Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 49) Part - 2
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 49) Part - 2
Meri Hayat By Zarish Hussain
اس بات سے آپ کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔اس نے
جھنجھلا کر کہا
کیوں نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔میرے ہوتے ہوئے تم کسی اور سے شادی کرو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔وہ ضدی انداز میں بول پڑا
کیا مطلب۔۔۔؟؟
اس کے انداز میں وحشت تھی۔۔۔۔۔سراسیمگی کی سی کیفیت میں مبتلا ہو گئی تھی وہ۔۔
وہ کچھ پل گہری نگاہوں سے اسکی طرف دیکھتا رہا۔۔پھر چند سیکنڈ سوچنے کے بعد کہا
اوکے پھر صاف صاف کہہ دیتا ہوں۔۔۔ تم سے دستبردار ہونا مجھے بہت مشکل لگتا ہے حیا۔۔۔ بلکہ سچ کہوں تو میں اپنی ذات کے لئیے تم سے دستبردار تو ہو سکتا ہوں مگر تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔اب تم اسے میری مجبوری سمجھو یا خود غرضی بس میرا میرا خود پر اختیار نہیں۔۔
وہ سکتے کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔کچھ دیر بعد بولنے کے قابل ہوئی تو منت بھرے انداز میں کہا
پلیز اسے چھوڑ دو۔۔وہ میرا ریلٹیو ہے۔۔کیا سوچے گا کہ پاکستانی کتنے گھٹیا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔پلیز فار گاڈ سیک چھوڑ دو اسے۔۔ٹھیک ہے میں کہیں نہیں جاؤں گی۔
وہ جیسے زچ ہو گئی تھی۔۔۔
اسکی رہائی تمہارے اقرار سے مشروط ہے۔۔
کیسا اقرار۔۔۔؟؟
میرے ساتھ رہنے کا اقرار۔تم ہامی بھرو میں رہا کر دوں گا اسے۔۔۔وہ چند قدم چل کر نزدیک آیا
دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا۔۔۔۔۔۔میں ایسے کیسے بنا کسی رشتے کے آپ کے ساتھ رہ سکتی یوں۔۔۔اسے شاک لگا
ہاں تو میں نے کب کہا بنا کسی رشتے کے رہو۔۔تم حامی بھرو ہم آج ہی نکاح کر لیتے ہیں۔۔اسکے پاس ہر جواب تھا۔۔
حیات کے پورے وجود میں شدید غصے کی لہر اٹھی
میں تم سے نکاح کروں گی۔بھول گئے ہو گیارہ ماہ پہلے کیا کیا تھا میرے ساتھ۔۔؟تمہیں لگتا ہے میں نے بھلا دیا ہے سب کچھ۔۔ہرگز نہیں ماحر خان۔۔میں مرتے دم تک نہیں بھولوں گی۔۔۔۔تم نے میری جان سے پیاری بوا کا قتل کیا۔۔۔۔انسپکٹر احمر کو مارا۔۔۔کیا قصور تھا انکا۔؟
جواب دو مجھے۔۔۔صرف یہ وہ میرے خیر خواہ تھے۔
یہی غلطی تھی انکی اور تم نے انکی جان لے لی۔۔
وہ سخت برا فروختہ ہو رہی تھی۔۔۔
میں کسی کو نہیں مارا حیا۔۔۔۔جس دن تم بوا کے لئیے سوپ بنانے گھر گئی تھیں۔۔تمہارے جانے کے بعد اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہوا تھا۔۔اس وقت
تم میری بات نہیں مان رہی تھیں مجھے تم پر غصہ تھا
اسی لئیے میں نے ڈاکٹر اور نرسز کے ذریعے وہ سب کچھ کروایا۔۔اور رہی بات احمر کی تو اسے کچھ نہیں ہوا وہ زندہ ہے۔۔
مجھے تمہاری باتوں پر یقین نہیں سمجھے۔۔۔میں وہ سب کچھ کبھی نہیں بھول سکتی۔۔۔اب مزید جھوٹ
بول کر اپنے گناہوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشش مت کرو
وہ بھڑک اٹھی تھی۔۔اسکا لہجے میں نفرت ہی نفرت اور غصہ ہی غصہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر تیزاب ڈال کر مسخ دے
وہ عجیب تاثرات کے ساتھ اسے دیکھتا رہا۔۔پھر اس نے ایک گہری سانس لے کر اسکے چہرے سے نظر ہٹا لی
میں جانتا ہوں تمہیں اب میری کسی بات کا یقین نہیں آئے گا۔۔تمہاری نظروں میں میں اپنا اعتبار گنوا چکا ہوں۔۔ٹھیک ہے میں ثبوت دکھاؤں گا تمہیں۔۔رہی بات
اس سب کی تو میں جانتا ہوں تم نے وہ سب کچھ نہیں بھلایا ہوگا۔۔وہ سب کچھ بھلانا آسان ہے بھی نہیں لیکن میں تم سے ایکسکیوز۔۔۔؛؛
اپنا ایکسکیوز اپنے پاس رکھیں۔۔ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔حیات نے تیز لہجے میں اسکی بات کاٹی
مانتا ہوں مجھ سے غلطی۔۔۔حیات نے دوبارہ اسکی بات کاٹ دی۔۔
وہ کوئی غلطی نہیں سوچا سمجھا منصوبہ تھا آپ کا
بے خیالی میں تم سے پھر آپ پر آ چکی تھی۔
نہیں میں نے وہ سب وقتی اشتعال میں آ کر کیا تھا کیونکہ مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی کہ تم نے وہ ریکارڈنگز وائرل کیں۔۔پھر اس کے بعد جو کچھ ہوتا
رہا وہ سب غصے کے باعث ہوتا گیا۔لیکن میرا غصہ وقتی تھا۔تمہارے جانے کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت بے چین ہو گیا تھا میں۔دن رات پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا۔پھر جب میں لاہور میں شوٹ پر تھا وہاں تمہاری موجودگی کی اطلاع ملی یقین کرو بہت بری کیفیت تھی میری یہ سوچ کر کہہ
تم میرے قریب تھیں اور تمہیں پہچان بھی نا سکا۔
میں اس کوٹھے پر بھی گیا تھا جہاں وہ آدمی تمہیں
لے کر گیا تھا۔میرا دل کر رہا تھا اس آدمی کو شوٹ
کر دوں۔۔لیکن کیا کرتا غلطی میری اپنی تھی نا مجھ سے وہ سب ہوا ہوتا نا تم ان مشکلات کا شکار ہوتی
پھر جب مجھے تمہارا ایڈریس ملا اور میں تم نے اتنے
عرصے بعد تمہیں دیکھا۔۔میں اپنی فیلنگز تمہیں بتا
نہیں سکتا حیا جو اسوقت تھیں۔شائد کبھی بتا بھی
