171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 64) Last Episode (Part - 5)

Meri Hayat By Zarish Hussain

کئی ہزار گز پر بنے شاندار محل کے پورچ میں مرسڈیز داخل ہوئی۔پیچھے سیکیورٹی گارڈز کی گاڑی بھی اندر داخل ہوئی۔۔۔ یہ گھر ایک سال پہلے اس نے حیات کیلئے بنایا تھا۔۔۔جس کا نام اس نے اپنی بیٹی کے نام پر حیان

پیلس رکھا تھا۔شہر کے پوش ایریا میں واقع۔۔بلند و بالا

پرشکوہ محل اور پر سکون ماحول۔۔۔

حیان پیلس۔۔۔

اس پوش ایریا کا سب سے خوبصورت ترین محل۔وسیع

گیٹ کے ساتھ کی دیواروں پر سرسبز خوبصورت بیلیں لپٹی ہوئی تھیں۔۔محل کا وسیع و عریض لان ملکی غیر

پھولوں پودوں سے سجا ہوا تھا۔۔۔۔ نہایت آرٹسٹک انداز میں درختوں پودوں کی قطع و برید کی گئی تھی۔سرو

کے درختوں Placement مہارت سے کی گئی تھی۔۔۔

سرخ اور سفید گلابوں سے گھرا لان اور اس کے بیچوں بیچ مصنوعی جھیل کا شعاعیں بکھیرتا صاف و شفاف فوارہ بہت ہی خوبصورت لگتا تھا۔۔۔یہ مصنوعی جھیل اس نے حیات کیلئے ہی بنوائی تھی۔خان پیلس میں وہ اکثر اس کو وہاں بنی مصنوعی جھیل کے کنارے بیٹھا دیکھا کرتا تھا۔سو اسکے بنے کہے ہی اسکی خواہش پر

اس نے یہاں جھیل بنوا دی تھی اس کیلئے۔۔

پاپا۔۔۔اس نے گاڑی سے اتر کر روش پر قدم رکھا ہی تھا

کہ سرخ جینز اور سٹائلش سے ٹاپ میں ملبوس۔شانوں سے نیچے آتے سنہری گھنگریالے بالوں پر ہئیر بینڈ لگائے تین سالہ حیان چھلانگیں مارتی اس تک آئی۔۔بیٹی کی

کی اس معصوم پکار نے اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔۔۔وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اور بانہیں پھیلا دیں

سنہری بالوں اور گرین آنکھوں والی وہ ننھی سی پری اسکی کھلی بانہوں میں سما گئی،اس نے والہانہ انداز میں پہلے اسکا ماتھا چوما۔ پھر باری باری دونوں سرخ گال۔اسے بازوؤں میں اٹھائے وہ مین ڈور سے اندر داخل

ہوا۔۔یہ گھر کا مین ہال تھا جسے لیونگ روم کے طور پر

یوز کیا جاتا تھا۔۔البتہ اسپیشل مہمانوں کیلئے الگ سے

ڈرائنگ روم تھا جو اسکے دائیں طرف بنا ہوا تھا۔۔۔ہال

کی بڑی بڑی اسٹائلش،، شیشے کی کھڑکیوں سے لان کا تمام منظر بخوبی نظر آتا تھا۔۔کھڑکیوں کے ساتھ گلابی

اور سفید پھولوں کی بیلیں لٹک رہی تھیں جو ہوا کی

ہلکی سی جنبش سے مچل کر کھڑکیوں کے شیشوں پر

دستک دینے لگتی تھیں۔۔۔شیڈ پلانٹس بھی خوبصورتی سے سجے ہوئے تھے۔دیواروں پر بڑی بڑی مہنگی پینٹگز

لگی ہوئی تھیں جنہیں وہ مختلف ملکوں سے خرید کر لایا تھا۔۔۔۔۔۔ خوبصورت فریمز میں مقید ماحر کی کچھ اپنی تصویریں بھی تھیں جو مختلف ایوارڈز شوز میں ایوارڈ وصول کرتے وقت کھینچی گئی تھیں۔۔

