Meri Hayat By Zarish Hussain Readelle50271 Meri Hayat (Episode 37)
Rate this Novel
Meri Hayat (Episode 37)
Meri Hayat By Zarish Hussain
سکرین پر نظر آتا جانا پہچانا چہرہ ارسلان بھٹی کا تھا جو پولیس کے زیر حراست ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے کھڑا تھا۔۔۔۔میڈیا کے کچھ رپورٹر مائیک ہاتھ میں لئیے اس سے تفصیلات جاننے کیلئے بے قرار وہاں موجود تھا۔اسے سکرین پر پروفیسر ارتضیٰ حسن کا قاتل کہہ کر
دکھایا جا رہا تھا۔۔۔
چینل کا نیوز کاسٹر بول رہا تھا۔
ناظرین آپ کو بتاتے چلیں ارتضیٰ حسن مرڈر کیس کا اصلی مجرم پکڑا گیا۔۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ پہلے کراچی یونیورسٹی کے نامور پروفیسر اور وائس چیئرمین ارتضیٰ حسن کو کسی نے دن دھاڑے انکی شادی کے دن عین سڑک پر گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔لیکن عدم ثبوت کی بنا پر پولیس اصلی مجرم کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی تھی۔مگر چند دن پہلے اچانک سے ایک کلیو پولیس کے ہاتھ لگا جس کی بنا پر وہ اصل مجرم کو اریسٹ کرنے میں کامیاب ہو گئی” یہ مجرم اسی یونیورسٹی کا ایک طالبعلم ارسلان بھٹی ہے۔ہمارے نمائندے وقار علی وہاں پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں سو آئیے ناظرین دیکھتے ہیں کہ اس لڑکے اس نے اپنی ہی یونیورسٹی کے پروفیسر کو کیوں قتل کیا۔۔؟
سکرین پر دوبارہ سے ارسلان بھٹی کا پھٹکار برستا چہرہ دکھایا جا رہا تھا۔جس پر کوئی شرمندگی کوئی ندامت کوئی ملال کچھ بھی نہیں تھا”
آپ نے اپنی ہی یونیورسٹی کے پروفیسر کا قتل کر دیا
ایسی کیا خاص وجہ تھی کہ آپ نے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔۔؟؟ ہم تفصیل جاننا چاہتے ہیں۔
رپورٹر نے اپنا مائیک اس کے آگے کیا۔۔۔
“۔وہ ایک انتہائی سخت گیر سڑیل مزاج اور مغرور پروفیسر تھا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر سٹوڈنٹس کی انسلٹ کرتا انہیں اپنی کلاس سے نکال دیتا تھا۔۔اسائمنٹ میں جان بوجھ کر سٹوڈنٹس کو نمبر کم دیتا۔۔کئی بار مجھے بے عزت کیا۔ پھر کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی گراؤنڈ میں ایک لڑکی کے ساتھ بات کرنے پر اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور یونیورسٹی سے نکلوایا۔نا صرف یونیورسٹی سے نکلوایا بلکہ پولیس کے حوالے بھی کیا۔اسکی وجہ سے میرا مستقبل برباد ہو گیا۔میں دوبارہ کہیں ایڈمشن نا لے سکا۔پڑھائی چھوٹ گئی میری۔شدید نفرت ہو گئی تھی مجھے اس پروفیسر سے۔۔انتقام کا لاوا پک رہا تھا میرے اندر۔۔۔۔۔ جیسے ہی موقع ملا میں نے لے لیا انتقام۔۔۔۔وہ مطمئن انداز میں کہہ رہا تھا۔جیسے نا اپنے کیے پر پچھتاوا ہو اور نا سزا کا خوف
آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ایک لڑکی کی وجہ سے آپ پر ہاتھ اٹھایا۔یونیورسٹی سے نکلوایا۔پولیس کے حوالے کیا۔۔اس کی کیا وجہ تھی آپ نے اس لڑکی کو چھیڑا تھا یا وہ لڑکی انکی رشتہ دار تھی۔۔؟؟
