سے جلدی واپس آگئے؟صدف بیگم نے اُس کو دیکھ کر پوچھا
جی بس۔تابش بس یہ بولا
آپ کے لیے پانی لاؤ؟حریم نے پوچھا
“اُس کو کوئی کام کرنے کا بھول کر بھی مت کہنا اُس کو اِن سب کی عادت نہیں۔”
حریم کی بات پہ تابش کے کانوں میں دُرید شاہ کی جُملے گونجے۔
مجھے ضرورت نہیں۔تابش اپنا سرجھٹک کر بولا
حریم تم حویلی جاؤ نہ بار بار وہاں سے فون آرہا ہے کے تم کیوں نہیں چکر لگارہی جاؤ اور اپنا سامان بھی لیکر آؤ۔صدف بیگم نے کہا
ہم فلحال وہاں نہیں جانا چاہتے دوسری بات میرا وہاں کوئی سامان نہیں۔حریم نے سنجیدگی سے کہا تو تابش نے اپنی ماں کو دیکھا
پیپرز وغیرہ تو ہوگے نہ؟صدف بیگم نے ڈھکے چُھپے لفظوں میں کہا
کونسے پیپرز؟حریم جان کر انجان بنی۔
تمہاری ماں کی جائداد اور تمہارے باپ کی جائداد کے پیپرز وہ تمہیں ملنے والی تھی نہ جب تم نے اٹھارہ سال کا ہوجانا تھا۔تابش ڈائریکٹ مدعے کی بات پہ آیا تو صدف بیگم نے گھور کر اُس کو دیکھا مگر تابش نظرانداز کرگیا۔
ہماری کوئی جائداد نہیں دُر لا نے ہمارا بہت خیال کیا تھا ہمیں اچھے اسکول کالجز میں پڑھی وہاں حویلی میں کھایا پیا اِس لیے ہمارا جو کجھ بھی تھا وہ ہم نے دُر لا کے نام کردیا تھا کیونکہ ہمیں اِن سب کی ضرورت نہیں تھی۔حریم نے اُن دونوں کے سروں پہ دھماکا کیا۔
ایسے کیسے ہوسکتا ہے تم ابھی اٹھارہ کی نہیں ہوئی تو کیسے ممکن ہے تم اپنی مرضی سے کسی کے نام کرو۔تابش غصے سے پاگل ہوا
آپ کیوں اتنا غصہ ہو رہے ہو ہماری چیز تھی ہماری مرضی ہم جس کو بھی دے اور آپ کو ایک بات بتادوں دُر لا نے وکالت کی ہوئی ہے کاغذات بنانا اور بنوانا اُن کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ہم نے اپنے سائن دے دیئے بس قانونی کارروائی رہتی ہے وہ بھی ہوجائے گی جلد۔حریم پرسکون لہجے میں بولی اُس نے سوچ لیا تھا اپنے باپ کی حلال کی کمائی وہ اِن لالچی لوگوں کو نہیں دے گی بلکہ کسی دارلامان میں دے گی کم سے کم اُس کو ثواب تو ملے گا۔
حریم تمہاری کسی بھی چیز پہ درید شاہ کا کوئی حق نہیں اور کس وکالت کی بات کررہی ہو تمہیں نہیں پتا دُرید کے پاس کوئی ڈگری نہیں اُس نے جانے کس ردی کے سامان میں پھینک دی تھی۔اِس بار صدف بیگم نے کہا تو حریم کے چہرے پہ زخمی مسکراہٹ نے احاطہ کیا اب وہ اُن کو کیا بتاتی وہ دُرید شاہ کے قدموں کی دھول تک کو سنبھالتی تھی پھر کیسے ممکن تھا وہ دُرید شاہ کی اتنی قیمتی چیز کو کسی ردی کے سامان کے نظر کرتی.
