171.9K
78

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Hayat (Episode 36)

Meri Hayat By Zarish Hussain

“۔۔۔۔۔شام تک مون کی تصویر موبائل فون میں لئیے وہ پاگلوں کی طرح سڑکوں پر آتے جاتے لوگوں کو دکھا دکھا کے پوچھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔مگر کچھ پتہ نا چلا آخر کار مجبور ہو کر وہ پولیس اسٹیشن چلی گئی۔۔۔۔پولیس والوں نے وہی سوالات کیے جو عموماً ان جیسے کیسز میں کیے جاتے ہیں۔۔

کتنی عمر ہے؟

کیسا دکھتا ہے؟

کس ٹائم غائب ہوا وغیرہ وغیرہ۔ اور آخر میں وہی کہا جو اس قسم کے کیسز میں ورثا کو کہا جاتا ہے آپ گھر جائیں۔۔ہم کوشش کرتے ہیں جیسے ہی کوئی خبر ملی آپ کو اطلاع دے دی جائے گی۔وہ آنسو بہاتی بوجھل دل کے ساتھ گھر آ گئی۔۔کچھ ٹائم مزید گزرا تو رات کی تاریکی بھی چھانے لگی۔۔۔۔اسکی اور رحمت بوا دونوں کی حالت خراب ہونے لگی۔۔۔حیات عبدالرحمان کی نازک جان جیسے کسی آہنی شکنجے میں کستی جا رہی تھی۔

سوائے اللّٰہ کے کسی غم گسار کا آسرا نہیں تھا۔۔

بے یارو مددگار دو اکیلی عورتیں۔۔۔

ایسے میں برے برے خیال اور وہمے بھی ستانے لگے۔۔۔پڑھے اور سنے گئے کئی ایسے واقعات ذہن میں گھومنے لگے جس میں بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے انہیں مار کر پھینک دیا جاتا اور کوئی پوچھنے والا بھی نا ہوتا

وہ دونوں ان برے خیالوں سے گھبرا کر اللّٰہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگیں۔

کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔۔بس اللّٰہ پر امید تھی اور پولیس والوں کے آسرے پر بیٹھی تھیں کہ شائد پولیس اسٹیشن سے اطلاع آ جائے کہ ان کا بچہ مل گیا ہے۔جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ان کی پریشانی اور خوف بڑھتا جا رہا تھا۔وہ دونوں غم و اندوہ کے گہرے سمندر میں ڈوبی خدا کی بارگاہ میں مون کی سلامتی کیلئے مسلسل گڑگڑاتی رہیں۔

اچانک رات کے نو بجے حیات کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے کال آئی جس میں کہا گیا کہ بچہ انکے قبضے میں ہے اور اسے چھوڑنے کیلئے ایک کروڑ کا مطالبہ کیا گیا۔۔وہ دونوں دنگ رہ گئیں۔۔۔۔۔

یعنی اغواء برائے تاوان کیس تھا۔۔۔۔۔ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ پولیس کو انفارم کرنے کی صورت میں بچے کو قتل کر دیا جائے گا۔۔

ایک اور آزمائش۔۔۔

حیات عبدالرحمان کے دماغ میں آندھیاں چلنے لگیں۔ان آندھیوں میں خوفزدہ خیال خشک پتوں کی طرح اڑتے پھر رہے تھے۔

اسکے مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا

وہ بے دم سی ہو کر صوفے پر ڈھے گئی۔

جبکہ رحمت بوا ماہی بے آب کی طرح تڑپتی لاوئج میں ادھر ادھر چکرانے لگیں۔۔

اغواہ کاروں کی جانب سے بہت بڑی رقم کا مطالبہ کیا گیا۔۔

اسکے پاس کل رقم صرف دو لاکھ روپے تھی ایک کروڑ کہاں سے لاتی۔۔۔

اب کیا کریں۔۔۔۔۔؟دونوں کے دماغ میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔مگر جواب کوئی نہیں تھا۔۔

اغواہ کاروں نے ایک گھنٹے کی مہلت دے کر کوئی بھی بات سنے بغیر کال ڈراپ کر دی تھی۔۔

حیات وحشت زدہ سی ہو کر اسی نمبر پر ٹرائی کرنے لگی۔۔۔۔

رحمت بوا اچانک کسی خیال کے آنے پر چپکے سے اٹھیں اور کمرے میں جا کر الماری سے ماحر خان کا کارڈ نکالااور اپنے چھوٹے کی پیڈ موبائل سے اس کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔چوتھی بیل پر جا کر کال ریسیو ہوئی”

ہیلو۔۔۔ماحر خان سپیکنگ۔۔ریسیور میں اسکی گھمبیر آواز گونجی

ہیلو ماحر بیٹا میں حیات کی بوا بات کر رہی ہوں۔۔۔انہوں نے دھیمے لہجے میں کہا

جی آپ۔۔۔۔۔؟؟دوسری طرف وہ جیسے چونکا تھا”

خیریت تو ہے نا۔۔۔۔؟؟

بیٹا خیریت نہیں ہے۔وہ سسکنے لگیں”