“بیٹی سے باتیں کرتا اسے اٹھائے وہ لیونگ روم میں آیا تو عین روشنیاں بکھیرتے جھومر کے بالکل نیچے صوفے پر حیات کو موبائل یوز کرتے شان سے براجمان پایا’ وہ سفید ریشمی فراک میں ملبوس تھی جو اس کے پیروں کو چھو رہا تھا۔صحیح معنوں میں مبہوت کر دینے والا منظر تھا۔۔گویا چاندنی زمین پر اتری ہوئی ہو وہ سحر زدہ سا اسے دیکھنے لگا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے،روشنیاں جھومر سےنہیں اسکے وجود سے پھوٹ رہی ہوں۔حسن

و نزاکت اور جاذبیت کا وہ ایسا شاہکار تھی کہ صحیح معنوں میں آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔۔۔۔اسکی چاندی

جیسی نقرئی رنگت کا اجالا ہر سو جگمگاہٹ بکھیر رہا تھا۔۔۔۔ہم رنگ ڈوپٹہ اس نے اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا۔۔۔ یہ احتیاط وہ گھر میں موجود ملازموں کی وجہ سے کیا کرتی تھی۔۔۔۔ خود کو اچھی طرح ڈھک کر رکھنا۔پانچ مہینوں سے ایک اور جان اسکے اندر پرورش پا رہی تھی۔۔ممتا کے نور سے اسکا چہرہ پہلے سے بھی زیادہ نکھر گیا تھا تھا۔۔حیات کو تکتی ماحر کی نظریں یکایک لو دینے لگیں ان میں بے پناہ محبت اترنے لگی۔۔ڈسٹربنس محسوس ہونے پر حیات نے چونک کر موبائل کی سکرین سےنظر ہٹائی۔۔۔۔ ایک نظر باپ بیٹی کو ایک دوسرے کے ساتھ لاڈ کرتے دیکھا” اور پھر سے سیل کی طرف متوجہ ہو گئی۔۔۔

نو لفٹ کا بورڈ دیکھ کر بھی وہ عین اسکے سامنے والے کاؤچ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ حیان اسکی گود میں تھی اور اس سے لپٹتی کھلکھلائے جا رہی تھی۔۔۔۔ باپ کے سامنے وہ ماں کو خاص لفٹ نہیں دیتی تھی۔۔۔ اور یہ بات حیات کو اچھی طرح معلوم تھی تبھی وہ باپ بیٹی پر توجہ

دیے بنا ہنوز موبائل میں مگن رہی۔۔ تین سال کی وہ بے حد حسین اور کیوٹ بچی تھی جو کسی حد تک خود سر اور نخریلی بھی تھی۔۔شکل و صورت میں وہ بالکل

حیات پر گئی تھی سوائے آنکھوں کے کلر کے۔۔حیان کی

آنکھوں کا کلر گرین تھا۔۔سنہری بالوں اور گرین آنکھوں کیساتھ وہ بالکل کوئی سنہری گڑیا لگتی تھی۔۔ماحر کا

کہنا تھا وہ اپنے ترکش ننھیال پر گئی تھی۔۔۔وہ جو اس

سے کہا کرتا تھا کہ وہ دنیا کی آخری حسین لڑکی ہے بیٹی کے آنے کے بعد اپنا بیان تبدیل کر لیا۔۔۔۔

اب اسکا کہنا تھا کہ اسکی بیٹی دنیا کی آخری حسین ترین لڑکی ہے۔۔۔۔حیات نے جب اسے یاد دلایا کہ یہ بات

تو وہ اس کیلئے کہا کرتا تھا جواباً اس نے کندھے آچکا کر کہا۔۔اب مجھے کیا پتہ تھا کہ اللّٰہ بیوی کے بعد اتنی

خوبصورت بیٹی بھی دے دے گا۔۔۔ ویسے تمہیں جیلس ہونے کی ضرورت نہیں سویٹ ہارٹ۔۔۔ تم تو میرا دل ہو

لیکن میری بیٹی میری دھڑکن ہے۔اور یہ بات سو فیصد درست تھی۔اسکی بیٹی اسکا سرمایہ تھی جسے دیکھ دیکھ کر وہ جیتا تھا۔۔اسکے لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتا تھا۔۔۔حیات اسے اس قدر سر چڑھایا دیکھتی،، تو تشویش کا شکار ہوئے بنا نا رہتی۔۔۔”