نا سکوں۔۔میں تم سے معافی مانگنا چاہتا تھا مگر تم
سمجھیں کہ میں شائد پھر بدلا لینے آیا ہوں اسی لئیے
فلم کے لئیے حامی بھر دی۔۔یقین کرو میری اب کوئی
خواہش نہیں رہی تھی تم سے فلم کروانے کی مگر میں
نے صرف اس لئیے ہاں کی تاکہ تمہیں اپنے قریب رکھ سکوں۔۔شوٹنگ کے دوران تمام وقت مجھے محسوس ہوتا رہا کہ تم مجھ سے سخت متنفر ہو۔۔۔شدید غصہ
ہے تمہارے دل میں میرے لئیے۔۔بلکہ ناپسند بھی کرتی ہو مگر میں چپ رہا اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہا
کیونکہ تم اپنے رویے میں حق بجانب تھیں۔۔۔میں نے
سوچا شوٹنگ ختم ہوتے ہی میں تم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگوں گا۔۔۔۔فلم کے معاوضے کا بہانہ کر کے
چیک دوں گا۔۔۔۔۔ فلم میں کبھی بھی نئے بندے کو اتنا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔۔۔مگر میں تمہارے مالی نقصان کی تلافی کرنا چاہتا تھا جو میری وجہ سے ہوا۔۔لیکن۔
بس کریں مجھے آپ کا مزید لیکچر نہیں سننا۔اب آپ کو صفائی دینے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں کیونکہ
میرا دل آپ کے لئیے پتھر کی طرح سخت ہو چکا ہے
جس پر آپ کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔۔رہی
بات غصے کی تو غصہ تو میں آپ پر بالکل نہیں ہوں
کیونکہ غصہ بھی اس پر کیا جاتا ہے جس سے کوئی رشتہ ہو۔۔۔ اور ہاں میں آپ کو ناپسند نہیں کرتی بلکہ
نفرت کرتی ہوں شدید نفرت۔۔۔مزید اس ٹاپک پر مجھے کوئی بات نہیں کرنی صرف اتنا بتائیں کہ میرے کزن کو چھوڑ رہے یا نہیں۔۔۔۔؟؟حیات کا انداز دو ٹوک تھا
ماحر کے چہرے پر سرخی چھا گئی تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔۔؟؟
کیا قصور ہے اس کا۔۔۔؟؟ وہ چلائی
تمہیں اپنانے کا سوچا اس نے۔۔۔وہ تلخی سے بولا
کب تک رکھو گے اسے اپنی قید میں۔۔۔؟؟
اس کے شفاف چہرے پر آنسوؤں کے قطرے پھسلنے لگا
جب تک تم مجھے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔۔
میں آپ کو کبھی قبول نہیں کروں گی۔۔۔اس کا پتھر پر لکیر تھا
میں انتظار کر لوں گا۔۔۔وہ نا امید نہیں ہوا
کب تک کرو گے۔۔۔؟؟ وہ بری طرح مشتعل ہوئی
آخری دم تک۔۔۔اس نے گہری سانس لے کر کہا
جواباً وہ کچھ دیر تو اسے طیش بھرے انداز میں گھورتی رہی پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔
میں آپ کی بات نا مانوں تو۔۔۔۔؟؟
تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔میں کبھی بھی گن پوائنٹ پر تم سے نکاح نہیں پڑھواؤں گا۔۔۔۔۔کبھی بھی کسی قسم کی زبردستی نہیں ہوگی تم پر۔۔۔تم دنیا کے جس کونے میں بھی جانا چاہو گی آرام سے چلی جانا۔۔میں تمہیں کبھی بھی نہیں روکوں گا۔۔لیکن ایک پل کے لئیے بھی تمہیں اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔
سائے کی طرح تمہارے پیچھے پیچھے پھروں گا۔تمہاری حفاظت کروں گا۔لیکن ہاں اپنے اس پیارے کزن کو بھی بھول جانا وہ تب تک میری قید میں رہے گا جب تک تم
مجھے معاف کر کے میرا ساتھ قبول نہیں کرو گی۔۔
نہایت ہی گھٹیا کمینے اور بے حس قسم کے انسان ہو۔۔
تم مجھے کبھی نہیں پا سکتے سمجھے اور نا ہی میں تمہیں کبھی معاف کروں گی۔۔۔۔۔چاہے مر بھی جاؤ یہ حسرت تمہارے ساتھ ہی قبر میں جائے۔۔۔۔
تمہاری یہی ضد بھری باتیں۔۔۔۔بچکانہ رویہ اور خود سری مجھے عقل و شعور سے بیگانہ کرنے لگتی ہے۔۔
اس لئیے مجھے کسی ایسے راستے پر چلنے کیلئے ہرگز مجبور مت کرو کہ بعد میں تاحیات میں پچھتاوں اور
ندامتوں کے سمندر میں رہ کر گزار دوں۔۔۔۔اسکا لہجہ
زخمی سا تھا۔۔
۔۔۔۔کچھ پل تنفر بھری نگاہوں سے وہ اسے گھورتی رہی پھر صوفے پر بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام لیا۔۔۔وہ قریب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ناجانے کتنی دیر وہ یونہی بیٹھی رہی۔۔۔۔پھر اچانک اپنا سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔۔نیلی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔۔
اسے چھوڑ دو میں تمہیں قبول کرنے کو تیار ہوں۔۔اس نے اچانک فیصلہ سنایا اور دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
واقعی۔؟؟اسکے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔۔۔مگر حیات نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اسی طرح منہ چھپائے روتی رہی۔۔
اسکے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔
اونہوں پلیز اس طرح نہیں۔۔۔میں اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز روتے سسکتے نہیں کرنا چاہتا۔۔مسکرا کر دل سے
سے اقرار کرو کہ تمہیں میرا ساتھ ہنسی خوشی منظور
ہے۔تاکہ ہماری میریڈ لائف اچھی گزرے۔۔میں تم پر کسی
قسم کی زبردستی یا جبر نہیں کرنا چاہتا۔۔اپنی خوشی
اپنی رضا سے میرا ہاتھ تھامو پلیز۔۔وہ گھٹنوں کے بل اسکےقریب کارپٹ پر بیٹھتا ہوا بولا
مجھے نہیں معلوم۔۔۔ میں نہیں چاہتی مزید کسی کی جان میری وجہ سے جائے۔۔ایک بے گناہ انسان کی جان
