Haal e Dil by Rimsha Hussain NovelR50524 Haal e Dil (Episode 68)
Rate this Novel
Haal e Dil (Episode 68)
Haal e Dil by Rimsha Hussain
وہ کہاں ہیں؟
جب وہ سب باری باری یمان سے ملنے آئے تو یمان نے چھوٹتے ہی یہ سوال کیا تھا اُس کے لہجے میں بے چینی صاف چھلک رہی تھی۔
“اُس کے بھائی وغیرہ آئے تو اُن کے ساتھ ہے تم یہ بتاؤ کیسا محسوس کررہے ہو؟زوبیہ بیگم نے مسکراکر بتانے کے بعد پوچھا
“کیا اُن کو پتا ہے آپریشن کا اور مجھے ہوش آگیا ہے تو اُن کو یہاں آنا چاہیے تھا۔یمان نے جیسے اُن کی بات سُنی ہی نہیں تھی۔
“تو کیا ہوا آجائے گی تمہیں پتا ہے فجر اور عیشا دونوں آئی ہیں رو رو کر اُن کا بُرا حال ہوگیا ہے ناراض بھی ہیں شاید تم سے تم نے اُن کو اتنی بڑی بات جو نہیں بتائی شاید اِس وجہ سے ملنے بھی نہیں آئی۔زوبیہ بیگم نے اُس کی توجہ دوسری جانب گامزن کروانی چاہی
“میں اُن کو منالوں گا آپ یہ بتائے کیا وہ بھی مجھ سے ناراض ہیں اگر ہاں تو کیوں؟یمان نے بے چینی سے پوچھا تو زوبیہ بیگم نے ٹھنڈی سانس خارج کی۔
“تم روکو میں اُس کو کہتی ہوں تمہارے پاس اور پلیز یمان اپنے دماغ میں زیادہ دباؤ مت ڈالو۔زوبیہ بیگم نے ملتجی لہجے میں کہا” تو یمان نے محض سر کو خم دیا اُس کو بس بے چینی اور شدت سے آروش کو دیکھنے کی چاہ ہورہی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تم یہاں کیوں کھڑی ہو یمان کے پاس جاؤ اُس کو ضرورت ہے تمہاری۔دلاور خان نے آروش سے کہا جو ویٹنگ ایریا میں موجود تھی آروش کی تلاش میں زوبیہ بیگم بھی وہاں آگئ تھی۔
“آپ لوگوں کو یمان کی جان چاہیے تھی جس کی شرط میرا اور اُس کا نکاح تھا جو ہوگیا اب مجھ سے کسی اور بات کی توقع مت کیجئے۔آروش جس انداز میں بولی تھی زوبیہ بیگم اور دلاور خان حیران سے اُس کو دیکھنے لگا۔
اِس بات سے کیا مطلب ہوا تمہارا؟زوبیہ بیگم بازوں سے پکڑ کر اُس کو اپنی طرف کرتی بولی
“مطلب صاف ہے وہ اب ٹھیک ہے تو مجھے بلی کا بکرا بنانا بند کردے میں نے نکاح بس اِس وجہ سے کیا کیونکہ یمان آپریشن کے لیے مان نہیں رہا تھا ورنہ میں کبھی اُس سے نکاح نہ کرتی اب آپ خوش ہوجائے وہ سہی سلامت ہے۔آروش سنگدلی سے بولی
وہ وہاں تمہارے لیے تڑپ رہا ہے تمہاری آہٹ سُننے کو بے قرار ہے اور یہاں تم وہی ضد پکڑ کر بیٹھ گئ ہو۔زوبیہ بیگم نے سخت لہجے میں کہا
آپ کی بیٹی میں ہوں تو آپ کو میری طرف ہونا چاہیے نہ کے کسی اور کی طرفداری کرنا آپ کو زیب دیتا ہے۔آروش نے سنجیدگی سے کہا
آروش بیٹا کیا ہوگیا ہے ایسا کیوں کررہی ہو؟دلاور خان پریشان ہوئے۔
“میں کجھ وقت بابا سائیں کے پاس رہنا چاہتی ہوں بہتر ہوگا آپ یمان کو خلع کے پیپرز تیار کرواکر دے ورنہ شازل لالہ وکیل ہیں وہ خود سب ہینڈل کردینگے۔آروش کی اتنی بڑی بات پہ وہ دونوں ہکا بکا رہ گئے اُن کو سمجھ نہیں آیا یوں اچانک آروش کو ہو کیا گیا جو ایسی باتیں کررہی ہیں۔