اتنا لاڈ پیار نا کیا کریں ورنہ بگڑ جائے گی۔۔وہ ٹوکتی تو

جواباً وہ شوخ لہجے میں کہتا۔۔ڈونٹ وری سویٹ ہارٹ میرے لاڈ پیار سے بیوی نہیں بگڑی تو بیٹی بھی نہیں بگڑے گی۔۔وہ لاجواب ہو کر رہ جاتی۔۔۔”

پاپا مما ڈرٹی بے بی۔۔اسکی بیٹی نے دھیرے سے اسکے کان میں سرگوشی کی تاکہ مما نا سن سکے۔۔۔

ہائیں بٹ وائے بیٹا۔۔۔۔؟بیٹی کی احتیاط پر وہ مسکرایا اس کا ریشمی بالوں والا خوشنما سر چومتے ہوئےجواباً دھیرے سے سرگوشی میں استفسار کیا۔۔۔ لفظ ڈرٹی بے بی حیات کا اپنا ہی سکھایا ہوا لفظ تھا” جب وہ کسی بات پر ضد کرتی یا اس کا کہنا نہیں مانتی تو تب وہ اکثر جھنجھلا کر یہی لفظ کہتی۔۔۔” اب اسکی بیٹی نے اسکا سکھایا لفظ اس پر اپلائی کرنا شروع کر دیا تھا۔۔”

آپکی مووی نئیں دیتھنے(دیکھنے) دی۔۔اس نے منہ پھلا کر شکایت کی۔۔۔۔

کونسی مووی نہیں دیکھنے دی مما نے آپکو۔۔۔مسکراہٹ

دباتے ہوئے مصنوعی سنجیدگی سے استفسار کیا۔۔۔

“جس میں آپ آنی کو کس کر رہے تھے۔۔۔یاں پہ۔۔جوش

سے بتانے کیساتھ ساتھ اس نے اپنے ہونٹوں کی طرف اشارہ کیا تو ماحر کے منہ سے بے ساختہ قہقہہ نکلا۔۔۔”

سبحان اللّٰہ۔۔شرمندہ ہونے کے بجائے بیٹی کیسامنے اپنے کارنامے پر ہنسا جا رہا ہے۔۔۔۔موبائل کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے وہ بڑبڑائی۔۔

کیا کہہ رہی ہو گھر والی۔۔۔ ؟؟اس نے حیان کو گود سے نیچے اتارا تو وہ باہر لان کی طرف کھیلنے نکل گئی۔۔۔” ماحر اٹھ کر اسکے قریب جا بیٹھا۔۔۔بتاؤ نا گھر والی۔۔۔”

کبھی کبھی وہ زیادہ ترنگ میں آ کر اسے گھر والی بولا کرتا تھا۔۔۔

“میں یہ کہہ رہی ہوں کہ آپ کی بیٹی محض تین سال کی ہے اور ابھی سے اسکو موویز کی لت پڑ رہی ہے آگے کیا ہوگا اسکا۔۔مجھے تو سوچ سوچ کے ٹینشن ہوتی ہے

پتہ ہے ایک دن تو میں حیران رہ گئی یہ دیکھ کر کہ یہ میرے موبائل سے یوٹیوب میں جا کر موویز دیکھ رہی تھی۔۔ناصرف دیکھ رہی تھی بلکہ سرچ تک کرنا سیکھ

لیا ہے اس نے۔حیات کے لہجے میں ماؤں والی فکر مندی

تھی جبکہ ماحر نے اسکی باتوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے کہا”ہاں تو دیکھتی ہے تو اپنے پاپا کی موویز دیکھتی ہے نا۔۔۔ میری بیٹی کو پتہ ہونا چاہیے نا کہ اس کے پاپا ایک سپر سٹار ہیں فلموں میں کام کرتے ہیں۔۔وہ مغرور انداز میں کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ حیات نے تاسف سے اسے دیکھا اور سر جھٹک کر عصر کی نماز کیلئے وضو کرنے کی غرض سے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔

ماحر نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا ریموٹ اٹھایا اور وال کبرڈ کھول کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ایک طرف ڈائنزز ڈریسز کی لمبی قطار تھی۔ تو دوسری قطار میں فارمل ملبوسات ترتیب سے لگے ہوئے تھے۔ایک سادہ شرٹ اور ٹراؤزر کا انتخاب کیا۔۔۔۔۔ حیات وضو کر کے باہر آئی” تو وہ شاور لینے کی غرض سے واش روم میں چلا گیا۔۔۔۔جبکہ وہ جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے لگی۔۔۔۔

ساڑھے چار سال بعد۔۔۔۔۔

وہ روم میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا۔حیرانی سے اپنی جگہ پر منجمد ہو گیا۔سامنے دیوار میں نصب بڑی سی ایل سی ڈی سکرین پر اسکی کسی مووی کا ایک نہایت ہی بولڈ کسنگ سین چل رہا تھا۔۔۔”

حیات بیڈ پر نیم دراز حالت میں کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔ماحر کے یوں ٹھٹھکنے کی وجہ اسکی بیٹی تھی جو سکرین کے بالکل عین سامنے جم کر بیٹھی بڑے ہی انہماک سے وہ سین دیکھ رہی تھی۔۔کچھ فاصلے پر بک

میں مگن ماں اس بات سے بے نیاز تھی کہ اسکی بیٹی

کیا دیکھ رہی ہے۔دیکھ رہی ہے تو اسکا اسکے ننھے سے

ذہن پر کیا اثر پڑے گا۔۔؟؟ مگر وہ یہ سب سوچتی بھی

کیوں۔۔بیٹی کو مووی لگا کر دینے والی بھی تو وہ خود

تھی ورنہ اتنی سی بچی خود سے کیسے ایسی مووی

لگا سکتی تھی۔۔وہ لب بھینچے کچھ دیر حیات کیطرف دیکھتا رہا جو اس کی آمد سے بالکل انجان اور سکرین پر چلتے سین سے جان بوجھ کر انجان بنی اپنے مطالعے میں کھوئی ہوئی تھی۔۔۔ وہ اسی طرح لب بھینچے آگے بڑھا۔۔۔۔ ٹیبل پر سے ریموٹ اٹھایا اور سکرین کو آف کر دیا۔۔ایک دم سے کمرے میں سکوت چھا گیا۔۔۔۔حیات نے چونک کر کتاب پر سے نظریں ہٹائیں تو سامنے ہی اسے

اپنی طرف خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پایا۔۔۔

“ایل سی ڈی بند ہو جانے پر حیان شور مچانے لگی اور اس سے دوبارہ آن کرنے کا زور و شور سے مطالبہ کرنے لگی۔۔۔ وہ بچی تھی سمجھا بھی نہیں سکتا تھا۔۔دل و جان سے پیاری تھی ڈانٹ کر منع بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔لہذا ایک تاسف بھری نگاہ ناسمجھ انداز میں دیکھتی حیات پر ڈال کر چلاتی,, شور مچاتی,,, بیٹی کو نرمی سے،بازوؤں میں بھرتا وہ روم سے باہر چلا گیا۔۔”حیات جو اس کے غصے کیوجہ سمجھ سے قاصر رہی کندھے اچکاتے ہوئے واپس بک کیطرف متوجہ ہو گئی۔۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ کمرے میں داخل ہوا تو منہ بسورتا ایک سال کا ولی اسکی گود میں تھا۔۔۔۔۔ جس کو آدھا گھنٹہ پہلے وہ حیان کے روم میں رکھے کاٹ میں سلا آئی تھی اور ساتھ ہی آیا کو بھی اسکا خیال رکھنے کیلئے وہیں بٹھا آئی تھی۔۔۔۔

“تمہیں شرم تو نہیں آتی اتنی سی بچی کو اسطرح کی

چیزیں دکھاتے ہوئے۔اسکا اشارہ کچھ دیر پہلے والے فلم کے سین کی طرف تھا۔۔لہجے میں ناراضگی تھی۔۔۔۔”