بچانے کے لئیے ہاں کر رہی ہوں۔۔۔مزید کوئی توقع مت
رکھنا مجھ سے۔۔۔وہ آنسوؤں کے درمیان بپھر کر بولی
چلو میرے لئیے نا سہی باقی دنیا کے لئیے تو تمہارے دل میں نرم گوشہ ہے نا۔۔سو اتنی تسلی ہو گئی ہے کہ مستقبل میں اگر تمہارا دل میرے لئیے نرم نا بھی ہوا
لیکن میرے بچوں کے لئیے تو ضرور ہوگا۔۔وہ ہنستے
ہوئے بولا۔۔۔۔۔اس کے اقرار نے اسکے اندر جیسے نئی
روح پھونک دی تھی۔وہ ہلکا پھلکا ہو گیا۔اس کے لب مسکرانے لگے۔۔آنکھیں جگمگا اٹھیں۔۔۔
میرے سامنے بے ہودہ باتیں کرنے کی ضرورت نہیں۔۔
اس کا چہرہ غصے اور شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔تنفس
تیز تھا۔۔۔۔آنکھوں میں پانی چمک رہا تھا۔
اوکے ابھی نہیں کرتا۔۔لیکن بعد میں تو کر سکتا ہوں نا
اسکے لبوں پر چڑانے والی دھیمی مسکراہٹ تھی۔
حیات نے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔غصہ و جنون
ضبط کرنے کی کوشش میں وہ ہونٹ کاٹ رہی تھی
اب اسے رہا کریں اور میری بات کروائیں۔۔۔۔۔۔میں اسے واپس ترکی لوٹ جانے کا بولوں گی۔۔۔۔۔۔وہ اس پر قہر
آلود نگاہ ڈال کر بمشکل اپنے لہجے کو کنٹرول کرتے ہوئے گویا ہوئی۔
کر دوں گا اسے بھی رہا۔۔۔۔۔پہلے نکاح تو ہو جائے ہمارا۔۔۔نامعلوم میری کسی نیکی کے بدلے اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے
دل میں میرے لئیے نرم گوشہ پیدا کیا ہے۔۔۔کہیں ایسا
نا ہو کہ اس لڑکے کو رہا کر کے میں ترکی والے جہاز میں بٹھا دوں اور تم پھر مکر جاؤ۔۔۔میں تو بے موت
مارا جاؤں گا یار۔۔۔،،
۔اس کا لہجہ شوخ تھا لیکن اندازمیں سنجیدگی تھی۔
اب جب تک تم مس حیات عبدالرحمان سے مسز ماحر
خان نہیں بن جاتیں تمہارا وہ دور پرے کا کزن میری
تحویل میں رہے گا۔۔اس کا لہجہ بھی اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔حیات عبدالرحمان کو اپنے بدن میں سنسناہٹ دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔کوئی اور موقع ہوتا تو
اس پر شرم و حیا کے احساسات حاوی ہوتے مگر اب
معاملہ دوسرا تھا۔۔اس بلیک میلر انسان کی باتوں
سے مجبور ہو کر وہ یہ فیصلہ کر گئی تھی۔۔
لیکن ایک شرط ہوگی میری۔۔۔اس نے اپنے آنسو صاف کرتے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
کیا۔۔۔۔؟؟ اس نے چونک کر استفسار کیا
حق مہر میں اپنی مرضی سے لکھواؤں گی۔۔
اوکے شیور۔۔۔۔وہ لاپرواہی سے مسکرایا
پہلے جان تو لیں کہ حق مہر چاہیے کتنا مجھے۔۔۔؟؟
اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔
نکاح کے وقت پوچھ لوں گا۔۔۔خیر ابھی بتانا چاہتی ہو تو بتا دو۔۔۔وہ ہنوز مسکرا رہا تھا۔۔
پانچ سو کروڑ۔۔۔وہ اسکے چہرے کے تاثرات جانچنے لگی
جن پر ایک پل کیلئے حیرانی نظر آئی تھی مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر بولا۔۔۔
اوکے نو پرابلم۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے کندھے اچکائے اور موبائل پر کسی کو کال ملانے لگا۔تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد اس
نے موبائل بند کیا اور حیات کی طرف دیکھا جو کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی مانند پریشان بیٹھی گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی۔۔
“نکاح میرے فارم ہاؤس پر ہوگا جو کہ شہر سے تھوڑا دور ہے۔۔۔یہاں میڈیا کا خطرہ ہے انہیں بھنک پڑ گئی تو بن بلائے مہمان کی طرح نازل ہو جائیں گے۔۔فلحال میں
اناؤنس نہیں کرنا چاہتا میری فیملی آؤٹ آف کنٹری ہے
انکے آتے ہی ہماری شادی آفیشلی اناؤنس کروں گا۔۔
اسکی نوبت آئے گی تب نا۔۔۔۔۔۔۔شوبز والوں کی شادیاں چلتی ہی کتنی ہیں ہونہہ۔۔۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر رہ گئی۔۔
چلیں پھر۔۔۔۔؟؟اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔چہرے
سے خوشی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔۔
جبکہ دوسری طرف حیات عبدالرحمان ذہنی انتشار کے
بدترین لمحے سے گزر رہی تھی۔۔سوچیں مفلوج ہو چکی
تھیں اور دماغ شل تھا۔۔۔۔۔۔جبکہ اندر زبردست آندھیاں
چل رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔لبوں پر دل موہ لینے والی مسکراہٹ سجائے وہ اسکے چلنے کا منتظر کھڑا تھا۔۔۔۔مجبوراً دل پر پتھر رکھ کر اسے اٹھنا پڑا۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں وہ اسکی گاڑی میں بیٹھی افراتفری میں کیے اپنی زندگی کے اہم ترین فیصلے پر عمل کرنے جا رہی تھی۔مون بھی ساتھ تھا۔۔۔گاڑی میں صرف وہ تین لوگ ہی تھے۔۔۔مون پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔حیات کے چہرے کا رخ مکمل طور پر کھڑکی کی طرف تھا۔۔پیچھے اسکے گارڈز بھی ایک گاڑی میں آ رہے تھے۔۔۔ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ فارم ہاؤس پہنچ گئے۔خاصا سرسبز علاقہ تھا نا تو مکمل طور پر دیہات تھا اور نا شہر۔۔۔۔بالکل ویسا فارم ہاؤس تھا جیسا کسی سلیبرٹی کا ہونا چاہیے۔گاڑی کے قریب پہنچتے ہی چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا۔گاڑی سفید روش پر چلتی ہوئی فارم ہاؤس کے رہائشی ایریے کی طرف آئی۔۔۔۔پورے فارم ہاؤس کو سفید پتھر اور لکڑی سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔۔۔۔ایک طرف کے احاطے کو زو کی شکل دے دی گئی تھی۔۔۔گھوڑے ۔۔غیر ملکی خونخوار کتے۔۔۔۔۔۔اور بھی مختلف قسم کے جانور اور پرندے۔۔سب سے یونیک چیز جو وہاں لگ رہی تھی وہ