رپورٹر نے دوسرا سوال کیا۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں اصل میں پروفیسر کا اس لڑکی کے ساتھ چکر تھا۔وہ ایک کریکٹر لیس انسان تھا۔
اہنے آفس میں اس لڑکی کو بلاتا تھا اور اس کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا۔۔شرافت کا نقاب چڑھایا ہوا تھا خود پر اور”
اس سے آگے حیات کی سننے کی ہمت نہیں ہوئی۔اس نے فوراً نیچے گرا ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آف کیا۔۔۔
میں نے کہا تھا نا بنا ثبوت کے کسی پر الزام لگانا ٹھیک نہیں۔۔۔اسی وقت اس نے اپنے پیچھے رحمت بوا کی آواز سنی تو گردن گھما کر دیکھا۔۔۔
وہ کب سے وہاں کھڑی تھیں وہ جان نہیں سکی۔۔تاہم جو کچھ ٹی وی پر اس نے دیکھا اور سنا تھا وہ بھی دیکھ اور سن چکی تھیں۔
حیات کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔۔۔وہ گم صُم بیٹھی تھی۔۔رحمت بوا اور بھی کچھ کہہ رہی تھیں مگر حیات نہیں سن رہی تھی۔اسکے ذہن میں تو اس شخص کے خلاف ٹی وی پر کہی گئی اپنی باتیں گونج رہی تھیں۔
بے جان ہوتے قدموں سے وہ اپنے بیڈروم میں آئی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہو گئی تھیں۔بدن میں ہلکا ہلکا لرزا طاری تھا۔رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو گیا تھا۔بمشکل ہاتھ بڑھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔پانی پی کر کچھ حواس بہال ہوئے۔۔۔دونوں ہاتھ ماتھے پر رکھے وہ بے حد پیشمان بیٹھی تھی۔۔
وہ کسے ارتضیٰ کا قاتل سمجھتی رہی اور نکلا کون۔
یا میرے خدایا ارسلان بھٹی کو میں کیوں فراموش کر گئی اسکی طرف میرا دھیان کیوں نہیں گیا تھا۔۔۔
وہ اپنی عقل پر ماتم کر رہی تھی۔۔سوچ سوچ کر اس کا دماغ سن ہو رہا تھا۔اور ارتضیٰ اسے ارسلان بھٹی نے مارا اس کی وجہ سے۔۔اگر ماحر خان مارتا تو بھی وجہ وہی بنتی۔یعنی دونوں صورتوں میں اسکی جان جانے کی وجہ حیات عبدالرحمان ہی بن رہی تھی۔۔اس سے محبت کرنے کی سزا پا گیا تھا۔ وہ نیک سیرت انسان
جو بظاہر تو سخت مزاج لگتا تھا لیکن اندر سے محبتوں سے گندھا ایک بے حد نرم خو انسان تھا۔اسکی سخت پسندی دراصل اسکی اصول پسندی تھی جن پر کمپرومائز کرنا اسے پسند نہیں تھا۔۔اور ارسلان بھٹی جیسے نا لائق سٹوڈنٹس جو جامعہ میں پڑھنے نہیں بلکہ ٹائم پاس کرنے آتے تھے ان کا ایسے اصول پسند اساتذہ سے خار کھانا لازمی بات تھی۔۔۔
اسکے ذہن میں ارسلان بھٹی کی رپورٹر کو کہی بات گونجی۔۔۔
وہ ایک کریکٹر لیس انسان تھا۔اپنے آفس میں اس لڑکی کو بلا کر رنگ رلیاں مناتا تھا۔۔۔
اس کا دل اذیت سے پھٹنے لگا۔نا جانے لوگ کیوں اتنے سنگدل ہوتے ہیں جو مرے ہوئے شریف لوگوں پر تہمت لگاتے ہوئے بھی اللّٰہ سے نہیں ڈرتے۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو جکڑے سسکنے لگی۔اذیت آنکھوں کے راستے بہنے لگی۔ارتضیٰ حسن کی یاد کسی گہرے زخم کی طرح اس کے دل میں جگہ بنا چکی تھی۔