ترس کھاؤ اُس پہ۔زوبیہ بیگم نے التجائیہ لہجے میں کہا
آپ لوگ مجھ پہ ترس کھائے مجھ سے وہ بات نہ منوائے جو میں ماننا ہی نہیں چاہتی۔آروش اِس بار ہاتھ جوڑ کر بولی تو فلوقت کے لیے دلاور خان اور زوبیہ بیگم نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔







آپ؟یمان جو شدت سے آروش کا انتظار کررہا تھا مگر آروش کے بجائے شازل کو کسی آدمی کے ساتھ دیکھا تو حیرانگی کا اظہار کیا وہ سِرے سے بھول چکا تھا کے وہ “آروش” کا بھائی ہے۔
تم تو یمان مستقیم ہو نہ جس نے حال میں ہی سِنگنگ کو خیرآباد کہا تھا؟شازل جو خود حیرت سے یمان کو دیکھ رہا تھا یمان کے پوچھے گئے سوال پہ وہ چپ تھا کے کیا جواب دے تبھی دُرید تنقیدی نظروں سے اُس کا جائزہ لیتا ہوا بولا
جی۔یمان بس یہی بولا
آروش کو تم پہلے سے جانتے تھے تو اب تک کہاں تھے؟اگر تمہیں واقع اُس سے پیار تھا تو حویلی کیوں نہیں آئے؟دُرید اسٹول کھینچ کر اُس پہ بیٹھ کر سنجیدگی سے یمان سے دوسرا سوال پوچھنے لگا تو شازل جو ایک حیرانگی سے باہر نہیں آیا تھا دوسری حیرانگی میں غوطہ زن ہوتا۔
اگر آتا تو کیا آپ لوگ اُن کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے؟یمان نے جواب کے بجائے اُلٹا اُس سے سوال داغا
ہم دیتے یا نہیں دیتے وہ بعد کی بات تھی تمہیں اپنی قسمت تو آزمانی چاہیے تھی نہ۔دُرید نے کہا
ہر طرح سے اپنی قسمت آزمائی تھی اور یقین جانے منہ کے بل گِرا تھا۔یمان کے جواب پہ دُرید چند پل خاموش رہا تھا۔
یہ کیا باتیں ہورہی ہیں؟اور یمان کیا تمہارا آرو سے نکاح ہوا ہے تم کیسے آرو کو جانتے ہو؟شازل نے ایک بعد ایک سوال پوچھا
جی میرا اور اُن کا نکاح ہوا ہے رہی بات کیسے جاننے کی تو وہ پُرانی بات ہے۔یمان نے ہلکی مسکراہٹ سے جواب دیا۔
تم واقع ہماری بہن کو چاہتے ہو یا بس ڈائیلاگ بازی کررہے ہو؟ دُرید نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا
ڈائیلاگ بازی کے لیے مرد گرل فرینڈ بناتا ہے پاک رشتہ قائم کرکے نکاح میں نہیں لیتا۔یمان کے جواب پہ دُرید لاجواب ہوا تھا۔
ایمپریسو مگر ہم اپنی طرف سے پوری تسلی کرکے آرو تمہارے حوالے کرینگے۔شازل کی بات پہ یمان کی پیشانی میں بل نمایاں ہوئے تھے۔
وہ میرے نکاح میں ہے۔یمان نے یاد کروایا
تو؟شازل نے آئبرو ریز کیے
تو یہ کے اب آپ میں سے کسی کی نہیں چلے گی۔یمان کی بات پہ شازل کا قہقہقہ بے ساختہ تھا۔
بیٹا جی بات یہ ہے کے آرو نے خود کہا ہے وہ ہمارے ساتھ حویلی چلے گی۔شازل اُس کے پاس آکر بولا تو یمان بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھا جیسے اُس کو یقین نہ آیا ہو دُرید نے غور سے اُس کی بدلتی رنگت کو دیکھا تھا۔
وہ کیوں چلے گی آپ لوگوں کے ساتھ؟یمان نے پوچھا