“آپ کو شرم آئی تھی یہ سب کرتے ہوئی۔۔۔؟وہ ترکی بہ ترکی بولی انداز طنزیہ تھا۔پہلے تو وہ حیران ہوئی اس کی بات پر کیونکہ یہ ماحر ہی تھا جو بیٹی کی شکایت پر اسے کہا کرتا تھا وہ حیان کو اس کی فلمیں دیکھنے دیا کرے تاکہ اسے پتہ تو ہونا چاہیئے کہ اسکے پاپا کیا

کام کرتے ہیں۔۔۔کس فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔پھر جل کر حیات نے بیٹی کو روکنا ٹوکنا چھوڑ دیا تھا بلکہ آج تو اسکو خود فلم لگا کر دی تاکہ اس کا دھیان باپ کی مووی میں لگا رہے اور وہ اسے تنگ نا کرے ورنہ کچھ دیر پہلے وہ شاپنگ پر جانے کی ضد کر رہی تھی کہ

اسے نئے ٹوائز چاہیں۔۔۔

“میں نے اپنی مرضی اور شوق سے یہ سب تھوڑی کیا تھا۔وہ تو فلم کی ڈیمانڈ ہوتی تھی۔۔۔اشارہ کسنگ سین

کی طرف تھا۔براؤن بالوں اور براؤن آنکھوں والے کیوٹ سے ولی خان کو اسکی گود میں دیتے ہوئے برہم لہجے میں بولا۔۔

“تو اچھا ہے نا آپکی بیٹی کو ابھی سے پتہ چلنا چاہیے کہ اس کے پاپا کرتے کیا ہیں۔۔اور ویسے آپ خود بھی تو یہی کہا کرتے تھے نا۔۔۔ میری بیٹی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسکے پاپا کیا کام کرتے ہیں۔۔۔۔ خیر آج تو اسے اچھی

طرح سمجھ آ گئی ہوگی کہ اسکے پاپا کیا کام کرتے ہیں

وہ اس کی برہمی کو خاطر میں لائے بنا مذاق اڑاتی دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔۔۔

ماحر اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔۔

کرتا تھا۔کرتا ہوں نہیں یار۔۔۔اب تو صرف ڈائریکشن دیتا ہوں ماحر نے تصحیح کی۔۔۔۔ بہرحال تم پلیز میری بیٹی کو میری فلموں کے رومینٹک سینز مت دکھایا کرو پلیز

ایکشن اور ایموشنل ٹھیک ہے مگر رومینٹک مت دکھایا

کرو وہ منت بھرے انداز میں ںولا۔۔تھوڑی دیر پہلے والی

ناراضگی لہجے سے غائب ہو چکی تھی۔اب لجاجت تھی

اچھا ٹھیک ہے آئندہ نہیں دکھاؤں گی۔وہ مسکرا کر گود

میں سوئے بیٹے کے ننھے ننھے ہاتھوں کو چومنے لگی۔۔کچھ دیر قبل وہ جھنجھلا رہا تھا منہ بسور رہا تھا مگر ماں کی آغوش میں آتے ہی پر سکون ہو گیا تھا کیونکہ ماحر سے زیادہ وہ حیات کے پاس رہنا پسند کرتا تھا۔۔۔

ماحر نے ولی کو جھک کر اس کی گود سے اٹھایا تو وہ کسمسانے لگا۔کیا کر رہے ہیں سونے دیں نا۔ورنہ پھر رونا سٹارٹ کر دے گا۔۔۔حیات نے آہستہ آواز میں کہتے ہوئے ولی کو اس سے لینا چاہا۔۔۔جواباً ماحر نے اسکی بات پر کان نا دھرتے ہوئے بیڈ کی ایک سائیڈ پر ولی کو لٹا دیا۔کچھ دیر تھپکا تو تھوڑی دیر میں ہی وہ گہری نیند سو گیا۔حیات مطمئن ہو کر بیڈ سے اٹھنے لگی تھی کہ اس نے اس کی کلائی پکڑ کر واپس کھینچ لیا” وہ سیدھی اسکے سینے پر آ گری۔۔۔۔”

کیا کر رہے ہیں۔۔؟؟ محبت و چاہت سے لبریز اس گرفت پر وہ بوکھلائی” اور اس کے مضبوط بازوؤں کا حصار توڑنا چاہا۔۔۔