وہ ایک بار پھر نئے سرے سے ارتضیٰ حسن کی موت پر رو رہی تھی۔۔اتنا روئی کہ روتی چلی گئی۔۔۔ناجانے کتنا وقت وہ دھاڑیں مار مار کر روتی رہی۔لاؤنج میں بیٹھی بوا اسکے رونے کی آواز سنتی رہی مگر وہ چپ کروانے نہیں آئیں کیونکہ انہیں پتہ تھا اس کا دل سے بھر گیا تھا۔وہ چاہتی تھیں ایک بار اچھی طرح رو کر وہ ساری اذیت بہا دے۔وہ دل پر پتھر رکھے سنتی رہیں۔۔کتنا وقت بیت گیا اسکے رونے کی آوازیں سسکیوں میں بدل کر مدھم ترین ہوتی گئیں۔اور پھر بالکل خاموشی چھا گئی۔انہوں نے دبے قدموں جا کر دیکھا تو وہ روتے روتے آڑے ترچھے انداز میں لیٹی سو چکی تھی۔گال بے تحاشا سرخ ہو چکے تھے جن پر چمکتی نمی صاف نظر آ رہی تھی۔
“۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے بیٹا کچھ بخار تو نہیں۔اسکے ستے ہوئے چہرے اور سرخ آنکھوں کو دیکھ کر بوا نے تشویش سے استفسار کرتے ہوئے اس کی پیشانی کو چھوا۔۔۔
جی۔۔ان سے نظریں چراتے وہ کمبل ہٹا کر اٹھ بیٹھی
اچھا منہ ہاتھ دھو کر جلدی سے آجاؤ۔۔میں ناشتہ لگا رہی ہوں تمہارے لئیے۔۔رحمت بوا نے محبت سے اسکی پیشانی چومتے ہوئے اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔وہ سر ہلاتے ہوئے سلیپر پاؤں میں ڈال کر واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔
پانچ منٹ بعد وہ منہ ہاتھ دھو کر ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی۔جو لاؤنج کے ہی ایک کونے میں رکھی ہوئی تھی۔رحمت بوا نے چائے کا کپ اسکے سامنے رکھا تو
وہ مگ اٹھا کر خاموشی سے سپ لینے لگی۔۔۔
رحمت بوا اسکے سامنے والی کرسی پر بیٹھیں چائے پیتے ہوئے اسکے چہرے کا جائزہ لیتی رہیں۔۔
وہ بہت الجھی ہوئی لگ رہی تھی۔
کسی بہت گہری سوچ میں گم۔۔
کچھ دن پہلے وہ آیا تھا۔۔اچانک چائے پیتے ہوئے انہوں نے بات کا آغاز کیا۔۔حیات چونکی ضرور مگر تاثرات میں تبدیلی نا آئی ویسے ہی سر جھکائے چائے کے سپ لیتی رہی۔۔۔
اپنی پہلے والی غلطیوں کی معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ ارتضیٰ بیٹے کو مارنے میں اور عبدالرحمان کے ایکسیڈنٹ میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں۔۔۔
وہ ہنوز خاموش رہی۔۔کسی قسم کا کوئی ری ایکشن نہیں دیا۔
تمہیں اس سے معذرت کرنی چاہیے حیات۔اس نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا۔۔
مجھے اس کا نمبر دے دیجیے گا۔۔۔خالی مگ کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ صرف اتنا بولی تھی۔۔
ارے تم نے تو صرف چائے پی ہے۔میں نے تمہارے لئیے پراٹھے بنائے ہیں۔اس نے اپنے پیچھے رحمت بوا کی آواز سنی مگر بنا کوئی جواب دیے اپنے کمرے میں آ گئی”
یہ اس کا فون نمبر ہے۔۔۔کچھ دیر بعد رحمت بوا ہاتھ میں کارڈ پکڑے اندر آئیں اور اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولیں۔۔۔حیات نے چپ چاپ لے لیا۔۔رحمت بوا باہر نکل گئیں تو اس نے اپنا موبائل اٹھایا۔اسکی انگلیاں کارڈ پر لکھے نمبر کو فون کے ٹچ پیڈ پر ڈائل کر رہی تھیں۔
جب بیل جا رہی تھی تو دوسری بیل پر ہی اس نے کال کاٹ دی تھی۔ہمت نہیں ہوئی تھی کال پہ بات کرنے کی عجیب سی جھجھک آڑے آ رہی تھی۔ شرمندگی ہو رہی تھی۔کچھ دیر وہ موبائل ہاتھ میں لئیے بیٹھی رہی پھر کچھ میسیج ٹائپ کیا۔۔۔
میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔حیات عبدالرحمان
اور اسے ماحر خان کے نمبر پر سینڈ کر دیا۔۔اگرچہ فوری جواب ملنے کی امید نہیں تھی پھر بھی کتنی دیر وہ موبائل ہاتھ میں لئیے بیٹھی رہی۔۔
امیر اور مصروف لوگ عموماً لیٹ جواب دیتے ہیں۔
سو صبح کو کیے گئے میسیج کا جواب اسے دوپہر دو بجے موصول ہوا۔۔۔۔
کہاں۔۔آپ کے گھر آنا ہے۔۔۔۔؟اس نے بھی جوابی میسیج کیا تھا۔۔
نہیں باہر کہیں۔۔۔حیات نے فوراً لکھا”
اوکے ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں آج شام چار بجے پہنچ جائیے گا کیونکہ شام سات بجے کی فلائٹ سے مجھے کینیڈا جانا ہے۔۔۔
پورے چار بجے وہ اسکے بتائے گئیے ایڈریس پر پہنچ گئی۔یہ کوئی کیبن تھا جو سمندر کنارے واقع تھا۔۔۔سامنے ہی گلاس وال سے لہریں بکھیرتا سمندر نظر آ رہا تھا۔بہت ہی خوبصورت نظارہ تھا۔وہ ٹیکسی کر کے وہاں پہنچی تھی کیبن کے باہر وہ کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔پہچان چھپانے کیلئے ہمیشہ کی طرح آنکھوں پر گاگلز اور منہ پر ماسک تھا جسے اس نے کیبن میں آ کر اتار دیا۔یہ اس کا اپنا کیبن تھا یا بک کروایا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔یہ سمندر کا قدرے سنسان گوشہ تھا اس طرف صرف کیبن اور ہٹس بنے ہوئے تھے۔۔ساحل پر گھومنے والے لوگ اس طرف کا رخ نہیں کرتے تھے۔سو خاصی پرسکون جگہ تھی۔اگرچہ وہ کچھ ڈر بھی رہی تھی مگر ناجانے کیوں دل میں تسلی تھی کہ وہ آفر بیشک بری کر سکتا ہے۔مگر دوسرے فرد کی مرضی کے خلاف کچھ برا نہیں کر سکتا۔۔اسے یاد تھا وہ جب بھی ملا جارحانہ تیوروں کے ساتھ ملا۔مگر حیات پر نظر پڑتے ہی جھاگ کی طرح بیٹھ جایا کرتا تھا۔۔۔۔
وہ گداز صوفے پر بیٹھی تھی۔۔جبکہ ماحر سگریٹ سلگائے سمندر کی لہروں کو دیکھ رہا تھا۔دونوں ہی ایک دوسرے کے پہلے بولنے کے منتظر تھے۔۔۔
ماحر خان کے لباس سے نکلتی مدہوش کن مہک کیبن میں چکرانے لگی۔۔
انکے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
گہری خاموشی۔
حیات لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی۔مگر ہر بار ترتیب
بگڑ جاتی تھی۔کافی وقت دونوں کی خاموشی کی نظر ہو گیا۔
ماحر خان نے اسے بغور دیکھا۔
وہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔
“غالباً آپ مجھ سے کچھ بات کرنا چاہتی تھیں۔۔؟؟
“اس خاموشی کو ماحر کی گھمبیر آواز نے توڑا۔اسکی نگاہیں حیات عبدالرحمان کے چہرے کا تفصیلی جائزہ لے رہی تھیں۔جارجٹ کے بلیک سوٹ میں اسکے حسن کی تابانیاں عروج پر تھیں۔۔سیاہ ڈوپٹے کے ہالے میں سرخ وسفید چہرہ کسی اندھیری رات میں چمکنے والےپورے چاند کی طرح روشنی بکھیر رہا تھا۔
اس کے چہرے پر پھیلی غیر معمولی معصومیت اور سادگی نے اسکے حسن کو جلا بخشی تھی۔۔۔خشک موسم سے اس کے رخسار سرخ ہو کر اسے اتنا حسین بنا گئے تھے کہ بے اختیار نگاہ بار بار اسکے چہرے کی طرف اٹھ رہی تھی۔۔اسکی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں اور وہ بڑی بے چینی سے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