سفید پھولوں والے پودے تھے جس کی وجہ سے فارم
ہاؤس پر تاج محل کا سا گمان ہو رہا تھا۔۔لاتعداد ملازم وہاں کام کرتے نظر آ رہے تھے۔۔۔وہ اسے لے کر ایک کمرے
میں آ گیا۔۔۔۔تم یہاں بیٹھو تھوڑی دیر میں نکاح خواں آنے والا ہے۔۔۔وہ اسے کہہ کر باہر چلا گیا۔۔۔وہ بے جان
قدموں سے وہاں رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
آپی آپ ماحر بھائی سے شادی کر رہی ہیں۔۔۔۔؟مون کے پوچھنے پر وہ خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
بولیں نا آپی۔۔۔آپ چپ کیوں ہیں۔۔۔۔؟؟انہوں نے آپ کو ڈرایا ہے کیا۔۔۔۔؟؟چھوٹا تھا لیکن ذہین بچہ تھا۔۔بہن کی
خاموشی اسکے اترے پریشان چہرے سے اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ خوش نہیں ہے۔۔
حیات کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔سوچنے سمجھنے کے احساس سے وہ اپنے آپ کو مفلوج محسوس کر رہی تھی۔۔یہ احساس اتنا شدید تھا کہ آنکھوں میں اچانک دل سے نکلنے والا لہو موتیوں کی طرح جم گیا تھا۔جو
نا چھلک رہا تھا نا ضبط ہو رہا تھا۔۔۔عجیب سکتے کی حالت میں وہ بیٹھی تھی۔۔
آپ بولتی کیوں نہیں۔۔۔۔۔وہ روہانسا ہو کر اس کے ساتھ
لپٹ گیا تو وہ دماغی طور پر ہوش میں آئی۔اسے خود میں بھینچتے ہوئے بولی۔۔۔۔نہیں میری جان ایسی کوئی بات نہیں۔ میں نے سوچا۔۔۔ہم کب تک ادھر ادھر دھکے کھاتے رہتے تمہاری سٹڈی کا بھی حرج ہو رہا ہے۔۔اسی لئیے میں نے شادی کا فیصلہ کیا تاکہ ہم آرام سے ایک گھر میں رہیں تمہارا کسی اچھے سکول میں ایڈمشن کروا دوں۔بار بار سکول بدلنے سے تمہیں بھی اچھا نہیں لگتا تھا نا۔۔بس اب بار بار تمہارا سکول بھی چینج نہیں ہوگا۔اور ہمارا گھر بھی۔۔بس ہم سکون سے رہیں گے۔۔۔ممی نے کہا تھا تمہیں آرمی میں بھیجوں۔۔۔۔تم اچھے سے اپنی سٹڈی کرنا تاکہ تمہارا رزلٹ اچھا آئے اور تم آرمی میں جا سکو۔۔۔وہ اس کا سر چومتے ہوئے بولی۔۔
آپ خوش ہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اسکے گلے میں بانہیں ڈالے
اسکے گال کو چومتا ہوا وہ کسی بڑے بزرگ کی طرح
پوچھ رہا تھا۔۔۔
ہاں خوش ہوں۔۔۔؟؟ اسے مطمئن کرنے کی خاطر وہ ہلکا
سا مسکرائی۔۔۔
پھر آپ ہنی مون پر بھی جائیں گی۔۔۔؟؟
حیات کا منہ حیرت کے مارے کھل گیا۔۔
تمہیں کس نے بتایا مون۔۔۔؟؟
وہ میرا دوست تھا نا نومی۔۔۔۔اسکی آپی بھی شادی کے بعد گئی تھی ہنی مون پہ۔۔۔۔۔۔لیکن وہ اسے ساتھ لے کر نہیں گئی تھی۔۔۔۔پر آپ جانا تو مجھے ضرور لے کر جانا
مجھے چھوڑ کر مت جانا آپی۔۔وہ ایک بار پھر لپٹ گیا۔۔
میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی مون۔۔۔۔جہاں
بھی گئی تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گی۔ایک عجیب سا
احساس ہونے لگا تھا جسے وہ سمجھ نہیں پائی تھی بس خوفزدہ ہو کر اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔جیسے اس
کے چھن جانے کا خطرہ ہو۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔۔۔۔۔پینٹ شرٹ میں ملبوس
ایک عورت اندر آئی۔۔غالباً کوئی بیوٹیشن تھی کیونکہ
اس کے ہاتھ میں میک اپ بکس تھا۔۔۔ساتھ میں ایک لڑکی تھی جس نے کچھ شاپنگ بیگز اٹھا رکھے تھے۔
یقیناً وہ اسے نکاح کے لئیے تیار کرنے آئی تھیں۔۔۔
جلدی اٹھیے میم۔۔۔آپ کو تیار کرنا ہے۔۔۔ہمیں آرڈر ملا ہے۔۔۔اس عورت نےقریب آ کر کہا۔۔۔اسی دوران وہ لڑکی
وہاں رکھے بیڈ پر سارا سامان پھیلا چکی تھی۔حیات
کو شدید تپ چڑھنے لگی۔۔۔وہ انکار کرنا ہی چاہتی تھی کہ رک گئی۔۔۔۔مون بڑے شوق سے سامان کو دیکھ رہا تھا۔۔
واؤ آپ دلہن بنیں گی۔۔۔اس کے لہجے میں اشتیاق تھا۔
ہممم۔۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔اگر وہ ان لوگوں کو انکار کرتی تو یقیناً ماحر کو بلایا جاتا۔۔۔۔ پھر مون کے سوالوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو اسے کہہ چکی تھی کہ وہ اس شادی سے خوش ہے۔۔
مجبوراً اسے خاموشی اختیار کرنا پڑی۔۔۔۔۔اسے اپنا آپ کسی قربانی کے جانور کے جیسا لگ رہا تھا۔۔جسے پہلے محبت سے سجاتے سنوارتے ہیں اور پھر حلال کر دیتے ہیں۔خود پر جبر کرتی وہ سارے مراحل کو برداشت کرتی رہی۔۔
آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔تیار ہونے کے بعد پہلی تعریف مون کے منہ سے ہی سنی جسکی ان دونوں
عورتوں نے بھی مسکرا کر تائید کی۔۔۔وہ مسکرا بھی نا سکی۔۔
آتشی گلابی شیفون کی گھٹنوں تک اپر فراک جس پر گولڈن تلے اور گولڈن و آتشی گلابی موتیوں کا کام تھا
نیچے چوڑی دار پاجامہ تھا۔۔۔۔۔