ہم نے تو اپنا سب کجھ اُن کے نام کردیا نہ پھر چاہے اُن کا حق تھا یا نہیں۔حریم کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی
اِس کو کسی سائکاٹرسٹ کو دیکھائے زیادہ نہیں تو اِس کا ہم کہنا تو بند ہو ۔تابش طیش کے عالم میں اُٹھ کر کہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے باہر چلاگیا۔
حریم تم حویلی جاؤ گی اور درید سے کہو گی تم اپنا سب کجھ تابش کے نام کرنا چاہتی ہو کیونکہ وہ تمہارا شوہر ہے تمہاری ہر چیز پہ بس اُس کا حق ہے۔صدف بیگم نے کجھ سخت لہجہ اختیار کیا۔
پھر تو تابش کو بھی اپنا سب کجھ ہمارے نام کردینا چاہیے کیونکہ ہم اُنکی بیوی ہیں ان کی ہر چیز پہ ہمارا برابر کا حق ہے۔حریم دوبدو بولی
حریم تمہیں کسی نے سِکھایا نہیں سسرال میں کیسے رہا کرتے ہیں اِس قدر زبان درازی کرنے کا مطلب سمجھتی ہو تم کیسے سمجھتی ماں ہوتی تو اخلاقیات کا درس بھی دیتی۔صدف بیگم کے لفظوں نے اُس کے دل پہ وار کیا تھا۔
ہماری ماں چاہے نہیں پر تابش کی تو ہیں اُن کو کونسا اخلاقیات کا درس حاصل ہے
حریم
چٹاخ
حریم کی اِس قدر بدتمیزی پہ صدف بیگم اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کے گال پہ تھپڑ دے مارا تو”حریم کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے محسوس ہوئے اُس نے ساکت نظروں سے صدف بیگم کو دیکھا جو خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھیں۔
اَسْتَغْفِرُاللّٰه اللہ معاف کرے اِتنی بداخلاق ہو تم اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو میں کبھی تمہیں اپنے گھر کی بہو نہ بناتی تابش کو کہتی ہوں تمہیں لگام دے کر رکھے ورنہ کل کو تو تم ہمارے سروں پہ ناچوں گی۔صدف بیگم کانوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی۔
ہم کوئی گائے بھینس بکری نہیں جس کو آپ لگام دینے کی بات کررہی ہیں ایک جیتی جاگتی انسان ہیں اور آپ ہم سے اخلاق کی اُمید کیسے لگاسکتی ہیں جس کا شوہر اُس کی شادی کی پہلی رات سے اُس کو باور کروادیتا ہے کے اُس نے شادی محض جائداد کی وجہ سے کی ہے۔حریم اُن کی بات سن کر چیخ پڑی۔
مزاق کیا ہوگا۔اب کی صدف سٹپٹاتی نظریں چُراکر بولی۔
بےوقوف نہیں جو مزاق اور حقیقت کو سمجھ نہ پائے۔حریم طنزیہ لہجے میں بولی۔
اچھا اب بس اپنے کمرے میں جاؤ سسرال کے طور طریقے میں تمہیں اچھے سے سکھایا کروں گی لڑکیوں کو ایسے نہیں برتاؤ کرنا ہوتا سسرال میں ہر قدم پھونک پھونک کر اُٹھایا جاتا ہے اگر تم اپنا گھر بچانا چاہتی ہو تو جیسا میں کہو گی ویسا کرنا ہوگا تمہیں۔صدف بیگم حکیمہ لہجے میں بولی تو حریم بنا کجھ کہے اپنے کمرے میں چلی گئ۔
ضرورت کیا تھی تابش کو ابھی سے سب بتانے کی پیار کا ناٹک کرکے سب کجھ اپنے نام کروادیتا۔حریم کے جانے کے بعد وہ پریشانی سے بڑبڑائی۔








حریم سے بات ہوتی ہے آپ کی؟دُرید کلثوم بیگم کے کمرے میں آتا اُن سے بولا جو قرآن پاک کی تلاوت کرنے میں مصروف تھی۔
ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے حریم تو جیسے ہم سب کو بھول چُکی ہے یہاں آنا تو دور کال پہ بات تک نہیں کرتی۔کلثوم بیگم قرآن پاک کو سینے سے لگاتی اُٹھ کر اپنی جگہ پہ رکھ کر بولی۔”کلثو بیگم کی بات سن کر دُرید کے ماتھے پہ پریشانی کی لکیریں نمایاں ہوئی۔
آپ وہاں جائے حریم کے پاس جانے وہ کیسی ہوگی۔دُرید کے لہجے میں فکرمندی تھی۔