کیا ہوا ہے آنٹی جی۔۔۔؟؟آپ رو کیوں رہی ہیں دوسری طرف تشویش بھرے لہجے میں استفسار کیا گیا”

تو رحمت بوا خود پر قابو پا کر سرگوشیانہ انداز میں اسے ساری بات بتانے لگی۔

آپ فکر نا کریں۔۔میں ابھی پہنچتا ہوں۔۔ساری بات سن کر اس نے فوراً کہا”

ٹھیک ہے بیٹا جلدی آنا میں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔

فون بند کر کے لاؤنج میں آئیں۔جہاں حیات ہنوز بھیگی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں سے اغواہ کاروں کے نمبر پر ٹرائی کر رہی تھی۔ساتھ میں احسن کمال کا نمبر میں ملا رہی تھی کہ شائد آن ہو تو وہ اس سے ہیلپ مانگ سکے۔۔

کوئی حل نکلا۔۔۔؟

نمبر بند جا رہا ہے۔۔وہ ان کی طرف بے بسی سے دیکھ کر رو پڑی۔۔۔۔۔رحمت بوا بھی تسبیح پڑھتے ہوئے چپ چاپ آنسو بہانے لگیں۔

بیس منٹ بعد ڈور بیل بجی۔۔۔۔تو حیات چونکی اور بری طرح سے بھیگے ہوئے چہرے کے ساتھ دروازہ کھولنے کیلئے تیزی سے اٹھی۔۔۔۔

رکو حیات میں دیکھتی ہوں۔بوا نے اسکے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔۔۔۔۔اور خود آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا”

ماحر خان کو اپنے باڈی گارڈز کے ساتھ اندر آتا دیکھ کر

حیات پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔

اگلےہی پل رگوں میں خون کی جگہ آگ دوڑ گئی۔۔ایک لمحے کیلئے اسے یوں لگا جیسے آنکھوں کے سامنے سرخ دھند پھیل گئی ہو۔۔۔۔سامنے کھڑے شخص کیلئے غصے کی ایک بلند لہر اسکے سینے میں اٹھی۔

تم یہاں۔۔۔۔۔؟؟؟وہ سخت حیرت اور غصے سے بولی

دوبارہ فون آیا ان اغواہ کاروں کا۔۔۔حیات کو اور اس کے سوال کو مکمل اگنور کیے وہ رحمت بوا سے مخاطب ہوا۔۔۔۔

گھٹیا انسان تم کیوں آئے ہو یہاں کس نے بلایا تمہیں۔۔بوا کے جواب دینے سے پہلے وہ چیخ پڑی۔

حیات خاموش ہو جاؤ میں نے بلایا اسے۔۔رحمت بوا نے سخت لہجے میں ٹوکا۔۔

آپ۔۔۔آپ۔۔۔۔اسے جھٹکا لگا۔۔اس بے یقینی سے نے بوا کی طرف دیکھا”

ہاں میں نے۔۔اور اب تم کوئی بدتمیزی نہیں کرو گی یا تو خاموش رہو یا پھر کمرے میں چلی جاؤ۔۔۔رحمت بوا نے زندگی میں پہلی بار اسے سخت لہجے اور تحکم بھرے انداز میں کہا”

حیات نے بے حد ناراضگی سے ان کی طرف دیکھا”

اسکی دھواں دھواں ہوتی نم نگاہوں میں ماحر خان کیلئے نفرت ہی نفرت تھی۔

پھر بنا کچھ بولے ایک غصیلی نگاہ وہ اس پر اور ساتھ کھڑے اسکے گارڈز پر ڈالے پاؤں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

کمینہ انسان اداکاری سے امپریس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔بوا بھی اس چالباز کی باتوں میں آ گئیں۔۔۔اس ہمدردی کا مقصد یقیناً مجھ پر ہی دسترس پانا ہوگا۔

جو بھی کر لے میں خود کو اس کے جذبوں کا تر نوالہ کبھی نہیں بننے دوں گی۔پیسہ اور پاور کیا مل گئی پتہ نہیں سمجھتا کیا ہے خود کو یہ ذلیل انسان۔جتنی بھی کوشش کر لے مجھے کبھی حاصل نہیں کر پائے گا۔میرے معاملے میں کبھی فاتح نہیں بن پائے گا۔۔۔۔مجھ سے ٹکرائے گا تو بھسم ہو جائے گا۔ایک بار مون خیریت سے واپس آجائے بتاؤں گی میں اسے کہ حیات عبدالرحمان کس بلا کا نام ہے۔اس نے نئے عزم سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔۔۔۔۔

جب لہریں سرکشی اور بغاوت پر آ جائیں تو ساحل کی تمام ہٹ دھرمی اور ضد توڑ کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔پھر تباہیاں اور بربادیاں ساحل کو سائل بنا دیتی ہیں۔