“وہ کیا سوچ رہی تھی یہ بات وہ اچھی طرح جانتا تھا۔اس کی اضطرابی اور اضطراری حالت اسکے جذبہ انتقام سے دھڑکتے دل پر ٹھنڈک پیدا کر رہی تھی۔۔
بار بار کی بے اختیاری نگاہ اسکے اندر کے اذیت پسند مرد کو اپنی اذیت بھلا کر مسرور کر رہی تھی۔ہمیشہ ہی ایسا ہوتا تھا اس پر غصہ ہونے کے باوجود اسے دیکھتے ہی یا تو وہ بالکل ٹھنڈا پڑ جاتا تھا یا اپنا طوفانی غصہ کنٹرول کر لیتا تھا۔۔۔۔جسے وہ کسی اور کیلئے کبھی کنٹرول نہیں کر پایا تھا۔مگر اس لڑکی کے سامنے جیسے بے بس ہو جایا کرتا تھا حالانکہ اس لڑکی نے اسکی شہرت کو کم نقصان نہیں پہنچایا تھا۔
مگر پھر بھی اسکے اندر شائد ایک اچھا انسان چھپا ہوا تھا جو وہ خندہ پیشانی سے یہ سب برداشت کر گیا تھا۔۔
وہ اب اسکے چہرے سے نظریں ہٹا کر اسکے ہاتھوں کو دیکھنے لگا جو ٹیبل پر رکھے ہوئے تھے۔۔سرخ و سفید دلکش نازک سے ہاتھ”
وہ جھکی نگاہوں کے باوجود بھی اسکی نظروں کی تپش خود پر محسوس کر کے نروس ہونے لگی۔
وہ اسے دیکھتا اس کے بولنے کا منتظر تھا”
وہ اس سے گریزاں دکھائی دے رہی تھی۔اسکی جانب دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔ماحر اسکی کیفیت سمجھ رہا تھا۔وہ شرمندہ دکھائی دے رہی تھی۔
حیات نے ذرا سی نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا پھر فوراً جھکا لیں۔۔کتنا عجیب لگ رہا تھا اسے اس ٹائم۔۔حالانکہ کئی بار وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے برے طریقے سے بے عزت کر چکی تھی۔جبکہ اب اسکی طرف نظریں اٹھا کر دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی۔
ایکچولی میں شرمندہ ہوں اپنے سابقہ رویے پر۔۔۔اپنی غلطیوں پر۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔بغیر کسی تصدیق کے میں نے آپ کو بلیم کیا۔پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔
وہ سر جھکائے شرمندہ سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
اچھا اور آپ کے اس جذبے کا کیا ہوگا۔مجھ سے انتقام لینے کا جذبہ۔۔۔۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی طنز کر گیا۔۔۔
میں نے کہا نا وہ سب میری بیوقوفی تھی۔۔جس پر مجھے بہت پچھتاوا ہے۔اسی لئیے آپ سے معذرت کر رہی ہوں اور میرا یقین کریں میں جھوٹ نہیں بول رہی۔اب کی بار وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی”
یہ اچانک سے آپ کو اپنی غلطیوں کا احساس کیسے ہو گیا۔حالانکہ آپ تو مجھ سے سخت متنفر تھیں۔میں نے ایک آفر کیا کر دی آپ نے تو مجھے اتنا برا آدمی سمجھ لیا کہ قتل جیسا سنگین الزام لگا دیا مجھ پہ
خیر کوئی بات نہیں۔سارا قصور آپ کا نہیں ہے پہلے مجھ سے غلطیاں ہوئیں۔میری وجہ سے آپ کو بھی بہت تکلیف پہنچی۔۔۔ذہنی کرب اور اذیت سے گزری ہونگی۔
۔یقین کریں مجھے بھی اپنی غلطیوں پر افسوس ہے۔میں نے کوشش بھی کی تھی کہ آپ کا دل اپنی طرف سے صاف کر سکوں۔۔۔اپنی غلطیوں کا ازالہ کر سکوں مگر کامیاب نہیں ہو پایا۔۔
