Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 25)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 25)
Meri Hayat By Zarish Hussain
گاڑی بے قابو ہو کر تیزی سے درختوں کے گہرے جھنڈ کی جانب بڑھتی چلی گئی جو کہ سڑک سے نیچے ذرا گہرائی میں تھا۔۔۔۔۔ماحر گاڑی پر مکمل طور پر کنٹرول کھو چکا تھا۔” گاڑی ایک دھماکے کے ساتھ درختوں کے جھنڈ سے ٹکرائی۔۔۔۔۔۔۔آس پاس والےکئی چھوٹے بڑے درخت ٹوٹ کر ادھر ادھر لڑھک گئے”
۔۔۔۔۔۔۔گاڑی ترچھی انداز میں درختوں کے درمیان پھنس چکی تھی۔۔اگر مضبوط درخت گاڑی کو نا روک لیتے تو وہ سیدھی تھوڑے سے فاصلے پر موجود کھائی میں جا گرتی۔۔۔۔۔۔۔دو سائیڈ والے آگے پیچھے کے ٹائر اوپر کی جانب ہوا میں معلق تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور دونوں نیچے والے درختوں میں پھنس چکے تھے”
۔۔۔۔۔۔۔حیات اپنا ہوش کھو بیٹھی تھی۔۔۔۔۔نامعلوم کتنا وقت گزرا تھا جب اس کا سویا ہوا ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا۔۔۔ اسکی سماعتوں سے کسی کے دبے دبے کراہنے کی آواز ٹکرائی۔اسکے خوابیدہ ذہن کو جھٹکا لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی چیز کے اوپر گرے ہونے کے احساس نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا۔وہ آدھی سیٹ پر اور آدھی اس شخص کے اوپر گری ہوئی تھی”حیات کی سائیڈ کا دروازہ اوپر کی جانب اٹھا ہوا تھا”۔جبکہ ماحر کی سائیڈ والا نیچے کی طرف تھا اور درختوں کی ٹہنیوں میں پھنسا ہوا تھا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے آپ کو چھو کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔معجزانہ طور پر اسے ذرا سی بھی خراش نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔”اس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اسکی سائیڈ چونکہ اوپر کی جانب تھی تبھی پھر سے پھسلتی وہ اسی پر گرنے لگی تھی کہ بڑی مشکل سے سیٹ کےبیک والے حصہ کو پکڑ کر اپنے آپ کو سنبھالا۔۔۔۔”
“۔۔۔۔ماحر خان کے سر سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔۔۔بازوؤں سے بھی بلیڈنگ ہو رہی تھی۔۔وہ کراہ رہا تھا۔۔۔حیات نے اسکی طرف دیکھا تو وہ اسےمکمل ہوش میں نہیں لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ گاڑی چلانے سے پہلے اس نے ڈرنک کی تھی۔تبھی شاید وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔
“۔۔۔۔۔۔۔۔حیات جب اسکے اوپر گری ہوئی تھی اسکے منہ سے آتی سمیل سے اسے اندازہ ہوا کہ اس نے شراب پی ہوئی تھی۔۔اس نے گاڑی کے ڈور کو تھام کر اسے کھولنے کی کوشش کی چونکہ دروازے کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں تھی تبھی تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ کھل گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔حیات نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا۔وہ دوسری سائیڈ والے دروازے کی طرف گرا ہوا شائد اپنا ہوش مکمل طور پر کھوتا جا رہا تھا۔۔کیونکہ اسکے کراہنے کی آواز مدھم ہوتے جا رہی تھی اور اسکی شرٹ بھی خون سے رنگین ہوتی جا رہی تھی۔۔