“۔۔۔وہ اپنے کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلتی بری طرح کھول رہی تھی۔تلملا رہی تھی۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ لاؤنج میں بیٹھے ان تمام حالات کے ذمہ دار شخص کو جان سے مار دے۔ساتھ ہی اسے بوا پر بھی غصہ آ رہا تھا جس نے اسے بتائے بنا اس شخص سے مدد مانگ لی تھی۔

لیکن بوا کے پاس اس کا نمبر کہاں سے آیا ہوگا۔۔۔؟وہ سوچنے لگی’

کہیں مون کی کڈنیپنگ میں بھی اسی کا ہاتھ تو نہیں اب پہلی سوچ کو چھوڑ کر ایک نئے خیال نے اسکے رگ و پے میں سنسنی آمیز اشتعال پیدا کر دیا۔۔۔۔۔وہ آندھی طوفان کی مانند دوبارہ لاؤنج میں آئی جہاں وہ صوفے پر بیٹھا رحمت بوا سے مون کے متعلق تفصیلات پوچھ رہا تھا۔

میرے بھائی کو تم نے اغوا کروایا ہے نا۔۔۔؟؟

اس نے آتے ہی کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے ہمیشہ کی طرح بنا ثبوت کے الزام لگایا۔

وہاٹ۔۔۔۔وہ سخت متحیر ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔

میرے سامنے یہ گھٹیا ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں اسے اپنی فلموں کیلئے سنبھال کر رکھو۔۔سیدھی طرح شرافت سے میرے بھائی کو میرے حوالے کرو۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔خدا کی قسم برباد کر کے رکھ دوں گی تمہیں۔۔۔وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرنے لگی۔

جتنی سختی و تندی اسکے لہجے میں تھی اس سے زیادہ کڑواہٹ و تنفر اسکے لفظوں میں تھا۔۔

حیات۔۔۔۔۔بوا نے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے تنبیہہ کی۔

پلیز بوا آپ خاموش رہیے میں نہیں چاہتی کہ آپ سے کوئی بدتمیزی کر بیٹھوں۔۔۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولی

ہاں میرا لحاظ کیوں کرو گی تم۔۔۔۔۔۔۔میں کوئی تمہاری سگی ماں تھوڑی ہوں۔۔۔جیسے اسے بے عزت کر رہی ہو

مجھے بھی کرو۔۔۔ کیونکہ میں نے ہی تو بلایا ہے اسے”

رحمت بوا اچانک منہ پر ڈوپٹہ رکھ کر رونے لگیں”

حیات انکے اس ایموشنل سین پر بوکھلا گئی۔اور اپنے غصہ کو جھٹک کر فوراً آگے بڑھی۔۔

سوری بوا۔۔۔۔پلیز آپ روئیں مت۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی پلیز معاف کر دیں۔۔۔

اس نے انکے گلے میں اپنے بازو ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

ٹھیک ہے اگر تمہارے دل میں میرے لئیے ذرا سی بھی عزت ہے تو گھر آئے مہمان سے معافی مانگو گی۔۔انہوں نے خاموش تماشائی بنے کھڑے ماحر کی طرف اشارہ کیا۔۔

کیا۔۔۔۔وہ بھونچکا رہ گئی۔۔اپنے بازو انکے گرد سے فوراً ہٹائے”

ماحر کی طرف سے مکمل طور پر رخ موڑ لیا۔۔

“سوری بوا میں کوئی معافی نہیں مانگوں گی کسی سے۔ہاں البتہ اب میں کچھ نہیں کہوں گا۔۔آپ لوگوں کو جو کرنا ہے کیجئے۔۔بس مجھے میرا بھائی صحیح سلامت چاہیے۔۔۔۔اپنی بات کہہ کر وہ ان کے تاثرات دیکھنے کیلئے رکی نہیں اور کمرے میں آ کر جائے نماز بچھا کر دعا مانگنے لگی۔۔۔

بہت ضدی ہٹ دھرم ہے۔۔۔جان سے گزر جائے گی مگر اپنی انا نہیں توڑے گی۔۔۔۔

جانتا ہوں۔۔ڈونٹ وری آپ گھبرائیے نہیں میں نے قطعی مائنڈ نہیں کیا۔اتنے سنگین الزامات برداشت کر گیا ہوں یہ الزام تو کچھ بھی نہیں۔۔ویسے بھی میں سمجھتا ہوں ایسی صورتحال میں شک اسی پر ہی جاتا ہے جو ہماری نظروں میں پہلے ہی مشکوک ہو۔۔۔۔

اینی وے۔۔ان لوگوں نے کیا کہا تھا کہ کتنے بجے فون کریں گے۔۔۔؟؟وہ اغواہ کاروں کے متعلق پوچھنے لگا

نو بجے کال آئی تھی انکی بیٹا اور ایک گھنٹے بعد کا کہا تھا۔۔

ماحر نے رسٹ واچ میں ٹائم دیکھا نو بج کر پچاس منٹ تھے۔۔۔۔دس بجنے والے ہیں شائد کچھ دیر میں آ جائے کال۔وہ سوچتے ہوئے بولا”