یہاں حویلی میں بہت کام ہوتے ہیں فرصت نہیں ملتی میں صدف سے کہوں گی حریم کو یہاں لے آئے۔کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے کہا
میں جاؤں اُس سے ملنے؟دُرید کجھ سوچ کر بولا
تمہارا جانا معیوب سمجھا جائے گا مانا کے تم نے اُس کا بچپن سے بہت خیال کیا مگر اب وہ شادی شدہ ہے تمہارا اُس کے لیے یوں فکرمند ہونا ملنا وغیرہ سب کو مشکوک لگے گا ویسے میں بھی نہیں چاہتی تم حریم سے ملو۔کلثوم بیگم نے سنجیدگی سے بولی
معیوب کسی کو سمجھنا چاہیے نہیں اور آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں کے میں اُس سے نہ ملو؟دُرید نے سوالیہ نظروں سے اُن کو دیکھ کر پوچھا
وجہ تو اچھے سے جانتے ہو تم حریم کو اُس کے سسرال میں قدم جمانے دو اگر تم ایسے ہی اُس سے ملتے رہے تو اُس کے قدم ڈگمگا جائے گیں اچھا اسی میں ہے وہ تمہیں بھول جائے۔کلثوم بیگم بنا لگی لپٹی کے بولی تو دُرید کی زبان کو جیسے قفل لگ گیا۔
حریم کی شادی ہوگئ ہے اِس کا یہ مطلب تو نہیں نہ کے میرا اُس پہ کوئی حق نہ رہا۔دُرید کجھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا
تمہارا کونسا حق حریم پہ نکلتا ہے؟کلثوم بیگم نے سوال اُٹھایا تو دُرید سمجھ نہیں پایا وہ اِس بات کا کیا جواب دے۔
کوئی نہیں نکلتا۔دُرید کو خوامخواہ چڑ ہونے لگی تو وہ اُن کے کمرے سے باہر چلاگیا۔









یمان گھر داخل ہوتا سیدھا اپنے کمرے میں گیا تھا اُس نے اپنے کمرے کی ساری چیزیوں کو تنہس نہس کردیا تھا۔
کیوں؟
کیوں؟
آخر میرے ساتھ ہی کیوں؟ڈریسنگ ٹیبل سے سارا سامان وہ نیچے پھینکتا خود سے جواب طلب ہوا آنکھیں خون چھلکانے کی حدتک لال ہوگئ تھی ہاتھ تک زخمی ہوگئ تھے مگر ایک یمان تھا جس کو کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا اُس کے سینے میں آگ لگی ہوئی تھی جو بُجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
گھر میں موجود ملازموں نے جب یمان کے کمرے سے شور سُنا تو دلاور خان کا فون کرنے لگے۔
میں مر کیوں نہیں جاتا آخر کیوں مجھے اُن سے محبت ہوئی کیا اُن کی نظر میں میری محبت کی ذرہ قدر و قیمت نہیں۔کمرے کا حشر نشر کرنے کے بعد وہ نیچھے بیٹھ کر گھٹنے فولڈ کیے بیٹھ گیا اُس کو اپنا دل درد سے پھٹتا محسوس ہورہا تھا۔ہاتھ میں لگے زخم سے خ*ون رس کر فرش کو رنگین کررہا تھا یمان بے تاثر نظروں سے اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا جہاں کانچ چُھبا ہوا تھا اُس کے دل میں جانے کیا سمائی جو اپنے دوسرے ہاتھ اُس کانچ کو بے دردی سے اپنے ہاتھ سے نکالا جس سے جہاں اُس کو تکلیف محسوس ہونے کے بجائے عجیب سا سکون محسوس ہونے لگا وہ پاگل ہوتا جارہا تھا خود کو تکلیف میں دیکھ کر اُس کو تو سکون مل رہا تھا مگر دل کو بے سکونی نے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا۔