اسکے دل میں ایک پل کیلئے ہمدردی کا احساس جاگا تھا۔۔۔لیکن وہ خود بھی پھنسی ہوئی تھی۔۔۔نکل بھی جاتی تب بھی اکیلی تو وہ اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی”۔۔۔۔۔اس نے دروازے پر ایک پیر جمایا اور دوسرے ہاتھ سے ہینڈل کو پکڑا اور باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگی۔۔لیکن یہ خاصا محنت طلب کام تھا۔کیونکہ ایسی ونڈو جس کا رخ اوپر کی طرف ہو اس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔باہر نکلنے کی کوشش میں وہ بار بار اندر کی جانب پھسل رہی تھی۔۔۔۔جب وہ ہینڈل کو پکڑ کر اوپر اٹھنے کیلئے زور لگاتی تو ساتھ میں گاڑی بھی ہلتی۔اس کا دل دہل جاتا کیونکہ کھائی چند انچ کے فاصلے پر تھی۔۔۔۔۔۔۔آخر اسنے آیک پاؤں بیک کی طرف کھڑی سیٹ پر جمایا اور دوسرا کھلے دروازے پر رکھ کر پھر سے ہینڈل کو پکڑا اور اپنا پورا زور لگایا اس بار وہ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔۔۔۔۔”زمیں چند فٹ نیچے تھی اس نے کھائی کی مخالف سمت میں زمین پر جمپ لگایا۔۔۔۔۔خوش قسمتی سے ذرا بھی چوٹ نہیں آئی۔اس نے ایک نظر درختوں میں پھنسی ہوئی گاڑی کو دیکھا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ایک آخری ہمدردی بھری نگاہ گاڑی اور اسکے اندر قابل رحم حالت میں موجود شخص پر ڈالی۔۔۔۔جو اسے عزت اور زندگی دونوں سے محروم کرنے جا رہا تھا”قدرت کی طرف سے ایسا الٹا وار ہوا اس پر کہ اپنی ہی جان کے ہی لالے پڑ گئے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ناجانے اس شخص کا انجام کیا ہونے والا تھا”۔۔۔۔ اسوقت اسکے دل میں ایک لمحے کیلئے یہ بھی خیال آیا کہ اگر یہ شخص یہیں مر جائے تو اسکی ہمیشہ کیلئے جان چھوٹ جائے۔لیکن پھر اس خیال پر خوف خدا اور انسانی ہمدردی کا احساس غالب آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔بے شک وہ اچھا انسان نہیں تھا۔نا کسی اچھی نیت سے اسے لے کر جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔سچ کہتے ہیں جو دوسروں کیلئے گڑھا کھودتا ہے۔وہ اس میں خود گرتا ہے”وہ حیات کو مار کر یہیں پھینکنے کی بات کر رہا تھا۔اب خود نیم مردہ حالت میں درختوں کے درمیان دبا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”یا اللّٰہ اسے زندگی سے محروم تو مت کرنا۔ بس میرے لئیے دوبارہ اسے برا سوچنے اور کرنے کی توفیق مت دینا۔۔۔۔۔۔دشمن کیلئے بھی اسکے دل سے بے ساختہ دعا نکلی تھی۔۔۔
“۔۔۔۔۔روڈ پر آ کے اس نے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔۔۔روڈ ویران تھا۔۔ ناجانے کونسی جگہ تھی۔۔۔اس کا فراک گاڑی کے دروازے میں آ کر سائیڈ سے تھوڑا پھٹ گیا تھا۔۔۔۔پاؤں میں اوپن شوز تھے۔زمین پر چھلانگ لگاتے وقت اس نے جوتوں پر اپنے پاؤں کی گرفت مضبوط رکھی تھی کہ کہیں پاؤں سے نکل کر گر نا جائیں۔۔دوپٹے کو اپنے گرد مضبوطی سے لپیٹ لیا۔جس راستے سے وہ اسے لے کر آ رہا تھا۔۔۔اسی راستے پر وہ واپس والی سائیڈ پر چلنے لگی۔۔۔۔۔