ہاں شائد۔۔ رحمت بوا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

ارے تم کھڑے کیوں ہو بیٹا۔۔۔بیٹھ جاؤ نا۔۔اچانک انہیں خیال آیا کہ وہ کب سے کھڑا ہوا ہے۔

جی۔۔وہ بیٹھ گیا اور انہیں تسلیاں دینے لگا۔کیونکہ رحمت بوا کا رونا دھونا پھر سے سٹارٹ ہو چکا تھا”

آخر کار امید کے مطابق دس بجے اغواہ کاروں کی حیات کے موبائل پر دوبارہ کال آئی۔اپنا موبائل وہ خود ہی وہاں چھوڑ گئی تھی۔

ماحر نے ریسیو کی کال ان لوگوں سے بات کی اور انکی شرط کو مانتے ہوئے رقم کی حامی بھری۔۔۔۔۔مگر ساتھ میں یہ بھی دھمکی دی اگر وعدہ خلافی کی گئی بچے کو ذرا سا بھی نقصان پہنچا تو وہ انہیں پاتال سے نکال کر مارے گا۔۔۔۔

ان لوگوں نے یقین دہانی کرائی ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔انہیں صرف پیسوں سے غرض ہے اگر پولیس کو انوالو نا کر کے دھوکا نا دیا گیا تو پیسے لے کر صحیح سلامت وہ بچے کو لوٹا دیں گے۔۔

ماحر نے فرقان کو کال کی۔۔۔۔اسے معاملہ سمجھا کر بھیجا پھر فرقان ایک کروڑ لے کر انکی مطلوبہ جگہ پر گیا۔۔۔۔اور آدھے گھنٹے کے جان لیوا انتظار کے بعد بالآخر مون کو صحیح سلامت لے آیا تھا۔۔۔۔۔

کمرے میں بیٹھی دعا مانگتی حیات مون کی آواز سن کر تیر کی طرح باہر نکلی اور اس سے لپٹ گئی۔۔اور

زاروقطار روتے ہوئے اسے چومنے لگی۔۔۔کچھ دیر کیلئے تو وہ لاؤنج میں ماحر خان کی موجودگی کو بھی فراموش کر گئی تھی۔۔

ماحر اسے روتا دیکھ کر عجیب سے احساسات کا شکار ہونے لگا۔۔۔

رو دھو کر جب دل کا غبار دھلا تو اس کے سامنے اس طرح رونے پر عجیب سی شرمندگی ہونے لگی تو مون کا ہاتھ پکڑے فوراً کمرے میں چلی آئی۔

یہاں بیٹھو اور مجھے بتاؤ کون تھے وہ لوگ۔۔انہوں نے تمہیں ڈانٹا یا مارا تو نہیں۔۔۔؟؟اسے بیڈ پر بٹھا کر وہ پریشانی سے مون کو چھو چھو کر چیک کرنے لگی کہ کہیں کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں۔۔

نہیں آپی مارا کسی نے نہیں پر وہ بہت برے لوگ تھے۔انکی شکلیں بہت ڈراؤنی تھیں۔مجھے انہوں نے کھانا بھی دیا مگر میں نے نہیں کھایا۔۔۔۔۔۔میں نے کہا مجھے میری آپی اور بوا کے پاس جانا ہے تو ایک ڈرٹی مین نے ڈانٹا پھر میں چپ ہو کر روتا رہا۔۔۔

وہ معصومانہ انداز میں بتانے لگا۔۔۔

حیات نے بے اختیار نم آنکھوں سے اس کا ماتھا چوما۔۔

تم میرا سہارا ہو مون آئندہ کبھی بھی اکیلے سکول سے باہر مت نکلنا جب تک میں یا بوا تمہیں لینے نا آجائیں۔

باہر برے لوگ گھوم رہے ہوتے ہیں جو پکڑ لیتے ہیں۔۔

وہ اسے پیار سے سمجھانے لگی۔۔

اوکے آپی سوری۔۔۔۔۔مون نے جھٹ کانوں کو ہاتھ لگائے

وہ بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی۔

بھوک لگی ہے۔۔۔؟مون نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا۔

اوکے تم یہیں بیٹھو میں تمہارا فیورٹ پاستا بنا کے لا لاتی ہوں۔۔اسکا گال چومتے ہوئے وہ مسکرا کر اٹھی۔

کچن میں جانے کیلئے لاؤئج سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا وہ

وہ ابھی تک اپنے گارڈز کے ساتھ وہاں موجود تھا۔حیات

دبے قدموں وہاں سے گزری مگر گزرتے ہوئے ایک اچٹتی سی نظر ان پر ڈالی۔۔۔۔رحمت بوا سامنے بیٹھی تھیں ماحر کی اسکی طرف پشت تھی۔۔۔جبکہ اس کے گارڈز مؤدب ہو کر سر جھکائے کھڑے تھے۔پھر بھی اسے یقین تھا اسکے وہاں سے گزرنے کو ان سب نے محسوس کر لیا ہوگا۔