ہمارے ساتھ چلنے کے لیے اُس کو کسی وجہ کی ضرورت کا ہونا ضروری نہیں ۔شازل نے کندھے اُچکائے کہا۔
مجھے اُن سے بات کرنی ہے۔یمان نے کہا
ابھی تم اپنے سخت سسر سے بات کرنے کے لیے خود کو تیار کرو۔شازل نے مزے سے بتایا
سسُر؟یمان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا۔
ہاں سسُر آرو کے باپ شھباز شاہ سے۔شازل نے بتایا
پہلے آروش سے بات کرنا چاہتا ہوں۔یمان نے کسی اور بات پہ زیادہ توجہ نہ دی۔







عیشا تمہیں پتا ہے یمان کا نکاح کس لڑکی سے ہوا ہے؟فجر غصے سے عیشا سے بولی
کس سے ہوا ہے یمان کی وجہ سے اتنا پریشان تھی کے نکاح کا پوچھنا یاد ہی نہیں آیا ویسے روزی سے ہی ہوا ہوگا نکاح۔عیشا نے سر پہ ہاتھ مار کر کہا
اُس آروش سے جس سے یمان کالج لائیف میں پیار کرتا تھا۔فجر نخوت سے سرجھٹک کر بتانے لگی۔
کیا مطلب کیسے؟عیشا حیران ہوئی۔
جانے کیسے کو چھوڑو وہ دلاور خان کی بیٹی نکلی یمان نے ایک بار اُس سے نکاح کرنے کی ضد کی جو ہو بھی گیا۔فجر پریشانی کے عالم میں کہتی بینچ پہ بیٹھ گئ۔
یہ تو پھر اچھی بات ہوئی نہ بالآخر ہمارے یمان کو اُس کی محبت مل گئ یاد ہے؟کیسے کہا کرتا تھا میں اپنا جنون اور محبت دونوں پالوں گا اور دیکھو ایسا ہو بھی گیا۔عیشا خوشی سے چور لہجے میں بولی تو فجر نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھا
مجھے سب یاد ہے پر شاید تم بھول رہی ہو اُس لڑکی کی وجہ سے یمان نے کیا کجھ برداشت کیا تھا۔فجر نے جتایا
کل کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے جو کل ہوگیا سو ہوگیا اچھا تھا یا بُرا ہم اُس کو بدل نہیں سکتے ہمیں آج کے بارے میں سوچنا یمان کتنا خوش ہوگا مجھے اُس کی خوشی دیکھنی ہے۔عیشا پرجوش آواز میں کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“عیشا کیا تم پاگل ہوگئ ہو؟فجر کو عیشا پاگل لگی۔
پاگل کیوں؟عیشا تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
“تمہیں وہ لڑکی قبول ہے یمان کی بیوی ہونے کی حیثیت سے؟فجر نے پوچھا
“ہمارے قبول کرنے یا نہ کرنے سے کیا ہوگا؟” جس کو قبول کرنا تھا اُس نے کردیا اور ہم یمان کی بہنیں ہیں اور ہمارا چھوٹا بھائی ہے ہمیں بس اُس کی خوشی دیکھنی چاہیے اُس کی خوشی میں خوش ہونا چاہیے۔عیشا نے مسکراکر کہا تو فجر کو اُس کی بات ٹھیک لگی تو خاموش ہوگئ”جو بھی تھا اُس کے لیے اولین ترجیح یمان کی خوشی تھی۔








تم یمان سے ملنے کیوں نہیں جارہی؟ بے چارہ تمہارا انتظار کرتا ہے۔شازل نے آروش کو دیکھ کر کہا یمان سے ملنے کے بعد اُس کے سارے خدشے ختم ہوچکے تھے۔
جاؤں گی۔آروش نے بس یہ کہا
کب؟شازل نے پوچھا
پتا نہیں۔آروش نے لاعلمی کا مظاہرہ کیا۔
ابھی مل لو شام میں ہم گاؤں کے لیے نکلے گے۔شازل نے بتایا