کجھ دیر بعد دلاور خان بھی گھر پہنچ گئے تھے اُنہوں نے جب یمان کی حالت اور کمرے کا حال دیکھا تو ایسا لگا جیسے وہ کسی کبار خانے میں آ گئے ہو جہاں ہر طرف کانچ کی کرچیاں تھی ڈرسینگ ٹیبل کا سارا سامان نیچے اپنی حالت پہ ماتم کُناں تھا مگر جو بات ان کو تکلیف پہنچا رہی تھی وہ یمان کی حالت تھی جو بکھرے بال سرخ آنکھیں سمیت ٹوٹا سا بیٹھا تھا وہ جب شو میں گانا گاتا تو سب اُس کی فیم دیکھ کر اُس کو دُنیا کا خوشقسمت انسان کا نام دیتے جس کے پاس سب کجھ تھا پئسا دولت نام اپنی خود کی پہچان مگر کوئی یمان کی آج والی حالت دیکھتا تو انہیں پتا چلا کے اِس منزل تک پہنچنے کے لیے اُس نے کیا کجھ نہیں جھیلا تھا کس کس کو نہیں کھویا تھا باہر سے جتنا وہ مضبوط نظر آتا تھا اندر سے وہ اتنا ٹوٹا ہوا بکھرا سا تھا کہنے کو تو اُس کے پاس سب کجھ تھا مگر سچ بات تو یہ تھی اُس کے پاس کجھ بھی نہیں تھا۔ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو نظر آتا ہے ہم انسان دوسرے انسان کی ظاہری شخصیت دیکھ کر اُن سے ایمپریس ہوجاتے ہیں ان کو خوشقسمت قرار دیتے ہیں مگر ہم اُن کی اندرونی کیفیت سے یکسر انجان ہوتے ہیں۔
یمان میرے بیٹے یہ کیا حال اپنا بنالیا ہے اور تمہارا ہاتھ او مائی گوڈ یمان کیا تم پاگل ہوگئے ہو۔دلاور خان پریشانی سے اُس کی جانب آتے بولے مگر جب اُن کی نظر یمان کے ہاتھ پہ پڑی تو اُن کی فکر میں اضافہ ہوا انہوں تیز آواز میں ملازم سے فرسٹ ایڈ بوکس لانے کا کہا۔
کیا بات ہے یمان تمہیں تو دوبارہ سے آج لاہور جانا تھا نہ پھر یہ سب؟دلاور خان اُس کے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پوچھنے لگی۔
آج میں نے ان کو دیکھا جن کو دیکھنے کی دعا میری ہر سانس کرتی تھی۔یمان خالی خالی نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولا
کس کی بات کررہے ہو؟دلاور خان کو سمجھ نہیں آیا “جب کمرے میں ملازم داخل ہوا تو انہوں نے جلدی سے اُس کے ہاتھ سے فرسٹ ایڈ بوکس لیکر یمان کے زخ*م پہ مرہم لگانے لگے۔
جن سے میں پیار کرتا ہوں آپ کو پتا ہے انہوں نے شادی کرلی کیا میری یاد ان کو کبھی نہیں آئی میری محبت کی زرہ پرواہ نہیں انہیں۔یمان کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی جس کو اِس بار اُس نے اندر کی جانب دھکیلنا ضروری نہیں سمجھا۔
یہ تو ہونا تھا نہ یمان تم کیوں خود کو ایک سیراب کے پیچھے بھگاکر اذیت میں مبتلا کررہے ہو گُزرے واقعے کو سات سال سے زیادہ عرصہ ہونے والا ہے محبت تم نے اُس لڑکی سے کی تھی اُس نے نہیں پھر تمہیں کیوں ایسا لگا وہ تمہارے انتظار میں بیٹھی جوگن بن گئ ہوگی۔دلاور خان اُس کی ساری بات سمجھ کر گہری سانس بھر کر بولے۔
انہوں نے کیوں کیا ایسا؟یمان کی ایک ہی رٹ۔
تم نے جب مجھے اپنے ماضی سے آگاہ کیا تھا تو بتایا تھا نہ وہ شاہ خاندان سے ہے جہاں شادی اُن کے اپنوں میں ہوتی ہے خاندان سے باہر نہیں تو جب سارا کجھ تمہیں پتا ہے تو ان سب کا کیا فائدہ۔دلاور خان نے کہا
مجھے ایک اُمید تھی ان کے ملنے کی مگر آج مجھے یہاں بہت تکلیف ہو رہی ہے۔یمان نے اپنے دل کے مقام پہ ہاتھ رکھ کر بے بسی سے بتایا تو دلاور خان کو اُس پہ ترس آنے لگا جس نے خود پہ خوشیاں حرام کی ہوئی تھی۔
وہ مجھے کیوں نہیں مل سکتی؟یمان اپنی سرخ آنکھوں سے ان کو دیکھ کر بولا
کجھ چیزیں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی۔دلاور خان سمجھانے والے انداز میں بولے
محبت کو پانا ہی اختیار سے باہر کیوں ہوتا ہے؟میرا دل آج چاہ رہا تھا میں اُس انسان کا ق*ت*ل کردوں اُس کے خوبصورت چہرے کا نقشہ بگاڑدوں میں ایسا کر بھی دیتا اگر گاڑی میں وہ نہ بیٹھی ہوتی تو میں گاڑی کہی ٹھوک دیتا۔یمان کی نظروں کے سامنے شازل کا عکس لہرایا تو اُس کو نئے سِرے سے تکلیف ہونے لگی۔