وہ کچن میں آ گئی۔۔لاؤنج سے آنے والی آوازیں اسے با آسانی سنائی دے رہی تھیں۔

بیٹا تمہارا قرض تو ہم کبھی نہیں اتار سکتے۔جو تم نے ہمارے لئیے کیا وہ اپنے بھی نہیں کرتے۔ہم مرتے دم تک تمہارا یہ احسان نہیں بھولیں گے۔۔بوا فرط جذبات سے رونے لگیں۔

ارے آنٹی جی آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں۔میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔یہ رقم کوئی بڑی رقم نہیں تھی میرے لئیے۔۔ آپ لوگوں کی مشکل آسان کرنے میں کام آ گئی۔۔۔اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔۔۔

آپ مجھے شرمندہ مت کریں پلیز۔۔۔

اس کا لہجہ واقعی پرخلوص تھا یا یونہی کوئی ناٹک تھا وہ سمجھ نہیں پائی۔۔

لیکن اس کے دل اس شخص کیلئے پھر بھی کوئی گنجائش نہیں تھی۔۔۔

کیا واقعی ارتضیٰ کو اسی نے مروایا ہوگا۔۔۔۔؟پتیلی میں پانی ڈال کر چولہے پر رکھتے ہوئے پہلی بار وہ جذبات سے ہٹ کر سوچ رہی تھی۔

اسکے دل و دماغ میں عجیب سی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔

دماغ کہہ رہا تھا اگر ارتضیٰ کو اسی نے مروایا ہوتا تو اسکے بعد لازمی مجھے زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔نا کہ آرام سے رشتہ مانگتا۔۔۔۔

جبکہ دل کہہ رہا تھا یہ اس کی کوئی چال ہو سکتی ہے۔یوں بھی ایکٹر ہے تو ایکٹنگ میں تو ماہر ہو گا ہو سکتا ہے سب اپنی پوزیشن کلئیر کرنے کیلئے میرے دل میں جگہ بنانے کیلئے کر رہا ہو۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا دل کی سنے یا دماغ کی۔۔۔

مجھے دیکھو اسکے سامنے جذباتی ہو کر اتنے برے طریقے سے رونے لگی۔اچانک کچھ دیر پہلے کا اپنا رونا یاد آیا۔وہ پاسٹے کا پیکٹ پتیلی پانی میں انڈیلتے ہوئے سوچنے لگی۔

کیا سوچتا ہوگا میرے بارے میں۔کام تو بڑے بڑے کرتی ہے پر اندر سے کس قدر بزدل اور کمزور لڑکی ہے۔اس کے سامنے نہیں رونا چاہیے تھا۔

اس نے خود کو سرزنش کی۔لاونج سے آوازیں آنا بند ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔اس نے جھانک کر دیکھا وہ جا چکا تھا۔جبکہ بوا وہیں عشا کی نماز ادا کر رہی تھی۔وہ گہری سانس لے کر مون کیلئے پاستا بنانے لگی۔۔⁩

گرینڈ ہوٹل کا وسیع و عریض ہال لوگوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔جس میں زیادہ تعداد میڈیا کے نمائندوں کی تھی۔فلیش لائٹس کا ایک طوفان چمک رہا تھا۔ماحر خان کی فلم گینگسٹر ٹو کا لانچنگ پریمیئر تھا۔۔۔۔اس فلم کا ہیرو اگرچہ ماحر خان کا بھائی زین سکندر خان تھا۔مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ فلم خان پروڈکشن ہاؤس کے بینر تلے بنی تھی اور ڈائریکٹ اور پروڈیوس بھی ماحر خان نے کی تھی۔اس لئیے اتنا چرچا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔گینگسٹر ٹو کے ٹریلر نے ہی فلم شائقین کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔جبکہ فلم کا ایٹم سانگ یوٹیوب پر ٹاپ ٹرینڈنگ میں چل رہا تھا۔امید تھی کہ اس فلم میں زین خان کی ایکٹنگ شائقین کو متاثر کر سکے گی۔پریمئر کی تقریب میں ماحر خان کے بہت سے فلمی دوست بھی آئے ہوئے تھے۔

ماحر خان آ گئے۔ماحر خان آ گئے۔۔ایک شور سا مچ گیا

انیس سال سے انڈسٹری پر راج کرنے والا خان۔۔۔۔

ہال میں موجود سب میڈیا والوں کے کیمروں کا رخ ماحر کی طرف تھا۔۔سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس سیاہ گاگلز لگائے وہ بے تحاشا ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔۔دائیں بائیں دونوں بھائی زین خان اور عبیر خان تھے جبکہ علی کاظمی سمیت چند اور فرینڈز بھی ساتھ میں موجود تھے۔ہمیشہ کی طرح شائقین بڑے شوق سے اور اشتیاق سے خان برادرز کو دیکھ رہے تھے۔

سر آپ کی فلم کا ٹریلر بہت ہی ہٹ ہوا ہے یقیناً فلم بھی بہت ہٹ ہو گی۔آپ کیا سمجھتے ہیں کتنے کروڑ کا بزنس کرے گی۔۔۔۔ایک رپورٹر نے سوال کیا”