بیوٹیشن نے ہیر سٹائل بنانے کے بعد ڈوپٹے کو سیٹ کر دیا تھا۔خوبصورت میک اپ اور نفیس سی جیولری نے اس کے حسن کو دو آتشہ کر دیا تھا۔۔بیوٹیشن کے کہنے کے باوجود بھی اس نے آئینے میں خود کو دیکھنا گوارا نہیں کیا۔۔اسکے احساسات مردہ ہو چکے تھے۔۔نکاح کے وقت ایک ملازمہ اسکے ساتھ رہی تھی۔اس تمام وقت اسکی آنکھیں مسلسل برستی رہی تھیں۔۔
نکاح بعد ملازمہ باہر چلی گئی تو وہ اندر آیا۔۔چہرے پر بڑی فاتحانہ چمک تھی۔۔۔۔۔ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔اس کا یہ روپ دیکھ کر کئی ثانیے تو وہ پلکیں بھی نا جھپک سکا۔۔۔وہ سینے پر ہاتھ باندھے پرشوق انداز میں دیکھتا اسکے مقابل آ کھڑا ہوا۔۔۔حیات کا دل ہاتھوں پیروں میں دھڑکنے لگا۔غم و غصے کی کیفیات میں مبتلا تو تھی ہی اب ایک اور عجیب قسم کی کیفیت کا بھی خود کو شکار ہوتا محسوس کر رہی تھی۔۔
بہت حسین لگ رہی ہو۔وہ قریب آ کر بوجھل لہجے میں گویا ہوا اور نرمی سے ہاتھ تھام لیا۔ تو وہ اسکی اس حرکت پر ہق دق رہ گئی۔ پلٹ کر مون کی طرف دیکھا جو صوفے پر بیٹھا انہی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔ سٹپٹا کر بے جان ہوتے ہاتھ کو اس نے بمشکل اسکی گرفت سے کھینچا تھا۔۔۔
ماحر نے بھی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو خجل سا ہو کر مسکرایا۔۔۔۔
ارے رائم صاحب میں تو بھول ہی گیا تھا کہ آپ بھی یہاں موجود ہیں۔۔۔وہ اسکے برابر میں صوفے پر بیٹھتا
ہوا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔۔۔جواباً مون نے کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں دیا۔۔۔۔۔شائد وہ محسوس کر چکا تھا کہ اسکی بہن اس آدمی کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتی۔۔
نکاح تو ہوچکا ہے۔۔۔اب اپنا وعدہ پورا کریں۔۔مون کی طرف دیکھتے اس نے محتاط انداز میں کہا۔۔
وہ ہنس پڑا تھا۔۔
آف کورس یاد ہے مجھے مگر آؤ پہلے کھانا کھا لیتے ہیں
اس کے بعد تمہیں ملانے لے چلوں گا۔۔تمہاری آنکھوں کے
سامنے آزاد کروں گا ورنہ میری زبان پر تو تمہیں اعتبار نہیں آئے گا۔۔۔اس کے بے حد سنجیدگی سے کہنے پر وہ
خاموش ہو گئی۔یہ سچ ہی تو تھا۔دھوکہ کھانے کے بعد اسے اس شخص کی زبان پر اعتبار نہیں آتا تھا۔
اسی وقت ملازم کھانے کی ٹرالی گھسیٹ لایا تھا۔چکن
پلاؤ قورمہ بیف مٹن ناجانے کیا کچھ تھا۔۔ٹیبل پر ڈشز سجانے کے بعد وہ واپس چلا گیا تو ماحر نے اسے کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دی جسے اس نے ٹھکرا دیا تھا۔لیکن وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا۔۔۔۔مون کے ذریعے ایموشنلی بلیک میل کر کے کھانے کی ٹیبل پر لے ہی آیا
وہ گردن جھکائے بیٹھی رہی تھی۔۔۔اتنا بڑا فیصلہ تو کر گئی تھی مگر امنگوں اور مسرتوں کا احساس محو ہو
گیا تھا۔اب اسے زندگی نہیں بلکہ زندگی کو اسے گزارنا
تھا۔۔وہ بڑی محبت اور اپنائیت سے اسے ڈشز سرو کرتا
رہا مگر اس کے چہرے پر اس کے لئیے غصے کے تاثرات سجے رہے تھے۔اسکے بے پناہ اصرار کے باوجود بھی اس
نے تھوڑا سا ہی کھایا تھا۔۔۔۔۔وہ شدید بے چین تھی کہ اسکی وجہ سے ایک معصوم انسان اس شخص کی قید میں تھا۔خدا خدا کر کے کھانے کے بعد اس نے چلنے کو کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
مون کھانا کھاتے ہی سو گیا تھا۔۔۔۔وہ نیند کا رسیا تھا حیات اسے جگانا چاہ رہی تھی۔۔۔مگر ماحر نے روک دیا۔اس کا کہنا تھا وہ جلد واپس آ جائیں گے۔۔۔یہاں ملازم ہیں جو اس کا خیال رکھیں گے۔۔۔۔حیات کا دل تو نہیں مان رہا تھا اسے یہاں اکیلا چھوڑ کر جانے کو مگر ماحر کے اصرار پر خاموش ہو گئی۔۔جو اسے جگانے کو منع کر رہا تھا۔۔مون کو نیند سے جگانا بھی دنیا کا مشکل ترین
کام تھا وہ آسانی سے نہیں اٹھتا تھا۔۔ناچاہتے ہوئے بھی
وہ اسے چھوڑ کر آ گئی تھی۔۔۔جب گاڑی کو چلتے ہوئے ایک گھنٹہ ہو گیا تو اسے مون کی فکر ستانے لگی کہ اگر وہ جگہ جہاں علی کو رکھا گیا تھا فارم ہاؤس سے
اتنی دور تھی تو اسے مون کو ہر حال میں ساتھ لے
کر آنا چاہیے تھا۔۔۔
لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔۔لب کاٹتی وہ سارے راستے خاموش رہی۔۔۔۔وہ بھی کچھ نا بولا گاڑی سمندر کنارے واقع ایک ہٹ کے سامنے رکی تو وہ چونک پڑی یہ وہی ہٹ تھا جہاں وہ ایک بار اس سے ملنے آئی تھی۔۔
یہاں رکھا ہے اسے۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اس نے ارد گرد پھیلی تاریکی اور پراسرار خاموشی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
کسے۔۔۔۔؟؟ وہ گاڑی لاک کرتا انجان بنا
حیات نے اسکی طرف مشتعل انداز میں دیکھا۔۔اسکے انجان بننے پر سخت تاؤ آیا تھا اسے۔۔
میرے کزن کو اور کسے۔۔۔کتنا امتحان مزید لو گے میری برداشت کا ماحر خان۔۔۔وہ تیز لہجے میں چلا کر بولی
وہ واپس اپنے ملک جا چکا ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔میں نے اسے صرف دس منٹ کے لئیے اپنی حراست میں لیا تھا
۔سمجھدار آدمی تھا وہ زیادہ بحث نہیں کی اس نے اور واپس جانے پر آمادہ ہو گیا تمہیں شائد یقین نا آئے یہ دیکھو۔۔۔اس نے اچانک اپنے موبائل پر ایک ویڈیو پلے کر کے اسکے سامنے کی۔۔۔