کچھ دور چلنے کے بعد اس نے دیکھا سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔نامعلوم وہ راستہ کونسا ہوگا جو واپس شہر کی طرف جاتا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شخص کے ہمراہ شائد اس نے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ ٹائم سفر کیا تھا۔۔۔۔۔۔چلتے چلتے اسکے پیر شل ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کافی سفر طے کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔مگر نا تو سڑک ختم ہو رہی تھی نا شہر کے کوئی آثار نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔شام ڈھل چکی تھی اور رات اپنا آنچل پھیلا رہی تھی۔۔۔۔۔اندھیرا۔۔۔۔۔خاموشی۔۔۔۔ویران جگہ۔۔۔۔نا بندہ نا بندے کی ذات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آس پاس صرف اونچے اونچے درخت اور جھاڑیاں۔۔اسے شدید خوف محسوس ہو رہا تھا”وہ دل ہی دل میں قرآنی آیات کا ورد کرتی تیز تیز چلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر سڑک تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ابھی بھی دور دور تک شہر کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے تاریکی گہری ہوتی جا رہی تھی اسے نظر بھی کم کم آ رہا تھا۔۔۔۔اور خوف میں بھی بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا تھا” اب تو پاؤں اور ہمت بھی جواب دے گئی تھی
تھک ہار کر وہ روڈ کے کنارے بیٹھ گئی اور اونچی آواز میں رونے لگی۔۔۔۔۔ابھی اسے وہاں بیٹھے اور روتے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اس نے دور سے روشنی دیکھی جو دھیرے دھیرے قریب آ رہی تھی۔۔جلد ہی اس نے دیکھ لیا وہ کسی گاڑی کی ہیڈ لائٹس تھیں”
اس ویرانے میں کسی گاڑی کو دیکھ کر اسے حوصلہ ہوا۔۔۔۔وہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی کہ جیسے ہی گاڑی قریب آئے گی وہ اسے روک کر ہیلپ مانگے گی۔۔۔”مگر وہ نہیں جانتی تھی ویرانے میں تو زیادہ تر بدروحیں اور آسیب اور شیطان ہی ملتے ہیں۔۔۔۔گاڑی اسکے قریب آ کر خود بخود ہی رک گئی۔۔۔گاڑی کی روشنی میں اس نے دیکھا اندر عجیب و غریب حلیوں والے چار لڑکے بیھٹے ہوئے تھے۔۔وہ ایلیٹ کلاس کے کوئی بگڑے ہوئے آوارہ مزاج لڑکے تھے جو اس طرف شائد کسی ایڈونچر کیلئے نکلے تھے۔۔۔۔۔وہ چاروں اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے شائد اس ویرانے میں انہیں کسی حسین لڑکی کے ملنے کی امید قطعی نہیں تھی۔۔۔ عورت ہونے کے ناطےاس اکیلی جگہ پر چار جوان لڑکوں کو دیکھ کر وہ دل میں مزید خوف کا شکار ہو گئی۔۔وہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ اسے چھپ جانا چاہیے تھے یا مدد مانگنے کیلئے ان لوگوں کے سامنے آ کر اس نے کوئی غلطی نہیں کی تھی”
اب دیکھ تو انہوں نے لیا تھا”مدد مانگنے میں کیا حرج تھا۔ویسے بھی اس ویرانے میں ان سے ہیلپ مانگنے کے علاؤہ اسکے پاس کوئی آپشن بھی تو نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ حیات نے سوچا شائد وہ اسے اس سنسان جگہ پر کوئی چڑیل وڑیل سمجھ کر بھاگ نا جائیں۔۔۔۔۔ سو خوف سے بے تحاشا دھڑکتے دل کے ساتھ وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔
۔بھائی پلیز میری مدد کیجئیے۔میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے میں راستہ بھٹک گئی ہوں۔۔۔۔۔کافی دور سے چل چل کر یہاں تک پہنچ پائی ہوں” پلیز مجھے شہر پہنچا دیں۔۔”اسکی بات پر ان چاروں نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور گاڑی سے اتر آئے۔اب وہ چاروں اسکے ارد گرد کھڑے سر سے پیر تک ایکسرے کرتی نظروں سے اسے گھور رہے تھے۔۔۔
ان کے لبوں کی مکروہ مسکراہٹ۔۔۔۔۔آنکھوں میں لتھڑی غلاظت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوس کی چمک۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے پورے وجود میں سنسناہٹ سی ہونے لگی۔۔۔ایک چیز جو بعد میں اسکی نگاہوں میں آئی وہ دو لڑکوں کے ہاتھ میں موجود شراب کی بوتلیں تھیں۔
“رات کے اس اندھیرے میں وہ شرابی آوارہ لڑکے اسے صحیح سلامت تو کبھی بھی نہیں پہنچانے والے تھے شہر۔۔۔۔
اسکی چھٹی حس نے حطرے کا الارم بجانا شروع کر دیا۔ڈوبتے لرزتے دل کے ساتھ اس نے کن انکھیوں سے آس پاس دیکھا اپنے ڈوپٹے پر گرفت مضبوط کی اور انکی کسی بھی پیش قدمی سے پہلے اس نے ایکشن لیا اور سمت کا تعین کیے بنا روڈ کے دوسری طرف جنگل میں اندھا دھند دوڑتی ہوئی اتر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔ارے پکڑو اسے۔۔۔۔۔شکار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر ایک لڑکا چیخا اور چاروں نے اسکے پیچھے دوڑ لگا دی”
۔۔۔۔۔اندھیرا تھا اوپر سے گھنے درخت تھے صرف ٹمٹماتے تاروں کی ہلکی سی روشنی میں وہ آگے کی طرف بھاگتی چلی جا رہی تھی۔۔۔اسے اپنے پیچھے ان لوگوں کے دوڑنے اور بولنے کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔وہ پوری قوت سے بھاگ رہی تھی۔اسکے جسم کی تمام طاقت سمٹ کر اسکی ٹانگوں میں آ چکی تھی” اسوقت اسے اپنی جان کی پروا نہیں تھی صرف اور صرف عزت بچانے کا خیال اسے بجلی کی رفتار سے دوڑا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگتے ہوئے کئی جنگلی درختوں کی ٹہنیاں اسکے چہرے اور بازوؤں پر لگ لگ کر اسے زخمی کر رہی تھیں۔۔۔جوتے اسکے گر چکے تھے۔البتہ دوپٹے کو اس نے خود سے الگ نہیں ہونے دیا۔۔۔بے پناہ خوف اور دہشت کے زیر اثر بھاگتے بھاگتےاچانک سے اسکے پاؤں میں کوئی بے حد سخت اور نوکیلی چیز لگی۔۔اسے لگا جیسے پورا پیر کٹ گیا ہو۔۔۔وہ منہ کے بل پتھریلی سخت زمیں پر جا گری حلق سے درد بھری دلخراش چیخ برآمد ہوئی جو پورے جنگل میں گونجتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اٹھنے کے قابل نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔آخری منظر جو اس نے دیکھا تھا۔ وہ چاروں اسکے سر پر پہنچ چکے تھے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹارچ کی روشنی میں انکے شیطانی چہروں پر خطرناک عزائم نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔اگلے ہی پل وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔”