اس نے خاصی سنجیدگی سے کہا جبکہ لہجہ افسوس لئیے ہوئے تھا۔
تو آپ نے مجھے معاف کر دیا۔۔؟؟حیات نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے آہستگی سے کہا
آپ کا دل میری طرف سے صاف ہو گیا۔۔یہی کافی ہے میرے لئیے لیکن اگر آپ کو مجھ سے معافی چاہیے تو وہ ایک شرط پر ملے گی۔۔۔وہ اچانک سے شوخ انداز میں بولا”
کیا شرط۔۔۔۔۔حیات نے گھبرا کر اسے دیکھا”
وہ ہنس پڑا تھا”
گھبرائیں نہیں کسی امتحان میں نہیں ڈال رہا آپ کو۔
بیئنگ ہیومن کے نام سے میری ایک سماجی تنظیم ہے مجھے اپنی فاؤنڈیشن کیلئے ایک اچھی(Supervisor) کی ضرورت ہےمیں چاہتا ہوں آپ میری فاؤنڈیشن کیلئے کام کریں۔آپ کی بوا اس دن بتا رہی تھیں کہ آپ کو جاب کی ضرورت ہے۔۔اگر میری فاؤنڈیشن جوائن کر لیں گی تو آپ کا جاب والا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور مجھے بھی اپنی تنظیم کے لئیے ایک اچھی قابل اعتمادSupervisor مل جائے گی۔اور پے کی فکر مت کیجئے گا وہ بھی اچھی ملے گی۔۔
حیات سوچ میں پڑ گئی۔فوری انکار یا اقرار کرنا اچھا نہیں لگا۔۔۔۔وہ اس کا گریز بھانپ گیا تھا”تبھی اسکی طرف دیکھ ملائمت سے مسکرایا اور کہا۔
آپ اچھی طرح سوچ کر جواب دے دیجئے گا۔اگر انکار کرنا چاہیں گی تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں گا۔ اگر ہاں کریں گی تو آپ کو کھلے دل سے ویلکم کروں گا۔اگر آپ میری فاؤنڈیشن سے متعلق انفارمیشن لینا چاہیں گی تو وہ آپ کو گوگل سے با آسانی مل جائے گی۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔حیات نے مدھم لہجے میں کہتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
اوکے کیا لیں گی آپ۔۔کولڈ ڈرنک۔۔لیمن جوس۔۔اورنج جوس یا کافی۔۔؟
نہیں کچھ بھی نہیں اب میں چلتی ہوں۔ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ایسے کیسے جا سکتی ہیں آپ بنا کچھ کھائے پیے۔۔اسے اٹھتے دیکھ کر وہ فوراً بولا۔۔۔
نو تھینکس پلیز۔۔۔۔۔۔حیات عبدالرحمان کا مضبوط و ٹھوس انداز ماحر خان کو مزید اصرار نا کرنے پر پابند کر گیا۔۔۔
اگر آپ مائنڈ نا کریں تو میرا ڈرائیور آپ کو چھوڑ آتا ہے۔۔۔۔
پلیز انکار مت کیجئے گا۔۔۔۔اسے انکار کیلئے منہ کھولتے دیکھ کر وہ فوراً بولا۔۔
پھر ناجانے کیا ہوا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی انکار نا کر پائی۔شائد اپنے کیے کا اپنے رویے کا گلٹ تھا۔جس کی وجہ سے وہ اس بار اس کے خلوص کو ٹھکرا نا پائی۔۔۔۔
ماحر کا ڈرائیو اسے بلڈنگ کے باہر اتار کر چلا گیا۔۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ چوتھی منزل پر واقعی اپنے فلیٹ میں آئی۔۔
کیا ہوا معذرت قبول کر لی اس نے۔۔۔؟رحمت بوا نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا”
جی۔۔۔وہ اثبات میں سر ہلا کر انہیں مزید کسی سوال کا موقعہ دیے بغیر اپنے روم میں آ گئی۔۔۔۔دل پر پڑا بوجھ کچھ حد تک کم ہو گیا تھا۔سو مائنڈ بھی کچھ حد تک ریلیکس ہو گیا تھا۔۔رات کو حسب معمول کھانے اور نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر وہ بیڈ کر لیٹی تو ماحر