حیات نے بے یقینی سے دیکھا۔۔وہ علی محمدی ہی تھا۔۔بیگ لئیے ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوتا۔۔۔یہ سنو تمہارے
لئیے اس کا میسیج۔۔۔۔ان نے ایک وائس میسیج پلے کیا
سوری حیا۔۔۔میں واپس جا رہا ہوں۔۔بلکہ مجھے بھیجا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ناجانے یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے مجھے ہوٹل سے باہر نکلتے ہی کڈنیپ کر لیا۔۔۔۔ان کا مطالبہ ہے
میں واپس چلا جاؤں ورنہ یہ لوگ تمہیں نقصان پہنچا دیں گے۔۔خود کی پروا نہیں مجھے لیکن تمہیں نقصان پہنچے یہ منظور نہیں مجھے۔۔۔پلیز میرا میسیج پڑھو تو فوراً رپلائی دو مجھے۔۔۔میں سخت پریشان ہوں
وہ سن سی ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔
یہ میسج اس نے تمہارے نمبر پر سینڈ کیا تھا۔۔۔لیکن میں نے اپنے نمبر پر فاروڈ کرنے کے بعد اسکے سیل سے
ڈیلیٹ کروا دیا تھا۔۔وہ آرام سے بتا رہا تھا۔۔۔
حیات کا غم و غصے سے برا حال تھا۔اتنا بڑا جھوٹ بولا تھا اس نے۔۔وہ اس پر چلانے لگی تھی۔۔۔میں نے۔۔۔۔میں نےکہا تھا نا مجھے دھوکہ مت دیکھنا۔۔کوئی ڈرامہ مت کرنا۔پھر کیوں۔۔۔کیوں جھوٹ بولا۔۔۔نکاح پر مجبور کیا
بولو جواب دو۔۔۔کیوں کیا۔۔۔۔۔وہ اتنی مشتعل تھی کہ
خود پر اختیار کھو بیٹھی۔۔زخم پھر سے ادھڑ گئے تھے
سارے غم ایک ساتھ تازہ ہو گئے۔۔ساری اذیتیں تکلیفیں
جاگ اٹھیں۔۔دل و دماغ میں وحشت سی پھیل گئی۔۔
روتے کرلاتے۔۔غصہ دکھاتے وہ جتنا لڑ سکتی تھی لڑی۔جتنا غصہ دکھا سکتی تھی دکھایا۔جتنا مار سکتی تھی
اس نے مارا۔۔۔
“وہ اسے سنبھالنا چاہ رہا تھا مگر وہ اس کے قابو میں نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی اسکی بالکل نہیں سن رہی تھی۔۔۔۔۔اسے تو اس کے اس جھوٹ
سے سخت صدمہ پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔کہ کس طرح اس نے اتنا
بڑا جھوٹ بولا تھا۔۔اور وہ اسکے جال میں پھنس گئی۔
شادی کر بیٹھی تھی۔۔۔شدید مشتعل انداز میں اس کے ہاتھ جھٹک کر وہ پیچھے ہٹنا چاہ رہی تھیں مگر ماحر نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔۔۔
“وہ اسکے بازوؤں کے حصار میں مقید بے بس سی ہو گئی تھی۔۔
اب وہ نا اس پر چلا رہی تھی نا اسے مار رہی تھی۔بلکہ
اب صرف رو ہی سکتی تھی اور وہ رو رہی تھی۔اپنے
باپ کو پکارتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔
آئی ایم سوری۔۔۔آئی ایم سو سوری حیا۔۔اسے زبردستی سینے سے لگائے وہ بھاری دل سے بولا۔۔آواز صرف لبوں کی جنبش ہی تھی۔۔حیات عبدالرحمان تک نہیں پہنچی
تھی۔پہنچ بھی جاتی تو اس نے کونسا معاف کر دینا تھا
اس کا وجود ماحر خان کے بازوؤں میں بے جان ہو چکا تھا۔۔
چاندنی رات تھی۔۔۔۔خوشگورا ہوا چل رہی تھی۔۔۔وہاں خوبصورت شیپ اسٹائل میں لگے پودوں میں گلاب
موتیا اور دیگر پھولوں کی مہکار سے ماحول معطر تھا
ماحول میں البیلا سا سکوت تھا۔۔۔۔۔۔۔ہوائیں کثیف اور پھولوں کی خوشبو سے بوجھل تھیں۔۔۔۔۔۔۔آسمان چاند ستاروں سے جگمگا رہا تھا۔۔آکاش سے دمکتی روشنیوں میں وہاں پھیلی تاریکی انوکھا سنگم پیش کر رہی تھی۔ڈھیروں سپنے سجائے وہ اسی کمرے کی طرف بڑھا جہاں وہ موجود تھی۔۔۔۔
۔اسے پانے کے ولولہ انگیز حیات بخش خیال نے اس کی روح تک کو سرشار کر دیا تھا۔
کتنی دیر وہ ہوش و خرد سے بیگانہ رہی اسے یاد نا تھا۔تاہم جب ہوش آیا تو وہ شیشے کے سرخ پھولوں سے سجے اس خوبصورت سے بیڈروم میں تھی۔۔پورا کمرہ ہی شیشے کا بنا ہوا تھا۔۔دیواریں کھڑکیاں سب کی سب
شیشے کیں۔۔۔۔ان دیواروں کے پار سے اس پورے ہٹ کا
اندرونی حصہ دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔۔سارا ماحول اسے
ہی پھولوں سے سجا دکھائی دے رہا تھا۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔تازہ گلابوں کی خوشبو سے کمرہ بھی مہک رہا تھا
کافی دیر تک وہ یونہی بیڈ پر خالی الذہنی کے عالم میں بیٹھی سوچتی رہی۔۔
۔وہ شخص اسے اس پھولوں سے سجے ہٹ میں کیوں لایا تھا۔۔۔۔۔؟؟
اپنی خوشیاں منانے۔۔۔۔۔۔۔اپنے ارمان پورے کرنے۔۔۔؟؟
دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ بے ساختہ چونکی تھی
بغیر ناک کیے کمرے میں کیوں آئے ہیں۔۔اتنے مینزز بھی نہیں ہیں کہ کسی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے
اجازت لیتے ہیں۔۔۔۔وہ بہت غصے سے چیخی تھی۔۔دماغ
تو پہلے ہی کھول رہا تھا اسکے اتنے بڑے جھوٹ پر۔۔اب یوں دھڑلے سے اسے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر تومزید تاؤ آیا تھا۔مگر وہ اسکی بات پر دھیان دیے بغیر
اطمینان سے دروازہ بند کرتا اسکے قریب آیا۔۔
تمہیں جو بھی کہنا ہے ضرور کہو۔۔مگر آہستہ آواز میں
تم چیخے بغیر بھی بولو گی تو تمہاری بات سن بھی لوں گا اور سمجھ بھی لوں گا۔۔
اس کے دلکش چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ تھی۔