رحمت بوا جلے پیر کی بلی کی مانند گیٹ پر چکر لگا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا انکی بے چینی بھی بڑھ رہی تھی۔نا تو حیات نے کوئی رابطہ کیا تھا نا عبدالرحمان صاحب اور ڈرائیور کے نمبرز پر کال جا رہی تھا۔۔۔۔۔۔۔چوکیدار سے ہسپتال کا پوچھ کر وہ خود جانے ہی والی تھیں کہ عبدالرحمان کو بالکل ٹھیک ٹھاک آتا دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئیں۔شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔۔”
۔عبدالرحمان صاحب کے چہرے پر بھی پریشانی تھی لیکن رحمت بوا کے چہرے کے سنگین تاثرات نے انہیں ٹھٹکا دیا تھا”
کیا ہوا بوا خیرت حیات کہاں نے۔۔۔۔۔۔؟؟انہوں نے حیات کی تلاش میں ادھر ادھر نگاہیں دوڑاتے ہوئے پریشانی سے استفسار کیا۔۔۔
۔۔۔۔کچھ غلط ہو گیا بیٹا۔۔۔۔۔وہ کانپتے ڈوبتے لہجے میں بولیں۔۔۔۔قریب تھا وہ غش کھا کر گر پڑتیں انہوں نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں سنبھالا اور ملازمہ امینہ کو پانی لانے کیلئے آوازیں دینے لگے۔۔۔۔۔”
۔۔حیا کہاں ہے۔۔۔۔۔۔؟؟ملازمہ جب رحمت بوا کو پانی پلا چکی تو انہوں نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے اضطراب بھرے لہجے میں پوچھا”
پاپا آپی کہیں چلی گئی ہیں۔۔۔۔وہ نہیں مل رہیں۔۔۔۔۔اسی وقت مون وہاں بھاگتا ہوا آیا اور ان سے لپٹ کر رونے لگا۔۔۔۔۔۔
“کیا مطلب۔۔۔۔حیات کہاں گئی۔۔۔۔۔۔؟میں نے اسے گھر پر رہنے کو کہا تھا”وہ بری طرح گھبرا گئے۔۔۔۔۔۔۔۔روتے ہوئے مون کو خود سے الگ کرتے وہ تیز آواز میں بولے”
ایک گھنٹہ پہلے کسی کا فون آیا تھا بیٹا۔۔۔۔اس نے آپکے ایکسیڈنٹ کی اطلاع دی تھی۔۔حیات بیٹی یہ سن کر شدید پریشان ہو گئی ۔پریشانی اور گھبراہٹ میں اسی ہسپتال کی طرف چل دی جس کا اسے فون پر بتایا گیا تھا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ آنسو بہانے لگیں
“۔۔۔۔۔انکی بات سن کر عبدالرحمان صاحب کا ذہن سائیں سائیں کرنے لگا۔ان کا دل جیسے اتھاہ گہرائی میں اتر رہا تھا آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔۔وہ ساکت کھڑے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سونامی کی پہلی لہر انکے گھر کی دیواروں سے آ ٹکرائی تھی۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔آپ نے اسے اکیلے جانے کیسے دیا بوا۔۔۔۔میں بطور خاص آپ کو اس کا دھیان رکھنے کا کہہ کر گیا تھا”وہ صدمے سے چور آواز میں کہہ رہے تھے”
بیٹا مجھے پتہ نہیں تھا۔۔۔۔میں اسوقت رائم کو کھانا کھلا رہی تھی۔۔۔اللّٰہ کی قسم اگر پتہ ہوتا تو سختی سے روک لیتی یا خود اسکے ساتھ جاتی لیکن اکیلے کبھی نا جانے دیتی۔۔۔۔۔۔وہ نادم سی ہو کر بولیں
وہ تو بچی تھی۔ایسی خبر سنتے ہی پریشان ہو کر دوڑ پڑی۔لیکن آپ بڑی تھیں۔۔۔” آپ کی وجہ سے میں کچھ مطمئن تھا کہ میری غیر موجودگی میں آپ خیال رکھیں گی۔۔مگر یہی خیال رکھا آپ نے۔۔۔۔۔۔۔”وہ ناچاہتے ہوئے بھی زندگی میں پہلی بار رحمت بوا پر غصہ کر گئے۔۔۔۔جبکہ رحمت بوا پہلے سے بھی زیادہ شدومد سے آنسو بہانے لگیں۔۔۔۔انہیں بھی یہ سب اپنی ہی غلطی لگ رہا تھا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش وہ اسے سختی سے کہہ دیتیں کہ چاہے جیسا بھی مسئلہ ہو وہ انہیں بتائے بنا باہر نا جائے”۔۔۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں اسکی عزت اور جان کی حفاظت کی دعائیں مانگنے لگیں۔۔۔۔۔”