امید تو ہزار کروڑ کی ہے۔۔۔اس نے مسکرا کر کہا”میڈیا والے سمجھ نا سکے وہ مذاق کر رہا ہے یا سیریس بول رہا تھا۔کیونکہ ہیرو تو وہ خود تھا نہیں اس میں تو کیا فلم ہزار کروڑ کا بزنس کر پاتی۔۔۔۔؟؟

سر ہیرو تو اس میں آپ کے بجائے زین خان ہیں۔۔۔پھر بھی فلم ہزار کروڑ کا بزنس کرے گی کیا۔۔؟؟ایک رپورٹر نے تو کہہ بھی دیا۔

کیوں نہیں میرے بھائی نے بہت اچھی ایکٹنگ کی ہے اس میں۔اس نے ساتھ کھڑے زین کے کاندھے پر محبت سے ہاتھ رکھا۔

ویسے بھی امید تو اچھی رکھنی چاہیے۔۔۔۔۔اینی وے لیٹس سی۔۔اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور دوسرے رپورٹرز کی طرف متوجہ ہو گیا۔جو سوال پر سوال کر رہے تھے۔ان رپورٹرز کو بھگتانا بھی ایک جان جوکھم کام تھا۔جس سے وہ پچھلے انیس سالوں سے نپٹتا آ رہا تھا۔پبلک پلیس ہو۔کوئی پارٹی ہو۔۔ائیر پورٹ ہو۔۔شوٹنگ لوکیشن ہو۔۔۔۔۔رپورٹرز اور فینز دیکھتے ہی شہد کی مکھیوں کی طرح گھیر لیتے۔۔۔۔اور جب عیدین کا تہوار آتا تب تو میلہ دیکھنے لائق ہوتا۔۔۔خان ہاؤس کے باہر لوگوں کا اتنا بڑا طوفان امڈ پڑتا جیسے کسی جلسے کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے۔۔ پھر جب تک ماحر خان اپنی فیملی کے ساتھ ٹیرس پر کھڑے ہو کر عوام کی طرف ہاتھ ہلا ہلا کر ان کا شکریہ ادا نا کرتا لوگوں وہیں ڈیرا ڈال کر کھڑے رہتے۔۔

فلم کی لانچنگ کے بعد سب نے ماحر خان کو مبارکباد دی۔۔پھر لائٹس مدھم ہوئیں اور ڈانس پارٹی شروع ہو گئی۔ٹاپ سکرٹ میں ملبوس فلم کی ہیروئن نتاشا دلال اور ہیرو زین خان نے ڈانس کیا۔۔۔ان کے علاؤہ بہت سے شوبز کپلز نے بھی ڈرنک کر کے ڈانس کیا۔ماحر کچھ ہیروئنز کے اصرار کرنے کے باوجود بھی ڈانس فلور پر نہیں گیا۔صرف ڈرنک کرتے ہوئے دوسروں کی ڈانس انجوائے کرتا رہا۔⁩

حیات کو نا نوکری ملنی تھی اور نا ملی۔کئی بار اسے ایسا بھی محسوس ہوا جب وہ کہیں انٹرویو کیلئے جاتی تو کوئی اس کا پیچھا کرتا تھا۔مگر کبھی وہ اسے اپنا وہم سمجھتی اور کبھی پریشان ہو کر سوچتی رہتی۔۔۔۔۔آج جب وہ عبدالرحمان کو دیکھنے ہاسپٹل آئی تو ان کے کمرے میں نیلے رنگ کے ملگجے سے شلوار قمیض میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر انجان آدمی کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا۔۔

وہ برق رفتاری سے آگے بڑھی اور سخت لہجے میں پوچھا۔

کون ہیں آپ اور یہاں کیا رہے ہیں۔۔؟؟

آپ اس مریض کی کیا لگتی ہیں۔۔۔؟؟

آواز سن کر اس شخص نے پلٹ کر اسے دیکھا مگر جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کیا”

میرے بابا ہیں یہ لیکن آپ کون ہیں اور یہاں کر کیا رہے ہیں۔۔ ؟؟

تیکھے لہجے میں ماتھے پر بل ڈالے اس نے دوبارہ وہی سوال کیا۔۔۔

مجھے آپ سے ان کے بارے میں کچھ بات کرنی ہے۔اس نے آنکھیں بند کیے لیٹے عبدالرحمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا”۔۔۔کیا آپ دو منٹ کہیں بیٹھ کر میری بات سن سکتی ہیں۔۔۔؟اس نے جیسے درخواست کی تھی”

حیات نے چند پل حیرانگی سے بغور اسے دیکھا اور پھر اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔۔اور خود بھی اسکے پیچھے باہر آئی تو کوریڈور میں وہ نرس آتی دکھائی دی جسے عبدالرحمان صاحب کی دیکھ بھال کیلئے مامور کیا گیا تھا۔