مجھے ملنا ہوگا تو مل لوں گی۔آروش نے اکتاہٹ کا مظاہرہ کیا تو شازل خاموش ہوگیا “اُس کو آروش کجھ اُلجھی ہوئی سی لگی”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
پورا ایک دن گُزرگیا وہ میرے پاس کیوں نہیں آرہی؟ مجھے اُن سے بات کرنی ہے۔یمان نے فکرمندی سے دلاور خان سے پوچھنے لگا
وہ چلی گئ۔دلاور خان بس یہ بولے
ک ک۔۔۔کہاں۔۔چ ل۔۔چلی گئ؟یمان کی زبان لڑکھڑاسی گئ
اُس نے نکاح اِس لیے کیا تھا تاکہ تم آپریشن کے لیے راضی ہوجاؤ اور تمہاری جان بچ جائے ورنہ اُس کو نکاح میں دلچسپی نہیں تھی وہ خلع تک پہنچ گئ ہیں۔دلاور خان کے لہجے میں ندامت کی جھلک تھی۔
جان دے کر بے جان کرگئ ہیں وہ اُن کو یہ نہیں کہنا چاہیے کے یمان بچ گیا یمان کو تو وہ مار کر تو نہیں البتہ توڑ کرکے ضرور گئ ہیں۔یمان کے چہرے پہ سایہ لہرایا تھا دلاور خان کی بات پہ ایک بار پھر وہ مضبوط مرد دلاور خان کے آگے رویا تھا۔








کجھ ماہ بعد۔
دن تیزی سے گُزر رہے تھے اُس دن کے بعد یمان کو چپ لگ گئ تھی فجر کو نئے سِرے سے آروش پہ غصہ آیا تھا مگر خود پہ ضبط کیے ہوئے تھے چار سے پانچ ماہ ہوچکے تھے وہ یہی اسلام آباد میں تھی کیونکہ یمان کو ایسے اکیلا چھوڑنا اُس کو ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔دوسری طرف حویلی میں آروش کا دل بھی نہیں لگ رہا تھا ایک خول میں اُس نے خود کو بند کردیا تھا کسی سے بھی زیادہ بات چیت کرنا اُس نے جیسے خود پہ حرام کرلیا تھا سارا وقت بس اپنے کمرے تک محدود رہتی حویلی والے بھی سب اُس کے لیے پریشان تھے دلاور خان بہت بار اُس کو لینے حویلی آئے تھے مگر آروش نے صاف انکار کردیا تھا اپنے جان سے اُس میں ہمت نہیں تھی یمان کا سامنا کرنے کی اُس کو بار بار یمان کا لمس یاد آتا پیار بھری باتیں یاد آجاتی جس پہ وہ بے چینی کا شکار ہوجاتی وہ چاہ کر بھی یمان کے پاس نہیں جا پارہی تھی۔








ب با ب ب۔
شازل کروٹ کے بل گہری نیند میں تھا جب آٹھ ماہ کا ہوتا شازم گردن موڑ کر بڑی مشکل سے آواز نکال کر اُس کو جگانے کی کوشش کررہا تھا۔
بب با۔شازم نے اپنے ہلکے سے اپنے چھوٹے سے ہاتھ اُپر کیے۔تبھی کمرے میں ماہی داخل ہوئی۔
جاگ گیا میرا شہزادہ۔ماہی شازم کو جاگتا دیکھا تو مسکراکر اُس کو اپنی گود میں اُٹھاکر چٹاچٹ اُس کے گالوں کو چوم لیا۔
بب با۔شازم پھر سے یہی الفاظ منہ سے نکالنے لگا ۔
کبھی مما امی بھی کہہ لیا کرو۔ماہی اُس کا منہ صاف کرتی مسکین شکل بنائے بولی کیونکہ ایسے الفاظ نکالنے سے شازم کے منہ سے تھوک نکل کر اُس کی چن کو چھو رہی تھی۔
ببا بب با۔شازم پھر سے یہی الفاظ نکالنے لگا تو ماہی اُس کا ماتھا چوم کر شازل کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی گہری نیند میں تھا
آؤ تمہارے بابا کو اُٹھاتے ہیں نیند سے۔ماہی شرارت سے اُس کو کہتی کروٹ کے بل لیٹے شازل کی پیٹھ پہ شازم کو کھڑا کرنے لگی.