ایسا نہیں بولتے خود کو سنبھالوں یمان اور اُس کو بھول جاؤ۔دلاور خان اُس کے اِرادے جان کر اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولے انہیں لگ رہا تھا یمان اپنے ہوش میں نہیں تبھی تبھی ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے مگر اُن کو شاید پتا نہیں تھا یمان کی نظر میں اب مار پیٹ عام سی بات تھی۔
میرے بس میں نہیں میرا سانس رُکنے لگتا ہے اگر ایسا سوچتا بھی ہوں تو۔یمان اُن کے سینے لگتا اپنی دل کی حالت بتانے لگا۔
تمہیں اُس کی آنکھوں سے عشق تھا نہ تو بس میں اُس آنکھوں والی کوئی لڑکی تمہارے لیے تلاش کرتا ہوں۔دلاور خان نے اُس کا دھیان بٹانے کے غرض سے مزاحیہ انداز میں بولے
مجھے بس وہ چاہیے۔یمان زخمی انداز اپناتا بولا
اور کوئی نہیں آئے گا ہمارے دل پہ
ختم کردی محبت ہم نے ایک پہ










آروش نماز پڑھ کر اللہ سے اپنے لیے بہتری کی دعا مانگنے کے بعد ابھی بیٹھی ہی تھی جب ماہی دروازہ نوک کرتی اُس کے کمرے میں آئی۔
ڈنر تیار ہے آجاؤ میں نے سب تمہاری پسند کا بنایا ہے۔ماہی نے مسکراکر پرجوش آواز میں بتایا
میری پسند کا؟تمہیں کیسے معلوم؟آروش کو شازل سے ہوئی بات یاد نہیں تھی۔
شازل نے بتایا تھا ایک دن تو مجھے یاد تھا اِس لیے سوچا آج بنادوں۔ماہی نے بتایا تو آروش سراثبات میں ہلاتی اُس کے ساتھ نیچے آئی۔
تم بیٹھو کھانا شروع کرو میں تب پانی کا جگ لاتی ہوں شازل بھی تب تک آجائے گے۔ماہی اُس سے کہتی خود کچن کی طرف بڑھ گئ۔
آروش نے گہری سانس بھر کر ایک ڈونگے کا ڈھکن اُٹھایا تو اُس کو حیرت ہوئی کیونکہ ڈھکن ہٹانے سے اُس کو نظر آئی گرم گرم بھنڈیا جو ڈونگے میں رکھی ہوئی تھی اُس کو لگا شاید ماہی کو پسند ہو یہ سبزی تبھی اُس نے اپنا ہاتھ دوسرے ڈونگے کی جانب کیا تو وہاں کریلے پڑے ہوئے تھے جس کو دیکھ کر کھائے بنا اُس کی زبان کڑوی ہوگئ تبھی وہاں ماہی بھی آگئ۔
کیا ہوا تم نے کھانا شروع نہیں کیا ابھی تک؟ماہی نے اُس کے سامنے کوئی پلیٹ نہ دیکھی تو تعجب سے پوچھا
یہ سب؟آروش نے تیبل پہ موجود لوازمات کی جانب اِشارہ کیا جیسے کہنا چاہ رہی ہو تم نے تو کہا تھا سب تمہاری پسند کا ہے۔
بھنڈیاں اور کریلے تمہارے موسٹ فیورٹ ہیں نہ شازل نے بتایا تھا بچپن میں تم دونوں کی بہت لڑائی ہوا کرتی تھی کے کون زیادہ کھاتا ہے اور کون کم کبھی کبھی تو آپ دونوں مقابلہ کرتے تھے رائٹ اور دونوں جیت بھی جاتے تھے۔ماہی کو آروش کا ایسے پوچھنا سمجھ نہیں آیا تبھی پرجوش آواز میں بتایا اُس کی بات پہ آروش یاد کرنے لگی اُس نے کب یہ دونوں سبزیاں کھائی تھی۔
ارے واہ میرے بغیر کھانا شروع کردیا۔شازل وہاں آتا مصنوعی افسوس سے بولا مگر نظر جیسے ہی سامنے پڑی تو آنکھوں میں حیرت در آئی اُس نے بے ساختہ تھوک نگلا۔
ابھی کہا میں آپ کا ویٹ کررہی تھی سوچا بچپن کی یادیں تازہ کردی جائے ایک ساتھ بھنڈیاں کھاکر۔آروش بھنڈیوں کی پلیٹ شازل کے سامنے کرتی ہوئی بولی تو شازل نے ماہی کو دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی پھر آروش کو دیکھا جو اپنی ایک آئبرو اُپر کرتی اُس کو دیکھ کر ایسے جتارہی تھی جیسے کہنا چاہ رہی ہو میری پسند کا تو مجھ سے زیادہ آپ کو پتا ہے۔دونوں کو ایسے تاثرات دیکھ کر شازل کو اپنا آپ بیوی اور بہن کے درمیان بُری طرح سے پھنستا محسوس ہورہا تھا۔