کچھ نہیں یار ایک گڈ نیوز سنانی ہے تمہیں۔۔۔وہ مسکرا کر کہتا اسے اپنے مزید قریب کرنے لگا۔۔وہ مزاحمت ترک

کر گئی” چہرے پر خود بخود حیا آمیز مسکان کا سنہرا عکس بکھرتا چلا گیا۔۔۔

مسز اردگان نے دعوت نامہ بھیجا ہے۔۔۔نیکسٹ ویک ہم چاروں ٹرکی جا رہے ہیں۔۔۔انکی دعوت بھی اٹینڈ کریں گے اور تمہارے ریلیٹوز کے ہاں بھی جائیں گے۔۔ تمہارے کزن علی کاظمی سے بات ہوئی ہے میری۔۔میں نے اطلاع دے دی اسے ہمارے آنے کی۔۔۔۔اسکے کان کے قریب چہرہ

کیے وہ بتا رہا تھا۔۔۔

“آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔۔۔؟چہرے پر آئی سنہری لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستی وہ خوشی سے بھرپور کھنکتے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔۔۔”

بالکل سچ کہہ رہا ہوں سویٹ ہارٹ۔۔نرم مسکراہٹ لبوں

پر سجائے،،، وہ اس کا دلکش نقوش سے سجا ساحرانہ مکھڑا دیکھ رہا تھا۔۔وہ بالکل ویسی کی ویسی دکھتی

تھی،،،، جیسی کوئی بھی غیر شادی شدہ سمارٹ لڑکی دکھ سکتی ہے۔۔۔دو بچوں کی ماں ہو کر بھی وہ بالکل

نہیں لگتی تھی اس کے سراپے میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی تھی حالانکہ ماحر نے اسے کبھی بھی ایکسر

سائز جوگنگ وغیرہ کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔ہاں رات کو وہ بنگلے کے وسیع لان میں واک ضرور کیا کرتی تھی مگر اسوقت بھی اکثر ولی اسکی گود میں ہوتا تھا۔۔۔

“حیان خان کے بعد انکے ہاں ولی خان پیدا ہوا تھا شکل و صورت کے لحاظ سے،، ان کے دونوں بچے ہی ماں باپ کی طرح بے تحاشا حسین تھے۔سنہری بال۔سرخ و سفید

رنگت دونوں بہن بھائی ایک جیسے ہی دکھتے تھے تاہم

ولی گول مٹول صحتمند بچہ تھا،،، جبکہ حیان اس کی

طرح نازک سی سمارٹ سی تھی حورین کا کہنا تھا۔۔۔ چونکہ دونوں حسین ہیں تبھی انکی پروڈکشن اس قدر اچھی ہے۔۔جبکہ فضا کا کہنا تھا دونوں بچے اپنے ترکش ننھیال پر گئے ہیں۔ویسے تو دونوں ہی ماں باپ کا پر،تو تھے۔سیم سکن کلر۔۔۔سیم ہیئر کلر۔۔مگر ایک چیز جو ان چاروں میں ڈفرنٹ تھی وہ تھا انکی آنکھوں کا کلر۔۔۔

حیان کی آنکھیں گرین تھیں،، جبکہ ولی کی آنکھوں کا کلر ڈارک براؤن تھا۔۔ولی کی پیدائش کے بعد جب ماحر نے پہلی بار اسے گود میں لیا تو کہنے لگا۔۔

واؤ۔۔۔۔ کتنی انڑسٹنگ بات ہے میری بیوی کی آنکھوں کا کلر بلیو ہے۔۔جبکہ بیٹی کا آئیز کلر گرین۔۔۔۔ اور بیٹے کا براؤن۔۔۔۔اور میری۔۔۔میری آنکھوں کا بلیک۔۔۔۔ نہیں میرا بھی کچھ اور ہونا چاہیے تھا۔۔جیسا کہ۔۔۔۔جیسا کہ۔۔۔وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔ پاپا پنک۔۔۔حیان نے پیچھے سے آ کر اسکے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کلر بتایا تو حیات اور وہ دونوں ہی ہنس پڑے تھے۔۔۔۔ کبھی دیکھی بھی ہیں کسی کی پنک آنکھیں۔۔ حیات نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔۔

” میری پرنسز بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے میری آنکھوں کا کلر پنک ہی ہونا چاہ چاہیے تھا۔۔ولی کو حیات کی گود میں ڈال کر وہ حیان کو چومتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔جبکہ

وہ خوش ہو کر باپ کو مشورہ دے رہی تھی کہ آنکھوں پر پنک آئی شیڈ لگائے تو آنکھیں پنک ہو جائیں گی۔۔۔

وہ بیٹی کی معصوم باتوں پر مسکرا رہا تھا۔۔۔

پنک کلر حیان کا فیورٹ کلر تھا وہ سجنے سنورنے کی شوقین تھی اسے ہر چیز پنک کلر میں ہی چاہیے ہوتی تھی۔۔پنک ڈریس۔۔۔پنک چوڑیاں۔۔۔پنک لپ اسٹک۔۔۔پنک ہئیر بینڈ۔۔پنک بیگ۔۔۔پنک باربی ڈولز۔۔۔اور تو اور اسکا

روم بھی فل پنک کلر میں ڈیکوریٹڈ تھا۔۔۔ کبھی کبھی

تو حیات اس کی اس پنک والی رٹ سے عاجز آ جاتی تھی”جب وہ چیخ چلا کر ضد کرتی کہ پنک کے علاؤہ کسی اور کلر والا ڈریس ہرگز نہیں پہنے گی”ایسے میں وہ چاکلیٹ،، کھلونے،، ہر طرح کا لالچ دے کر اسے منانے کی کوشش کرتی۔۔۔”مگر وہ حیان ہی کیا جو اپنی ضد چھوڑ دے۔خود سری اور ضدی پن اس نے اپنے باپ سے چرایا تھا۔حیات والی ایک بھی خوبی نہیں تھی اسمیں حیان اچھا خاصا اسے زچ کیے رکھتی تھی۔۔۔

جب وہ روہانسی ہو کر مدد طلب نظروں سے ماحر کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی پلیز اپنی بیٹی کو سمجھائیں دوسرے کلر کے ڈریسز کا میں اچار ڈالوں گی کیا۔۔۔ اگر یہ نہیں پہنے گی تو۔۔۔

کسی یتیم خانے میں بھجوا دو۔وہ آگے سے مشورہ دیتا

حیات تیکھی نظروں سے دیکھنے لگتی تو کہتا۔۔

“کس نے کہا تھا سویٹ ہارٹ کہ ڈریس پہناتے وقت اس کی رائے لیا کرو۔اگر میری بیٹی کو پنک کے علاؤہ کوئی

اور کلر نہیں پہننا تو میں اسے بالکل فورس نہیں کروں

گا۔۔تم اپنا مسئلہ خود جانو سوری میں اس معاملے میں

تمہاری کوئی ہیلپ نہیں کر سکتا۔۔وہ جان چھڑانے والے انداز میں کندھے آچکا کر کہتا جواباً وہ اسے غصے سے

دیکھنے لگتی”” مگر ماحر کو کوئی فرق نا پڑتا کیونکہ حیان کے معاملے میں وہ اس کے عصے کو خاطر میں نا لاتا تھا۔۔۔ اسکی شروع سے ہی عادت رہی تھی وہ چینج کرواتے وقت حیان سے کہا کرتی تھی” میری پرنسز بلیو پہنے گی یا پنک۔۔؟؟میری پرنسز وائٹ پہنے گی یا پنک؟

بے شک وہ بولنے کے قابل نہیں ہوئی تھی مگر حیات یہ

بات اس سے ضرور پوچھا کرتی تھی” شروع میں حیان سر ہلا دیتی تھی پھر جب بولنے کے قابل ہوئی تو ماں

کے فقرے کے اینڈ والا لفظ پنک اسکی زبان پر چڑھ گیا گیا پھر کچھ عرصے بعد اسے پنک کلر کی پہچان بھی ہو گئی تو اس کے بعد تو اس کی یہی رٹ ہوتی تھی اگر پہنے گی تو صرف پنک کلر ہی پہنے گی۔۔۔۔”