آپ ہاسپٹل کے گارڈن میں جا کر بیٹھیں میں ابھی آتی ہوں وہ اس آدمی سے مخاطب ہوئی تووہ سر ہلاتے ہوئے گارڈن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔حیات نرس کی طرف متوجہ ہوئی جو قریب آ چکی تھی”

کیسی غیر ذمہ دار اور لاپروا انتظامیہ ہے اس ہاسپٹل کی۔کس بات کی فیس لیتے ہیں آپ لوگ۔میرے فادر کا اس طرح خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی بھی انجان شخص انکے کمرے میں گھس آئے۔

وہ نرس پر الٹ پڑی۔۔۔

کیا ہوا میم۔۔۔۔؟وہ حیران ہو کر بولی

ایک اجنبی شخص میرے فادر کے کمرے میں تھا۔اگر وہ انہیں کوئی نقصان پہنچا دیتا تو۔۔۔۔وہ سرد مہری سے بولی

سوری میم غلطی ہو گئی۔میں دو منٹ کیلئے نرسنگ روم میں اپنا فون چارجنگ پر لگانے گئی تھی۔۔۔۔اسی وقت وہ صاحب اندر آ گئے ہونگے۔پلیز آئی ریکوئسٹ یو ڈاکٹر وارثی سے میری کمپلین مت کیجئے گا ورنہ وہ میری اس لاپرواہی پر مجھے نوکری سے نکال دیں گے

نرس گھبرا کر منت کرنے لگی۔۔۔

میرے فادر کا خیال رکھو میں تھوڑی دیر میں آ رہی ہوں۔ اس نے نرس کی منت کو اگنور کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہا اور ہاسپٹل کے گارڈن میں چلی آئی جہاں سامنے بینچ پر ہی وہ نیلے ملگجے کپڑوں والا شخص بیٹھا دکھائی دے گیا”

جی فرمائے کون ہیں آپ اور کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔؟اس کے قریب جا کر وہ سپاٹ لہجے میں بولی۔

میرا نام خضر ہے میں ایک ٹرک ڈرائیور ہوں۔میرے ہی ٹرک سے آپ کے والد کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔۔۔جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔۔وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔حیات کے چہرے پر پہلے حیرانی پیدا ہوئی جو اگلے ہی پل غصے میں بدل گئی۔۔۔۔۔وہ اس آدمی کو کچھ سخت سنانے ہی والی تھی کہ وہ فوراً بولا۔۔

بیٹی میں جانتا ہوں آپ کو یہ بات جان کر غصہ آ رہا ہے لیکن خدارا پہلے میری پوری بات سن لو میں سخت تکلیف میں مبتلا ہوں۔۔۔۔۔۔اس نے جیسے التجاء کی

حیات نے لب بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کیا”

وہ پھر کہنے لگا”

اس دن معمول کی طرح میں اپنا ٹرک چلا رہا تھا۔جلدی پہنچنے کی وجہ سے میری سپیڈ بہت تیز تھی۔۔۔۔لیکن میرا روٹ غلط نہیں تھا اچانک میں نے دیکھا ایک گاڑی میرے ٹرک کے بالکل سامنے آ گئی۔۔۔۔اگرچہ میری سپیڈ تیز تھی لیکن مجھے محسوس ہوا گاڑی کے ڈرائیور سے گاڑی آؤٹ آف کنٹرول ہو رہی تھی۔۔۔۔بدقسمتی سے اس دن میرے ٹرک کی بریک کچھ مسئلہ کر رہی تھی میں نے سوچا تھا اسی دن اسے ٹھیک کرواؤں گا مگر مہلت نہیں مل پائی اور پہلے ہی ایکسیڈنٹ ہو گیا۔۔اس کے لہجے میں شدید افسوس تھا۔

میں نے بریک لگانے کی بہت کوشش کی مگر لگی نہیں اور گھبراہٹ میں میں ٹرک کو موڑ بھی نہیں سکا۔۔پھر

میں ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔اگرچہ مجھے خود بھی چوٹیں آئی تھیں۔۔لیکن ان چوٹوں سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ میرے ٹرک سے کسی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا پتہ نہیں وہ بچا بھی ہوگا یا نہیں اس دن کے بعد سے میں پولیس کے خوف سے گھر سے نکلا نہیں۔مگر میرا ضمیر مسلسل مجھے ملامت کرتا رہا۔۔اگرچہ ساری غلطی میری نہیں تھی میں اپنی درست سائیڈ سے آ رہا تھا گاڑی میری سائیڈ پر آئی تھی۔پھر بھی میں نے بہت کوشش کی بچانے کی مگر۔۔۔اس شخص کی آواز بھرا گئی تھی وہ خاموش ہو گیا۔حیات سپاٹ چہرے کے ساتھ سامنے لگے پودوں کی طرف دیکھتی اسکی بات سن رہی تھی۔