حیات جو اسے غصے اور نفرت سے گھور رہی تھی اس کا اپنے قریب بیڈ پر بیٹھنے کا ارادہ بھانپ کر فوراً اٹھ کر ونڈو کے پاس چلی گئی۔۔۔۔وہ بھی پیچھے آ کھڑا ہوا اتنا کہ اسکے کپڑوں سے اٹھتی کلون کی مہک اسکے نتھنوں میں گھسنے لگی۔
۔۔چند لمحے برداشت کیا پھر مڑ کر درشت لہجے میں بولی۔۔کہاں گھس رہے ییں پیچھے ہٹیں۔۔۔۔وہ برا مانے بغیر مسکرا کر فاصلے پر ہو گیا۔۔۔
کیا ہم آرام سے بیٹھ کر بات نہیں کر سکتے۔۔؟؟اس نے بہت سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔جواباً حیات نے اسکی طرف دیکھے بغیر تنفر سے جواب دیا۔۔۔
آپ جیسے جھوٹے فریبی انسان سے مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔اس کا لہجہ کڑواہٹ سے بھرپور تھا۔
آپ نے میرے لئیے ہر راستہ بند کر دیا۔۔۔۔مجبوراً مجھے
آپ سے نکاح کی شکل میں کڑوا زہریلا گھونٹ پینا پڑا
میرے سامنے اچھے اور میٹھے بننے کی بالکل کوشش
مت کریں میں کبھی بھی نہیں پگھلنے والی۔۔۔کیا خیال
ہے آپ کا۔۔۔۔نکاح کے بعد میں سب کچھ بھول جاؤں گی
ہرگز نہیں میری زندگی میں پیدا ہونے والی ہر مصیبت کی وجہ آپ ہیں۔۔۔میں آپ کو مرتے دم تک معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔وہ اسی تلخی اور تنفر سے اس کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔
ٹھیک ہے مت کرنا معاف۔بس مجھے قبول کر لو سویٹ ہارٹ باقی سب وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔
آتشی گلابی شیفون کے خوبصورت قیمتی ڈریس میں اس کا چہرہ معصومیت و دلکشی لئیے اتنا جاذب نظر
اتنا حسین لگ رہا تھا کہ وہ متزلزل ہونے لگا۔۔۔۔
اس نے قریب آ کے حیات عبدالرحمان کے شانوں پر اپنے ہاتھ رکھے۔۔۔۔۔لہجے میں دنیا جہان کی شیرنی محبت سرشاری و خماری تھی
ڈونٹ ٹچ می۔۔۔۔حیات نے بری طرح اس کے ہاتھ جھٹک دیے۔بہت نفرت و حقارت تھی اسکے انداز میں۔۔۔۔۔ایک لمحے کو وہ گنگ سا اسکی طرف دیکھتا رہ گیا۔۔اسکی نگاہوں سے چھلکتی نفرت۔۔۔۔۔۔چہرے پر پھیلی حقارت مستزاد اس پر جس طرح کراہیت بھرے انداز میں اس نے اس کے ہاتھ جھٹکے تھے وہ لمحے بھر میں اپنی سرشاری و خماری بھول گیا۔توہین اور ذلت کے احساس سے چہرے پر سرخی سی چھا گئی۔۔سابقہ خود سری اور ہٹ دھرمی عود کر آئی تھی۔۔لہجے میں نرمی کی جگہ برہمی سی آ گئی تھی۔۔
تمہارا یہ گریز بے معنی ہے مس حیات عبدالرحمان۔کچھ
گھنٹوں پہلے تم ایسے سارے اختیارات دے چکی ہو مجھے۔اب تمہاری ذات پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا
کہ خود تمہارا۔دوبارہ میرے جذبوں کی اس طرح توہین
و تحقیر مت کرنا۔۔میں بہت خلوص اور نیک نیتی سے تمہاری طرف بڑھا ہوں۔۔اسی خلوص اور نیک نیتی سے
تمہارے ساتھ نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں۔۔۔میرا
شادی کا کبھی ارادہ نہیں تھا لیکن تمہارے ساتھ کر لی
اور اب تمہارے ساتھ سچے دل سے گھر بھی بسانا چاہتا ہوں۔میں تمہیں مجبور نہیں کر رہا بیشک اگر تمہارا دل مجھے معاف کرنے پہ راضی نہیں تو میں اسکے راضی
ہونے کا انتظار کروں گا۔۔۔۔۔۔۔لیکن جیسے بھی ہوئی ہے ہماری شادی ہوئی لہذا نئی زندگی شروع کرنے کیلئے میرے ساتھ آج سے کم از کم تعاون تو کرو۔۔۔
یہ شادی نہیں ایک دھوکہ ہے۔۔۔۔جھوٹ بول کر مجھے راضی کیا۔۔۔کہتے ہیں گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے
تو انگلی ٹیڑھی کر لیتے ہیں لوگ۔۔۔لیکن آپ پر یہ مثال الٹ آتی ہیں۔۔۔۔۔۔ٹیڑھی انگلی سے گھی نا نکال سکے تو انگلی سیدھی کر لی۔۔۔۔۔۔میں نہیں مانتی اس شادی کو
اپنے کردار کو صاف رکھنے کی بے ہودہ سازش کی ہے
آپ نے۔۔۔۔۔شادی جیسا رشتہ دلی وابستگیوں اور پاکیزہ جذبوں کے احترام میں استوار کیا جاتا ہے۔جس عمارت
کی بنیاد ہی جھوٹ اور دھونس دھاندلی پر قائم کی جائے ایسی عمارت کبھی بھی پائیدار ثابت نہیں ہوتی یہ رشتہ بھی ایسے ہی قائم ہوا ہے۔دیکھنا جلد ہی ٹوٹ
جائے گا۔۔۔شوبز والوں کی شادیاں تو ویسے بھی زیادہ
دیر نہیں چل پاتیں۔۔۔
وہ جتنا غصہ دکھا سکتی تھی۔۔دکھا رہی تھی۔۔۔۔
!!چلو جتنا عرصہ چلتی ہے اتنا عرصہ تو چلائیں گے۔۔اسکی تلخ باتوں کا برا مانے بغیر مسکرایا تو وہ سلگ
کر رہ گئی۔۔۔
ابھی سب تلخ باتوں کو چھوڑو حیا۔۔۔۔آج ہماری شادی ہوئی ہے۔۔۔۔یہ دیکھو تمہاری رونمائی کا گفٹ۔۔۔۔۔اس نے اچانک جیب سے بیش قیمت بریسلیٹ نکال کر سامنے کیا۔۔۔ہیروں کی چمک سے جگمگاتا نفیس سا بریسلیٹ تھا۔۔۔وہ اپنی ہتھیلی پھیلائے منتظر نگاہوں سے دیکھ
دیکھ رہا تھا۔۔مگر حیات نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں نہیں دیا تو اگلے ہی پل اس نے خود ہی اسکی نازک سا
گلابی ہاتھ تھام لیا۔
حیات نے غصے سے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ناکام رہی۔بریسلیٹ پہنا کر اس نے ہاتھ چھوڑا۔مگر وہ بھی
ضد کی پکی تھی فوراً اتار کر بیڈ کی طرف اچھالا
ماحر نے افسوس سے بیڈ پر پڑے ڈائمنڈ کے بریسلیٹ کی طرف دیکھا جو اپنی بے قدری پر شائد خود بھی
رو رہا تھا۔۔۔
اوکے اگر تمہیں منہ دکھائی نہیں لینی تو زبردستی تو
نہیں کر سکتا۔۔خیر یہ بتاؤ نئی زندگی کی شروعات کے لئیے میرے ساتھ کمپرومائز کروگی نا۔۔۔۔؟؟