خان کی آفر کے بارے میں سوچنے لگی۔۔
اگر میری این جی او کے بارے میں انفارمیشن لینی ہوں تو گوگل سے مل جائیں گی۔۔۔یاد آتے ہی وہ فوراً سے اٹھ بیٹھی۔۔ساتھ سوئے ہوئے مون پر کمبل ڈالا اور اپنا لیب ٹاپ لے کے صوفے پر آ بیٹھی۔۔
گوگل سامنے تھا۔۔۔۔۔
کیا لکھوں۔۔۔۔؟وہ ناخن چبانے لگی
Oh yes Mahir Khan being human foundation…
اس نے لکھ کر جیسے ہی سرچ کیا۔۔۔اگلے ہی لمحے تمام معلومات سامنے تھیں۔۔۔۔
بیئنگ ہیومن فاؤنڈیشن کے بانی ماحر سکندر خان ایک وسیع القلب انسان ہیں۔ایسا صرف اس لئیے نہیں کہ وہ ایک این جی او چلا رہے ہیں۔بلکہ وہ کسی بھی اداس چہرے پر مسکراہٹ لانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے انہیں کچی آبادیوں میں بچوں کے ساتھ تہوار مناتے اور غریب خاندانوں کی مدد کرتے دیکھا ہے۔ان کی تنظیم بیئنگ ہیومن ملک بھر میں بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔جبکہ صنعتی ورکرز اور مالی طور پر غیر مستحکم لوگوں کو طبعی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔۔کچھ عرصہ قبل ماحر خان جب غریبوں کی مدد کیلئے بنائی گئی اپنی سماجی تنظیم بیئنگ ہیومن کے لیبل کے ساتھ بنائی ٹی شرٹ اور گھڑیوں کی تشہیر کے لیے اپنی پوری فیملی کے ساتھ ریمپ پر اترے تو ریمپ کا جلوہ دیکھنے کے لائق تھا۔ انکی تنظیم کینسر کے مریضوں اور پیدائشی طور پر دل کی بیماری میں مبتلا غریب بچوں کا مفت علاج بھی کرواتی ہے۔اس کے علاؤہ ماحر خان شاندار پینٹر بھی ہیں انکی بنائی ہوئی کئی تصاویر کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم فلاحی کاموں میں خرچ کی جاتی ہے۔۔
وہ جیسے جیسے پڑھتی گئی حیران ہوتی گئی”
یہ اتنا برا آدمی تو نہیں ہے۔۔۔منہ سے خودبخود نکلا۔۔۔۔
میں ایسے برا سمجھتی رہی اسے۔۔۔مکمل طور پر برا انسان نہیں ہے۔اچھائیاں بھی موجود ہیں اس میں تو
پہلی بار وہ ماحر خان کے بارے میں پوزیٹو سوچ رہی تھی۔پہلی بار اسے احساس ہو رہا تھا کسی کا ایک نیگٹیو پہلو دیکھ کر اسے مکمل نیگٹیو انسان سمجھ لینا ٹھیک نہیں ہوتا۔اسےبابا کی بات یاد آ گئی جو ایک بار انہوں نے کہی تھی کہ اس دنیا میں کوئی انسان بھی پرفیکٹ نہیں ہے سوائے ہمارے پیارے نبی صلیٰ
اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے۔۔ہر انسان میں خامیاں خوبیاں دونوں پائی جاتی ہیں۔کوئی بھی مکمل برا یا مکمل اچھا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔پھر اس نے یہ کیوں سوچا کہ اس شخص میں صرف اور خامیاں ہونگی۔اسے انتہائی برا انسان سمجھتی رہی۔خامیاں تو اس میں بھی تھیں۔جذباتی تھی غصے کی تیز تھی اور بھی کئی تھیں جنکے بارے میں اسے پہلی بار خیال آ رہا تھا۔۔
پھر کیوں کسی کی شخصیت کا ایک نیگٹیو پہلو دیکھ کر اس نے اس کی پوری شخصیت کو ہی نیگٹیو قرار دے دیا۔۔۔۔وجہیہ چہرے اور روشن شخصیت والے شخص کے کردار کو وہ مکمل سیاہ اور بدنما سمجھتی رہی۔۔۔اس کا ضمیر اسے کچوکے لگا رہا تھا۔ملامت کر رہا تھا۔۔