اس شخص نے اپنے بھرائے ہوئے لہجے پر قابو پایا اور دوبارہ گویا ہوا۔۔۔

آٹھ مہینے ہو گئے مجھے ٹرک چلاتے ہوئے۔لیکن ان آٹھ مہینوں میں پہلی بار کوئی ایکسیڈنٹ ہوا مجھ سے جس نے میرا چین سکون سب چھین لیا۔میں راتوں کو سو نہیں پاتا۔۔میرے کانوں میں وہ چیخیں گونجتی ہیں جو ایکسیڈنٹ کے وقت سنی تھیں۔ڈرائیونگ چھوڑ دی میں نے۔۔جس کا ٹرک تھا اس کو واپس کر دیا۔

اور اس کام سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے توبہ کر لی بہت مشکلوں سے میں آپ کے والد کا پتہ لگا کر یہاں تک آیا ہوں۔

یہ جان کر کہ جس آدمی کا میرے ٹرک سےایکسیڈنٹ ہوا وہ کومہ میں ہے میری تکلیف بڑھ گئی ہے۔۔میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر منت کرتا ہوں بیٹی میری تکلیف کم کر دو۔۔۔۔اگر آپ کہو گی تو میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے کو تیار ہوں مگر میری تکلیف کم کر دو۔۔۔

وہ اب باقاعدہ رو رہا تھا۔۔۔

حیات ششدر رہ گئی۔۔ کسی انجان آدمی کو اپنے باپ کیلئے روتے دیکھ کر اور وہ بھی ایک مرد۔۔۔

اسے احساس بھی نا ہوا آنسوؤں کے قطرے اسکے

شفاف گلابی گالوں پر بہنے لگے۔۔۔۔۔۔۔اب نامعلوم اس شخص کو روتے دیکھ کر بہہ رہے تھے۔اسکی باتیں سن کر یا اپنے باپ کی تکلیف کا سن کر۔۔۔۔وہ ساکت کھڑی تھی

کیا کر سکتی ہوں میں آپ کی تکلیف کم کرنے کیلئے؟

خاصی دیر بعد وہ بھیگے لہجے میں بولی

مجھے معافی دے کر۔۔۔۔اس شخص نے درد بھرے لہجہ میں کہا

اللّٰہ بھی تو معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا

ٹھیک ہے اگر آپ کی اس سے تکلیف کم ہوتی ہے تو جائیں معاف کیا میں نے آپکو۔۔یہ بات کہہ کر وہ جانے کیلئے مڑنے لگی تھی۔۔جب اس شخص کی پکار پر رک گئی اور پلٹ کر دیکھا۔

بیٹی اگر آپ برا نا مانو تو میں کبھی کبھی آپ کے والد کو دیکھنے آ جایا کروں۔۔؟وہ جھجھکتے ہوئے بولا

حیات نے کچھ دیر سوچا۔۔۔۔۔۔۔پھر سر ہلاتے ہوئے بولی ٹھیک ہے لیکن آپ کو پہلے مجھے اطلاع دینی ہوگی۔آپ جب آئیں گے تو نرس کے ذریعے مجھے انفارم کرنا ہوگا۔

شکریہ بیٹی۔۔۔خضر نامی اس ٹرک ڈرائیور کے چہرے پر قدرے رونق آ گئی۔۔۔پھر وہ شخص چلا گیا اور حیات بابا کے کمرے میں آ گئی۔۔۔

ایک بات تو کلئیر ہو گئی تھی کہ عبدالرحمان صاحب کے ایکسیڈنٹ میں ماحر خان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔مگر اسکے دل میں پھر بھی ماحر خان کیلئے کوئی پوزیٹو خیال پیدا نہیں ہوا کیونکہ اس کا نیگٹیو روپ بری طرح سے حیات کے دماغ پر حاوی ہو چکا تھا۔۔ پھر ارتضیٰ کے مرڈر والا معاملہ بھی جوں کا توں تھا۔۔اس کا شک ابھی بھی ماحر خان کی طرف ہی جاتا تھا۔مون والے معاملے میں مدد کر کے بھی وہ حیات کا دل اپنی طرف سے صاف نہیں کر پایا تھا۔۔۔

حسب معمول بابا کے پاس ایک ڈیڑھ گھنٹہ گزارا اور وہاں سے سیدھی مون کے سکول گئی۔۔۔مون کی ٹیچر سے اسکی پروگریس رپورٹ کا پوچھا اور ساتھ میں یہ بھی ریکوئسٹ کی اگر اس سکول میں کوئی ویکنسی خالی ہو تو اسے ضرور بتایا جائے۔۔۔۔

پھر مون کو لے کر وہ گھر آ گئ۔۔

تینوں نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔۔۔۔۔کھانے کے بعد رحمت بوا برتن دھونے لگی۔مون ویڈیو گیم کھیلنے لگا جبکہ وہ لاؤنج میں بیٹھ کر ریموٹ لیے چینل سرفنگ کرنے لگی۔۔۔یونہی چینل تبدیل کرتے ہوئے ایک چینل پر نظر پڑی تو جھٹکا کھا کر سیدھی ہوئی۔۔سانسیں تیز سے تیز تر ہوتی گئیں۔۔۔ریموٹ اسکے ہاتھ سے کب کا گر چکا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ دھاڑیں مار کر روئے یا خوشی منائے۔