” حیرانی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا حیات عبدالرحمان نے اسکی طرف دیکھا۔۔
مقابل کی آنکھوں میں خوشی اشتیاق محبت کے دیے جگمگا رہے تھے اسکی آنکھوں میں لکھا صاف نظر آ رہا تھا پیار محبت۔۔۔۔اعتبار۔۔۔۔۔۔صلح صفائی ہو یا نا ہو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کی ادائیگی ہونی چاہیے”
مجھے پانا چاہتے ہو۔؟؟ اس نے تیز لہجے میں سوال کیا
پا تو میں تمہیں چکا ہوں۔۔بس اب اجازت چاہتا ہوں تم سے۔۔تمہارے حسن کو سراہنے کی۔تم سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کی۔۔وہ سب جو میرا دل تمہیں کہنا چاہتا تھا۔۔۔وہ سحر انگیز لہجے میں بولا
اچھا تو پھر پہلے میرا حق مہر ادا کریں۔۔۔۔شائد آپ کو پتا نا ہو تو میں بتا دیتی ہوں۔بنا حق مہر ادا کیے بیوی
سے تعلق بنانے والا شخص زانی کی زمرے میں آتا ہے
اوہو سوری میں بھول گیا۔۔۔۔۔۔وہ خفت زدہ لہجے میں بولا۔۔
اتنی بڑی رقم یاد کیسے آتی بھلا۔۔۔اس نے طنز کیا
ایسی کوئی بات نہیں تم پانچ سو کروڑ کے بجائے ہزار کروڑ بھی لکھواتی تو بھی مجھے کوئی اعتراض نا ہوتا
خیر اسوقت چیک بک تو میرے پاس نہیں ہے ورنہ ابھی چیک لکھ کے دے دیتا تمہیں کل تک انتظار کرنا پڑے گا۔۔
ٹھیک ہے پھر کل جب میرا حق مہر مجھے مل جائے گا تو میں بھی اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دونگی۔۔اس
نے جیسے بات ختم کر دی۔
ماحر کچھ پل اسے دیکھتا رہا۔۔سمجھ نہیں آیا کہ کہے کیا۔۔۔پھر چند پل سوچنے کے بعد جیب سے موبائل نکالا
اور اس پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے بولا۔۔۔اوکے میں فرقان سے کہہ کر ابھی اپنی چیک بک منگوا لیتا ہوں اور تمہیں چیک لکھ کے دے دیتا ہوں۔۔۔
مجھے چیک نہیں کیش چاہیے۔۔۔۔۔۔نئا آرڈر جاری کیا
سکرین پر ٹچ کرتی اسکی انگلیاں رک گئیں۔۔۔۔میں اتنا زیادہ کیش اپنے پاس نہیں رکھتا۔۔بینک اسوقت بند ہو چکے ہونگے۔۔۔کل تک ویٹ کر لو یار مجھے مایوس مت
کرو۔۔۔اس کے انداز میں التجاء تھی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔۔اس نے سخت لہجے میں انکار کیا۔۔
وہ کچھ پل اس حسن کی دیوی کو دیکھتا رہا۔جو اس پر مہربان ہونے کے موڈ میں قطعی نہیں تھی۔۔۔حسین
چہرے کے تاثرات پتھریلے تھے۔۔۔وہ سپاٹ نگاہوں سے شیشے کے پار دیکھ رہی تھی۔۔
ماحر نے ٹھنڈی سانس لی اور اس پر سے نظریں ہٹا کر بولا۔۔۔
اوکے چلو کوئی بات نہیں۔۔کل تمہارا حق مہر کیش کی شکل میں ادا کر دوں گا۔۔۔۔۔پھر اسکے بعد ہی ہم اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کریں گے۔۔
مجھے فلموں سے کمائی گئی دولت سے حق مہر نہیں چاہیے۔۔۔نئی ڈیمانڈ تھی۔۔۔
تو پھر۔۔۔۔؟؟اسے جھٹکا سا لگا تھا۔۔
محنت اور حق حلال کی کمائی سے حق مہر چاہیے۔
تو فلمیں کونسا میں ڈاکے ڈال کے بناتا ہوں۔۔۔۔محنت کر
کے ہی بناتا اور کماتا ہوں۔۔۔وہ چاہ کے بھی اپنے غصے کو دبا نہیں پایا۔۔
آپ سے کس نے کہا فلمیں بنانا نیک کام ہے۔۔؟؟ اس نے بھرپور طنز کیا۔۔۔۔ماحر صرف دیکھ کر رہ گیا۔۔
وہ مزید بولی۔۔۔۔فلمیں بنانا۔۔۔ان میں کام کرنا۔۔۔انہیں دیکھنا۔۔۔یہ سب گناہ ہے۔۔حرام کام ہیں یہ۔۔۔جو کام ہی حرام ہو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال کی کیسے ہو سکتی ہے بھلا۔۔۔۔؟؟
وہ لاجواب ہوگیا۔۔۔دنیا کا شائد پہلا مرد ہوں جو شادی
کی رات بیوی سے حرام حلال کا لیکچر سن رہا ہوں
ورنہ عموماً تو مرد ہی شادی والی رات لمبا لیکچر دیتے ہیں۔۔وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔۔۔
پھر جب میری آمدنی حلال کی نہیں ہے تو محترمہ آپ کا حق مہر کہاں سے ادا کروں میں۔۔؟؟ اس کا انداز بے بس سا تھا۔۔
مجھے نہیں پتہ یہ آپ کا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔لیکن حق مہر مجھے فلموں سے کمائی گئی دولت سے تو ہرگز نہیں چاہیے۔۔۔اس کا انداز حتمی تھا۔۔۔۔
ماحر زچ سا اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیات عبدالرحمان نے اتنا زیادہ حق مہر کیوں لکھوایا تھا یہ وجہ اسے اب سمجھ میں آئی تھی۔۔
وہ لاکھ پتی نہیں۔۔کروڑ پتی نہیں۔۔ارب پتی تھا۔۔۔حال ہی میں اس نے اپنا پرائیویٹ جہاز خریدا تھا۔۔پانچ سو کروڑ ادا کرنے کی اہلیت رکھتا تھا۔۔۔مگر مسئلہ یہ تھا اسکے پاس جتنی بھی دولت تھی وہ ساری شوبز سے کمائی گئی تھی۔اب حیات عبدالرحمان کی اس ڈیمانڈ پر محنت مزدوری کر کے پیسے جمع کرتا بھی تو اتنی بڑی رقم جمع کرنے میں اسے کافی وقت لگ جانا تھا۔۔پہلی دفعہ وہ اپنے آپ کو کسی جال میں پھنسے ہوئے شکاری کی طرح محسوس کر رہا تھا۔۔جو شکار کرنے آیا لیکن خود ہی شکار ہو گیا۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی جواب سوچتا۔موبائل کی گھنٹی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔فرقان کی کال تھی اس
نے کچھ جھنجھلا کر ریسیو کی وہ اسے سخت سست
سنانے کا ارادہ رکھتا ہی تھا کہ اسکی دی گئی خبر نے
ماحر خان کے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی۔۔