گُڈ مارننگ شازم کے ببا اُٹھ جائے صبح ہوگئ ہیں۔ماہی شازل کے کان کے پاس جھک کر اُونچی آواز میں بولی تو شازل نے یکدم اپنی آنکھیں کھول کر خود پہ جھکی ماہی کو دیکھا پھر شازم کو جو اُس کو ہی دیکھ رہا تھا۔
میری صبح نہیں ہوئی ابھی تک۔شازل سیدھا لیٹتا شازم کو اپنے سینے پہ بیٹھائے بولا
بارہ بجنے والے ہیں حویلی کے مردوں کے ساتھ آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔ماہی نے منہ بناکر بتایا
اپنی بیوی کے ساتھ کرلوں گا ناشتہ یہ بتاؤ اِس گولوں مولوں نے دودہ پیا۔شازل شازم کے گالوں کو کھینچتا پوچھنے لگا تو ماہی نے کڑے تیوروں سے اُس کو گھورنے لگی کیونکہ جب سے اب کجھ شازم کی صحت ٹھیک نہیں ہوئی تھی شازل اب “نمونے” کے بجائے اُس کو “گولوں مولوں”کہتا تھا
کوئی اچھا نام سوچ لیا کرے۔ماہی نے نروٹھے پن سے کہا
اچھا نام تو ہے گولوں مولوں کی ماں گولوں مولوں۔شازل شرارت سے اُس کے گال کھینچ کر بولا
اچھا چھوڑے میں باہر جارہی ہوں آپ کے لیے ناشتہ لینے اُٹھ کر فریش ہوجائے آپ اور ہاں شازم کو بے بی کارٹ میں ڈالیے گا یا پھر اُس کے دونوں اِطراف اچھے سے تکیے رکھیے گا۔ماہی اُٹھ کر اپنے بالوں کا جوڑا بناتی شازل کو ہدایت دینے لگی۔
جو حکم میرے آقا۔شازل سر کو خم دیتا بولا تو ماہی کِھلکھلائی۔
اِدھر آؤ۔شازل نے اپنے پاس آنے کا کہا
کیوں؟ماہی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی
آؤ تو۔شازل نے کہا تو ماہی اُس کے پاس بیٹھی جس پہ شازل اُٹھ کر اُس کے ماتھے پہ اپنا لمس چھوڑا تو ماہی نے اپنی اپنی آنکھیں موندلی۔
اب جاؤ۔شازل نے اِجازت دی تو وہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ سراثبات میں ہلاتی وہاں سے چلی گئ۔








مجھ میں کیا کاٹیں چُھبے ہوئے جو میرے بیٹھتے ہی تم اُٹھ جایا کرتی ہوں۔دُرید کمرے میں آیا تو حریم کو کمرے سے باہر جاتا دیکھا تو اُس کا بازوں پکڑ کر اپنے روبرو کھڑا کیے پوچھنے لگا آج اُن کے نکاح کو اتنا وقت ہوگیا تھا مگر حریم کے سرد رویے میں تھوڑا بھی سُدھار نہیں آیا تھا وہ جتنی اُس کو ڈھیل دے رہا تھا حریم اُتنی ہی اپنی منمانی کیا کرتی تھی۔
چھوڑے ہمیں۔حریم سنجیدگی سے اُس کو دیکھتی خود سے دور کرنے لگی مگر دُرید اُس کی کوشش کو ناکام بناتا سختی سے اُس کے بازوں کو دبوچا
پہلے میری بات کا جواب دو کیا ہوگیا ہے تمہیں کیوں کررہی ہو ایسے؟دُرید نے جان چاہا
ہم سے پوچھنے کے بجائے آپ خود سے یہ سوال پوچھے گے تو زیادہ بہتر ہوگا کس گمان میں ہیں آپ کے نکاح کے بعد ہمارا رویہ آپ کے ساتھ بہتر ہوجائے گا تو یہ آپ کی بڑی بھول ہے آپ ہمارے دل سے اُترگئے ہیں۔حریم نے زخمی مسکراہٹ چہرے سجائے کہا تو دُرید نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچا
میری نرمی کا ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ مجھے مجبور مت کرو کے میں تمہارے ساتھ سخت رویہ اختیار کرو پیار سے بات کررہا ہوں تو پیار سے بات کیا کرو۔دُرید نے دو ٹوک انداز میں کہا
ہم کوئی چابی کی گڑیا نہیں جس کو جب چاہا جیسے چاہا آپ نے استعمال کرلیا تھا ہم بھی ایک انسان ہیں ہم کس دل کے ساتھ اِس کمرے میں رہ رہے ہیں وہ بس ہمارا خدا جانتا ہے ہمارے بس چلے تو اپنی بیٹی کو لیکر یہاں سے بہت دور چلے جائے جہاں کسی سید دُرید شاہ کا نام ونشان تو کیا سایا بھی اپنی بیٹی پہ نہ پڑے۔حریم زہر خند لہجے میں بولی تو دُرید بُت بنا اُس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا جو بے تاثر تھی۔
معاف کیوں نہیں کرلیتی تم مجھے آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا بار بار اپنے کیے گئے فیصلے پہ پچھتارہا ہوں اب میں کیا کروں تمہاری رضامندی کے بغیر میں نے کبھی تمہیں چھوا تک نہیں تمہارے پاس نہیں آیا کبھی اپنا حق نہیں جتایا تمہیں وقت دے رہا ہوں کے شاید؛شاید تم ٹھیک ہوجاؤ اپنے رویے پہ نظرثانی کرو مگر تم دن بدن مجھ سے بدزن ہوتی جارہی ہو۔دُرید اُس کو چھوڑتا بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا بولا یہ چھوٹی سی لڑکی اُس کو کڑے امتحان میں ڈال رہی تھی جس کو وہ کتنی ہی کوششوں کے باوجود پاس نہیں کرپارہا تھا۔
اِس میں کونسی بڑی بات آئے کرے اپنا حق وصول اور ہمیں آزاد کردے اِس نام ونہاد رشتے سے دم گھٹتا ہے ہمارا یہاں آپ کے پاس وحشت ہوتی ہیں جب آپ ہمارا ہاتھ پکڑتے ہیں جب آپ اپنی یہ جھوٹی محبت ہماری بچی پہ نچھاور کرتے ہیں۔حریم اپنے گرد لپیٹی چادر کو اُتار کر پھینکتی نفرت بھرے لہجے میں اُس سے بولی تو دُرید کے ماتھے کی رگیں اُبھریں تھی۔
سمجھتی کیا ہو تم مجھے؟دُرید دھاڑنے والے انداز میں کہتا اُس کا جبڑا سختی سے دبوچتا دیوار کے ساتھ لگا گیا تھا “حریم کی جُملے اُس پہ کسی تماچے کی طرح برسے تھے۔
چ چھوڑے.۔۔۔۔ہمیں۔حریم نے اُس کو خود سے دور کرنا چاہا تو دُرید نے ہاتھ کی مٹھی بناکر دیوار پہ مارکر اُس سے دور ہوا۔حریم زور سے کھانستی شاک کی کیفیت میں دُرید کو دیکھنے لگی جس کا حال غصے سے خراب ہوگیا تھا یکلخت حریم کو اپنی حالت اور سخت جملوں کا احساس ہوا تھا تو اُس کا دل چاہا ڈوب کے مرجائے کہیں۔
پہنو یہ شال دُرید شاہ اپنے نفس کا پجاری نہیں ہے اور نہ میں تمہارے قُربت کے لیے تڑپ رہا ہوں پاگل تھا میں جو سمجھ بیٹھا تھا اپنی محبت سے تمہیں پہلے جیسا کردوں گا اپنی اُس غلطی کا ازالہ کرلوں گا جس کی وجہ سے تم آج اِس حالت میں پہنچی ہو مگر میں غلط تھا مجھے یہ بات ماننی چاہیے کے حریم علی کے دل میں دُرید شاہ اُترگیا ہے اُس کی محبت ختم ہوگئ ہے اور میں اِسی قابل ہوں۔دُرید اُس کی قالین پہ پڑی چادر اُٹھا کے اُس کو دیتا بولا تو حریم کی آنکھوں سے آنسو رواں دواں ہوگئے تھے۔