“۔۔۔۔۔۔۔عبدالرحمان صاحب ادھر ادھر ٹہلتے ہوئے شدید پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہے تھے”انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ پولیس سے ہیلپ لیں یا اپنے طور پر کوشش کریں۔جانتے تھے پولیس اتنی مستعدی نہیں دکھائے گی۔فوراً سے ایکشن نہیں لے گی”۔۔۔۔۔ کمپلین کسی عام بندے کے خلاف نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ملک کا معروف سپر سٹار تھا جو کہ سیاسی اپروچ بھی رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔سو پولیس لازماً ثبوت مانگے گی۔۔۔۔محض شک کی بنیاد پر پرچہ نہیں کاٹے گی۔۔۔۔۔جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔جوان بیٹی کا معاملہ تھا۔۔۔۔۔۔۔بڑی مشکل سے وہ اپنے اعصاب کو کنٹرول کیے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ انکی بیٹی کو اغواہ کرنے والا وہ شخص سامنے آئے اور وہ اسکے سینے میں گولیاں اتار دیں”
عبدالرحمان نے اپنے تمام سورسز استعمال کر کے دیکھ لئیے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔پولیس نے بنا ثبوت کے رپورٹ لکھنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدھی رات ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جان سے عزیز جوان بیٹی کی گمشدگی نے انہیں نڈھال کر دیا تھا۔گھنٹوں کی بھاگ دوڑ سے حیات کی خاک تک نہیں ملی۔۔۔۔
۔رحمت بوا کا رو رو کر حشر ہو رہا تھا” مون الگ رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
بیٹا خدا کیلئے کچھ کریں۔۔۔۔ہائے میری بچی۔۔۔۔وہ بار بار عبدالرحمان صاحب سے کہتیں۔۔۔۔
“۔۔۔۔وہ اپنے آپ پر مشکل سے قابو کیے ہوئے تھے”ورنہ ان کا دل دھاڑیں مار کر رونے کو چاہ رہا تھا۔۔۔”
اپنے آپ کو سنبھالیں بوا۔۔۔۔۔میں کاظمی سے بات کرتا ہوں۔وہ ضرور میری ہیلپ کرے گا۔۔۔۔وہ خود بھی اندر سےٹوٹ چکے تھے۔تحمل سے کہتے ہوئے انہوں نے ظفر کاظمی کو فون ملایا۔۔۔۔
“ظفر کاظمی کو وہ آخری امید کے طور پر فون کر رہے تھے۔۔
یار عبدالرحمان مجھے حیات کے لئیے بہت افسوس ہے وہ میری بھی بیٹی جیسی تھی۔۔۔۔۔مگر کیس چونکہ ماحر خان کے خلاف ہے اس لئیے اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔ماحر سے میرے بیٹے علی کے اچھے تعلقات ہیں۔اسکی فلموں کیلئے علی گانے گاتا ہے۔۔۔۔ابھی بھی کئی پراجیکٹ چل رہے ہیں اسکے ماحر کے ساتھہ۔سو ماحر خان کے خلاف جا کر میں اپنے بیٹے کی ناراضگی مول نہیں لے سکتا۔۔۔۔ہاں تم کہو تو ماحر خان کا نام آئے بنا ذاتی طور پر ڈھونڈھنے میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔۔۔انہوں نے دل رکھنے کیلئے پیشکش کی تھی۔۔ورنہ وہ خود بھی جانتے تھے یہ خاصا مشکل کام تھا”
ظفر کاظمی کے جواب نے انکی آخری امید بھی ختم کر دی۔۔۔۔وہ شدید مایوس ہو گئیے۔۔۔۔۔ جانتے تھے حیات کو اپنے طور پر ڈھونڈھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔اس تک رسائی حاصل کرنے پولیس کا انوالو ہونا بہت ضروری تھا۔۔۔۔ماحر سکندر خان جیسے شخص پر وہ پولیس کے تعاون کے بغیر ہاتھ نہیں ڈال سکتے تھے۔۔۔۔”
“آپ ارتضیٰ بیٹے سے بات کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔بوا نے آنسو بہاتے ہوئے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئے۔۔۔۔۔
۔۔۔اب اسکے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔اگرچہ وہ سات سمندر پارتھا۔نا جانے اتنی دور بیٹھے وہ کچھ کر بھی پاتا یا نہیں مگر ہوہوم سی امید کے تحت وہ اسے کال ملا رہے تھے۔۔۔۔۔۔
۔ارتضیٰ تو سن کر ہی غم و غصّے سے پاگل ہو گیا”۔۔۔۔فوری طور پر اس نے اپنی سیٹ کنفرم کرائی مگر پھر بھی اسے آنے میں ٹائم تو لگتا۔۔۔۔سو وہیں سے اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کے اپنے تمام سورسز استعمال کیے۔۔۔۔۔۔آخر کار پولیس پر اوپر سے دباؤ پڑا تو رات کے دو بجے پولیس عبدالرحمان کو ساتھ لے کر سپر سٹار ماحر خان کے گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔”
رات کا نامعلوم کونسا پہر تھا جب فائزہ سکندر ایک دم خواب سے جاگی تھیں۔بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھا تھا انہوں نے۔ دل کی رفتار بری طرح غیر متوازن تھی۔انکے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوئے تھے ہاتھوں پیروں میں بری طرح سنسناہٹ ہو رہی تھی۔وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئیں۔۔۔۔
کیا ہوا ہے فائزہ….تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔۔؟؟برابر میں سوئے سکندر علی خان جو ابھی نیم غنودگی میں تھے ان کے اسطرح سے اٹھ کر بیٹھنے سے وہ متفکر انداز میں گھبرا کر اٹھتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔۔
پا…..نی۔بمشکل تمام انکے لبوں سے نکلا۔۔۔۔سکندر خان نے سائیڈ پر رکھے جگ سے انہیں پانی نکال کردیا اور خاموشی سے انکی طرف دیکھنے لگے۔پانی پی کر انکے حواس درست ہوئے تو بولیں”
بہت برا خواب دیکھا ہے میں نے۔۔۔۔۔خدا میرے بچے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔میرا دل بیٹھا جا رہا ہے سکندر صاحب ذرا پتہ کرو ماحر گھر آیا ہے یا نہیں۔ان کا لہجہ کانپ رہا تھا۔۔۔۔
خواب محض خواب ہوتے ہیں بیگم ان سے ڈرنا چھوڑ دو۔۔۔۔۔ماحر آ چکا ہوگا اور اپنے کمرے میں سو رہا ہوگا۔وہ انکے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے دلاسہ دینے لگے۔
نہیں میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔مجھے اپنے بیٹے کو دیکھنا ہے وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔
اچھا چلو آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سکندر خان بھی انکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔”ابھی وہ دونوں دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ باہر سے دستک ہونے لگی۔سکندر خان نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو باہر ملازم کھڑا تھا”
تم اسوقت خیریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے چونک کر ملازم کی طرف دیکھا۔۔۔سر وہ باہر پولیس آئی ہے۔انکے پاس ماحر سر کی گرفتاری کے وارنٹ ہیں۔۔۔۔۔۔ملازم کی اطلاع نے انہیں چونکا دیا انہوں نے فوراً فائزہ کی طرف دیکھا جن کا چہرہ اس خبر سے ہلدی کی طرح زرد ہونے لگا تھا۔