تمہیں اب مزید وحشت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آج کے بعد نہ تو میں تمہارا کبھی ہاتھ پکڑوں گا اور نہ اپنا سایہ حورم پہ پڑنے دوں گا اُس کو اپنی جھوٹی محبت سے دور کروؑ گا۔دُرید سنجیدہ انداز میں کہتا تیز آواز میں دروازہ بند کرتا کمرے سے باہر چلاگیا۔پیچھے حریم فرش پہ بیٹھتی چلی گئ۔
یہ ہم سے کیا ہوگیا؟حریم چہرہ ہاتھوں میں چُھپاتی پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔











یمان می
فجر اپنے دھیان میں یمان کے کمرے میں آئی تو دھوئیں نے اُس کا استقبال کیا پورے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا تھا فجر اپنے منہ پہ ڈوپٹہ رکھتی یمان کو تلاش کرنے لگی جو کمرے کی سائیڈ میں موجود صوفے پہ بیٹھا ہوا فجر چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی تو آنکھوں میں بے یقینی اُتر آئی۔
یمان جو سگریٹ کا دھواں اُڑانے میں مگن تھا اچانک فجر کو اپنے کمرے میں دیکھا تو جلدی سے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا
یمان تم نے سگریٹ پینا بھی شروع کردیا ہے اب کیا یہی کام رہ گیا تھا۔فجر نے سخت ناگوار لہجے میں اُس کو کہتے ایش ٹرے کو دیکھا جو پوری سگریٹس کی بھری پڑی تھی جیسے یمان بہت وقت سے یہی کام کرتا رہا ہو
ایسی بات نہیں۔۔۔۔وہ۔۔۔۔بس میں۔۔۔۔۔۔۔ایسے۔۔ہی۔یمان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا گڑبڑا کر صفائی دینا چاہی مگر لفظوں نے اُس کا ساتھ نہیں دیا۔
کیوں اُس بے حس لڑکی کی وجہ سے اپنا سینا جلارہے ہو جانتے ہو نہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہیں۔فجر کا لہجہ ہنوز ناگوریت سے بھرپور تھا۔
سوری۔یمان سرجھکاتا بس یہی بولا
کب سے پینا شروع کیا ہے؟فجر نے سنجیدگی سے پوچھا
آج کے بعد نہیں پیوں گا۔یمان نے کہا
کب سے پینا شروع کیا ہے؟اور دن میں کتنی ڈبیاں خالی کرتے ہو؟فجر نے دوبارہ سے اپنا سوال دوہرایا
چار ماہ سے۔یمان سرجھکائے بولا
چار ماہ سے؟فجر کو مزید حیرت نے آ گھیرا وہ آخر کیسے اتنا غافل ہونے لگی تھی۔
جی۔یمان بس یہ بولا
تمہارے لیے بس وہ لڑکی اہم ہے کیا خلع چاہتی ہے نہ ہو؟تو بھیجو طلاق کے کاغذات اُسے۔فجر تنفر سے بولی
آپی۔یمان نے تڑپ کر اُن کو دیکھا جو اُس کو اتنا سنگین مشورہ دے رہی تھی۔
تم دوبارہ اِس چیز کو منہ نہیں لگاؤں گے۔فجر نے ایش ٹرے کی جانب اِشارہ کیے کہا
نہیں پیوں گا۔یمان نے جوابً کہا
باہر آجاؤ تمہارے کمرے کی صفائی کروانی ہے۔فجر نے کہا تو یمان نے سر کو خم دیا۔
